كِتَابُ الصَّوْمِ قَالَ: "الصَّوْمُ ضَرْبَانِ: وَاجِبٌ وَنَفْلٌ، وَالْوَاجِبُ ضَرْبَانِ: مِنْهُمَا مَا يَتَعَلَّقُ بِزَمَانٍ بِعَيْنِهِ كَصَوْمِ رَمَضَانَ وَالنَّذْرِ الْمُعَيَّنِ، فَيَجُوزُ بِنِيَّةٍ مِنَ اللَّيْلِ، وَإِنْ لَمْ يَنْوِ حَتَّى أَصْبَحَ أَجْزَأَتْهُ النِّيَّةُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الزَّوَالِ"، وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لَا يُجْزِيهِ. كِتَابُ الصَّوْمِ۔ یاد رکھیے! صَوْم جو ہے صَوْم، صَوْم کا لغوی معنی ہے إِمْسَاك بھئی، إِمْسَاك۔ إِمْسَاك میں الف، میم، سین، الف اور چھوٹا کاف، إِمْسَاك یعنی رکنا، رکنا۔ تو عربی زبان میں صَوْم کہتے ہیں مطلقاً إِمْسَاك کو یعنی کسی چیز سے بھی رکنا، یہ کیا کہلاتا ہے؟ صَوْم کہلاتا ہے۔ لیکن اصطلاحِ شریعت کے اندر صَوْم کہتے ہیں کھانے، پینے اور جِمَاع سے إِمْسَاك بِنِيَّةِ الصَّوْمِ روزے کی نیت کے ساتھ۔ تو یہ ہے صَوْم شرعاً بھئی۔ تو تین چیزوں سے رکنا بھئی: کھانے، پینے اور صحبت سے۔ اور کس نیت کے ساتھ؟ باقاعدہ روزے کی نیت کے ساتھ بھئی، نیت کے ساتھ۔ تو نیت ہوگی تو روزہ ہوگا۔ نیت نہ ہو تو ویسے یہ إِمْسَاك پایا بھی جائے تو اس سے روزہ نہیں ہوگا بھئی۔ تو شرعی تعریف روزے کی کیا ہوئی؟ الصَّوْمُ الشَّرْعِيُّ هُوَ الْإِمْسَاكُ عَنْ ثَلَاثَةِ أَشْيَاءَ: الْأَكْلُ وَالشُّرْبُ وَالْجِمَاعُ بِنِيَّةِ الصَّوْمِ۔ کھانے، پینے، جِمَاع سے رکنا روزے کی نیت کے ساتھ بھئی۔ اور یاد رکھیے یہ روزوں کی فرضیت ہوئی ہے سن دو ہجری میں۔ دو ہجری میں یہ رمضان کے روزے فرض کیے گئے بھئی، دو ہجری میں۔ اسی طرح آپ پڑھ چکے پہلے میں نے بتلایا تھا کہ زکوٰۃ بھی سن دو ہجری میں فرض ہوئی ہے۔ روزے بھی دو ہجری میں اور زکوٰۃ بھی، لیکن زکوٰۃ کی فرضیت پہلے ہوئی اور پھر اس کے بعد روزوں کی فرضیت ہوئی، روزے فرض قرار دیے گئے۔ جی، اب دیکھیے کتاب پر: قَالَ: "الصَّوْمُ ضَرْبَانِ" صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: "الصَّوْمُ ضَرْبَانِ" روزہ جو ہے وہ دو قسم پر ہے، روزے کی دو قسمیں ہیں: "وَاجِبٌ وَنَفْلٌ" ایک قسم واجب ہے اور ایک نفل ہے بھئی، نفل ہے۔ یاد رکھیے! واجب سے یہاں واجبِ لغوی مراد ہے، اصطلاحی واجب نہیں مراد بھئی۔ اس لیے کیونکہ رمضان کے روزے فرض ہیں آپ جانتے ہیں بھئی۔ تو یہ واجب بمعنی لازم کے ہے۔ واجب کا کیا معنی؟ لازم، جو لازمی ہیں، ضروری ہیں۔ تو روزے دو قسم پر ہیں: کچھ لازمی ہیں اور کچھ دوسری قسم نفل ہے بھئی۔ اور لازمی یہ شامل ہے فرض کو بھی اور واجب کو بھی شامل ہے، دونوں قسمیں اس کے اندر داخل ہو گئیں بھئی۔ بات سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ تو یہ واجب یہاں لغوی واجب مراد ہے۔ تو کہتے ہیں: "الصَّوْمُ ضَرْبَانِ: وَاجِبٌ وَنَفْلٌ" کہ روزہ جو ہے دو قسم پر ہے، ایک واجب ہے اور ایک نفل ہے۔ "وَالْوَاجِبُ ضَرْبَانِ" پھر یہ جو واجب ہے یہ دو قسم پر ہے، اس کی دو قسمیں ہیں: "مِنْهُمَا مَا يَتَعَلَّقُ بِزَمَانٍ بِعَيْنِهِ" ان میں سے ایک قسم وہ ہے جس کا تعلق معین زمانے کے ساتھ ہوتا ہے، "كَصَوْمِ رَمَضَانَ وَالنَّذْرِ الْمُعَيَّنِ" جیسے کہ رمضان کا روزہ ہے اور معین نذر کا روزہ ہے۔ بھئی دیکھیے! یہ جو واجب روزے ہیں یہ دو قسم کے ہیں۔ کچھ وہ ہیں جن کا وقت متعین ہے جیسے رمضان کے روزے کا وقت متعین ہے کہ رمضان کے اندر رکھے جاتے ہیں۔ اور اسی طرح نذرِ معین بھئی۔ یاد رکھیے! ایک نذرِ معین ہے، ایک نذرِ مطلق ہے۔ نذرِ معین وہ ہے جس میں آپ منت مانتے ہیں روزے کی اور باقاعدہ دن بھی مقرر کرتے ہیں کہ اگر میرا یہ کام ہو گیا تو میں فلاں تاریخ کو یا فلاں دن کو میں کیا کروں گا؟ روزہ رکھوں گا۔ تو دیکھو آپ نے دن کی تعیین کر دی، یا فلاں مہینے کی فلاں تاریخ سے لے کر فلاں تاریخ تک میں روزے رکھوں گا، تو دیکھو آپ نے دنوں کی تخصیص کر دی۔ تو یہ کیا ہے؟ نذرِ معین ہے بھئی، نذرِ معین ہے۔ ایک تو یہ صورت تھی کہ آپ نے منت مانی کس طریقے پر کہ اگر میرا یہ کام ہو گیا تو میں فلاں دن سے فلاں دن تک یعنی فلاں تاریخ سے فلاں تاریخ تک روزے رکھوں گا۔ یا ویسے ہی آپ کہتے ہیں کہ میں اللہ کے لیے اپنے اوپر لازم کرتا ہوں، یا یوں کہتے ہیں میں اللہ کے لیے فلاں تاریخ سے فلاں تک روزے رکھوں گا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو آپ نے خود اپنے اوپر کیا کر لیے روزے لازم کر لیے بھئی۔ تو یہ سب منت میں داخل ہیں۔ اور ایک نذرِ مطلق ہے جس میں آپ وقت کی تعیین نہیں کرتے بلکہ مطلقاً کیا کہتے ہیں کہ اگر میرا یہ کام ہوا تو مثلاً میں دس روزے رکھوں گا۔ کس دن رکھیں گے یہ تعیین آپ نے نہیں کی۔ تو یہ ہے نذرِ مطلق بھئی، جس میں کوئی قید نہیں۔ اور پہلے میں کیا تھی؟ قید تھی کہ فلاں تاریخ سے فلاں تک رکھوں گا تو وہ تھی نذرِ معین بھئی، نذرِ معین۔ تو کہتے ہیں یہ جو واجب ہے ضَرْبَانِ یہ دو قسم پر ہے: "مِنْهُمَا مَا يَتَعَلَّقُ بِزَمَانٍ بِعَيْنِهِ" ان میں سے ایک قسم وہ ہے جس کا تعلق معین زمانے کے ساتھ ہوتا ہے، "كَصَوْمِ رَمَضَانَ وَالنَّذْرِ الْمُعَيَّنِ" جیسے کہ رمضان کا روزہ ہے اور جیسے کہ معین نذر کا روزہ ہے۔ "فَيَجُوزُ بِنِيَّةٍ مِنَ اللَّيْلِ" تو یہ روزہ جو معین زمانے کے ساتھ جس کا تعلق ہوتا ہے، یہ روزہ جائز ہے رات کی نیت سے۔ یعنی رات کو کیا کرے؟ نیت کرے تو یہ روزہ جائز ہے۔ "وَإِنْ لَمْ يَنْوِ حَتَّى أَصْبَحَ أَجْزَأَتْهُ النِّيَّةُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الزَّوَالِ" اور اگر نیت نہیں کی یہاں تک کہ صبح ہو گئی تو وہ نیت اس کے لیے کافی ہو جائے گی جو اس صبح اور زوال کے درمیان ہو۔ آپ نے پڑھا دو قسم پر، ایک نفلی روزہ اور ایک واجب۔ واجب پھر دو قسم پر: ایک وہ جس کا وقت متعین ہے، ایک وہ جس کا وقت متعین نہیں۔ تو وہ قسم واجب کی جس کا وقت متعین ہے اس میں رات سے نیت کرنا بھی صحیح اور اگر رات کو نیت نہیں کی تو پھر صبح سے لے کر زوال سے پہلے پہلے نیت کرنا بھی صحیح ہے اور اس سے یہ روزہ ہو جائے گا۔ تو لہٰذا رمضان کے اندر رات سے نیت نہیں کی بلکہ صبح ہونے کے بعد آپ نیت کرتے ہیں زوال سے پہلے پہلے تو بھی صحیح ہے بھئی، روزہ آپ کا ہو جائے گا بھئی، وہ رمضان والا۔ یا وہ معین نذر والا روزہ اسی طرح آپ رکھتے ہیں، نیت بعد میں کرتے ہیں تو روزہ ہو جائے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ اور یہ آگے آپ کو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے، یہ جو متن آرہا ہے یہ عبارت ہے قدوری کی۔ صاحبِ قدوری کیا فرماتے ہیں کہ نیت کافی ہو جائے گی صبح سے لے کر زوال تک بھئی، اس دوران بھی نیت کر لے تو نیت صحیح ہے، روزہ ہو جائے گا۔ صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ صبح سے لے کر نِصْفُ النَّهَار تک، کب تک؟ نِصْفُ النَّهَار تک جو ہے نیت کر لے تو نیت صحیح ہو جائے گی اور روزہ صحیح ہو جائے گا بھئی، روزہ صحیح ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں صاحبِ قدوری نے آپ کو زوال کا کہا کہ صبح سے لے کر زوال تک، لیکن زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ صبح سے لے کر نِصْفُ النَّهَار تک جو ہے اس کے بیچ نیت ہونی چاہیے۔ سمجھ میں آیا؟ اور نِصْفُ النَّهَار؟ بھئی دیکھیے! یہ جو ہے نا زوال کا وقت، کون سا وقت؟ جب سورج عین سر پر آتا ہے، یہ ہوتا ہے سورج جب طلوع ہوتا ہے، سورج جب نکلتا ہے اور سورج جب غروب ہوتا ہے اس کا عین وسط ہوتا ہے۔ سورج طلوع ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ ہوتے ہوتے اوپر عین سر پر آتا ہے تو بالکل یہ دن کا وسط ہے۔ اور پھر سورج آہستہ آہستہ غروب کی طرف چلتا ہے اور پھر غروب ہو جاتا ہے، تو جب عین سر پر ہو تو یہ دن کا وسط ہے۔ لیکن روزے کی ابتدا تو کہاں سے ہوتی ہے؟ سورج طلوع ہوتے وقت ہوتی ہے یا صبحِ صادق سے ہوتی ہے؟ وہ تو صبحِ صادق سے ابتدا ہوتی ہے۔ تو لہٰذا اس کے اندر پھر نِصْفُ النَّهَار کا اعتبار کیا جائے گا یعنی صبحِ صادق سے لے کر غروبِ آفتاب تک اس سارے وقت کو آپ شمار کریں، فرض کریں یہ بنتا ہے چودہ گھنٹے۔ کتنے گھنٹے؟ چودہ گھنٹے۔ تو اس کا عین نصف یعنی سات گھنٹے کا جو وقت ہوگا اس وقت یہ نِصْفُ النَّهَار کا وقت ہے بھئی۔ کس چیز کا ہے؟ نِصْفُ النَّهَار کا۔ تو یہ اس زوال سے کوئی آدھا پونا گھنٹہ یا گھنٹہ جتنا بھی پہلے بنتا ہے اس سے پہلے پہلے نیت ہونی چاہیے بھئی۔ تفصیل سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو ہمارے نزدیک بھئی رات سے بھی نیت جائز ہے اور اگر صبح نیت کر لی زوال سے پہلے پہلے یعنی نِصْفُ النَّهَار سے پہلے پہلے تو بھی یہ نیت اس کے لیے کافی ہو جائے گی اور روزہ صحیح ہو جائے گا۔ "وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لَا يُجْزِيهِ" اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ اس کے لیے کافی نہیں، یہ جو نیت کرتا ہے زوال سے پہلے اور صبح کے بعد، یہ اس کے لیے کافی نہیں، اس سے روزہ نہیں ادا ہوگا۔ اعْلَمْ أَنَّ صَوْمَ رَمَضَانَ فَرِيضَةٌ لِقَوْلِهِ تَعَالَى: {كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ} جان لے کہ رمضان کا روزہ جو ہے وہ فرض ہے اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: {كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ} تم پر روزے فرض کر دیے گئے۔ وَعَلَى فَرْضِيَّتِهِ انْعَقَدَ الْإِجْمَاعُ اور ان کے فرض ہونے پر اجماع منعقد ہے، تو قران سے بھی ثابت ہیں اور نیز ان کے فرض ہونے پر اجماع بھی ہے۔ وَلِهَذَا يُكَفَّرُ جَاحِدُهُ اور اسی وجہ سے يُكَفَّرُ کافر قرار دیا جائے گا، کافر قرار دیا جائے گا جَاحِدُهُ اس کے انکار کرنے والے کو۔ جو شخص روزے کے فرض ہونے کا انکار کرے اس کو کافر قرار دیا جائے گا۔ وَالْمَنْذُورُ وَاجِبٌ اور وہ روزہ جس کی منت مانی گئی ہے، وَاجِبٌ وہ واجب ہے بھئی، واجب ہے۔ اس کے واجب ہونے کی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: لِقَوْلِهِ تَعَالَى: {وَلْيُوفُوا نُذُورَهُمْ} اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: {وَلْيُوفُوا نُذُورَهُمْ} اور چاہیے کہ وہ لوگ پورا کریں اپنی منتوں کو، اور ان لوگوں کو اپنی منتوں کو پورا کرنا چاہیے۔ یہ کس چیز کی دلیل ہے؟ کہ منت کا جو روزہ ہے وہ واجب ہے۔ بھئی رمضان کا روزہ تو فرض، لیکن منت کا روزہ فرض نہیں بلکہ اس سے کچھ کم درجے یعنی واجب ہے بھئی، واجب ہے۔ اور دلیل کیا ذکر کی؟ {وَلْيُوفُوا نُذُورَهُمْ} دلیل کس طرح ہے یہ بھئی؟ کہ امر کس لیے آتا ہے؟ وجوب کے لیے، اور یہاں کون سا صیغہ آرہا ہے؟ امر کا صیغہ۔ بھئی یاد رکھیے یہ بات کہ امر وجوب کے لیے آتا ہے، وجوب سے فرضیت مراد ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہاں امر کا صیغہ آیا تو اس کو فرض قرار دینا چاہیے، اللہ تعالیٰ حکم دے رہے ہیں کہ کیا کرنا چاہیے منتوں کو؟ ان لوگوں کو منتوں کو پورا کرنا چاہیے بھئی۔ تو یہ جو آپ پڑھتے ہیں نا کہ امر وجوب کے لیے آتا ہے، وجوب سے کیا مراد ہے؟ فرضیت مراد ہے۔ تو اشکال ہوتا ہے کہ یہاں امر کا صیغہ آیا اور قران سے ثابت ہو رہی ہے ایک بات اور صیغہ بھی امر کا ہے، تو اس منت کے روزے کو بھی کیا قرار دینا چاہیے؟ فرض قرار دینا چاہیے، تو یہ دلیل تو دعوے کے مطابق نہیں، دعویٰ تو کیا تھا؟ کہ منت کا روزہ واجب، اور دلیل جو ذکر کی جا رہی ہے وہ تو کس پر دلالت کر رہی ہے؟ اس کو کیا قرار دینا چاہیے؟ فرض قرار دینا چاہیے۔ جواب یہ کہ بالاتفاق منتوں میں سے بعض منتیں اس حکم سے خارج ہیں۔ بعض منتیں کیا ہیں؟ اس حکم سے خارج ہیں۔ تو یہ عام، عام مخصوص البعض ہوا بھئی، وہ عام جس سے بعض افراد کی کیا کر لی گئی ہے؟ تخصیص کر لی گئی ہے بالاتفاق، بالاتفاق۔ مثلاً کوئی گناہ کی منت مان لیتا ہے تو کیا اس کو پورا کرنا پڑے گا؟ حالانکہ قران میں اللہ کیا فرما رہے ہیں: {وَلْيُوفُوا نُذُورَهُمْ} تو بالاتفاق وہ اس حکم سے خارج ہے، اس کو پورا نہیں کیا جائے گا تو اس سے تو بچنا ضروری ہے بلکہ۔ تو اسی طرح اور بعض منتیں ہیں مثلاً کسی ایسی چیز کی منت مان لیتا ہے جو عبادت نہیں ہے مثلاً کسی بھی وقت، تو یعنی لازم عبادتِ لازمہ نہیں ہے تو اس طرح کی منت جو ہے وہ بھی پوری کرنا ضروری نہیں۔ تو معلوم ہوا بعض منتوں کو اس حکم سے نکالا گیا ہے، تو یہ کس طرح کا عام ہوا جس سے بعض افراد کی تخصیص کر لی گئی ہے، اور وہ عام جس سے بعض افراد کی تخصیص کر لی جائے وہ قطعی نہیں رہتا بلکہ کیا بن جاتا ہے؟ ظنی بن جاتا ہے، ظنی بن جاتا ہے۔ تو لہٰذا اس لیے یہ بھی ظنی ہوا اور اس وجہ سے یہ قطعی نہ رہا تو اس کو فرض نہیں قرار دیا گیا اور اس سے نچلا درجہ تھا واجب کا تو اس کو کیا قرار دیا گیا؟ واجب قرار دیا گیا۔ دلیل سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو اگر اس سے تخصیص نہ ہوتی تو اس کو بھی ہم فرض قرار دیتے۔ جیسے آپ اصول الشاشی اور نور الانوار میں پڑھ چکے ہیں، کتاب اللہ سے مثالیں ذکر کی جاتی ہیں عام کی اور اس سے بعض افراد کو نکال لیا جاتا ہے تو پھر وہ قطعی نہیں رہتا بلکہ کیا بن جاتا ہے؟ ظنی بن جاتا ہے، تو یہاں بھی اسی طرح ہے۔ وَسَبَبُ الْأَوَّلِ الشَّهْرُ اور اول کا سبب مہینہ ہے۔ بھئی دو قسم کے روزے ذکر ہوئے نا جن کا تعلق متعین زمانے سے ہے، ایک رمضان کا اور ایک نذرِ معین۔ تو وہ اول یعنی رمضان کا جو روزہ ہے اس کا سبب مہینہ ہے۔ وَلِهَذَا يُضَافُ إِلَيْهِ اسی لیے اس کی نسبت اس مہینے کی طرف کی جاتی ہے اور کیا کہتے ہیں؟ صَوْمُ رَمَضَانَ۔ وَيَتَكَرَّرُ بِتَكَرُّرِهِ اور نیز اس کا تکرار ہوتا ہے مہینے کے تکرار کے ساتھ، یعنی اگلے سال پھر رمضان جو شخص پائے گا اس پر پھر اس مہینے کے روزے فرض ہوں گے، اس سے اگلے سال پھر رمضان کا مہینہ پائے گا تو اس پر اس رمضان کے روزے بھی فرض ہو جائیں گے۔ تو لہٰذا معلوم ہوا ان رمضان کے روزوں کا سبب کیا ہے؟ رمضان کا مہینہ ہے، جو اس رمضان کے مہینے کو پا لے گا اس پر رمضان کے روزے فرض ہو جائیں گے، واجب ہو جائیں گے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟ تو معلوم ہوا یہ وجوب کس سے آتا ہے رمضان کے روزوں کا؟ رمضان کے مہینے کو پا لینے سے، جو اس مہینے کو پا لے گا۔ وَكُلُّ يَوْمٍ سَبَبُ وُجُوبِ صَوْمِهِ اور ہر دن جو ہے وہ اپنے روزے کے وجوب کا سبب ہے۔ رمضان کا ہر دن اپنے روزے کے وجوب کا سبب ہے۔ یہاں وجوب سے مراد ہے وجوبِ ادا، کیا مراد ہے؟ وجوبِ ادا مراد ہے۔ بھئی دیکھیے! ایک ہے نفسِ وجوب، ایک ہے وجوبِ ادا، ایک وجوبِ ادا۔ آپ کسی کے ساتھ عقد و شراء والا معاملہ کرتے ہیں، خرید و فروخت کرتے ہیں تو آپ نے مثلاً اس سے ایک کتاب خرید لی، کتاب خرید لی کہ یہ کتاب میں آپ سے سو روپے میں خریدتا ہوں، اس نے کہا مجھے منظور ہے، عقد ہو گیا۔ عقد ہوتے ہی آپ اس کتاب کے مالک بن گئے اور آپ پر سو روپے واجب ہو گئے، کیا ہو گئے؟ واجب، لازم ہو گئے۔ تو نفسِ وجوب عقد سے ہی آ گیا آپ پر سو روپے کا، لیکن یہ سو روپے فی الحال دینا ضروری نہیں ہے آپ پر، فی الحال آپ کو دینا ضروری نہیں۔ ہاں، جب وہ شخص آپ سے مانگ لے: لاؤ بھئی، میرے پیسے دے دو، اب آپ پر ادا بھی ضروری ہو گئی۔ تو پہلے کیا آیا تھا؟ نفسِ وجوب، اور پھر جب مطالبہ اس کی طرف سے ہو گیا تو کیا آ گیا؟ وجوبِ ادا بھی آپ پر آ گیا۔ تو نفسِ وجوب اور چیز ہے، وجوبِ ادا اور چیز۔ تو نفسِ وجوب ان روزوں کا کس سے آتا ہے؟ رمضان کے مہینے سے، اور وجوبِ ادا کس سے آئے گا؟ ہر دن کے وجوبِ ادا اس دن کے آنے سے ہوگا کہ اب یہ دن آگیا ہے اب کیا کرو؟ اس دن کا روزہ ادا کر دو۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں: "وَكُلُّ يَوْمٍ سَبَبُ وُجُوبِ صَوْمِهِ" اور ہر دن جو ہے اپنے روزے کے وجوب کا سبب ہے۔ تو یہ ایک تقریر ہو گئی اس مقام کی کہ سببِ اول کس کو قرار دیا، یہ ان رمضان کے روزوں کا نفسِ وجوب کس سے آتا ہے؟ رمضان کا مہینہ پانے سے، اور وجوبِ ادا ہر دن کے روزے کا اس دن کو پالینے سے ہوگا وجوبِ ادا۔ یا "وَكُلُّ يَوْمٍ سَبَبُ وُجُوبِ صَوْمِهِ" اس کے ذریعے صاحبِ ہدایہ جو ہے وہ دوسرے قول کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں جیسا کہ علامہ فخر الاسلام وغیرہ رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے کہ روزہ جو ہے وہ عبادتِ متفرقہ ہے کہ ہر دن کا الگ روزہ ہوتا ہے، رمضان میں ہر دن کا الگ روزہ ہوتا ہے۔ تو ہر دن کے روزے کا نفسِ وجوب ہی کس سے آتا ہے؟ اس دن کے پا لینے سے ہوگا۔ ہر دن کا نفسِ وجوب ہی اس دن کے پا لینے کے ساتھ ہوگا بھئی، بات سمجھ میں آگئی؟ تو گویا رمضان کے روزے واجب ہو رہے ہیں مہینے کے، اس رمضان کے مہینے کی وجہ سے، لیکن ہر ہر روزہ جو ہے وہ اس دن کے پانے سے واجب ہوتا ہے بھئی۔ یہ معنی ہے: "وَكُلُّ يَوْمٍ سَبَبُ وُجُوبِ صَوْمِهِ" یا ہر دن جو ہے وہ اپنے روزے کے وجوب کا سبب ہے۔ وَسَبَبُ الثَّانِي النَّذْرُ اور دوسرے کا سبب منت ہے، دوسرا روزہ جو نذرِ معین تھا اس کا سبب وہ منت ہے۔ پہلے کا سبب تو مہینہ ہے رمضان کا، اور دوسرا منت ہے۔ وَالنِّيَّةُ مِنْ شُرُوطِهِ اور نیت روزے کی شرائط میں سے ہے، نیت ہوگی تو روزہ ہوگا، نیت نہیں تو روزہ بھی نہیں۔ وَسَنُبَيِّنُهُ وَنُفَسِّرُهُ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى اور عنقریب ہم اس کو بیان کریں گے اور اس کی تفسیر کریں گے إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى۔ وَجْهُ قَوْلِهِ فِي الْخِلَافِيَّةِ قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بھئی امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے تھے کہ رمضان کا روزہ ہو یا نذرِ معین کا روزہ ہو تو رات سے ہی نیت کرنا ضروری ہے، صبح کے بعد نیت کی تو یہ اس کے لیے کافی نہیں، اس سے وہ روزہ ادا نہیں ہوگا۔ تو یہ جو انہوں نے اختلاف کیا اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں کہ ان کی دلیل کیا ہے۔ کہتے ہیں: "وَجْهُ قَوْلِهِ" اور امام شافعی رحمہ اللہ کے قول کی وجہ یعنی ان کی دلیل جو ہے "فِي الْخِلَافِيَّةِ" أَيْ فِي الْمَسْأَلَةِ الْخِلَافِيَّةِ اس اختلافی مسئلے کے اندر، "قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ" حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے کہ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”لَا صِيَامَ لِمَنْ لَمْ يَنْوِ الصِّيَامَ مِنَ اللَّيْلِ“ کہ روزے نہیں ہے اس شخص کے جس نے روزوں کی نیت رات سے نہ کی۔ حدیث میں کیا آتا ہے؟ اس شخص کا روزہ ہی نہیں جس نے رات سے روزے کی نیت نہ کی۔ ایک دلیل، ایک دلیل یہ امام شافعی رحمہ اللہ کی۔ اور دوسری عقلی دلیل، وہ فرماتے ہیں: وَلِأَنَّهُ لَمَّا فَسَدَ الْجُزْءُ الْأَوَّلُ لِفَقْدِ النِّيَّةِ فَسَدَ الثَّانِي ضَرُورَةَ أَنَّهُ لَا يَتَجَزَّأُ بھئی یاد رکھیے! امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک یہ واجب روزہ ہے، فرض روزہ ہے رمضان وغیرہ کا اور ایک نفل روزہ ہے۔ نفل روزے کی تقسیم ہو سکتی ہے۔ یرحمک اللہ۔ نفل روزے کی تقسیم ہو سکتی ہے، ٹکڑے ہو سکتا ہے وہ، وہ ٹکڑے ہو سکتا ہے، لیکن رمضان وغیرہ یہ جو واجب روزہ ہے اس کے ٹکڑے نہیں ہو سکتے۔ یہ اس کے اندر جب ٹکڑے نہیں ہو سکتے تو ایک جز کے اندر اگر خرابی آئی تو خرابی سارے روزے میں گویا آگئی کیونکہ ٹکڑے تو ہو نہیں سکتے، ایک ہی چیز ہے، تو جب ایک جز میں خرابی آگئی، جز میں خرابی آئی تو گویا کس کے اندر آگئی؟ کل کے اندر خرابی آگئی، لہٰذا پورا روزہ ہی فاسد ہو جائے گا۔ اور جب اس نے اول جز کے اندر رمضان کے اندر نیت نہیں کی تھی صبح طلوع ہو گئی اور اس نے ابھی نیت نہیں کی تو پہلا جز فاسد ہوا کیونکہ اس کے اندر تو روزہ نہیں، اور تقسیم تو ہو نہیں سکتی اس کی لہٰذا جب ایک جز فاسد ہوا تو باقی جز بھی کیا ہو جائے گا سارا؟ فاسد ہو جائے گا کیونکہ یہاں تقسیم نہیں کہ کچھ کا حکم کچھ اور ہو اور کچھ حصے کا حکم کچھ اور ہو۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جبکہ اس کے مقابلے میں وہ فرماتے ہیں نفل کے اندر تجزی ہو سکتی ہے، تقسیم ہو سکتی ہے۔ لہٰذا ایک آدمی نے نفل روزے کی نیت کی عصر کے وقت جا کر، کس وقت کی؟ عصر کے وقت جا کر کی، تو کہتے ہیں بس اس کا روزہ ہو جائے گا اور صرف عصر سے مغرب تک ہوگا۔ کب سے لے کر؟ لیکن شرط ہے صبح سے اس نے کچھ کھایا نہ ہو، یہ تو شرط ہے۔ یعنی خلافِ روزہ کوئی چیز نہ پائی گئی، اس نے صبح سے نہ کچھ کھایا ہے، نہ پیا ہے، نہ بیوی کے قریب گیا ہے اور عصر کو جا کر اس کا ارادہ ہوا یا زوال کے بعد اس کا ارادہ بن گیا کہ میں کیا کر لیتا ہوں، میں نے کچھ کھایا پیا تو ہے نہیں میں کیا کر لیتا ہوں؟ روزہ رکھ لیتا ہوں، تو بس اس کی یہ نیت صحیح ہے اور اس کا روزہ ہوگا، لیکن صبح سے نہیں ہوگا بلکہ کب سے ہوگا؟ جس وقت اس نے نیت کی ہے اس سے لے کر آخر تک، کیونکہ یہ نفلی روزہ ہے اور نفلی روزے کی ان کے نزدیک تقسیم ہو سکتی ہے، تجزی ہو سکتی ہے۔ مسئلہ سمجھ میں آگیا؟ لیکن واجب روزے کے اندر وہ بھی فرماتے ہیں تجزی نہیں ہو سکتی۔ تو وہ ان کی عقلی دلیل اب آرہی ہے، وہ فرماتے ہیں: وَلِأَنَّهُ لَمَّا فَسَدَ الْجُزْءُ الْأَوَّلُ لِفَقْدِ النِّيَّةِ اس لیے کیونکہ جب پہلا جز فاسد ہو گیا نیت نہ ہونے کی وجہ سے، فَسَدَ الثَّانِي تو دوسرا جز بھی فاسد ہو گیا، ضَرُورَةَ أَنَّهُ لَا يَتَجَزَّأُ اس بات کے یقینی ہونے کی وجہ سے کہ اس کی تقسیم نہیں ہوتی، اس کے ٹکڑے نہیں ہوتے۔ ضَرُورَةَ کا کیا معنی یہاں کر لیں؟ یقینی کے، اس بات کے یقینی ہونے کی وجہ سے کہ اس کے ٹکڑے، کیونکہ ہمارے نزدیک بھی روزے کے ٹکڑے نہیں، ایک جز فاسد ہوا تو سارا روزہ کیا ہو جائے گا؟ فاسد ہو جائے گا۔ تو ان کے نزدیک بھی یہ حکم ہے۔ یہ معنی ہے کہ جب پہلا جز فاسد ہوا نیت نہ ہونے کی وجہ سے تو دوسرا جز بھی فاسد ہو جائے گا اس بات کے یقینی ہونے کی وجہ سے کہ أَنَّهُ لَا يَتَجَزَّأُ کہ اس کی تقسیم نہیں ہوتی، اس کے ٹکڑے نہیں ہوتے۔ بِخِلَافِ النَّفْلِ بخلاف کس کے؟ نفل کے، لِأَنَّهُ مُتَجَزٍّ عِنْدَهُ اس لیے کیونکہ نفل جو ہے وہ اس کی تجزی ہوتی ہے ان کے نزدیک، وہ ٹکڑے ہونے والا ہے، اس کے ٹکڑے ہو جاتے ہیں۔ وَلَنَا قَوْلُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا شَهِدَ الْأَعْرَابِيُّ بِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ: ”أَلَا مَنْ أَكَلَ فَلَا يَأْكُلَنَّ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ، وَمَنْ لَمْ يَأْكُلْ فَلْيَصُمْ“ اور ہماری دلیل جو ہے حضور علیہ السلام کا قول ہے: بَعْدَ مَا شَهِدَ الْأَعْرَابِيُّ بِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ بعد اس کے کہ جب ایک دیہاتی نے گواہی دے دی تھی چاند دیکھنے کی تو حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”أَلَا“ آگاہ رہو، سنو! ”مَنْ أَكَلَ فَلَا يَأْكُلَنَّ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ“ کہ جس نے کھا لیا ہے تو وہ باقی کا دن ہرگز نہ کھائے، ”وَمَنْ لَمْ يَأْكُلْ فَلْيَصُمْ“ اور جس نے نہیں کھایا اس کو روزہ رکھ لینا چاہیے۔ بھئی ایک مرتبہ یہ چاند نظر نہیں آیا تھا، اگلے دن اگلے دن پھر ایک دیہاتی نے آکر گواہی دی کہ اس نے رمضان کا چاند دیکھا ہے تو پھر حضور علیہ السلام نے صحابہ کو حکم دیا اور ان سے فرمایا کہ جس نے جس نے کھا لیا ہے تو وہ باقی دن نہ کھائے یعنی روزہ تو نہیں لیکن باقی دن اب وہ کچھ نہ کھائے، اور جس نے کچھ نہیں کھایا وہ روزہ رکھ لے، وہ روزہ رکھ لے۔ اور یہ کب فرما رہے ہیں حضور علیہ السلام؟ صبح طلوع ہو چکی ہے یا نہیں ہو چکی؟ صبح طلوع ہو چکی ہے، اس کے بعد فرما رہے ہیں کہ وہ روزہ رکھ لے، معلوم ہوا صبح طلوع ہو جانے کے بعد بھی نیت روزے کی کرنا صحیح ہو جائے گا رمضان وغیرہ واجب روزے میں۔ وَمَا رَوَاهُ مَحْمُولٌ عَلَى نَفْيِ الْفَضِيلَةِ وَالْكَمَالِ اور وہ حدیث جس کو امام شافعی رحمہ اللہ نے روایت کیا وہ محمول ہے فضیلت اور کمال کی نفی پر۔ اب وہ جواب دے رہے ہیں، امام شافعی رحمہ اللہ نے کون سی حدیث ذکر کی تھی؟ کہ ”لَا صِيَامَ لِمَنْ لَمْ يَنْوِ الصِّيَامَ مِنَ اللَّيْلِ“ اس شخص کے روزے ہی نہیں جس نے رات سے روزوں کی نیت نہیں کی۔ تو صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ اس حدیث میں فضیلت اور کمال کی نفی ہے یعنی اس شخص کے لیے روزے کی فضیلت نہیں ہے جس نے رات سے نیت نہ کی، یا اس شخص کے لیے اس شخص کا روزہ کامل نہیں ہے جس نے رات سے روزے کی نیت نہیں کی۔ تو نفسِ روزے کی نفی وہاں مراد نہیں ہے کہ اس کا روزہ ہی نہیں ہوگا بلکہ حدیث میں کیا مراد ہے؟ فضیلت کی نفی ہے کہ افضل نہیں ہے اس کا روزہ اور کامل نہیں ہے اس کا روزہ بھئی، بات سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے: "وَمَا رَوَاهُ مَحْمُولٌ عَلَى نَفْيِ الْفَضِيلَةِ وَالْكَمَالِ" اور وہ حدیث جس کو امام شافعی رحمہ اللہ نے روایت کیا وہ محمول ہے فضیلت اور کمال کی نفی پر۔ ایک جواب اس کا ہو گیا اس حدیث کا۔ أَوْ مَعْنَاهُ لَمْ يَنْوِ أَنَّهُ صَوْمٌ مِنَ اللَّيْلِ یا اس کا معنی یہ ہے کہ اس نے یہ نیت نہیں کی کہ اس کا روزہ رات سے ہے۔ مثلاً بھئی، ہم کہتے ہیں حدیث میں جو آیا کہ جس نے رات سے روزے کی نیت نہیں کی اس کا روزہ نہیں، معنی یہ ہے کہ دن میں نیت کر رہا ہے اور نیت یہ کر رہا ہے کہ اس وقت سے میرا روزہ ہے، حالانکہ نیت تو کیا ہونی چاہیے؟ صبحِ صادق سے یعنی رات سے ہی میرا کیا ہونا چاہیے؟ روزہ۔ یہ نیت ضروری تھی، لیکن یہ کیا نیت کر رہا ہے؟ اس وقت سے، مثلاً صبح دس بجے ہیں، نو بجے ہیں، اس وقت وہ نیت کیا کر رہا ہے؟ اس وقت سے میرا شام تک روزہ ہے، تو اس صورت میں تو ہمارے نزدیک بھی روزہ صحیح نہیں ہے بلکہ کیا نیت ضروری ہے؟ کہ رات سے اس کا روزہ ہے یعنی جب سے صبحِ صادق طلوع ہوئی ہے اس وقت سے روزہ ہے کیونکہ روزہ روزے کا آغاز ہوتا ہی کس وقت سے ہے؟ صبحِ صادق سے ہوتا ہے۔ جواب بھی سمجھ میں آیا کہ نہیں سمجھ میں آیا؟ تو دوسرا جواب دے رہے ہیں، کہتے ہیں: "أَوْ مَعْنَاهُ لَمْ يَنْوِ أَنَّهُ صَوْمٌ مِنَ اللَّيْلِ" یا اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ اس نے یہ نیت نہیں کی کہ یہ روزہ کب سے ہے؟ رات سے ہے، یہ نیت نہیں کی بلکہ کیا نیت کی ہے؟ روزہ اس وقت سے ہے جب وہ نیت کر رہا ہے تو اس صورت میں اس کا روزہ نہیں ہوگا جیسا حدیث میں آیا۔ وَلِأَنَّهُ یہاں سے اب دوسری دلیل ہماری ذکر ہو رہی ہے، عقلی دلیل۔ پہلی دلیل حدیث ذکر ہو گئی تو عقلی دلیل کہتے ہیں: وَلِأَنَّهُ يَوْمُ صَوْمٍ فَيَتَوَقَّفُ الْإِمْسَاكُ فِي أَوَّلِهِ عَلَى النِّيَّةِ الْمُتَأَخِّرَةِ الْمُقْتَرِنَةِ بِأَكْثَرِهِ كَالنَّفْلِ بھئی نفلی روزے میں نفلی روزے میں امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی ان کے نزدیک ابھی مسئلہ ذکر ہوا، جب چاہے کوئی شخص نیت کر سکتا ہے۔ ہمارے نزدیک نفلی روزے کے اندر بھی نِصْفُ النَّهَار سے پہلے نیت ضروری ہے، اور وہ بھی فرماتے ہیں کہ نفلی روزے کے اندر بعد میں بھی نیت ہو سکتی ہے لیکن وہ نِصْفُ النَّهَار کی قید بھی نہیں لگاتے، وہ فرماتے ہیں جس وقت بھی کیا کرے گا؟ نیت کرے گا اس وقت سے اس کا روزہ شمار ہوگا۔ ہاں، جو حصہ گزر گیا اس میں چونکہ نیت نہیں تھی لہٰذا وہ ان کے نزدیک روزہ بھی شمار نہیں ہوگا۔ ہاں، البتہ میں نے بتایا إِمْسَاك یعنی کھانے، پینے اور صحبت سے رکنا وہ ضروری ہو، نیت سے پہلے بھی یہ إِمْسَاك ضروری ہو ضروری ہے اس دن ان کے نزدیک بھئی، بات سمجھ میں آرہی ہے؟ تو ہم کہتے ہیں کہ یہ جو رمضان ہے یا نذرِ معین والا دن جو اس نے خود متعین کر لیا، یہ دن ہے ہی کس چیز کا؟ روزے کا دن ہے، روزے کا دن ہے۔ اور لہٰذا اس اس دن کا روزہ موقوف ہے کس پر؟ اس کے یعنی یوں کہیں کہ اس کے اندر اکثر حصے کے اندر بھی اگر نیت پائی جائے، اکثر حصے میں بھی، تو آپ ضابطہ پڑھ چکے ہیں: ”لِلْأَكْثَرِ حُكْمُ الْكُلِّ“ کہ اکثر کے لیے کل کا حکم ہے، جو ایک چیز کے اکثر پر عمل کر لے گویا اس نے اس کے کل پر عمل کر لیا۔ تو بے شک، بے شک اس کی نیت مؤخر ہوئی لیکن إِمْسَاك کچھ پہلے پایا گیا لیکن اکثر إِمْسَاك کس چیز کے ساتھ پایا گیا؟ نیت کے ساتھ پایا گیا تو لہٰذا یہ إِمْسَاك جو ہے یہ روزہ ہی شمار ہوگا کیونکہ اس کے اکثر کے ساتھ نیت پائی گئی ہے جیسے نفلی روزے کے اندر ہے، جیسے کس میں ہے؟ نفل، اور نفلی روزے میں تو آپ کے نزدیک بھی اگر بعد میں نیت ہو تو نیت معتبر ہے، تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے، یہاں بعد میں نیت ہو جائے تو بھی یہ روزہ معتبر ہے لیکن شرط کیا ہے؟ کہ اکثر حصے میں نیت پائی جانی چاہیے، اور اکثر حصے میں نیت کب پائی جائے گی؟ جب نِصْفُ النَّهَار سے پہلے کر لے گا، پہلے کر لے گا۔ مسئلہ سمجھ میں آگیا؟ اب ترجمے پہ نظر رکھیے گا بھئی یہاں پر: وَلِأَنَّهُ يَوْمُ صَوْمٍ اور اس لیے کیونکہ یہ روزے کا دن ہے، فَيَتَوَقَّفُ الْإِمْسَاكُ فِي أَوَّلِهِ تو اس دن کے پہلے حصے میں جو إِمْسَاك ہے، جو رکنا ہے، کس چیز سے رکنا؟ کھانے، پینے اور صحبت سے، یہ جو إِمْسَاك ہے یہ موقوف رہے گا عَلَى النِّيَّةِ الْمُتَأَخِّرَةِ اس نیت پر جو اس سے مؤخر ہے، الْمُقْتَرِنَةِ بِأَكْثَرِهِ اور ملی ہوئی ہے اس کے اکثر اس إِمْسَاك کے اکثر حصے کے ساتھ، كَالنَّفْلِ جیسے کہ نفل ہے، اور نفل کے اندر تو آپ بھی مانتے ہیں تو یہ بھی کس کی طرح ہوا؟ اس نفل کی طرح ہوا تو اس میں بھی إِمْسَاك ہوتا ہے اور اس إِمْسَاك کے اکثر حصے میں جب نیت پائی گئی تو یہ شروع کا جو إِمْسَاك وہ بھی اسی کے ساتھ شمار ہوگا کیونکہ اکثر میں نیت پائی گئی ہے تو روزہ واقع ہو جائے گا۔ وَهَذَا لِأَنَّ الصَّوْمَ رُكْنٌ وَاحِدٌ مُمْتَدٌّ اور یہ اس وجہ سے، بھئی انہوں نے کیا کہا کہ نیت بے شک مؤخر ہو لیکن اکثرِ إِمْسَاك کے ساتھ نیت پائی جائے تو یہ إِمْسَاك کیا شمار کیا جائے گا؟ روزہ شمار کیا جائے گا۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے تھے؟ نہیں، یہ روزہ اس کی تقسیم نہیں ہو سکتی لہٰذا جب ایک جز فاسد، پہلے میں نیت نہیں تو وہ جز فاسد، جب وہ فاسد تو باقی بھی فاسد ہوگا۔ تو ہم نے کہا نہیں کہ یہ إِمْسَاك جو ہے یہ سارا ہی روزہ شمار کیا جائے گا جب اس کے اکثر میں کیا پائی جائے؟ نیت پائی جائے، اور آگے بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: وَهَذَا لِأَنَّ الصَّوْمَ رُكْنٌ وَاحِدٌ مُمْتَدٌّ اور یہ اس وجہ سے اس لیے کیونکہ روزہ جو ہے وہ ایک ہی رکن ہے مُمْتَدٌّ لمبا بھئی، ایک ہی لمبا رکن ہے روزے کا اور وہ کیا؟ إِمْسَاك، کیا ہے؟ اس میں کیا روزے میں کئی ارکان ہیں؟ بھئی نماز میں جیسے قیام ہے، قرأت ہے، رکوع ہے، سجدہ ہے، کئی ارکان ہیں نماز کے، لیکن روزے کا تو ایک ہی رکن ہے اور وہ کیا؟ إِمْسَاك، اور وہ إِمْسَاك وہ لمبا ہے یا لمبا نہیں ہے؟ لمبا إِمْسَاك ہے، صبحِ صادق سے لے کر غروبِ آفتاب تک بھئی۔ تو روزے کا ایک ہی روزہ جو ہے وہ ایک ہی لمبا رکن ہے، وَالنِّيَّةُ لِتَعْيِينِهِ لِلَّهِ تَعَالَى اور نیت جو ہے وہ اس إِمْسَاك کو اللہ تعالیٰ کے لیے متعین کرنے کے لیے ہے کہ یہ إِمْسَاك جو ہے ویسے عادتاً میں ان چیزوں سے نہیں رکا بلکہ کس لیے رکا ہوں ان چیزوں سے؟ اللہ کے لیے میں رکا ہوں، کس کے لیے رکا ہوں؟ تو نیت جو ہے اس إِمْسَاك کو اللہ کے لیے متعین کرنے کے لیے ہے، فَتَتَرَجَّحُ بِالْكَثْرَةِ جَنْبَةُ الْوُجُودِ پس ترجیح پا جائے گا کثرت کی وجہ سے وجود والی جانب، کثرت کی وجہ سے وجود والی جانب ترجیح پا جائے گی۔ یعنی جب اکثر حصے کے اندر یہ تعیین موجود ہے کہ یہ کس کے لیے إِمْسَاك ہے؟ اللہ کے لیے۔ پہلے حصے میں إِمْسَاك تو تھا لیکن ابھی نیت نہیں تھی، اور اکثر حصے میں نیت آگئی تو معلوم ہوا اکثر حصے میں اس نے یہ تعیین کر دی کہ یہ کس کے لیے ہے إِمْسَاك؟ اللہ کے لیے ہے، تو کثرت کی وجہ سے یہ وجود والی جہت وہ ترجیح پا جائے گی۔ بھئی کچھ حصہ گزرا اس میں وجودِ نیت نہیں، اور کچھ حصہ گزرا اس میں وجودِ نیت ہے، اور کون سا حصہ کثیر ہے؟ جس میں وجودِ نیت ہے، تو وجودِ نیت والی جانب ترجیح پا جائے گی کس کی وجہ سے؟ کثرت کی وجہ سے، کثیر ہونے کی وجہ سے اور سارے ہی کو کیا قرار دے دیں گے؟ روزہ، سارے إِمْسَاك کو کس کے لیے قرار دے دیں گے؟ اللہ کے لیے قرار دے دیں گے یعنی روزہ ہو جائے گا۔ دلیل سمجھ میں آرہی ہے کہ روزہ کس چیز کا نام ہے؟ إِمْسَاك، اور یہ إِمْسَاك طویل ہے، صبحِ صادق سے لے کر کب تک ہے؟ غروبِ آفتاب، آفتاب تک۔ ایک ہی رکن ہے، اس میں دو یا تین یا چار ارکان نہیں، ایک ہی لمبا رکن ہے۔ تو اور یہ إِمْسَاك جو ہے اس کے اندر صرف کیا شرط تھی؟ کیا ضروری تھا؟ کہ یہ یہ متعین کرنا یہ کس کے لیے ہے؟ اللہ کے لیے ہے یعنی ارادہ کرنا اور نیت کرنا، ارادہ اور نیت کرنا۔ یہ ضروری تھا اور یہ باقی تھا، صبح اس نے کی نہیں نیت لیکن پھر بعد میں اس نے نیت کر لی یعنی یہ متعین کر دیا کہ یہ کس کے لیے إِمْسَاك ہے؟ اللہ کے لیے ہے۔ تو جب ایک ہی رکن ہے، جب اس کے اکثر حصے کے اندر یہ تعیین پائی گئی کہ یہ إِمْسَاك اللہ کے لیے ہے تو یہ اکثر حصہ جو ہے کثیر ہونے کی وجہ سے ترجیح پا جائے گا اور کیا شمار کیا جائے گا؟ گویا کہ سارے ہی إِمْسَاك میں کیا پائی گئی؟ نیت یعنی یہ تعیین للہ پائی گئی بھئی، دلیل سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں: وَهَذَا لِأَنَّ الصَّوْمَ رُكْنٌ وَاحِدٌ مُمْتَدٌّ اور یہ اس وجہ سے کیونکہ روزہ جو ہے ایک ہی لمبا رکن ہے، وَالنِّيَّةُ لِتَعْيِينِهِ لِلَّهِ تَعَالَى اور نیت جو ہے اس کو اللہ کے لیے متعین کرنے کے لیے ہوتی ہے، فَتَتَرَجَّحُ بِالْكَثْرَةِ جَنْبَةُ الْوُجُودِ تو ترجیح پا جائے گی کثیر ہونے کی وجہ سے ترجیح پا جائے گی، کون سی جانب؟ جَنْبَةُ الْوُجُودِ وجود کی جانب یعنی جس میں نیت کا وجود پایا گیا یعنی اکثر حصے میں۔ بِخِلَافِ الصَّلَاةِ وَالْحَجِّ بخلاف کس کے؟ نماز اور حج کے، وہاں پر شروع سے ہی نیت ضروری ہے، وہاں اکثر حصے کا اعتبار نہیں کیا جائے گا کہ بعد میں بھی نیت کر لی تو اکثرِ نماز میں تو نیت پائی گئی۔ کہتے ہیں نہیں، نماز اور حج اس طرح نہیں، اس لیے کیونکہ روزے کا تو ایک ہی رکن تھا جبکہ ان کے تو زیادہ ارکان ہیں، جب زیادہ ارکان ہیں تو جس وقت ان کو شروع کرنے لگا ہے، ان کو ادا کرنے لگا ہے اس سے پہلے کیا ضروری ہے؟ اس وقت نیت ضروری ہے جب ان کو شروع کرنے لگا ہے تاکہ سب ارکان میں کیا آجائے؟ نیت آجائے بھئی۔ دلیل سمجھ میں آگئی؟ بِخِلَافِ الصَّلَاةِ وَالْحَجِّ لِأَنَّهُمَا أَرْكَانٌ بخلاف نماز اور حج کے اس لیے کیونکہ وہ تو کئی ارکان ہیں، فَيُشْتَرَطُ قِرَانُهَا بِالْعَقْدِ عَلَى أَدَائِهِمَا قِرَانُهَا ہونا چاہیے بھئی، یہ هُمَا نہیں بلکہ قِرَانُهَا۔ فَيُشْتَرَطُ قِرَانُهَا بِالْعَقْدِ عَلَى أَدَائِهِمَا قِرَانُهَا یہ ہا ضمیر راجع ہے نیت کو، ہا ضمیر کس کو راجع؟ نیت کو راجع۔ تو شرط ہوگا اس نیت کا ملا ہونا، اس کو کیا قرار دیا جائے گا؟ شرط کہ نیت ملی ہوئی ہو، بِالْعَقْدِ عَلَى أَدَائِهِمَا عقد سے مراد ہے شروع کی حالت، عقد سے کیا مراد ہے؟ شروع کی حالت مراد ہے۔ تو یہ جو عَلَى أَدَائِهِمَا یہ جو نماز اور حج کی ادا پر جو عقد ہے، توجہ ہے سبق کی طرف؟ نماز اور حج کی ادائیگی پر جو عقد ہے یعنی جو شروع کی حالت ہے اس کے ساتھ نیت کا ملا ہونا شرط ہوگا۔ یعنی ان کے شروع میں ہی نیت کا پایا جانا شرط ہوگا۔ ترجمہ سمجھ میں آگیا بھئی؟ عقد سے کیا مراد؟ شروع کی حالت مراد ہے، شروع کی حالت بھئی۔ اور عَلَى أَدَائِهِمَا ہما ضمیر کس کو راجع؟ حج اور نماز کو، تو حج اور نماز کی ادا پر جو شروع کی حالت ہے اس کے ساتھ يُشْتَرَطُ قِرَانُهَا أَيْ قِرَانُ النِّيَّةِ اس کے ساتھ نیت کے ملنے کی نیت کا ملنا شرط ہوگا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو یہ معنی ہے: "فَيُشْتَرَطُ قِرَانُهَا بِالْعَقْدِ عَلَى أَدَائِهِمَا" تو شرط ہوگا کہ وہ نیت ملی ہوئی ہو اس شروع کی اس حالت کے ساتھ جو نماز اور حج کی ادائیگی پر ہے، نماز اور حج کی ادائیگی پر جو شروع کی حالت ہے اس کے ساتھ نیت کا ملا ہونا شرط ہوگا۔ بِخِلَافِ الْقَضَاءِ لِأَنَّهُ يَتَوَقَّفُ عَلَى صَوْمِ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَهُوَ النَّفْلُ بخلاف قضا کے۔ بھئی قضا مثلاً کسی شخص کے ذمے وہ رمضان کا روزہ رہ گیا ہے اس کی اس نے قضا کرنی ہے، قضا کرنی ہے۔ یا اسی طرح نذرِ معین کا روزہ تھا وہ اس سے رہ گیا، اب بھی اب اس کے ذمے تو ہے اس نے اس کی کیا کرنی ہے؟ قضا کرنی ہے تو وہ اس طرح نہیں ہے، یعنی اس کے اندر صبح کے بعد نیت کرے تو اس کا کوئی اعتبار نہیں، اس سے وہ قضا ادا نہیں ہوگی بلکہ اس کے اندر رات سے ہی نیت ضروری ہے ہمارے نزدیک بھی۔ اس لیے کیونکہ وہ جو پہلے دن گزرے یعنی رمضان کے یا نذرِ معین کے، تو رمضان کے روزے تو شریعت نے کس کے لیے مقرر کیے تھے؟ رمضان کے روزے کے لیے، لہٰذا وہاں پر بعد میں بھی نیت کر لیتا ہے تو وہ نیت معتبر ہو جائے گی اور دوسرا روزہ اس وقت ہو نہیں سکتا، ہونا ہی کون سا ہے؟ رمضان کا۔ اور اسی طرح نذرِ معین والا دن اس نے خود متعین کر دیا اس روزے کے لیے تو لہٰذا اس دن بھی کوئی اور نیت کرے گا تو کون سا روزہ ہوگا؟ وہ نذرِ معین والا ہی روزہ ہوگا، جبکہ ان کے علاوہ باقی ایام جو ہیں ان میں تو نفلی روزہ بھی جائز ہے، نفلی روزہ بھی جائز۔ تو لہٰذا اب اگر یہ صبح ہونے کے بعد نیت کرتا ہے تو پھر نفلی روزہ ہو جائے گا کیونکہ اس کی شریعت نے باقی ایام میں رکھنے کی اجازت دی ہے۔ تو اگر قضا رکھنا چاہتا ہے تو اس کے لیے رات سے ہی نیت ضروری ہے۔ جبکہ رمضان میں اور نذرِ معین میں تو وہاں تو اس وقت میں تو نفلی روزہ رکھ ہی نہیں سکتے تھے، کوئی نفلی روزے کی بھی نیت کرے گا رمضان میں کون سا روزہ ہوگا؟ رمضان ہی کا ہوگا، نذرِ معین والے دن کوئی نفلی روزہ بھی رکھے گا کون سا روزہ ہوگا؟ نذرِ معین ہی کا روزہ ہوگا، بات سمجھ میں آئی؟ تو وہاں پر کوئی یوں کہیں وہاں کوئی مقابل نہیں موجود، وہاں ان کا کوئی مقابل نہیں موجود، شرعاً متعین ہے رمضان کا مہینہ رمضان کے روزے کے لیے، نفلی نہیں روزہ رکھ سکتے اس میں۔ اور وہ نذرِ معین والے دن نفلی روزہ رکھ سکتے تھے لیکن اس نے کس کے لیے متعین کر لیا اس دن کو؟ اس نذر کے روزے کے لیے، تو لہٰذا اس دن نفلی روزہ بھی رکھے گا تو کون سا روزہ ہوگا؟ وہ نذر والا ہی روزہ ہوگا۔ جبکہ یہاں پر نفلی روزہ بھی جائز ہے باقی دنوں میں، تو لہٰذا رات سے ہی نیت کرے گا تو وہ قضا والا روزہ ہوگا، اگر بعد میں نیت کرتا ہے پھر قضا والا نہیں ہوگا بلکہ کون سا ہو جائے گا؟ نفلی روزہ ہو جائے گا کیونکہ نفلی روزے کی بھی اس دن میں شریعت نے اجازت دی ہے بھئی۔ یاد رکھیے سال کے پانچ دن ہیں جن کے اندر روزہ رکھنا حرام ہے بھئی: ایک عید الفطر والا دن ہے، ایک یوم النحر ہے یعنی دس ذوالحجہ عید الاضحیٰ والا دن اور اس سے اگلے تین دن ہیں یعنی گیارہ ذوالحجہ، بارہ ذوالحجہ اور تیرہ ذوالحجہ۔ تو یہ یہ پانچ دن جو ہیں ان میں روزہ رکھنا حرام ہے، باقی سال میں جس وقت بھی انسان روزہ رکھنا چاہے روزہ رکھ سکتا ہے۔ تو باقی دنوں میں نفلی روزہ جائز ہوا اور یہ کیا رکھنا چاہتا ہے اس میں؟ قضا روزہ، تو اس کے لیے کیا ضروری؟ رات سے ہی نیت ضروری کیونکہ اس اس دن تو شریعت نے کون سے روزے کی اجازت دی ہے؟ نفلی روزے کی اجازت دی ہے تو گویا یہ دن ان دنوں میں نفلی روزہ مشروع ہوا تو لہٰذا اگر یہ بعد میں نیت کرے گا تو شریعت نے چونکہ نفلی روزے کی اجازت دی ہے تو وہ نفلی روزہ ہی ہو جائے گا، لہٰذا اس میں رات ہی سے تعیین کرنا پڑے گی کہ میں کون سا روزہ رکھتا ہوں؟ قضا والا رکھتا ہوں بھئی۔ بِخِلَافِ الْقَضَاءِ لِأَنَّهُ يَتَوَقَّفُ عَلَى صَوْمِ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَهُوَ النَّفْلُ بخلاف قضا کے، اس لیے کیونکہ قضا کا جو روزہ ہے وہ موقوف ہے اس دن کے روزے پر، قضا کا روزہ موقوف ہے اس دن کے روزے پر اور اس دن کا روزہ تو کون سا ہے؟ نفلی ہے یعنی شریعت نے مشروع قرار دیا ہے ان تمام باقی دنوں کے اندر نفلی روزہ، تو یہ گویا کس کون سے روزے والا دن ہے؟ نفلی روزے والا دن ہے۔ جب نفلی روزے والا دن ہے تو نیت کرے گا دن میں تو کون سا ہوگا؟ نفلی ہی ہوگا۔ قضا چاہتا ہے تو اس کے لیے پھر اس کو باقاعدہ کیا کرنا پڑے گی؟ رات سے ہی نیت کرنا پڑے گی۔ وَبِخِلَافِ مَا بَعْدَ الزَّوَالِ بھئی ابھی آپ کو مسئلہ بتلایا کہ زوال سے یا نِصْفُ النَّهَار سے پہلے نیت کر لے گا رمضان میں اور نذرِ معین میں تو سارا دن ہی کیا شمار ہوگا؟ روزے کا شمار ہوگا اور وہ روزہ ادا ہو جائے گا۔ لیکن اگر زوال کے بعد یعنی نِصْفُ النَّهَار کے بعد وہ نیت کرتا ہے تو دن کے اکثر حصے میں نیت پائی گئی یا دن کے اکثر حصے میں نیت نہ پائی گئی؟ دن کے اکثر حصے میں تو نیت نہیں پائی گئی، تو لہٰذا فوت ہو جانے والی، چھوٹ جانے والی جہت راجح ہو جائے گی، راجح ہو جائے گی، لہٰذا اس دن اس کا روزہ نہیں ہوگا کیونکہ اکثر حصے میں نیت نہیں پائی گئی بھئی۔ یہ معنی ہے: "وَبِخِلَافِ مَا بَعْدَ الزَّوَالِ" اور بخلاف زوال کے بعد کے، لِأَنَّهُ لَمْ يُوجَدْ اقْتِرَانُهَا بِالْأَكْثَرِ اس لیے کیونکہ نیت کا ملا ہونا نہیں پایا گیا اکثر حصے کے ساتھ، فَتَرَجَّحَتْ جَنْبَةُ الْفَوَاتِ تو ترجیح پا جائے گی فوت ہو جانے والی جانب، کون سی جانب؟ فوت ہو جانے کہ روزہ فوت ہو گیا یعنی چھوٹ گیا ہے کیونکہ اکثر حصے کے اندر نیت نہیں پائی گئی۔ یہاں تک مسائل اچھی طرح سمجھ میں آگئے؟ ثُمَّ قَالَ فِي الْمُخْتَصَرِ بھئی وہ جو میں نے مسئلہ بیان کیا تھا، صاحبِ قدوری نے کیا ذکر کیا: صبح سے لے کر زوال کے درمیان، اور امام محمد رحمہ اللہ جامع صغیر کے اندر ذکر کرتے ہیں: صبح سے لے کر نِصْفُ النَّهَار کے درمیان، اور زیادہ صحیح قول کون سا؟ جامع صغیر میں جو ذکر ہے۔ کہتے ہیں: "ثُمَّ قَالَ فِي الْمُخْتَصَرِ" پھر فرمایا صاحبِ قدوری نے مختصر القدوری کے اندر: مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الزَّوَالِ وہ نیت جو کس کے درمیان ہو؟ صبح اور زوال کے درمیان ہو۔ وَفِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ: قَبْلَ نِصْفِ النَّهَارِ اور جامع صغیر میں ہے: قَبْلَ نِصْفِ النَّهَارِ کہ نیت کس سے پہلے ہو؟ نِصْفُ النَّهَار سے پہلے ہو۔ وَهُوَ الْأَصَحُّ اور یہی قول زیادہ صحیح ہے، لِأَنَّهُ لَا بُدَّ مِنْ وُجُودِ النِّيَّةِ فِي أَكْثَرِ النَّهَارِ اس لیے کیونکہ ضروری ہے نیت کا پایا جانا دن کے اکثر حصے میں، وَنِصْفُهُ مِنْ وَقْتِ طُلُوعِ الْفَجْرِ إِلَى وَقْتِ الضَّحْوَةِ الْكُبْرَى اور نصف دن کا نصف کب ہے؟ مِنْ وَقْتِ طُلُوعِ الْفَجْرِ طلوعِ فجر کے وقت سے لے کر إِلَى وَقْتِ الضَّحْوَةِ الْكُبْرَى۔ ضَحْوَة کہتے ہیں چاشت کا وقت جب سورج تھوڑا سا بلند ہو جائے، اور الضَّحْوَةِ الْكُبْرَى کہتے ہیں نِصْفُ النَّهَار کو، بڑی چاشت یعنی جب خوب دن چڑھ آئے، خوب دن چڑھ آئے یعنی مراد وہی ہے، نِصْفُ النَّهَار مراد ہے۔ کیا مراد ہے؟ نِصْفُ النَّهَار، اس کو الضَّحْوَةِ الْكُبْرَى کہتے ہیں۔ اور نصف جو ہے اس دن کا طلوعِ فجر سے لے کر ضحوہ کبریٰ کے وقت تک ہے یعنی نِصْفُ النَّهَار تک ہے، نہ کہ زوال۔ مثلاً نِصْفُ النَّهَار ہوتا ہے ساڑھے گیارہ بجے اور زوال کتنے بجے ہوتا ہے؟ بارہ بجے فرض کریں ہوتا ہے، تو ساڑھے گیارہ سے پہلے پہلے نیت ضروری ہے بھئی تاکہ اکثر حصے میں نیت پائی جائے۔ دوبارہ ذرا ترجمہ دیکھیں: لِأَنَّهُ لَا بُدَّ مِنْ وُجُودِ النِّيَّةِ فِي أَكْثَرِ النَّهَارِ اس لیے کیونکہ ضروری ہے نیت کا پایا جانا دن کے اکثر حصے میں، وَنِصْفُهُ مِنْ وَقْتِ طُلُوعِ الْفَجْرِ إِلَى وَقْتِ الضَّحْوَةِ الْكُبْرَى لَا وَقْتِ الزَّوَالِ اور نہار کا نصف جو ہے طلوعِ فجر سے لے کر نِصْفُ النَّهَار کے وقت تک ہے، یہ کیا ہے؟ یہ اس کا نصف ہے، لَا وَقْتِ الزَّوَالِ نہ کہ وقتِ زوال تک بھئی، یہ نصف نہیں ہے۔ فَتُشْتَرَطُ النِّيَّةُ قَبْلَهَا تو شرط ہوگا نیت کا ہونا اس سے پہلے ہی، لِتَتَحَقَّقَ فِي الْأَكْثَرِ تاکہ نیت پائی جائے اکثرِ نہار میں۔ لِيَتَحَقَّقَ، بھئی یہ لِيَتَحَقَّقَ نہیں بلکہ لِتَتَحَقَّقَ ہونا چاہیے بھئی۔ لِتَتَحَقَّقَ فِي الْأَكْثَرِ تاکہ، تو لِيَتَحَقَّقَ نہیں بلکہ لِتَتَحَقَّقَ کیونکہ اس کے اندر ضمیر راجع ہے نیت کو اور نیت کا لفظ مؤنث ہے تو مؤنث کی ضمیر راجع ہوگی بھئی، لِتَتَحَقَّقَ فِي الْأَكْثَرِ تاکہ نیت پائی جائے اکثر حصے کے اندر، اکثر حصے کے اندر نیت پائی جائے اور وہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب ضحوہ کبریٰ یعنی نِصْفُ النَّهَار سے پہلے نیت کرے گا، بعد میں کرے تو پھر اکثر حصے میں نیت نہیں پائی جائے گی۔ وَلَا فَرْقَ بَيْنَ الْمُسَافِرِ وَالْمُقِيمِ اور کوئی فرق نہیں ہے مسافر اور مقیم کے درمیان یعنی مقیم ہو یا مسافر ہو نِصْفُ النَّهَار سے پہلے نیت کر لے گا تو اس دن کا روزہ رمضان کا ہو جائے گا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ خِلَافًا لِزُفَرَ رَحِمَهُ اللهُ بخلاف امام زفر رحمہ اللہ کے، وہ فرماتے ہیں نہیں مسافر ہے تو اس کے لیے رات سے نیت کرنا ضروری، اس لیے کیونکہ مسافر کو تو شریعت نے رخصت دی ہے: {فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ} بھئی، کہ جو تو لہٰذا اس کو جب شریعت نے رخصت دی ہے تو اور وہ رکھنا کون سا روزہ چاہتا ہے؟ وہ پھر بھی رکھنا چاہتا ہے تو اس کو رات ہی سے نیت کرنا پڑے گی، صبح ہونے کے بعد اس کی نیت معتبر نہیں۔ خِلَافًا لِزُفَرَ رَحِمَهُ اللهُ بخلاف امام زفر رحمہ اللہ کے، لِأَنَّهُ لَا تَفْصِيلَ فِيمَا ذَكَرْنَا مِنَ الدَّلِيلِ یہ ہماری دلیل ہے بھئی، امام زفر رحمہ اللہ کا صرف اختلاف ذکر کیا ان کی دلیل وغیرہ نہیں آگے ذکر ہو رہی۔ ہمارے درمیان مسافر اور مقیم میں کوئی فرق نہیں، چاہے مسافر ہو چاہے مقیم ہو کیا کر سکتا ہے؟ نِصْفُ النَّهَار سے پہلے رمضان کے روزے کی نیت کر سکتا ہے۔ لِأَنَّهُ لَا تَفْصِيلَ فِيمَا ذَكَرْنَا مِنَ الدَّلِيلِ اس لیے کہ کیونکہ کوئی تفصیل نہیں ہے وہ جو ہم نے دلیل ذکر کی، اس کے اندر کوئی فرق نہیں کیا گیا مسافر اور مقیم کے درمیان، وہ مطلق ہے، معلوم ہوا سب اس میں آگئے چاہے مسافر ہو چاہے مقیم ہو، سب کیا کر سکتے ہیں؟ نِصْفُ النَّهَار سے پہلے نیت کر سکتے ہیں تو اکثر حصے کے اندر نیت پائی جائے گی اور جب اکثر حصے میں نیت پائی گئی تو وہ رمضان کا روزہ ہی ادا ہوگا بھئی، وہ روزہ ہو جائے گا اور رمضان ہی کا شمار ہوگا، چلیے بس بھئی۔ هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔