”وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا فِي رَمَضَانَ فَخَافَ إِنْ صَامَ ازْدَادَ مَرَضُهُ أَفْطَرَ وَقَضَى“ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللّٰهُ: لَا يُفْطِرُ، وَيَعْتَبِرُ خَوْفَ الْهَلَاكِ أَوْ فَوَاتِ الْعُضْوِ كَمَا يَعْتَبِرُ فِي التَّيَمُّمِ“ ”وَنَحْنُ نَقُولُ: إِنَّ زِيَادَةَ الْمَرَضِ وَامْتِدَادَهُ قَدْ تُفْضِي إِلَى الْهَلَاكِ، فَيَجِبُ الِاحْتِرَازُ عَنْهُ“. فصل: اس فصل میں صاحبِ ہدایہ وہ عذر وغیرہ بیان کریں گے جن کی وجہ سے روزہ چھوڑنا جائز ہے کہ ان میں سے کوئی عذر آ جائے تو کوئی شخص اس وقت روزہ چھوڑ سکتا ہے اور پھر بعد میں اس کی قضا کر لے گا۔ تو کہتے ہیں ”وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا فِي رَمَضَانَ“ اور جو شخص بیمار تھا رمضان میں ”فَخَافَ إِنْ صَامَ“ تو اس کو یہ خوف ہوا کہ اگر اس نے روزہ رکھا ”ازْدَادَ مَرَضُهُ“ تو اس کا مرض بڑھ جائے گا ”أَفْطَرَ“ تو وہ افطار کر لے یعنی روزہ چھوڑ دے ”وَقَضَى“ اور بعد میں اس کی قضا کر لے۔ کوئی شخص بیمار ہے رمضان کے اندر اور مرض بھی ایسا ہے کہ اس کو خوف ہے اگر میں روزہ رکھوں گا تو میرا مرض بڑھ جائے گا بھئی، تو ”أَفْطَرَ“ وہ کیا کر لے؟ افطار کر لے یعنی روزہ نہ رکھے ”وَقَضَى“ اور بعد میں اس کی قضا کر لے بھئی۔ ”ازْدَادَ“ میری کتاب میں ذال کے ساتھ لکھا ہے، یہ درست نہیں ہے بھئی، زا کے ساتھ ہونا چاہیے، زا کے ساتھ: ”ازْدَادَ“۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللّٰهُ: لَا يُفْطِرُ“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، وہ افطار نہیں کرے گا، یعنی وہ روزہ نہیں چھوڑ سکتا، اسے روزہ رکھنا پڑے گا۔ ”وَيَعْتَبِرُ خَوْفَ الْهَلَاكِ أَوْ فَوَاتِ الْعُضْوِ كَمَا يَعْتَبِرُ فِي التَّيَمُّمِ“ وہ اعتبار کرتے ہیں ہلاک ہو جانے کے خوف کا یا کسی عضو کے فوت ہو جانے کے خوف کا، یعنی اگر کسی شخص کو یہ خوف ہے کہ اگر میں روزہ رکھوں گا تو میں ہلاک ہو جاؤں گا، زندہ بچوں گا ہی نہیں یا یہ خوف ہے کہ اگر روزہ رکھا تو میرا کوئی عضو ضائع ہو جائے گا بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو اگر یہ خوف ہے تو پھر تو روزہ چھوڑنے کی اس کو اجازت ہے، اگر یہ خوف نہیں تو پھر روزہ چھوڑنے کی اجازت بھی نہیں۔ جبکہ ہمارے نزدیک مرض بڑھنے کا خوف ہو کہ مرض بہت زیادہ ہو جائے گا تو اس صورت میں بھی روزہ چھوڑ سکتا ہے۔ تو ”فَهُوَ يَعْتَبِرُ خَوْفَ الْهَلَاكِ أَوْ فَوَاتِ الْعُضْوِ“ تو وہ اعتبار کرتے ہیں ہلاک ہو جانے یا عضو کے فوت ہو جانے کے خوف کا ”كَمَا يَعْتَبِرُ فِي التَّيَمُّمِ“ جیسے کہ وہ اعتبار کرتے ہیں تیمم میں۔ تیمم کے مسئلے میں بھی آپ نے پڑھا تھا ہمارے نزدیک اگر کوئی شخص بیمار ہے اور اس کو یہ خوف ہے کہ اگر وضو کرے گا تو اس کا مرض بڑھ جائے گا تو اسے تیمم کرنے کی اجازت ہے، جبکہ ان کے نزدیک جب تک ہلاکت کا یا عضو کے فوت ہو جانے کا خوف نہ ہو اس وقت تک وہ تیمم نہیں کر سکتا۔ ”وَنَحْنُ نَقُولُ: إِنَّ زِيَادَةَ الْمَرَضِ وَامْتِدَادَهُ قَدْ تُفْضِي إِلَى الْهَلَاكِ“ ہم کہتے ہیں کہ مرض کا زیادہ ہونا ”وَامْتِدَادَهُ“ اور اس کا لمبا ہو جانا ”قَدْ تُفْضِي إِلَى الْهَلَاكِ“ یہ بھی کبھی کبھار ہلاکت تک پہنچا دیتا ہے ”فَيَجِبُ الِاحْتِرَازُ عَنْهُ“ تو اس سے بچنا بھی واجب ہے۔ یہ بھی کبھی کبھار کس تک پہنچا دیتا ہے؟ ہلاکت تک یہ مرض کا بڑھنا اور لمبا ہو جانا، تو لہٰذا یہ خوف جس کو ہو وہ بھی ہمارے نزدیک افطار کر سکتا ہے۔ ”وَإِنْ كَانَ مُسَافِرًا لَا يَسْتَضِرُّ بِالصَّوْمِ فَصَوْمُهُ أَفْضَلُ، وَإِنْ أَفْطَرَ جَازَ“. بھئی یہاں سے مسافر کے بارے میں بیان کر رہے ہیں۔ مسافر اور مریض کے بارے میں اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: ﴿فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ﴾، پس تم میں سے جو کوئی مریض ہو یا سفر ہو تو شمار کرنا ہے چند دوسرے دنوں کا، یعنی ان ایام کے علاوہ پھر دوسرے دن میں شمار کر کے اتنے ہی روزے کیا کر لے؟ پورے کر لے جو رمضان میں چھوڑ دیے تھے اس بیماری یا اس سفر کے عذر کی وجہ سے۔ تو معلوم ہوا مسافر اور مریض کو شریعت نے رخصت دے دی ہے کہ وہ روزہ چھوڑنا چاہیں تو رمضان میں روزہ چھوڑ سکتے ہیں اور بعد میں اس کی قضا کرنا پڑے گی۔ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلا رہے ہیں اگر مسافر جو ہے اس کو روزہ رکھنے سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا، سفر ہلکا پھلکا ہے، کوئی مشقت نہیں ہے تو پھر اس صورت میں اس کے لیے روزہ رکھنا افضل ہے۔ روزہ چھوڑنا جائز تو ہے اس کے لیے لیکن اس وقت افضل کیا ہے اس کے لیے؟ روزہ رکھنا افضل ہے اور یہ بھی یاد رکھیے مسافر سے وہ شرعی مسافر مراد ہے جس نے کتنی مسافت کا ارادہ کیا ہے؟ تین دن کی مسافت کا ارادہ کیا ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَإِنْ كَانَ مُسَافِرًا لَا يَسْتَضِرُّ بِالصَّوْمِ فَصَوْمُهُ أَفْضَلُ“ اور اگر مسافر جو ہے اس کو نقصان نہیں ہوتا، اس کو تکلیف نہیں ہوتی روزے کی وجہ سے ”فَصَوْمُهُ أَفْضَلُ“ تو اس کا روزہ افضل ہے ”وَإِنْ أَفْطَرَ جَازَ“ اور اگر اس نے افطار کر لیا یعنی روزہ نہ رکھا تو یہ بھی جائز ہے ”لِأَنَّ السَّفَرَ لَا يَعْرَى عَنِ الْمَشَقَّةِ“ اس لیے کیونکہ سفر جو ہے وہ خالی نہیں ہوتا مشقت سے ”فَجُعِلَ نَفْسُهُ عُذْرًا“ تو اس کی ذات ہی کو عذر قرار دے دیا گیا۔ سفر عموماً مشقت سے خالی نہیں ہوتا تو لہٰذا سفر ہی کو کیا قرار دے دیا گیا؟ عذر قرار دے دیا گیا، تو بس مسافر چاہے تکلیف یا مشقت اس کو ہوتی ہے یا نہیں لیکن سفر میں تو ہوتی چونکہ مشقت ہے تو نفسِ سفر ہی کو کیا قرار دے دیا شریعت نے؟ عذر قرار دے دیا۔ تو اس کے نفسِ سفر ہی کو عذر قرار دے دیا، سمجھ میں آیا؟ لہٰذا اسی لیے کہا اس کے لیے افطار کرنا جائز ہے لیکن اگر تکلیف نہیں ہے سفر میں، مشقت نہیں ہے تو افضل کیا ہے اس کے لیے؟ روزہ رکھے۔ ”بِخِلَافِ الْمَرَضِ“ بخلاف مرض کے۔ یاد رکھیے مرض کے اندر مطلقاً افطار کی اجازت نہیں ہے، مرض دو قسم کے ہیں: کچھ وہ مرض ہیں جن میں روزہ فائدہ دیتا ہے، مثلاً پیٹ خراب ہے وغیرہ، تو اس کے اندر تو روزہ فائدہ دے گا، اور بعض مرض ایسے ہوتے ہیں جس میں روزہ نقصان دیتا ہے، تکلیف دیتا ہے، تو یہاں وہ مرض مراد ہے جس کے اندر تکلیف بڑھے گی، مرض بڑھے گا، اس میں افطار کی گنجائش ہے کہ روزہ نہ رکھے، جبکہ دوسرا مرض اس میں گنجائش نہیں ہے بھئی۔ یہی بات بیان کر رہے ہیں ”بِخِلَافِ الْمَرَضِ“ بخلاف بیماری کے ”فَإِنَّهُ قَدْ يَخِفُّ بِالصَّوْمِ“ پس بیماری جو ہے وہ تو کبھی کبھار روزے سے ہلکی ہو جاتی ہے، روزے کی وجہ سے فائدہ ہوتا ہے اور وہ بیماری کم ہو جاتی ہے ”فَشُرِطَ كَوْنُهُ مُفْضِيًا إِلَى الْحَرَجِ“ تو اس میں شرط ہے کہ وہ روزہ جو ہے وہ حرج تک پہنچانے والا ہو، وہ مرض ایسا ہو کہ روزہ رکھتا ہے تو وہ کس تک پہنچاتا ہے؟ حرج تک یعنی تنگی اور تکلیف تک پہنچاتا ہے تو پھر یہ مرض عذر ہے اور اس میں وہ روزہ چھوڑ سکتا ہے، بعد میں قضا کر لے اور اگر مرض ایسا ہے کہ اس کے اندر روزہ حرج تک نہیں پہنچاتا بلکہ فائدہ ہوتا ہے روزہ رکھنے سے تو یہ عذر بھی نہیں ہے اور جب عذر نہیں تو اس میں روزہ چھوڑنے کی گنجائش نہیں ہے بھئی۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللّٰهُ: الْفِطْرُ أَفْضَلُ“ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فطر افضل ہے۔ ہمارے نزدیک تو کیا افضل ہے مسافر کے لیے؟ اگر نقصان اور تکلیف نہیں ہے سفر کے اندر، مشقت نہیں ہے تو روزہ رکھ لے، یہ افضل ہے۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں فطر افضل ہے ہر صورت میں ”لِقَوْلِهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ“ بوجہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کے، آپ نے فرمایا: ”لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ“ کہ نہیں ہے نیکی میں سے روزہ رکھنا سفر میں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔ ایک مرتبہ سفر کے دوران حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ کچھ صحابہ ایک طرف جمع ہیں اور کسی ایک پر سایہ وغیرہ کیا ہوا ہے، حضور علیہ السلام نے پوچھا یہ کیا ہوا؟ کیا بات ہے؟ تو بتلایا گیا کہ ایک شخص روزے دار تھا، اس پر سایہ وغیرہ کیا، معلوم ہوا کوئی بے ہوش وغیرہ ہو گئے ہوں گے، تو اس موقع پر حضور علیہ السلام نے فرمایا ”لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ“، سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔ تو سفر میں جب مشقت ہو تو پھر روزہ نہیں رکھنا چاہیے بھئی۔ ”وَلَنَا أَنَّ رَمَضَانَ أَفْضَلُ الْوَقْتَيْنِ“ اور ہاں یہ تو تھی امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل، ہماری دلیل یہ ہے کہ ”أَنَّ رَمَضَانَ أَفْضَلُ الْوَقْتَيْنِ“ کہ رمضان دو وقتوں میں سے افضل ہے، دو وقت بھئی: ایک تو یہ وقت ہے جب یہ انسان اس وقت روزہ رکھے گا اور ایک یہ ہے کہ اس وقت روزہ چھوڑ دے گا تو بعد میں اس کی کیا کرے گا؟ قضا، تو ایک یہ وقت ہے، ایک وہ قضا کا وقت ہے، ان دونوں میں سے افضل کون سا وقت ہے؟ یہ رمضان والا وقت افضل ہے، لہٰذا ہمارے نزدیک اگر تکلیف نہیں ہوتی تو اسی وقت میں روزہ رکھ لے تاکہ کون سا وقت مل جائے اس کو؟ افضل وقت مل جائے روزے کی ادائیگی کا۔ تو یہ معنی ہے کہ ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّ رَمَضَانَ أَفْضَلُ الْوَقْتَيْنِ“ کہ رمضان جو ہے اس دو وقتوں میں سے افضل ہے ”فَكَانَ الْأَدَاءُ فِيهِ أَوْلَى“ تو اس کے اندر ادا کرنا بہتر ہو گا ”وَمَا رَوَاهُ مَحْمُولٌ عَلَى حَالَةِ الْجَهْدِ“ اور وہ حدیث جس کو امام شافعی رحمہ اللہ نے روایت کیا وہ محمول ہے مشقت کی حالت پر۔ وہ حدیث کس حالت پر محمول ہے؟ مشقت کی حالت پر، جب سفر میں مشقت ہو، تکلیف ہو تو اس وقت تو ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ روزہ نہیں رکھنا چاہیے، افضل یہ ہے کہ روزہ نہ رکھے بھئی، روزہ نہ رکھے۔ تو حدیث میں بھی اسی کا ذکر ہے۔ اور یہ یاد رکھیے بھئی، یہ صاحبِ ہدایہ نے امام شافعی رحمہ اللہ کا ذکر کیا لیکن یہ امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب نہیں ہے بھئی، یہ امام احمد ابن حنبل رحمہ اللہ کا مذہب ہے کہ علی الاطلاق فطر افضل ہے، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی وہی مذہب ہے جو ہمارا مذہب ہے، وہ بھی یہی فرماتے ہیں اگر مشقت نہ ہو، تکلیف نہ ہو تو مسافر کے لیے روزہ رکھنا افضل ہے بھئی۔ ”وَإِذَا مَاتَ الْمَرِيضُ وَالْمُسَافِرُ وَهُمَا عَلَى حَالِهِمَا لَمْ يَلْزَمْهُمَا الْقَضَاءُ“. اور جس وقت مریض یا مسافر مر جائے ”وَهُمَا عَلَى حَالِهِمَا“ اس حال میں کہ وہ دونوں اپنے حال پر تھے، یعنی مریض مرض میں تھا اور مسافر سفر میں تھا ”لَمْ يَلْزَمْهُمَا الْقَضَاءُ“ تو ان پر قضا لازم نہیں۔ بھئی دیکھیے مسافر اور مریض کے بارے میں اللہ نے کیا فرمایا: ﴿فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ﴾، تو ان کو اجازت دی گئی کہ بیماری کی حالت میں اور سفر کی حالت میں کیا کر سکتے ہیں؟ رمضان کا روزہ چھوڑ کر بعد میں اتنے ہی دن کیا کریں گے؟ روزہ رکھیں گے، اس کی قضا کریں گے۔ لیکن اگر کوئی شخص بیمار تھا اس نے کچھ روزے چھوڑ دیے اور پھر اسی بیماری میں اس کا انتقال ہو گیا، یعنی بعد میں اس کو اتنے دن ملے ہی نہیں جس میں وہ کیا کرتا؟ ان روزوں کی قضا کرتا اور وہ جب دن ملے ہی نہیں اس کو تو پھر اس پر ان روزوں کی قضا بھی لازم نہیں، یا اسی طرح مسافر سفر میں تھا اور اسی سفر کی حالت میں اس کا انتقال ہو گیا، بعد میں اس کو کوئی دن ملا ہی نہیں جس میں کیا کر دیتا؟ قضا کر لیتا، تو عند اللہ اس پر قضا لازم نہیں، یعنی عند اللہ اس کا مواخذہ نہیں ہو گا، اس مریض اور مسافر کا مواخذہ عند اللہ نہیں ہے بھئی، کیونکہ خود اللہ تعالیٰ نے رخصت دی ہے اور اس کو اگر بعد میں وقت ملتا اور نہ رکھتا پھر تو یہ مجرم تھا لیکن اس کو تو بعد میں مریض تھا تو صحت ہی نہیں ملی اسی بیماری میں مر گیا یا مسافر تھا تو بعد میں قیام کی حالت میں کچھ دن ملے ہی نہیں اسی سفر میں ہی مر گیا تو لہٰذا ان پر ان کی قضا بھی لازم نہیں بھئی۔ یہ معنی ہے ”لَمْ يَلْزَمْهُمَا الْقَضَاءُ“ تو ان پر ان دنوں کی قضا بھی لازم نہیں ہے ”لِأَنَّهُمَا لَمْ يُدْرِكَا عِدَّةً مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ“ اس لیے کیونکہ انہوں نے نہیں پایا، کس چیز کو نہیں پایا؟ ﴿عِدَّةً مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ﴾، کچھ اور دنوں کے شمار کو۔ کچھ اور دنوں کا شمار ان کو ملا ہی نہیں کہ اس میں یہ قضا کر لیتے! اب دوسری صورت ذکر کر رہے ہیں کہ اگر ان کو کچھ ایام مل گئے لیکن پورے ایام نہ ملے، مریض تھا بیمار تھا، اس بیماری کی حالت میں اس نے مثلاً رمضان کے بیس روزے چھوڑ دیے اور رمضان کے بعد کسی وقت اس کو صحت ہو گئی، وہ صحت مند ہو گیا اور مثلاً فرض کریں دس دن صحت مند رہا اور پھر انتقال کر گیا۔ تو لہٰذا اس پر جتنے دن اس کو مل گئے صحت کی حالت میں ان کی قضا اس پر لازم ہو گی۔ دس دن صحت مل گئی تھی اور روزے تو کل کتنے باقی تھے اس کے ذمے؟ بیس تھے، تو یہ دس دن کی قضا اس کے ذمے لازم ہو گی۔ اور یا مسافر اسی طرح تھا سفر میں اس نے بیس روزے چھوڑ دیے تھے اور اس کے بعد جب وہ مقیم ہوا تو مقیم ہونے کے بعد مثلاً دس دن ہی اس کو ملے اور پھر اس کا انتقال ہو گیا تو اس پر بھی انہی دنوں کی قضا لازم ہے جتنے دن اس کو ملے ہیں بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ بھئی سوال پیدا ہوتا ہے کہ جتنے دن ان کو ملے اتنے ہی کی قضا ان پر لازم ہے اس کا کیا معنی؟ اس کا کیا فائدہ؟ ان کا تو انتقال ہو چکا ہے! کہتے ہیں بھئی معنی یہ ہے کہ اتنے دن اگر گزر گئے اور اس میں انہوں نے روزے کی قضا نہیں کی تو عند اللہ ان کا مواخذہ ہو گا۔ اللہ نے رخصت دی تھی، کس لیے دی تھی رخصت؟ کہ بعد میں ان کی قضا کرنا پڑے گی اور اتنے دن اس کو مل گئے اور اس نے ان دنوں کی قضا نہیں کی تو عند اللہ اس کا مواخذہ ہو گا، لہٰذا اس پر کیا واجب ہے اب؟ مرنے سے پہلے موقع مل جائے تو اس پر وصیت کرنا واجب ہے کہ میرے ذمے دس روزے باقی ہیں، میرے ذمے دس روزے باقی ہیں میری طرف سے ان کا فدیہ دے دینا۔ تو اب روزے تو کل بیس چھوڑے تھے لیکن دس کا تو اس کو وقت ہی نہیں ملا، دس کا وقت ملا ہے تو ان کے بارے میں وصیت کرنا اس پر واجب ہے واجب ہے، اگر وصیت نہیں کرے گا تو عند اللہ اس کا مواخذہ ہو گا۔ ”وَلَوْ صَحَّ الْمَرِيضُ وَأَقَامَ الْمُسَافِرُ ثُمَّ مَاتَا لَزِمَهُمَا الْقَضَاءُ بِقَدْرِ الصِّحَّةِ وَالْإِقَامَةِ“ اور اگر تندرست ہو گیا مریض ”وَأَقَامَ الْمُسَافِرُ“ اور مقیم ہو گیا مسافر ”ثُمَّ مَاتَا“ پھر یہ دونوں مر گئے ”لَزِمَهُمَا الْقَضَاءُ“ تو ان دونوں پر قضا لازم ہے، کتنی قضا؟ کہتے ہیں ”بِقَدْرِ الصِّحَّةِ وَالْإِقَامَةِ“ صحت اور اقامت کے بقدر، یعنی جتنے دن صحت کے جتنے دن اقامت میں ملے ”لِوُجُودِ الْإِدْرَاكِ بِهٰذَا الْمِقْدَارِ“ بوجہ پا لینے اتنی مقدار کو، یعنی اتنی مقدار انہوں نے دنوں کی پا لیا تو اتنے روزوں کی قضا بھی ان پر لازم ہو گئی۔ بھئی فائدہ ذکر کر رہے ہیں کہ فائدہ کیا ہے؟ ان کا تو انتقال ہو چکا ہے، ان پر اس مقدار کو لازم کرنے کا؟ کہتے ہیں ”وَفَائِدَتُهُ وُجُوبُ الْوَصِيَّةِ بِالْإِطْعَامِ“ کہ اس کا فائدہ جو ہے یہ ہے کہ ان پر وصیت کرنا واجب ہے کھانے کھلانے کی، ان پر کھانا کھلانے کی وصیت کرنا واجب ہے یعنی فدیہ فدیہ کرنے کی وصیت کریں بھئی، فدیہ کہ ان کی طرف سے ہر روزے کا فدیہ ادا کر دیا جائے۔ یہاں تک مسئلہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ فدیہ کتنا ہے وہ آگے ذکر آ رہا ہے بھئی۔ ”وَذَكَرَ الطَّحَاوِيُّ خِلَافًا فِيهِ بَيْنَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ وَبَيْنَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُمُ اللّٰهُ تَعَالَى، وَلَيْسَ بِصَحِيحٍ، وَإِنَّمَا الْخِلَافُ فِي النَّذْرِ“. یہاں سے صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ امام طحاوی رحمہ اللہ نے اس مسئلے کے اندر شیخین رحمہما اللہ اور امام محمد رحمہ اللہ کے درمیان اختلاف ذکر کیا ہے ”وَلَيْسَ بِصَحِيحٍ“ اور یہ درست نہیں ہے بھئی، بلکہ اس مسئلے کے اندر ہمارے تینوں ائمہ کا اتفاق ہے بھئی ”وَإِنَّمَا الْخِلَافُ فِي النَّذْرِ“ اور اختلاف صرف کس میں ہے؟ منت میں ہے، منت کے مسئلے میں اختلاف ہے بھئی۔ تو یاد رکھیے منت کے مسئلے میں کہ اگر کوئی شخص منت مانتا ہے مثلاً بیمار ہے اس نے منت مانی کہ اے اللہ اگر میں اس مرض سے تندرست ہو گیا تو میں بیس روزے رکھوں گا بھئی، بیس روزے رکھوں گا اور پھر وہ تندرست ہوا اور دس دن بعد پھر اس کا اچانک انتقال ہو گیا، تو دس دن اس کو صحت کے مل گئے بھئی۔ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جیسے مسافر اور مریض کو جتنے ایام میسر آتے تھے اسی کی قضا اس پر واجب ہوتی تھی اور وہ اگر نہ کر سکا تو پھر اتنے ہی دنوں کے کفارے کی وصیت اس پر واجب ہو گی، تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے، اس نے بیس روزوں کی منت مانی تھی اور اس کو صرف دس دن ملے ہیں تو دس دنوں کے روزوں کے فدیے کی وصیت اس پر لازم ہو گی۔ جبکہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، یہاں جتنے دن بھی مل جائیں یہاں پورے جتنی منت مانی تھی یعنی پورے بیس روزوں ہی کی وصیت اس کے ذمے لازم ہو گی بھئی۔ تو دیکھیے معلوم ہوا شیخین رحمہما اللہ جو ہے وہ فرق کرتے ہیں، ایک ہے مسافر اور مریض اور ایک ہے منت، تو اس کے اندر معلوم ہوا وہ فرق کرتے ہیں، تو اس کی کیا وجہ ہے وہ بھی آگے بیان کر رہے ہیں: ”وَالْفَرْقُ لَهُمَا أَنَّ النَّذْرَ سَبَبٌ فَيَظْهَرُ الْوُجُوبُ فِي حَقِّ الْخَلَفِ، وَفِي هٰذِهِ الْمَسْأَلَةِ السَّبَبُ إِدْرَاكُ الْعِدَّةِ فَيَتَقَدَّرُ بِقَدْرِ مَا أَدْرَكَ“. تو فرق یہ ہے شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک دونوں صورتوں میں کہ وہ فرماتے ہیں کہ یہ جو مریض اور مسافر پر قضا واجب ہوتی ہے یہ قضا کا سبب اور ایام کو پا لینا ہے۔ ان پر قضا کیوں واجب ہوتی ہے؟ اور ایام کو پا لینا اس کا سبب ہے، تو یہ اسی قدر دنوں کی قضا آئے گی اس پر واجب ہو گی جتنے دنوں کو وہ پا لے، تو اب اگر ان پر بیس بیس روزے باقی تھے اور انہوں نے صرف دس دن پائے اور پھر انتقال ہو گیا تو صرف دس دن پائے ہیں تو اسی کے بقدر ان پر قضا بھی واجب ہو گی۔ لیکن منت کے وجوب کا سبب وہ اتنے دنوں کو پا لینا نہیں ہے بلکہ منت کے وجوب کا سبب وہ منت ہے، اس منت کی وجہ سے یہ بیس روزے اس پر واجب ہوئے ہیں اور منت تو موجود ہے اور مانع جو ہے وہ دور ہو چکا ہے مرض دور ہو چکا ہے، تو اب اس پر پورے بیس روزوں ہی کی وصیت لازم ہو گی، سمجھ میں آیا بھئی؟ کیونکہ یہاں جو اس پر ادا واجب ہوئی جتنے ایام کو پائے ان کی وجہ سے اس پر ادا واجب نہیں ہو رہی بلکہ یہ ادا کس وجہ سے واجب ہو رہی ہے؟ یہ روزے اس پر کس وجہ سے واجب ہو رہے ہیں؟ منت کی وجہ سے واجب ہو رہے ہیں اور منت تو موجود ہے اور مانع جو تھا جو مرض تھا وہ ختم ہو چکا ہے، جب منت موجود ہے اور مانع ختم ہو گیا تو وجوب سارے کا آئے گا اور کتنی منت مانی تھی اس نے؟ بیس کی، تو وہ ایام جو اس نے پائے ان کو نہیں دیکھا جائے گا بلکہ یہ دیکھا جائے گا منت اس نے کتنے کی مانی تھی اور وہ منت موجود ہے وہ سبب ہے اس کی وجہ سے بیس روزے اس پر واجب ہو رہے ہیں، بیس ہی روزے واجب ہوئے، جب مانع چلا گیا تو اس پر کتنے روزے واجب ہو گئے؟ بیس روزے واجب ہو گئے بھئی، لہٰذا اب اس نے رکھے نہیں ہیں تو لہٰذا اب خلیفہ کی طرف حکم منتقل ہو جائے گا اور روزے کا خلیفہ کیا ہے؟ فدیہ ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ فدیہ ہے، تو لہٰذا اس پر وصیت واجب ہو گی کہ وہ بیس دنوں کے روزوں کے فدیے کی وصیت کرے، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ کیا فرماتے تھے؟ جتنے دن پائے ہیں اسی کے بقدر وصیت بھی اس پر لازم، جبکہ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک وہ جتنے کی منت مانی ہے ان سارے روزوں کی وصیت کرنا لازم ہے کہ ان کا فدیہ دے دیا جائے بھئی، فرق سمجھ میں آ گیا؟ تو کہتے ہیں ”وَالْفَرْقُ لَهُمَا“ اور فرق جو ہے شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک جو ہے وہ یہ ہے ”أَنَّ النَّذْرَ سَبَبٌ“ کہ اس مسئلے میں منت کے مسئلے میں منت جو ہے وہ سبب ہے ان روزوں کا ”فَيَظْهَرُ الْوُجُوبُ فِي حَقِّ الْخَلَفِ“ تو وجوب ظاہر ہو گا خلیفہ کے حق میں یعنی فدیے کے حق میں بھی وجوب ظاہر ہو گا۔ روزے تو وہ رکھ نہیں سکا، موت کا وقت اچانک موت آ گئی بھئی اور اس کو پتہ لگ گیا اب میں مرنے والا ہوں تو اس پر کیا واجب ہے؟ اگر موقع ملتا ہے اس پر وصیت واجب ہے، تو وجوب تو آیا تھا کتنے روزوں کا اس پر؟ بیس کا، تو یہ وجوب اب خلیفہ کے حق میں بھی اسی طرح ظاہر ہو گا اور کتنے روزوں کی کتنے روزوں کا فدیے کی وصیت کرنا اس پر لازم ہو گا؟ بیس ہی کی وصیت کرنا لازم ہو گا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے ”فَيَظْهَرُ الْوُجُوبُ فِي حَقِّ الْخَلَفِ“ تو وہ وجوب جس کا سبب کیا تھا؟ منت تھی، وہ وجوب اب ظاہر ہو گا ”فِي حَقِّ الْخَلَفِ“ کس کے حق میں؟ خلیفہ کے حق میں اور وہ کیا ہے؟ فدیہ یعنی فدیے کے حق میں، وہ فدیہ اس پر واجب ہو گیا یعنی اس کی وصیت کرنا۔ ”وَفِي هٰذِهِ الْمَسْأَلَةِ“ جبکہ اس مسئلہ کے اندر، یہ مریض اور مسافر کے مسئلہ کے اندر ”السَّبَبُ إِدْرَاكُ الْعِدَّةِ“ سبب جو ہے وہ شمار کو پا لینا یعنی ان دنوں کے شمار کو پا لینا ہے ”فَيَتَقَدَّرُ بِقَدْرِ مَا أَدْرَكَ“ تو یہ مقدر ہو گا یعنی مقرر ہو گا اسی کے بقدر جو اس نے پا لیا، جتنا اس نے ایام کو پا لیا اسی کے بقدر اس پر قضا واجب ہو گی، اور قضا تو اس نے کی نہیں تھی مثلاً دس دن تندرست ہو گیا تھا یا دس دن مقیم ہو گیا تھا لیکن اس نے قضا نہیں کی، جب قضا نہیں کی قضا تو لازم تھی اس کے ذمے تو اسی کے بقدر اب وصیت کرنا اس پر واجب ہے بھئی۔ ”وَقَضَاءُ رَمَضَانَ إِنْ شَاءَ فَرَّقَهُ وَإِنْ شَاءَ تَابَعَهُ“. یہاں سے یہ مسئلہ بیان کر رہے ہیں کہ ایک شخص پر رمضان کے کئی روزوں کی قضا ہے بیماری وغیرہ کی وجہ سے، اس نے کئی روزے مثلاً چھوڑ دیے ہیں یا سفر کی وجہ سے، تو کیا بعد میں ان روزوں کی جب قضا کرے گا تو مسلسل روزے رکھنا ضروری ہے یا جدا جدا کر کے بھی رکھ سکتے ہیں؟ تو آپ کو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ یہ رکھنے والے کی مرضی ہے، چاہے مسلسل سارے روزے رکھ لے قضا کے اور چاہے جدا جدا کر کے رکھے، ایک آج رکھ لیا ایک چند دن بعد رکھ لیا ایک پھر چند دن بعد رکھ لیا تو یہ اس کی مرضی ہے۔ لیکن بہتر یہ ہے کہ مسلسل رکھے تاکہ جلدی سے جلدی واجب جو ہے ذمے سے ساقط ہو جائے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَقَضَاءُ رَمَضَانَ إِنْ شَاءَ فَرَّقَهُ وَإِنْ شَاءَ تَابَعَهُ“ اور رمضان کی قضا اگر چاہے تو جدا جدا کرے اس کو یعنی الگ الگ رکھے قضا روزوں کو ”وَإِنْ شَاءَ تَابَعَهُ“ اور اگر چاہے تو ان کو پے در پے یعنی ایک دوسرے کے پیچھے رکھے یعنی مسلسل رکھے ”لِإِطْلَاقِ النَّصِّ“ بوجہ نص کے مطلق ہونے کے، نص کے مطلق کیونکہ نص مطلق ہے، قرآن میں اللہ نے کیا ذکر فرمایا: ﴿فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ﴾ بھئی، تو اس کے اندر یہ قید نہیں ہے کہ وہ مسلسل ہونے چاہیے، معلوم ہوا جدا جدا کر کے بھی رکھ سکتا ہے۔ ”لَكِنَّ الْمُسْتَحَبَّ الْمُتَابَعَةُ“ لیکن مستحب جو ہے وہ متابعت ہے یعنی پے در پے ایک دوسرے کے پیچھے مسلسل رکھنا ہے ”مُسَارَعَةً إِلَى إِسْقَاطِ الْوَاجِبِ“ جلدی کرنے کے لیے واجب کے اسقاط کی طرف، تاکہ واجب کا اسقاط جلدی سے تاکہ واجب جلدی سے جلدی ذمے سے اتر جائے بھئی۔ ”وَإِنْ أَخَّرَهُ حَتَّى دَخَلَ رَمَضَانٌ آخَرُ صَامَ الثَّانِيَ“. اور اگر اس نے مؤخر کیا قضا کو، ایک شخص پر روزوں کی قضا تھی لیکن وہ مؤخر کرتا رہا یہاں تک کہ اگلا رمضان شروع ہو گیا، تو کہتے ہیں بھئی اب اگلے رمضان کے اندر ان روزوں کی قضا نہیں کر سکتا وہ جو پچھلے رمضان کے تھے بلکہ یہ وقت اس رمضان کے روزوں کا ہے تو اس میں اسی رمضان کے روزے رکھے اور قضا کیا کرے اس رمضان کے بعد کر لے بھئی۔ بھئی یہاں یاد رکھیے ”حَتَّى دَخَلَ رَمَضَانٌ آخَرُ“ پڑھیں گے بھئی: ”رَمَضَانٌ“۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ رمضان جو ہے نا رمضان، یہ چونکہ مہینے کا نام ہے، مہینے کا نام، تو لہٰذا ایک تو اس میں سبب آ گیا علمیت والا، علم ہے، اور دوسرا الف نون اس کے آخر میں، الف نون زائدتان آ رہے ہیں، اور دو اسبابِ منعِ صرف جمع ہو گئے تو یہ غیر منصرف ہوا بھئی۔ تو عام مقامات پر جب پڑھتے ہیں وہاں رمضانَ پڑھتے ہیں، رمضانَ بھئی، یعنی ”رَمَضَانَ“، ”رَمَضَانُ“ یہ پڑھیں گے، کسرہ بھی نہیں آئے گا اس پر اور تنوین بھی نہیں آئے گی۔ لیکن آپ نے قافیہ وغیرہ میں پڑھا ہے کہ وہ اسبابِ منعِ صرف جن میں ایک سبب علمیت ہو، جب جہاں دو اسبابِ منعِ صرف جمع ہو رہے ہیں اور ایک سبب کیا ہے؟ علمیت ہے ان میں سے جیسے یہاں پر ایک سبب تو الف نون زائدتان ہے اور ایک سبب کیا ہے؟ علمیت، تو جہاں پر بھی ایک سبب علمیت ہو اس لفظ کو اگر نکرہ بنا دیا جائے تو علمیت ختم ہو جاتی ہے، اور جب علمیت ختم ہو گئی تو صرف ایک سبب رہ گیا اس میں غیر انصراف کا، اور ایک سبب کی وجہ سے تو کوئی لفظ غیر منصرف نہیں ہوتا، تو یہاں پر بھی علمیت ختم ہو گئی تو یہ منصرف ہو گیا۔ بھئی علمیت کس طرح ختم ہوئی؟ علمیت اس طرح کہ مثلاً زید ایک شخص کا نام تھا، آپ دو کا نام زید رکھتے ہیں، بس اب علمیت ختم، کیونکہ علم تو اس کو کہتے تھے جو ایک معین ذات پر دلالت کرے، جیسے ہی میں زید بولتا تھا وہ جو آپ کا ساتھی جس کا نام زید ہے فوراً آپ کے ذہن میں آ جاتا تھا، لیکن جب دو یا تین یا چار کا نام زید ہے اب جیسے ہی میں اور اکٹھا مثلاً آپ نے رکھا، ساروں کا کیا نام رکھا ہے؟ زید، اب جیسے ہی میں زید کہوں گا تو کوئی ایک ذہن میں آئے گا متعین؟ نہیں، معلوم ہوا اب علمیت نہیں ہے۔ تو جب بھی دو یا زیادہ کا اکٹھا نام ایک چیز کا ہو گیا تو علمیت اس میں سے کیا ہو جاتی ہے؟ ختم ہو جاتی ہے، تو یہاں پر بھی اسی طرح، ایک تو وہ رمضان جو موجود تھا جس کے اس نے روزے قضا کیے ہیں، ایک اگلا رمضان اس کا نام بھی کیا اگلا مہینہ جو آ رہا ہے وہ اگلے سال والا اس کا نام بھی رمضان، تو دو ہو گئے تو علمیت کیا ہو گئی؟ ختم ہو گئی، تو اب یہ کیا بن گیا؟ منصرف بن گیا۔ اسی لیے میں نے ”رَمَضَانٌ آخَرُ“ پڑھا بھئی، تنوین کے ساتھ پڑھا کیونکہ اب یہ غیر منصرف نہیں ہے۔ اور دلیل بھی ساتھ موجود ہے کہ یہ نکرہ ہو چکا ہے، اور کیا دلیل ہے؟ ”آخَرُ“ صفت اس کی نکرہ آ رہی ہے بھئی، ورنہ تو ”الْآخَرُ“ ہونا چاہیے تھا بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو اسی لیے صاحبِ ہدایہ صفت بھی اس کی نکرہ ہی لے کر آئے یہ بتلانے کے لیے کہ اب یہ علم نہیں ہے، جب علم نہیں ہے تو اس میں تو ایک سبب تھا ہی علمیت، وہ ختم ہوا تو صرف الف نون زائدتان رہ گئے، اب یہ غیر منصرف نہیں ہے بھئی۔ یہ معنی ہے ”إِنْ أَخَّرَهُ حَتَّى دَخَلَ رَمَضَانٌ آخَرُ صَامَ الثَّانِيَ“ اور اگر اس کو اس نے مؤخر کیا یہاں تک کہ دوسرا رمضان داخل ہو گیا ”صَامَ الثَّانِيَ“ تو دوسرے رمضان کے روزے رکھے گا ”لِأَنَّهُ فِي وَقْتِهِ“ اس لیے کیونکہ روزہ دار جو ہے اب اس دوسرے رمضان کے وقت میں ہے تو اس کے روزے رکھے گا ”وَقَضَى الْأَوَّلَ بَعْدَهُ“ اور قضا کرے پہلے کی اس کے اس رمضان کے بعد ”لِأَنَّهُ وَقْتُ الْقَضَاءِ“ اس لیے کیونکہ وہ اس کی قضا کا وقت ہے، کب؟ دوسرے رمضان کے بعد جو ہے وہ وہ ہے قضا کا وقت، رمضان کے اندر نہیں قضا کا وقت بھئی۔ ”وَلَا فِدْيَةَ عَلَيْهِ“ اور اس شخص پر فدیہ نہیں ہے، فدیہ نہیں ہے ”لِأَنَّ وُجُوبَ الْقَضَاءِ عَلَى التَّرَاخِي“ اس لیے کیونکہ ہمارے نزدیک قضا کا جو وجوب آتا ہے وہ علی التراخی ہے بھئی، کس طریقے پر ہے؟ تراخی کے طریقے پر ہے یعنی تاخیر کے ساتھ بھی ادا کر سکتا ہے یعنی قضا کو ”حَتَّى كَانَ لَهُ أَنْ يَتَطَوَّعَ“ یہاں تک کہ اس کے لیے جائز ہے نفل بھئی، یہاں تک کہ اس کے لیے نفل یعنی نفلی روزہ رکھنا بھی جائز ہے۔ ایک شخص پر قضا واجب ہے اور وہ قضا سے پہلے کیا رکھ لیتا ہے؟ نفلی روزہ، تو ہمارے نزدیک یہ جائز ہے، اس لیے کیونکہ قضا کی ادائیگی فوری اس پر ہے ہی نہیں بلکہ کس طریقے پر ہے؟ تراخی کے طریقے پر ہے کہ وہ آسانی کے ساتھ جب قضا کرنا چاہے کر سکتا ہے تو اس سے پہلے نفل بھی اس کے لیے جائز ہیں بھئی۔ ”وَالْحَامِلُ وَالْمُرْضِعُ إِذَا خَافَتَا عَلَى أَنْفُسِهِمَا أَوْ وَلَدَيْهِمَا أَفْطَرَتَا وَقَضَتَا دَفْعًا لِلْحَرَجِ، وَلَا كَفَّارَةَ عَلَيْهِمَا، وَلَا فِدْيَةَ عَلَيْهِمَا، خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللّٰهُ فِيمَا إِذَا خَافَتَا عَلَى الْوَلَدِ؛ يَعْتَبِرُهُ بِالشَّيْخِ الْفَانِي“. بھئی مسئلہ یہ کہ کوئی عورت حاملہ ہے یعنی پیٹ میں بچہ ہے یا اسی طرح کوئی عورت جو ہے بچے کو دودھ پلانے والی ہے اور اب ان کو اپنی جان کا خوف ہوا روزے کے اندر یا اپنے بچوں کا خوف ہوا تو اس صورت میں یہ روزہ روزہ چھوڑ دیں بھئی، کیا کر دیں؟ روزہ چھوڑ دیں اور اگر روزہ رکھا ہوا ہے تو اس کو توڑ سکتی ہیں بھئی، جبکہ کب؟ اپنی جان کا خوف ہے یا بچے کی جان کا خوف ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَالْحَامِلُ وَالْمُرْضِعُ إِذَا خَافَتَا عَلَى أَنْفُسِهِمَا أَوْ وَلَدَيْهِمَا أَفْطَرَتَا“ اور حاملہ اور دودھ پلانے والی جب ان دونوں کو خوف ہوا ”عَلَى أَنْفُسِهِمَا“ اپنی جان کا ”أَوْ وَلَدَيْهِمَا“ یا اپنے بچوں کی جان کا ”أَفْطَرَتَا“ تو دونوں افطار کر لیں ”وَقَضَتَا“ اور قضا کریں یہ دونوں، یعنی بعد میں کیا کریں گی؟ قضا کریں گی، تو اس وقت افطار کر لیں ”دَفْعًا لِلْحَرَجِ“ حرج کو دور کرنے کے لیے بھئی، کیونکہ حرج کو تو دور کیا گیا اور یہاں اپنی یا بچوں کی جان کا خطرہ ہے تو روزہ چھوڑ دیں اور یا اگر روزہ ہے، روزے کے اندر اس طرح پیش آیا تو روزہ توڑ دیں۔ ”وَلَا كَفَّارَةَ عَلَيْهِمَا“ اور ان پر کفارہ بھی نہیں ہے ”لِأَنَّهُ إِفْطَارٌ بِعُذْرٍ“ اس لیے کیونکہ یہ روزہ توڑنا کس کی وجہ سے تھا؟ عذر کی وجہ سے تھا ”وَلَا فِدْيَةَ عَلَيْهِمَا“ اور ان پر فدیہ نہیں ہے، صرف کیا کریں گی؟ ان روزوں کی قضا کریں گی۔ تو ”وَلَا فِدْيَةَ عَلَيْهِمَا“ اور ان پر فدیہ نہیں ہے ”خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللّٰهُ فِيمَا إِذَا خَافَتَا عَلَى الْوَلَدِ“ بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے اس صورت میں کہ جب اس عورت کو خوف ہے اپنے بچے کا ”هُوَ يَعْتَبِرُهُ بِالشَّيْخِ الْفَانِي“ وہ اس کو قیاس کرتے ہیں شیخِ فانی پر، کس پر؟ شیخِ فانی پر۔ بھئی شیخِ فانی کا مسئلہ آگے آ رہا ہے، شیخِ فانی وہ شخص جو بہت بوڑھا ہو گیا، بہت بوڑھا ہو گیا تو اس کو شیخِ فانی کہتے ہیں کہ مرنے یعنی فنا ہونے کے قریب ہے، مرنے ہی والا ہے، بہت بوڑھا ہو گیا قوتیں ساری ختم ہو گئیں، روزہ رکھنے کی اس کے اندر اب طاقت ہی نہیں ہے بھئی، اتنا بوڑھا ہو گیا ہے۔ تو یاد رکھیے شیخِ فانی جو ہے نا شیخِ فانی، وہ چونکہ اب روزہ رکھ نہیں سکتا تو وہ ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلائے گا، ایک مسکین کو کھانا کھلائے گا یا یوں کہیں ہر روزے کا ایک فدیہ دے گا، وہی فدیہ جو صدقۂ فطر میں بیان ہوا تھا کہ ہر روزے کے بدلے کیا کر دے؟ نصف صاع گندم دے دے یا ایک صاع کھجور یا جو میں سے دے دے بھئی ایک صاع بھئی، اور چاہے تو کیا کر دے؟ ان کی قیمت دے دے اور چاہے تو کیا کرے؟ کھانا کھلا دے دو وقت کا، لیکن کھانا دو وقت کا ہونا چاہیے تاکہ اس کی ضرورت پوری ہو جائے بھئی۔ تو یہ شیخِ فانی جو فدیہ ادا کرتا ہے تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دیکھیے جیسے شیخِ فانی جو ہے ہر روزے کے بدلے میں ایک فدیہ ادا کرتا ہے تو فرماتے ہیں کہ یہ عورت بھی یہاں پر فدیہ ادا کرے گی، لیکن اس صورت میں جب اپنے بچے کی ہلاکت کے خوف سے اس نے روزہ توڑا ہے یا روزہ چھوڑا ہے، جب اپنی جان کی وجہ سے اس صورت میں وہ فدیہ نہیں، فدیے کے قائل نہیں ہیں بلکہ بچے کی جان کو خطرہ تھا اس لیے روزہ چھوڑ دیا یا روزہ توڑ دیا تو اس صورت میں وہ فرماتے ہیں فدیہ بھی آئے گا جیسے شیخِ فانی کے اندر فدیہ آیا تھا، تو وہ اس کو قیاس کرتے ہیں اس بچے کو شیخِ فانی پر، اور شیخِ فانی میں تو فدیہ آتا ہے لہٰذا یہاں پر بھی اس عورت پر اب کیا آ جائے گا؟ فدیہ آ جائے گا۔ بھئی کس طرح وہ قیاس کرتے ہیں اس بچے کو شیخِ فانی پر؟ وہ فرماتے ہیں، توجہ سے سننا بھئی، وہ فرماتے ہیں کہ شیخِ فانی کے مسئلے میں کیا دینا پڑتا ہے؟ فدیہ دینا پڑتا ہے۔ فدیہ کس چیز کا بدل ہے؟ روزے کا بدل ہے، اور یہاں پر بھی جو روزہ چھوڑا گیا ہے وہ کس کی وجہ سے چھوڑا گیا ہے؟ بچے کی وجہ سے چھوڑا گیا ہے، اور بچہ جو ہے وہ شیخِ فانی کی طرح ہے یعنی وہ روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتا، تو اس عاجزی کی وجہ سے جیسے شیخِ فانی کے عاجز ہونے کی وجہ سے فدیہ واجب ہوتا ہے ویسے ہی بچے کے عاجز ہونے اور اس کی رعایت کی وجہ سے یہاں بھی فدیہ واجب ہوگا۔ ”وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا فِي رَمَضَانَ فَخَافَ إِنْ صَامَ ازْدَادَ مَرَضُهُ أَفْطَرَ وَقَضَى“ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا يُفْطِرُ، وَيَعْتَبِرُ خَوْفَ الْهَلَاكِ أَوْ فَوَاتِ الْعُضْوِ كَمَا يَعْتَبِرُ فِي التَّيَمُّمِ“ ”وَنَحْنُ نَقُولُ: إِنَّ زِيَادَةَ الْمَرَضِ وَامْتِدَادَهُ قَدْ تُفْضِي إِلَى الْهَلَاكِ فَيَجِبُ الِاحْتِرَازُ عَنْهُ“. فَصْلٌ۔ اس فصل میں صاحبِ ہدایہ وہ عذر وغیرہ بیان کریں گے جن کی وجہ سے روزہ چھوڑنا جائز ہے کہ ان میں سے کوئی عذر آجائے تو کوئی شخص اس وقت روزہ چھوڑ سکتا ہے اور پھر بعد میں اس کی قضا کر لے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا فِي رَمَضَانَ“ اور جو شخص بیمار تھا رمضان میں ”فَخَافَ إِنْ صَامَ“ تو اس کو یہ خوف ہوا کہ اگر اس نے روزہ رکھا ”ازْدَادَ مَرَضُهُ“ تو اس کا مرض بڑھ جائے گا ”أَفْطَرَ“ تو وہ افطار کر لے یعنی روزہ چھوڑ دے ”وَقَضَى“ اور بعد میں اس کی قضا کر لے۔ کوئی شخص بیمار ہے رمضان کے اندر اور مرض بھی ایسا ہے کہ اس کو خوف ہے اگر میں روزہ رکھوں گا تو میرا مرض بڑھ جائے گا بھئی، تو ”أَفْطَرَ“ وہ کیا کر لے؟ افطار کر لے یعنی روزہ نہ رکھے ”وَقَضَى“ اور بعد میں اس کی قضا کر لے بھئی۔ ”ازْدَادَ“ میری کتاب میں ذال کے ساتھ لکھا ہے، یہ درست نہیں ہے بھئی، زا کے ساتھ ہونا چاہیے زا کے ساتھ، ”ازْدَادَ“۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ لَا يُفْطِرُ“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، وہ افطار نہیں کرے گا یعنی وہ روزہ نہیں چھوڑ سکتا اسے روزہ رکھنا پڑے گا۔ ”وَيَعْتَبِرُ خَوْفَ الْهَلَاكِ أَوْ فَوَاتِ الْعُضْوِ كَمَا يَعْتَبِرُ فِي التَّيَمُّمِ“ وہ اعتبار کرتے ہیں ہلاک ہو جانے کے خوف کا یا کسی عضو کے فوت ہو جانے کے خوف کا۔ یعنی اگر کسی شخص کو یہ خوف ہے کہ اگر میں روزہ رکھوں گا تو میں ہلاک ہو جاؤں گا زندہ بچوں گا ہی نہیں یا یہ خوف ہے کہ اگر روزہ رکھا تو میرا کوئی عضو ضائع ہو جائے گا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو اگر یہ خوف ہے تو پھر تو روزہ چھوڑنے کی اس کو اجازت ہے، اگر یہ خوف نہیں تو پھر روزہ چھوڑنے کی اجازت بھی نہیں۔ جبکہ ہمارے نزدیک مرض بڑھنے کا خوف ہو کہ مرض بہت زیادہ ہو جائے گا تو اس صورت میں بھی روزہ چھوڑ سکتا ہے۔ تو ”فَهُوَ يَعْتَبِرُ خَوْفَ الْهَلَاكِ أَوْ فَوَاتِ الْعُضْوِ“ تو وہ اعتبار کرتے ہیں ہلاک ہو جانے یا عضو کے فوت ہو جانے کے خوف کا ”كَمَا يَعْتَبِرُ فِي التَّيَمُّمِ“ جیسے کہ وہ اعتبار کرتے ہیں تیمم میں۔ تیمم کے مسئلے میں بھی آپ نے پڑھا تھا ہمارے نزدیک اگر کوئی شخص بیمار ہے اور اس کو یہ خوف ہے کہ اگر وضو کرے گا تو اس کا مرض بڑھ جائے گا تو اسے تیمم کرنے کی اجازت ہے، جبکہ ان کے نزدیک جب تک ہلاکت کا یا عضو کے فوت ہو جانے کا خوف نہ ہو اس وقت تک وہ تیمم نہیں کر سکتا۔ ”وَنَحْنُ نَقُولُ: إِنَّ زِيَادَةَ الْمَرَضِ وَامْتِدَادَهُ قَدْ تُفْضِي إِلَى الْهَلَاكِ“ ہم کہتے ہیں کہ مرض کا زیادہ ہونا ”وَامْتِدَادَهُ“ اور اس کا لمبا ہو جانا ”قَدْ تُفْضِي إِلَى الْهَلَاكِ“ یہ بھی کبھی کبھار ہلاکت تک پہنچا دیتا ہے ”فَيَجِبُ الِاحْتِرَازُ عَنْهُ“ تو اس سے بچنا بھی واجب ہے۔ یہ بھی کبھی کبھار کس تک پہنچا دیتا ہے؟ ہلاکت تک، یہ مرض کا بڑھنا اور لمبا ہو جانا، تو لہٰذا یہ خوف جس کو ہو وہ بھی ہمارے نزدیک افطار کر سکتا ہے۔ ”وَإِنْ كَانَ مُسَافِرًا لَا يَسْتَضِرُّ بِالصَّوْمِ فَصَوْمُهُ أَفْضَلُ، وَإِنْ أَفْطَرَ جَازَ“ بھئی یہاں سے مسافر کے بارے میں بیان کر رہے ہیں۔ مسافر اور مریض کے بارے میں اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: ”فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ“ پس تم میں سے جو کوئی مریض ہو یا سفر ہو تو شمار کرنا ہے چند دوسرے دنوں کا۔ یعنی ان ایام کے علاوہ پھر دوسرے دن میں شمار کر کے اتنے روزے کیا کر لے؟ پورے کر لے جو رمضان میں چھوڑ دیے تھے اس بیماری یا اس سفر کے عذر کی وجہ سے۔ تو معلوم ہوا مسافر اور مریض کو شریعت نے رخصت دے دی ہے کہ وہ روزہ چھوڑنا چاہیں تو رمضان میں روزہ چھوڑ سکتے ہیں اور بعد میں اس کی قضا کرنا پڑے گی۔ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلا رہے ہیں اگر مسافر جو ہے اس کو روزہ رکھنے سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا، سفر ہلکا پھلکا ہے کوئی مشقت نہیں ہے تو پھر اس صورت میں اس کے لیے روزہ رکھنا افضل ہے۔ روزہ چھوڑنا جائز تو ہے اس کے لیے لیکن اس وقت افضل کیا ہے اس کے لیے؟ روزہ رکھنا افضل ہے۔ اور یہ بھی یاد رکھیے مسافر سے وہ شرعی مسافر مراد ہے جس نے کتنی مسافت کا ارادہ کیا ہے؟ تین دن کی مسافت کا ارادہ کیا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ كَانَ مُسَافِرًا لَا يَسْتَضِرُّ بِالصَّوْمِ فَصَوْمُهُ أَفْضَلُ“ اور اگر مسافر جو ہے اس کو نقصان نہیں ہوتا اس کو تکلیف نہیں ہوتی ”بِالصَّوْمِ“ روزے کی وجہ سے ”فَصَوْمُهُ أَفْضَلُ“ تو اس کا روزہ افضل ہے ”وَإِنْ أَفْطَرَ جَازَ“ اور اگر اس نے افطار کر لیا یعنی روزہ نہ رکھا ”جَازَ“ تو یہ بھی جائز ہے۔ ”لِأَنَّ السَّفَرَ لَا يَعْرَى عَنِ الْمَشَقَّةِ“ اس لیے کیونکہ سفر جو ہے وہ خالی نہیں ہوتا مشقت سے ”فَجُعِلَ نَفْسُهُ عُذْرًا“ تو اس کی ذات ہی کو عذر قرار دے دیا گیا۔ سفر عموماً مشقت سے خالی نہیں ہوتا تو لہٰذا سفر ہی کو کیا قرار دے دیا گیا؟ عذر قرار دے دیا گیا، تو بس مسافر چاہے تکلیف اور مشقت اس کو ہوتی ہے یا نہیں لیکن سفر میں تو ہوتی چونکہ مشقت ہے تو نفسِ سفر ہی کو کیا قرار دے دیا شریعت نے؟ عذر قرار دے دیا، عذر قرار دے دیا۔ ”بِخِلَافِ الْمَرَضِ“ تو اس کے نفسِ سفر ہی کو عذر قرار دے دیا۔ سمجھ میں آیا؟ لہٰذا اسی لیے کہا اس کے لیے افطار کرنا جائز ہے لیکن اگر تکلیف نہیں ہے سفر میں، مشقت نہیں ہے تو افضل کیا ہے اس کے لیے؟ روزہ رکھے۔ ”بِخِلَافِ الْمَرَضِ“ بخلاف مرض کے۔ یاد رکھیے مرض کے اندر مطلقاً افطار کی اجازت نہیں ہے۔ مرض دو قسم کے ہیں: کچھ وہ مرض ہیں جن میں روزہ فائدہ دیتا ہے مثلاً پیٹ خراب ہے وغیرہ، تو اس کے اندر تو روزہ فائدہ دے گا، اور بعض مرض ایسے ہوتے ہیں جس میں روزہ نقصان دیتا ہے تکلیف دیتا ہے، تو یہاں وہ مرض مراد ہے جس کے اندر تکلیف بڑھے گی مرض بڑھے گا اس میں افطار کی گنجائش ہے کہ روزہ نہ رکھے جبکہ دوسرا مرض اس میں گنجائش نہیں ہے بھئی۔ یہی بات بیان کر رہے ہیں: ”بِخِلَافِ الْمَرَضِ“ بخلاف بیماری کے ”فَإِنَّهُ قَدْ يَخِفُّ بِالصَّوْمِ“ پس بیماری جو ہے وہ تو کبھی کبھار روزے سے ہلکی ہو جاتی ہے، روزے کی وجہ سے فائدہ ہوتا ہے اور بیماری کم ہو جاتی ہے۔ ”فَشُرِطَ كَوْنُهُ مُفْضِيًا إِلَى الْحَرَجِ“ تو اس میں شرط ہے کہ وہ روزہ جو ہے وہ حرج تک پہنچانے والا ہو۔ وہ مرض ایسا ہو کہ روزہ رکھتا ہے تو وہ کس تک پہنچاتا ہے؟ حرج تک یعنی تنگی اور تکلیف تک پہنچاتا ہے تو پھر یہ مرض عذر ہے اور اس میں وہ روزہ چھوڑ سکتا ہے بعد میں قضا کر لے، اور اگر مرض ایسا ہے کہ اس کے اندر روزہ حرج تک نہیں پہنچاتا بلکہ فائدہ ہوتا ہے روزہ رکھنے سے تو یہ عذر بھی نہیں ہے اور جب عذر نہیں تو اس میں روزہ چھوڑنے کی گنجائش نہیں ہے بھئی۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: الْفِطْرُ أَفْضَلُ“ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فطر افضل ہے۔ ہمارے نزدیک تو کیا افضل ہے مسافر کے لیے؟ اگر نقصان اور تکلیف نہیں ہے سفر کے اندر مشقت نہیں ہے تو روزہ رکھ لے، یہ افضل ہے، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں فطر افضل ہے ہر صورت میں۔ ”لِقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ“ بوجہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کے، آپ نے فرمایا: ”لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ“ کہ نہیں ہے نیکی میں سے روزہ رکھنا سفر میں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔ ایک مرتبہ سفر کے دوران حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ کچھ صحابہ ایک طرف جمع ہیں اور کسی ایک پر سایہ وغیرہ کیا ہوا ہے۔ حضور علیہ السلام نے پوچھا یہ کیا ہوا، کیا بات ہے؟ تو بتلایا گیا کہ ایک شخص روزہ دار تھا وہ روزہ دار تھا تو اس پر سایہ وغیرہ کیا، معلوم ہوا کوئی بے ہوش وغیرہ ہو گئے ہوں گے، تو اس موقع پر حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ“، سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔ تو سفر میں جب مشقت ہو تو پھر روزہ نہیں رکھنا چاہیے بھئی۔ ”وَلَنَا أَنَّ رَمَضَانَ أَفْضَلُ الْوَقْتَيْنِ“ اور ہاں یہ تو تھی امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل۔ ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّ رَمَضَانَ أَفْضَلُ الْوَقْتَيْنِ“ کہ رمضان دو وقتوں میں سے افضل ہے۔ دو وقت بھئی: ایک تو یہ وقت ہے جب یہ انسان اس وقت روزہ رکھے گا اور ایک یہ ہے کہ اس وقت روزہ چھوڑ دے گا تو بعد میں اس کی کیا کرے گا؟ قضا۔ تو ایک یہ وقت ہے ایک وہ قضا کا وقت ہے، ان دونوں میں سے افضل کون سا وقت ہے؟ یہ رمضان والا وقت افضل ہے، لہٰذا ہمارے نزدیک اگر تکلیف نہیں ہوتی تو اسی وقت میں روزہ رکھ لے تاکہ کون سا وقت مل جائے اس کو؟ افضل وقت مل جائے روزے کی ادائیگی کا۔ تو یہ معنی ہے کہ ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّ رَمَضَانَ أَفْضَلُ الْوَقْتَيْنِ“ کہ رمضان جو ہے اس دو وقتوں میں سے افضل ہے ”فَكَانَ الْأَدَاءُ فِيهِ أَوْلَى“ تو اس کے اندر ادا کرنا بہتر ہو گا۔ ”وَمَا رَوَاهُ مَحْمُولٌ عَلَى حَالَةِ الْجَهْدِ“ اور وہ حدیث جس کو امام شافعی رحمہ اللہ نے روایت کیا وہ محمول ہے مشقت کی حالت پر۔ وہ حدیث کس حالت پر محمول ہے؟ مشقت کی حالت پر، جب سفر میں مشقت ہو تکلیف ہو تو اس وقت تو ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ روزہ نہیں رکھنا چاہیے، افضل یہ ہے کہ روزہ نہ رکھے بھئی، روزہ نہ رکھے۔ تو حدیث میں بھی اسی کا ذکر ہے۔ اور یہ یاد رکھیے بھئی، یہ صاحبِ ہدایہ نے امام شافعی رحمہ اللہ کا ذکر کیا لیکن یہ امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب نہیں ہے بھئی، یہ امام احمد ابن حنبل رحمہ اللہ کا مذہب ہے کہ علی الاطلاق فطر افضل ہے جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی وہی مذہب ہے جو ہمارا مذہب ہے، وہ بھی یہی فرماتے ہیں اگر مشقت نہ ہو تکلیف نہ ہو تو مسافر کے لیے روزہ رکھنا افضل ہے بھئی۔ ”وَإِذَا مَاتَ الْمَرِيضُ وَالْمُسَافِرُ وَهُمَا عَلَى حَالِهِمَا لَمْ يَلْزَمْهُمَا الْقَضَاءُ“ اور جس وقت مریض مر جائے اور مسافر، اور جس وقت مریض یا مسافر مر جائے ”وَهُمَا عَلَى حَالِهِمَا“ اس حال میں کہ وہ دونوں اپنے حال پر تھے یعنی مریض مرض میں تھا اور مسافر سفر میں تھا ”لَمْ يَلْزَمْهُمَا الْقَضَاءُ“ تو ان پر قضا لازم نہیں۔ بھئی دیکھیے مسافر اور مریض کے بارے میں اللہ نے کیا فرمایا: ”فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ“، تو ان کو اجازت دی گئی کہ بیماری کی حالت میں اور سفر کی حالت میں کیا کر سکتے ہیں؟ رمضان کا روزہ چھوڑ کر بعد میں اتنے ہی دن کیا کریں گے؟ روزہ رکھیں گے اس کی قضا کریں گے۔ لیکن اگر کوئی شخص بیمار تھا اس نے کچھ روزے چھوڑ دیے اور پھر اسی بیماری میں اس کا انتقال ہو گیا یعنی بعد میں بعد میں اس کو اتنے دن ملے ہی نہیں جس میں وہ کیا کرتا؟ ان روزوں کی قضا کرتا، اور وہ جب دن ملے ہی نہیں اس کو تو پھر اس پر ان روزوں کی قضا بھی لازم نہیں۔ یا اسی طرح مسافر سفر میں تھا اور اسی سفر کی حالت میں اس کا انتقال ہو گیا، بعد میں اس کو کوئی دن ملا ہی نہیں جس میں کیا کر دیتا؟ قضا کر لیتا، تو عند اللہ اس پر قضا لازم نہیں، یعنی عند اللہ اس کا مواخذہ نہیں ہو گا، اس مریض اور مسافر کا مواخذہ عند اللہ نہیں ہے بھئی، کیونکہ خود اللہ تعالیٰ نے رخصت دی ہے اور اس کو اگر بعد میں وقت ملتا اور نہ رکھتا پھر تو یہ مجرم تھا لیکن اس کو تو بعد میں مریض تھا تو صحت ہی نہیں ملی اسی بیماری میں مر گیا یا مسافر تھا تو بعد میں قیام کی حالت میں کچھ دن ملے ہی نہیں ہیں اسی سفر میں ہی مر گیا تو لہٰذا ان پر ان کی قضا بھی لازم نہیں بھئی۔ یہ معنی ہے: ”لَمْ يَلْزَمْهُمَا الْقَضَاءُ“ تو ان پر ان دنوں کی قضا بھی لازم نہیں ہے ”لِأَنَّهُمَا لَمْ يُدْرِكَا عِدَّةً مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ“ اس لیے کیونکہ انہوں نے نہیں پایا، کس چیز کو نہیں پایا؟ ”عِدَّةً مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ“ کچھ اور دنوں کے شمار کو۔ کچھ اور دنوں کا شمار ان کو ملا ہی نہیں کہ اس میں یہ قضا کر لیتے! اب دوسری صورت ذکر کر رہے ہیں کہ اگر ان کو کچھ ایام مل گئے لیکن پورے ایام نہ ملے: مریض تھا بیمار تھا، اس بیماری کی حالت میں اس نے مثلاً رمضان کے بیس روزے چھوڑ دیے اور رمضان کے بعد کسی وقت اس کو صحت ہو گئی وہ صحت مند ہو گیا اور صرف مثلاً فرض کریں دس دن صحت مند رہا اور پھر انتقال کر گیا۔ تو لہٰذا اس پر جتنے دن اس کو مل گئے صحت کی حالت میں ان کی قضا اس پر لازم ہو گی۔ دس دن صحت مل گئی تھی اور روزے تو کل کتنے باقی تھے اس کے ذمے؟ بیس تھے، تو یہ دس دن کی قضا اس کے ذمے لازم ہو گی۔ اور یا مسافر اسی طرح تھا سفر میں اس نے بیس روزے چھوڑ دیے تھے اور اس کے بعد جب وہ مقیم ہوا تو مقیم ہونے کے بعد مثلاً دس دن ہی اس کو ملے اور پھر اس کا انتقال ہو گیا تو اس پر بھی انہی دنوں کی قضا لازم ہے جتنے دن اس کو ملے ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ بھئی سوال پیدا ہوتا ہے کہ جتنے دن ان کو ملے اتنے ہی کی قضا ان پر لازم ہے، اس کا کیا معنی؟ اس کا کیا فائدہ؟ ان کا تو انتقال ہو چکا ہے! کہتے ہیں بھئی معنی یہ ہے کہ اتنے دن اگر گزر گئے اور اس میں انہوں نے روزے کی قضا نہیں تو عند اللہ ان کا مواخذہ ہو گا۔ اللہ نے رخصت دی تھی، کس لیے دی تھی رخصت؟ کہ بعد میں ان کی قضا کرنا پڑے گی، اور اتنے دن اس کو مل گئے اور اس نے ان دنوں کی قضا نہیں کی تو عند اللہ اس کا مواخذہ ہو گا۔ لہٰذا اس پر کیا واجب ہے اب؟ مرنے سے پہلے موقع مل جائے تو اس پر وصیت کرنا واجب ہے کہ میرے ذمے دس روزے باقی ہیں، میرے ذمے دس روزے باقی ہیں میری طرف سے ان کا فدیہ دے دینا۔ تو اب روزے تو کل بیس چھوڑے تھے لیکن دس کا تو اس کو وقت ہی نہیں ملا، دس کا وقت ملا ہے تو ان کے بارے میں وصیت کرنا اس پر واجب ہے واجب ہے، اگر وصیت نہیں کرے گا تو عند اللہ اس کا مواخذہ ہو گا۔ ”وَلَوْ صَحَّ الْمَرِيضُ وَأَقَامَ الْمُسَافِرُ ثُمَّ مَاتَا لَزِمَهُمَا الْقَضَاءُ بِقَدْرِ الصِّحَّةِ وَالْإِقَامَةِ“ اور اگر تندرست ہو گیا مریض ”وَأَقَامَ الْمُسَافِرُ“ اور مقیم ہو گیا مسافر ”ثُمَّ مَاتَا“ پھر یہ دونوں مر گئے ”لَزِمَهُمَا الْقَضَاءُ“ تو ان دونوں پر قضا لازم ہے، کتنی قضا؟ کہتے ہیں: ”بِقَدْرِ الصِّحَّةِ وَالْإِقَامَةِ“ صحت اور اقامت کے بقدر یعنی جتنے دن صحت کے جتنے دن اقامت میں ملے ”لِوُجُودِ الْإِدْرَاكِ بِهَذَا الْمِقْدَارِ“ بوجہ پا لینے اتنی مقدار کو، یعنی اتنی مقدار انہوں نے دنوں کی پا لیا تو اتنے روزوں کی قضا بھی ان پر لازم ہو گئی۔ بھئی فائدہ ذکر کر رہے ہیں کہ فائدہ کیا ہے ان کا تو انتقال ہو چکا ہے، ان پر اس مقدار کو لازم کرنے کا؟ کہتے ہیں: ”وَفَائِدَتُهُ وُجُوبُ الْوَصِيَّةِ بِالْإِطْعَامِ“ کہ اس کا فائدہ جو ہے یہ ہے کہ ان پر وصیت کرنا واجب ہے کھانا کھلانے کی، ان پر کھانا کھلانے کی وصیت کرنا واجب ہے یعنی فدیہ فدیہ کرنے کی وصیت کریں بھئی، فدیہ کہ ان کی طرف سے ہر روزے کا فدیہ ادا کر دیا جائے۔ یہاں تک مسئلہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ فدیہ کتنا ہے وہ آگے ذکر آ رہا ہے بھئی۔ ”وَذَكَرَ الطَّحَاوِيُّ خِلَافًا فِيهِ بَيْنَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ وَبَيْنَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى وَلَيْسَ بِصَحِيحٍ، وَإِنَّمَا الْخِلَافُ فِي النَّذْرِ“ یہاں سے صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ امام طحاوی رحمہ اللہ نے اس مسئلے کے اندر شیخین رحمہما اللہ اور امام محمد رحمہ اللہ کے درمیان اختلاف ذکر کیا ہے ”وَلَيْسَ بِصَحِيحٍ“ اور یہ درست نہیں ہے بھئی، بلکہ اس مسئلے کے اندر ہمارے تینوں ائمہ کا اتفاق ہے بھئی۔ ”وَإِنَّمَا الْخِلَافُ فِي النَّذْرِ“ اور اختلاف صرف کس میں ہے؟ منت میں ہے، منت کے مسئلے میں اختلاف ہے بھئی۔ تو یاد رکھیے منت کے مسئلے میں کہ اگر کوئی شخص منت مانتا ہے مثلاً بیمار ہے اس نے منت مانی کہ اے اللہ اگر میں اس مرض سے تندرست ہو گیا تو میں بیس روزے رکھوں گا بھئی، بیس روزے رکھوں گا، اور پھر وہ تندرست ہوا اور دس دن بعد پھر اس کا اچانک انتقال ہو گیا تو دس دن اس کو صحت کے مل گئے بھئی۔ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جیسے مسافر اور مریض کو جتنے ایام میسر آتے تھے اسی کی قضا اس پر واجب ہوتی تھی اور وہ اگر نہ کر سکا تو پھر اتنے ہی دنوں کے کفارے کی وصیت اس پر واجب ہو گی، تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے، اس نے بیس روزوں کی منت مانی تھی اور اس کو صرف دس دن ملے ہیں تو دس دنوں کے روزوں کے فدیے کی وصیت اس پر لازم ہو گی۔ جبکہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، یہاں جتنے دن بھی مل جائیں یہاں پورے جتنی منت مانی تھی یعنی پورے بیس روزوں ہی کی وصیت اس کے ذمے لازم ہو گی بھئی۔ تو دیکھیے معلوم ہوا شیخین رحمہما اللہ جو ہے وہ فرق کرتے ہیں: ایک ہے مسافر اور مریض اور ایک ہے منت، تو اس کے اندر معلوم ہو وہ فرق کرتے ہیں۔ تو اس کی کیا وجہ ہے وہ بھی آگے بیان کر رہے ہیں: کہتے ہیں: ”وَالْفَرْقُ لَهُمَا أَنَّ النَّذْرَ سَبَبٌ فَيَظْهَرُ الْوُجُوبُ فِي حَقِّ الْخَلَفِ، وَفِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ السَّبَبُ إِدْرَاكُ الْعِدَّةِ فَيَتَقَدَّرُ بِقَدْرِ مَا أَدْرَكَ“. تو فرق یہ ہے شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک دونوں صورتوں میں کہ وہ فرماتے ہیں کہ یہ جو مریض اور مسافر پر قضا واجب ہوتی ہے یہ قضا کا سبب اور ایام کو پا لینا ہے۔ ان پر قضا کیوں واجب ہوتی ہے؟ اور ایام کو پا لینا اس کا سبب ہے، تو یہ اسی قدر دنوں کی قضا آئے گی اس پر واجب ہو گی جتنے دنوں کو وہ پا لے۔ تو اب اگر ان پر بیس بیس روزے باقی تھے اور انہوں نے صرف دس دن پائے اور پھر انتقال ہو گیا تو صرف دس دن پائے ہیں تو اسی کے بقدر ان پر قضا بھی واجب ہو گی۔ لیکن منت کے وجوب کا سبب وہ اتنے دنوں کو پا لینا نہیں ہے بلکہ منت کے وجوب کا سبب وہ منت ہے، اس منت کی وجہ سے یہ بیس روزے اس پر واجب ہوئے ہیں اور منت تو موجود ہے اور مانع جو ہے وہ دور ہو چکا ہے، مرض دور ہو چکا ہے، تو اب اس پر پورے بیس روزوں ہی کی وصیت لازم ہو گی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ کیونکہ یہاں جو اس پر ادا واجب ہوئی جتنے ایام کو پائے ان کی وجہ سے اس پر ادا واجب نہیں ہو رہی بلکہ یہ ادا کس وجہ سے واجب ہو رہی ہے؟ یہ روزے اس پر کس وجہ سے واجب ہو رہے ہیں؟ منت کی وجہ سے واجب ہو رہے ہیں اور منت تو موجود ہے اور مانع جو تھا جو مرض تھا وہ ختم ہو چکا ہے۔ جب منت موجود ہے اور مانع ختم ہو گیا تو وجوب سارے کا آئے گا اور کتنی منت مانی تھی اس نے؟ بیس کی، تو وہ ایام جو اس نے پائے ان کو نہیں دیکھا جائے گا بلکہ یہ دیکھا جائے گا منت اس نے کتنے کی مانی تھی اور وہ منت موجود ہے وہ سبب ہے اس کی وجہ سے بیس روزے اس پر واجب ہو رہے ہیں، بیس ہی روزے واجب ہوئے، جب مانع چلا گیا تو اس پر کتنے روزے واجب ہو گئے؟ بیس روزے واجب ہو گئے بھئی، لہٰذا اب اس نے رکھے نہیں ہیں تو لہٰذا اب خلیفہ کی طرف حکم منتقل ہو جائے گا اور روزے کا خلیفہ کیا ہے؟ فدیہ ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ فدیہ ہے تو لہٰذا اس پر وصیت واجب ہو گی کہ وہ بیس دنوں کے روزوں کے فدیے کی وصیت کرے۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ کیا فرماتے تھے؟ جتنے دن پائے ہیں اسی کے بقدر وصیت بھی اس پر لازم، جبکہ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک وہ جتنے کی منت مانی ہے ان سارے روزوں کی وصیت کرنا لازم ہے کہ ان کا فدیہ دے دیا جائے بھئی۔ فرق سمجھ میں آ گیا؟ تو کہتے ہیں: ”وَالْفَرْقُ لَهُمَا“ اور فرق جو ہے شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک جو ہے وہ یہ ہے ”أَنَّ النَّذْرَ سَبَبٌ“ کہ اس مسئلے میں منت کے مسئلے میں منت جو ہے وہ سبب ہے ان روزوں کا ”فَيَظْهَرُ الْوُجُوبُ فِي حَقِّ الْخَلَفِ“ تو وجوب ظاہر ہو گا خلیفہ کے حق میں یعنی فدیے کے حق میں بھی وجوب ظاہر ہو گا۔ روزے تو وہ رکھ نہیں سکا، موت کا وقت اچانک موت آ گئی بھئی اور اس کو پتہ لگ گیا اب میں مرنے والا ہوں تو اس پر کیا واجب ہے؟ اگر موقع ملتا ہے اس پر وصیت واجب ہے، تو وجوب تو آیا تھا کتنے روزوں کا اس پر؟ بیس کا، تو یہ وجوب اب خلیفہ کے حق میں بھی اسی طرح ظاہر ہو گا اور کتنے روزوں کی وصیت کتنے روزوں کا فدیے کی وصیت کرنا اس پر لازم ہو گا؟ بیس ہی کی وصیت کرنا لازم ہو گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: ”فَيَظْهَرُ الْوُجُوبُ فِي حَقِّ الْخَلَفِ“ تو وہ وجوب جس کا سبب کیا تھا؟ منت تھی، وہ وجوب اب ظاہر ہو گا ”فِي حَقِّ الْخَلَفِ“ کس کے حق میں؟ خلیفہ کے حق میں، اور وہ کیا ہے؟ فدیہ ہے یعنی فدیے کے حق میں، وہ فدیہ اس پر واجب ہو گا یعنی اس کی وصیت کرنا۔ ”وَفِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ“ جبکہ اس مسئلے کے اندر یہ مریض اور مسافر کے مسئلے کے اندر ”السَّبَبُ إِدْرَاكُ الْعِدَّةِ“ قضا کا سبب کیا ہے؟ اس پر مسافر اور مریض نے کچھ روزے چھوڑے ہیں تو ان پر قضا واجب ہو گی لیکن اس قضا کا سبب کیا ہے؟ کب کیوں واجب ہو گی؟ اور دنوں کو پانے کی وجہ سے، اگر اور دنوں کو نہیں پایا اور مرض میں اور سفر میں ان کا انتقال ہوا تو آپ نے کیا پڑھا تھا؟ ان پر قضا لازم ہے یا قضا لازم نہیں؟ یہ تو قضا لازم ہی نہیں ہے، معلوم ہوا یہاں قضا کا سبب کیا ہے؟ اور دنوں کو پا لینا، تو جتنے اور دن پائیں گے اتنی ہی قضا لازم ہو گی، اور قضا تو یہ کر نہیں سکا تھا لہٰذا اسی کے بقدر وصیت اس پر لازم ہو گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَفِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ“ اور اس مسئلہ کے اندر ”السَّبَبُ إِدْرَاكُ الْعِدَّةِ“ سبب جو ہے وہ شمار کو پا لینا یعنی ان دنوں کے شمار کو پا لینا ہے ”فَيَتَقَدَّرُ بِقَدْرِ مَا أَدْرَكَ“ تو یہ مقدر ہو گا یعنی مقرر ہو گا اسی کے بقدر جو اس نے پا لیا، جتنا اس نے ایام کو پا لیا اسی کے بقدر اس پر قضا واجب ہو گی، اور قضا تو اس نے کی نہیں تھی مثلاً دس دن تندرست ہو گیا تھا یا دس دن مقیم ہو گیا تھا لیکن اس نے قضا نہیں کی، جب قضا نہیں کی قضا تو لازم تھی اس کے ذمے تو اسی کے بقدر اب وصیت کرنا اس پر واجب ہے بھئی۔ ”وَقَضَاءُ رَمَضَانَ إِنْ شَاءَ فَرَّقَهُ، وَإِنْ شَاءَ تَابَعَهُ“ یہاں سے یہ مسئلہ بیان کر رہے ہیں کہ ایک شخص پر رمضان کے کئی روزوں کی قضا ہے بیماری وغیرہ کی وجہ سے اس نے کئی روزے مثلاً چھوڑ دیے ہیں یا سفر کی وجہ سے، تو کیا بعد میں ان روزوں کی جب قضا کرے گا تو مسلسل روزے رکھنا ضروری ہے یا جدا جدا کر کے بھی رکھ سکتے ہیں؟ تو آپ کو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ یہ رکھنے والے کی مرضی ہے: چاہے مسلسل سارے روزے رکھ لے قضا کے اور چاہے جدا جدا کر کے رکھے ایک آج رکھ لیا ایک چند دن بعد رکھ لیا ایک پھر چند دن بعد رکھ لیا تو یہ اس کی مرضی ہے۔ لیکن بہتر یہ ہے کہ مسلسل رکھے تاکہ جلدی سے جلدی واجب جو ہے ذمے سے ساقط ہو جائے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَضَاءُ رَمَضَانَ إِنْ شَاءَ فَرَّقَهُ، وَإِنْ شَاءَ تَابَعَهُ“ اور رمضان کی قضا اگر چاہے تو جدا جدا کرے اس کو یعنی الگ الگ رکھے قضا روزوں کو ”وَإِنْ شَاءَ تَابَعَهُ“ اور اگر چاہے تو ان کو پے در پے یعنی ایک دوسرے کے پیچھے رکھے یعنی مسلسل رکھے ”لِإِطْلَاقِ النَّصِّ“ بوجہ نص کے مطلق ہونے کے۔ نص کے مطلق کیونکہ نص مطلق ہے، قرآن میں اللہ نے کیا ذکر فرمایا: ”فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ“ بھئی، تو اس کے اندر یہ قید نہیں ہے کہ وہ مسلسل ہونے چاہئیں، معلوم ہوا جدا جدا کر کے بھی رکھ سکتا ہے۔ ”لَكِنَّ الْمُسْتَحَبَّ الْمُتَابَعَةُ“ لیکن مستحب جو ہے وہ متابعت ہے یعنی پے در پے ایک دوسرے کے پیچھے مسلسل رکھنا ہے ”مُسَارَعَةً إِلَى إِسْقَاطِ الْوَاجِبِ“ جلدی کرنے کے لیے واجب کے اسقاط کی طرف تاکہ واجب کا اسقاط جلدی سے تاکہ واجب جلدی سے جلدی ذمے سے اتر جائے بھئی۔ ”وَإِنْ أَخَّرَهُ حَتَّى دَخَلَ رَمَضَانُ آخَرُ صَامَ الثَّانِيَةَ“ اور اگر اس نے مؤخر کیا قضا کو، ایک شخص پر روزوں کی قضا تھی لیکن وہ مؤخر کرتا رہا یہاں تک کہ اگلا رمضان شروع ہو گیا، تو کہتے ہیں بھئی اب اگلے رمضان کے اندر ان روزوں کی قضا نہیں کر سکتا وہ جو پچھلے رمضان کے تھے بلکہ یہ وقت اس رمضان کے روزوں کا ہے تو اس میں اسی رمضان کے روزے رکھے اور قضا کیا کرے؟ اس رمضان کے بعد کر لے بھئی۔ بھئی یہاں یاد رکھیے ”حَتَّى دَخَلَ رَمَضَانٌ آخَرُ“ پڑھیں گے بھئی، ”رَمَضَانٌ“۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ رمضان جو ہے نا رمضان، یہ چونکہ مہینے کا نام ہے، مہینے کا نام، تو لہٰذا ایک تو اس میں سبب آ گیا علمیت والا، علم ہے، اور دوسرا الف نون اس کے آخر میں الف نون زائدتان آ رہے ہیں اور دو اسبابِ منعِ صرف جمع ہو گئے تو اس یہ غیر منصرف ہوا بھئی۔ تو عام مقامات پر جب پڑھتے ہیں وہاں ”رَمَضَانَ“ پڑھتے ہیں، ”رَمَضَانُ“ بھئی، یعنی ”رَمَضَانَ“، ”رَمَضَانُ“ یہ پڑھیں گے۔ کسرہ بھی نہیں آئے گا اس پر اور تنوین بھی نہیں آئے گی۔ لیکن آپ نے کافیہ وغیرہ میں پڑھا ہے کہ وہ اسبابِ منعِ صرف جن میں ایک سبب علمیت ہو، جب جہاں دو اسبابِ منعِ صرف جمع ہو رہے ہیں اور ایک سبب کیا ہے؟ علمیت ہے ان میں سے، جیسے یہاں پر ایک سبب تو الف نون زائدتان ہے اور ایک سبب کیا ہے؟ علمیت، تو جہاں پر بھی ایک سبب علمیت ہو اس لفظ کو اگر نکرہ بنا دیا جائے تو علمیت ختم ہو جاتی ہے، اور جب علمیت ختم ہو گئی تو صرف ایک سبب رہ گیا اس میں غیر انصراف کا، اور ایک سبب کی وجہ سے تو کوئی لفظ غیر منصرف نہیں ہوتا، تو یہاں پر بھی علمیت ختم ہو گئی تو یہ منصرف ہو گیا۔ بھئی علمیت کس طرح ختم ہوئی؟ علمیت اس طرح کہ مثلاً زید ایک شخص کا نام تھا، آپ دو کا نام زید رکھتے ہیں، بس اب علمیت ختم! کیونکہ علم تو اس کو کہتے تھے جو ایک معین ذات پر دلالت کرے، جیسے ہی میں زید بولتا تھا وہ جو آپ کا ساتھی جس کا نام زید ہے فوراً آپ کے ذہن میں آ جاتا تھا، لیکن جب دو یا تین یا چار کا نام زید ہے اب جیسے ہی میں اور اکٹھا مثلاً آپ نے رکھا ساروں کا کیا نام رکھا ہے؟ زید، اب جیسے ہی میں زید کہوں گا تو کوئی ایک ذہن میں آئے گا متعین؟ نہیں، معلوم ہوا اب علمیت نہیں ہے۔ تو جب بھی دو یا زیادہ کا اکٹھا نام ایک چیز کا ہو گیا تو علمیت اس میں سے کیا ہو جاتی ہے؟ ختم ہو جاتی ہے۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح: ایک تو وہ رمضان جو موجود تھا جس کے اس نے روزے قضا کیے ہیں، ایک اگلا رمضان، اس کا نام بھی کیا اگلا مہینہ جو آ رہا ہے؟ وہ اگلے سال والا اس کا نام بھی رمضان، تو دو ہو گئے تو علمیت کیا ہو گئی؟ ختم ہو گئی، تو اب یہ کیا بن گیا؟ منصرف بن گیا۔ اسی لیے میں نے ”رَمَضَانٌ آخَرُ“ پڑھا بھئی، تنوین کے ساتھ پڑھا کیونکہ اب یہ غیر منصرف نہیں ہے۔ اور دلیل بھی ساتھ موجود ہے کہ یہ نکرہ ہو چکا ہے، اور کیا دلیل ہے؟ ”آخَرُ“ صفت اس کی نکرہ آ رہی ہے بھئی، ورنہ تو ”الْآخَرُ“ ہونا چاہیے تھا بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو اسی لیے صاحبِ ہدایہ صفت بھی اس کی نکرہ ہی لے کر آئے یہ بتلانے کے لیے کہ اب یہ علم نہیں ہے، جب علم نہیں ہے تو اس میں تو ایک سبب تھا ہی علمیت وہ ختم ہوا تو صرف الف نون زائدتان رہ گئے اب یہ غیر منصرف نہیں ہے بھئی۔ یہ معنی ”إِنْ أَخَّرَهُ حَتَّى دَخَلَ رَمَضَانٌ آخَرُ صَامَ الثَّانِيَةَ“ اور اگر اس کو اس نے مؤخر کیا یہاں تک کہ دوسرا رمضان داخل ہو گیا ”صَامَ الثَّانِيَةَ“ تو دوسرے رمضان کے روزے رکھے گا ”لِأَنَّهُ فِي وَقْتِهِ“ اس لیے کیونکہ روزہ دار جو ہے اب اس دوسرے رمضان کے وقت میں ہے تو اس کے روزے رکھے گا ”وَقَضَى الْأَوَّلَ بَعْدَهُ“ اور قضا کرے پہلے کی اس کے اس رمضان کے بعد ”لِأَنَّهُ وَقْتُ الْقَضَاءِ“ اس لیے کیونکہ وہ اس کی قضا کا وقت ہے، کب؟ دوسرے رمضان کے بعد جو ہے وہ وہ ہے قضا کا وقت، رمضان کے اندر نہیں قضا کا وقت بھئی۔ ”وَلَا فِدْيَةَ عَلَيْهِ“ اور اس شخص پر فدیہ نہیں ہے، فدیہ نہیں ہے۔ ”لِأَنَّ وُجُوبَ الْقَضَاءِ عَلَى التَّرَاخِي“ اس لیے کیونکہ ہمارے نزدیک قضا کا جو وجوب آتا ہے وہ علی التراخی ہے بھئی، کس طریقے پر ہے؟ تراخی کے طریقے پر ہے یعنی تاخیر کے ساتھ بھی ادا کر سکتا ہے یعنی قضا کو ”حَتَّى كَانَ لَهُ أَنْ يَتَطَوَّعَ“ یہاں تک کہ اس کے لیے جائز ہے نفل بھئی، یہاں تک کہ اس کے لیے نفل یعنی نفلی روزہ رکھنا بھی جائز ہے۔ ایک شخص پر قضا واجب ہے اور وہ قضا سے پہلے کیا رکھ لیتا ہے؟ نفلی روزہ، تو ہمارے نزدیک یہ جائز ہے اس لیے کیونکہ قضا کی ادائیگی فوری اس پر ہے ہی نہیں بلکہ کس طریقے پر ہے؟ تراخی کے طریقے پر ہے کہ وہ آسانی کے ساتھ جب قضا کرنا چاہے کر سکتا ہے تو اس سے پہلے نفل بھی اس کے لیے جائز ہیں بھئی۔ ”وَالْحَامِلُ وَالْمُرْضِعُ إِذَا خَافَتَا عَلَى أَنْفُسِهِمَا أَوْ وَلَدَيْهِمَا أَفْطَرَتَا وَقَضَتَا دَفْعًا لِلْحَرَجِ وَلَا كَفَّارَةَ عَلَيْهِمَا“ بھئی مسئلہ یہ کہ کوئی عورت حاملہ ہے یعنی پیٹ میں بچہ ہے، یا اسی طرح کوئی عورت جو ہے بچے کو دودھ پلانے والی ہے، اور اب ان کو اپنی جان کا خوف ہوا روزے کے اندر یا اپنے بچوں کا خوف ہوا تو اس صورت میں یہ روزہ روزہ چھوڑ دیں بھئی، کیا کر دیں؟ روزہ چھوڑ دیں، اور اگر روزہ رکھا ہوا ہے تو اس کو توڑ سکتی ہیں بھئی، جبکہ کب؟ اپنی جان کا خوف ہے یا بچے کی جان کا خوف ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْحَامِلُ وَالْمُرْضِعُ إِذَا خَافَتَا عَلَى أَنْفُسِهِمَا“ اور حاملہ اور دودھ پلانے والی جب ان دونوں کو خوف ہوا ”عَلَى أَنْفُسِهِمَا“ اپنی جان کا ”أَوْ وَلَدَيْهِمَا“ یا اپنے بچوں کی جان کا ”أَفْطَرَتَا“ تو دونوں افطار کر لیں ”وَقَضَتَا“ اور قضا کریں یہ دونوں، یعنی بعد میں کیا کریں گی؟ قضا کریں گی، تو اس وقت افطار کر لیں ”دَفْعًا لِلْحَرَجِ“ حرج کو دور کرنے کے لیے بھئی، کیونکہ حرج کو تو دور کیا گیا اور یہاں اپنی یا بچوں کی جان کا خطرہ ہے تو روزہ چھوڑ دیں اور یا اگر روزہ ہے روزے کے اندر اس طرح پیش آیا تو روزہ توڑ دیں۔ ”وَلَا كَفَّارَةَ عَلَيْهِمَا“ اور ان پر کفارہ بھی نہیں ہے ”لِأَنَّهُ إِفْطَارٌ بِعُذْرٍ“ اس لیے کیونکہ یہ روزہ توڑنا کس کی وجہ سے تھا؟ عذر کی وجہ سے تھا، ”وَلَا فِدْيَةَ عَلَيْهِمَا“ اور ان پر فدیہ نہیں ہے، صرف کیا کریں گی؟ ان روزوں کی قضا کریں گی۔ تو ”وَلَا فِدْيَةَ عَلَيْهِمَا“ اور ان پر فدیہ نہیں ہے۔ ”خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ فِيمَا إِذَا خَافَتَا عَلَى الْوَلَدِ، وَيَعْتَبِرُهُ بِالشَّيْخِ الْفَانِي“ بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے اس صورت میں کہ جب وہ اس عورت کو خوف ہے اپنے بچے کا، ”هُوَ يَعْتَبِرُهُ بِالشَّيْخِ الْفَانِي“ وہ اس کو قیاس کرتے ہیں شیخِ فانی پر۔ کس پر؟ شیخِ فانی پر۔ بھئی شیخِ فانی کا مسئلہ آگے آ رہا ہے، شیخِ فانی وہ شخص جو بہت بوڑھا ہو گیا، بہت بوڑھا ہو گیا تو اس کو شیخِ فانی کہتے ہیں کہ مرنے یعنی فنا ہونے کے یہ قریب ہے، مرنے ہی والا ہے، بہت بوڑھا ہو گیا، قوتیں ساری ختم ہو گئیں، روزہ رکھنے کی اس کے اندر اب طاقت ہی نہیں ہے بھئی، اتنا بوڑھا ہو گیا ہے۔ تو یاد رکھیے شیخِ فانی جو ہے نا شیخِ فانی، وہ چونکہ اب روزہ رکھ نہیں سکتا تو وہ ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلائے گا، ایک مسکین کو کھانا کھلائے گا یا یوں کہیں ہر روزے کا ایک فدیہ دے گا، وہی فدیہ جو صدقۂ فطر میں بیان ہوا تھا کہ ہر روزے کے بدلے کیا کر دے؟ نصف صاع گندم دے دے یا ایک صاع کھجور یا جو میں سے دے دے بھئی ایک صاع بھئی، اور چاہے تو کیا کر دے؟ ان کی قیمت دے دے، اور چاہے تو کیا کرے؟ کھانا کھلا دے دو وقت کا، لیکن کھانا دو وقت کا ہونا چاہیے تاکہ اس کی ضرورت پوری ہو جائے بھئی۔ تو یہ شیخِ فانی جو فدیہ ادا کرتا ہے تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دیکھیے جیسے شیخِ فانی جو ہے ہر روزے کے بدلے میں ایک فدیہ ادا کرتا ہے تو فرماتے ہیں کہ یہ عورت بھی یہاں پر فدیہ ادا کرے گی۔ لیکن اس صورت میں جب اپنے بچے کی ہلاکت کے خوف سے اس نے روزہ توڑا ہے یا روزہ چھوڑا ہے، جب ہاں اپنی جان کی وجہ سے اس صورت میں وہ فدیہ نہیں فدیے کے قائل نہیں ہیں بلکہ بچے کی جان کو خطرہ تھا اس لیے روزہ چھوڑ دیا یا روزہ توڑ دیا تو اس صورت میں وہ فرماتے ہیں فدیہ بھی آئے گا جیسے شیخِ فانی کے اندر فدیہ آیا تھا، تو وہ اس کو قیاس کرتے ہیں اس بچے کو شیخِ فانی پر، اور شیخِ فانی میں تو فدیہ آتا ہے لہٰذا یہاں پر بھی اس عورت پر اب کیا آ جائے گا؟ فدیہ آ جائے گا۔ بھئی کس طرح وہ قیاس کرتے ہیں اس بچے کو شیخِ فانی پر؟ وہ فرماتے ہیں، توجہ سے سننا بھئی: وہ فرماتے ہیں کہ شیخِ فانی کے مسئلے میں کیا دینا پڑتا ہے؟ روزے کے بدلے فدیہ، اس لیے کیونکہ شیخِ فانی جو ہے وہ افطار کرتا ہے، روزہ رکھتا ہے یا افطار کرتا ہے؟ افطار کرتا ہے، تو وہ ایسا افطار ہے جس کا نفع اٹھایا گیا جس کا نفع اٹھایا گیا اس ذات کی وجہ سے جس پر روزہ لازم ہی نہیں۔ ایسا افطار جس کا نفع اٹھایا جائے ایسی ذات کی وجہ سے جس پر روزہ لازم نہیں۔ تو دیکھیے شیخِ فانی بھی ایسا شخص ہے جس پر روزہ لازم نہیں، تو دیکھو یہاں افطار کا نفع اٹھایا گیا، افطار کا نفع اٹھایا گیا ایسی ذات کی وجہ سے جس پر روزہ لازم نہیں، اور جب ایسا افطار ہو جو ایسی ذات کی وجہ سے جس پر روزہ لازم نہیں تو اس میں فدیہ دینا پڑتا ہے۔ کیا کرنا پڑتا ہے؟ فدیہ دینا پڑتا ہے۔ بات بھی سمجھ میں آ رہی ہے کہ نہیں؟ کیا ہو؟ افطار کا نفع اٹھایا جائے اور کس کی وجہ سے ہو؟ ایسی ذات کی وجہ سے جس پر روزہ لازم نہیں۔ وہ فرماتے ہیں دیکھو شیخِ فانی ہے اور یہ تو بہت کمزور ہو گیا روزہ تو رکھ ہی نہیں سکتا، تو اس پر روزہ لازم ہی نہیں ہوتا تو شریعت نے اس کو کیا دی ہے؟ افطار کی رخصت دے دی ہے، تو یہ افطار کا نفع اٹھایا گیا اور کس کی وجہ سے؟ ایک ایسی ذات کی وجہ سے جس پر روزہ لازم نہیں، اور تو جب بھی ایسا افطار پایا جائے جو کہ ایسی ذات کی وجہ سے ہے جس پر روزہ لازم نہیں ہے تو اس کے اندر کیا دینا پڑتا ہے؟ فدیہ دینا پڑتا ہے، تو یہاں پر بھی جب اس عورت نے اپنے بچے کے خوف کی وجہ سے افطار کیا ہے تو اس عورت نے افطار کا نفع اٹھایا اور کس کی وجہ سے؟ ایسی ذات کی وجہ سے یعنی اس بچے کی وجہ سے جس پر روزہ لازم نہیں، تو یہ اسی کی طرح ہوا اور وہاں تو فدیہ دینا پڑتا تھا تو یہاں عورت کو بھی کیا دینا پڑے گا؟ فدیہ دینا پڑے گا۔ دلیل ان کی سمجھ میں آئی؟ تو کہتے ہیں: ”خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ فِيمَا إِذَا خَافَتَا عَلَى الْوَلَدِ“ بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے اس صورت میں کہ جب اس عورت کو خوف ہو اپنے بچے کا ”هُوَ يَعْتَبِرُهُ بِالشَّيْخِ الْفَانِي“ وہ اس کو قیاس کرتے ہیں شیخِ فانی پر۔ ”وَلَنَا أَنَّ الْفِدْيَةَ بِخِلَافِ الْقِيَاسِ فِي الشَّيْخِ الْفَانِي“ اور ہماری دلیل یہ ہے ہم کہتے ہیں کہ فدیہ جو ہے شیخِ فانی کے اندر وہ خلافِ قیاس ہے، اور جو چیز خلافِ قیاس ہوتی ہے وہ اپنے مورد پر بند رہتی ہے اس پر اور چیزوں کو قیاس نہیں کیا جا سکتا بھئی۔ شیخِ فانی کے اندر فدیے کا حکم دیا شریعت نے کہ یہ کیا کرے؟ ہر روزے کے بدلے فدیہ دے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں؟ آگے شیخِ فانی کے مسئلے میں دلیل آ رہی ہے بھئی: ”وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ“ أَيْ: ”لَا يُطِيقُونَهُ“، اور وہ لوگ جو روزے کی طاقت نہیں رکھتے تو ان پر فدیہ ہے اور فدیہ کتنا ہے؟ ”طَعَامُ مِسْكِينٍ“، ایک مسکین کا کھانا ہے ان کے ذمے بھئی۔ تو ہم کہتے ہیں کہ شیخِ فانی کے مسئلے کے اندر جو فدیہ واجب کیا گیا وہ خلافِ قیاس ہے بھئی، اس لیے کیونکہ ایک شخص ایک چیز کو ادا نہ کر سکے تو اس پر اس کا مثل واجب کیا جاتا ہے، کیا واجب کیا جاتا ہے؟ اس کا مثل واجب کیا جاتا ہے، اور یہاں پر یہ فدیہ یہ تو روزے کا مثل نہیں ہے کسی بھی لحاظ سے، معلوم ہوا یہ کیا ہے؟ خلافِ قیاس، تو یہ فدیے کا وجوب خلافِ قیاس ہوا تو لہٰذا اس پر کسی اور کو اب یہاں قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ اور نیز ہم کہتے ہیں: ایک فطر ہے بچے کی وجہ سے اور ایک فطر ہے اس شیخِ فانی کا، یہ دونوں بالکل الگ الگ چیزیں ہیں، یہ دونوں ایک جیسے بھی نہیں ہیں۔ جو شیخِ فانی تھا اس پر وجوب آیا اولاً روزے کا، کس کا وجوب آیا؟ روزے کا وجوب اس پر آیا لیکن چونکہ وہ روزہ رکھنے سے عاجز تھا اس لیے پھر وہ روزہ منتقل ہو گیا کس کی طرف؟ فدیے کی طرف، تو اب ابتداءً روزے کا وجوب اس پر آیا اور پھر یہ روزہ منتقل ہو گیا کس کی طرف؟ فدیے کی طرف منتقل ہوا، جبکہ بچہ جو ہے اس کے اوپر تو سرے سے وجوب ہے ہی نہیں بھئی، تو لہٰذا یہ فطر بھی ایک جیسے نہیں ہیں بھئی، فطر بھی ایک جیسے نہیں ہیں۔ بھئی ایک بچے کے معاملے میں بھی فطر آ رہا ہے، ماں کیا کر رہی ہے اس کی؟ یا دودھ پلانے والی کیا کر رہی ہے؟ افطار کر رہی ہے، افطار کر رہی ہے، تو ایک فطر وہ جو بچے کی وجہ سے ہے اور ایک فطر وہ ہے جو شیخِ فانی کر رہا ہے، یہ دونوں بھی ایک جیسے نہیں ہیں اس لیے کیونکہ شیخِ فانی وہاں پر اصل میں کیا آیا تھا اولاً؟ روزوں کا وجوب آیا تھا اور پھر وہ چونکہ عاجز تھا روزے کی ادائیگی سے تو پھر یہ کس کی طرف منتقل ہو گیا؟ فدیے کی طرف منتقل ہو گیا، جبکہ یہاں پر فطر جو آیا ہے بچے کی وجہ سے آیا ہے اور بچے پر تو سرے سے وجوب ہی نہیں ہے بھئی، تو وہاں وجوب تھا یہاں وجوب ہے ہی نہیں تو دونوں ایک دوسرے سے الگ الگ چیزیں ہوئیں، وہ فطر اور طرح کا ہے یہ فطر اور طرح کا ہے، لہٰذا ایک کو دوسرے پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ فرق سمجھ میں آ گیا؟ ”وَلَنَا أَنَّ الْفِدْيَةَ بِخِلَافِ الْقِيَاسِ فِي الشَّيْخِ الْفَانِي“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ فدیہ جو ہے وہ خلافِ قیاس ہے شیخِ فانی کے اندر ”وَالْفِطْرُ بِسَبَبِ الْوَلَدِ لَيْسَ فِي مَعْنَاهُ“ اور بچے کی وجہ سے جو فطر ہے وہ اس کے معنی میں نہیں ہے یعنی اس کی طرح نہیں ہے ”لِأَنَّهُ عَاجِزٌ بَعْدَ الْوُجُوبِ“ اس لیے کیونکہ شیخِ فانی تو عاجز ہے وجوب کے بعد، کس کے بعد؟ وجوب کے بعد، اولاً تو اس پر بھی کیا آیا؟ روزے کا وجوب آیا لیکن پھر اس کے بعد وہ عاجز ہے ادا نہیں کر سکتا تو اب فدیے کی طرف منتقل ہو گا ”وَالْوَلَدُ لَا وُجُوبَ عَلَيْهِ أَصْلًا“ جبکہ بچہ جو ہے اس پر تو سرے سے وجوب ہے ہی نہیں بھئی، تو لہٰذا ایک فطر ہوا بچے کی وجہ سے اور ایک فطر ہوا اس شیخِ فانی کا تو ان دونوں میں فرق ہے بھئی، فرق سمجھ میں آ گیا؟ خلاصہ اس مسئلے کا سن لیجیے دوبارہ بھئی: خلاصہ یہ ہوا کہ اگر حاملہ یا مرضعہ جو ہے وہ اپنے بچے کی جان کے خوف کی وجہ سے وہ افطار کر لیتی ہیں روزہ نہیں رکھتیں یا روزہ توڑ دیتی ہیں تو اس صورت میں ہمارے نزدیک اس حاملہ یا مرضعہ پر صرف روزے کی قضا آئے گی، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان پر قضا بھی آئے گی اور فدیہ بھی آئے گا، وہ اس کو قیاس کرتے ہیں شیخِ فانی پر، کس پر؟ شیخِ فانی پر قیاس کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں جیسے شیخِ فانی نے افطار کا فائدہ اٹھایا، افطار ایک فائدہ ہے نا روزے کے اندر تو مشقت ہے تو افطار کیا ہے؟ فائدہ، تو وہ فرماتے ہیں جیسے شیخِ فانی نے افطار کا فائدہ اٹھایا اور یہ فائدہ ایک ایسی ذات کی وجہ سے تھا جس پر روزہ لازم نہیں، شیخِ فانی پر تو روزہ لازم نہیں، تو شیخِ فانی نے افطار کا فائدہ اٹھایا ایسی ذات کی وجہ سے یعنی اپنی ذات کی وجہ سے جس پر روزہ لازم نہیں، اسی طرح اس عورت نے افطار کا فائدہ اٹھایا ہے ایسی ذات یعنی وہ بچے کی وجہ سے، ایسی ذات کی وجہ سے جس پر روزہ لازم نہیں، تو یہ دونوں افطار ایک جیسے ہوئے، جب ایک جیسے ہوئے تو ایک کو قیاس کیا جائے گا دوسرے پر، اور دوسرا یعنی شیخِ فانی کے اندر تو شریعت نے فدیہ دینے کا حکم دیا ہے ہر روزے کے بدلے تو یہاں پر بھی ہر روزے کے بدلے اس عورت کو فدیہ دینا پڑے گا۔ تو ہم جواب دیتے ہیں کہ شیخِ فانی کے بارے میں جو فدیہ ثابت ہے وہ خلافِ قیاس نص سے ثابت ہے، جب وہ خود خلافِ قیاس ہے تو اس پر کسی اور چیز کو قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ خلافِ قیاس اس طرح ہے کہ وہاں پر روزے کے بدلے میں فدیہ دینے کا حکم دیا گیا ہے حالانکہ کسی چیز کا جب ضمان آتا ہے تو اس کا مثل آیا کرتا ہے اور یہ فدیہ تو کسی بھی لحاظ سے روزے کا مثل نہیں، یعنی روزے کے بدلے مال آ رہا ہے، روزے اور مال کا تو کوئی تعلق ہی نہیں جڑتا آپس میں، تو یہ جو مال آیا اور کس کے بدلے آیا؟ روزے کے بدلے، یہ خلافِ قیاس ہے اور جو چیز خلافِ قیاس ہو وہ اپنے مورد پر بند رہتی ہے اس پر اور چیزوں کو قیاس نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا اس افطار کو اس شیخِ فانی والے افطار پر قیاس نہیں کر سکتے۔ اور نیز ہم کہتے ہیں کہ یہ دونوں افطار ایک جیسے بھی نہیں ہیں بلکہ ایک افطار ہے شیخِ فانی کا اور ایک افطار ہے اس عورت کا اپنے بچے کی وجہ سے، دونوں میں فرق ہے۔ تو ایک فطر وہ جو بچے کی وجہ سے ہے اور ایک فطر وہ ہے جو شیخِ فانی کی وجہ سے ہے، یہ دونوں ایک جیسے نہیں ہیں تو دونوں فطر الگ الگ ہیں بھئی، لہٰذا اس وجہ سے بھی ایک کو دوسرے پر قیاس نہیں کیا جا سکتا، اور الگ الگ اس طرح ہے کہ وہ فطر جو شیخِ فانی کی وجہ سے آیا یعنی یوں کہیں کہ یہاں جو فطر جس ذات کی وجہ سے آیا ہے یعنی شیخِ فانی، اس پر اولاً روزے کا وجوب آیا تھا لیکن چونکہ وہ روزہ رکھنے سے عاجز تھا اس لیے وہ وجوب روزے کا کس کی طرف منتقل ہو گیا؟ فدیے اور افطار کی طرف منتقل ہو گیا، جبکہ دوسری طرف جو ہے افطار جو آیا ہے وہ بچے کی وجہ سے آیا ہے اور بچہ ایسی ذات ہے جس پر روزہ لازم ہی نہیں، روزہ اس پر واجب ہی نہیں ہے، تو ایک افطار ہے اس ذات کی وجہ سے جس پر اولاً وجوب آیا اور ایک افطار ہے اس ذات کی وجہ سے جس پر سرے سے وجوب ہے ہی نہیں، تو معلوم ہوا یہ دونوں فطر بھی کیا ہیں؟ ایک دوسرے سے الگ الگ ہیں، تو لہٰذا ایک کو دوسرے پر قیاس نہیں کیا جا سکتا بھئی۔ اب شیخِ فانی کے بارے میں بتلا رہے ہیں: ”وَالشَّيْخُ الْفَانِي الَّذِي لَا يَقْدِرُ عَلَى الصِّيَامِ يُفْطِرُ وَيُطْعِمُ لِكُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا كَمَا يُطْعَمُ فِي الْكَفَّارَاتِ“ اور شیخِ فانی جو ہے وہ شخص ہے جو قدرت نہیں رکھتا روزوں کی، ”يُفْطِرُ“ تو وہ افطار کرے گا یعنی روزے چھوڑ روزے چھوڑ دے گا ”وَيُطْعِمُ لِكُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا“ اور کھانا کھلائے گا ہر دن کا ایک مسکین کو ”كَمَا يُطْعَمُ فِي الْكَفَّارَاتِ“ جیسے کہ کھلایا جاتا ہے کفارات کے اندر۔ ”وَالْأَصْلُ فِيهِ قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ﴾“ اور اصل اس کے اندر اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: ”وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ“، ”وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ“ أَيْ: ”لَا يُطِيقُونَهُ“، اور وہ لوگ جو اس کی روزے کی طاقت نہیں رکھتے تو ان پر فدیہ ہے ان کے ذمے فدیہ ہے اور کتنا ہے؟ ”طَعَامُ مِسْكِينٍ“ ایک مسکین کا کھانا ہے بھئی، ایک مسکین کا کھانا۔ اور ”وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ“ أَيْ: ”لَا يُطِيقُونَهُ“، یہاں ”لَا“ مقدر ہے بھئی، اور وہ لوگ جو روزے کی طاقت نہیں رکھتے ان پر فدیہ ہے یعنی ایک مسکین کا کھانا بھئی۔ تو یہاں اب یہاں ”يُطِيقُونَهُ“ آیا اور مراد کیا ہے؟ ”لَا يُطِيقُونَهُ“، اور کلامِ عرب میں ایسا ہوتا رہتا ہے کہ حرفِ نفی کو فعل سے حذف کر لیا جاتا ہے یعنی صرف لفظوں میں حذف کر لیا جاتا ہے مراد ہوتا ہے، ارادہ اس کا ہوتا ہے لیکن صرف لفظوں سے کیا کر لیا جاتا ہے؟ حرفِ نفی کو حذف کر لیا جاتا ہے اور یہ کلامِ عرب میں عام استعمال اس طرح ہوتا رہتا ہے۔ اسی لیے صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ”قِيلَ مَعْنَاهُ لَا يُطِيقُونَهُ“ کہ کہا گیا ہے کہ اس کا معنی جو ہے ”لَا يُطِيقُونَهُ“ ہے یعنی یہاں پر ”لَا“ مقدر ہے بھئی ”لَا“ مقدر ہے۔ اور نیز صاحبِ ہدایہ نے ”قِيلَ“ کے ذریعے ذکر کیا، کہا گیا ہے کہ اس ”يُطِيقُونَهُ“ کا معنی ہے ”لَا يُطِيقُونَهُ“۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اس لیے کیونکہ اس آیت کی اور بھی تفاسیر ذکر کی گئی ہیں بھئی، اور بعضوں نے کہا کہ یہ ابتدائے اسلام میں حکم تھا اور ”يُطِيقُونَهُ“ سے ”يُطِيقُونَهُ“ ہی مراد ہے، وہ لوگ جو طاقت رکھتے ہیں روزے کی وہ کیا کر سکتے ہیں؟ فدیہ دے سکتے ہیں ایک مسکین کا کھانا، تو ابتدائے اسلام میں اختیار تھا کہ چاہے فدیہ دیں اور چاہے روزہ رکھیں بھئی، تو بعض نے یہ تفسیر کی ہے اور بعضوں نے کہا ”يُطِيقُونَهُ“ کس معنی میں ہے؟ ”لَا يُطِيقُونَهُ“ کے معنی میں ہے بھئی۔ ”وَلَوْ قَدَرَ عَلَى الصَّوْمِ يَبْطُلُ حُكْمُ الْفِدَاءِ“ اور اگر یہ شخص جو ہے یہ جو شیخِ فانی ہے روزے پر قادر ہو گیا بعد میں، فدیہ وغیرہ دے دیا بعد میں پھر اللہ نے اس کو قوت دے دی اور یہ شخص روزہ رکھنے پر قدرت اس کو حاصل ہو گئی تو فدیے کا حکم باطل ہو جائے گا۔ یعنی وہ جو فدیہ اس نے اب تک ادا کیا تھا وہ باطل ہو جائے گا، اب اس کے ذمے قضا لازم ہو جائے گی کیونکہ اب روزے پر قادر ہے تو قضا کرنا پڑیں گے جتنے روزے چھوڑے تھے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور وہ فدیہ؟ ہاں اس کا ثواب اس کو الگ ملے گا، وہ ویسے نفلی صدقہ اس کی طرف سے ہو جائے گا۔ تو یہ معنی ”وَلَوْ قَدَرَ عَلَى الصَّوْمِ“ اور اگر یہ روزے پر قادر ہو گیا تو ”يَبْطُلُ حُكْمُ الْفِدَاءِ“ تو فدیے کا حکم باطل ہو جائے گا ”لِأَنَّ شَرْطَ الْخَلِيفَةِ اسْتِمْرَارُ الْعَجْزِ“ اس لیے کیونکہ خلیفہ کی شرط جو ہے وہ عجز کا استمرار ہے۔ بھئی روزے کا خلیفہ کیا ہے شیخِ فانی کے لیے؟ فدیہ ہے، اور یہ فدیے کے لیے شرط ہے ”اسْتِمْرَارُ الْعَجْزِ“ کہ عاجزی مستمراً یعنی مسلسل رہے، عاجزی کیا ہے؟ عاجزی مسلسل رہنی چاہیے اس کو یہ پھر روزے پر اس کی قدرت ہو ہی نہ، اور یہاں پر تو وہ قادر ہو گیا تو استمرارِ عجز پایا گیا؟ نہیں، استمرارِ عجز تو شرط تھا فدیہ کے لیے تو جب استمرارِ عجز نہیں تو فدیہ بھی نہیں بلکہ کیا کرنا پڑے گی اب روزوں کی؟ باقاعدہ قضا کرنا پڑے گی بھئی۔ ”وَمَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ قَضَاءُ رَمَضَانَ فَأَوْصَى بِهِ أَطْعَمَ عَنْهُ وَلِيُّهُ لِكُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ شَعِيرٍ“ بھئی یاد رکھیے، اگر کسی کا انتقال ہوتا ہے اور اس کے ذمے کچھ قضا روزے رمضان کے باقی ہیں تو اس پر لازم ہے کہ وہ وصیت کرے کہ میری مجھ پر اتنے روزوں کی قضا باقی ہے، میری میری طرف سے ان روزوں کا فدیہ ادا کر دیا جائے۔ اور پھر اس کے بعد اس کے جو ولی ہے وہ اس کی طرف سے ان روزوں کا فدیہ ادا کر دے گا اس کے مال میں سے، مرنے والے کے مال میں سے وہ فدیہ ادا کر دے گا۔ اور یہ فدیہ یاد رکھیے وصیت کی طرح ہے بھئی، وصیت کی طرح، جیسے وصیت جو ہے وہ صرف مال کے تیسرے حصے تک نافذ ہوتی ہے بھئی، سارے میں نافذ نہیں، باقی دو حصے کس کے ہوتے ہیں؟ ورثاء کے۔ بھئی مالِ وراثت میں آپ پڑھ چکے ہوں گے کہ کسی شخص کا جب انتقال ہوتا ہے سب سے پہلے اس کے مال میں سے اس کے کفن دفن کا بندوبست کیا جاتا ہے، تو کفن دفن کا سارا بندوبست ہو گیا، اس کے بعد پھر جو اس پر قرضے کوئی ہوں تو وہ قرضے ادا کیے جائیں گے چاہے سارا مال ہی کیوں نہ ختم ہو جائے، پھر تیسرا نمبر وصیت کا ہے اور وصیت اب جو مال باقی بچا ہوا ہے کفن دفن بھی ہو چکا قرضے بھی ادا ہو چکے اب جو مال بچا ہوا ہے اس کے تیسرے حصے میں وصیت نافذ ہو گی اس سے زیادہ میں نہیں، باقی دو حصے وارثوں کے ہیں، کس کے ہیں؟ وارثوں کے ہیں۔ ہاں اگر وارث اجازت دے دیتے ہیں پھر چاہے تیسرے سے زیادہ کے اندر یا سارے مال میں بھی وصیت نافذ کی جا سکتی ہے لیکن ان کی اجازت کے بغیر صرف تیسرے حصے تک ہی وصیت نافذ ہو گی بھئی۔ تو یہاں پر بھی اب اگر کوئی شخص اس کے ذمے روزے باقی ہیں تو اس پر لازم ہے کہ وصیت کر کے جائے اور یہ وصیت کتنے کے اندر نافذ ہو گی؟ تیسرے حصے کے اندر بھئی، یہ تیسرے حصے کے اندر نافذ ہو گی۔ اور وصیت اس نے کی ہے تو وارثوں پر لازم ہے کہ اس کی طرف سے یہ فدیہ ادا کریں تیسرے حصے تک، اگر اس نے وصیت کی ہے۔ اگر اس نے وصیت نہیں کی تو وارثوں پر لازم نہیں، ہاں اگر دے دیں تو اچھی بات ہے بھئی تاکہ سمجھ میں آیا، دے دیں تو اچھی بات ہے لیکن ان پر لازم نہیں ہے کہنے کا مطلب یہ ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو اب یہی مسئلہ بیان کر رہے ہیں کہ ”وَمَنْ مَاتَ“ اور جس شخص کا انتقال ہو گیا ”وَعَلَيْهِ قَضَاءُ رَمَضَانَ“ اور اس پر رمضان کی قضا باقی تھی ”فَأَوْصَى بِهِ“ تو اس نے اس کی وصیت کی ”أَطْعَمَ عَنْهُ وَلِيُّهُ“ تو اس مرنے والے کا جو ولی ہے وہ کھلائے گا اس مرنے والے کی طرف سے ”لِكُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا“ ہر روز ایک مسکین کو ”نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ شَعِيرٍ“ نصف صاع گندم میں سے یا ایک صاع تمر یا جو میں سے بھئی۔ میں نے بتلایا تھا کہ روزے کا فدیہ وہی ہے جو صدقۂ فطر میں آپ پڑھ چکے ہیں بھئی، جو صدقۂ فطر ہے وہی ہے بھئی۔ تو اب اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں کہ کیوں بھئی روزے اس کے ذمے باقی تھے تو پھر اب اس کی طرف سے فدیہ کیوں دیا جائے گا روزے کے بدلے؟ مال کیوں دیا جائے گا؟ کھانا کیوں کھلایا جائے گا؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ عَجَزَ عَنِ الْأَدَاءِ فِي آخِرِ عُمُرِهِ فَصَارَ كَالشَّيْخِ الْفَانِي“، اس لیے کیونکہ یہ شخص جو مرنے والا تھا یہ عاجز آ گیا ان اس اس قضا کو ادا کرنے سے عاجز آ گیا ”فِي آخِرِ عُمُرِهِ“ اپنے عمر کے آخر میں ”فَصَارَ كَالشَّيْخِ الْفَانِي“ تو یہ بھی کس کی طرح ہو گیا؟ شیخِ فانی کی طرح، وہ شخص جو بہت بوڑھا ہو چکا ہے مرنے کے قریب ہے اس کی طرح ہو گیا، اور شیخِ فانی کو تو شریعت نے اجازت دی ہے کہ وہ ہر روزے کے بدلے فدیہ دے بھئی، تو لہٰذا یہ بھی اسی کی طرح ہوا تو اس کا بھی وہی حکم ہے۔ ”ثُمَّ لَا بُدَّ مِنَ الْإِيصَاءِ عِنْدَنَا خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ“ میں نے آپ کو بتلا دیا ہمارے نزدیک وصیت کرنا ضروری ہے پھر ہی وارثوں پر لازم ہو گا ویسے وارثوں پر لازم نہیں۔ یہی بات بیان کر رہے ہیں: ”ثُمَّ لَا بُدَّ مِنَ الْإِيصَاءِ عِنْدَنَا“ پھر ضروری ہے وصیت کرنا ہمارے نزدیک ”خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ“ بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے، وہ فرماتے ہیں نہیں، وصیت کرنا ضروری نہیں، جب وارثوں کو پتہ ہے اس کے ذمے اتنے روزے باقی ہیں تو ان پر لازم ہے وہ کیا کریں؟ ان روزوں کا فدیہ دیں اس کی طرف سے۔ ”وَعَلَى هَذَا الزَّكَاةُ“ اور اسی اختلاف پر زکوٰۃ بھی ہے یعنی اس میں بھی یہی اختلاف ہے۔ ہمارے نزدیک اگر کسی کے ذمے زکوٰۃ باقی تھی تو اس نے اگر وصیت کی ہے تو وارثوں پر لازم ہے وہ زکوٰۃ ادا کرنا اور اگر اس نے وصیت نہیں کی تو وارثوں پر لازم بھی نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَعَلَى هَذَا الزَّكَاةُ“ اور اسی اختلاف پر زکوٰۃ بھی ہے، ”هُوَ يَعْتَبِرُهُ بِدُيُونِ الْعِبَادِ“ امام شافعی رحمہ اللہ جو ہے اس اس کو قیاس کرتے ہیں ”بِدُيُونِ الْعِبَادِ“ بندوں کے قرضوں پر، کس پر؟ بندوں کے جو قرضے ہیں ان پر قیاس کرتے ہیں۔ کس کو؟ یہ جو اس کے ذمے فدیہ ہے یا اس کے ذمے جو زکوٰۃ ہے تو اس کو بندوں کے قرضے پر قیاس کرتے ہیں ”إِذْ كُلُّ ذَلِكَ حَقٌّ مَالِيٌّ يَجْرِي فِيهِ النِّيَابَةُ“ اس لیے کیونکہ ان میں سے ہر ایک مالی حق ہے، مال والا حق ہے جس میں کیا ہے؟ مال ہے، جیسے بندوں کا قرضہ وہ بھی کیا ہے؟ مال، یہاں پر روزے کا فدیہ بھی کیا ہے؟ مال ہے، اور زکوٰۃ میں بھی کیا دینا ہے؟ وہ مال ہے، تو یہ سب مالی حقوق ہیں ”يَجْرِي فِيهِ النِّيَابَةُ“ جن کے اندر نیابت یعنی نائب ہونا جاری ہوتا ہے، جن میں نائب ہونا جاری ہوتا ہے۔ بھئی دیکھیے ایک شخص پر قرضے ہیں وہ ادا نہیں کر سکا زندگی میں تو کیا مرنے کے بعد اس کے وارثوں پر وہ قرضے ادا کرنا ضروری ہیں یا ضروری نہیں؟ وہ تو ضروری ہیں بھئی، وہ تو ادا کرتے ہیں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو وہ حتیٰ کہ چاہے اس کے اندر سارا مال ہی اس کا کیوں نہ ختم ہو جائے، پہلا پہلی چیز کیا ہے؟ کفن دفن، اس کے بعد کیا ہے؟ قرضوں کا ادا کرنا ہے، تو جیسے قرضوں کے اندر نیابت یعنی نائب ہونا جاری ہوتا ہے وہ جو ولی ہوتا ہے وہ میت کا نائب ہو کر اس کی طرف سے وہ قرضے ادا کرتا ہے تو اسی طرح زکوٰۃ اور فدیہ جو ہیں وہ بھی مالی حقوق ہیں تو ان کے اندر بھی نیابت جاری ہو گی اور وہ ولی اس کا نائب ہو کر اس کی طرف سے ان کو ادا کرے گا، چاہے وصیت کی ہو چاہے وصیت نہ کی ہو، جیسے قرضوں میں چاہے وصیت کی ہے چاہے نہیں کی وہ تو نائب ہو گا اور اس کو ادا کرنے پڑیں گے، یہاں بھی اسی طرح ہو گا۔ تو یہ معنی ہے ”هُوَ يَعْتَبِرُهُ بِدُيُونِ الْعِبَادِ“ تو امام شافعی رحمہ اللہ اس کو قیاس کرتے ہیں بندوں کے دیون پر ”إِذْ كُلُّ ذَلِكَ حَقٌّ مَالِيٌّ يَجْرِي فِيهِ النِّيَابَةُ“ اس لیے کیونکہ ان میں سے ہر ایک جو ہے وہ ایسا مالی حق ہے ”يَجْرِي فِيهِ النِّيَابَةُ“ جس میں نائب ہونا جاری ہوتا ہے۔ ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے، ہمارے نزدیک کیا ضروری تھا؟ وصیت، وصیت کی ہے تو وارثوں پر لازم ہے وصیت نہیں کی تو لازم نہیں۔ تو ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّهُ عِبَادَةٌ وَلَا بُدَّ فِيهِ مِنَ الِاخْتِيَارِ“ کہ یہ جو زکوٰۃ ہے اور یہ جو فدیہ ہے ان میں سے ہر ایک عبادت ہے ”وَلَا بُدَّ فِيهِ مِنَ الِاخْتِيَارِ“ اور اس کے اندر اختیار کا ہونا ضروری ہے۔ عبادت تو وہی ہے جو اپنے اختیار سے انسان کرتا ہے، بغیر اختیار کے تو عبادت نہیں، اختیار ہو گا اختیار یعنی باقاعدہ اس میں ارادہ کرے، ارادہ کرے گا تو عبادت ہو گی، یہ نیت اور ارادہ نہیں تو عبادت بھی نہیں، اور نیت اختیار کے ساتھ ہے یا نہیں بھئی؟ جب نیت کر رہا ہے کیا کر رہا ہے؟ نیت کر رہا ہے تو گویا اپنے اختیار کے ساتھ عبادت کو ادا کر رہا ہے، تو عبادت میں اختیار یعنی نیت کا ہونا ضروری ہے۔ تو ہمارے نزدیک ان میں سے ہر ایک عبادت ہے ”وَلَا بُدَّ فِيهِ مِنَ الِاخْتِيَارِ“ اور اس کے اندر جو ہے ضروری ہے اختیار کا ہونا ”وَذَلِكَ فِي الْإِيصَاءِ دُونَ الْوِرَاثَةِ“ اور یہ وصیت کرنے کی صورت میں تو ہے وراثت کی صورت میں نہیں۔ یہ اختیار، وصیت کرے گا تو گویا وہ اپنے اختیار سے کیا کر رہا ہے؟ عبادت کو ادا کر رہا ہے، اور وصیت نہیں کی صرف کہا جائے کہ بطورِ وراثت کے جو اس کے وارث ہیں ان کو کیا کرنا پڑے گا؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، وراثت وراثت تو ایک جبری چیز ہے اور یہ چیزیں ہیں عبادت، عبادت اور ان میں اختیار ضروری جبکہ وراثت میں اختیار نہیں چلتا، وراثت جبری چیز ہے۔ حتیٰ کہ اگر ایک شخص کہتا ہے جیسے آپ آج کل پڑھتے رہتے ہیں: میں اپنے فلاں بیٹے کو جائیداد سے عاق کرتا ہوں۔ نہیں بھئی، تم کون ہو عاق کرنے والے! اللہ نے اس کو تمہارا وارث بنایا ہے، وہ جتنا مرضی نافرمان ہو کچھ ہو مال اس کو ملنا ہی ملنا ہے ہر حال میں۔ سمجھ میں آیا؟ تو اگرچہ وہ ملکی قانون کے ذریعے اس بیچارے کو مال سے محروم تو کر دیتا ہے لیکن اپنے لیے مرنے والا جو ہے وہ اپنے لیے جہنم کی آگ تیار کر لیتا ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ عاق کرنا شرعاً درست نہیں ہے اور نہ وہ شرعاً عاق ہوتا ہے بھئی۔ تو دیکھیے اس نے عاق کیا پھر بھی شرعاً وہ وہ مالک بن رہا ہے مرنے کے بعد مال کا، معلوم ہوا وراثت میں اختیار نہیں چلتا وہ جبری چیز ہے، وہ وارث بنے گا ہر حال میں۔ یا اسی طرح وارث کہتا ہے: میں نے یہ میں اس مال کا وارث نہیں میں نہیں لیتا، میں اس مال کا وارث نہیں، نہیں بھئی تم کون ہوتے انکار کرنے والے! تمہیں اللہ نے اس مال کا مالک بنایا ہے اب تم ہی اس کے مالک ہو۔ چنانچہ اگر وہ مال وصول نہیں کرتا قاضی جبراً وہ مال اٹھوا کر اس کے گھر پھینکوا سکتا ہے، اس کے گھر پہنچا سکتا ہے، قاضی اس کے گھر پہنچا دے پھر آگے وہ اس کو چاہے فقراء میں بانٹ دے یا جو بھی کرے وہ اس کی مرضی ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو معلوم ہوا وراثت کیا ہے؟ جبری، اور یہ جو فدیہ اور زکوٰۃ یہ کیا ہیں؟ یہ عبادت ہیں ان میں کیا ضروری؟ اختیار، تو وراثت تو جبری چیز ہے لہٰذا اختیار کے لیے ضروری ہے اب وہ کیا کرے؟ وصیت کرے تاکہ پتہ چلے کہ یہ اپنے اختیار سے کیا کر رہا ہے؟ اس عبادت کو کر رہا ہے، کون؟ وہ مرنے والا مرنے والا۔ یہ معنی کہ اس میں اختیار ضروری ہے ”وَذَلِكَ فِي الْإِيصَاءِ“ اور اختیار تو وصیت کرنے کی صورت میں ہے ”دُونَ الْوِرَاثَةِ“ نہ کہ وراثت کی صورت میں ”لِأَنَّهَا جَبْرِيَّةٌ“ اس لیے کیونکہ وراثت تو جبری ہے ”ثُمَّ هُوَ تَبَرُّعٌ ابْتِدَاءً حَتَّى يُعْتَبَرَ مِنَ الثُّلُثِ“۔ یہ آگے آپ کو بتلا رہے ہیں وہ جو میں نے آپ کو بتلایا کہ ہمارے نزدیک یہ جو فدیہ ہے یا زکوٰۃ ہے اس کی جب اس شخص نے وصیت کر دی تو وارثوں پر لازم ہے کہ وہ اس کی طرف سے ادا کریں لیکن کتنے مال میں سے؟ ثلثِ مال میں سے، ثلثِ مال میں سے۔ بھئی اس کی کیا وجہ؟ یہ ثلثِ مال میں کیوں جاری ہوتی ہے؟ پورے میں کیوں نہیں جاری ہوتی؟ کہتے ہیں بھئی اس لیے کیونکہ یہ ابتداءً تبرع ہے۔ ابتداءً کیا ہے؟ تبرع، ”ثُمَّ هُوَ تَبَرُّعٌ ابْتِدَاءً“ ابتداءً یہ تبرع ہے۔ تبرع اس کو کہتے ہیں ایک چیز آپ پر لازم نہیں ہے آپ اپنی طرف سے اس کو دے رہے ہیں، مثلاً فقیر کو آپ صدقہ دیتے ہیں ویسے ہی خیرات وغیرہ دیتے ہیں، یہ آپ پر لازم تھی خیرات؟ لازم نہیں تھی، اپنی طرف سے دے رہے ہیں اس کو کہتے ہیں تبرع۔ جیسے نفل ہیں، نفل آپ نفلی روزہ رکھتے ہیں یہ روزہ آپ پر کوئی لازم تھا؟ نہیں، تو یہ کیا ہے؟ تبرع ہے، یہ کیا ہے؟ تو جو چیز لازم نہ ہو اس کو ادا کرنا یہ تبرع کہلاتا ہے بھئی، یہ ہے تبرع بھئی۔ اب ہم کہتے ہیں کہ یہ وصیت کرنا یہ جو ہے ابتداءً تبرع ہے، ابتداءً تبرع ہے، اس لیے کیونکہ اب یہ شخص مر گیا بھئی، جب یہ شخص مر گیا تو دنیا کے افعال جو اس پر تھے وہ ساقط ہو گئے، اس کے دنیا کے افعال جو اس پر تھے ساقط ہو گئے، اور روزہ اور روزے کی قضا یہ کس میں سے ہے؟ دنیا کے افعال میں سے، تو جب یہ مر گیا تو یہ افعال اس سے کیا ہو گئے؟ ساقط ہو گئے، تو لہٰذا جب ساقط ہو گئے، جب قضا وغیرہ اس پر سے ساقط ہو گئے تو وہ اس پر فدیہ وغیرہ بھی نہیں، اس پر تو معلوم ہوا یہ جو فدیہ وغیرہ دیا جائے گا مرنے کے بعد جب اس نے وصیت کی ہے یہ ابتداءً کیا ہے؟ تبرع ہے کیونکہ وہ چیزیں عمل اس پر سے کیا ہو چکے؟ وہ تو ساقط ہو چکے، یہ تو مر چکا ہے یہ تو مکلف ہی نہیں رہا اب کسی چیز کا بھئی! جب مکلف نہیں رہا وہ وہ چیزیں اس پر سے ساقط ہو گئیں تو لہٰذا یہ وصیت کرنا یہ بھی ابتداءً تبرع ہو گا۔ ہاں دنیا یہ دنیا کے اعتبار سے تبرع ہے، آخرت کے اعتبار سے یہ پھر جو فدیہ دیا جائے گا یہ اس واجب کے قائم مقام ہو جائے گا یعنی اس روزے کے قائم مقام ہو جائے گا، تو دنیاوی اعتبار سے یعنی یوں کہیں ابتداءً یہ تبرع ہے اور انتہاءً اس واجب کے قائم مقام ہے۔ ابتداءً کیا ہے؟ تبرع ہے کیونکہ اب وہ مکلف نہ رہا، اور انتہاءً کیا ہو گا؟ اس واجب کے قائم مقام ہو گا، مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ یہ معنی ”ثُمَّ هُوَ تَبَرُّعٌ ابْتِدَاءً حَتَّى يُعْتَبَرَ مِنَ الثُّلُثِ“ پھر یہ وصیت کرنا تبرع ہے با اعتبار ابتداء کے ”حَتَّى يُعْتَبَرَ مِنَ الثُّلُثِ“ یہاں یہاں تک کہ اس کا اعتبار کیا جائے گا ثلثِ مال میں سے، تہائی مال میں سے۔ یہ ابتداءً تبرع ہے اسی لیے تیسرے مال کے تیسرے حصے تک یہ وصیت جاری ہو گی۔ ابتداءً کیا ہے؟ وصیت میں بھی کیا کرتے ہیں، انسان مرنے لگا ہے وہ کہتا ہے میرے سارا مال مدرسے کو دے دینا یا میرا سارا مال زید کو دے دینا تو یہ کیا کر رہا ہے؟ یہ تبرع ہے یا نہیں؟ تو یہ تبرع ہے، تو جیسے یہ تبرع ہے جو اس نے وصیت کی سارے مال کی اور تبرع جو ہے وہ کتنے حصے تک جاری ہوتا ہے مرنے کے بعد؟ ثلثِ مال میں جاری ہوتا ہے باقی کس کا حق ہے؟ وارثوں کا حق ہے، تو یہاں پر بھی جو فدیہ اور زکوٰۃ کی اس نے وصیت کی ہے یہ ابتداءً تبرع ہے جب تبرع ہے تو پھر کتنے مال تک جاری ہو گی؟ ثلثِ مال تک صرف تیسرے حصے تک۔ اب وجہ سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ معنی ”ثُمَّ هُوَ تَبَرُّعٌ ابْتِدَاءً حَتَّى يُعْتَبَرَ مِنَ الثُّلُثِ“ پھر یہ وصیت کرنا تبرع ہے با اعتبار ابتداء کے یہاں تک کہ اعتبار کیا جائے گا اس کے ثلثِ مال میں سے۔ ”وَالصَّلَاةُ كَالصَّوْمِ بِاسْتِحْسَانِ الْمَشَايِخِ“ اور نماز جو ہے وہ روزے کی طرح ہے مشائخ کے یعنی فقہاء کے استحسان کی وجہ سے یعنی استحساناً فقہاء نے نماز کو بھی روزے کی طرح قرار دیا ہے اور روزے کے اندر جو ہے وہ فدیہ فدیے کی وصیت کر جائے تو وہ اس واجب کے قائم مقام ہو جائے گا تو اسی طرح اگر کسی شخص کے ذمے نمازیں ہوں تو اس پر بھی واجب ہے کہ وہ کیا کر دے؟ وصیت کر دے تو اس کی طرف سے ہر نماز کے بدلے جو ہے وہ ایک ایک فدیہ دے دیا جائے گا یعنی ایک نصف صاع گندم یا ایک صاع جو۔ تو کہا کہ نماز جو ہے روزے کی طرح ہے فقہاء کے استحسان کی وجہ سے، اس لیے کیونکہ قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ نماز کے اندر مال کافی نہیں ہونا چاہیے۔ جیسے زندگی کے اندر، زندگی کے اندر نماز کے بدلے فدیہ کوئی نہیں دے سکتا بلکہ ہر حال میں کیا کرنا پڑے گی؟ نماز کی قضا کرنا پڑے گی جس قدر طاقت ہو اسی کے بقدر: کھڑے ہو کر، نہیں تو نہیں کھڑا ہو سکتا تو بیٹھ کر، بیٹھ کر نہیں ہو سکتا تو لیٹ کر، جس طرح بھی ہو نماز کے اندر نماز ہی کی صورت میں اس کی قضا کرنا پڑے گی مال کی صورت میں اس کی قضا نہیں کر سکتا۔ تو جب زندگی کے اندر نماز کے اندر مال کو ادا نہیں کر سکتا تو اسی طرح مرنے کے بعد بھی مال کو نماز کے بارے نماز کے سلسلے میں ادا نہیں کیا جا سکتا۔ یہ تقاضا ہے کس کا؟ قیاس کا، تو قیاس یہ تقاضا کرتا ہے جیسے زندگی میں نماز کے بدلے میں مال ادا نہیں کیا جا سکتا اسی طرح مرنے کے بعد بھی نماز کے بدلے میں مال ادا نہیں کیا جا سکتا لیکن استحساناً مشائخ فرماتے ہیں فقہاء فرماتے ہیں کہ اس شخص کو وصیت کر دینی چاہیے اور وجہ اس کی یہ کہ وہ فرماتے ہیں کہ جیسے نماز بدنی عبادت ہے اسی طرح روزہ بھی بدنی عبادت ہے یعنی اس کا تعلق مال سے نہیں ہے بدن سے ہے، نماز میں کیا کرنا پڑتا ہے کوئی مال خرچ کرنا پڑتا ہے یا افعال کرنے پڑتے ہیں بدن کے ذریعے؟ بدن کے ذریعے کچھ افعال کرنا پڑتے ہیں، اسی طرح روزے میں بھی کوئی مال نہیں خرچ کرنا پڑتا بلکہ یہ بدن کا ایک عمل ہے کہ کھانے پینے سے رکا رہے، تو دونوں بدنی عبادتیں ہیں تو جب ایک بدنی عبادت کے اندر فدیے کا وجوب آ رہا ہے تو نماز بھی اسی کی طرح ہے لہٰذا اس میں بھی کیا کر دے؟ وصیت کر دے، امید ہے اللہ تعالیٰ قبول فرما لیں گے۔ امید ہے اللہ تعالیٰ قبول فرما لیں گے۔ یہ معنی ”وَالصَّلَاةُ كَالصَّوْمِ بِاسْتِحْسَانِ الْمَشَايِخِ“ اور نماز بھی روزے کی طرح ہے فقہاء کے استحسان کی وجہ سے ”وَكُلُّ صَلَاةٍ تُعْتَبَرُ بِصَوْمِ يَوْمٍ هُوَ الصَّحِيحُ“ اور ہر نماز جو ہے اس کو قیاس کیا جائے گا ایک دن کے روزے پر، ”هُوَ الصَّحِيحُ“ یہی قول صحیح ہے۔ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ سارے دن کی نمازیں وہ ایک روزے کی طرح ہیں لہٰذا دن میں پانچ فرض ہیں اور ایک وتر ہے وہ واجب ہیں تو ان چھ نمازوں کا صدقہ ایک روزے کے برابر ہے اور ایک روزے میں جو دیا جاتا تھا ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے تو ان چھ نمازوں میں بھی کیا کیا جائے گا؟ ایک مسکین کو کھانا کھلایا جائے گا یعنی ایک فدیہ ہو گا۔ لیکن صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلا دیا کہ صحیح قول یہ ہے کہ سارے دن کی نمازیں ایک روزے کی طرح نہیں ہیں بلکہ ہر نماز کیا ہے؟ ایک روزے کی طرح ہے کیونکہ ہر نماز ایک الگ عبادت ہے جیسے پورا روزہ ایک عبادت ہے، اور ایک دن میں کتنی نمازیں ہیں؟ پانچ نمازیں بھی اور ایک وتر بھی کیونکہ وتر بھی واجب ہیں تو گویا ایک دن کی نمازوں کا کے میں چھ مسکینوں کو کھانا کھلانا پڑے گا اس کی وصیت وہ کرے۔ یہ معنی ہے ”وَكُلُّ صَلَاةٍ تُعْتَبَرُ بِصَوْمِ يَوْمٍ“ اور ہر نماز جو ہے اس کو قیاس کیا جائے گا ایک دن کے روزے پر ”هُوَ الصَّحِيحُ“ یہی قول صحیح ہے۔ ”وَلَا يَصُومُ عَنْهُ الْوَلِيُّ وَلَا يُصَلِّي“ اور روزہ نہیں رکھ سکتا مرنے والے کی طرف سے اس کا ولی ”وَلَا يُصَلِّي“ اور نہ نماز پڑھ سکتا ہے۔ ولی یہ نہیں کر سکتا اس کے ذمے روزے باقی ہیں تو وہ اس کی طرف سے ولی روزے رکھنا شروع کر دے، نہیں بھئی یہ اس کی طرف سے نہیں ہو سکتے، اور یا اس کے ذمے نمازیں باقی ہیں تو ولی اس کی طرف سے نمازیں پڑھنا شروع کر دیں یہ بھی نہیں، اس سے وہ ادا نہیں ہوں گے بھئی۔ یہ معنی ”وَلَا يَصُومُ عَنْهُ الْوَلِيُّ وَلَا يُصَلِّي“ اور روزہ نہیں رکھ سکتا اس مرنے والے کی طرف سے اس کا ولی ”وَلَا يُصَلِّي“ اور نہ نماز پڑھ سکتا ہے، ”لِقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَصُومُ أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ، وَلَا يُصَلِّي أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ“ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں کہ روزہ نہیں رکھ سکتا کوئی ایک بھی کسی ایک کی طرف سے بھی اور اسی طرح کسی کی طرف سے بھی کوئی دوسرا نماز نہیں پڑھ سکتا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو نماز جس پر واجب ہے وہی پڑھے گا تو اس کے ذمے سے ساقط ہو گی، کوئی دوسرا پڑھے تو اس کے ذمے سے ساقط نہیں ہو گی۔ ہاں یہ کر سکتا ہے: نفلی روزہ رکھتا ہے یا نوافل پڑھتا ہے ولی، اس کا ثواب اس کو بخش سکتا ہے بھئی، کیا کر سکتا ہے؟ ہاں لیکن اس کے ذمے اگر قضا روزے باقی ہیں یا قضا نمازیں باقی تھیں مرنے والے کی طرف سے، ان کی جگہ وہ قضا روزے یا قضا نمازیں وہ نہیں ادا کر سکتا یہ بھئی۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔