وَلاَ يَصِيرُ شَارِعًا فِي الإِحْرَامِ بِمُجَرَّدِ النِّيَّةِ مَا لَمْ يَأْتِ بِالتَّلْبِيَةِ خِلاَفًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى رَحْمَةً وَاسِعَةً لِأَنَّهُ عَقْدٌ عَلَى الأَدَاءِ فَلاَ بُدَّ مِنْ ذِكْرٍ كَمَا فِي تَحْرِيمَةِ الصَّلاَةِ۔ گزشتہ سبق میں احرام کا بیان شروع ہوا تھا، اور صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ احرام کے لیے افضل یہ ہے کہ انسان غسل کر لے اور اس کے بعد دو چادریں پہن لے، اور بہتر یہ ہے کہ نئی چادریں ہوں ورنہ دھلی ہوئی چادریں پہن لے۔ اور اس کے بعد جو ہے خوشبو وغیرہ لگانا چاہتا ہے خوشبو لگا لے، اور اس کے بعد دو رکعتیں احرام کی جو مسنون ہیں وہ پڑھ لے، اور اس کے بعد یہ دعا کر لے: "اللَّهُمَّ إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ فَيَسِّرْهُ لِي وَتَقَبَّلْهُ مِنِّي"۔ اور اس کے بعد پھر تلبیہ پڑھے اس نماز کے بعد، اور اگر وہ مفرد بالحج ہے تو اپنے اس تلبیہ کے ذریعے حج کی نیت کر لے بھئی، اور جب وہ تلبیہ کہہ دے گا تو وہ محرم ہو گیا۔ اب آگے آپ کو بتلا رہے ہیں کہ صرف نیت کرنے سے وہ محرم نہیں بنے گا جب تک وہ تلبیہ نہیں کہہ لے گا بھئی۔ یہ بات میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ احرام کے لیے نیت بھی ضروری اور تلبیہ کا کہنا بھی ضروری۔ صرف تلبیہ کہا تو بھی محرم نہیں، صرف نیت کی تو بھی محرم نہیں۔ لیکن تلبیہ میں پھر بالخصوص تلبیہ ہی کہنا ضروری نہیں ہے بلکہ اللہ کی تعظیم اور حمد و ثنا والا کوئی لفظ، کوئی کلمات کہہ لے تو اس سے وہ محرم بن جائے گا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی۔ اللہ اکبر، سبحان اللہ، لا الہ الا اللہ وغیرہ کچھ بھی کہہ لے تو اس سے کیا بن جائے گا؟ وہ محرم بن جائے گا۔ یہی اب بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: وَلاَ يَصِيرُ شَارِعًا فِي الإِحْرَامِ بِمُجَرَّدِ النِّيَّةِ مَا لَمْ يَأْتِ بِالتَّلْبِيَةِ، اور وہ شخص جو ہے شروع ہونے والا نہیں ہوگا احرام کے اندر صرف اپنی نیت سے جب تک کہ وہ تلبیہ نہ لے کر آئے، یعنی جب تک وہ تلبیہ نہ کہے، خِلاَفًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ، بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں صرف نیت سے ہی وہ محرم بن جائے گا۔ وہ اس کو قیاس کرتے ہیں روزے پر۔ جیسے روزے کے اندر کچھ چیزوں سے رکنا ضروری ہے، اسی طرح حج کے اندر بھی بڑی پابندیاں لگ جاتی ہیں انسان پر احرام کے اندر، احرام میں بڑی پابندیاں لگ جاتی ہیں: بال نہیں کاٹ سکتا، ناخن نہیں کاٹ سکتا، بیوی سے صحبت نہیں کر سکتا وغیرہ۔ تو یہ بھی روزے کی طرح ہوا اور روزہ صرف نیت سے شروع ہو جاتا ہے، لہٰذا یہاں یہ احرام بھی صرف کس سے شروع ہو جائے گا؟ نیت سے۔ جبکہ ہم اس کو قیاس کرتے ہیں نماز پر بھئی کہ احرام کے بعد حج کے افعال سرانجام دینے ہیں باقاعدہ، جیسے نماز کے اندر باقاعدہ افعال سرانجام دیے جاتے ہیں، اور وہاں صرف نیت سے نماز شروع نہیں ہوتی بلکہ تکبیرِ تحریمہ کا کہنا ضروری ہے، اور اس میں تفصیل آپ پڑھ چکے کہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک کوئی ایسا کلمہ کہہ لے جس سے اللہ کی عظمت اور وغیرہ بیان ہو تو وہ اس کے قائم مقام ہو جائے گا، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں تکبیر کہنا ضروری: اللہ اکبر یا اللہ الاکبر یا اللہ کبیر یا اللہ الکبیر، اور امام محمد رحمہ اللہ بھی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں کہ کوئی بھی کلمہ کہا جا سکتا ہے، البتہ ہونا عربی کلمہ چاہیے۔ کیا ہونا چاہیے؟ عربی ہونا چاہیے۔ تو یہی دلیل ذکر کر رہے ہیں، دلیل آگے ہماری دلیل ہے بھئی: لِأَنَّهُ عَقْدٌ عَلَى الأَدَاءِ، اس لیے کیونکہ یہ جو ہے یہ احرام جو ہے یہ عقد علی الاداء ہے، حج کی ادائیگی پر عقد کر رہا ہے، فَلاَ بُدَّ مِنْ ذِكْرٍ، تو ضروری ہوگا کسی ذکر کا ہونا، كَمَا فِي تَحْرِيمَةِ الصَّلاَةِ، جیسے تحریمۂ صلاۃ کے اندر ہے۔ وَيَصِيرُ شَارِعًا بِذِكْرٍ يُقْصَدُ بِهِ التَّعْظِيمُ سِوَى التَّلْبِيَةِ فَارِسِيَّةً كَانَتْ أَوْ عَرَبِيَّةً، اور وہ شروع ہونے والا ہوگا کسی بھی ایسے ذکر کے ذریعے يُقْصَدُ بِهِ التَّعْظِيمُ جس کے ذریعے اللہ کی تعظیم مقصود ہو، سِوَى التَّلْبِيَةِ، علاوہ تلبیہ کے۔ تلبیہ کے علاوہ بھی کوئی ایسا ذکر کر لے جس کے ذریعے اللہ کی تعظیم مقصود ہو جیسے اللہ اکبر کہہ دیا یا لا الہ الا اللہ کہہ دیا تو اس سے وہ شروع ہونے والا ہو جائے گا احرام کے اندر، فَارِسِيَّةً كَانَتْ أَوْ عَرَبِيَّةً، چاہے وہ کلمہ وہ ذکر کیا ہو فارسی ہو یا عربی ہو، یعنی عربی ہونا ضروری نہیں جو بھی زبان ہو۔ هَذَا هُوَ الْمَشْهُورُ عَنْ أَصْحَابِنَا، صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں یہی مشہور ہے ہمارے فقہاء سے کہ کوئی بھی ایسا ذکر جو ہے جس سے اللہ کی تعظیم کا ارادہ کیا جائے وہ اس تلبیہ کے قائم مقام ہو جائے گا۔ وَالْفَرْقُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصَّلاَةِ عَلَى أَصْلِهِمَا، یہاں سے فرق بیان کر رہے ہیں۔ امام صاحب کے نزدیک نماز کے مسئلے میں تکبیرِ تحریمہ کے اندر کوئی بھی ایسا ذکر جو تعظیم پر دلالت کرے وہ اس کے قائم مقام ہو جاتا تھا اور چاہے عربی ہو چاہے غیر عربی ہو۔ جبکہ صاحبین کے نزدیک امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک تکبیر کا ہونا ضروری تھا وہ چار کلمات: اللہ اکبر، اللہ الاکبر، اللہ کبیر اور اللہ الکبیر۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک یہ چار کا ہونا تو ضروری نہیں لیکن عربی ہونا ضروری ہے بھئی، عربی ہونا ضروری ہے۔ تو معلوم ہوا انہوں نے فرق کیا ہے حج کے اندر۔ صاحبین کے نزدیک، امام ابو یوسف رحمہ اللہ نماز میں تکبیر کے لفظ کی شرط لگاتے ہیں، یہاں پر وہ کہتے ہیں کوئی بھی ذکر ہو جائے۔ امام محمد رحمہ اللہ جو ہے وہ عربیت کی شرط نماز کے اندر لگاتے ہیں تحریمہ کے اندر، لیکن یہاں وہ فرماتے ہیں چاہے عربی ہو چاہے غیر عربی ہو۔ تو معلوم ہوا انہوں نے فرق کیا ہے۔ امام صاحب تو اپنی اصل پر ہیں، جیسے نماز میں ان کا قول ہے وہی قول کس میں؟ حج کے اندر بھی ہے، لیکن صاحبین نے معلوم ہوا فرق کیا ہے تو وہ فرق کس وجہ سے ہے، کیا فرق کیا ہے، وہ ذکر کرنے لگے ہیں۔ وَالْفَرْقُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصَّلاَةِ عَلَى أَصْلِهِمَا، اور فرق جو ہے حج کے درمیان اور نماز کے درمیان عَلَى أَصْلِهِمَا صاحبین کی اصل پر، ان کے ضابطے پر وہ فرق یہ ہے: أَنَّ بَابَ الْحَجِّ أَوْسَعُ مِنْ بَابِ الصَّلاَةِ، کہ وہ فرماتے ہیں کہ یہ حج کا باب جو ہے نماز کے باب سے زیادہ وسیع ہے، اس میں بڑی وسعت ہے۔ نماز کے مسئلے میں اتنی وسعت نہیں، اس کے مسئلے میں بڑی وسعت ہے، حَتَّى يُقَامَ غَيْرُ الذِّكْرِ مَقَامَ الذِّكْرِ، یہاں تک کہ غیرِ ذکر بھی یہاں ذکر کے قائم مقام ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ حج کے معاملے میں غیرِ ذکر بھی ذکر کے قائم مقام ہو جاتا ہے، كَتَقْلِيدِ الْبُدْنِ، جیسے کہ بدنَہ کی تقلید بھئی۔ بُدْنٌ جمع ہے بَدَنَةٌ کی، بَدَنَةٌ۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو بَدَنَةٌ کی جمع بُدْنٌ ہے، دال ساکن بھی جائز، اس پر رفع بھی: بُدُنٌ، دونوں طرح پڑھنا جائز ہے۔ تو بدنَہ وہ قربانی کا جانور بھئی، جو اونٹ یا گائے جو حج کے اندر ذبح کیا جائے اس کو کیا کہتے ہیں؟ بدنَہ، جو بڑے بدن سے ہے، بڑے بدن والا ہو، جیسے اونٹ ہے یا گائے ہے بھئی۔ تو وہ فرماتے ہیں کہ دیکھیے حج کے اندر غیرِ ذکر بھی ذکر کے قائم مقام ہو جاتا ہے۔ مثلاً بھئی حاجی ہے وہ حج پر جا رہا ہے اور اپنے ساتھ قربانی کا جانور یہیں سے لے کر چلتا ہے، یعنی ہدی، اس قربانی کے جانور کو کیا کہتے ہیں؟ ہدی کہتے ہیں۔ تو یہ ہدی کا جانور یہیں سے لے کر چلتا ہے اور ہدی کے جانور پر علامت لگا دی جاتی ہے کوئی، یا اس کے گلے میں کوئی چیز لٹکا دی جاتی ہے مثلاً پرانا چمڑے کا ٹکڑا وغیرہ یا کوئی اس طرح کی چیز لٹکا دی جاتی ہے اس کے گلے میں تاکہ راستے میں ہر ایک کو پتہ چلے کہ یہ قربانی کا جانور ہے جو حرم لے جایا جا رہا ہے اور اس کی قربانی کی جائے گی تاکہ راستے میں کوئی اس جانور کو تکلیف نہ پہنچائے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جو وہ علامت کے ذریعے لوگ دیکھ لیتے: اچھا بھئی اس کے گلے میں تو یہ علامت ہے، معلوم ہوا یہ حرم لے جایا جا رہا ہے، تو وہ بھی پھر اس جانور کو کوئی تکلیف وغیرہ نہیں دیتے تھے۔ تو لہٰذا بات یہ ذکر ہو رہی ہے یہاں پر کہ یہ حج کا باب نماز کے باب سے زیادہ وسیع ہے، یہاں غیرِ ذکر بھی کس کے قائم مقام ہو جاتا ہے؟ ذکر کے قائم مقام ہو جاتا ہے۔ جیسے ہدی ہانکنے والا، ہدی لے جانے والا وہ جب اس کے گلے میں علامت ڈال دیتا ہے، اس کے گلے میں قلادہ ڈال دیا اس نے، وہ ہار، کوئی چمڑا وغیرہ لٹکا دیا اس کے گلے میں تو اس سے بھی احرام شروع ہو جاتا ہے، اس سے بھی کیا ہو جاتا ہے؟ احرام۔ بھئی جب علامت لٹکا دی معلوم ہوا اب کیا کر رہا ہے اس کو؟ گھر سے چلنے لگا ہے اور اس کے گلے میں کیا لٹکا دیا؟ قلادہ لٹکا دیا، اب نکلنے لگا ہے تو بس یہ قلادہ لٹکانا ہی ذکر کے قائم مقام ہو جاتا ہے اور احرام شروع ہو جاتا ہے۔ کیا ہو جاتا ہے؟ تو دیکھو یہ تو اب ذکر نہیں ہے، اس نے تو صرف کیا کیا ہے؟ اس کے گلے میں قلادہ لٹکایا ہے، تو دیکھو غیرِ ذکر کس کے قائم مقام ہو گیا؟ ذکر کے قائم مقام ہو گیا۔ معلوم ہوا حج کے باب میں نماز کے باب سے زیادہ وسعت ہے۔ تو جب غیرِ ذکر ذکر کے قائم مقام ہو جاتا ہے تو پھر ذکر جو ہے وہ تو بطریقِ اولیٰ اس کے تلبیہ کے قائم مقام ہو جائے گا، کوئی بھی ذکر ہو، کسی بھی زبان میں ہو، وہ تو بطریقِ اولیٰ اس تلبیہ کے قائم مقام ہو جائے گا بھئی، دلیل سمجھ میں آ گئی؟ حَتَّى يُقَامَ غَيْرُ الذِّكْرِ مَقَامَ الذِّكْرِ كَتَقْلِيدِ الْبُدْنِ، یہاں تک کہ غیرِ ذکر جو ہے ذکر کے قائم مقام ہو جاتا ہے جیسے کہ جیسے کہ بدنَہ کی تقلید کرنا یعنی اس کو قلادہ پہنانا، فَكَذَا غَيْرُ التَّلْبِيَةِ وَغَيْرُ الْعَرَبِيَّةِ، تو اسی طرح غیرِ تلبیہ اور غیرِ عربی جو ہے وہ بھی اس ذکر کے یعنی تلبیہ کے قائم مقام ہو جائے گا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ قَالَ: وَيَتَّقِي مَا نَهَى اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ مِنَ الرَّفَثِ وَالْفُسُوقِ وَالْجِدَالِ، یاد رکھیے یہ متن ہے، یہ قدوری کی عبارت ہے۔ قَالَ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: وَيَتَّقِي مَا نَهَى اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، اور یہ محرم جو ہے بچے مَا اس چیز سے نَهَى اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ جس سے اللہ نے منع فرمایا ہے، جس سے اللہ نے روکا ہے۔ بھئی وہ کیا چیزیں ہیں؟ آگے وہ ما کا بیان آ رہا ہے: مِنَ الرَّفَثِ وَالْفُسُوقِ وَالْجِدَالِ، یعنی رفث، فسوق اور جدال، ان سے کیا کرے؟ محرم بچے ان چیزوں سے۔ اب رفث، فسوق اور جدال کسے کہتے ہیں؟ آگے ہر ایک کا معنی خود صاحبِ ہدایہ بیان کریں گے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَالأَصْلُ فِيهِ قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ﴾، اور اصل اس کے اندر اللہ تعالیٰ کا قول ہے بھئی، اللہ فرماتے ہیں قرآن میں: ﴿فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ﴾، حج میں رفث بھی نہیں ہے، وَلاَ فُسُوقَ اور فسوق بھی نہیں ہے، وَلاَ جِدَالَ اور جدال بھی نہیں ہے۔ فَهَذَا نَهْيٌ بِصِيغَةِ النَّفْيِ، تو یہ نہی ہے نفی کے صیغے کے ساتھ۔ یہ نہی ہے کس صیغے کے ساتھ؟ نفی۔ بھئی دیکھیے یہاں کوئی منع نہیں کیا جا رہا، صرف ایک خبر دی جا رہی ہے: ﴿فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ﴾، حج میں رفث بھی نہیں ہے، فسوق بھی نہیں ہے اور جدال بھی نہیں۔ کوئی حکم دیا جا رہا ہے؟ ایک خبر دی جا رہی ہے کہ یہ چیزیں حج میں نہیں۔ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلا رہے ہیں آگے کہ بھئی ٹھیک ہے یہ الفاظ نفی والے ہیں، خبر والے ہیں لیکن یہ دراصل نہی ہے، منع کیا جا رہا ہے۔ یہ بتلایا نہیں جا رہا کہ حج میں یہ چیزیں نہیں ہیں بلکہ یہ حکم دیا جا رہا ہے کہ حج کے اندر رفث بھی نہیں کرنا، فسوق بھی نہیں کرنا اور جدال بھی نہیں کرنا۔ تو لفظ کس کے ہیں؟ نفی والے، لیکن کس معنی میں ہے؟ نہی کے معنی میں ہے یعنی ان چیزوں سے روکا جا رہا ہے، منع کیا جا رہا ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ یہ معنی ہے: فَهَذَا نَهْيٌ بِصِيغَةِ النَّفْيِ، تو یہ نہی ہے نفی کے صیغے کے ساتھ۔ وَالرَّفَثُ الْجِمَاعُ، اب معنی بیان کرنے لگے ہیں کہ رفث، فسوق اور جدال کسے کہتے ہیں، تو کہتے ہیں: وَالرَّفَثُ الْجِمَاعُ أَوِ الْكَلاَمُ الْفَاحِشُ أَوْ ذِكْرُ الْجِمَاعِ بِحَضْرَةِ النِّسَاءِ، رفث کے تین معنی بیان کر رہے ہیں کہ رفث یا تو وہ جماع ہے۔ رفث کا کیا معنی کیا ہے بعضوں نے؟ جماع کے کیے ہیں کہ حج کے اندر جماع نہیں یعنی بیوی سے دور رہنا ہوگا۔ أَوِ الْكَلاَمُ الْفَاحِشُ، یا رفث کا معنی ہے فاحش کلام، بیہودہ کلام۔ بیہودہ کلام ویسے بھی منع ہے اور خصوصاً اب احرام کی حالت کے اندر تو اور بھی زیادہ اس سے اس سے رکنا ضروری ہے، تو بیہودہ کلام ہے اس کا معنی کہ حج میں بیہودہ کلام نہ کرے، أَوْ ذِكْرُ الْجِمَاعِ بِحَضْرَةِ النِّسَاءِ، یہ تیسرا معنی بیان کر رہے ہیں کہ رفث کا معنی جماع کو ذکر کرنا عورتوں کی موجودگی میں۔ جماع یا دواعیِ جماع جیسی چیزوں کو کس کے سامنے ذکر کرنا؟ عورتوں کی موجودگی میں ذکر کرنا اس سے بھی منع کیا گیا ہے بھئی۔ تو رفث کے کتنے معنی بیان ہو گئے؟ تین: جماع ہے اس کا معنی، یا کلامِ فاحش ہے، یا عورتوں کی موجودگی میں جماع وغیرہ کا ذکر ہے۔ وَالْفُسُوقُ الْمَعَاصِي، اور فسوق جو ہے وہ معاصی، وہ گناہ ہیں بھئی۔ فسوق سے کیا مراد ہے؟ گناہ۔ یعنی حج میں گناہ بھی نہیں۔ گناہ سے تو ویسے بھی بچنا ضروری اور خصوصاً احرام کی حالت میں تو اور بھی زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ تو کہتے ہیں: وَهُوَ فِي حَالِ الإِحْرَامِ أَشَدُّ حُرْمَةً، اور گناہ جو ہیں یہ تو احرام کی حالت میں اور زیادہ حرام ہیں بھئی، ان کی حرمت تو اور زیادہ ہے۔ وَالْجِدَالُ، جدال کا لفظ بھی آیا تھا تو اس کا کیا معنی؟ کہتے ہیں: وَالْجِدَالُ أَنْ يُجَادِلَ رَفِيقَهُ، اور جدال یہ ہے کہ جھگڑا کرے اپنے ساتھی سے۔ بھئی یاد رکھیے حج بڑا ہی بڑا ہی مشقت والا عمل ہے اور بڑی مشقت پیش آتی ہے۔ میں نے گزشتہ سبق میں بھی ذکر کیا تھا اگرچہ اب بے انتہا سہولیات ہو گئیں، چند گھنٹوں کے اندر انسان وہاں پہنچ جاتا ہے لیکن اس کے باوجود چونکہ لاکھوں کا مجمع ہوتا ہے تو بے انتہا مشقت پیش آتی ہے۔ چند منٹوں والا کام کئی گھنٹوں میں ہوتا ہے، گھنٹوں والا کام بعض اوقات دنوں تک چلا جاتا ہے، بات سمجھ میں آ گئی بھئی۔ حتیٰ کہ ایئرپورٹ سے مکہ جانے میں، حالانکہ ایئرپورٹ سے نکلے اور سیدھا جدہ ہے، جدہ سے سیدھا مکہ جائیں گے وہ کوئی پونا گھنٹہ یا گھنٹے کا سفر ہے لیکن بعض اوقات یہ ایئرپورٹ پہ نکلتے نکلتے ایک دو دن لگ جاتے ہیں بھئی، کیونکہ پوری دنیا سے مسلسل لوگ آ رہے ہیں تو ان سب کو سنبھالنا بڑا ہی مشکل کام ہوتا ہے۔ اسی طرح بھئی کھانے پینے وغیرہ کے اندر اور چیزوں کے اندر بھی بعض جگہ تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بھی، تو بے انتہا مشقت پیش آتی ہے۔ لہٰذا انسان کو پہلے ہی ذہنی طور پر تیار ہونا چاہیے کہ حد سے زیادہ مشقت آگے پیش آنے والی ہے۔ جب ذہنی طور پر تیار ہوگا تو پھر اس کے صبر کا پیمانہ جلدی لبریز نہیں ہوگا، بے صبرا نہیں ہوگا، ساتھیوں سے لڑائی جھگڑا نہیں کرے گا۔ لیکن اگر اس کے ذہن میں ہے کہ میں نے تو بڑی جو ہے پیسے لگائے ہیں، میں نے اچھا ہوٹل کروایا ہے، فلاں چیز اچھی سے اچھی کروائی ہے اور کوئی مشکل نہیں ہوگی، بسیں آرام دہ ہوں گی، جہاز آرام سے پہنچائیں گے، تو بھئی وہاں تو لاکھوں کا مجمع ہے، سارے لوگ ایک ہی جگہ جمع ہیں اور قدم قدم پر مشقت ہے انتہا درجے کی، تو پھر اس صورت میں بڑی جلدی جو ہے ذرا سی تکلیف آتی ہے اس کا جو ہے صبر ٹوٹنے لگتا ہے، بات بے بات پہ اس کو غصہ چڑھنے لگتا ہے، اپنے ہی ساتھیوں سے جھگڑتا ہے اور سب کے لیے تکلیف کا باعث بن جاتا ہے۔ تو اس لیے بالخصوص قرآن کے اندر منع کیا گیا کہ حج کی حالت میں جھگڑنا نہیں ہے بھئی، حج کی حالت میں جھگڑنا نہیں ہے۔ تم اپنے محبوبِ حقیقی کے کوچہ و بازار اور در و دیار کے اندر تم حاضری دینے جا رہے ہو، عاشق کا کیا کام ہے کہ وہ کسی سے لڑائی جھگڑا کرے؟ عاشق پر تو ایک ہی دھن سوار ہوتی ہے کہ کسی طرح اپنے محبوب تک پہنچ جائے بھئی۔ تو لہٰذا یہاں بھی تم نے وہی عاشق کی طرح رہنا ہے، ہر تکلیف اور پریشانی کو برداشت کرنا ہے، کسی سے جھگڑا وغیرہ نہیں کرنا بھئی، تفصیل سمجھ میں آ گئی بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَالْجِدَالُ أَنْ يُجَادِلَ رَفِيقَهُ، اور جدال یہ ہے کہ جھگڑا کرے اپنے ساتھی سے۔ وَقِيلَ، اور کہا گیا ہے، جدال کا دوسرا معنی بھی کر رہے ہیں، بعضوں نے یہ قول بھی ذکر کیا ہے، کہتے ہیں: مُجَادَلَةُ الْمُشْرِكِينَ فِي تَقْدِيمِ وَقْتِ الْحَجِّ وَتَأْخِيرِهِ، کہ جدال کا معنی ہے جھگڑا کرنا، مُجَادَلَةُ الْمُشْرِكِينَ مشرکین سے جھگڑا کرنا فِي تَقْدِيمِ وَقْتِ الْحَجِّ وَتَأْخِيرِهِ حج کے وقت کو مقدم اور مؤخر کرنے میں۔ بھئی مشرکین جو تھے مشرکین، وہ کبھی حج کے مہینے کو مقدم کر دیتے تھے اور کبھی کبھار حج کے مہینے کو مؤخر کر دیتے تھے کہ اس دفعہ فلاں مہینے میں حج ہوگا۔ ابھی یہ حج کا مہینہ ہے ہی نہیں، وہ فلاں اگلا یا اس سے اگلا مہینہ جو آئے گا وہ حج کا ہوگا۔ کبھی پہلے ہی طے کر لیتے، اس وقت سے پہلے ہی ایک آدھ مہینہ بس طے کر لیتے کہ بھئی یہی جو اگلا مہینہ آ رہا ہے یہی حج والا ہے۔ ان کا خاص طریقہ تھا اس کے مطابق وہ کر لیا کرتے تھے تو اس سے منع کیا گیا کہ مسلمانوں کو کہ مشرکین جو اگر اس حج کے مہینے کو آگے پیچھے کرتے ہیں تو ان سے جھگڑا مت کرو بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ لیکن پہلا قول راجح ہے اور اسی لیے دوسرے کو قِيلَ کے ساتھ ذکر کیا، قِيلَ کے ذریعے کمزور قول ذکر کیا جاتا ہے۔ تو کہتے ہیں: وَقِيلَ مُجَادَلَةُ الْمُشْرِكِينَ فِي تَقْدِيمِ وَقْتِ الْحَجِّ وَتَأْخِيرِهِ، اور کہا گیا ہے جدال کا معنی جو ہے مشرکین کا جھگڑنا ہے حج کے وقت کو مقدم اور مؤخر کرنے میں۔ وَلاَ يَقْتُلُ صَيْدًا، اور شکار کو قتل نہ کرے۔ بھئی حالتِ احرام کے اندر پابندیاں انسان پر لگ جاتی ہیں، ان میں سے ایک پابندی کیا ہے کہ شکار کو قتل نہ کرے بھئی۔ لِقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنتُمْ حُرُمٌ﴾، اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: اور تم لوگ شکار نہ کرو اس حال میں کہ تم محرم ہو، حالتِ احرام میں ہو۔ یعنی احرام کی حالت میں تم شکار نہ کرو۔ اور یہ یاد رکھنا، خشکی کا جانور جو ہے وہ شکار کرنے سے منع کیا گیا ہے، سمندری شکار جو ہے اس کی اجازت ہے اس لیے کیونکہ سمندر کے اندر خوراک کا ذریعہ ہی وہ ہے، وہ شکار وغیرہ، اس کے علاوہ تو وہاں کچھ ملتا ہی نہیں ہے، ہر طرف پانی ہی پانی ہے اور کئی دنوں کا سفر۔ تو جبکہ خشکی پر تو اور بھی اسباب موجود ہوتے ہیں تو لہٰذا خشکی پر شکار کو منع کیا گیا۔ اچھا اور دوسری جگہ اس کی تصریح بھی آتی ہے قرآن میں، قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا﴾، اور تم پر حرام کر دیا گیا ہے خشکی کے شکار کو جب تک تم حالتِ احرام میں ہو بھئی۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی بھئی۔ وَلاَ يُشِيرُ إِلَيْهِ، بھئی شکار کو قتل بھی نہیں کرنا، وَلاَ يُشِيرُ إِلَيْهِ اور اس کی طرف اشارہ بھی نہ کرے یعنی ہاتھ کے ذریعے کسی دوسرے کو بھی نہ بتائے کہ یہ شکار ہے، وَلاَ يَدُلُّ عَلَيْهِ اور اس پر رہنمائی بھی نہ کرے یعنی زبان کے ذریعے بھی کسی کو نہ بتلائے کہ اس طرف کو شکار موجود ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ نہ اشارہ کرنا ہے نہ رہنمائی کرنی ہے، کسی طرح شکار کے اندر دوسرے کی اعانت نہیں کرنی بھئی۔ دلیل ذکر کر رہے ہیں: بھئی اشارہ بھی نہیں کرنا، رہنمائی بھی نہیں کرنی اس کی کیا دلیل ہے؟ وہ دلیل ذکر کر رہے ہیں: لِحَدِيثِ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ أَنَّهُ أَصَابَ حِمَارَ وَحْشٍ وَهُوَ حَلاَلٌ وَأَصْحَابُهُ مُحْرِمُونَ، حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث ہے: أَنَّهُ أَصَابَ حِمَارَ وَحْشٍ کہ انہوں نے ایک جنگلی گدھا جو ہے اس کو پا لیا یعنی اس کا شکار کیا، وَهُوَ حَلاَلٌ، بھئی اس کا ترجمہ خیال رکھنا بھئی: وَهُوَ حَلاَلٌ، یہ ترجمہ نہ کرنا کہ وہ حمارِ وحشی حلال ہے بلکہ وَهُوَ حَلاَلٌ اس حال میں کہ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حلال تھے یعنی محرم نہیں تھے بھئی، محرم نہیں تھے۔ انہوں نے شکار کیا، وَأَصْحَابُهُ مُحْرِمُونَ اور ان کے ساتھی جو تھے وہ سارے محرم تھے، یہ غیر محرم تھے تو انہوں نے اس جنگلی گدھے کا شکار کر لیا۔ فَقَالَ النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ لِأَصْحَابِهِ: ”هَلْ أَشَرْتُمْ؟ هَلْ دَلَلْتُمْ؟ هَلْ أَعَنْتُمْ؟“ فَقَالُوا: لاَ، فَقَالَ: ”إِذَنْ فَكُلُوا“، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے اپنے ساتھیوں سے: ”هَلْ أَشَرْتُمْ؟“ کیا تم نے اشارہ کیا تھا؟ ”هَلْ دَلَلْتُمْ؟“ کیا تم نے رہنمائی کی تھی زبان کے ذریعے؟ ”هَلْ أَعَنْتُمْ؟“ کیا تم نے مدد کی تھی؟ فَقَالُوا: لاَ، انہوں نے کہا نہیں، کہ ہم نے تو کوئی مدد، اشارہ وغیرہ نہیں کیا، فَقَالَ: ”إِذَنْ فَكُلُوا“، تو حضور علیہ السلام پھر فرمانے لگے: تب تم پھر کھاؤ، تب تم پھر کھاؤ۔ تو معلوم ہوا اس حدیث سے کہ اشارہ بھی نہیں کر سکتا، رہنمائی اور کوئی مدد وغیرہ بھی نہیں کر سکتا بھئی حالتِ احرام میں۔ وَلِأَنَّهُ، یہاں سے عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں بھئی، کہتے ہیں: وَلِأَنَّهُ إِزَالَةُ الأَمْنِ عَنِ الصَّيْدِ، وَلِأَنَّهُ یہ جو اشارہ اور دلالت ہے اور یہ مدد جو ہے، اشارہ کرنا یا دلالت کرنا یا مدد کرنا شکار کے اندر، یہ إِزَالَةُ الأَمْنِ عَنِ الصَّيْدِ یہ امن کو دور کرنا ہے شکار سے، لِأَنَّهُ آمِنٌ بِتَوَحُّشِهِ، اس لیے کیونکہ شکار تو مامون تھا اپنے وحشی ہونے کی وجہ سے۔ بھئی کچھ جانور مانوس ہوتے ہیں۔ جانور مانوس ہوتے ہیں: بھیڑ، بکری، گائے وغیرہ، آپ ان کے پاس بھی چلے جائیں وہ وہیں کھڑے رہیں گے، آپ آرام سے ان کو پکڑ لیں، ہاتھ لگائیں وغیرہ، وہ بھاگتے تو نہیں۔ لیکن وحشی جانور جو ہوتے ہیں وہ آپ کو قریب بھی نہیں آنے دے گا، وہ تو آپ کو دور سے ہی دیکھ کر بھاگ جائے گا۔ تو دیکھو یہ جو وحشی ہونا ہے اس کے ذریعے وہ مامون ہے، آپ اس تک نہیں پہنچ سکتے۔ اس کو زخمی کیے بغیر یا کوئی حیلے بہانے کیے بغیر آپ اس کو پکڑ نہیں سکتے، تو وہ مامون ہے کس وجہ سے؟ اپنے وحشی ہونے کی وجہ سے وہ آپ سے اور شکار ہونے سے بچا ہوا ہے۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّهُ آمِنٌ بِتَوَحُّشِهِ، اس لیے کیونکہ وہ جو شکار ہے وہ تو مامون ہے اپنے وحشی ہونے کی وجہ سے، وَبُعْدِهِ عَنِ الأَعْيُنِ، اور نگاہوں سے دور ہونے کی وجہ سے۔ وہ شکار تو مامون ہوتا ہے اپنے وحشی ہونے کی وجہ سے اور آنکھوں سے دور ہونے کی وجہ سے، وہ تو انسانوں کے قریب بھی نہیں آتا، تو وہ مامون تھا۔ اور یہ محرم اگر کیا کر دیتا ہے؟ اشارہ یا رہنمائی یا مدد وغیرہ کر کے بتا دیتا ہے دوسروں کو کہ وہ شکار ہے تو اس نے اس شکار کے امن کو ختم کر دیا یا نہیں کر دیا؟ اس کے امن کو ختم کر دیا اور وہ بیچارہ اس وجہ سے شکار ہو گیا، تو لہٰذا معلوم ہوا یہ بھی جرم ہے، یہ بھی کیا ہے؟ جرم ہے، کیونکہ اس نے احرام باندھا ہے اور احرام کی حالت میں تو کسی چیز کو ادنیٰ سے ادنیٰ تکلیف پہنچانے سے بھی منع کیا گیا ہے اور اس نے کیا کیا ہے؟ اس بیچارے جانور کے امن کو زائل کر دیا ہے، لہٰذا اس لیے یہ جرم ہوا اور اس پر پھر کیا ہوگا؟ اسی کا مثل وغیرہ دینا پڑے گا، تفصیل آپ اصولِ فقہ وغیرہ میں بھی تفصیل پڑھ چکے ہوں گے بھئی۔ یہ معنی ہے: لِأَنَّهُ آمِنٌ بِتَوَحُّشِهِ وَبُعْدِهِ عَنِ الأَعْيُنِ، اس لیے کیونکہ وہ شکار جو ہے وہ تو مامون ہوتا ہے اپنے وحشی ہونے کی وجہ سے اور نگاہوں سے دور ہونے کی وجہ سے۔ قَالَ: وَلاَ يَلْبَسُ قَمِيصًا وَلاَ سَرَاوِيلَ وَلاَ عِمَامَةً وَلاَ خُفَّيْنِ، اور محرم نہیں پہن سکتا قمیص، وَلاَ سَرَاوِيلَ اور نہ شلوار۔ شلوار اور قمیص محرم نہیں پہن سکتا، کوئی سلے ہوئے کپڑے، کوئی سلی ہوئی چیز نہیں پہن سکتا بھئی۔ وَلاَ عِمَامَةً، اور پگڑی نہیں پہن سکتا، سر کو ننگا رکھنا پڑے گا، سر کو نہیں ڈھانپ سکتا۔ تو کہتے ہیں: وَلاَ عِمَامَةً اور نہ پگڑی پہن سکتا ہے، وَلاَ خُفَّيْنِ اور نہ ہی موزے پہن سکتا ہے، موزے نہیں پہن سکتا بھئی۔ إِلاَّ أَنْ لاَ يَجِدَ نَعْلَيْنِ، مگر یہ کہ وہ شخص جوتے نہ پائے، نَعْلَيْنِ کہتے ہیں جوتوں کو۔ محرم کو اگر جوتے نہیں مل رہے، اس کے پاس جوتے نہیں ہیں، فَيَقْطَعُهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، تو پھر ان دو موزوں کو کاٹ لے کعبین سے نیچے نیچے۔ کعبین سے نیچے کاٹ لے یعنی کاٹ کر ان کا جوتا بنا لے، ان کو کاٹ کر جوتا بنا لے، موزے پہننے کی اجازت نہیں۔ اور یہ یاد رکھنا، یہاں کعبین آیا، کعبین سے ٹخنے نہ مراد لینا، کعبین، بلکہ کعبین سے یہاں مراد ہیں یہ جو تسمہ باندھنے کے مقام پر ابھری ہوئی ہڈی ہے پاؤں کی، جہاں تسمے باندھے جاتے ہیں جوتے کے، یہاں پر یہ جو ابھری ہوئی ہڈی ہے اس کو کعب کہا جاتا ہے۔ کیا کہا جاتا ہے؟ کعب کہا جاتا ہے، اور دو پاؤں ہیں تو دونوں کی ایک ایک کعب تو یہ کعبین ہو گئیں، کیا بن گئیں؟ کعبین، دو کعب جو ہیں۔ اسی وجہ سے آپ حاجی اور عمرے پر جانے والے حضرات کو دیکھتے ہیں کہ جب وہ جاتے ہیں وہ ہوائی چپل وغیرہ پہنتے ہیں۔ کیوں پہنتے ہیں یہ ہوائی چپل؟ اس لیے کیونکہ دورانِ احرام اس ہڈی کو کھلا رکھنا ضروری ہے۔ اس ہڈی کو کھلا رکھنا ضروری ہے۔ تو کعبین سے یہ ابھری ہوئی ہڈی مراد ہے۔ اگر یہ ٹخنے مراد ہوتے تو ٹخنے تو عموماً ہر جوتے میں کھلے ہوتے ہیں، لیکن آپ دیکھتے ہیں وہ ہر جوتا نہیں پہنتے، کون سا جوتا پہنتے ہیں؟ ہوائی چپل وغیرہ یا اس طرح کا جوتا پہنتے ہیں جس سے یہ درمیان کے پاؤں کے درمیان جو ہڈی ہے تسمہ باندھنے کے مقام پر یہ کھلی ہوتی ہے، تفصیل سمجھ میں آ گئی۔ إِلاَّ أَنْ لاَ يَجِدَ نَعْلَيْنِ فَيَقْطَعُهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، مگر یہ کہ وہ جوتے نہ پائے تو پھر کاٹ لے گا ان موزوں کو کعبین سے نیچے۔ لِمَا رُوِيَ أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ نَهَى أَنْ يَلْبَسَ الْمُحْرِمُ هَذِهِ الأَشْيَاءَ، اس لیے کیونکہ روایت کیا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ محرم پہنے یہ والی چیزیں۔ ان چیزوں سے حضور علیہ السلام نے محرم کو محرم کو پہننے سے منع فرمایا: قمیص، شلوار، پگڑی، موزے وغیرہ۔ وَقَالَ فِي آخِرِهِ: ”وَلاَ خُفَّيْنِ إِلاَّ أَنْ لاَ يَجِدَ نَعْلَيْنِ فَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ“، اور اس حدیث کے آخر میں حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: اور موزے بھی نہیں پہن سکتا مگر یہ کہ وہ جوتے نہ پائے، یہ حدیث چل رہی ہے بھئی، ”وَلاَ خُفَّيْنِ“ سے آگے وہ حدیث کا حصہ چل رہا ہے: اور موزے بھی نہیں پہن سکتا مگر یہ کہ محرم جو ہے وہ جوتے نہ پائے، تو چاہیے اس کو کہ وہ کاٹ لے ان موزوں کو کعبین سے نیچے بھئی۔ یہاں تک حدیث ہے۔ آگے صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں: وَالْكَعْبُ هُنَا الْمَفْصِلُ الَّذِي فِي وَسَطِ الْقَدَمِ عِنْدَ مَعْقِدِ الشِّرَاكِ فِيمَا رَوَى هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ، اور کعب جو ہے یہاں پر، کعب تو ویسے ٹخنے کو بھی کہتے ہیں لیکن یہاں پر کعب جو ہے المفصل، مفصل کہتے ہیں جوڑ کو، جوڑ کو: الْمَفْصِلُ الَّذِي فِي وَسَطِ الْقَدَمِ، وہ جوڑ ہے جو قدم کے درمیان میں ہے، جو پاؤں کے بیچ میں ہے، عِنْدَ مَعْقِدِ الشِّرَاكِ، معقد باندھنے کی جگہ، اور شراک، شراک تسمے کو کہتے ہیں: عِنْدَ مَعْقِدِ الشِّرَاكِ، تسموں کے باندھنے کی جگہ پر، فِيمَا رَوَى هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ، اس روایت کے مطابق جس کو ہشام نے روایت کیا ہے امام محمد رحمہ اللہ سے بھئی۔ وَلاَ يُغَطِّي وَجْهَهُ وَلاَ رَأْسَهُ، اور نہ ڈھانپے اپنے چہرے کو اور نہ اپنے سر کو۔ حالتِ احرام میں اپنے چہرے کو بھی نہیں ڈھانپ سکتا اور اپنے سر کو بھی محرم نہیں ڈھانپ سکتا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور یہ مرد کا احرام بیان ہو رہا ہے بھئی۔ مرد اپنے سر کو بھی نہیں ڈھانپ سکتا اور چہرے کو بھی نہیں ڈھانپ سکتا۔ جبکہ عورت کا احرام وہ اسی کے عام کپڑوں میں ہوتا ہے، جو بھی لباس ہو۔ اور نیز وہ جو بھی جوتے پہن لے، اس کے لیے وہ ہڈی کو کھلا رکھنا ضروری نہیں، جو بھی جوتے پہن لے، اور نیز عورت کے لیے سر کا کھلا رکھنا نہیں ضروری، سر ڈھانپے، اور ہاں چہرے چہرے چہرے کا کھلا رکھنا ضروری ہے۔ اور آگے تفصیل آ بھی جائے گی، کتاب کے اندر بھی آئے گی، اور چہرے کو اب وہ کھلا رکھے تو دوسری طرف پردہ بھی ضروری ہے بھئی، تو وہ لہٰذا کیا کرے کہ وہ جو چہرے کے سامنے جو کپڑا لٹکائے، جو نقاب لٹکائے وہ ہاتھ کے ذریعے اس کو پکڑ کر رکھے، چہرے سے جدا رکھے اس کو، چہرے سے اس کو جدا رکھے، چہرے پر نہ لگنے دے۔ اور یا کوئی ایسی چیز پہن لے کہ جو ماتھے پر ذرا آگے نکلی ہوئی ہو اور اس پر نقاب اوپر ڈال لے تو اب وہ نقاب چہرے سے جدا رہے گا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلاَ يُغَطِّي وَجْهَهُ وَلاَ رَأْسَهُ، اور نہ ڈھانپے اپنے چہرے کو اور نہ اپنے سر کو۔ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: يَجُوزُ لِلرَّجُلِ تَغْطِيَةُ الْوَجْهِ، اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جائز ہے مرد کے لیے اپنے چہرے کو ڈھانپنا۔ وہ فرماتے ہیں چہرے کو ڈھانپ سکتا ہے، صرف سر کو نہیں ڈھانپنا۔ دلیل ان کی وہ فرماتے ہیں: لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ: ”إِحْرَامُ الرَّجُلِ فِي رَأْسِهِ وَإِحْرَامُ الْمَرْأَةِ فِي وَجْهِهَا“، بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے، آپ نے فرمایا: مرد کا احرام اس کے سر میں ہے، اور عورت کا احرام اس کے چہرے میں ہے۔ یہ ان کی دلیل ہے، کہتے ہیں دیکھیے بھئی حدیث سے کیا پتہ چلا کہ مرد کا احرام صرف کس میں ہے؟ سر میں ہے، معلوم ہوا چہرے میں نہیں تو چہرے کو ڈھانپ سکتا ہے۔ وَلَنَا، اور ہماری دلیل جو ہے: قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ: ”لاَ تُخَمِّرُوا وَجْهَهُ وَلاَ رَأْسَهُ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا“ قَالَهُ فِي مُحْرِمٍ تُوُفِّيَ، وہ حضور علیہ السلام کا یہ قولِ مبارک ہے، آپ نے فرمایا: ”لاَ تُخَمِّرُوا وَجْهَهُ وَلاَ رَأْسَهُ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا“، قَالَهُ فِي مُحْرِمٍ تُوُفِّيَ۔ بھئی ایک شخص حالتِ احرام کے اندر سواری سے نیچے گر گیا، بیچارے کی گردن ٹوٹ گئی اور انتقال ہو گیا، حالتِ احرام میں، حج کے دوران بھئی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: ”لاَ تُخَمِّرُوا وَجْهَهُ“، تم لوگ اس کے چہرے کو نہ ڈھانپو، ”وَلاَ رَأْسَهُ“، اور نہ اس کے سر کو۔ تم لوگ اس کے چہرے اور سر کو نہ ڈھانپو، ”فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا“، پس یہ جو ہے اٹھایا جائے گا قیامت کے دن ملبیاً، اس حال میں کہ یہ تلبیہ کہہ رہا ہوگا۔ قیامت کے دن بھئی یہ کس حالت میں اٹھایا جائے گا؟ حالتِ احرام میں ہی اٹھایا جائے گا، تلبیہ کہتے ہوئے یہ اٹھے گا بھئی۔ اور حدیث میں کیا آیا: اس کے چہرے کو بھی نہ ڈھانپو اور اس کے سر کو بھی نہ ڈھانپو، معلوم ہوا چہرے کو بھی نہیں ڈھانپا جائے گا احرام میں اور سر کو بھی نہیں ڈھانپا جائے گا، دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی۔ وَلَنَا قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ: ”لاَ تُخَمِّرُوا وَجْهَهُ وَلاَ رَأْسَهُ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا“ قَالَهُ فِي مُحْرِمٍ تُوُفِّيَ، اور ہماری دلیل حضور علیہ السلام کا یہ فرمانِ مبارک ہے، آپ نے فرمایا: تم لوگ نہ تو اس کے چہرے کو ڈھانپو اور نہ اس کے سر کو، پس اس کو اٹھایا جائے گا قیامت کے دن اس حال میں کہ یہ تلبیہ کہہ رہا ہوگا۔ حضور علیہ السلام نے یہ فرمایا ایسے محرم کے بارے میں جس کا انتقال ہو گیا تھا، انتقال ہو گیا تھا۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ آپ اے احناف دلیل کے طور پر ایک ایسی حدیث ذکر کر رہے ہیں جس پر آپ خود بھی عمل نہیں کرتے، کیونکہ ہمارے نزدیک اگر حالتِ احرام میں بھی کسی شخص کا انتقال ہو جائے تو اس کے چہرے اور سر کو کھلا نہیں رکھ کر اسے دفن کیا جائے گا بلکہ بلکہ اسے عام لوگوں کی طرح ہی اسے کفن پہنایا جائے گا، خوشبو وغیرہ لگائی جائے گی اور اسی طرح دفن کیا جائے گا۔ اور اس حدیث سے تو کیا پتہ چل رہا ہے، اس کے بارے میں حضور علیہ السلام کیا فرما رہے ہیں، کس طرح اس کو دفن کرو؟ چہرے کو بھی نہیں ڈھانپنا اور سر کو بھی نہیں ڈھانپنا بھئی، سر کو بھی نہیں۔ تو اے احناف اس پر تمہارا عمل نہیں ہے، پھر تم کیسے اس کو دلیل کے طور پر ذکر کر رہے ہو؟ تو جواب یہ کہ بھئی دلیل کے طور پر اس کو ذکر کیا جا سکتا ہے، اگرچہ اور دلائل کے ذریعے ہم کہتے ہیں کہ وہ محرم جو ہے اس کو عام حاجی جب اس کا انتقال ہو گیا تو احرام ختم ہو گیا بھئی، سمجھ میں آ گئی بات؟ تو اس کے بعد اس کو عام لوگوں جیسا ہی عام لوگوں جیسا ہی کفن اس کو دیا جائے گا بھئی۔ اور یہ معلوم ہوا اس صحابی کی تخصیص ہے بھئی، ان کی کیا ہے؟ ان کی خصوصیت ہے، ان کے بارے میں حضور علیہ السلام نے فرمایا، لیکن بہرحال پھر بھی یہ حدیث ہم دلیل کے طور پر پیش کر رہے ہیں اس مسئلے میں کہ احرام جو ہے مرد کا سر کے ساتھ ساتھ اس کے چہرے میں بھی ہوتا ہے، اس کی دلیل کے طور پر ذکر کر رہے ہیں اور یہ بات تو حدیث سے واضح معلوم ہو رہی ہے بھئی، حضور علیہ السلام کیا فرما رہے ہیں؟ سر کو بھی نہ ڈھانپو اور چہرے کو بھی نہ ڈھانپو بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ وَلِأَنَّ الْمَرْأَةَ لاَ تُغَطِّي وَجْهَهَا، جی یہاں سے عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: وَلِأَنَّ الْمَرْأَةَ لاَ تُغَطِّي وَجْهَهَا مَعَ أَنَّ فِي الْكَشْفِ فِتْنَةً فَالرَّجُلُ بِالطَّرِيقِ الأَوْلَى، عقلی دلیل یہ کہ بھئی دیکھیے عورت جو ہے عورت، اس کے چہرے کے ظاہر کرنے میں اگرچہ فتنے کا خطرہ ہے پھر بھی پھر بھی اس کے وہ اپنے چہرے کو نہیں ڈھانپے گی، جب عورت جس کے چہرے کے ظاہر کرنے میں اور کھلا رکھنے میں فتنہ ہے جب وہ اپنے چہرے کو نہیں ڈھانپے گی تو مرد بطریقِ اولیٰ اپنے چہرے کو نہیں ڈھانپے گا بھئی، دلیل سمجھ میں آ گئی۔ وَلِأَنَّ الْمَرْأَةَ لاَ تُغَطِّي وَجْهَهَا مَعَ أَنَّ فِي الْكَشْفِ فِتْنَةً فَالرَّجُلُ بِالطَّرِيقِ الأَوْلَى، اور اس لیے کیونکہ عورت جو ہے وہ اپنے چہرے کو نہیں ڈھانپے گی باوجود اس کے کہ چہرہ کھلا رکھنے کے اندر فتنہ ہے، تو مرد جو ہے وہ بطریقِ اولیٰ چہرے کو نہیں ڈھانپے گا۔ وَفَائِدَةُ مَا رَوَى الْفَرْقُ فِي تَغْطِيَةِ الرَّأْسِ، اور فائدہ اس حدیث کا جس کو امام شافعی رحمہ اللہ نے روایت کیا وہ فرق کرنا ہے سر ڈھانپنے میں، وہ فرق کرنا ہے سر ڈھانپنے میں۔ ہم کہتے ہیں یہ جو حدیث امام شافعی رحمہ اللہ نے ذکر کی یہ سر ڈھانپنے کے فرق کو بیان کرنے کے لیے ہے، یعنی اس کے ذریعے مقصد کیا ہے، کیا بیان کیا جا رہا ہے؟ سر ڈھانپنے میں فرق بیان کیا جا رہا ہے کہ مرد کا احرام سر میں ہے، عورت کا احرام سر میں نہیں ہے، مرد اپنے سر کو کھلا رکھے گا، عورت اپنے سر کو کھلا نہیں رکھے گی، یہ مقصد ہے اس حدیث کے لیے۔ اسی لیے حضور علیہ السلام فرما رہے ہیں: ”إِحْرَامُ الرَّجُلِ فِي رَأْسِهِ“، مرد کا احرام ہے اس کے سر میں، ”وَإِحْرَامُ الْمَرْأَةِ فِي وَجْهِهَا“، اور عورت کا احرام اس کے چہرے میں ہے یعنی سر میں نہیں ہے، وہ اپنے سر کو ڈھانپے گی بھئی، دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی۔ قَالَ: وَلاَ يَمَسُّ طِيبًا لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ: ”الْحَاجُّ الشَّعِثُ التَّفِلُ“، اور محرم جو ہے وہ خوشبو نہیں لگائے گا بھئی، خوشبو نہیں لگا سکتا اور کوئی خوشبو والی چیز استعمال نہیں کر سکتا۔ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ، بوجہ حضور علیہ السلام کے اس فرمانِ مبارک کے، آپ نے فرمایا: ”الْحَاجُّ الشَّعِثُ التَّفِلُ“، کہ حاجی جو ہے الْحَاجُّ، حاجی جو ہے الشَّعِثُ، شَعِث کہتے ہیں پراگندہ بالوں والا یعنی جس کے بال بکھرے ہوئے ہیں، میلے ہیں، یہ ہے پراگندہ بالوں والا۔ بکھرے ہوئے میلے بالوں والا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ شَعِث، شَعِث۔ اور تَفِل، تَفِل کا معنی ہے بغیر خوشبو کے یعنی کوئی خوشبو وغیرہ نہیں بلکہ اس سے بو وغیرہ آ رہی ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اس کو کیا کہتے ہیں؟ تَفِل۔ تو حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”الْحَاجُّ الشَّعِثُ التَّفِلُ“، حاجی جو ہے وہ تو پراگندہ بالوں والا اور تَفِل ہوتا ہے یعنی بغیر خوشبو کے ہوتا ہے یعنی اس سے تو بو وغیرہ آ رہی ہوتی ہے۔ بھئی میں نے بتلایا یہ حج جو ہے عشق و محبت کا مظہر ہے بھئی، یہ اللہ سے اپنے عشق و محبت کا اظہار ہے بھئی۔ اور عاشق عاشق اس کی تو ساری توجہ اپنے محبوب کی طرف ہوتی ہے، دنیا کی کسی چیز کی طرف توجہ نہیں ہوتی۔ یہ خوشبو، یہ زیب و زینت والے کپڑے وغیرہ ان کی طرف اس کی توجہ نہیں ہوتی، اپنے آپ کو سنوارنے کی طرف اس کی توجہ نہیں ہوتی، تو جو شخص جتنا زیادہ پراگندہ حال ہوگا وہ اتنا ہی زیادہ اللہ کے نزدیک پسندیدہ ہے بھئی۔ تو وہ صحیح معنوں میں اپنے آپ کو ایک عاشق کے انداز میں لے کر آیا ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ یاد رکھیے یہ جو حج ہے یہ سارا عشق و محبت کا مظہر ہے بھئی، یہ عشق و محبت کا امتحان ہے، اور اس امتحان کا آغاز رمضان سے ہوتا ہے بھئی۔ انسان کی محبوب ترین چیزیں جو ہیں کھانا پینا اور بیوی ہے، تو رمضان کے اندر حکم دیا جاتا ہے کہ اے مسلمانوں تمہیں اللہ سے عشق و محبت کا دعویٰ ہے تو اپنی یہ تین محبوب چیزوں کو چھوڑ دو، اور تھوڑی دیر کے لیے نہیں چھوڑنا، صبح سے لے کر شام تک ان سے دور رہنا ہے، اور پھر ایک دو دن نہیں رہنا بلکہ پورا مہینے تک ان چیزوں کے قریب نہیں جانا۔ چنانچہ پورے مہینے کا امتحان لیا جاتا ہے لیکن اللہ کے نیک بندے اس میں امتحان میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ پھر ادھر جیسے ہی رمضان گزرتا ہے حج کے مہینے شروع ہو جاتے ہیں۔ اب اللہ کی طرف سے حکم آتا ہے کہ تمہیں تمہیں مجھ سے عشق کا دعویٰ ہے، میری محبت کا دعویٰ کرتے ہو تو یہاں سے نکلو، میرے میرے گھر کی طرف آؤ اور وہاں مجھے تلاش کرو۔ چنانچہ یہاں سے چلنے لگتا ہے، یہاں سے وہ روانہ ہوتا ہے۔ ایک خاص مقام پر جب پہنچتا ہے تو اللہ کی طرف سے حکم آتا ہے کہ بھئی یہ کیا سلے ہوئے کیا زیب و زینت والے کپڑے پہن رکھے ہیں؟ عاشق کا زیب و زینت والے کپڑوں سے کیا کام ہے؟ ان کپڑوں کو پھینک دو، صرف دو سلی ہوئی چادریں پہن لو، پتہ چلے کہ تم صحیح عاشق ہو، تمہیں زیب و زینت سے کوئی کام نہیں ہے۔ چنانچہ وہ وہ کپڑے پھینک دیتا ہے سلے ہوئے، دو چادریں پہن لیتا ہے، اور اسی طرح دیوانہ وار: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، اے اللہ میں حاضر ہو گیا ہوں، اے اللہ میں آ گیا ہوں، اے اللہ میں آپ کی خدمت میں اور اطاعت کے لیے بار بار آ گیا ہوں۔ خوشبو نہیں لگانی اس نے اس دوران، خوشبو نہیں لگانی، اور اسی طرح سلے ہوئے کپڑے نہیں پہننے، اپنے بالوں کو نہیں کاٹنا، ناخنوں کو نہیں کاٹنا، یہ زیب و زینت والی اور اپنے آپ کو سنوارنے والی ہر چیز سے دور رہنا ہے۔ اور ہر چیز کو تکلیف دینے سے منع کر دیا گیا بھئی، تم عاشق ہونے کا دعویٰ کرتے ہو، عاشق کا کیا کام ہے کہ کسی دوسرے کو تکلیف دے؟ اس کی توجہ تو صرف اپنے محبوب کو حاصل کرنے کی طرف ہوتی ہے، وہ دنیا سے بالکل اسے دنیا کا کچھ پتہ ہی نہیں ہوتا، صحیح محبت ہی یہ ہے۔ چنانچہ ان سب چیزوں کو منع کر دیا جاتا ہے حتیٰ کہ شکار نہیں کھیلنا، کسی جانور کو کوئی تکلیف نہیں دینی، حتیٰ کہ اپنے سر کی جوؤں کو وہ قتل نہیں کر سکتا بھئی۔ اور پھر پھر وہ جب مکہ مکرمہ پہنچتا ہے تو دیوانہ وار کبھی بیت اللہ کے گرد چکر لگا رہا ہے: اے اللہ آپ کہاں ہیں، میں آ گیا ہوں، اے اللہ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، کبھی صفا مروہ کے درمیان چکر لگا رہا ہے اور دوڑ رہا ہے کہ اے اللہ میں آ گیا ہوں، لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ کہ اے اللہ میں حاضر ہوں۔ کبھی عرفات کی طرف جا رہا ہے، کبھی مزدلفہ آ رہا ہے، تو کبھی منیٰ آ رہا ہے، تو یہ سارا حج جو ہے عشق و محبت کا مظہر ہے، لیکن اللہ کے نیک بندے اس امتحان میں بھی کامیاب ہو جاتے ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ ہے حج بھئی، حج بھئی۔ تو اسی لیے حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”الْحَاجُّ الشَّعِثُ التَّفِلُ“، حاجی جو ہے وہ کیا ہے؟ حاجی پراگندہ بالوں والا، التَّفِل اور بغیر خوشبو کے ہوتا ہے۔ وَكَذَا لاَ يَدَّهِنُ، اور اسی طرح جو ہے وہ جو ہے محرم جو ہے وہ تیل نہیں لگا سکتا، لِمَا رَوَيْنَا، اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے روایت کر دی کہ ”الْحَاجُّ الشَّعِثُ التَّفِلُ“، حاجی تو کیا ہوتا ہے پراگندہ میلے بالوں والا، تو یہ تیل نہیں لگا سکتا۔ وَلاَ يَحْلِقُ رَأْسَهُ، اور یہ اپنے سر کا حلق نہیں کروا سکتا یعنی اپنے سر کو نہیں منڈوا سکتا، بال نہیں ختم کر سکتا، وَلاَ شَعْرَ بَدَنِهِ، اور اسی طرح اپنے بدن کے جو بال ہیں ان کو بھی حلق نہیں کروا سکتا، ان کو بھی نہیں منڈوا سکتا، لِقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَلَا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ﴾، اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: اور تم اپنے سروں کا حلق نہ کرواؤ۔ حلق کا معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ سر کے بالوں کو استرے سے صاف کرنا، یہ ہے حلق بھئی، تو اللہ فرما رہے ہیں: ﴿وَلَا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ﴾، اور تم اپنے سروں کا حلق نہ کرواؤ، الآیۃ۔ وَلاَ يَقُصُّ مِنْ لِحْيَتِهِ، اور کاٹ نہیں سکتا اپنی داڑھی میں سے، داڑھی کے بال بھی نہیں کاٹ سکتا، بدن کے کوئی بال نہیں کاٹ سکتا، لِأَنَّهُ فِي مَعْنَى الْحَلْقِ، اس لیے کیونکہ داڑھی کا کاٹنا بھی کس معنی میں ہے؟ حلق ہی کے معنی میں ہے، وَلِأَنَّ فِيهِ إِزَالَةَ الشَّعَثِ وَقَضَاءَ التَّفَثِ، اور نیز اس لیے کیونکہ اس کے اندر ازالۂ شعث ہے۔ شعث وہی پراگندگی، بالوں کا بکھرا ہوا اور میلا ہونا۔ اس کے اندر داڑھی کے بال کاٹتا ہے یا کوئی اور بال کاٹتا ہے تو اس کے اندر کیا ہے؟ ازالۂ شعث ہے، پراگندگی کو دور کرنا ہے حالانکہ اس سے تو منع کیا گیا ہے اور وہ تو محبوب ہے۔ وَقَضَاءَ التَّفَثِ، تفث کا معنی بھی ہے میل کچیل وغیرہ جو ہے: قضائے تفث۔ عربی میں کہتے ہیں: قَضَى تَفَثَهُ، اس نے اپنے میل کچیل کو دور کر دیا، تو قضائے تفث کا کیا معنی ہوا؟ میل کچیل کو دور کرنا۔ تو معلوم ہوا یہاں قضاء بمعنی ازالہ کے ہی ہے بھئی، قضاء اور ازالہ کا یہاں ایک معنی ہے۔ لِأَنَّ فِيهِ إِزَالَةَ الشَّعَثِ وَقَضَاءَ التَّفَثِ، اور اس لیے کیونکہ اس کے اندر پراگندگی کو دور کرنا ہے اور میل کچیل کو دور کرنا ہے۔ قَالَ: وَلاَ يَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا بِوَرْسٍ وَلاَ زَعْفَرَانَ وَلاَ عُصْفُرٍ، اور نہ پہنے ایسا کپڑا جو رنگا گیا ہو ورس بوٹی کے ساتھ اور نہ زعفران کے ساتھ اور نہ عصفر کے ساتھ۔ بھئی ایسا کپڑا بھی نہیں پہن سکتا جو ورس، ورس یہ ایک بوٹی ہے بھئی خوشبودار قسم کی، سمجھ میں آیا بھئی، خوشبو کے طور پر اس کو استعمال کیا جاتا۔ اسی طرح زعفران بھی نہیں، اس کا رنگ بھی ہوتا ہے اور کچھ خوشبو مہک وغیرہ بھی ہوتی ہے۔ وَلاَ عُصْفُرٍ، عصفر یہ بھی ایک قسم کی بوٹی ہے، ایک پودا ہے اور یہ بھی خوشبودار ہوتا ہے اور خوشبو والی تو ہر چیز سے منع کیا گیا ہے، لہٰذا یہ بھی استعمال نہیں کر سکتا۔ تو کہتے ہیں: وَلاَ يَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا بِوَرْسٍ وَلاَ زَعْفَرَانَ وَلاَ عُصْفُرٍ، اور نہ پہنے ایسے کپڑے جو رنگے ہوئے ہوں ورس کے ساتھ اور نہ زعفران کے ساتھ اور نہ عصفر کے ساتھ، لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ: ”لاَ يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ ثَوْبًا مَسَّهُ زَعْفَرَانٌ وَلاَ وَرْسٌ“، بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قولِ مبارک کے، آپ نے فرمایا: حضور علیہ السلام فرماتے ہیں کہ محرم نہیں پہنے گا ایسا کپڑا جس کو چھوا ہو زعفران نے اور اسی طرح اور نہ ورس نے، یعنی زعفران یا ورس نے جس کپڑے کو چھوا ہو، جن پر لگا ہو وہ کپڑا محرم نہیں پہن سکتا۔ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ غَسِيلاً لاَ يَنْفُذُ، مگر یہ کہ وہ کپڑا دھلا ہوا ہو، لاَ يَنْفُذُ، أَيْ لاَ يَنْفُضُ صِبْغُهُ، یعنی اس سے رنگ جاتا نہ ہو، رنگ اس کا بھئی کپڑے پر زعفران یا ورس وغیرہ لگا تھا، تو خوشبو وغیرہ تھی، اس احرام باندھنے والے نے اس کو اچھی طرح دھو لیا، اچھی طرح دھو لیا تو خوشبو وغیرہ تو ختم ہو گئی لیکن وہ بوٹی کا رنگ نہیں جا رہا، وہ اسی طرح کپڑے پر لگی ہوئی ہے تو کیا یہ پہن سکتا ہے یا نہیں؟ کہتے ہیں ہاں بھئی، رنگ لگا ہو تو کوئی حرج نہیں جب وہ اتر ہی نہیں رہا تو کوئی حرج نہیں، لیکن خوشبو ختم ہونی چاہیے، خوشبو نہیں ہونی چاہیے۔ یہ معنی ہے: إِلاَّ أَنْ يَكُونَ غَسِيلاً لاَ يَنْفُذُ، مگر یہ کہ وہ کپڑا دھلا ہوا ہو لاَ يَنْفُذُ وہ اس کا رنگ جاتا نہیں ہے، لِأَنَّ الْمَنْعَ لِلطِّيبِ لاَ لِلَّوْنِ، اس لیے کیونکہ منع کرنا جو ہے وہ خوشبو کی وجہ سے ہے، رنگ کی وجہ سے نہیں ہے۔ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: لاَ بَأْسَ بِلُبْسِ الْمُعَصْفَرِ لِأَنَّهُ لَوْنٌ لاَ طِيبَ لَهُ، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کوئی حرج نہیں معصفر کپڑے کو پہننے میں، یعنی جس کو عصفر بوٹی کے ساتھ رنگا گیا ہو اس کپڑے کے پہننے میں کوئی حرج نہیں، لِأَنَّهُ لَوْنٌ لاَ طِيبَ لَهُ، اس لیے کیونکہ وہ رنگ ہے، اس کی خوشبو نہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ عصفر بوٹی کا صرف رنگ ہے، اس کی خوشبو نہیں، لہٰذا وہ استعمال کر سکتا ہے۔ وَلَنَا، اور ہماری دلیل یہ ہے: أَنَّ لَهُ رَائِحَةً طَيِّبَةً، کہ اس کی اچھی خوشبو ہے بھئی۔ رائحة طيبة، رائحة طيبة بھئی یہ خوشبو کو کہتے ہیں عربی میں۔ رائحہ تو بو ہے نا، رائحہ بو چاہے اچھی ہو چاہے بری، لیکن رَائِحَةٌ طَيِّبَةٌ اچھی خوشبو یعنی خوشبو مراد ہے۔ تو ہم کہتے ہیں: أَنَّ لَهُ رَائِحَةً طَيِّبَةً کہ اس کی اچھی خوشبو ہے۔ تو بہرحال یہ معلوم ہوا اس کی کوئی قسمیں کچھ ہوں گی بھئی، تو امام شافعی رحمہ اللہ نے جس کا مشاہدہ کیا، جس عصفر کا اس کی خوشبو نہیں تھی صرف کیا تھا؟ رنگ تھا، اور ہمارے فقہاء نے جس کا مشاہدہ کیا اس میں خوشبو یا مہک وغیرہ کچھ ہوگی، تو بہرحال یہ صرف اس چیز اور اس مشاہدے میں اختلاف پر یہ اختلاف مبنی ہے، تو اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ عصفر میں خوشبو نہیں ہوتی، صرف رنگ ہے تو پھر ہمارے نزدیک بھی جائز ہو جائے گا۔ اور اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ یہ عصفر میں خوشبو بھی ہوتی ہے مہک بھی ہوتی ہے تو پھر ہمارے نزدیک بھی منع ہوگا اور ان کے نزدیک بھی وہ بھی منع فرمائیں گے، بات سمجھ میں آ گئی۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلاَمِ۔