قَالَ يُخْرِجُ ذَلِكَ عَنْ نَفْسِهِ لِحَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا قَالَ فَرَضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ عَلَى الذَّكَرِ وَالْأُنْثَى الْحَدِيثَ، وَيُخْرِجُ عَنْ أَوْلَادِهِ الصِّغَارِ لِأَنَّ السَّبَبَ رَأْسٌ يَمُونُهُ وَيَلِي عَلَيْهِ۔ قَالَ يُخْرِجُ ذَلِكَ عَنْ نَفْسِهِ، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں کہ صدقۂ فطر نکالے گا، صدقۂ فطر نکالے گا یعنی ادا کرے گا، عَنْ نَفْسِهِ اپنی طرف سے بھی۔ لِحَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی حدیث کی وجہ سے، قَالَ وہ فرماتے ہیں فَرَضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ عَلَى الذَّكَرِ وَالْأُنْثَى کہ حضور علیہ السلام نے فرض قرار دیا صدقۂ فطر کو عَلَى الذَّكَرِ وَالْأُنْثَى، کس پر؟ مذکر اور مؤنث پر۔ تو یہ شخص اپنی طرف سے بھی دے گا۔ الْحَدِيثَ، یہاں پر بھی وہی دونوں اعراب پڑھ سکتے ہیں: اَلْحَدِيثُ مَعْلُومٌ، تو اس کو مبتدا بنا لیں اور خبر کیا ہے؟ محذوف۔ یا اِقْرَإِ الْحَدِيثَ، اس کو منصوب پڑھیں، مفعول بنائیں اِقْرَأْ کے لیے۔ تو یہ دلیل ہے اس بات کی کہ یہ مذکر اور مؤنث جو ہے اس پر فرض ہوتا ہے تو اپنی طرف سے بھی وہ صاحبِ نصاب ادا کرے گا۔ وَيُخْرِجُ عَنْ أَوْلَادِهِ الصِّغَارِ، اور یہ صدقۂ فطر وہ نکالے گا اپنے صغار اولاد کی طرف سے یعنی نابالغ اولاد کی طرف سے، لِأَنَّ السَّبَبَ رَأْسٌ يَمُونُهُ وَيَلِي عَلَيْهِ۔ یاد رکھیے یہ صدقۂ فطر کا سبب جو ہے، ایسا رَأْسٌ ہے، رأس، رأس بول کر ذات مراد ہے۔ یعنی جز بول کر کل مراد ہے، تو رأس کا اطلاق ذات پر ہوتا ہے، یہاں ذات مراد ہے۔ تو صدقۂ فطر کا سبب جو ہے وہ ایسی ذات ہے يَمُونُهُ جس کا یہ شخص خرچہ اٹھاتا ہے، وَيَلِي عَلَيْهِ اور اس پر اس کو ولایت حاصل ہے۔ بھئی آپ کے پاس نصاب کے بقدر زائد مال موجود ہے تو آپ پر بھی صدقۂ فطر واجب اور صرف اپنی طرف سے نہیں ادا کریں گے، اگر آپ کی نابالغ اولاد ہے تو اس کی طرف سے بھی صدقۂ فطر ادا کریں گے۔ اس لیے کیونکہ صدقۂ فطر کا سبب وہ ایسی ذات ہوتی ہے جس کا خرچہ آپ پر ہے اور جس پر آپ کو ولایت حاصل ہے۔ اس کا خرچہ بھی آپ کے ذمے اور آپ کو اس پر ولایت بھی حاصل ہے۔ تو اولادِ صغار، نابالغ اولاد اسی طرح ہوتی ہے، اس کا خرچہ بھی باپ کے ذمے اور باپ کو ان پر ولایت بھی حاصل ہے، نکاح وغیرہ ان کا کروا سکتا ہے یا نہیں کروا سکتا؟ تو باپ کو ولایت بھی حاصل ہے۔ تو جو بھی ایسی ذات ہوگی، جو بھی ایسا رأس ہوگا جس کا خرچہ بھی آپ کے ذمے اور جس پر آپ کو ولایت حاصل ہے، ان سب کی طرف سے آپ کو صدقۂ فطر دینا پڑے گا۔ تو نابالغ اولاد بھی اس کے اندر آگئی اور اسی طرح آپ کی خدمت کے جو غلام وغیرہ ہیں وہ بھی آگئے، ان کی طرف سے بھی دینا پڑے گا کیونکہ ان کا خرچہ بھی آپ کے ذمے اور ان پر آپ کو ولایت بھی حاصل ہے بھئی۔ البتہ جو بالغ اولاد ہے اس کا صدقۂ فطر آپ پر واجب نہیں۔ اس کا صدقۂ فطر آپ پر واجب نہیں کیونکہ آپ کو اس پر ولایت حاصل نہیں ہے، آپ اپنی مرضی سے اس کا کہیں نکاح کروانا چاہیں جبراً، نہیں کروا سکتے۔ اور اسی طرح بیوی جو ہے، بیوی، اس کی طرف سے بھی صدقۂ فطر ادا کرنا آپ پر واجب نہیں ہے، آپ پر واجب نہیں۔ ہاں، آپ ادا کر دیتے ہیں اپنی بالغ اولاد کی طرف سے بھی اور بیوی کی طرف سے، تو اچھی بات ہے، ادا ہو جائے گا لیکن آپ پر لازم نہیں ہے۔ بلکہ خود ان کے ذمے لازم ہے، اگر وہ نصاب کے بقدر زائد مال کے مالک ہیں تو ان کو خود ادا کرنا پڑے گا۔ مسئلہ سمجھ میں آگیا؟ تو صدقۂ فطر کا سبب کیا ہے؟ ایسا رأس ہے، ایسی ذات ہے جس کا خرچہ بھی اس شخص پر ہو اور اس پر اس کو ولایت بھی حاصل ہو۔ یہ معنی ہے: وَيُخْرِجُ عَنْ أَوْلَادِهِ الصِّغَارِ، اور صدقۂ فطر نکالے گا اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے بھی، لِأَنَّ السَّبَبَ رَأْسٌ يَمُونُهُ وَيَلِي عَلَيْهِ، اس لیے کیونکہ صدقۂ فطر کا سبب جو ہے وہ ایسی ذات ہے جس کا یہ خرچہ اٹھاتا ہے، وَيَلِي عَلَيْهِ اور جس پر اس کو ولایت حاصل ہے۔ لِأَنَّهَا تُضَافُ إِلَيْهِ، بھئی صدقۂ فطر کا سبب رأس ہے۔ کیا ہے؟ رَأْسٌ ہے، رأس ہے بھئی۔ بھئی اس کی کیا دلیل ہے کہ صدقۂ فطر کا سبب رأس ہے؟ کہتے ہیں: لِأَنَّهَا تُضَافُ إِلَيْهِ، اس لیے کیونکہ صدقۂ فطر کی اضافت کی جاتی ہے رأس کی طرف، اور يُقَالُ کہا جاتا ہے: زَكَاةُ الرَّأْسِ، صدقۂ فطر کو کیا کہتے ہیں؟ زَكَاةُ الرَّأْسِ۔ تو یہ رأس کی طرف نسبت کرنا بتلاتا ہے کہ یہ رأس کیا ہے؟ اس صدقے کے وجوب کا سبب ہے۔ وَهِيَ أَمَارَةُ السَّبَبِيَّةِ، اور یہ سبب ہونے کی علامت ہے۔ کسی چیز کی طرف کسی چیز کی نسبت کی جائے، معلوم ہوا وہ اس چیز کا سبب ہے۔ تو یہاں رأس کی طرف اضافت کی جا رہی ہے اور کہتے ہیں: زَكَاةُ الرَّأْسِ، رأس کی زکوٰۃ، تو معلوم ہوا یہ رأس کیا ہے؟ اس کا اس کی سبب ہے۔ تو وَهِيَ أَمَارَةُ السَّبَبِيَّةِ، اور یہ اضافت جو ہے کسی چیز کی طرف ہونا، یہ اس کے سبب ہونے کی علامت ہوتی ہے۔ وَالْإِضَافَةُ إِلَى الْفِطْرِ، یہ ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں۔ اعتراض یہ کہ آپ نے ہمیں بتلایا کہ کسی ایک چیز کی طرف دوسری چیز کی نسبت کی جائے تو وہ چیز جو ہے اس کے لیے سبب ہوتی ہے، تو پھر تو اس زکوٰۃ یا صدقے کی نسبت فطر کی طرف بھی کی جاتی ہے۔ کس کی طرف؟ فطر۔ یاد رکھیے، یاد رکھیے، فطر جو ہے نا فطر، یہ روزے کی ضد ہے۔ روزے کی ضد ہے۔ اردو میں اس کا کوئی مترادف لفظ موجود نہیں۔ اس وقت آپ کا روزہ ہے؟ روزہ نہیں، تو اس کو کہیں گے فطر۔ کیا کہیں گے آپ کی اس حالت کو؟ فطر کہیں گے۔ تو یہاں صدقۂ فطر جو ہے، رمضان کا مہینہ گزرتا ہے اور عید الفطر کا دن آتا ہے، عید الفطر کا، تو دیکھو پہلے روزوں کا زمانہ تھا اب فطر کا زمانہ آگیا۔ عید کی صبح سے کون سا زمانہ شروع ہوگیا؟ فطر والا زمانہ شروع ہوگیا۔ تو اس زمانے کی طرف بھی نسبت کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے: زَكَاةُ الْفِطْرِ یا صَدَقَةُ الْفِطْرِ۔ اور آپ نے ہمیں ضابطہ بتایا کہ کسی چیز کی جب نسبت کی جائے، اضافت کی جائے دوسری چیز کی طرف، تو یہ علامت ہوتی ہے کہ یہ اس کا سبب ہے۔ تو لہٰذا معلوم ہوا فطر اس کا فطر بھی اس کا سبب ہے۔ تو جواب دیں گے صاحبِ ہدایہ کہ بھئی فطر کی طرف اس کی اضافت اس وجہ سے کی جاتی ہے کہ یہ اس کا وقت ہے بھئی، کیا ہے؟ وقت، تو وقت ہونے کے اعتبار سے اس کی طرف اضافت کی جاتی ہے اور اصل سبب وہی رأس ہی ہے، ذات ہی ہے بھئی۔ جواب سمجھ میں آگیا بھئی؟ تو کہتے ہیں: وَالْإِضَافَةُ إِلَى الْفِطْرِ بِاعْتِبَارِ أَنَّهُ وَقْتُهَا، اور فطر کی طرف جو اس کی اضافت کی جاتی ہے، اس اعتبار سے کہ یہ اس صدقے کا وقت ہے۔ وَلِهَذَا تَتَعَدَّدُ بِتَعَدُّدِ الرَّأْسِ مَعَ اتِّحَادِ الْيَوْمِ، اسی وجہ سے صدقۂ فطر جو ہے اس میں تعدد آتا ہے بِتَعَدُّدِ الرَّأْسِ جبکہ رأس متعدد ہوں، جب ذاتیں کئی ہوں تو صدقۂ فطر بھی کئی واجب ہوں گے، مَعَ اتِّحَادِ الْيَوْمِ باوجود اس کے کہ دن ایک ہی ہے۔ اگر فطر کو سبب قرار دیا جائے، کس کو؟ فطر کو، اور فطر تو ہے وقت، اور وقت تو سب کے لیے ایک ہی ہے، تو ایک ہی صدقۂ فطر آنا چاہیے تھا، حالانکہ بالاتفاق ایک صدقۂ فطر نہیں آتا، اپنی طرف سے بھی دے گا، غلاموں کی طرف سے بھی دے گا، نابالغ اولاد کی طرف سے بھی دے گا، تو ایک فطر ایک صدقۂ فطر واجب ہو رہا ہے یا کئی واجب ہو رہے ہیں؟ کئی واجب ہو رہے ہیں، حالانکہ اگر وقت کو سبب قرار دیا جائے، وقت تو ایک ہی ہے، تو پھر تو ایک ہی صدقۂ فطر آنا چاہیے تھا لیکن متعدد صدقۂ فطر واجب ہو رہے ہیں، معلوم ہوا صدقۂ فطر کے وجوب کا سبب وقت نہیں ہے بلکہ رأس ہے اور ذات ہے، اسی وجہ سے ذاتیں کئی تو صدقۂ فطر بھی کئی، اور وقت ایک ہے لیکن اس سے کوئی اثر نہیں پڑتا بھئی۔ یہ معنی ہے: وَلِهَذَا تَتَعَدَّدُ بِتَعَدُّدِ الرَّأْسِ مَعَ اتِّحَادِ الْيَوْمِ، اور اسی وجہ سے صدقۂ فطر جو ہے اس میں تعدد آتا ہے رأس یعنی ذاتوں میں تعدد ہونے کی وجہ سے باوجود دن کے متحد ہونے کے۔ وَالْأَصْلُ فِي الْوُجُوبِ رَأْسُهُ وَهُوَ يَمُونُهُ وَيَلِي عَلَيْهِ، یہاں سے بتلا رہے ہیں: وَالْأَصْلُ فِي الْوُجُوبِ رَأْسُهُ، کہ صدقۂ فطر کے وجوب میں اصل جو ہے رَأْسُهُ، وہ اس شخص کی اپنا اس کا اپنا رأس ہے، اس کی اپنی ذات ہے۔ کسی شخص پر جس کے پاس نصاب کے بقدر زائد مال ہے، اس پر صدقۂ فطر واجب ہوتا ہے، تو دراصل وجوب کا سبب اس شخص کی اپنی ذات ہے، کیونکہ یہ اپنی ذات کا خرچہ اٹھاتا ہے یا نہیں اٹھاتا؟ اپنی ذات کا خرچہ خود اٹھاتا ہے، اور نیز اپنی ذات پر اس کو خود ولایت حاصل ہے یا حاصل نہیں ہے؟ حاصل۔ تو اس کا اپنا رأس جو ہے، اس کی اپنی ذات جو ہے، اس کا یہ خرچہ بھی اٹھاتا ہے اور اس پر ولایت بھی حاصل ہے، اس لیے اپنی ذات کا تو صدقۂ فطر اس پر واجب ہوگا۔ نیز اپنی ذات کا صدقۂ فطر کیوں واجب ہوا؟ کیونکہ اس کا یہ خرچہ بھی اٹھاتا ہے اور اس پر اس کو ولایت بھی حاصل ہے۔ تو لہٰذا اور جو اس طرح کے لوگ ہیں جن کا یہ خرچہ بھی اٹھاتا ہے اور جن پر اس کو ولایت بھی حاصل ہے، اس کو بھی اسی انہی کے ساتھ ملا دیا جائے گا، اس کی ذات کے ساتھ ملا دیا جائے گا، اور اپنی ذات کی طرف سے تو اس پر صدقۂ فطر واجب تھا تو ان کی طرف سے بھی اس پر صدقۂ فطر واجب ہوگا کیونکہ جیسے یہ اپنا خرچہ اٹھاتا ہے اور اپنی ذات پر اس کو ولایت حاصل ہے، اسی طرح دوسرے جن کا یہ خرچہ اٹھاتا ہے اور جن پر ولایت حاصل ہے، وہ بھی اسی کی طرح ہوگئے تو ان کا بھی صدقۂ فطر اسی پر واجب ہوگا۔ دلیل سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے: وَالْأَصْلُ فِي الْوُجُوبِ رَأْسُهُ، اور اصل جو ہے صدقۂ فطر کے وجوب کے اندر رَأْسُهُ، اس شخص کا اپنا رأس ہے، اس شخص کی اپنی ذات ہے۔ وَهُوَ يَمُونُهُ وَيَلِي عَلَيْهِ، اور اپنے رأس پر اور اپنی ذات پر تو اس کا اس کا تو یہ خرچہ بھی اٹھاتا ہے، وَيَلِي عَلَيْهِ اور اس پر اس کو ولایت بھی حاصل ہے، فَيُلْحَقُ بِهِ مَا هُوَ فِي مَعْنَاهُ، تو اسی کے ساتھ ملایا جائے گا ان کو بھی جو اسی کے معنی میں ہیں، جو اسی طرح ہیں، كَأَوْلَادِهِ الصِّغَارِ جیسے کہ نابالغ اولاد ہے، لِأَنَّهُ يَمُونُهُمْ وَيَلِي عَلَيْهِمْ، اس لیے کیونکہ یہ ان کا خرچہ بھی اٹھاتا ہے اور ان پر اس کو ولایت بھی حاصل ہے۔ وَمَمَالِيكِهِ، اور اسی طرح اس کے جو مملوک ہیں ان کی طرف سے بھی یہ صدقۂ فطر نکالے گا یعنی ادا کرے گا۔ وَمَمَالِيكِهِ، اس کا عطف کس پر ہے؟ أَوْلَادِهِ الصِّغَارِ پر، نکالے گا اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے بھی، وَمَمَالِيكِهِ اور اپنے مملوکوں یعنی اپنے غلاموں اور باندیوں کی طرف سے بھی۔ بھئی ان کی طرف سے کیوں نکالے گا؟ کہتے ہیں: لِقِيَامِ الْمُؤْنَةِ وَالْوِلَايَةِ، اس وجہ سے کہ خرچہ اور ولایت موجود ہے، خرچہ اور ولایت قائم ہے، غلاموں پر اس کو ولایت بھی حاصل اور ان کا یہ خرچہ بھی اٹھاتا ہے۔ وَهَذَا إِذَا كَانُوا لِلْخِدْمَةِ، اور کہتے ہیں یہ وجوب اس وقت ہوگا جب یہ غلام خدمت کے لیے ہوں، تو خدمت کے لیے جو غلام اور باندیاں ہیں ان کا صدقۂ فطر اس پر واجب ہوگا۔ جو مالِ تجارت کے طور پر غلام یا باندیاں ہیں ان کا صدقۂ فطر نہیں، ان کے اندر زکوٰۃ آئے گی، صدقۂ فطر نہیں آئے گا، اس لیے کیونکہ اگر ان کے اندر صدقۂ فطر بھی آئے تو زکوٰۃ بھی ان کے اندر آ رہی ہے، صدقۂ فطر بھی آ رہا ہے، تو دو صدقے واجب ہو جائیں گے، حالانکہ ایک چیز کے اندر سال کے اندر ایک ہی صدقہ واجب ہوتا ہے، دو صدقے واجب نہیں ہوتے۔ تو صرف کون سے غلاموں کی طرف سے ادا کرے گا؟ خدمت والے، کیونکہ ان کے اندر تو زکوٰۃ نہیں، تو یہ صدقۂ فطر آئے گا۔ اور جو مالِ تجارت کے لیے غلام ہیں ان میں جب زکوٰۃ آئے گی، ان میں تو زکوٰۃ آتی ہے تو ان کے اندر صدقۂ فطر نہیں آئے گا۔ یہ معنی ہے: وَهَذَا إِذَا كَانُوا لِلْخِدْمَةِ، اور یہ صدقۂ فطر کا وجوب غلاموں پر اس وقت ہوگا جب وہ غلام خدمت کے لیے ہوں، وَلَا مَالَ لِلصِّغَارِ اور اسی طرح یہ اس وقت ہوگا جب ان نابالغوں کا مال نہ ہو۔ بھئی یاد رکھیے، نابالغ جو ہے نا نابالغ اولاد، اس کا صدقۂ فطر باپ پر واجب ہوگا، یہ اس وقت ہے جب وہ نابالغ کے پاس کوئی مال نہ ہو، لیکن اگر وہ نابالغ خود مالدار ہے مثلاً کسی نے وصیت کی تھی اس کے بیٹے کے بارے میں اور وہ مال پھر اس کے مرنے کے بعد اس کے بیٹے کو مل گیا، تو بیٹا اس مال کا مالک ہے۔ اگرچہ ابھی اس کے ہم حوالے تو نہیں کریں گے مال، لیکن مال کا مالک تو وہ ہے، وصیت تو اسی بچے کے بارے میں اس نے کی تھی، تو یہ جو نابالغ ہے جو مالدار ہے، اس کی طرف سے صدقۂ فطر اب باپ پر واجب نہیں ہوگا بلکہ خود اسی کے مال میں سے ادا کیا جائے گا، کیا کیا جائے گا؟ اسی کے مال میں سے ادا کیا جائے گا، اس لیے کیونکہ یہ صدقۂ فطر جو ہے یہ نفقے کی طرح ہے، کس کی طرح؟ نفقے کی طرح، اور نابالغ اولاد جب خود مالدار ہو تو اس کا نفقہ بھی اسی کے مال میں سے ہوتا ہے، اس پر جو خرچ کیا جاتا ہے وہ کس میں سے کیا جاتا ہے؟ اسی کے مال میں سے خرچ کیا جائے گا، تو یہ صدقۂ فطر بھی کس کی طرح ہے؟ نفقے کی طرح ہے، تو یہ بھی کس میں سے ادا کیا جائے گا؟ اسی بچے کے مال میں سے، مسئلہ سمجھ میں آگیا؟ اس لیے کہا کہ یہ اس صورت میں ہے یہ صدقہ کا وجوب جب غلام خدمت کے لیے ہوں، وَلَا مَالَ لِلصِّغَارِ اور کوئی مال نہ ہو نابالغوں کا۔ فَإِنْ كَانَ لَهُمْ مَالٌ يُؤَدِّي مِنْ مَالِهِمْ، تو پھر وہ والد جو ہے ادا کرے گا صدقۂ فطر مِنْ مَالِهِمْ ان بچوں کے ان نابالغ اولاد کے مال میں سے، عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللهُ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک، خِلَافًا لِمُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللهُ بخلاف امام محمد رحمہ اللہ کے، وہ فرماتے ہیں نہیں، بیشک مال ہو پھر بھی کس میں سے دیا جائے گا؟ باپ کے مال میں سے، باپ کو دینا پڑے گا اس میں سے نہیں۔ لیکن شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں نہیں، بچے کے مال میں سے دیا جائے گا۔ شیخین رحمہما اللہ کی دلیل آگے ذکر ہو رہی ہے: لِأَنَّ الشَّرْعَ أَجْرَاهُ مَجْرَى الْمُؤْنَةِ، اس لیے کیونکہ شریعت نے قائم کیا ہے اس صدقۂ فطر کو مَجْرَى الْمُؤْنَةِ، خرچے کے مقام پر بھئی۔ یعنی شریعت نے، توجہ ہے سبق کی طرف؟ شریعت نے یہ جو صدقۂ فطر ہے اس کو خرچے کے قائم مقام بنایا ہے۔ شریعت نے صدقۂ فطر کو خرچے کے قائم مقام بنایا ہے، چنانچہ حدیث میں آتا ہے: أَدُّوا عَمَّنْ تَمُونُونَ، أَدُّوا عَمَّنْ تَمُونُونَ، کہ ادا کرو یہ صدقۂ فطر عَمَّنْ اس شخص کی طرف سے تَمُونُونَ جس کا تم خرچہ اٹھاتے ہو۔ أَدُّوا عَمَّنْ تَمُونُونَ، حدیث میں کیا آیا ہے؟ أَدُّوا عَمَّنْ تَمُونُونَ، کہ ادا کرو صدقۂ فطر ان کی طرف سے جن کا تم خرچہ اٹھاتے ہو۔ تو معلوم ہوا کہ صدقۂ فطر کو کس کے قائم مقام کیا ہے شریعت نے؟ خرچے کے قائم مقام کیا ہے۔ حدیث میں کیا آ رہا ہے: ادا کرو جن کا تم خرچہ اٹھاتے ہو، معلوم ہوا یہ بھی کس کی طرح ہے؟ خرچے کی طرح ہے، اور جب خرچہ یہ اٹھاتا ہے تو صدقۂ فطر بھی اسی شخص کو ادا کرنا پڑے گا۔ یہ معنی ہے: لِأَنَّ الشَّرْعَ أَجْرَاهُ مَجْرَى الْمُؤْنَةِ، اس لیے کیونکہ شریعت نے اس کو قائم مقام کیا ہے خرچے کے، فَأَشْبَهَ النَّفَقَةَ تو یہ کس کے مشابہ ہوا؟ نفقے کے مشابہ ہوا، اور نفقے میں میں نے بتلا دیا کہ بچہ مالدار ہے تو پھر اسی کے مال میں سے ہوگا ورنہ کس پر آئے گا؟ والد پر آئے گا۔ تو اسی طرح صدقۂ فطر بھی ہے، اگر بچہ مالدار ہے تو اسی کے مال میں سے ادا کیا جائے گا اور اگر مالدار نہیں تو پھر کون ادا کرے گا؟ والد ادا کرے گا۔ وَلَا يُؤَدِّي عَنْ زَوْجَتِهِ، اور صدقۂ فطر ادا نہیں کرے گا اپنی بیوی کی طرف سے، لِقُصُورِ الْوِلَايَةِ وَالْمُؤْنَةِ، بوجہ ولایت کے ناقص ہونے کے اور خرچے کے، کیونکہ بیوی کے سلسلے میں خاوند کو بیشک بیوی پر ولایت حاصل ہے لیکن ناقص ولایت حاصل ہے، کس قسم کی ہے؟ ناقص ولایت حاصل ہے یعنی صرف حقوقِ نکاح کے مسئلے میں تو ولایت حاصل ہے، نکاح کے علاوہ اور حقوق کے اندر ولایت حاصل نہیں ہے، اسی طرح بیوی کا جو خرچہ ہے وہ بھی ناقص ہے، بیوی کا صرف کھانا پینا، رہائش، اور اسی طرح اس کے جو کپڑے وغیرہ ہیں، ان کا خرچہ تو خاوند کے ذمے ہے، کھانا پینا اس کا، اس کے کپڑے، اور اس کے رہائش، یہ خرچہ تو خاوند کے ذمے ہے لیکن اس کا علاج وغیرہ کروانا یہ خاوند کے ذمے نہیں، معلوم ہوا کہ خرچے خرچہ بھی بیوی کا خاوند کے ذمے لیکن کامل نہیں بلکہ ناقص، اسی طرح ولایت خاوند کو حاصل ہے لیکن کامل نہیں بلکہ ناقص ہے، تو جب بیوی پر کامل ولایت بھی نہیں حاصل، کامل خرچہ بھی اس کے ذمے نہیں ہے، تو اب اس پر اس کا صدقۂ فطر بھی واجب نہیں ہوگا، کیونکہ صدقۂ فطر کے وجوب کا صدقۂ فطر اس شخص پر واجب ہی کس وجہ سے ہوتا تھا؟ جب پورا خرچہ بھی اس پر ہو اور اس کو پوری ولایت بھی حاصل ہو، لیکن یہاں نہ پوری ولایت ہے اور نہ پورا خرچہ ہے بھئی۔ یہ معنی ہے: وَلَا يُؤَدِّي عَنْ زَوْجَتِهِ، اور ادا نہیں کرے گا اپنی بیوی کی طرف سے، لِقُصُورِ الْوِلَايَةِ وَالْمُؤْنَةِ، بوجہ ولایت کے اور خرچے کے ناقص ہونے کے، فَإِنَّهُ لَا يَلِيهَا فِي غَيْرِ حُقُوقِ النِّكَاحِ، اس لیے کیونکہ خاوند کو جو ہے اس پر ولایت حاصل نہیں سوائے نکاح کے حقوق کے، نکاح کے جو حقوق ہیں ان کے علاوہ کے اندر بیوی پر ولایت حاصل نہیں ہے، معلوم ہوا ولایت ناقص ہے۔ وَلَا يَمُونُهَا فِي غَيْرِ الرَّوَاتِبِ، اور نیز وہ اس کا خرچہ بھی نہیں اٹھاتا سوائے ثابت شدہ خرچوں کے، رواتب جو ثابت شدہ خرچے ہیں، اور وہ ثابت شدہ خرچے کس کس چیز کے ہیں؟ کھانے پینے کا ہے، کپڑوں کا ہے، اور رہائش کا ہے۔ تو کہتے ہیں: وَلَا يَمُونُهَا فِي غَيْرِ الرَّوَاتِبِ كَالْمُدَاوَاةِ، اور یہ اس کا خرچہ بھی نہیں اٹھاتا سوائے ثابت شدہ خرچوں کے كَالْمُدَاوَاةِ جیسے کہ علاج معالجہ ہے، علاج معالجہ ہے، یہ کس کی مثال ہوئی؟ لَا يَمُونُهَا، جس کا وہ خرچہ نہیں اٹھاتا۔ وَلَا عَنْ أَوْلَادِهِ الْكِبَارِ، وَلَا عَنْ أَوْلَادِهِ الْكِبَارِ وَإِنْ كَانُوا فِي عِيَالِهِ، اور اسی طرح صدقۂ فطر کوئی شخص ادا نہیں کرے گا اپنے بڑی اولاد کی طرف سے یعنی بالغ اولاد کی طرف سے، ان کی طرف سے بھی ادا نہیں کرے گا، وَإِنْ كَانُوا فِي عِيَالِهِ اگرچہ وہ اس کے عیال میں سے ہوں، کس میں سے ہوں؟ اہل و عیال میں سے، یعنی اسی کے پاس کھاتے پیتے ہیں، اسی پر ان کا خرچہ ہے لیکن پھر بھی ان کی طرف سے بھی صدقۂ فطر اس شخص پر واجب نہیں، کیونکہ اس کو ان پر ولایت حاصل نہیں، جبراً ان کا کہیں نکاح نہیں کروا سکتا، تو جب اس کو ان پر ولایت پوری ولایت حاصل نہیں ہے تو اس پر صدقۂ فطر بھی واجب نہیں، ان کے پاس اگر مال ہے انہیں خود ادا کرنا پڑے گا۔ یہ معنی ہے: وَإِنْ كَانُوا فِي عِيَالِهِ، اگرچہ وہ اس کے اگرچہ وہ اس کے عیال میں ہوں، لِانْعِدَامِ الْوِلَايَةِ، بوجہ ولایت کے معدوم ہونے کے کیونکہ یعنی ولایت نہیں پائی جا رہی۔ وَلَوْ أَدَّى عَنْهُمْ، بھئی آگے مسئلہ بتلا رہے ہیں کہ بیوی کا اور بالغ اولاد کا صدقۂ فطر جو ہے ان کے اس کے خاوند یا والد پر نہیں ہے لیکن اگر وہ ادا کر دیتے ہیں تو استحساناً ادا ہو جائے گا، استحساناً یہ ادا ہو جائے گا، اس لیے کیونکہ عادۃً اجازت ثابت ہوتی ہے، عادۃً اس طرح کی چیزوں میں کیونکہ اولاد اپنے والد کو اپنی طرف سے صدقۂ فطر کی اجازت دیں گے یا نہیں دیں گے؟ اجازت دیں گے۔ بیوی کی طرف سے ادا کرنا چاہتا ہے، بیوی اجازت دے گی یا نہیں دے گی؟ تو اس طرح کے معاملات میں عموماً کیا دی جاتی ہے؟ اجازت دی جاتی ہے، تو یہاں بھی یوں سمجھیں گے گویا ان کی طرف سے اجازت آچکی ہے، انہوں نے کہہ دیا ہے ہماری طرف سے ادا کر دیجیے، جب انہوں نے کہہ دیا تو ان کے کہنے کے بعد ادا ہو رہی ہے، تو ایک چیز جو ان کے ذمے لازم تھی وہ کون ادا کر رہا ہے؟ والد ادا کر رہا ہے لیکن ان کے کہنے پر کر رہا ہے، کہے بغیر تو کیونکہ یہ تو عبادت ہے اور عبادت کے اندر کیا ضروری ہے؟ ارادہ ضروری ہوتا ہے، بغیر ارادے کے عبادت ہوتی ہے؟ بغیر ارادے کے تو عبادت نہیں، لیکن یہاں پر ان سے پوچھے بغیر بھی اگر یہ والد دے دیتا ہے بالغ اولاد کی طرف سے یا خاوند دے دیتا ہے خاوند دے دیتا ہے بیوی کی طرف سے، تو یہ صدقۂ فطر ادا ہو جائے گا، اور یوں ہی سمجھا جائے گا گویا ان کی ان سے کیا لے لی گئی ہے؟ اجازت لے لی گئی ہے کیونکہ عادۃً اس طرح کی چیزوں میں ان کی طرف سے اجازت ہوتی ہے، مسئلہ سمجھ میں آگیا؟ یہ معنی ہے: وَلَوْ أَدَّى عَنْهُمْ أَوْ عَنْ زَوْجَتِهِ بِغَيْرِ أَمْرِهِمْ، اور اگر ادا کر دیا اپنی اپنے بالغ اولاد کی طرف سے أَوْ عَنْ زَوْجَتِهِ یا اپنی بیوی کی طرف سے بِغَيْرِ أَمْرِهِمْ بغیر ان کے حکم کے، بغیر ان کے کہے، أَجْزَأَهُمْ تو یہ ان کے لیے کافی ہو جائے گا استحساناً، لِثُبُوتِ الْإِذْنِ عَادَةً، اس لیے کیونکہ اجازت ثابت ہوتی ہے عادۃً بھئی، اس طرح کے معاملات میں اجازت دے دی جاتی ہے۔ قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے یہ زکوٰۃ صدقۂ فطر ادا نہیں ہونا چاہیے کیونکہ صدقۂ فطر عبادت ہے اور عبادت کے اندر باقاعدہ ارادہ اور نیت ضروری ہے، اور ارادہ اور نیت کب پایا جائے گا؟ جب وہ خود کہیں ہماری طرف سے کیا کر دیجیے؟ ادا کر دیجیے، تو پھر ان کی طرف سے اجازت ہو جائے گی پھر ہونا چاہیے، قیاس یہ تقاضا کرتا ہے۔ لیکن استحساناً جو ہے یہ صدقۂ فطر ادا ہو جائے گا کیونکہ عادۃً اس طرح کی چیزوں میں اجازت ہی دی جاتی ہے، کبھی اس سے روکا نہیں جاتا۔ وَلَا يُخْرِجُ عَنْ مُكَاتَبِهِ، اور اپنے مکاتب کی طرف سے صدقۂ فطر نہیں نکالے گا، لِعَدَمِ الْوِلَايَةِ، ولایت نہ پائے جانے کی وجہ سے۔ کیونکہ مکاتب میں آپ کو بیان کر چکا ہوں کہ مکاتب جس کو آقا نے یہ کہہ دیا کہ اگر تم دس لاکھ روپے دو سال میں لے آئے تو تم آزاد ہو، یہ مکاتب آزاد آدمی کی طرح ہو جاتا ہے، آزاد تو نہیں لیکن اس کی طرح ہے یعنی اب آقا اس سے خدمت نہیں لے سکتا جبراً، وہ خود کرنا چاہے اس کی مرضی ہے لیکن آقا اس سے جبراً خدمت، معلوم ہوا آقا کو اس پر ولایت حاصل نہیں، اور یہ صدقۂ فطر تو واجب ہی کس وجہ سے ہوتا تھا؟ کہ جب کسی پر ولایت حاصل ہو، تو جب مکاتب پر ولایت نہیں حاصل تو اس کا صدقۂ فطر بھی آقا پر واجب نہیں۔ یہ معنی ہے: لِعَدَمِ الْوِلَايَةِ، بوجہ ولایت کے نہ ہونے کے۔ وَلَا الْمُكَاتَبُ عَنْ نَفْسِهِ، اور نہ ہی مکاتب اپنی طرف سے صدقۂ فطر ادا کرے گا۔ بھئی مکاتب کیوں نہیں ادا کرے گا؟ کہتے ہیں بھئی اس لیے کیونکہ وہ محتاج ہے، وہ تو کیا کر رہا ہے؟ مال کما کر لا رہا ہے اور اپنے آپ کو آزاد کروا رہا ہے، تو اس پر تو اتنا دین ہے جو اگر اس کے پاس کچھ مال ہے بھی تو وہ دین نے اس کا احاطہ کیا ہوا ہے، تو لہٰذا یہ محتاج ہوا اور محتاج پر صدقۂ فطر واجب نہیں ہوتا بلکہ مالدار پر واجب ہوتا ہے، دلیل سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے: وَلَا الْمُكَاتَبُ عَنْ نَفْسِهِ، اور نہ ہی مکاتب اپنی طرف سے ادا کرے گا، لِفَقْرِهِ بوجہ اپنے فقیر ہونے کے کہ یہ محتاج ہے۔ وَفِي الْمُدَبَّرِ وَأُمِّ الْوَلَدِ وِلَايَةُ الْمَوْلَى ثَابِتَةٌ، اور مدبر اور ام ولد کے اندر جو ہے آقا کی آقا کی ولایت ثابت ہے، فَيُخْرِجُ عَنْهُمَا تو ان کی طرف سے آقا نکالے گا۔ وَلَا يُخْرِجُ عَنْ مَمَالِيكِهِ لِلتِّجَارَةِ، اور اسی طرح صدقۂ فطر نہیں نکالے گا اپنے ان غلاموں کی طرف سے لِلتِّجَارَةِ جو کس لیے ہیں؟ تجارت کے لیے ہیں۔ وجہ اس کی کیا؟ میں نے کہ اس کیونکہ ان پر تو زکوٰۃ واجب ہے، اور اگر صدقۂ فطر بھی واجب قرار دیا جائے تو ایک ہی سال میں دو صدقے ان پر واجب ہو جائیں گے اور حالانکہ حدیث میں کیا آیا ہے؟ ایک ہی صدقہ ادا کرنے کا حکم ہے، دو صدقے نہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلَا يُخْرِجُ عَنْ مَمَالِيكِهِ لِلتِّجَارَةِ، اور نہ نکالے اپنے ان غلاموں کی طرف سے جو تجارت کے لیے ہیں، خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے، فَإِنَّ عِنْدَهُ وُجُوبَهَا عَلَى الْعَبْدِ، اس لیے کیونکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک اس صدقۂ فطر کا وجوب غلام پر ہوتا ہے، وَوُجُوبَ الزَّكَاةِ عَلَى الْمَوْلَى اور زکوٰۃ جو ہے وہ آقا پر واجب ہوتی ہے، فَلَا تُنَافِيهِ تو لہٰذا یہ اس کے منافی نہیں، یہ اس صدقۂ فطر کا وجوب وجوبِ زکوٰۃ کے منافی نہیں۔ بھئی ہمارے نزدیک، ہمارے نزدیک وہ غلام جو تجارت کے لیے ہیں اگر ان کی وجہ سے صدقۂ فطر کو بھی واجب قرار دیا جائے تو ایک ہی مال کے اندر دو زکوٰتیں واجب ہو جائیں گی آقا پر، حالانکہ صدقے کو دوگنا کرنے سے حضور علیہ السلام نے منع فرمایا ہے، چنانچہ حدیث میں آیا ہے: لَا ثِنَى فِي الصَّدَقَةِ، صدقے کے اندر دوگنا کرنا نہیں ہے یعنی ایک ہی سال میں دو مرتبہ صدقہ نہیں لیا جائے گا، حدیث کے اندر آیا ہے۔ اور اگر اس صدقۂ فطر کو بھی واجب قرار دیا جائے تو ان غلاموں کی زکوٰۃ بھی مالک پر واجب تھی اور صدقۂ فطر بھی مالک پر واجب ہوگا، تو ایک ہی چیز کے اندر کتنی دفعہ زکوٰۃ آجائے گی؟ دو دفعہ آجائے گی ایک سال کے اندر، حالانکہ اس سے تو حدیث میں منع کیا گیا ہے، دلیل سمجھ میں آگئی؟ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ یہ صدقۂ فطر جو ہے یہ غلام پر واجب ہوتا ہے، آقا پر نہیں بلکہ کس پر؟ غلام پر، ہاں، ادا آقا ہی کرے گا۔ وجوب کس پر آیا؟ غلام پر، لیکن غلام تو بیچارہ کسی چیز کا مالک نہیں ہوتا لہٰذا ادا کون کرے گا؟ آقا ادا کرے گا۔ تو صدقۂ فطر کا وجوب امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک غلام پر ہوتا ہے اور زکوٰۃ کا وجوب آقا پر ہوتا ہے، تو وجوب ہی الگ الگ جگہ آ رہا ہے، وہ فرماتے ہیں یہاں صدقہ دوگنا ہو ہی نہیں رہا بلکہ زکوٰۃ کا وجوب ہے آقا پر اور صدقۂ فطر کا وجوب ہے غلام پر، بات سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے: فَإِنَّ عِنْدَهُ وُجُوبَهَا عَلَى الْعَبْدِ وَوُجُوبَ الزَّكَاةِ عَلَى الْمَوْلَى، اس لیے کیونکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک صدقۂ فطر کا وجوب غلام پر ہے اور زکوٰۃ کا وجوب آقا پر ہے، فَلَا تُنَافِيهِ لہٰذا صدقۂ فطر کا وجوب زکوٰۃ کے وجوب کے منافی نہیں ہے کیونکہ محل ہی الگ الگ ہیں۔ وَعِنْدَنَا وُجُوبُهَا عَلَى الْمَوْلَى، اور ہمارے نزدیک صدقۂ فطر کا وجوب جو ہے وہ آقا پر آتا ہے بِسَبَبِهِ اپنے سبب کی وجہ سے، كَالزَّكَاةِ جیسے کہ زکوٰۃ ہے، جیسے زکوٰۃ اپنے سبب کی وجہ سے آقا پر ثابت ہوتی ہے، اسی طرح غلاموں پر چونکہ آقا کو ولایت حاصل ہے تو اس وجہ سے اس کا صدقہ بھی کس پر واجب ہوگا؟ آقا پر واجب ہوگا، فَيُؤَدِّي إِلَى الثِّنَى، اس کو ثِنى پڑھیں یا ثُنى، ثا پر ضمہ پڑھنا بھی صحیح اور کسرہ پڑھنا بھی صحیح۔ تو فَيُؤَدِّي إِلَى الثِّنَى، تو یہ پہنچا دے گا دوگنا دوگنا کرنے کو دو تک پہنچا دے گا بھئی، دو مرتبہ تک یعنی ایک ہی سال میں کتنے صدقے ہو جائیں گے؟ دو ہو جائیں گے، حالانکہ دو تو نہیں آتے سال میں ایک ہی صدقہ آتا ہے۔ ترجمہ سمجھ میں آگیا؟ کہ اگر زکوٰۃ کے ساتھ ساتھ صدقۂ فطر بھی ان تجارت کے غلاموں میں واجب مانا جائے، فَيُؤَدِّي إِلَى الثِّنَى تو یہ دوگنے تک پہنچا دے گا صدقۂ فطر کے دوگنا ہونے تک۔ وَالْعَبْدُ بَيْنَ شَرِيكَيْنِ لَا فِطْرَةَ عَلَى وَاحِدٍ مِنْهُمَا، جی، فقہائے کرام پر اللہ کی کروڑہا رحمتیں نازل ہوں بھئی، ایک ایک مسئلہ دلیل کے ساتھ بیان کرکے ہمارے سامنے رکھ دیا اور اب ہم اس کو تیار روٹی کی طرح کھا رہے ہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ اتنے مشکل اتنے پیچیدہ مسائل اور جو جو بھی امکانی صورت بنتی تھی ہر ایک کو دلیلوں کے ساتھ خوب واضح کرکے رکھ دیا بھئی۔ تو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو بھی ہدایت نصیب فرمائے جو فقہاء کے خلاف بولتے ہیں اور ان پر طعن و تشنیع کرتے ہیں بھئی۔ یہ فقہاء ہی کی محنتیں ہیں بھئی، یہ فقہاء کی محنتیں ہیں کہ یہ دین آج تک اسی طرح محفوظ ہے۔ اگر صرف بعض لوگ کہتے ہیں احادیث کو دیکھو اور قرآن کو دیکھو، بھئی انہوں نے احادیث اور قرآن سے ہی مسائل نکالے ہیں، کہاں پر حدیث اور قرآن کے خلاف اب تک بات آئی ہے؟ سمجھ میں آیا بھئی؟ ہاں، اگر کوئی شخص اپنی عقل سے قرآن اور حدیث کو دیکھے گا تو وہ تو اپنی سمجھ کے مطابق معنی نکالے گا، تو ایک شخص کوئی معنی کرے گا اس کا، دوسرا کوئی معنی کرے گا، تیسرا کچھ اور معنی کرے گا، تو دین کی تو شکل ہی بدل جائے گی، ہر شخص اپنی مرضی کے مطابق اس کا معنی کرے گا، ہر شخص اپنی مرضی۔ تو کہتے ہیں: وَالْعَبْدُ بَيْنَ شَرِيكَيْنِ لَا فِطْرَةَ عَلَى وَاحِدٍ مِنْهُمَا، اور ایسا غلام جو دو شریکوں کے درمیان ہو تو صدقۂ فطر نہیں ہے ان میں سے کسی ایک پر بھی۔ بھئی صورتِ مسئلہ یہ کہ میں نے اور زید نے مل کر ایک غلام خریدا، یا میں نے، زید نے، عمرو نے، بکر نے کئی آدمیوں نے مل کر خریدا ایک غلام، تو کسی پر بھی صدقۂ فطر اس غلام کا واجب نہیں، اس لیے کیونکہ کسی کو بھی اس غلام پر کامل ولایت حاصل نہیں، تو نہ کسی کو اس پر کامل ولایت حاصل ہے اور نہ ہی کسی پر اس کا کامل نفقہ ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ غلام مشترکہ ہوا تو اس کا خرچہ بھی سب پر باری باری پڑے گا اور خدمت بھی سارے اس سے باری باری لیں گے، ایک دن ایک کی خدمت کرے گا دوسرے دن دوسرے کی۔ تو کسی کو کامل ولایت بھی نہیں اور کسی پر اس کا کامل خرچہ بھی نہیں، لہٰذا اس کا صدقۂ فطر کسی پر واجب نہیں۔ تو کہتے ہیں: وَالْعَبْدُ بَيْنَ شَرِيكَيْنِ لَا فِطْرَةَ عَلَى وَاحِدٍ مِنْهُمَا، اور ایسا غلام جو دو شریکوں کے درمیان ہو تو اس کا صدقۂ فطر ان میں سے کسی ایک پر بھی نہیں، لِقُصُورِ الْوِلَايَةِ وَالْمُؤْنَةِ فِي كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا، اس وجہ سے کہ ولایت اور خرچہ ناقص ہیں ان دونوں میں سے ہر ایک کے اندر۔ ہر ایک آقا پر اس کا خرچہ بھی ناقص اور اس کی ولایت بھی ناقص ہے۔ وَكَذَا الْعَبِيدُ بَيْنَ اثْنَيْنِ، اور اسی طرح کئی غلام ہوں دو آدمیوں کے درمیان۔ بھئی صورت یہ، میں نے اور زید نے مل کر کئی غلام خرید لیے، فرض کریں مثلاً سات غلام ہیں، طاق طاق عدد کی مثال بنائیں تاکہ بات اچھی طرح واضح ہو جائے۔ سات غلام میں نے اور زید نے مل کر خریدے ہیں، تو ہر غلام کے اندر آدھا غلام میرا اور آدھا کس کا؟ زید کا۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں ان سات اور یہ بھی یاد رکھیں، یہ ساتوں غلام ہم نے خدمت کے لیے خریدے ہیں تجارت کے لیے نہیں، کیونکہ تجارت والے ہوں تو اس میں تو صدقۂ فطر واجب ہی نہیں۔ تو ہم نے سات غلام خرید لیے، تو امام صاحب کے نزدیک ان میں سے کسی غلام کا صدقۂ فطر کسی بھی مالک پر واجب نہیں، کیونکہ کوئی بھی ان میں سے پورے غلام کا مالک نہیں۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں نہیں، غلاموں کی تقسیم کرو ویسے ہی ویسے ہی، باقاعدہ تقسیم نہیں یعنی حساب لگا لو۔ سات غلام ہیں، ہر ایک میں سے آپ کا حصہ آدھا غلام، اور دو آدھے غلام ہوں تو یہ بنتا ہے ایک پورا غلام، تو سات آدھے حصے آپ کے ہیں کتنے پورے غلام بن گئے؟ تین پورے غلام اور ایک آدھا غلام۔ تو گویا آپ کے پاس تین پورے غلام ہیں اور ایک آدھا غلام ہے، تو تین جو پورے غلام ہیں ان کا صدقۂ فطر آپ پر، اور تین جو غلام ہیں پورے دوسرے کے حصے میں آ رہے ہیں اس کا صدقۂ فطر اس پر آئے گا، اور ایک غلام تو آدھا آدھا آ رہا ہے وہ چونکہ پورا نہیں تو لہٰذا اس میں صدقۂ فطر نہیں۔ مسئلہ سمجھ میں آگیا؟ تو وہ صاحبین تقسیم کا اعتبار کرتے ہیں اور امام صاحب تقسیم کا اعتبار نہیں کرتے۔ یہ وہ صورت ہے جب غلام آپس میں تقسیم نہیں کیے ابھی، صرف تقسیم کا اعتبار کر رہے ہیں۔ ہاں، اگر غلام باقاعدہ تقسیم کر دیتے ہیں کہ لیں بھئی یہ ساتوں ہمارے مشترکہ تھے لیکن بس آج کے بعد یہ تین آپ کے ہو گئے اور یہ تین میرے ہو گئے اور یہ غلام ہم دونوں کا مشترکہ رہے گا، پھر تو آپ مالک بن گئے، پھر تو آپ کو دینا پڑے گا بھئی، سمجھ میں آیا؟ یہ تقسیم سے پہلے کی بات ہو رہی ہے، صرف تقسیم کا اعتبار کر رہے ہیں۔ تو کہتے ہیں: وَكَذَا الْعَبِيدُ بَيْنَ اثْنَيْنِ، اور اسی طرح کئی غلام دو آدمیوں کے درمیان ہوں تو اس میں بھی صدقۂ فطر نہیں، اوپر والے مسئلے کی طرح ہے یہ مسئلہ بھی، عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ کس کے نزدیک؟ امام صاحب کے نزدیک۔ وَقَالَا اور صاحبین فرماتے ہیں: عَلَى كُلِّ مِنْهُمَا مَا يَخُصُّهُ مِنَ الرُّءُوسِ دُونَ الْأَشْقَاصِ، وہ فرماتے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک پر مَا يَخُصُّهُ مِنَ الرُّءُوسِ وہ جو اس کے ساتھ خاص ہے رؤوس میں سے، ہر ایک پر ہر ایک پر اس کا صدقۂ فطر ہے جو اسی آدمی کے ساتھ خاص ہے ان افراد میں سے ان غلاموں میں سے، دُونَ الْأَشْقَاصِ نہ کہ حصوں میں سے۔ اشخاص جمع ہے شخص کی، کہ ٹکڑے اور حصے کو کہتے ہیں۔ صاحبین کے نزدیک کیا تھا مسئلہ؟ کیا مسئلہ تھا؟ کہ جو ٹکڑے اور حصے بنتے ہیں ان کو کیا کیا جائے گا؟ ملایا جائے گا، تو جو جو پورا پورا رأس بن جائے گا اس میں صدقۂ فطر واجب ہوگا، اور جو ٹکڑے ہوں گے اس کے اندر صدقۂ فطر واجب نہیں۔ ایک ایک کے حصے میں ساڑھے تین آ رہے تھے تو تین پورے تھے اس میں تو صدقۂ فطر اس پر آئے گا، اور ایک تو ٹکڑا اور حصہ تھا آدھا اس میں صدقۂ فطر نہیں۔ یہ معنی ہے کہ وہ فرماتے ہیں: عَلَى كُلِّ مِنْهُمَا مَا يَخُصُّهُ مِنَ الرُّءُوسِ، کہ ان میں سے ہر ایک پر وہ جو اس کے ساتھ خاص ہے رؤوس میں سے، دُونَ الْأَشْقَاصِ نہ کہ حصوں میں سے۔ بِنَاءً بنا بر اس کے عَلَى أَنَّهُ لَا يَرَى قِسْمَةَ الرَّقِيقِ، کہ امام صاحب رائے نہیں رکھتے غلام کی تقسیم کی، وَهُمَا يَرَيَانِهِمَا اور صاحبین جو ہیں غلام کی تقسیم کی رائے رکھتے ہیں یعنی اس کا اعتبار کرتے ہیں اور امام صاحب اعتبار نہیں کرتے۔ وَقِيلَ اور کہا گیا ہے: هُوَ بِالْإِجْمَاعِ، کہ یہ قول بالاجماع ہے، بالاجماع ہے، یعنی جو متن میں آیا نا اسی طرح ہے مسئلہ کئی غلاموں میں بھی جو دو آدمیوں کے درمیان ہو۔ اسی طرح ہے، کیا معنی؟ جیسے اوپر والے مسئلے میں صدقۂ فطر نہیں تھا ایک غلام کے اندر تو کئی کے اندر بھی صدقۂ فطر نہیں ہوگا۔ صاحبِ ہدایہ نے تو اختلاف ذکر کر دیا کہ یہ جو متن میں آیا یہ امام صاحب کا قول ہے، صاحبین کے نزدیک کئی غلام دو آدمیوں کے درمیان ہوں تو ان میں صدقۂ فطر تقسیم کا اعتبار کرکے دینا پڑے گا، جبکہ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ یہ جو متن میں آیا یہ بالاجماع ہے، بالاجماع ہے یعنی ہمارے تینوں ائمہ کا یہی قول ہے، تینوں ائمہ کا یہی قول ہے۔ لِأَنَّهُ لَا يَجْتَمِعُ النَّصِيبُ قَبْلَ الْقِسْمَةِ، اس لیے کیونکہ حصہ اکٹھا نہیں ہوتا تقسیم سے پہلے۔ تقسیم سے پہلے حصہ اکٹھا نہیں ہوتا، دونوں بھئی آپس میں میرے اور آپ کے غلام ہیں تو ہر غلام کے اندر میرا بھی حصہ پھیلا ہوا ہے اور آپ کا حصہ بھی پھیلا ہوا ہے، میرا حصہ اکٹھا نہیں ہوگا جب تک ہم دونوں غلاموں کو آپس میں تقسیم نہ کر دیں کہ تین غلام آپ کے ہوگئے تین غلام میرے، جب تک تقسیم نہیں کریں گے ہمارا حصہ اکٹھا نہیں ہے بلکہ ہر غلام کے اندر پھیلا ہوا ہے، جب ہر غلام کے اندر حصہ پھیلا ہوا ہے تو حصہ اکٹھا نہیں، جب حصہ اکٹھا نہیں تو کسی ایک کے حصے میں بھی پورا غلام نہیں، جب پورا غلام کسی کے حصے میں بھی نہیں تو اس کا صدقۂ فطر بھی واجب نہیں ہوگا، دلیل سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں: لِأَنَّهُ لَا يَجْتَمِعُ النَّصِيبُ قَبْلَ الْقِسْمَةِ، اس لیے کیونکہ حصہ اکٹھا نہیں ہوتا تقسیم سے پہلے، فَلَمْ تَتِمَّ الرَّقَبَةُ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا، تو رقبہ پورا نہ ہوا ان دونوں میں سے ہر ایک کے لیے، یعنی کسی کے حصے میں بھی پورا غلام نہیں، ہر ایک کے حصے میں آدھا آدھا غلام آ رہا ہے تو صدقۂ فطر واجب ہی نہیں۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔