قَالَ: ”وَيَنْبَغِي لِلنَّاسِ أَنْ يَلْتَمِسُوا الْهِلَالَ فِي الْيَوْمِ التَّاسِعِ وَالْعِشْرِينَ مِنْ شَعْبَانَ، فَإِنْ رَأَوْهُ صَامُوا، وَإِنْ غُمَّ عَلَيْهِمْ أَكْمَلُوا عِدَّةَ شَعْبَانَ ثَلَاثِينَ يَوْمًا ثُمَّ صَامُوا“، لِقَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمُ الْهِلَالُ فَأَكْمِلُوا عِدَّةَ شَعْبَانَ ثَلَاثِينَ يَوْمًا“. قَالَ: ”وَيَنْبَغِي لِلنَّاسِ“، صاحب قدوری فرماتے ہیں: ”وَيَنْبَغِي لِلنَّاسِ“ اور مناسب ہے لوگوں کے لیے ”أَنْ يَلْتَمِسُوا الْهِلَالَ“ کہ وہ ہلال کو تلاش کریں یعنی چاند دیکھیں ”فِي الْيَوْمِ التَّاسِعِ وَالْعِشْرِينَ مِنْ شَعْبَانَ“ شعبان کے انتیسویں دن بھئی۔ شعبان کے انتیسویں دن یعنی شعبان کے انتیس دن جب پورے ہو جائیں اور سورج غروب ہو جائے تو اس وقت رمضان کے چاند کو دیکھیں۔ ”فَإِنْ رَأَوْهُ صَامُوا“ پس اگر اس کو دیکھ لیں تو ”صَامُوا“ روزہ رکھیں یعنی اگلے دن پھر رمضان کا روزہ رکھیں۔ ”وَإِنْ غُمَّ عَلَيْهِمْ“ اور اگر چاند ان پر پوشیدہ رہے یعنی چاند ان کو دکھائی نہ دے ”أَكْمَلُوا عِدَّةَ شَعْبَانَ ثَلَاثِينَ يَوْمًا“ تو پورا کر لیں شعبان کے شمار کو تیس دن بھئی۔ شعبان کا شمار تیس دن کا پورا کر لیں ”ثُمَّ صَامُوا“ پھر اس کے بعد روزہ رکھیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ انتیس شعبان کو کیا کرنا چاہیے؟ چاند دیکھنا چاہیے اور چاند اگر دکھائی دے تو پھر اگلے دن سے رمضان کے روزے رکھنا شروع کیے جائیں گے اور اگر رمضان کا چاند نہیں دکھائی دیا تو پھر شعبان کے تیس دن پورے کر لیے جائیں گے، پھر اس کے بعد رمضان کے روزے رکھے جائیں گے۔ ”لِقَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ“ بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے کہ آپ نے فرمایا: ”صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ“ کہ تم روزہ رکھو چاند کو دیکھ کر ”وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ“ اور فطر کرو چاند کو دیکھ کر۔ فطر کرو چاند کو دیکھ کر، کون سا فطر مراد ہے؟ عید الفطر والا کہ وہ فطر کا زمانہ یعنی شروع ہو جائے گا اس کا حساب کب کرنا؟ جب عید کا چاند دکھائی دے۔ یہ معنی ہے ”صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ“ کہ تم روزہ رکھو چاند کو دیکھ کر ”وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ“ اور تم لوگ فطر کرو چاند کو دیکھ کر ”فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمُ الْهِلَالُ“، یہ ابھی حدیث چل رہی ہے بھئی، ”فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمُ الْهِلَالُ“ پس چاند اگر تمہیں دکھائی نہ دے، چاند تم پر پوشیدہ رہے ”فَأَكْمِلُوا عِدَّةَ شَعْبَانَ ثَلَاثِينَ يَوْمًا“ تو پورا کر لو شعبان کے شمار کو تیس دن۔ جی، یہاں تک ہے حدیث بھئی ”ثَلَاثِينَ يَوْمًا“، اگر چاند تمہیں دکھائی نہ دے تو پھر شعبان کے تیس دن پورے کر لو۔ آگے عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الْأَصْلَ بَقَاءُ الشَّهْرِ“ کہتے ہیں کہ اصل جو ہے وہ شہر کا باقی رہنا ہے۔ مہینے کا باقی رہنا ہے ”فَلَا يُنْقَلُ عَنْهُ إِلَّا بِدَلِيلٍ“ لہٰذا منتقل نہیں ہوا جائے گا اس مہینے سے ”إِلَّا بِدَلِيلٍ“ مگر کس کے ساتھ؟ دلیل کے ساتھ ”وَلَمْ يُوجَدْ“ اور دلیل تو نہیں پائی گئی بھئی۔ بھئی، شعبان کا مہینہ چل رہا ہے اور انتیسویں کو چاند دیکھنے کی کوشش کی گئی، چاند نظر نہیں آیا تو اگلا دن شعبان ہی کا شمار کیا جائے گا کیونکہ اس سے ماقبل میں کون سا مہینہ چل رہا تھا؟ شعبان کا چل رہا تھا تو شعبان کا مہینہ تو ہے یقینی اور آگے رمضان، اگلا دن رمضان کا ہونے میں شک ہے، شک ہے تو صرف شک کی بنا پر اس کو رمضان کا دن شمار نہیں کریں گے اور شعبان کے مہینے سے رمضان کی طرف منتقل نہیں ہوں گے، شعبان سے رمضان کی طرف منتقل نہیں ہوں گے مگر کسی دلیل کی وجہ سے اور وہ دلیل کیا تھی؟ کہ چاند نظر آجائے اور چاند تو نظر آیا نہیں، دلیل تو پائی نہیں گئی لہٰذا اس مہینے سے منتقل بھی نہیں ہوا جائے گا۔ یہ معنی ہے ”وَلِأَنَّ الْأَصْلَ بَقَاءُ الشَّهْرِ“ اور اس لیے کہ اصل جو ہے وہ مہینے کا باقی رہنا ہے ”فَلَا يُنْقَلُ عَنْهُ إِلَّا بِدَلِيلٍ“ تو اس سے منتقل نہیں ہوا جائے گا مگر کسی دلیل کی وجہ سے ”وَلَمْ يُوجَدْ“ اور حال یہ ہے کہ دلیل تو نہیں پائی گئی۔ ”وَلَا يَصُومُونَ يَوْمَ الشَّكِّ إِلَّا تَطَوُّعًا“ اور روزہ نہیں رکھیں گے یوم الشک میں ”إِلَّا تَطَوُّعًا“ مگر نفلی، مگر نفلی ہی۔ یوم الشک والے دن نفلی روزہ ہی رکھا جائے گا بھئی۔ بھئی، یوم الشک جو ہے یہ جو شعبان کا تیسواں دن ہے۔ انتیس شعبان کو مثلاً چاند دیکھنے کی کوشش کی گئی لیکن چاند نظر نہیں آیا اس دن کیونکہ بادل وغیرہ موجود تھے۔ تو اب ہو سکتا ہے رمضان کا چاند نکل آیا ہو لیکن بادلوں کی وجہ سے دکھائی نہ دیا ہو تو اگلے دن میں شک آگیا کہ یہ پتہ نہیں رمضان کا ہے یا یہ دن شعبان کا ہے۔ تو اس دن کیا کیا جائے؟ کیا روزہ رکھا جائے گا یا روزہ نہیں رکھا جائے گا؟ تو صاحبِ ہدایہ نے آپ کو مسئلہ بتلا دیا یہ صاحبِ قدوری نے، وہ فرماتے ہیں: ”لَا يَصُومُونَ يَوْمَ الشَّكِّ إِلَّا تَطَوُّعًا“ کہ روزہ نہیں رکھیں گے یوم الشک کا مگر نفلی ہی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یوم الشک کون سا دن؟ جو شعبان کا تیسواں دن بن رہا ہے اور اس سے ماقبل دن جو تھا انتیس کو شام کو مطلع ابر آلود تھا یعنی بادل چھائے ہوئے تھے اس وجہ سے چاند دکھائی نہ دیا اور اگر بادل نہیں ہیں پھر تو کسی قسم کا شک نہیں ہے بھئی۔ تو بادل ہوں چاند دکھائی نہیں دیا تو یہ یوم الشک ہوا تو اس دن رمضان کا روزہ نہیں رکھا جائے گا بلکہ نفلی روزہ رکھا جائے گا۔ دلیل اس کی ذکر کر رہے ہیں: ”لِقَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ“ بوجہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کے، آپ نے فرمایا، دیکھیے آپ نے فرمایا: ”لَا يُصَامُ الْيَوْمُ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ أَنَّهُ مِنْ رَمَضَانَ إِلَّا تَطَوُّعًا“ کہ روزہ نہیں رکھا جائے گا اس روز کہ جس کے بارے میں شک ہو کہ یہ رمضان میں سے ہے، یعنی جس دن کا رمضان میں سے ہونا مشکوک ہو، اس کے بارے میں شک ہو اس میں روزہ نہیں رکھا جائے گا ”إِلَّا تَطَوُّعًا“ مگر نفلی ہی یعنی نفلی روزہ رکھا جا سکتا ہے۔ یہاں تک مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ ”وَهَذِهِ الْمَسْأَلَةُ عَلَى وُجُوهٍ“ اور یہ مسئلہ جو ہے کئی قسم پر ہے یعنی کئی صورتوں پر ہے۔ ”أَحَدُهَا“ ان صورتوں میں سے ایک صورت یہ ہے ”أَنْ يَنْوِيَ صَوْمَ رَمَضَانَ“ کہ وہ شخص رمضان کے روزے کی نیت کرتا ہے۔ وہ آدمی جو یوم الشک والے دن روزہ رکھتا ہے وہ کس روزے کی نیت کرتا ہے؟ رمضان۔ بھئی دیکھیے، اب اس میں کئی صورتیں ذکر کریں گے، یہ مسئلہ اگلے ایک ڈیڑھ صفحے تک جا رہا ہے، اس میں ساری مختلف صورتیں ذکر کریں گے کہ اگر یہ نیت کی تو پھر کیا حکم ہے، اگر یہ نیت کی مثلاً رمضان کے روزے کی نیت کر لیتا ہے یوم الشک والے دن یا نفلی روزے کی نیت کر لیتا ہے یا واجب آخر کی نیت کر لیتا ہے یا اس کی نیت دو چیزوں کے درمیان دائر ہوتی ہے، سمجھ میں آیا؟ تو مختلف صورتیں وہ ذکر کریں گے۔ تو پہلی صورت ذکر کر رہے ہیں: ”أَحَدُهَا“ ان صورتوں میں سے ایک صورت یہ ہے ”أَنْ يَنْوِيَ صَوْمَ رَمَضَانَ“ کہ وہ رمضان کے روزے کی نیت کر لیتا ہے، کس دن؟ یوم الشک میں بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَهُوَ مَكْرُوهٌ“ اور یہ مکروہ ہے ”لِمَا رَوَيْنَا“ اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے روایت کر دی، کہ حدیث میں کیا آیا تھا کہ روزہ نہیں رکھا جائے گا اس دن میں جس میں جس کے رمضان میں سے ہونے کے بارے میں شک ہو مگر نفلی ہی، تو اس وجہ سے یہ مکروہ ہے۔ ”وَلِأَنَّهُ تَشَبُّهٌ بِأَهْلِ الْكِتَابِ“ اور دوسری عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: اس لیے کیونکہ اس میں اہل کتاب کے ساتھ مشابہت ہے بھئی، کس کے ساتھ؟ اہل کتاب کے ساتھ مشابہت ہے ”لِأَنَّهُمْ زَادُوا فِي مُدَّةِ صَوْمِهِمْ“ اس لیے کیونکہ وہ جو ہے وہ بڑھاتے تھے اپنے روزوں کی مدت میں۔ وہ کبھی کبھی کیا کر دیتے تھے؟ روزوں کی مدت کے اندر زیادتی کر دیتے تھے، روزوں کی مدت بڑھا دیتے تھے۔ تو یہاں بھی اگر یوم الشک میں ایک دن پہلے رمضان کا روزہ رکھے گا تو اس شخص نے کیا کیا ہے؟ دراصل رمضان کے روزے بڑھا دیے بھئی، تو اس وجہ سے ان کے ساتھ مشابہت آئے گی لازمی تو مکروہ ہے۔ ”ثُمَّ إِنْ ظَهَرَ أَنَّ الْيَوْمَ مِنْ رَمَضَانَ“، اچھا بھئی، اس نے نیت کیا کی؟ رمضان کے روزے کی نیت کی ہے۔ اب اگلے دن دونوں احتمال ہیں کہ اگر یہ بات ظاہر ہو گئی کہ اگلا دن رمضان کا ہے تو اس نے نیت بھی کس روزے کی کی تھی؟ رمضان کے روزے کی نیت کی تھی تو رمضان کا روزہ ادا ہو جائے گا اور اگر اگلے دن ظاہر ہو گئی یہ بات پتہ چل گیا کہ یہ شعبان ہی کا تیسواں دن ہے تو پھر تو پھر یہ نفلی روزہ بن جائے گا کیونکہ رمضان کا تو ہو نہیں سکتا کیونکہ رمضان تو ابھی شروع ہوا نہیں، پتہ چل گیا کہ یہ کون سا دن ہے؟ شعبان کا تیسواں دن ہے۔ مسئلہ سمجھ میں آگیا؟ تو کہتے ہیں: ”ثُمَّ إِنْ ظَهَرَ أَنَّ الْيَوْمَ مِنْ رَمَضَانَ يُجْزِيهِ“ پھر اگر یہ بات ظاہر ہو گئی کہ وہ دن جو ہے رمضان میں سے ہے ”يُجْزِيهِ“ تو یہ روزہ اس شخص کے لیے کافی ہو جائے گا ”لِأَنَّهُ شَهِدَ الشَّهْرَ وَصَامَهُ“ اس لیے کیونکہ اس نے اس مہینے کو اس مہینے کو پا لیا بھئی، کیونکہ اس نے اس مہینے کو پا لیا ”وَصَامَهُ“ اور اس کا روزہ رکھ لیا۔ ترجمہ سمجھ میں آرہا ہے بھئی؟ یا یوں کہیں: ”لِأَنَّهُ شَهِدَ الشَّهْرَ“ اس لیے کیونکہ وہ اس مہینے میں حاضر ہے ”وَصَامَهُ“ اور اس مہینے یعنی رمضان، وہ یعنی وہ رمضان کے مہینے میں حاضر بھی ہے اور اس کا روزہ بھی رکھ لیا ہے۔ ”وَإِنْ ظَهَرَ أَنَّهُ مِنْ شَعْبَانَ كَانَ تَطَوُّعًا“ اور اگر اس یہ بات ظاہر ہو گئی کہ یہ دن شعبان ہی میں سے ہے ”كَانَ تَطَوُّعًا“ تو اس کا یہ روزہ نفلی ہو جائے گا۔ ”وَإِنْ أَفْطَرَ لَمْ يَقْضِهِ“ اور اگر اس نے روزہ توڑ دیا، ”وَإِنْ أَفْطَرَ“ اور اگر اس نے روزہ توڑ دیا ”لَمْ يَقْضِهِ“ تو یہ اس کی قضا نہیں کرے گا یعنی اس روزے کی قضا اس پر لازم نہیں۔ بھئی آپ جانتے ہیں نفل جب تک شروع نہیں کیا وہ نفل ہے اور جب ایک مرتبہ نفل شروع کر دیے تو وہ نفل نہیں رہتے بلکہ واجب بن جاتے ہیں اس کو پورا کرنا پڑے گا۔ لہٰذا ایک شخص نفلی روزہ رکھتا ہے، روزہ رکھنے سے پہلے تو اس کو اختیار ہے رکھے یا نہ رکھے لیکن جب رکھ لیا تو اب اس کو پورا کرنا پڑے گا لہٰذا اگر درمیان میں توڑ دیتا ہے تو پھر اس کی قضا کرنا پڑے گی۔ لیکن یہاں پر جو اس نے روزہ رکھا اور پھر پتہ چلا یہ شعبان میں سے ہے تو وہ نفلی ہوگا اور اگر اس روزے کو اس نے توڑ دیا تو پھر اس کی قضا اس پر نہیں، قضا نہیں اس پر۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ فِي مَعْنَى الْمَظْنُونِ“ اس لیے کیونکہ یہ مظنون کے معنی میں ہے، یہ شخص کس معنی میں ہے؟ یہ روزہ کس معنی میں ہے؟ مظنون روزے کے معنی میں ہے۔ بھئی، جیسے وہ نماز میں آپ نے نماز کے مسئلے میں گزرا تھا کہ ایک شخص کیا کرتا ہے مثلاً وہ ایک نماز پڑھ چکا ہے ظہر کی اور پھر اس کا یہ خیال ہوا کہ شاید میں نے ابھی ظہر کی نماز نہیں پڑھی حالانکہ وہ پڑھ چکا ہے، اس نے پھر نماز پڑھنا شروع کر دی اور پھر درمیان میں اس کو یاد آیا کہ بھئی میں تو نماز پڑھ چکا ہوں۔ تو جب ایک دفعہ نماز پڑھ چکا ہے تو یہ دوسری نماز یہ تو اب ظہر کے فرض نہیں ہو سکتے ظاہر سی بات ہے، یہ کیا ہوئے؟ نفل ہوئے تو نفل ہوئے، اور نفل جب ایک دفعہ شروع کر دیے جائیں وہ واجب ہو جاتے ہیں لیکن یہ جو چار رکعت پھر اس نے پڑھنا شروع کیے ہیں یہ کیا اس نے نفل کی نیت سے شروع کیے تھے یا اس نے وہ فرض کی نیت سے شروع کیے تھے؟ فرض، تو لہٰذا یہ نفل جو تھے یہ ہیں مظنون بھئی، یہ نفل کیا ہیں؟ مظنون ہیں یعنی ان کے بارے میں اس نے کیا یہ گمان کیا کہ شاید یہ فرض میرے ذمے باقی ہے۔ اور نفل مظنون کے اندر جب ان کو توڑ دیا جائے ان کی قضا نہیں آتی بھئی کیونکہ اس نے ارادے کے ساتھ نفل نہیں شروع کیے بلکہ اس کا ارادہ تو کیا تھا؟ فرض پڑھنا۔ تو یہاں پر بھی اس نے جو روزہ رکھا، روزہ رکھا وہ مظنون کے معنی میں ہو گیا وہ روزہ بھئی۔ کس معنی میں؟ مظنون۔ اس نے تو بطورِ احتیاط کے رکھا تھا نا کہ شاید کون سا دن نکل آئے؟ رمضان کا دن نکل آئے تو میرا فرض روزہ ادا ہو جائے گا تو لہٰذا اس کا یہ روزہ مظنون کے معنی میں ہوا اور مظنون جو نفل ہیں یا روزے ہیں ان کی تو قضا نہیں لہٰذا اس کی بھی قضا نہیں ہوگی، مسئلہ سمجھ میں آگیا؟ یہ معنی ہے ”وَإِنْ أَفْطَرَ لَمْ يَقْضِهِ“ اور اگر اس نے روزہ توڑ دیا تو اس کی قضا نہیں کرے گا ”لِأَنَّهُ فِي مَعْنَى الْمَظْنُونِ“ اس لیے کیونکہ اس کا یہ روزہ مظنون کے معنی میں ہے۔ ”وَالثَّانِي أَنْ يَنْوِيَ عَنْ وَاجِبٍ آخَرَ“ اور دوسری صورت یہ ہے کہ وہ واجب آخر کی نیت کرتا ہے۔ بھئی، یوم الشک والے دن روزہ رکھا ایک شخص نے، پہلی صورت کیا تھی کہ اس نے کون سا روزے کی نیت کی ہے؟ رمضان کے روزے کی نیت کی ہے۔ دوسری صورت کہ ”أَنْ يَنْوِيَ عَنْ وَاجِبٍ آخَرَ“ وہ نیت کرتا ہے کسی دوسرے واجب کی مثلاً اس کے ذمے پچھلے سال کا ایک قضا روزہ باقی ہے رمضان کا، وہ اس یوم الشک والے دن اس واجب کی نیت کر لیتا ہے کہ وہ بھی میرے ذمے واجب ہے چلو آج میں وہ روزہ رکھ لیتا ہوں، یا اس کے ذمے کفارے کا روزہ تھا اس کی وہ نیت کر کے وہ روزہ رکھ لیتا ہے، یا اس نے منت کا ایک روزہ مانا ہوا تھا وہ تو آج سوچتا ہے کہ میں وہ روزہ رکھ لیتا ہوں، تو یہ سارے کیا ہیں؟ واجب ہیں، البتہ رمضان کے علاوہ ہیں۔ تو یہ اس واجب آخر کی نیت کر لیتا ہے تو کہتے ہیں: ”وَهُوَ مَكْرُوهٌ أَيْضًا“ تو یہ بھی مکروہ ہے ”لِمَا رَوَيْنَا“ اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے روایت کر دی، کہ حدیث میں کیا آیا تھا کہ روزہ نہیں رکھا جائے گا جس دن کے بارے میں رمضان کے ہونے کا شک ہو اس میں روزہ نہیں رکھا جائے گا ”إِلَّا تَطَوُّعًا“ مگر صرف کون سا؟ نفلی روزہ ہی، تو صرف نفلی کی اس میں اجازت دی گئی۔ تو لہٰذا یہ بھی مکروہ ہوگا۔ ”إِلَّا أَنَّ هَذَا دُونَ الْأَوَّلِ فِي الْكَرَاهَةِ“ مگر یہ کہ یہ والا روزہ جو ہے، یہ واجب آخر والا روزہ، یہ پہلے روزے سے کم درجے کا ہے ”فِي الْكَرَاهَةِ“ کراہت کے اندر۔ ایک تو یہ پہلی صورت کیا تھی کس روزے کی نیت کی؟ رمضان کے روزے کی نیت کی اس میں بھی وہ روزہ مکروہ اور اس صورت میں واجب آخر کی نیت کرتا ہے یہ بھی مکروہ، لیکن اس روزے کی کراہت اس روزے سے کم ہے۔ یہ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ یہاں اہل کتاب سے مشابہت نہیں۔ وہاں تو دو وجہیں تھیں، ایک تو دلیل کیا ذکر کی؟ وہ حدیث بھی آگئی اور دوسری وجہ کیا تھی کراہت کی؟ کہ اہل کتاب سے مشابہت لازم آتی تھی کہ وہ اپنے روزوں کے دنوں میں اضافہ کر دیا کرتے تھے، اور تو یہاں پر تو وہ واجب آخر کی نیت کر رہا ہے رمضان کی نیت تو وہ کر ہی نہیں رہا، رمضان کے روزوں میں تو وہ اضافہ نہیں کر رہا، پہلی صورت میں وہ کیا کر رہا تھا؟ رمضان ہی کے روزوں میں اضافہ کر رہا تھا رمضان کے روزے کی اس نے نیت کی تھی اور یہاں اس نے رمضان کی نیت نہیں کی تو اہل کتاب کے ساتھ مشابہت نہیں، جب مشابہت نہیں تو کراہت تو پھر بھی البتہ آئے گی اس حدیث کی وجہ سے، لیکن چونکہ مشابہت نہیں ہے لہٰذا اس درجے کی کراہت نہیں کچھ کم درجے کی ہوگی۔ ”ثُمَّ إِنْ ظَهَرَ أَنَّهُ مِنْ رَمَضَانَ“، اب بتلا رہے ہیں کہ اگر پھر پتہ چلتا ہے یہ رمضان کا روزہ ہے یا شعبان ہی کا ہے تو کیا صورت ہوگی؟ کہتے ہیں: ”ثُمَّ إِنْ ظَهَرَ أَنَّهُ مِنْ رَمَضَانَ يُجْزِيهِ لِوُجُودِ أَصْلِ النِّيَّةِ“ پھر اگر یہ بات ظاہر ہو گئی کہ یہ روزہ رمضان میں سے ہے، یہ دن رمضان میں سے ہے ”يُجْزِيهِ“ تو یہ روزہ اس کے لیے کافی ہو جائے گا ”لِوُجُودِ أَصْلِ النِّيَّةِ“ اصل نیت کے پائے جانے کی وجہ سے، کیونکہ آپ پڑھ چکے رمضان کے روزے میں اصل نیت بھی کافی ہے یعنی روزے کی بس نیت ہونی چاہیے، اور یہاں بھی واجب آخر کی جب نیت کی تو اصل روزے کی بھی نیت پائی گئی اور ساتھ جہت بھی جہت بھی آگئی، جہت بھی آگئی تو جہت تو ہو جائے گی لغو اور اصل نیت فائدہ دے گی اور کون سا روزہ ہوگا؟ رمضان ہی کا ہوگا۔ یہ معنی ہے کہ ”يُجْزِيهِ“ یہ اس کے لیے کافی ہو جائے گا ”لِوُجُودِ أَصْلِ النِّيَّةِ“ اصل نیت کے پائے جانے کی وجہ سے۔ ”وَإِنْ ظَهَرَ أَنَّهُ مِنْ شَعْبَانَ فَقَدْ قِيلَ يَكُونُ تَطَوُّعًا لِأَنَّهُ مَنْهِيٌّ عَنْهُ فَلَا يَتَأَدَّى بِهِ الْوَاجِبُ“، اب اگر یہ پتہ چل گیا کہ یہ تو شعبان ہی کا دن ہے رمضان کا نہیں ہے، تو کہتے ہیں: اس صورت میں پھر دو قول ہیں فقہاء کے۔ بعض فرماتے ہیں کہ پھر بھی وہ واجب آخر نہیں ہوگا ادا بلکہ نفلی روزہ ہوگا، کون سا ہوگا؟ نفلی روزہ ہوگا، اس لیے کیونکہ حدیث میں منع کیا گیا ہے تو نفلی روزے کے علاوہ باقی روزے کیا ہوئے؟ منہی عنہ ہوئے۔ باقی روزے کیا ہوئے؟ منہی عنہ ہوئے یعنی ان سے روکا گیا ہے، صرف کس کی اجازت دی گئی ہے؟ نفلی روزے کی، تو باقی روزے ہوئے منہی عنہ اور ان کو ادا کرے گا اس واجب آخر کو تو وہ اس نہی کی وجہ سے وہ کامل ادا نہیں ہوں گے بلکہ ناقص اور مکروہ ادا ہوں گے نا۔ تو جب مکروہ ادا ہوا تو کامل ادا ہوا یا ناقص ادا ہوا؟ ناقص ادا ہوا، اور وہ جو واجب آخر تھا وہ تو واجب ہوا تھا کامل، تو اس ناقص ادائیگی سے وہ واجب ادا نہیں ہوگا بھئی، فرق سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ تو ایک قول ہے۔ اور دوسرا قول ہے کہ وہ واجب آخر جو ہے اس سے یہ روزہ کافی ہو جائے گا یعنی وہ اس کے ذمے سے ساقط ہو جائے گا بھئی، دیکھیے تفصیل کتاب میں آ رہی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ ظَهَرَ أَنَّهُ مِنْ شَعْبَانَ فَقَدْ قِيلَ يَكُونُ تَطَوُّعًا“ اور اگر یہ بات ظاہر ہو گئی کہ یہ روزہ شعبان میں سے ہی ہے ”فَقَدْ قِيلَ يَكُونُ تَطَوُّعًا“ تو تحقیق کہا گیا ہے کہ یہ بھی نفلی ہی ہوگا ”لِأَنَّهُ“ اس لیے کیونکہ یہ روزہ منہی عنہ ہے ”فَلَا يَتَأَدَّى بِهِ الْوَاجِبُ“ تو اس سے وہ واجب ادا نہیں ہوگا کیونکہ وہ واجب کامل تھا اور یہ ادا کیسی ہوگی؟ ناقص ہوگی نہی کی وجہ سے۔ ”وَقِيلَ يُجْزِيهِ عَنِ الَّذِي نَوَاهُ“ اور کہا گیا ہے: یہ روزہ اس کے لیے کافی ہو جائے گا اس روزے سے جس کی اس نے نیت کی ہے یعنی واجب آخر سے، ”وَهُوَ الْأَصَحُّ“ اور یہی قول زیادہ صحیح ہے بھئی۔ ”لِأَنَّ الْمَنْهِيَّ عَنْهُ وَهُوَ التَّقَدُّمُ عَلَى رَمَضَانَ بِصَوْمِ رَمَضَانَ لَا يَقُومُ بِكُلِّ صَوْمٍ“. بھئی دیکھیے، صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ یہ دوسرا قول زیادہ صحیح ہے، جس میں کیا کہا گیا؟ کہ یوم الشک والے دن اس نے کون سا روزہ رکھا؟ واجب آخر کا، اور پھر پتہ چلا کہ یہ دن بھی کون سا ہے؟ شعبان کا ہے، تو اس صورت میں واجب آخر ہی ادا ہو جائے گا، یہ قول زیادہ صحیح ہے اور اس کی وجہ ذکر کریں گے صاحبِ ہدایہ۔ وجہ بتلائیں گے کہ بھئی، جو حدیث جو تھی نا حدیث، اس کے اندر اگرچہ رمضان کا ذکر نہیں، حدیث میں تو کیا آیا تھا کہ وہ دن جس کے رمضان میں سے ہونے میں شک ہو اس دن روزہ نہ رکھا جائے مگر کون سا؟ نفلی، تو اس حدیث کو فقہاء نے محمول کیا ہے رمضان کے روزے پر، کہ معلوم ہوا حضور علیہ السلام ہر روزے سے منع نہیں فرما رہے بلکہ یہاں حدیث میں مراد کون سا روزہ ہے؟ رمضان کا روزہ مراد ہے، اگرچہ لفظوں میں رمضان تو ذکر نہیں لیکن مراد کون سا روزہ ہے؟ رمضان کا روزہ ہے، اس سے حضور علیہ السلام منع فرما رہے ہیں۔ اور رمضان کے روزے سے جب منع فرما رہے ہیں تو معلوم ہوا یہ واجب آخر سے تو منع نہیں فرمایا گیا، جب واجب آخر سے نہیں منع فرمایا گیا تو وہ ادا ہو جائے گا، وہ کیا ہو جائے گا؟ ادا ہو جائے گا۔ البتہ چونکہ حدیث کے الفاظ تو عام ہیں اگرچہ فقہاء نے اس کو کس پر محمول کیا ہے؟ رمضان کے روزے پر، لیکن لفظ تو عام ہیں کہ وہ اس دن روزہ نہ رکھا جائے جس کے بارے میں رمضان میں سے ہونے میں شک ہو، اس دن روزہ نہ رکھا جائے، الفاظ عام ہیں اگرچہ فقہاء نے کس پر محمول کیا ہے؟ رمضان، لیکن بہرحال صورت تو نہی کی ہے، صورت تو الفاظ تو عام ہیں بھئی لہٰذا اس وجہ سے وہ اس کو مکروہ قرار دیا جائے گا اور اس سے یہ بھی پتہ چل گیا کہ معلوم ہوا واجب آخر کے جو مکروہ قرار دیا گیا ہے وہ مکروہ تحریمی نہیں بلکہ وہاں کراہتِ تنزیہی ہوگی، وہاں کیا ہوگی؟ کراہتِ تنزیہی ہوگی کیونکہ صورۃً تو نہی پائی جا رہی ہے، حضور علیہ السلام منع فرما رہے ہیں یا نہیں؟ حدیث کے الفاظ بھی کیسے ہیں؟ عام ہیں، رمضان کا اس میں ذکر نہیں، اس میں مطلقاً رمضان سے پہلے روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے سوائے نفلی روزے کے، اس کی اجازت دی گئی ہے باقی سے منع کیا، تو فقہاء نے اس کو کس پر محمول کیا؟ رمضان کے روزے پر، لیکن الفاظ کیا ہیں؟ الفاظ عام ہیں، وہ تو ہر قسم کے روزے کو شامل ہو رہے ہیں تو اس وجہ سے واجب آخر بھی اس نہی کے اندر داخل ہو جائے گا، واجب آخر بھی۔ لیکن مراد کیا ہے؟ تو صرف صورت چونکہ نہی کی ہے اس وجہ سے واجب آخر کے روزے کو بھی مکروہ قرار دیا جائے گا کیونکہ الفاظ عام ہیں، وہ بظاہر سب کو شامل ہو رہے ہیں لیکن بہرحال وہاں پھر کراہتِ تنزیہی آئے گی، کراہتِ تحریمی نہیں آئے گی بھئی۔ دلیل سمجھ میں آگئی؟ دیکھیے اسی بات کو صاحبِ ہدایہ ذرا اور اچھے لفظوں میں ذکر کریں گے۔ تو کہتے ہیں: یہی قول زیادہ صحیح ہے ”لِأَنَّ الْمَنْهِيَّ عَنْهُ“ اس لیے کیونکہ منہی عنہ جو ہے یعنی وہ جس روزہ جس سے منع کیا گیا ہے ”وَهُوَ التَّقَدُّمُ عَلَى رَمَضَانَ بِصَوْمِ رَمَضَانَ“ وہ رمضان پر مقدم ہونا ہے، کس کے ساتھ؟ رمضان کے روزے کے ساتھ رمضان پر مقدم ہونا ہے ”لَا يَقُومُ بِكُلِّ صَوْمٍ“ اور یہ تقدم ہر روزے کے ساتھ یہ قائم نہیں ہوتا، ہر روزے سے یہ حاصل نہیں ہوتا۔ رمضان پر رمضان کا روزہ مقدم ہو جائے یہ صرف کس صورت میں ہوگا جب وہ کس کی نیت کرے؟ رمضان کے روزے کی نیت کرے گا تو اس صورت میں کیا خرابی لازم آئے گی؟ رمضان پر رمضان کا روزہ مہینہ ابھی شروع ہوا نہیں اور پہلے ہی کون سے روزے کی اس نے نیت کر لی؟ تو رمضان کا روزہ رمضان پر گویا مقدم ہو گیا اور یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب اس نے نیت بھی کس کی کی ہو؟ رمضان کے روزے کی نیت کی ہو، کسی اور واجب کی کی ہو تو پھر یہ والا تقدم حاصل نہیں، پھر تو رمضان کا روزہ نہیں مقدم ہو رہا، واجب آخر والا روزہ مقدم ہو رہا ہے۔ تو حدیث میں جو منہی عنہ ہے وہ کون سا تقدم ہے؟ رمضان کے روزے کا تقدم منع کیا گیا ہے، ہر روزے کا تقدم منع یعنی فقہاء نے اس کو اس معنی پر محمول کیا ہے، فقہاء نے اس معنی پر محمول کیا ہے کہ یہ حضور علیہ السلام کی مراد ہے، حضور علیہ السلام یہ فرمانا چاہتے ہیں بھئی۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْمَنْهِيَّ عَنْهُ وَهُوَ التَّقَدُّمُ عَلَى رَمَضَانَ بِصَوْمِ رَمَضَانَ لَا يَقُومُ بِكُلِّ صَوْمٍ“ اور اس لیے کیونکہ وہ روزہ جس سے منع کیا گیا ہے وہ مقدم ہونا ہے رمضان پر رمضان کے روزے کے ساتھ اور یہ حاصل نہیں ہوتا ہر روزے سے۔ ”بِخِلَافِ يَوْمِ الْعِيدِ لِأَنَّ الْمَنْهِيَّ عَنْهُ وَهُوَ تَرْكُ الْإِجَابَةِ“ بخلاف عید کے دن کے ”لِأَنَّ الْمَنْهِيَّ عَنْهُ“ اس لیے کیونکہ وہ روزہ وہ کیا ہے؟ منہی عنہ ہے یعنی عید کے دن روزہ رکھنا منہی عنہ ہے، اس سے روکا گیا۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا سال میں پانچ دن ہیں جن کے اندر روزہ رکھنا حرام ہے بھئی، تو ان میں یوم العید بھی آیا ہے تو اس دن بھی روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے تو اس دن کا روزہ بھی منہی عنہ ہے اور اس کی وجہ کیا ہے؟ ”تَرْكُ الْإِجَابَةِ“ دعوت کو ترک کرنا ہے۔ یہ عید کا دن اللہ کی طرف سے تمام لوگوں کی دعوت کا دن ہے تو اگر انسان اس دن روزہ رکھتا ہے تو اس دعوت کو رد کرنا لازم آتا ہے، اللہ تو دعوت فرما رہے ہیں لوگوں کی اور یہ شخص گویا روزہ رکھ کے کیا کر رہا ہے؟ اللہ تعالیٰ کی اس دعوت کو رد کر رہا ہے لہٰذا عید والے دن جو بھی روزہ رکھے گا چاہے نفلی ہی کیوں نہ رکھے تو دعوت کو رد کرنا اس کے ساتھ لازم ہے یا لازم نہیں؟ لازم ہے، اس وجہ سے اس دن ہر روزہ کیا ہوگا؟ اس دن حرام ہوگا اور جبکہ اس دن جو ہے یہاں پر اس حدیث کے اندر جو ذکر ہوا وہ صرف کون سے روزے سے منع کیا گیا؟ رمضان کے روزے سے منع کیا گیا ہے۔ یہ معنی ہے ”بِخِلَافِ يَوْمِ الْعِيدِ لِأَنَّ الْمَنْهِيَّ عَنْهُ وَهُوَ تَرْكُ الْإِجَابَةِ يُلَازِمُ كُلَّ صَوْمٍ“ بخلاف عید والے دن کے اس لیے کیونکہ منہی عنہ جو ہے ”وَهُوَ تَرْكُ الْإِجَابَةِ“، اجابت کہتے ہیں دعوت قبول کرنا، دعوت قبول کرنے کو ترک کرنا جو ہے ”يُلَازِمُ كُلَّ صَوْمٍ“ وہ لازم ہے ہر روزے کے ساتھ، تو جو بھی روزہ رکھے گا وہ کیا ہوگا اس دن؟ منہی عنہ ہی ہوگا بھئی۔ ”وَالْكَرَاهَةُ هُنَا بِصُورَةِ النَّهْيِ“ اور کراہت یہاں پر نہی کی صورت کی وجہ سے ہے۔ یہاں پر جو کراہت ہے وہ کس وجہ سے ہے؟ نہی کی صورت کی وجہ سے ہے۔ بھئی دیکھیے، یہاں جو حدیث آئی کہ جس دن کے بارے میں یہ شک ہو کہ یہ رمضان میں سے ہے اس دن روزہ رکھنے سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا سوائے کس روزے کے؟ نفلی روزے کے۔ اب فقہاء نے اس کو کس پر محمول کیا کہ اس سے ہر روزہ مراد نہیں جس سے منع کیا جا رہا ہے بلکہ کون سا روزہ مراد ہے؟ رمضان کا روزہ مراد ہے۔ جب رمضان کا روزہ مراد ہے تو پھر واجب آخر کا روزہ تو مکروہ نہیں ہونا چاہیے وہ تو مراد ہی نہیں ہے لیکن آپ نے اس کو بھی کیا قرار دیا؟ مکروہ قرار دیا، تو وہی بتلا رہے ہیں کہ بھئی، اگرچہ اس حدیث کو محمول تو رمضان کے روزے پر کیا گیا لیکن حدیث کے الفاظ تو عام ہیں، حدیث کے الفاظ تو کیا ہیں؟ عام ہیں، اس میں تو رمضان کی قید نہیں ہے کہ رمضان کا روزہ نہیں رکھ سکتے باقی رکھ سکتے، تو وہاں الفاظ عام ہیں وہ نفلی روزے کے علاوہ سب روزوں کو شامل ہیں تو ان عام الفاظ کے اعتبار سے پھر بھی اس واجب آخر کے لیے بھی نہی والی صورت بن جاتی ہے کہ گویا اس سے بھی منع کیا گیا ہے، کس بنا پر؟ الفاظ عام ہیں نا، الفاظ سب کے کہ روزہ نہ رکھا جائے یوم الشک والے دن سوائے کون سا؟ سوائے نفلی روزے کے۔ تو اس میں تو یہ نہیں ذکر کہ رمضان کا نہ رکھو صرف باقی نفلی باقی روزے رکھ سکتے ہو بلکہ اس میں تو کیا کیا جا رہا ہے؟ ہر روزے سے منع کیا جا رہا ہے، لیکن اس کو محمول کس پر کیا گیا؟ کس روزے سے منع کیا جا رہا ہے؟ رمضان، لیکن بہرحال الفاظ تو عام ہیں، الفاظ کے اعتبار سے تو تو ظاہر یہی لگتا ہے کہ سب روزوں سے منع ہے لہٰذا چونکہ نہی کی صورت تو موجود ہے لہٰذا اس وجہ سے کراہت آئے گی بھئی۔ واجب آخر میں بھی کیا آئے گی؟ کراہت آئے گی کیونکہ بہرحال نہی کی صورت تو موجود ہے، الفاظ تو موجود ہیں بھئی نہی والے۔ البتہ یہ کراہت کون سی ہوگی؟ کراہتِ تنزیہی ہے کیونکہ بتلا دیا حقیقت میں واجب آخر سے منع کیا ہی نہیں جا رہا، صرف کس سے منع کیا جا رہا ہے؟ رمضان کے روزے سے، لیکن بہرحال الفاظ عام ہیں نہی کی صورت بن گئی تو اس وجہ سے کراہت آئے گی۔ یہ معنی ہے ”وَالْكَرَاهَةُ هُنَا بِصُورَةِ النَّهْيِ“ اور کراہت یہاں پر نہی کی صورت کی وجہ سے ہے۔ بھئی، دو صورتیں گزر گئیں۔ ایک صورت یہ کہ یوم الشک والے دن کس روزے کی نیت کرتا ہے؟ رمضان کے روزے کی۔ دوسری صورت ذکر ہوئی کہ یوم الشک والے دن کس روزے کی نیت کرتا ہے؟ واجب آخر کی نیت کرتا ہے۔ تیسری صورت ذکر کر رہے ہیں: ”وَالثَّالِثُ أَنْ يَنْوِيَ تَطَوُّعًا“ اور تیسری صورت یہ ہے کہ وہ نفل کی نیت کرتا ہے یعنی یوم الشک والے دن نفلی روزے کی نیت کرتا ہے، ”وَهُوَ غَيْرُ مَكْرُوهٍ“ اور نفل تو اس دن مکروہ نہیں ہے ”لِمَا رَوَيْنَا“ اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے روایت کر دی اس میں تو نفل کی اجازت ہے۔ ”وَهُوَ حُجَّةٌ عَلَى الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي قَوْلِهِ يُكْرَهُ عَلَى سَبِيلِ الِابْتِدَاءِ“ اور یہ حدیث جو ہے یہ دلیل ہے امام شافعی رحمہ اللہ کے خلاف ان کے اس قول کے اندر کہ وہ جو فرماتے ہیں کہ یہ نفل بھی مکروہ ہے ”عَلَى سَبِيلِ الِابْتِدَاءِ“ ابتدا کے طریقے پر، ابتدا کے ابتدا کے طریقے پر۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یوم الشک والے دن ایک شخص روزہ رکھتا ہے نفلی روزہ، تو اگر یہ ابتداءً اس طرح کر رہا ہے تو یہ مکروہ ہے، یہ کیا ہے؟ اور اگر اس کی عادت چلی آ رہی ہے مثلاً اس کی عادت ہے وہ ہر ہفتے میں پیر والے دن روزہ رکھتا ہے نفلی روزہ ہر ہفتے میں، اور اتفاق سے یہ یوم الشک بھی کون سے دن آگیا؟ پیر والے دن، تو یہ اس دن جب نفلی روزہ رکھے گا تو یہ ابتداءً ہے یا اس کی پہلے سے عادت چلی آ رہی ہے؟ پہلے سے عادت چلی آ رہی ہے پھر تو فرماتے ہیں وہ کہتے ہیں مکروہ نہیں بلکہ بالاجماع کیا ہے؟ اس دن یہ افضل ہے۔ یا اسی طرح اس کی عادت ہے وہ ہر مہینے کے آخری تین چار دن کیا کرتا ہے؟ روزہ رکھتا ہے، تو لہٰذا معلوم ہو یہ اس کی عادت ہے اس دن روزہ رکھتا ہے تو یہ ابتداءً ابتدا کے طریقے پر یہ نفلی روزہ نہیں، تو وہ فرماتے ہیں اگر عادت کے طریقے پر اس دن روزہ نفلی روزہ رکھتا ہے تو پھر تو مکروہ نہیں لیکن اگر ابتداءً رکھتا ہے پہلے نہیں رکھتا تھا اور اب کیا کر رہا ہے؟ یوم الشک والا دن آگیا تو اب وہ نفلی روزہ رکھنا چاہتا ہے تو اس صورت میں مکروہ ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو ان کے نزدیک ابتداءً نفلی روزہ بھی اس دن مکروہ ہے جبکہ ہمارے نزدیک نہیں مکروہ نہیں اس وجہ سے جو ہم نے حدیث ذکر کر دی۔ تو یہی معنی ہے ”وَهُوَ حُجَّةٌ عَلَى الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور یہ حدیث جو ہے دلیل ہے امام شافعی رحمہ اللہ کے خلاف بھی ”فِي قَوْلِهِ“ ان کے اس قول کے اندر ”يُكْرَهُ عَلَى سَبِيلِ الِابْتِدَاءِ“ کہ نفلی روزہ مکروہ ہے ابتدا کے طریقے پر۔ ”وَالْمُرَادُ بِقَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَتَقَدَّمُوا رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ وَلَا بِصَوْمِ يَوْمَيْنِ، الْحَدِيثَ“ اور باقی جو حدیث میں آیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”لَا تَتَقَدَّمُوا رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ“ کہ تم لوگ مقدم نہ ہو رمضان پر ایک دن کے روزے کے ساتھ ”وَلَا بِصَوْمِ يَوْمَيْنِ“ اور نہ دو دن کے روزے کے ساتھ، یعنی رمضان سے ایک دو دن پہلے روزہ نہ رکھو بھئی، یہ جو حدیث میں آیا ہے کہتے ہیں: حضور علیہ السلام کے اس قول سے مراد جو ہے ”نَهْيُ التَّقْدِيمِ بِصَوْمِ رَمَضَانَ“ رمضان کے روزے کے ساتھ رمضان کے روزے کو مقدم کرنا مراد ہے۔ یہ جو حدیث میں کیا آیا؟ بھئی یہ امام شافعی رحمہ اللہ نے جو قول کیا تھا کہ ابتداءً مکروہ ہے، ابتداءً اگر نفلی روزہ رکھے گا یوم الشک والے دن تو یہ مکروہ ہے۔ اسی طرح وہ یہ حدیث بھی ذکر کرتے ہیں کہ حدیث میں کیا آیا؟ رمضان پر ایک یا دو دن کا روزہ مقدم نہ کرو، معلوم ہوا اس دن نفلی روزہ بھی مکروہ ہے ان کے نزدیک، تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ بھئی، جو حدیث میں آیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک یا دو دن رمضان سے قبل روزے ایک یا دو دن رمضان پر روزے مقدم نہ کرو ہم کہتے ہیں یہ ”نَهْيُ التَّقْدِيمِ بِصَوْمِ رَمَضَانَ“ یہ نہی کس چیز کی ہے؟ رمضان کے روزے کو مقدم کرنے کی نہی ہے، ہر روزے کو مقدم کرنے سے یہاں نہیں روکا گیا، ہاں رمضان کے روزے کو مقدم نہ کرو کہ آپ اس سے ایک دو دن پہلے روزہ رکھتے ہیں اور نیت کس چیز کی کرتے ہیں؟ رمضان کے روزے کی تو پھر یہ مکروہ ہے، اگر نفلی روزہ رکھتے ہیں تو پھر یہ مکروہ نہیں کیونکہ حدیث میں کیا آیا تھا کہ یوم الشک والے دن کون سا روزہ رکھا جا سکتا ہے؟ نفلی روزہ رکھا جا سکتا ہے۔ تو یہ جو ہے یہ رمضان کے روزے کے ساتھ مقدم ہونے سے روکا گیا ہے کہ رمضان کے روزے کے ساتھ کوئی مقدم نہ ہو بھئی، اس سے ہر روزہ مراد نہیں۔ اب دیکھیے بھئی دوبارہ ترجمہ: ”وَالْمُرَادُ بِقَوْلِهِ“ اور مراد جو ہے حضور علیہ السلام کے اس قول سے جو آگے آ رہا ہے کہ ”لَا تَتَقَدَّمُوا رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ وَلَا بِصَوْمِ يَوْمَيْنِ“، یہ جو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ رمضان پر ایک دن کے روزے یا دو دن کے روزے کے ساتھ مقدم نہ ہو اس پر آگے نہ بڑھو، اس حضور علیہ السلام کے اس قول سے مراد ”نَهْيُ التَّقْدِيمِ بِصَوْمِ رَمَضَانَ“ وہ رمضان کے روزے پر مقدم ہونے سے نہی ہے بھئی، اس سے روکا گیا ہے ”لِأَنَّهُ يُؤَدِّيهِ قَبْلَ أَوَانِهِ“ اس لیے کیونکہ وہ شخص اس روزے کو ادا کرنے والا ہے اس کے وقت سے پہلے ہی۔ کیا کرنے والا ہے؟ ہاں، حدیث میں جو آیا نا کہ رمضان پر ایک یا دو دن کے روزے مقدم نہ کرو اس سے کون سے روزے مراد ہیں؟ رمضان کے روزے مراد ہیں اس لیے کیونکہ اگر یہ رمضان سے ایک دو دن پہلے ہی روزے رمضان کی نیت کے ساتھ رکھ لیتا ہے تو اس نے کیا کام کیا؟ رمضان کا ابھی وقت آیا ہی نہیں اور اس سے پہلے ہی کیا کر دیے اس نے رمضان کے روزے شروع کر دیے، اس لیے یہ اس سے منع کر دیا گیا ہے، بات سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے ”لِأَنَّهُ يُؤَدِّيهِ قَبْلَ أَوَانِهِ“ اس لیے کیونکہ وہ اس کو ادا کرنے والا ہے اس روزے کو اس کے وقت سے پہلے ہی یعنی رمضان کے روزے کو وہ ادا کرنے والا ہے رمضان کے وقت سے پہلے ہی۔ ”ثُمَّ إِنْ وَافَقَ صَوْمًا كَانَ يَصُومُهُ فَالصَّوْمُ أَفْضَلُ بِالْإِجْمَاعِ“، اب بتلا رہے ہیں بھئی کہ اگر اس شخص کی عادت ہی کیا تھی؟ ہر پیر والے دن روزہ رکھنے کی یا ہر مہینے کے آخری تین چار دن روزہ رکھنے کی، یوم الشک والے دن بھی اب وہ روزہ رکھتا ہے اور یہ کس وجہ سے؟ کیونکہ یہ اس کی عادت کے موافق پڑ جاتا ہے یہ تو اس صورت میں بالاجماع اس دن روزہ رکھنا افضل ہے، روزہ رکھنا افضل ہے۔ کہتے ہیں: ”ثُمَّ إِنْ وَافَقَ صَوْمًا كَانَ يَصُومُهُ“ پھر اگر موافق ہو گیا یہ والا روزہ اس روزے کے جو وہ رکھا کرتا تھا ”فَالصَّوْمُ أَفْضَلُ بِالْإِجْمَاعِ“ تو پھر روزہ بالاجماع افضل ہے ”وَكَذَا إِذَا صَامَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ آخِرِ الشَّهْرِ فَصَاعِدًا“ اور اسی طرح جب وہ روزہ رکھتا ہو مہینے کے آخر میں تین دن ”فَصَاعِدًا“ یا اس سے زیادہ، یعنی اگر اس صورت میں بھی کیا ہوگا؟ یوم الشک والا روزہ اس کی عادت کے موافق ہو جائے گا تو اس صورت میں بھی یہی حکم ہے کہ یہ بالاجماع افضل ہے۔ ”وَإِنْ أَفْرَدَهُ“ اور اگر اس روزے کو اس نے جدا کیا ہے اکیلا کیا ہے یعنی نہ اس کی عادت نہیں ہے اب کیا کر رہا ہے؟ وہ یوم الشک والے دن نفلی روزہ رکھ رہا ہے ”فَقَدْ قِيلَ الْفِطْرُ أَفْضَلُ“ تو پھر تحقیق کہا گیا ہے کہ اس روز فطر افضل ہے اس کے لیے۔ روزہ افضل نہیں، جب اس کی عادت نہیں ہے تو یوم الشک والے دن اب اس کے لیے روزہ رکھنا افضل نہیں ہے بلکہ فطر افضل ہے کہ روزہ نہ رکھے۔ ”وَإِنْ أَفْرَدَهُ“ اور اگر اس روزے کو وہ علیحدہ کرتا ہے یعنی جدا کرتا ہے یعنی اس کی پہلے سے عادت نہیں ہے ”فَقَدْ قِيلَ الْفِطْرُ أَفْضَلُ“ تو تحقیق کہا گیا ہے کہ فطر جو ہے وہ افضل ہے ”احْتِرَازًا عَنْ ظَاهِرِ النَّهْيِ“ احتراز کرتے ہوئے بچتے ہوئے ظاہرِ نہی سے، کس سے بچتے ہوئے؟ ظاہرِ نہی سے بچتے ہوئے اس کے لیے فطر افضل ہے کیونکہ اوپر احادیث آگئیں ”لَا تَتَقَدَّمُوا رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ وَلَا بِصَوْمِ يَوْمَيْنِ“، نہی آگئی یا نہیں آگئی؟ تو لہٰذا اس کے لیے افضل کیا ہے؟ افطار یعنی اس روز روزہ نہ رکھے تاکہ اس نہی سے بچ جائے، اس نہی سے بچ جائے۔ ”وَقِيلَ الصَّوْمُ أَفْضَلُ“ اور کہا گیا ہے کہ روزہ افضل ہے اس روز بھئی چاہے پہلے سے بے شک عادت نہیں ہے پھر بھی اس دن اس کے لیے نفلی روزہ افضل ہے ”اقْتِدَاءً بِعَلِيٍّ وَعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا“ اقتداء کرتے ہوئے حضرت علی اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی ”فَإِنَّهُمَا كَانَا يَصُومَانِهِ“ اس لیے کیونکہ وہ دونوں جو ہیں یہ روزہ رکھا کرتے تھے، یہ روزہ رکھا کرتے تھے۔ ”وَالْمُخْتَارُ أَنْ يَصُومَ الْمُفْتِي بِنَفْسِهِ أَخْذًا بِالِاحْتِيَاطِ“ اور مختار قول یہ ہے کہ مفتی روزہ رکھے بنفسہ خود، مفتی کہ مفتی خود کیا کرے؟ روزہ رکھے ”أَخْذًا بِالِاحْتِيَاطِ“ احتیاط کو لیتے ہوئے، احتیاط پر عمل کرتے ہوئے۔ اگر کوئی شخص مفتی ہے عالم ہے یا یوں کہیں آسان لفظوں میں: خواص کو اس دن روزہ رکھنا افضل ہے اور عوام کے لیے اس دن افطار افضل ہے۔ خواص کے لیے اور مفتی حضرات کے لیے اور علماء کے لیے اس روز روزہ نفلی روزہ رکھنا افضل ہے اور عوام کے لیے افطار افضل ہے کہ وہ روزہ نہ رکھیں بھئی، صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے ”وَالْمُخْتَارُ أَنْ يَصُومَ الْمُفْتِي بِنَفْسِهِ أَخْذًا بِالِاحْتِيَاطِ“ اور مختار یہ ہے کہ مفتی خود جو ہے وہ روزہ رکھے احتیاط پر عمل کرتے ہوئے، احتیاط کو لیتے ہوئے۔ بھئی، احتیاط پر تاکہ عمل ہو جائے کیونکہ ہو سکتا ہے یہ دن کس کا ہو؟ رمضان کا ہو، گزشتہ دن تو بادلوں کی وجہ سے چاند دکھائی نہیں دیا تھا تو شک آگیا کہ شاید یہ دن رمضان کا ہی کہیں نہ ہو بھئی۔ تو اگر روزہ نہیں رکھا تو اس صورت میں تو رمضان کا ایک روزہ رہ جائے گا تو احتیاط کس کے اندر ہے؟ اس دن وہ مفتی روزہ رکھ لے۔ ”وَيُفْتِي الْعَامَّةَ بِالتَّلَوُّمِ إِلَى وَقْتِ الزَّوَالِ“ اور فتویٰ دے عام لوگوں کو ”بِالتَّلَوُّمِ“، تلوم کا معنی ہے توقف کرنا، ٹھہرنا یعنی مراد ہے انتظار کرنا، اور عام لوگوں کو فتویٰ دے ”بِالتَّلَوُّمِ“ ٹھہرنے کا ”إِلَى وَقْتِ الزَّوَالِ“ زوال کے وقت تک، ”ثُمَّ بِالْإِفْطَارِ“ پھر روزہ توڑنے کا فتویٰ دے ”نَفْيًا لِلتُّهْمَةِ“ تہمت کی نفی کرنے کے لیے۔ تہمت کی نفی کرنے کے لیے، تہمت اور بدگمانی کو دور کرنے کے لیے تو زوال تک لوگوں کو فتویٰ دے: زوال تک کہ تم ٹھہر جاؤ، زوال تک روزہ نہ توڑو اور شاید کہیں سے کوئی شہادت آ جائے کہ رمضان کا چاند نظر آگیا ہے۔ اگر زوال تک کوئی شہادت نہ آئی تو پھر مفتی عام لوگوں کو کیا فتویٰ دے؟ کہ وہ روزہ وہ روزہ توڑ دیں بھئی، روزہ توڑ دیں کیونکہ رمضان کے چاند کی شہادت کہیں سے بھی نہیں ملی تو لہٰذا روزہ توڑ دیں ”نَفْيًا لِلتُّهْمَةِ“ تہمت کی نفی کرنے کے لیے، تہمت کی نفی کرنے۔ اس لیے کہ اس صورت میں بدگمانی آئے گی دلوں کے اندر بھئی۔ تہمت کسے کہتے ہیں؟ بدگمانی کو۔ دلوں میں بدگمانی آئے گی، بعض لوگوں کے دلوں میں بدگمانی آ سکتی ہے کیونکہ کہتے ہیں اس روز اس روز شیعوں کے نزدیک روزہ رکھنا واجب ہے۔ روافض اور شیعہ کے نزدیک یوم الشک والے دن روزہ رکھنا واجب ہے، واجب ہے تو لہٰذا یہ نہ ہو بعض لوگ کے دلوں میں بدگمانی آئے کہ یہ تو مفتی صاحب کس کے مذہب کے مطابق ہمیں مسئلہ بتلا رہے ہیں؟ شیعوں کے مذہب کے مطابق مسئلہ بتلا رہے ہیں۔ کس صورت میں؟ اگر وہ مفتی ان کو بھی روزہ رکھنے کا ہی حکم دے گا تو پھر کیا آئے گی؟ دلوں میں بدگمانی، لہٰذا ان کو کیا کر دے؟ روزہ توڑنے کا حکم دے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اور نیز اس لیے کیونکہ حدیث میں آگیا، حدیث میں کیا آیا؟ ”لَا تَتَقَدَّمُوا رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ وَلَا بِصَوْمِ يَوْمَيْنِ“، رمضان پر ایک یا دو دن کے روزے مقدم نہ کرو تو حدیث میں یہ آیا ہے۔ اب عام لوگوں کو تو ان ابحاث کا علم نہیں جو دیکھیے ہم یہاں پر کر رہے ہیں کہ اس حدیث سے کے اندر عام روزے کی بات نہیں ہو رہی بلکہ اس سے کون سا مراد کون سا روزہ مراد ہے؟ رمضان کا روزہ مراد ہے تو عام لوگ تو ان چیزوں کو نہیں جانتے، وہ تو حدیث کے ظاہری لفظوں کو دیکھیں گے اور کہیں گے: دیکھیے بھئی، حدیث میں کیا آیا ہے؟ کہ روزہ نہ رکھو، اور مفتی صاحب ہمیں کیا فتویٰ دے رہے ہیں؟ کہ روزہ رکھو بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو بعض چیزیں یاد رکھو ہمیشہ ایسی ہوتی ہیں کہ اس میں لوگوں کو اس پر فتویٰ نہیں دیا جاتا، فتویٰ نہیں دیا جاتا۔ اب بظاہر تو یہاں فتویٰ تو مفتی کو یہی دینا چاہیے کہ کیا کر لو؟ نفلی روزے کی اجازت ہے، تم بھی احتیاط پر عمل کر لو کہ ایسا نہ ہو کہیں رمضان کا روزہ ہو، سمجھ میں آیا؟ کیونکہ حدیث کے اندر جو منع کیا گیا ہے وہ رمضان کا روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے، نفلی روزہ رکھنے سے تو منع نہیں کیا گیا، لیکن فتویٰ نہیں دیا جاتا ان عام لوگوں کو اس پر، اس لیے کیونکہ اس میں اور کئی مفاسد آ جاتے ہیں جیسے یہاں یہ بیان ہو گیا کہ اگر مفتی یہ فتویٰ دے گا تو بعض لوگ کیا بدگمانی کریں گے؟ کہ یہ تو ہمیں کس طرح کا فتویٰ دے رہے ہیں؟ جو شیعوں کا مذہب ہے اس کے مطابق فتویٰ دے رہے ہیں، بعض لوگ اسی طرح وہ یہ بدگمانی کر سکتے ہیں کہ دیکھو حدیث میں آیا ہے ایک دو دن پہلے روزے نہ رکھو اور مفتی صاحب ہمیں کیا فتویٰ دے رہے ہیں؟ کہ روزہ رکھ لو بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ چنانچہ روایت ہے بھئی کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے پاس ایک کوئی شخص آیا اور اس نے آ کر یہی مسئلہ پوچھا کہ یوم الشک والے دن روزہ رکھنا چاہیے؟ آج یوم الشک والے دن ہی وہ آدمی آیا اور اس نے کہا کہ کیا آج کا روزہ رکھنا چاہیے یا روزہ نہیں رکھنا چاہیے؟ صبح صبح آیا ہوگا یوم الشک والے دن بھئی، تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے فرمایا کہ نہیں، نہیں رکھنا چاہیے۔ اور پھر اس سے کہا: ذرا میرے قریب آ جاؤ۔ جب وہ قریب آیا تو کہنے لگے: میرا روزہ ہے، فرمانے لگے: میرا روزہ ہے۔ دیکھو، فتویٰ کیا دیا؟ کہ نہیں رکھنا چاہیے، اور قریب بلا کر بتلا دیا کہ میرا روزہ ہے، معلوم ہوا خواص کو کیا کرنا چاہیے اس روز؟ روزہ رکھنا چاہیے، احتیاط اسی میں ہے، ہو سکتا ہے یہ رمضان کا دن ہو تو رمضان کا ایک روزہ نکل جائے گا ہاتھ سے لہٰذا احتیاط اس میں ہے کہ وہ روزہ رکھیں اور عوام کو یہ فتویٰ نہیں دیا جائے گا بھئی۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ.