قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٌ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى إِذَا دَفَعَ الزَّكَاةَ إِلَى رَجُلٍ يَظُنُّهُ فَقِيرًا ثُمَّ بَانَ أَنَّهُ غَنِيٌّ أَوْ هَاشِمِيٌّ أَوْ كَافِرٌ أَوْ دَفَعَ فِي ظُلْمَةٍ فَبَانَ أَنَّهُ أَبُوهُ أَوِ ابْنُهُ فَلَا إِعَادَةَ عَلَيْهِ، وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ الْإِعَادَةُ۔ باب چل رہا ہے کہ کس شخص کو زکوٰۃ دینا جائز ہے اور کس شخص کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں۔ تو مسئلہ یہ ذکر کر رہے ہیں کہ مثلاً کسی شخص نے کسی دوسرے کو زکوٰۃ دے دی اور بعد میں پتہ چلا کہ یہ زکوٰۃ کا مصرف نہیں تھا، تو کیا زکوٰۃ ادا ہوگئی یا زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی؟ تو طرفین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ ادا ہوگئی، دوبارہ لوٹانے کی ضرورت نہیں، اعادے کی ضرورت نہیں، جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اعادہ ضروری ہے، زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی۔ تو کہتے ہیں: قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٌ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى إِذَا دَفَعَ الزَّكَاةَ إِلَى رَجُلٍ يَظُنُّهُ فَقِيرًا، طرفین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ جب زکوٰۃ دے دی ایک ایسے شخص کو يَظُنُّهُ فَقِيرًا کہ جس کے بارے میں یہ گمان کرتا ہے کہ وہ فقیر ہے، محتاج ہے، یعنی یہ گمان کرتے ہوئے دے دی کہ شاید یہ کیا ہے؟ فقیر اور محتاج ہے، ثُمَّ بَانَ، بَانَ يَبِينُ کے معنی ہوتے ہیں ظاہر ہونے کے، پھر یہ بات ظاہر ہوئی، اس بات کا پتہ چلا کہ أَنَّهُ غَنِيٌّ کہ یہ تو مالدار ہے بھئی جس کو اس نے زکوٰۃ دی ہے، أَوْ هَاشِمِيٌّ یا یہ کیا تھا؟ یہ تو ہاشمی ہے، أَوْ كَافِرٌ یا کافر ہے، یا أَوْ دَفَعَ فِي ظُلْمَةٍ یا اس نے زکوٰۃ دی تاریکی کے اندر، اندھیرے میں کسی شخص کو، فَبَانَ پھر یہ بات ظاہر ہوئی کہ أَنَّهُ أَبُوهُ أَوِ ابْنُهُ کہ یہ تو اس کے والد تھے، أَوِ ابْنُهُ یا اس کا بیٹا تھا، فَلَا إِعَادَةَ عَلَيْهِ تو اس شخص پر اعادہ نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ کس شخص کو زکوٰۃ دے دی ہے جو زکوٰۃ کا مستحق نہیں ہے، جس کو زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی، تو طرفین فرماتے ہیں اس پر اعادہ نہیں ہے، اس نے اپنی طرف سے کوشش کرکے دے دی ہے تو زکوٰۃ ادا ہوگئی۔ وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ الْإِعَادَةُ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس پر اعادہ واجب ہے، زکوٰۃ پھر ادا کرنا پڑے گی۔ ان کی دلیل، وہ فرماتے ہیں: لِظُهُورِ خَطَئِهِ بِيَقِينٍ، اس وجہ سے کیونکہ اس کی غلطی یقینی طور پر ظاہر ہو گئی ہے۔ جب پتہ چلا یہ مالدار تھا یا ہاشمی تھا اور مالدار اور ہاشمی کو تو زکوٰۃ نہیں دے سکتے یا اسی طرح کافر ہے یا پتہ چلا اس کا والد یا بیٹا ہے یعنی اس کے اصول اور فروع میں سے کوئی ہے، تو یہ تو زکوٰۃ ان لوگوں کو نہیں دی جا سکتی تو اس کو بعد میں پتہ چل گیا کہ ان میں سے کوئی تھا، تو اپنی غلطی کا یقینی طور پر پتہ چل گیا اس کو، لہٰذا کیا کرنا پڑے گا؟ اعادہ کرنا پڑے گا۔ وَلِإمْكَانِ الْوُقُوفِ عَلَى هَذِهِ الْأَشْيَاءِ، اس کا عطف ظهور پر ہے، وَلِإمْكَانِ الْوُقُوفِ عَلَى هَذِهِ الْأَشْيَاءِ اور اس وجہ سے کہ ان چیزوں پر واقف ہونا ممکن ہے۔ ان چیزوں پر؟ ان چیزوں پر تو پتہ لگایا جا سکتا ہے بھئی، زکوٰۃ دینے سے پہلے کیا کر لے انسان پتہ لگا لے کہ یہ مالدار ہے یا نہیں، یہ ہاشمی ہے یا نہیں، یہ کافر ہے یا نہیں، سمجھ میں آیا؟ یا اس کا والد، اس کا بیٹا ہے، وہ سب پتہ لگ سکتے ہیں آرام سے، تو ان چیزوں پر واقف ہوا جا سکتا ہے اور اس نے اس پر واقفیت حاصل نہیں کی اور ویسے ہی زکوٰۃ دے دی تو ادا نہیں ہوئی، دوبارہ ادا کرنا پڑے گی۔ وَصَارَ كَالْأَوَانِي وَالثِّيَابِ اور یہ برتنوں اور کپڑوں کی طرح ہو گیا۔ کس کی طرح؟ بھئی دیکھیے مثلاً بہت سے برتن تھے اور ان میں نجس برتن مل گیا، اب ایک شخص نے تحری کرکے ایک برتن کے پانی سے وضو کر لیا، بعد میں اس کو پتہ چلا کہ یہ تو اس نے نجس برتن سے وضو کیا ہے تو اس پر وضو کا اعادہ لازم ہے۔ وضو کا اعادہ؟ لازم ہے۔ اسی طرح بھئی نجس کپڑے اور کپڑوں کے اندر مل گئے، ایک شخص نے تحری کرکے کہ کون سے کپڑے پاک ہیں، ان میں سے ایک کپڑا نکال لیا اور پہن لیا اور اس میں نماز ادا کی بھئی، پھر بعد میں پتہ چلا یہ تو اس نے کون سا کپڑا اس کے ہاتھ آ گیا تھا جو نجس تھا، ناپاک تھا، تو اس پر اس نماز کا اعادہ واجب ہے۔ اس پر نماز کا اعادہ؟ تو جیسے وہاں پر وہ اعادہ واجب تھا وضو کے اندر بھی اور نجس کپڑے پہن لیے تھے ان میں نماز کا اعادہ واجب ہے، تو اسی طرح یہاں پر بھی زکوٰۃ اس نے دی ہے ایک ایسے شخص کو جو زکوٰۃ کا مستحق نہیں ہے تو اس پر زکوٰۃ کا اعادہ واجب ہو گا۔ مسئلہ سمجھ میں آگیا؟ وَلَهُمَا اور طرفین کی دلیل جو ہے: حَدِيثُ مَعْنِ بْنِ يَزِيدَ فَإِنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ فِيهِ، اور طرفین کی دلیل معن بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث ہے بھئی، فَإِنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ فِيهِ پس اس کے اندر حضور علیہ السلام نے فرمایا: يَا يَزِيدُ لَكَ مَا نَوَيْتَ وَيَا مَعْنُ لَكَ مَا أَخَذْتَ، اے یزید! تمہارے لیے وہ ہے جس کی تم نے نیت کی ہے، یعنی تمہیں اس چیز کا ثواب ملے گا جس کی تم نے نیت کی ہے، وَيَا مَعْنُ لَكَ مَا أَخَذْتَ اور اے معن! تمہارے لیے وہ ہے جو تم نے لے لیا ہے۔ بھئی صورت یہ پیش آئی تھی کہ حضرت یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے مال سے صدقہ نکالا اور کسی شخص کے حوالے کر دیا مسجد میں کہ یہ کسی مستحق زکوٰۃ کو یہ دے دینا۔ اب ان کے بیٹے تھے معن رضی اللہ تعالیٰ عنہ، تو وہ وکیل نے ان کو دے دیے بھئی، ان کو دے دیے اور پھر ذکر کیا ہوگا کہ یہ آپ کے والد کے ہیں، تو یہ بعد میں اپنے والد کے پاس بھی آئے اور ذکر کیا، تو انہوں نے کہا کہ بھئی میں نے تو تمہارا ارادہ نہیں کیا تھا، یہ جو میں نے مال نکال کر دیا تھا اس کو تو میرا یہ ارادہ تو نہیں تھا کہ وہ تمہیں دے۔ تو یہ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور تو حضور علیہ السلام فرمانے لگے ان کے والد سے: يَا يَزِيدُ لَكَ مَا نَوَيْتَ، اے یزید! تمہارے لیے وہی ہے جو تم نے نیت کی، یعنی تمہیں اسی چیز کا ثواب ملے گا جس کی تم نے نیت، اور ان کے بیٹے جنہوں نے وہ زکوٰۃ یا وہ صدقہ لیا تھا ان سے کہنے لگے: يَا مَعْنُ لَكَ مَا أَخَذْتَ، تمہارے لیے وہ ہے جو تم نے لے لیا، یعنی جو تم نے لے لیا وہ تمہارا ہوگیا اور اے یزید! تمہیں جس چیز کی تم نے نیت کی تھی تمہیں اس کا ثواب مل گیا۔ تو یہ کس کی دلیل؟ طرفین کی، طرفین کی۔ تو طرفین فرماتے ہیں کہ دیکھیے اس حدیث کے اندر وہ وکیل نے غلطی سے کس کو دے دیا؟ وکیل نے ان کے بیٹے کو دے دیا تھا اور پھر بھی دوبارہ ادائیگی کا حضور علیہ السلام نہیں فرما رہے۔ دلیل سمجھ میں آگئی؟ تو حضور علیہ السلام نے فرمایا: يَا يَزِيدُ لَكَ مَا نَوَيْتَ وَيَا مَعْنُ لَكَ مَا أَخَذْتَ، وَقَدْ دَفَعَ إِلَيْهِ وَكِيلُ أَبِيهِ صَدَقَتَهُ اور تحقیق حوالے کر دیا تھا ان کے ان کے والد کے وکیل نے صَدَقَتَهُ ان کا صدقہ، ان کے حوالے کر دیا تھا۔ اب دیکھیے، یہاں اگرچہ یہ بھی احتمال ہے ہو سکتا ہے ان کے والد نے نفلی صدقہ دیا ہو، ہو سکتا ہے وہ زکوٰۃ دی ہو، صدقہ واجبہ دیا ہو، لیکن استدلال ہے یہاں پر دراصل حضور علیہ السلام فرما رہے ہیں: لَكَ مَا نَوَيْتَ، اے یزید! تمہارے لیے اسی چیز کا ثواب ہے جو تم نے نیت کی ہے، مَا نَوَيْتَ جو بھی تم نے نیت کی ہے، معلوم ہوا نفلی صدقے کی نیت کی ہے تو اس کا ثواب مل جائے گا اور زکوٰۃ کی نیت کی ہے تو تمہیں اس کا ثواب مل، تو یہ مَا نَوَيْتَ لفظ عام ہے، یہ نفلی کو بھی شامل ہو رہا ہے اور صدقہ واجبہ کو بھی، جو بھی نیت کی ہے تمہیں اس کا ثواب ملے گا بھئی۔ تو معلوم ہوا اگر اس طرح غلطی سے دے دیا جائے زکوٰۃ کسی غیر مستحق کو تو بھی ادا ہو جائے گی، اعادے کی ضرورت نہیں۔ اور دوسرا امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی عقلی دلیل کا بھی جواب دے رہے ہیں بھئی۔ انہوں نے کیا کہا تھا؟ کہ انہوں نے اس کو قیاس کیا تھا برتنوں اور کپڑوں پر اور فرمایا تھا کہ ان چیزوں پر واقف ہونا ممکن ہے ممکن ہے، تو کہہ رہے ہیں بھئی ان چیزوں پر واقف یقینی طور پر کوئی بھی نہیں ہو سکتا، بلکہ اجتہادی طور پر ہی اپنی کوشش سے ہی جو ہے وہ اندازہ لگا سکتا ہے۔ یقینی طور پر پتہ نہیں چل سکتا بھئی زکوٰۃ کس کو دے سکتے ہیں۔ تو زکوٰۃ کا بھئی زکوٰۃ کا مصرف جو ہیں وہ فقراء ہیں اور کسی کے فقر اور مالداری کا یقینی طور پر پتہ نہیں چل سکتا بھئی، بلکہ کس اس میں؟ اجتہاد ہی اپنی کوشش ہوگی، سوچے گا، غور کرے گا اور جو محتاج اور مسکین معلوم ہوگا، مسکین دکھائی دے گا اس کو انسان زکوٰۃ وغیرہ دے دیتا ہے۔ یقینی طور پر تو یہ پتہ نہیں چل سکتا کہ یہ محتاج ہے یا محتاج نہیں ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ دوسرے کا مال ہے اس کو کیا پتہ اس کے پاس اتنا مال ہے یا نہیں ہے اور کون ظاہر کرتا ہے بھئی اپنے مال کو، سمجھ میں آیا؟ تو یقینی طور پر چونکہ ان چیزوں کا پتہ چل ہی نہیں سکتا، صرف اپنی کوشش اور اجتہاد ہی ہوگا، اسی کے مطابق یہ شخص عمل کرے گا اور یہاں پر بھی اس نے کوشش تو کی ہے زکوٰۃ دیتے ہوئے لیکن یہ پھر بعد میں اس کا اندازہ تو یہی تھا یہ شاید زکوٰۃ کے مستحق ہیں لیکن بعد میں پتہ چلا یہ زکوٰۃ کے مستحق نہیں ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلِأَنَّ الْوُقُوفَ عَلَى هَذِهِ الْأَشْيَاءِ بِالِاجْتِهَادِ دُونَ الْقَطْعِ اور اس لیے کیونکہ ان چیزوں پر واقف ہونا اجتہاد سے ہے دُونَ الْقَطْعِ نہ کہ یقینی طور پر، فَيُبْنَى الْأَمْرُ فِيهَا عَلَى مَا يَقَعُ عِنْدَهُ تو معاملے کی بنیاد اس کے اندر ہوگی اسی اجتہاد پر، اسی تحری پر جو اس کے نزدیک واقع ہو، جو کچھ اس کے نزدیک واقع ہوگا جو اس کا اجتہاد ہوگا اسی پر معاملے کی بنیاد ہوگی اور اس نے بھی کیا اجتہاد کیا کہ شاید یہ زکوٰۃ کے مستحق ہیں بھئی۔ كَمَا إِذَا اشْتَبَهَتْ عَلَيْهِ الْقِبْلَةُ جیسے کہ اس پر قبلہ مشتبہ ہو جائے، جب قبلہ کسی پر مشتبہ ہو جائے تو کیا حکم بتلایا گیا؟ تحری کرے گا اور غالب رائے پر عمل کر لے گا اور اگر بعد میں پتہ چلے اس نے تو غلط طرف کو نماز پڑھ لی ہے تو کیا اس پر اعادہ ہے؟ اس پر اعادہ نہیں، تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے، اس نے تحری کرکے زکوٰۃ دے دی ہے بعد میں اگر پتہ چل، پتہ بھی چل گیا کہ یہ مستحق نہیں تھا، یہ محل نہیں تھا ادائیگی کا تو بھی اس پر اعادہ نہیں ہے۔ وَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي غَيْرِ الْغَنِيِّ أَنَّهُ لَا يُجْزِيهِ اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ مالدار کے علاوہ کے اندر أَنَّهُ لَا يُجْزِيهِ کہ یہ کافی نہیں ہوگا۔ امام صاحب سے دوسری روایت یہ ہے کہ یہ جو اوپر افراد ذکر ہوئے ان میں سے اگر وہ شخص مالدار نکلا بعد میں جس کو کیا دی تھی؟ زکوٰۃ، پھر تو ادا ہو جائے گی زکوٰۃ، مالدار کے علاوہ جو صورتیں ذکر ہوئیں، ہاشمی نکل آیا یا کافر نکل آیا یا اپنے اصول و فروع میں سے یعنی والد، دادا وغیرہ، نانا وغیرہ یا اولاد میں سے نیچے کوئی شخص نکل آیا تو پھر اس صورت میں زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی، پھر اعادہ کرنا پڑے گا۔ ہاں مالدار اگر نکل آیا تو پھر اعادے کی ضرورت نہیں، پھر اعادے کی ضرورت نہیں، کیونکہ مالدار فی الجملہ مستحق زکوٰۃ ہے۔ مالدار مجموعی اعتبار سے کسی نہ کسی طور پر اس مال زکوٰۃ کا مستحق ہے۔ بھئی آپ نے پڑھا یا نہیں وہ آیت کے اندر مصارف زکوٰۃ بیان ہوئے تھے، ان میں عاملین ذکر ہوئے تھے اور عاملین کو کس طریقے پر دیا جاتا ہے؟ کفایت کے طریقے پر دیا جاتا ہے نہ کہ زکوٰۃ، تو لہٰذا اگر وہ مالدار ہو پھر بھی وہ مال لے سکتا ہے جو کس کس کا مال ہے، کس چیز کا مال ہے؟ زکوٰۃ کا مال ہے، تو جو مالدار ہے وہ فی الجملہ کسی نہ کسی اعتبار سے اس مال کا حقدار ہے، لہٰذا اس لحاظ سے اس کو اگر دے دیا ہے تو اس میں تو اعادے کی ضرورت نہیں۔ یہ کون سی صورت بیان ہو رہی ہے؟ جب غلطی سے دیا ہے، اس کا خیال تھا یہ محتاج ہے لیکن بعد میں کیا پتہ چلا؟ یہ مالدار ہے، ویسے تو مالدار کو دے گا زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی لیکن بہرحال فی مجموعی اعتبار سے کسی نہ کسی صورت میں مالدار کو بھی وہ مال دیا جا سکتا تھا زکوٰۃ والا، تو اس وجہ سے مالدار کے مسئلے کے اندر تو اعادے کی ضرورت نہیں لیکن باقی سب صورتوں میں کیا کرنا پڑے گا؟ اعادہ کرنا پڑے گا، پھر زکوٰۃ ادا کرنا پڑے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ اور ان لوگوں کو چاہیے اگر انہوں نے لے لیا ہے ان کو زکوٰۃ واپس کر دینی چاہیے بھئی جب اگر ان کو معاملے کا پتہ چل جائے کہ یہ زکوٰۃ ان کو ادا کی گئی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي غَيْرِ الْغَنِيِّ أَنَّهُ لَا يُجْزِيهِ اور امام صاحب سے مالدار کے علاوہ کے اندر یہ روایت ہے کہ یہ کافی نہیں ہوگا، وَالظَّاهِرُ هُوَ الْأَوَّلُ اور ظاہر روایت جو ہے وہ اول ہی ہے کہ مالدار کے علاوہ باقیوں کے اندر بھی اعادے کی ضرورت نہیں۔ اور یہ مسئلہ بھی یاد رکھیے، فتویٰ اس پر ہے کہ زکوٰۃ ان تمام صورتوں میں ادا ہو جائے گی اِلَّا یہ کہ وہ کافر ہو۔ جس نے زکوٰۃ دی تھی بعد میں پتہ چلا کہ وہ کیا نکلا، وہ کون ہے وہ آدمی؟ کافر ہے، پھر زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی، زکوٰۃ دوبارہ ادا کرنا پڑے گی، لیکن اگر وہ بعد میں پتہ چلا وہ ہاشمی ہے یا مالدار ہے یا اپنی اولاد ہے یا اپنے اصول ہیں تو پھر زکوٰۃ ادا ہو گئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ لیکن اس کے اندر یہ ضروری ہے کہ پہلے اس نے کیا کی ہو؟ تحری کی ہو تحری، تحری کی ہو اگر اس کو شک ہے کہ پتہ نہیں یہ مالدار ہوگا یا یہ زکوٰۃ کا مستحق ہوگا یا زکوٰۃ کا مستحق نہیں، اس نے تحری کی اور پھر مال دیا۔ تحری ضروری ہے اس صورت میں جب اس کو شک ہو کہ پتہ نہیں یہ محتاج ہے یا محتاج نہیں۔ اگر شک نہیں ہے پھر تو بغیر تحری کے بھی دے سکتا ہے، لیکن اگر شک ہے کہ پتہ نہیں یہ مالدار ہے، محتاج بھی ہے یا محتاج نہیں ہے، تو پھر تحری ضروری ہے اور غور کرے اور جس طرف اس کا ذہن زیادہ جائے اس پر عمل کر لے، پھر اعادے کی ضرورت نہیں۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہی ذکر کر رہے ہیں: وَهَذَا إِذَا تَحَرَّى وَدَفَعَ اور یہ اس صورت میں ہے جب اس نے تحری کی ہے اور حوالے کی ہے، وَفِي أَكْبَرِ رَأْيِهِ أَنَّهُ مَصْرِفٌ اور اس کی غالب رائے کے اندر وہ یہ اس کی غالب رائے یہ تھی کہ یہ بھی مصرف زکوٰۃ ہے، اس نے تحری کرکے مال دیا تھا اور اس کی غالب رائے کیا بنی تھی کہ یہ بھی مصرف زکوٰۃ ہے۔ أَمَّا إِذَا شَكَّ وَلَمْ يَتَحَرَّ اور باقی وہ صورت کہ جب اس کو شک ہوا وَلَمْ يَتَحَرَّ اور اس نے تحری نہیں کی اور ویسے ہی دے دیا، پھر تو اعادہ کرنا ہی پڑے گا کیونکہ شک بھی تھا اور پھر بھی تحری نہیں کی اس نے، أَوْ تَحَرَّى یا اس نے تحری تو کی، فَدَفَعَ پھر حوالے بھی کر دیا، وَفِي أَكْبَرِ رَأْيِهِ أَنَّهُ لَيْسَ بِمَصْرِفٍ اور اس کی بڑی رائے یہ تھی کہ یہ زکوٰۃ کا مصرف نہیں۔ بھئی اس نے اس کو ایک آدمی کے بارے میں شک تھا کہ یہ پتہ نہیں محتاج ہے یا محتاج نہیں، اس نے تحری کی، تحری کے اندر ذہن غالب جس طرف چلا گیا، غالب گمان اس کا یہ ہوا کہ یہ زکوٰۃ کا مصرف نہیں ہے، یہ مالدار ہے، پھر بھی اس نے زکوٰۃ اس کو دے دی، پھر بھی؟ تو دیکھو غالب رائے کے مطابق اس نے دیا ہے یا اس کے خلاف کر عمل کرتے ہوئے دی ہے؟ اس کے خلاف عمل کرتے ہوئے دی ہے، تو اس صورت میں پھر زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی، اِلَّا ایک صورت میں پھر بھی ادا ہو جائے گی کہ بعد میں پتہ چلا کہ یہ واقعی مستحق زکوٰۃ تھا، اب تو بےشک غالب رائے کے خلاف دی ہے لیکن کس کو دی ہے؟ مستحق زکوٰۃ ہی کو دی ہے، وہ محتاج ہی نکلا، تو پھر پھر تو ٹھیک ہو گئی بھئی۔ یہ معنی ہے: أَوْ تَحَرَّى فَدَفَعَ یا اس نے تحری کی پس پھر حوالے کر دی، وَفِي أَكْبَرِ رَأْيِهِ أَنَّهُ لَيْسَ بِمَصْرِفٍ لَا يُجْزِيهِ اور اس کی غالب رائے یہ تھی کہ وہ زکوٰۃ کا مصرف نہیں ہے تو اس صورت میں لَا يُجْزِيهِ یہ اس کے لیے کافی نہیں، إِلَّا إِذَا عَلِمَ أَنَّهُ فَقِيرٌ هُوَ الصَّحِيحُ مگر یہ کہ جب پھر اس کو معلوم ہوا کہ یہ فقیر ہی تھا هُوَ الصَّحِيحُ یہی قول صحیح ہے کہ پھر اس صورت میں زکوٰۃ ادا ہو جائے گی، چاہے بغیر تحری کے دی ہے، شک تھا پھر بھی تحری نہیں کی ویسے ہی زکوٰۃ دے دی اور بعد میں پتہ چلا واقعی یہ محتاج بھی تھا، پھر تو یقینی طور پر زکوٰۃ کہاں پر پہنچی ہے؟ اپنے محل کو پہنچی ہے، اپنے مصرف کو، ادا ہو جائے گی۔ وَلَوْ دَفَعَ إِلَى شَخْصٍ ثُمَّ عَلِمَ أَنَّهُ عَبْدُهُ أَوْ مُكَاتَبُهُ لَا يُجْزِيهِ اور اگر حوالے کر دی کسی شخص کے زکوٰۃ، یہی صورت بھئی، ایک شخص کو ایک آدمی نے کیا کیا؟ اپنی زکوٰۃ حوالے کر دی، ثُمَّ عَلِمَ پھر اس کو یہ معلوم ہوا کہ أَنَّهُ عَبْدُهُ کہ یہ تو اس کا اپنا ہی غلام تھا، أَوْ مُكَاتَبُهُ یا اس کا اپنا مکاتب تھا، لَا يُجْزِيهِ یہ کافی نہیں ہے بھئی، یہ کافی نہیں ہے۔ بھئی اس صورت میں کیوں نہیں کافی؟ کہتے ہیں بھئی اس لیے کیونکہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے اندر تملیک ضروری تھی کہ دوسرے کو مالک بنایا جائے، مالک بنایا جائے اور غلام تو مالک بننے کا اہل ہی نہیں ہے، اس کو تو جو کچھ دیا جائے گا وہ کس کس کا ہوگا؟ اس کے آقا کا ہوگا اور آقا تو خود یہی زکوٰۃ دینے والا ہے تو گویا یہ اپنے آپ کو زکوٰۃ ادا کر رہا ہے۔ تو یہاں دوسرے کی مالک بنانا پایا ہی نہیں گیا، جبکہ اوپر والی صورتوں میں مالک اپنے آپ کو بنا رہا تھا یا اپنے غیر کو بنا رہا تھا؟ اپنے غیر کو، تو وہاں غیر کو مالک بنانا تو کم از کم موجود تھا، یہاں پر تو غیر کو سرے سے مالک بنانا ہی نہیں موجود، اپنے آپ ہی کو زکوٰۃ دے رہا ہے تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی۔ اور دوسرا اپنے اگر مکاتب کو دے دی تو یاد رکھیے مکاتب جو ہے وہ ٹھیک ہے وہ مال کا مالک بنتا ہے، اس نے ادائیگی کرکے اپنے آپ کو آزاد کروانا ہے لیکن اس کے مال کے اندر مالک کا باقاعدہ حق ہوتا ہے، وہ کما کر لا کر کس کو دیتا ہے؟ مالک کو دیتا ہے، ادائیگی کرتا ہے اپنے آپ کو چھڑواتا ہے، آزادی کروا اپنی آزادی کے لیے وہ کما رہا ہے، تو وہ تو ٹھیک ہے مالک بنتا ہے لیکن اس کے مال میں کس کا حق؟ مالک کا حق ہے اور نیز اگر وہ ادا نہ کر سکا تو پھر کیا بن جائے گا؟ عام غلام بن جائے گا اور جو کچھ ہوگا اس کے پاس وہ سارا کس کا ہو جائے گا؟ اس کے مالک کا ہو جائے گا، تو لہٰذا وہاں پر بھی تملیک پورے طور پر نہیں ہے چونکہ، لہٰذا اس وجہ سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی۔ یہ معنی ہے: وَلَوْ دَفَعَ إِلَى شَخْصٍ اور اگر زکوٰۃ کسی شخص کو دے دی، ثُمَّ عَلِمَ پھر اس کو یہ معلوم ہوا کہ أَنَّهُ عَبْدُهُ کہ وہ اسی کا غلام ہے، أَوْ مُكَاتَبُهُ یا اسی کا اپنا مکاتب ہے، لَا يُجْزِيهِ تو یہ کافی نہیں، لِانْعِدَامِ التَّمْلِيكِ اس وجہ سے کہ مالک بنانا معدوم ہے یہاں پر، مالک بنانا یہاں نہیں پایا جا رہا، لِعَدَمِ أَهْلِيَّةِ الْمِلْكِ اس وجہ سے کہ مالک ہونے کی اہلیت ہی غلام میں نہیں ہے، وہ مالک ہونے کی اہلیت ہی غلام سے معدوم ہے، وَهُوَ الرُّكْنُ عَلَى مَا مَرَّ اور وہ تو رکن ہے ادا ادائے زکوٰۃ کا عَلَى مَا مَرَّ بوجہ اس کے جو گزر گیا بھئی۔ وَلَا يَجُوزُ دَفْعُ الزَّكَاةِ إِلَى مَنْ يَمْلِكُ نِصَابًا مِنْ أَيِّ مَالٍ كَانَ اور جائز نہیں ہے زکوٰۃ دینا اس شخص کو جو نصاب کا مالک ہو مِنْ أَيِّ مَالٍ كَانَ جس مال میں سے بھی وہ نصاب ہو، یہ ضروری شرط ہے یاد رکھنا بھئی۔ بھئی اب تک آپ نے نصاب کی ایک قسم پڑھی تھی نصاب کی اور وہ تھا نصاب نامی جس کے اندر زکوٰۃ آتی ہے اور نصاب نامی کیا چیز ہے؟ درہم ہیں، دنانیر ہیں، مال تجارت ہے اور سائمہ جانور ہیں۔ یہ سارے کیا ہیں؟ مال یہ سب مال نامی ہیں، نصاب نامی ہیں نصاب تک اگر یہ پہنچتے ہوں، تو یہ ہیں نصاب نامی۔ نصاب نامی، لیکن یہاں کہہ رہے ہیں: مَنْ يَمْلِكُ نِصَابًا وہ شخص جو نصاب کا مالک ہو مِنْ أَيِّ مَالٍ كَانَ جس مال میں سے بھی ہو، چاہے وہ مال نامی ہو یا مال نامی نہ ہو۔ جس نصاب کا بھی مالک ہے اس کو زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی بھئی، زکوٰۃ دینا اس کو جائز نہیں۔ یاد رکھیے زکوٰۃ اس شخص کو دی جا سکتی ہے جو اپنی ضروریات سے یعنی اپنی حاجت اصلی سے، حاجت اصلی جس کی انسان کو ضرورت ہے بھئی، جس کی انسان کو ضرورت ہے اور یہ حاجت اصلی سے زائد مال چاہے کسی بھی صورت میں ہو وہ نصاب کو نہ پہنچتا ہو۔ اس کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں اور جس کے پاس اپنی ضروریات سے زائد نصاب کے بقدر مال ہے، چاہے مال نامی نہیں ہے لیکن کیا ہے؟ نصاب کے بقدر مال ہے اس کے پاس اپنی ضروریات سے زائد، وہ نصاب کا مالک ہوا اور جو شخص اپنی ضروریات سے زائد نصاب کا مالک ہو اس کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں۔ تو ضروریات سے زائد مال کس کو کہیں گے؟ حاجت اصلی سے زائد مال کس کو کہیں گے؟ یاد رکھیے حاجت اصلی سے زائد مال وہ ہے جس کی بہت جو کبھی کبھار ہی جس کی ضرورت پیش آتی ہے، بہت کم، سال میں ایک آدھ مرتبہ ہی جا کر اس چیز کی اس کو ضرورت پیش آتی ہے، تو یہ اس کی ضرورت سے زائد کہیں گے اس کو، کیا کہیں گے؟ ضرورت سے زائد کہیں گے جس کے اور جو چیزیں عام استعمال میں آتی ہیں وہ جتنی بھی زیادہ کیوں نہ ہوں وہ سب کہیں گے یہ حاجت اصلی میں مشغول ہیں۔ چاہے اس کے پاس گاڑی ہے، اس کی تو اس کو روز ضرورت پڑتی ہے، وہ اس کی حاجت اصلی میں مشغول ہے۔ سمجھ میں آیا؟ اس کا اپنا مکان ہے لیکن پھر بھی وہ کس میں مشغول ہے؟ اسی کی رہائش میں، اس کے اندر اس کو ضرورت پڑتی ہے۔ اسی طرح اس کے پاس گھر پر اور بہت سامان ہے لیکن وہ سب اس کے استعمال میں آتا رہتا ہے تو یہ سب کیا ہیں؟ ان کو کہا جائے گا یہ اس کی حاجت اصلی میں مشغول ہیں۔ ہاں جو چیزیں بہت ہی قلیل کبھی استعمال میں آتی ہیں یا کبھی آتی ہی نہیں ہیں، اس نے ویسے ہی رکھی ہوئی ہیں تو وہ اس کو کہیں گے یہ حاجت اصلی سے زائد ہے۔ مثلاً مثلاً ایک شخص کے پاس دو مکان ہیں بھئی، ایک مکان میں وہ رہتا ہے، ایک مکان میں وہ رہتا ہے، دوسرا مکان ویسے ہی اس کے پاس موجود ہے، ضرورت ہی نہیں اس کو، لیکن رکھا ہوا ہے اس نے ویسے ہی بھئی، تو یہ ضرورت سے زائد ہوا یہ مکان اور جب ضرورت سے زائد ہوا، حاجت اصلی سے زائد ہوا اور تو پھر اس کی قیمت لگائیں گے، یہ نصاب کو پہنچتا ہے یا نہیں اور یقیناً مکان ہے تو وہ تو نصاب کو پہنچے گا، اس کی تو قیمت بہت زیادہ ہوگی تو اس شخص کو زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی، لیکن اس کے بجائے اگر ایک ایسا شخص ہے کہ جس کے پاس ضروریات کی ساری چیزیں موجود ہیں لیکن زائد چیز نہیں ہے، استعمال کرتا ہے، یہ ساری چیزیں استعمال میں آنے والی ہیں تو اس شخص کے پاس اگر نصاب سے زائد چیز، حاجت اصلی سے زائد چیز نصاب کے بقدر نہیں ہے تو اس کو زکوٰۃ دینا جائز ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو آپ یہ نہ کہیں ایک آدمی ہے اس کے پاس موٹر سائیکل ہے یا اس کے پاس گاڑی ہے تو آپ کہیں بھئی اس کو زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی، ضابطہ بیان ہو گیا، سمجھ میں آیا بھئی؟ نصاب کے بقدر اس کے پاس ویسے عموماً تو ہوگا اس کے پاس، جس کے پاس گاڑی ہے کیا ہوگا اس کے پاس؟ نصاب کے بقدر زائد کچھ نہ کچھ، لیکن اگر اس کے پاس نہیں ہے تو بےشک گاڑی ہو اس کے پاس، پھر بھی کیا کیا جا سکتا ہے؟ اس کو زکوٰۃ دی، یا اس کے پاس گاڑی تو ہے مثلاً مال بھی ہے لیکن وہ مال دین کے ساتھ مشغول ہے سارا، اور حاجت اصلی سے زائد اتنا مال بنتا ہی نہیں ہے جس سے وہ جو کس کو پہنچتا ہو؟ نصاب کو پہنچتا ہو، تو بھی اس کو زکوٰۃ دینا جائز ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یا مثلاً بھئی ایک شخص ہے اس کے پاس تین چار مکان ہیں، ایک میں وہ خود رہتا ہے اور تین چار وہ کرائے پر اس نے دیے ہوئے ہیں لیکن انہی کی آمدنی سے اس کے گھر کا سارا خرچہ چلتا ہے اور تو وہ اس کی حاجت اصلی کے اندر مشغول ہیں یاد رکھیے بھئی اور اس کے علاوہ اور ضروریات کی چیزوں کے اندر اس کے پاس خرچہ بڑی مشکل سے چلتا ہے، نصاب کے بقدر مال زائد ہے ہی نہیں، تو بھی یہ مستحق زکوٰۃ ہے، اس کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے۔ ضابطہ سمجھ میں آگیا؟ جو چیزیں انسان کے روزمرہ اور عام استعمال میں آتی ہیں وہ کیا کہیں گے؟ یہ اس کی حاجت اصلی میں مشغول ہیں اور ان سے زائد اگر کوئی چیز ہے جس کی ضرورت کبھی کبھار ہی پیش آتی ہے کبھی سال میں ایک آدھ مرتبہ کبھی پیش آ جائے ایسی چیزیں ہیں تو یہ اور وہ چیزوں ان کی قیمت کس کو پہنچتی ہے؟ نصاب کے بقدر مال کو پہنچتی ہے تو یہ نصاب کا مالک ہوا اس کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے اور اگر نصاب کو نہیں پہنچتی تو پھر یہ زکوٰۃ کا مستحق ہے، اس کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے کیونکہ حاجت اصلی سے زائد اس کے پاس کوئی بھی نصاب کے بقدر مال نہیں، مال نامی کو نہیں دیکھنا بلکہ نصاب کے زائد، حاجت اصلی سے زائد نصاب کو نہ پہنچتا ہو، مثلاً جیسے میں نے مثال ذکر کر دی۔ اب ایک شخص ہے اس کے دو مکان ہیں، دوسرا مکان اس نے کوئی بیچنے کے لیے تو نہیں رکھا ہوا، اس نے تو ویسے ہی کہ چلو ایک دوسرا بھی مکان میرا ہوگا اس نے بنوا لیا تھا، تو یہ مال تجارت نہیں، جب مال تجارت نہیں تو یہ مال نامی نہیں، تو مال نامی تو بےشک نہیں ہے لیکن کیا اس میں یہ کیا ہے؟ حاجت اصلی سے زائد ہے، حاجت اصلی سے؟ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو نصاب کتنی قسم کا؟ ایک نصاب نامی ہے اور ایک عام نصاب ہے۔ نصاب نامی تو چار چیزوں کے اندر ہی آئے گا، درہم ہیں، دنانیر ہیں، اسی طرح کرنسی بھی اس کے اندر آگئی اور مال تجارت ہے اور سائمہ جانور ہیں جو ہیں، ان کے اندر جو نصاب ہے وہ نصاب نامی کہلاتا ہے کیونکہ یہ سب مال نامی ہیں، بڑھنے والے ہیں۔ جبکہ ان کے علاوہ ضرورت سے زائد چیزوں کے اندر اگر ہم دیکھتے ہیں وہ تو وہ نصاب کو اگر پہنچیں بھی تو وہ مال نامی نہیں ہے، تو نصاب تو ہوا لیکن نصاب نامی، تو زکوٰۃ کا مستحق ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ شخص جو ہے نہ تو نصاب نامی کا مالک ہو اور نہ کسی ضرورت سے زائد نصاب کے بقدر مال کا مالک ہو بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اچھی طرح مسئلہ سمجھ میں آگیا؟ یہ معنی ہے: وَلَا يَجُوزُ دَفْعُ الزَّكَاةِ إِلَى مَنْ يَمْلِكُ نِصَابًا مِنْ أَيِّ مَالٍ كَانَ اور جائز نہیں ہے زکوٰۃ دینا اس شخص کو جو نصاب کا مالک ہو مِنْ أَيِّ مَالٍ كَانَ جس مال میں سے بھی وہ ہو چاہے مال نامی ہو چاہے مال نامی نہ ہو۔ لِأَنَّ الْغِنَى الشَّرْعِيَّ مُقَدَّرٌ بِهِ اس لیے کیونکہ شرعی مالداری جو ہے اسی کے ساتھ جو ہے اس کو مقرر کیا گیا ہے۔ شرعاً مالدار کس کو کہتے ہیں جو کتنے مال کا مالک ہو؟ نصاب کے بقدر مال کا مالک ہو تو شرعاً اس کو کیا شمار کیا جاتا ہے؟ مالدار، تو لہٰذا یہ مالدار ہوا، یہ مستحق زکوٰۃ نہیں۔ یہ معنی ہے: لِأَنَّ الْغِنَى الشَّرْعِيَّ مُقَدَّرٌ بِهِ اس لیے کیونکہ شرعی مالداری وہ اسی کے ساتھ اس کا اندازہ کیا گیا ہے، وَالشَّرْطُ أَنْ يَكُونَ فَاضِلًا عَنِ الْحَاجَةِ الْأَصْلِيَّةِ اور شرط اس کی یہ ہے کہ وہ جو نصاب ہے وہ زائد ہونا چاہیے اس کی حاجت اصلی سے، وَإِنَّمَا النَّمَاءُ شَرْطُ الْوُجُوبِ اور نماء کی نماء جو تھا وہ تو وجوب کی شرط تھی، نصاب نامی کی بھئی شرط کیوں ہوتی تھی؟ وہ تو وجوب زکوٰۃ کے لیے شرط تھا نصاب نامی کا مالک ہونا، سمجھ میں آیا بھئی؟ اور مستحق زکوٰۃ ہونے کے لیے نامی ہونے کی شرط بھی نہیں ہے بھئی، تو اگر نامی غیر نامی نصاب کا بھی مالک ہوا یہ مستحق زکوٰۃ نہیں ہوگا بھئی، تو اس میں نصاب نامی کا ہونا ضروری نہیں ہے بھئی۔ یہاں تک مسئلہ اچھی طرح سمجھ میں آگیا؟ وَيَجُوزُ دَفْعُهَا إِلَى مَنْ يَمْلِكُ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ وَإِنْ كَانَ صَحِيحًا مُكْتَسِبًا، یہاں سے یہ مسئلہ بتلا رہے ہیں کہ جس شخص کے پاس اپنی حاجت اصلیہ سے زائد نصاب کے بقدر مال نہیں ہے، اس کو زکوٰۃ دینا جائز ہے۔ قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٌ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى: إِذَا دَفَعَ الزَّكَاةَ إِلَى رَجُلٍ يَظُنُّهُ فَقِيرًا ثُمَّ بَانَ أَنَّهُ غَنِيٌّ أَوْ هَاشِمِيٌّ أَوْ كَافِرٌ، أَوْ دَفَعَ فِي ظُلْمَةٍ فَبَانَ أَنَّهُ أَبُوهُ أَوِ ابْنُهُ فَلَا إِعَادَةَ عَلَيْهِ. وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ: عَلَيْهِ الْإِعَادَةُ. باب چل رہا ہے کہ کس شخص کو زکوٰۃ دینا جائز ہے اور کس شخص کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں۔ تو مسئلہ یہ ذکر کر رہے ہیں کہ مثلاً کسی شخص نے کسی دوسرے کو زکوٰۃ دے دی اور بعد میں پتہ چلا کہ یہ زکوٰۃ کا مصرف نہیں تھا، تو کیا زکوٰۃ ادا ہو گئی یا زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی؟ تو طرفین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ ادا ہو گئی، دوبارہ لوٹانے کی ضرورت نہیں، اعادے کی ضرورت نہیں، جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اعادہ ضروری ہے، زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی۔ تو کہتے ہیں: قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٌ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى إِذَا دَفَعَ الزَّكَاةَ إِلَى رَجُلٍ يَظُنُّهُ فَقِيرًا، طرفین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ جب زکوٰۃ دے دی ایک ایسے شخص کو يَظُنُّهُ فَقِيرًا کہ جس کے بارے میں یہ گمان کرتا ہے کہ وہ فقیر ہے، محتاج ہے، یعنی یہ گمان کرتے ہوئے دے دی کہ شاید یہ کیا ہے؟ فقیر اور محتاج ہے۔ ثُمَّ بَانَ، بَانَ يَبِينُ کے معنی ہوتے ہیں ظاہر ہونے کے، پھر یہ بات ظاہر ہوئی، اس بات کا پتہ چلا أَنَّهُ غَنِيٌّ کہ یہ تو مالدار ہے بھئی جس کو اس نے زکوٰۃ دی ہے، أَوْ هَاشِمِيٌّ یا یہ کیا تھا؟ یہ تو ہاشمی ہے، أَوْ كَافِرٌ یا کافر ہے، یا أَوْ دَفَعَ فِي ظُلْمَةٍ یا اس نے زکوٰۃ دی تاریکی کے اندر، اندھیرے میں کسی شخص کو، فَبَانَ پھر یہ بات ظاہر ہوئی أَنَّهُ أَبُوهُ أَوِ ابْنُهُ کہ یہ تو اس کے والد تھے أَوِ ابْنُهُ یا اس کا بیٹا تھا، فَلَا إِعَادَةَ عَلَيْهِ تو اس شخص پر اعادہ نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ کس شخص کو زکوٰۃ دے دی ہے جو زکوٰۃ کا مستحق نہیں ہے جس کو زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی، تو طرفین فرماتے ہیں اس پر اعادہ نہیں ہے، اس نے اپنی طرف سے کوشش کرکے دے دی ہے تو زکوٰۃ ادا ہو گئی۔ وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ الْإِعَادَةُ، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس پر اعادہ واجب ہے، زکوٰۃ پھر ادا کرنا پڑے گی۔ ان کی دلیل، وہ فرماتے ہیں لِظُهُورِ خَطَئِهِ بِيَقِينٍ اس وجہ سے کیونکہ اس کی غلطی یقینی طور پر ظاہر ہو گئی ہے۔ جب پتہ چلا یہ مالدار تھا یا ہاشمی تھا اور مالدار اور ہاشمی کو تو زکوٰۃ نہیں دے سکتے یا اسی طرح کافر ہے یا پتہ چلا اس کا والد یا بیٹا ہے یعنی اس کے اصول اور فروع میں سے کوئی ہے تو یہ تو زکوٰۃ ان لوگوں کو نہیں دی جا سکتی تو اس کو بعد میں پتہ چل گیا کہ ان میں سے کوئی تھا، تو اپنی غلطی کا یقینی طور پر پتہ چل گیا اس کو، لہٰذا کیا کرنا پڑے گا؟ اعادہ کرنا پڑے گا۔ وَلِإِمْكَانِ الْوُقُوفِ عَلَى هَذِهِ الْأَشْيَاءِ، اس کا عطف ظُهُورِ پر ہے، وَلِإِمْكَانِ الْوُقُوفِ عَلَى هَذِهِ الْأَشْيَاءِ اور اس وجہ سے کہ ان چیزوں پر واقف ہونا ممکن ہے۔ ان چیزوں پر؟ ان چیزوں پر تو پتہ لگایا جا سکتا ہے بھئی زکوٰۃ دینے سے پہلے کیا کر لے؟ انسان پتہ لگا لے کہ یہ مالدار ہے یا نہیں، یہ ہاشمی ہے یا نہیں، یہ کافر ہے یا نہیں، سمجھ میں آیا؟ یا اس کا والد، اس کا بیٹا ہے وہ سب پتہ لگ سکتے ہیں آرام سے، تو ان چیزوں پر واقف ہوا جا سکتا ہے اور اس نے اس پر واقفیت حاصل نہیں کی اور ویسے ہی زکوٰۃ دے دی تو ادا نہیں ہوئی دوبارہ ادا کرنا پڑے گی۔ وَصَارَ كَالْأَوَانِي وَالثِّيَابِ اور یہ برتنوں اور کپڑوں کی طرح ہو گیا۔ کس کی طرح؟ بھئی دیکھیے مثلاً بہت سے برتن تھے اور ان میں نجس برتن مل گیا، اب ایک شخص نے تحری کرکے ایک برتن کے پانی سے وضو کر لیا، بعد میں اس کو پتہ چلا کہ یہ تو اس نے نجس برتن سے وضو کیا ہے تو اس پر وضو کا اعادہ لازم ہے، وضو کا اعادہ لازم ہے۔ اسی طرح بھئی نجس کپڑے اور کپڑوں کے اندر مل گئے، ایک شخص نے تحری کرکے کہ کون سے کپڑے پاک ہیں ان میں سے ایک کپڑا نکال لیا اور پہن لیا اور اس میں نماز ادا کی بھئی، پھر بعد میں پتہ چلا یہ تو اس نے کون سا کپڑا اس کے ہاتھ آگیا تھا جو نجس تھا، ناپاک تھا، تو اس پر اس نماز کا اعادہ واجب ہے، اس پر نماز کا اعادہ؟ تو جیسے وہاں پر وہ اعادہ واجب تھا وضو کے اندر بھی اور نجس کپڑے پہن لیے تھے ان میں نماز کا اعادہ واجب ہے، تو اسی طرح یہاں پر بھی زکوٰۃ اس نے دی ہے ایک ایسے شخص کو جو زکوٰۃ کا مستحق نہیں ہے تو اس پر زکوٰۃ کا اعادہ واجب ہوگا، مسئلہ سمجھ میں آگیا؟ وَلَهُمَا اور طرفین کی دلیل جو ہے حَدِيثُ مَعْنِ بْنِ يَزِيدَ فَإِنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ فِيهِ اور طرفین کی دلیل معن بن یزید رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث ہے بھئی، فَإِنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ فِيهِ پس اس کے اندر حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”يَا يَزِيدُ لَكَ مَا نَوَيْتَ، وَيَا مَعْنُ لَكَ مَا أَخَذْتَ“، اے یزید! تمہارے لیے وہ ہے جس کی تم نے نیت کی ہے، یعنی تمہیں اس چیز کا ثواب ملے گا جس کی تم نے نیت کی ہے، وَيَا مَعْنُ لَكَ مَا أَخَذْتَ اور اے معن! تمہارے لیے وہ ہے جو تم نے لے لیا ہے۔ بھئی صورت یہ پیش آئی تھی کہ حضرت یزید رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے مال سے صدقہ نکالا اور کسی شخص کے حوالے کر دیا مسجد میں کہ یہ کسی مستحقِ زکوٰۃ کو یہ دے دینا۔ اب ان کے بیٹے تھے معن رضی اللہ تعالی عنہ تو وہ وکیل نے ان کو دے دیے بھئی، ان کو دے دیے اور پھر ذکر کیا ہوگا کہ یہ آپ کے والد کے ہیں، تو یہ بعد میں اپنے والد کے پاس بھی آئے اور ذکر کیا۔ تو انہوں نے کہا کہ بھئی میں نے تو تمہارا ارادہ نہیں کیا تھا، یہ جو میں نے مال نکال کر دیا تھا اس کو تو میرا یہ ارادہ تو نہیں تھا کہ وہ تمہیں دے۔ تو یہ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور تو حضور علیہ السلام فرمانے لگے ان کے والد سے: ”يَا يَزِيدُ لَكَ مَا نَوَيْتَ“، اے یزید! تمہارے لیے وہی ہے جو تم نے نیت کی، یعنی تمہیں اسی چیز کا ثواب ملے گا جس کی تم نے نیت کی، اور ان کے بیٹے جنہوں نے وہ زکوٰۃ یا وہ صدقہ لیا تھا ان سے کہنے لگے: ”يَا مَعْنُ لَكَ مَا أَخَذْتَ“، تمہارے لیے وہ ہے جو تم نے لے لیا، یعنی جو تم نے لے لیا وہ تمہارا ہو گیا اور اے یزید! تمہیں جس چیز کی تم نے نیت کی تھی تمہیں اس کا ثواب مل گیا۔ تو یہ کس کی دلیل؟ طرفین کی، طرفین کی۔ تو طرفین فرماتے ہیں کہ دیکھیے اس حدیث کے اندر وہ وکیل نے غلطی سے کس کو دے دیا؟ وکیل نے ان کے بیٹے کو دے دیا تھا اور پھر بھی دوبارہ ادائیگی کا حضور علیہ السلام نہیں فرما رہے۔ دلیل سمجھ میں آگئی؟ تو حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”يَا يَزِيدُ لَكَ مَا نَوَيْتَ، وَيَا مَعْنُ لَكَ مَا أَخَذْتَ“ وَقَدْ دَفَعَ إِلَيْهِ وَكِيلُ أَبِيهِ صَدَقَتَهُ اور تحقیق حوالے کر دیا تھا ان کے ان کے والد کے وکیل نے صَدَقَتَهُ ان کا صدقہ، ان کے حوالے کر دیا تھا۔ اب دیکھیے یہاں اگرچہ یہ بھی احتمال ہے ہو سکتا ہے ان کے والد نے نفلی صدقہ دیا ہو، ہو سکتا ہے وہ زکوٰۃ دی ہو، صدقہ واجبہ دیا ہو لیکن استدلال ہے یہاں پر دراصل حضور علیہ السلام فرما رہے ہیں: ”لَكَ مَا نَوَيْتَ“، اے یزید! تمہارے لیے اسی چیز کا ثواب ہے جو تم نے نیت کی ہے، ”مَا نَوَيْتَ“ جو بھی تم نے نیت کی ہے، معلوم ہوا نفلی صدقے کی نیت کی ہے تو اس کا ثواب مل جائے گا اور زکوٰۃ کی نیت کی ہے تو تمہیں اس کا ثواب مل تو یہ ”مَا نَوَيْتَ“ لفظ عام ہے، یہ نفلی کو بھی شامل ہو رہا ہے اور صدقہ واجبہ کو بھی، جو بھی نیت کی ہے تمہیں اس کا ثواب ملے گا بھئی۔ تو معلوم ہوا اگر اس طرح غلطی سے دے دیا جائے زکوٰۃ کسی غیر مستحق کو تو بھی ادا ہو جائے گی، اعادے کی ضرورت نہیں۔ اور دوسرا امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی عقلی دلیل کا بھی جواب دے رہے ہیں بھئی۔ انہوں نے کیا کہا تھا؟ کہ انہوں نے اس کو قیاس کیا تھا برتنوں اور کپڑوں پر اور فرمایا تھا کہ ان چیزوں پر واقف ہونا ممکن ہے، ممکن ہے۔ تو کہہ رہے ہیں بھئی ان چیزوں پر واقف یقینی طور پر کوئی بھی نہیں ہو سکتا، بلکہ اجتہادی طور پر ہی اپنی کوشش سے ہی جو ہے وہ اندازہ لگا سکتا ہے۔ یقینی طور پر پتہ نہیں چل سکتا بھئی زکوٰۃ کس کو دے سکتے ہیں؟ تو زکوٰۃ کا بھئی زکوٰۃ کا مصرف جو ہیں وہ فقراء ہیں اور کسی کے فقر اور مالداری کا یقینی طور پر پتہ نہیں چل سکتا بھئی، بلکہ کس اس میں اجتہاد ہی اپنی کوشش ہوگی، سوچے گا، غور کرے گا اور جو محتاج اور مسکین معلوم ہوگا، مسکین دکھائی دے گا اس کو انسان زکوٰۃ وغیرہ دے دیتا ہے۔ یقینی طور پر تو یہ پتہ نہیں چل سکتا کہ یہ محتاج ہے یا محتاج نہیں ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ دوسرے کا مال ہے اس کو کیا پتہ اس کے پاس اتنا مال ہے یا نہیں ہے، اور کون ظاہر کرتا ہے بھئی اپنے مال کو؟ سمجھ میں آیا؟ تو یقینی طور پر چونکہ ان چیزوں کا پتہ چل ہی نہیں سکتا، صرف اپنی کوشش اور اجتہاد ہی ہوگا، اسی کے مطابق اب یہ شخص عمل کرے گا اور یہاں پر بھی اس نے کوشش تو کی ہے زکوٰۃ دیتے ہوئے لیکن یہ پھر بعد میں اس کا اندازہ تو یہی تھا یہ شاید زکوٰۃ کے مستحق ہیں لیکن بعد میں پتہ چلا یہ زکوٰۃ کے مستحق نہیں ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلِأَنَّ الْوُقُوفَ عَلَى هَذِهِ الْأَشْيَاءِ بِالِاجْتِهَادِ دُونَ الْقَطْعِ اور اس لیے کیونکہ ان چیزوں پر واقف ہونا اجتہاد سے ہے دُونَ الْقَطْعِ نہ کہ یقینی طور پر، فَيُبْنَى الْأَمْرُ فِيهَا عَلَى مَا يَقَعُ عِنْدَهُ تو معاملے کی بنیاد اس کے اندر ہوگی اسی اجتہاد پر، اسی تحری پر جو اس کے نزدیک واقع ہو، جو کچھ اس کے نزدیک واقع ہوگا، جو اس کا اجتہاد ہوگا اسی پر معاملے کی بنیاد ہوگی، اور اس نے بھی کیا اجتہاد کیا کہ شاید یہ زکوٰۃ کے مستحق ہیں بھئی۔ كَمَا إِذَا اشْتَبَهَتْ عَلَيْهِ الْقِبْلَةُ جیسے کہ اس پر قبلہ مشتبہ ہو جائے، جب قبلہ کسی پر مشتبہ ہو جائے تو کیا حکم بتلایا گیا؟ تحری کرے گا اور غالب رائے پر عمل کر لے گا اور اگر بعد میں پتہ چلے اس نے تو غلط طرف کو نماز پڑھ لی ہے تو کیا اس پر اعادہ ہے؟ اس پر اعادہ نہیں، تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے، اس نے تحری کرکے زکوٰۃ دے دی ہے بعد میں اگر پتہ چل پتہ بھی چل گیا کہ یہ مستحق نہیں تھا، یہ محل نہیں تھا ادائیگی کا تو بھی اس پر اعادہ نہیں ہے۔ وَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي غَيْرِ الْغَنِيِّ أَنَّهُ لَا يُجْزِيهِ، اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ مالدار کے علاوہ کے اندر أَنَّهُ لَا يُجْزِيهِ کہ یہ کافی نہیں ہوگا۔ امام صاحب سے دوسری روایت یہ ہے کہ یہ جو اوپر افراد ذکر ہوئے ان میں سے اگر وہ شخص مالدار نکلا بعد میں جس کو کیا دی تھی؟ زکوٰۃ، پھر تو ادا ہو جائے گی زکوٰۃ۔ مالدار کے علاوہ جو صورتیں ذکر ہوئیں ہاشمی نکل آیا یا کافر نکل آیا یا اپنے اصول و فروع میں سے یعنی والد، دادا وغیرہ، نانا وغیرہ یا اولاد میں سے نیچے کوئی شخص نکل آیا تو پھر اس صورت میں زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی، پھر اعادہ کرنا پڑے گا۔ ہاں مالدار اگر نکل آیا تو پھر اعادے کی ضرورت نہیں، پھر اعادے کی ضرورت نہیں، کیونکہ مالدار فی الجملہ مستحقِ زکوٰۃ ہے۔ مالدار مجموعی اعتبار سے کسی نہ کسی طور پر اس مالِ زکوٰۃ کا مستحق ہے۔ بھئی آپ نے پڑھا یا نہیں وہ آیت کے اندر مصارفِ زکوٰۃ بیان ہوئے تھے، ان میں عاملین ذکر ہوئے تھے اور عاملین کو کس طریقے پر دیا جاتا ہے؟ کفایت کے طریقے پر دیا جاتا ہے نہ کہ زکوٰۃ، تو لہٰذا اگر وہ مالدار ہو پھر بھی وہ مال لے سکتا ہے جو کس کس کا مال ہے؟ کس چیز کا مال ہے؟ زکوٰۃ کا مال ہے، تو جو مالدار ہے وہ فی الجملہ کسی نہ کسی اعتبار سے اس مال کا حقدار ہے، لہٰذا اس لحاظ سے اس کو اگر دے دیا ہے تو اس میں تو اعادے کی ضرورت نہیں۔ یہ کون سی صورت بیان ہو رہی ہے جب غلطی سے دیا ہے، اس کا خیال تھا یہ محتاج ہے لیکن بعد میں کیا پتہ چلا؟ یہ مالدار ہے، ویسے تو مالدار کو دے گا زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی لیکن بہرحال فی مجموعی اعتبار سے کسی نہ کسی صورت میں مالدار کو بھی وہ مال دیا جا سکتا تھا زکوٰۃ والا، تو اس وجہ سے مالدار کے مسئلے کے اندر تو اعادے کی ضرورت نہیں لیکن باقی سب صورتوں میں کیا کرنا پڑے گا؟ اعادہ کرنا پڑے گا، پھر زکوٰۃ ادا کرنا پڑے گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اور ان لوگوں کو چاہیے اگر انہوں نے لے لیا ہے ان کو زکوٰۃ واپس کر دینی چاہیے بھئی جب اگر ان کو معاملے کا پتہ چل جائے کہ یہ زکوٰۃ ان کو ادا کی گئی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي غَيْرِ الْغَنِيِّ أَنَّهُ لَا يُجْزِيهِ، اور امام صاحب سے مالدار کے علاوہ کے اندر یہ روایت ہے کہ یہ کافی نہیں ہوگا، وَالظَّاهِرُ هُوَ الْأَوَّلُ اور ظاہر روایت جو ہے وہ اول ہی ہے کہ مالدار کے علاوہ باقیوں کے اندر بھی اعادے کی ضرورت نہیں۔ اور یہ مسئلہ بھی یاد رکھیے، فتویٰ اس پر ہے کہ زکوٰۃ ان تمام صورتوں میں ادا ہو جائے گی إِلَّا يہ کہ وہ کافر ہو۔ جس نے زکوٰۃ دی تھی بعد میں پتہ چلا کہ وہ کیا نکلا، وہ کون ہے وہ آدمی؟ کافر ہے، پھر زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی، زکوٰۃ دوبارہ ادا کرنا پڑے گی، لیکن اگر وہ بعد میں پتہ چلا وہ ہاشمی ہے یا مالدار ہے یا اپنی اولاد ہے یا اپنے اصول ہیں تو پھر زکوٰۃ ادا ہو گئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ لیکن اس کے اندر یہ ضروری ہے کہ پہلے اس نے کیا کی ہو؟ تحری کی ہو، تحری۔ تحری کی ہو اگر اس کو شک ہے کہ پتہ نہیں یہ مالدار ہوگا یا یہ زکوٰۃ کا مستحق ہوگا یا زکوٰۃ کا مستحق نہیں، اس نے تحری کی اور پھر مال دیا۔ تحری ضروری ہے اس صورت میں جب اس کو شک ہو کہ پتہ نہیں یہ محتاج ہے یا محتاج نہیں، اگر شک نہیں ہے پھر تو بغیر تحری کے بھی دے سکتا ہے۔ لیکن اگر شک ہے کہ پتہ نہیں یہ مالدار ہے، کہیں محتاج بھی ہے یا محتاج نہیں ہے تو پھر تحری ضروری ہے اور غور کرے اور جس طرف اس کا ذہن زیادہ جائے اس پر عمل کر لے، پھر اعادے کی ضرورت نہیں۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہی ذکر کر رہے ہیں: وَهَذَا إِذَا تَحَرَّى وَدَفَعَ اور یہ اس صورت میں ہے جب اس نے تحری کی ہے اور حوالے کی ہے، وَفِي أَكْبَرِ رَأْيِهِ أَنَّهُ مَصْرِفٌ اور اس کی غالب رائے کے اندر وہ یہ اس کی غالب رائے یہ تھی کہ یہ بھی مصرفِ زکوٰۃ ہے۔ اس نے تحری کرکے مال دیا تھا اور اس کی غالب رائے کیا بنی تھی کہ یہ بھی مصرفِ زکوٰۃ ہے۔ أَمَّا إِذَا شَكَّ وَلَمْ يَتَحَرَّ اور باقی وہ صورت کہ جب اس کو شک ہوا وَلَمْ يَتَحَرَّ اور اس نے تحری نہیں کی اور ویسے ہی دے دیا، پھر تو اعادہ کرنا ہی پڑے گا کیونکہ شک بھی تھا اور پھر بھی تحری نہیں کی اس نے، أَوْ تَحَرَّى یا اس نے تحری تو کی فَدَفَعَ پھر حوالے بھی کر دیا وَفِي أَكْبَرِ رَأْيِهِ أَنَّهُ لَيْسَ بِمَصْرِفٍ اور اس کی بڑی رائے یہ تھی کہ یہ زکوٰۃ کا مصرف نہیں۔ بھئی اس نے اس کو ایک آدمی کے بارے میں شک تھا کہ یہ پتہ نہیں محتاج ہے یا محتاج نہیں، اس نے تحری کی، تحری کے اندر ذہن غالب جس طرف چلا گیا غالب گمان اس کا یہ ہوا کہ یہ زکوٰۃ کا مصرف نہیں ہے، یہ مالدار ہے، پھر بھی اس نے زکوٰۃ اس کو دے دی، پھر بھی؟ تو دیکھو غالب رائے کے مطابق اس نے دیا ہے یا اس کے خلاف کر کے عمل کرتے ہوئے دیا ہے؟ اس کے خلاف عمل کرتے ہوئے دیا ہے، تو اس صورت میں پھر زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔ إِلَّا ایک صورت میں پھر بھی ادا ہو جائے گی کہ بعد میں پتہ چلا کہ یہ واقعی مستحقِ زکوٰۃ تھا، اب تو بے شک غالب رائے کے خلاف دی ہے لیکن کس کو دی ہے؟ مستحقِ زکوٰۃ ہی کو دی ہے، وہ محتاج ہی نکلا تو پھر پھر تو ٹھیک ہو گئی بھئی۔ یہ معنی ہے: أَوْ تَحَرَّى فَدَفَعَ یا اس نے تحری کی پس پھر حوالے کر دی وَفِي أَكْبَرِ رَأْيِهِ أَنَّهُ لَيْسَ بِمَصْرِفٍ لَا يُجْزِيهِ اور اس کی غالب رائے یہ تھی کہ وہ زکوٰۃ کا مصرف نہیں ہے تو اس صورت میں لَا يُجْزِيهِ یہ اس کے لیے کافی نہیں، إِلَّا إِذَا عَلِمَ أَنَّهُ فَقِيرٌ مگر یہ کہ جب پھر اس کو معلوم ہوا کہ یہ فقیر ہی تھا، هُوَ الصَّحِيحُ یہی قول صحیح ہے کہ پھر اس صورت میں زکوٰۃ ادا ہو جائے گی، چاہے بغیر تحری کے دی ہے، شک تھا پھر بھی تحری نہیں کی ویسے ہی زکوٰۃ دے دی اور بعد میں پتہ چلا واقعی یہ محتاج بھی تھا، پھر تو یقینی طور پر زکوٰۃ کہاں پر پہنچی ہے؟ اپنے محل کو پہنچی ہے، اپنے مصرف کو، ادا ہو جائے گی۔ وَلَوْ دَفَعَ إِلَى شَخْصٍ ثُمَّ عَلِمَ أَنَّهُ عَبْدُهُ أَوْ مُكَاتَبُهُ لَا يُجْزِيهِ، اور اگر حوالے کر دی کسی شخص کے زکوٰۃ، یہی صورت بھئی ایک شخص کو ایک آدمی نے کیا کیا؟ اپنی زکوٰۃ حوالے کر دی، ثُمَّ عَلِمَ پھر اس کو یہ معلوم ہوا أَنَّهُ عَبْدُهُ کہ یہ تو اس کا اپنا ہی غلام تھا أَوْ مُكَاتَبُهُ یا اس کا اپنا مکاتب تھا، لَا يُجْزِيهِ یہ کافی نہیں ہے بھئی، یہ کافی نہیں ہے۔ بھئی اس صورت میں کیوں نہیں کافی؟ کہتے ہیں بھئی اس لیے کیونکہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے اندر تملیک ضروری تھی کہ دوسرے کو مالک بنایا جائے، مالک بنایا جائے، اور غلام تو مالک بننے کا اہل ہی نہیں ہے اس کو تو جو کچھ دیا جائے گا وہ کس کس کا ہوگا؟ اس کے آقا کا ہوگا اور آقا تو خود یہی زکوٰۃ دینے والا ہے تو گویا یہ اپنے آپ کو زکوٰۃ ادا کر رہا ہے۔ تو یہاں دوسرے کی مالک بنانا پایا ہی نہیں گیا، جبکہ اوپر والی صورتوں میں مالک اپنے آپ کو بنا رہا تھا یا اپنے غیر کو بنا رہا تھا؟ اپنے غیر کو، تو وہاں غیر کو مالک بنانا تو کم از کم موجود تھا یہاں پر تو غیر کو سرے سے مالک بنانا ہی نہیں موجود اپنے آپ ہی کو زکوٰۃ دے رہا ہے، تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی۔ اور دوسرا اپنے اگر مکاتب کو دے دی تو یاد رکھیے مکاتب جو ہے وہ ٹھیک ہے وہ مال کا مالک بنتا ہے، اس نے ادائیگی کرکے اپنے آپ کو آزاد کروانا ہے لیکن اس کے مال کے اندر مالک کا باقاعدہ حق ہوتا ہے، وہ کما کر لا کر کس کو دیتا ہے؟ مالک کو دیتا ہے، ادائیگی کرتا ہے اپنے آپ کو چھڑواتا ہے، آزادی کرو اپنی آزادی کے لیے وہ کما رہا ہے تو وہ تو ٹھیک ہے مالک بنتا ہے لیکن اس کے مال میں کس کا حق؟ مالک کا حق ہے اور نیز اگر وہ ادا نہ کر سکا تو پھر کیا بن جائے گا؟ عام غلام بن جائے گا اور جو کچھ ہوگا اس کے پاس وہ سارا کس کا ہو جائے گا؟ اس کے مالک کا ہو جائے گا، تو لہٰذا وہاں پر بھی تملیک پورے طور پر نہیں ہے چونکہ، لہٰذا اس وجہ سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی۔ یہ معنی ہے: وَلَوْ دَفَعَ إِلَى شَخْصٍ اور اگر زکوٰۃ کسی شخص کو دے دی، ثُمَّ عَلِمَ پھر اس کو یہ معلوم ہوا أَنَّهُ عَبْدُهُ کہ وہ اسی کا غلام ہے أَوْ مُكَاتَبُهُ یا اسی کا اپنا مکاتب ہے، لَا يُجْزِيهِ تو یہ کافی نہیں، لِانْعِدَامِ التَّمْلِيكِ اس وجہ سے کہ مالک بنانا معدوم ہے یہاں پر، مالک بنانا یہاں نہیں پایا جا رہا، لِعَدَمِ أَهْلِيَّةِ الْمِلْكِ اس وجہ سے کہ مالک ہونے کی اہلیت ہی غلام میں نہیں ہے، وہ مالک بننے کی اہلیت ہی غلام سے معدوم ہے، وَهُوَ الرُّكْنُ عَلَى مَا مَرَّ اور وہ تو رکن ہے ادا ادائے زکوٰۃ کا عَلَى مَا مَرَّ بوجہ اس کے جو گزر گیا بھئی۔ وَلَا يَجُوزُ دَفْعُ الزَّكَاةِ إِلَى مَنْ يَمْلِكُ نِصَابًا مِنْ أَيِّ مَالٍ كَانَ، اور جائز نہیں ہے زکوٰۃ دینا اس شخص کو جو نصاب کا مالک ہو مِنْ أَيِّ مَالٍ كَانَ جس مال میں سے بھی وہ نصاب ہو، یہ ضروری شرط یاد رکھنا بھئی۔ بھئی اب تک آپ نے نصاب کی ایک قسم پڑھی تھی نصاب کی اور وہ تھا نصابِ نامی جس کے اندر زکوٰۃ آتی ہے، اور نصابِ نامی کیا چیز ہے؟ درہم ہیں، دنانیر ہیں، مالِ تجارت ہے اور سائمہ جانور ہیں۔ یہ سارے کیا ہیں؟ مالِ یہ سب مالِ نامی ہیں، نصابِ نامی ہیں نصاب تک اگر یہ پہنچتے ہوں، تو یہ ہیں نصابِ نامی، نصابِ نامی۔ لیکن یہاں کہہ رہے ہیں مَنْ يَمْلِكُ نِصَابًا وہ شخص جو نصاب کا مالک ہو مِنْ أَيِّ مَالٍ كَانَ جس مال میں سے بھی ہو چاہے وہ مالِ نامی ہو یا مالِ نامی نہ ہو، جس نصاب کا بھی مالک ہے اس کو زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی بھئی، زکوٰۃ دینا اس کو جائز نہیں۔ یاد رکھیے زکوٰۃ اس شخص کو دی جا سکتی ہے جو اپنی ضروریات سے یعنی اپنی حاجتِ اصلی سے، حاجتِ اصلی جس کی انسان کو ضرورت ہے بھئی، جس کی انسان کو ضرورت ہے اور یہ حاجتِ اصلی سے زائد مال چاہے کسی بھی صورت میں ہو وہ نصاب کو نہ پہنچتا ہو، اس کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں۔ اور جس کے پاس اپنی ضروریات سے زائد نصاب کے بقدر مال ہے چاہے مالِ نامی نہیں ہے لیکن کیا ہے؟ نصاب کے بقدر مال ہے اس کے پاس اپنی ضروریات سے زائد، وہ نصاب کا مالک ہوا اور جو شخص اپنی ضروریات سے زائد نصاب کا مالک ہو اس کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں۔ تو ضروریات سے زائد مال کس کو کہیں گے؟ حاجتِ اصلی سے زائد مال کس کو کہیں گے؟ یاد رکھیے حاجتِ اصلی سے زائد مال وہ ہے جس کی بہت جو کبھی کبھار ہی جس کی ضرورت پیش آتی ہے، بہت کم سال میں ایک آدھ مرتبہ ہی جا کر اس چیز کی اس کو ضرورت پیش آتی ہے تو یہ اس کی ضرورت سے زائد کہیں گے اس کو، کیا کہیں گے؟ ضرورت سے زائد کہیں گے جس کے اور جو چیزیں عام استعمال میں آتی ہیں وہ جتنی بھی زیادہ کیوں نہ ہوں وہ سب کہیں گے یہ حاجتِ اصلی میں مشغول ہیں۔ چاہے اس کے پاس گاڑی ہے اس کی تو اس کو روز ضرورت پڑتی ہے وہ اس کی حاجتِ اصلی میں مشغول ہے، سمجھ میں آیا؟ اس کا اپنا مکان ہے لیکن پھر بھی وہ کس میں مشغول ہے؟ اسی کی رہائش میں اس کے اندر اس کو ضرورت پڑتی ہے۔ اسی طرح اس کے پاس گھر پر اور بہت سامان ہے لیکن وہ سب اس کے استعمال میں آتا رہتا ہے تو یہ سب کیا ہیں؟ ان کو کہا جائے گا یہ اس کی حاجتِ اصلی میں مشغول ہیں، ہاں جو چیزیں بہت ہی قلیل کبھی استعمال میں آتی ہیں یا کبھی آتی ہی نہیں ہیں اس نے ویسے ہی رکھی ہوئی ہیں تو وہ اس کو کہیں گے یہ حاجتِ اصلی سے زائد ہے۔ مثلاً مثلاً ایک شخص کے پاس دو مکان ہیں بھئی، ایک مکان میں وہ رہتا ہے، ایک مکان میں وہ رہتا ہے دوسرا مکان ویسے ہی اس کے پاس موجود ہے، ضرورت ہی نہیں اس کو لیکن رکھا ہوا ہے اس نے ویسے ہی بھئی، تو یہ ضرورت سے زائد ہوا یہ مکان۔ اور جب ضرورت سے زائد ہوا، حاجتِ اصلی سے زائد ہوا اور تو پھر اس کی قیمت لگائیں گے، یہ نصاب کو پہنچتا ہے یا نہیں؟ اور یقیناً مکان ہے تو وہ تو نصاب کو پہنچے گا، اس کی تو قیمت بہت زیادہ ہوگی تو اس شخص کو زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی۔ لیکن اس کے بجائے اگر ایک ایسا شخص ہے کہ جس کے پاس ضروریات کی ساری چیزیں موجود ہیں لیکن زائد چیز نہیں ہے، استعمال کرتا ہے، ساری چیزیں استعمال میں آنے والی ہیں تو اس شخص میں کے پاس اگر نصاب سے زائد چیز، حاجتِ اصلی سے زائد چیز نصاب کے بقدر نہیں ہے تو اس کو زکوٰۃ دینا جائز ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو آپ یہ نہ کہیں ایک آدمی ہے اس کے پاس موٹرسائیکل ہے یا اس کے پاس گاڑی ہے تو آپ کہیں بھئی اس کو زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی، ضابطہ بیان ہو گیا، سمجھ میں آیا بھئی؟ نصاب کے بقدر اس کے پاس ویسے عموماً تو ہوگا اس کے پاس، جس کے پاس گاڑی ہے کیا ہوگا اس کے پاس؟ نصاب کے بقدر زائد کچھ نہ کچھ، لیکن اگر اس کے پاس نہیں ہے تو بے شک گاڑی ہو اس کے پاس پھر بھی کیا کیا جا سکتا ہے؟ اس کو زکوٰۃ دی یا اس کے پاس گاڑی تو ہے مثلاً مال بھی ہے لیکن وہ مال دین کے ساتھ مشغول ہے سارا، اس اور حاجتِ اصلی سے زائد اتنا مال بنتا ہی نہیں ہے جس سے وہ جو کس کو پہنچتا ہو؟ نصاب کو پہنچتا ہو، تو بھی اس کو زکوٰۃ دینا جائز ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یا مثلاً بھئی ایک شخص ہے اس کے پاس تین چار مکان ہیں، ایک میں وہ خود رہتا ہے اور تین چار وہ کرائے پر اس نے دیے ہوئے ہیں لیکن انہی کی آمدنی سے اس کے گھر کا سارا خرچہ چلتا ہے اور تو وہ اس کی حاجتِ اصلی کے اندر مشغول ہیں یاد رکھیے بھئی، اور اس کے علاوہ اور ضروریات کی چیزوں کے اندر اس کے پاس خرچہ بڑی مشکل سے چلتا ہے، نصاب کے بقدر مال زائد ہے ہی نہیں تو بھی یہ مستحقِ زکوٰۃ ہے، اس کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے۔ ضابطہ سمجھ میں آگیا؟ جو چیزیں انسان کے روزمرہ اور عام استعمال میں آتی ہیں وہ کیا کہیں گے؟ یہ اس کی حاجتِ اصلی میں مشغول ہیں اور ان سے زائد اگر کوئی چیز ہے جس کی ضرورت کبھی کبھار ہی پیش آتی ہے، کبھی سال میں ایک آدھ مرتبہ کبھی پیش آ جائے ایسی چیزیں ہیں تو یہ اور وہ چیزوں ان کی قیمت کس کو پہنچتی ہے؟ نصاب کے بقدر مال کو پہنچتی ہے تو یہ نصاب کا مالک ہوا، اس کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے اور اگر نصاب کو نہیں پہنچتی تو پھر یہ زکوٰۃ کا مستحق ہے، اس کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے کیونکہ حاجتِ اصلی سے زائد اس کے پاس کوئی بھی نصاب کے بقدر مال نہیں، مالِ نامی کو نہیں دیکھنا بلکہ نصاب کے زائد، حاجتِ اصلی سے زائد نصاب کو نہ پہنچتا ہو، مثلاً جیسے میں نے مثال ذکر کر دی۔ اب ایک شخص ہے اس کے دو مکان ہیں، دوسرا مکان اس نے کوئی بیچنے کے لیے تو نہیں رکھا ہوا، اس نے تو ویسے ہی کہ چلو ایک دوسرا بھی مکان میرا ہوگا اس نے بنوا لیا تھا تو یہ مالِ تجارت نہیں، جب مالِ تجارت نہیں تو یہ مالِ نامی نہیں، تو مالِ نامی تو بے شک نہیں ہے لیکن کیا اس میں یہ کیا ہے؟ حاجتِ اصلی سے زائد ہے، حاجتِ اصلی سے زائد ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو نصاب کتنی قسم کا؟ ایک نصابِ نامی ہے اور ایک عام نصاب ہے۔ نصابِ نامی تو چار چیزوں کے اندر ہی آئے گا: درہم ہیں، دنانیر ہیں، اسی طرح کرنسی بھی اس کے اندر آگئی اور مالِ تجارت ہے اور سائمہ جانور ہیں جو ہیں، ان کے اندر جو نصاب ہے وہ نصابِ نامی کہلاتا ہے کیونکہ یہ سب مال نامی ہیں، بڑھنے والے ہیں۔ جبکہ ان کے علاوہ ضرورت سے زائد چیزوں کے اندر اگر ہم دیکھتے ہیں تو وہ نصاب کو اگر پہنچیں بھی تو وہ مال نامی نہیں ہے، تو نصاب تو ہوا لیکن نصابِ نامی نہیں تو زکوٰۃ کا مستحق ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ شخص جو ہے نہ تو نصابِ نامی کا مالک ہو اور نہ کسی ضرورت سے زائد نصاب کے بقدر مال کا مالک ہو بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اچھی طرح مسئلہ سمجھ میں آگیا؟ یہ معنی ہے: وَلَا يَجُوزُ دَفْعُ الزَّكَاةِ إِلَى مَنْ يَمْلِكُ نِصَابًا مِنْ أَيِّ مَالٍ كَانَ اور جائز نہیں ہے زکوٰۃ دینا اس شخص کو جو نصاب کا مالک ہو مِنْ أَيِّ مَالٍ كَانَ جس مال میں سے بھی وہ ہو، چاہے مالِ نامی ہو چاہے مالِ نامی نہ ہو، لِأَنَّ الْغِنَى الشَّرْعِيَّ مُقَدَّرٌ بِهِ اس لیے کیونکہ شرعی مالداری جو ہے اسی کے ساتھ جو ہے اس کو مقرر کیا گیا ہے۔ شرعاً مالدار کس کو کہتے ہیں جو کتنے مال کا مالک ہو؟ نصاب کے بقدر مال کا مالک ہو تو شرعاً اس کو کیا شمار کیا جاتا ہے؟ مالدار، تو لہٰذا یہ مالدار ہوا یہ مستحقِ زکوٰۃ نہیں۔ یہ معنی ہے لِأَنَّ الْغِنَى الشَّرْعِيَّ مُقَدَّرٌ بِهِ اس لیے کیونکہ شرعی مالداری وہ اسی کے ساتھ اس کا اندازہ کیا گیا ہے، وَالشَّرْطُ أَنْ يَكُونَ فَاضِلًا عَنِ الْحَاجَةِ الْأَصْلِيَّةِ اور شرط اس کی یہ ہے کہ وہ جو نصاب ہے وہ زائد ہونا چاہیے اس کی حاجتِ اصلی سے، وَإِنَّمَا النَّمَاءُ شَرْطُ الْوُجُوبِ اور نماء کی نماء جو تھا وہ تو وجوب کی شرط تھی، نصابِ نامی کی بھئی شرط کیوں ہوتی تھی؟ وہ تو وجوبِ زکوٰۃ کے لیے شرط تھا نصابِ نامی کا مالک ہونا، سمجھ میں آیا بھئی؟ اور مستحقِ زکوٰۃ ہونے کے لیے نامی ہونے کی شرط بھی نہیں ہے بھئی، تو اگر نامی غیر نامی نصاب کا بھی مالک ہوا یہ مستحقِ زکوٰۃ نہیں ہوگا بھئی، تو اس میں نصابِ نامی کا ہونا ضروری نہیں ہے بھئی۔ یہاں تک مسئلہ اچھی طرح سمجھ میں آگیا؟ وَيَجُوزُ دَفْعُهَا إِلَى مَنْ يَمْلِكُ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ وَإِنْ كَانَ صَحِيحًا مُكْتَسِبًا، یہاں سے یہ مسئلہ بتلا رہے ہیں کہ جس شخص کے پاس اپنی حاجتِ اصلیہ سے زائد نصاب کے بقدر مال نہیں ہے اس کو زکوٰۃ دینا جائز ہے، اگرچہ یہ تندرست ہے، صحیح سلامت ہے، کمانے والا ہے پھر بھی اس کو زکوٰۃ دینا جائز ہے کیونکہ یہ مالدار نہیں ہے، نصاب کے بقدر زائد مال کا مالک نہیں ہے اور معلوم ہوا یہ محتاج ہے اور جب محتاج ہے تو وہ زکوٰۃ کا مصرف ہے، اس کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے۔ یہ معنی ہے وَيَجُوزُ دَفْعُهَا إِلَى مَنْ يَمْلِكُ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ اور جائز ہے زکوٰۃ دینا اس شخص کو جو اس سے کم کا مالک ہے یعنی نصاب سے کم کا مالک ہے وَإِنْ كَانَ صَحِيحًا مُكْتَسِبًا اگرچہ وہ تندرست ہو، کمانے والا ہو، لِأَنَّهُ فَقِيرٌ کیونکہ وہ محتاج فقیر ہے، محتاج ہے، وَالْفُقَرَاءُ هُمُ الْمَصَارِفُ اور فقراء ہی تو زکوٰۃ کے مصارف ہیں، وَلِأَنَّ حَقِيقَةَ الْحَاجَةِ لَا يُوقَفُ عَلَيْهَا دوسری دلیل کہتے ہیں اور اس لیے کیونکہ حاجت کی حقیقت پر جو ہے تو واقف نہیں ہوا جا سکتا۔ بھئی اس پر تو کوئی بھی مطلع نہیں ہو سکتا کہ یہ شخص واقعی ضرورت مند ہے، واقعی محتاج ہے یا محتاج نہیں؟ کیا کسی کی پیشانی پر لکھا ہوتا ہے یہ محتاج ہے یا محتاج نہیں؟ اندازہ ہی لگانا پڑتا ہے اور آپ کہیں جی پوچھا جا سکتا ہے اس سے، بھئی پوچھنے میں بھی کیا پتہ ہے وہ یقینی خبر آپ کو پوری بات بتاتا ہے یا پوری بات نہیں بتاتا؟ تو لہٰذا حقیقتاً کوئی محتاج ہے یا محتاج نہیں اس پر واقف نہیں ہوا جا سکتا، لہٰذا لہٰذا حکم کا دار و مدار دلیل پر ہوگا، کس پر؟ دلیل پر ہوگا، اور دلیل کیا ہے کہ یہ مالدار نہیں ہونا چاہیے اس کی کیا دلیل ہے؟ کہ نصاب کے بقدر مال اس کے پاس نہیں ہے، یہ دلیل ہے کہ یہ محتاج ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ وَلِأَنَّ حَقِيقَةَ الْحَاجَةِ لَا يُوقَفُ عَلَيْهَا اس لیے کیونکہ حقیقی حاجت جو ہے اس پر واقف نہیں ہوا جا سکتا، فَأُدِيرَ الْحُكْمُ عَلَى دَلِيلِهَا تو حکم جو ہے وہ دائر ہوگا اس کی دلیل پر، وَهُوَ فَقْدُ النِّصَابِ اور وہ نصاب کا نہ ہونا ہے۔ فَقْدُ کا معنی کھو دینا، نہ پانا بھئی، تو وَهُوَ فَقْدُ النِّصَابِ اور وہ نصاب کا نہ ہونا ہے۔ وَيُكْرَهُ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى وَاحِدٍ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ فَصَاعِدًا وَإِنْ دَفَعَ جَازَ، بھئی یاد رکھیے زکوٰۃ کا مال ہے، آپ چاہیں تو کئی فقراء میں تقسیم کر دیں اور چاہیں تو ایک ہی فقیر کو سارا مال دے دیں، آپ کی مرضی ہے۔ اور لیکن ایک ہی فقیر کو اتنا مال نہ دے کہ وہ نصاب کو پہنچ رہا ہو، یعنی ایک ہی فقیر کو دو سو درہم کے برابر، دو سو درہم کے برابر رقم دے دینا یہ مکروہ ہے۔ یہ کیا ہے؟ مکروہ ہے، لیکن اگر دے دی تو زکوٰۃ ادا ہو جائے گی بھئی، زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔ یہ معنی ہے: وَيُكْرَهُ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى وَاحِدٍ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ فَصَاعِدًا اور مکروہ ہے کہ دے دے ایک ہی فقیر کو دو سو درہم یا اس سے زیادہ، وَإِنْ دَفَعَ جَازَ اور اگر دے دیے تو جائز ہے بھئی، زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔ وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ لَا يَجُوزُ، امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں جائز ہی نہیں ہے، دو سو درہم تو نصاب ہے اتنا کسی فقیر کو دے دیا تو آپ نے اس کو کیا کر دیا؟ مالدار بنا دیا، مالدار بنا دیا۔ امام زفر فرماتے ہیں کہ ادھر آپ زکوٰۃ ادا کر رہے ہیں، ساتھ ہی وہ مالدار بھی ہو رہا ہے۔ ایک ہے آپ کی زکوٰۃ کی ادائیگی، آپ زکوٰۃ دے رہے ہیں اور کتنے دے رہے ہیں؟ دو سو درہم سے زیادہ، تو ادھر زکوٰۃ دے رہے ہیں اور اسی لمحے کے اندر وہ مالدار بھی بن رہا ہے تو ادائیگی کے ساتھ اس کا مالدار ہونا ملا ہوا ہے، جس لمحے میں آپ کیا کر رہے ہیں؟ اس کو دو سو درہم کے یا اس سے زائد رقم دے رہے ہیں اسی لمحے کے اندر وہ کیا بن رہا ہے؟ مالدار بن رہا ہے تو ادائے زکوٰۃ اور اس شخص کا مالدار ہونا ایک ہی لمحے کے اندر یہ چیزیں ہو رہی ہیں تو یہ گویا اسی طرح ہے آپ ایک مالدار کو زکوٰۃ دے رہے ہیں، کیونکہ ادائیگی کس کے ساتھ ہے؟ مالدار ہونے کے ساتھ ہی ملی ہوئی ہے تو لہٰذا آپ یوں یہ تو یہی صورت بن گئی گویا اپ ایک مالدار اور غنی کو کیا کر رہے ہیں؟ زکوٰۃ دے رہے ہیں اور مالدار آدمی وہ تو زکوٰۃ کا مستحق نہیں ہے لہٰذا آپ کی زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی، دلیل سمجھ میں آگئی؟ وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ لَا يَجُوزُ اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں جائز نہیں ہے، لِأَنَّ الْغِنَى قَارَنَ الْأَدَاءَ اس لیے کیونکہ مالداری جو ہے وہ مل گئی ہے ادا کے ساتھ یعنی ایک ہی لمحے میں دونوں چیزیں ہو رہی ہیں، فَحَصَلَ الْأَدَاءُ إِلَى الْغَنِيِّ تو ادا حاصل ہوئی مالدار کو، ادا کس کو ہو گئی؟ ادائے زکوٰۃ مالدار کو ہو گئی اور یہ تو درست نہیں۔ وَلَنَا اور ہماری دلیل یہ، ہماری دلیل یہ کہ ایک ہے زکوٰۃ کی ادائیگی اور ایک ہے اس شخص کا مالدار ہونا، ہمارے نزدیک حکم کیا تھا؟ مکروہ ہے لیکن اگر دے دی تو ادا ہو جائے گی۔ ہم کہتے ہیں ایک ہے اس شخص اس شخص کو زکوٰۃ کی ادائیگی اور ایک چیز ہے اس کا مالدار ہونا، امام زفر رحمہ اللہ نے کیا فرمایا؟ یہ دونوں ایک ہی لمحے کے اندر ہو رہی ہیں، جس لمحے میں ادائیگی ہو رہی ہے اسی لمحے میں وہ کیا ہو رہا ہے؟ مالدار ہو ہم کہتے ہیں نہیں۔ ادائیگی جو ہے ادائیگی، یہ ہے سبب اور مالدار ہونا اس کا حکم ہے۔ مال ہم اس کو دیں گے تو وہ مالدار بنے گا، پہلے تو معلوم ہوا ادائیگی پہلے ہے، مالدار ہونا بعد میں ہے تو جس وقت ادائیگی کی وہ مالدار نہیں اور جب مالدار ہوا اس وقت ادائیگی نہیں وہ تو پہلے ہو چکی ہے۔ دلیل سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو ہمارے نزدیک ادائیگی ادائیگیِ زکوٰۃ یہ ہے سبب اور مالدار ہونا حکم ہے، ادائیگی ہوگی تو مالدار ہوگا، ادائیگی نہیں تو مالدار بھی نہیں، تو ادائیگی ہے سبب اور مالدار ہونا اس کا حکم، اور سبب ہمیشہ مقدم ہوتا ہے کس پر؟ حکم پر۔ تو پہلے سبب پایا گیا ادائیگی پائی گئی اس وقت اب یہ مالدار نہیں تھا، اور اگلے ہی لمحے میں یہ کیا ہو گیا؟ مالدار ہو گیا لیکن اس میں ادائیگی نہیں وہ تو پہلے ہو چکی ہے بھئی، صورت سمجھ میں آگئی؟ وَلَنَا اور ہماری دلیل یہ ہے أَنَّ الْغِنَى حُكْمُ الْأَدَاءِ کہ مالداری وہ ادا کا حکم ہے، فَيَتَعَقَّبُهُ تو وہ اس کے پیچھے ہوگی، اس کے بعد ہوگی مالداری، لَكِنَّهُ يُكْرَهُ لیکن یہ مکروہ ہے ہمارے نزدیک، زکوٰۃ تو ادا ہو جائے گی لیکن مکروہ ہو جائے گی، لِقُرْبِ الْغِنَى مِنْهُ اس لیے کیونکہ مالداری ادائیگی کے قریب آگئی۔ ایک لمحے میں ادائیگی ہو رہی ہے تو اگلے میں وہ کیا بن رہا ہے؟ مالدار، تو مالداری ادائیگی کے قریب ہی ہے اس لیے مکروہ ہے بھئی، ساتھ ملی ہوئی ہے۔ تو کہتے ہیں لَكِنَّهُ يُكْرَهُ لیکن ایسا کرنا مکروہ ہے لِقُرْبِ الْغِنَى مِنْهُ اس وجہ سے کہ مالداری اس ادائیگی کے قریب ہی ہے، كَمَنْ صَلَّى وَبِقُرْبِهِ نَجَاسَةٌ یہ اسی شخص کی طرح ہے جس جو نماز پڑھتا ہے اور اس کے قریب ہی نجاست پڑی ہوئی ہے، اس کے قریب ہی کیا پڑی ہے؟ نجاست پڑی ہوئی ہے تو اس کا نماز یہاں پر پڑھ رہا ہے نجاست کے قریب نماز تو ہو جائے گی لیکن مکروہ ہے بھئی، تو یہ بھی اسی طرح ہے۔ قَالَ: وَأَنْ يُغْنِيَ بِهَا إِنْسَانًا أَحَبُّ إِلَيَّ، امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وَأَنْ يُغْنِيَ بِهَا إِنْسَانًا أَحَبُّ إِلَيَّ اور یہ کہ بے نیاز کر دیا جائے اس زکوٰۃ کے ذریعے کسی انسان کو أَحَبُّ إِلَيَّ یہ مجھے زیادہ پسند ہے۔ کیا کر دیا جائے؟ ہاں یعنی اتنا مال دے دے کہ اس کو سوال کرنے سے بے نیاز کر دے، اس کو کسی سے مانگنا نہ پڑے، تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ مجھے زیادہ پسند ہے بھئی۔ تو یہ معنی ہے: وَأَنْ يُغْنِيَ بِهَا إِنْسَانًا اور یہ کہ بے پرواہ کر دیا جائے اس کے ذریعے کسی انسان کو أَحَبُّ إِلَيَّ یہ مجھے زیادہ پسند ہے۔ مَعْنَاهُ صاحبِ ہدایہ معنی بیان کر رہے ہیں کہ امام محمد رحمہ اللہ کے اس قول کا معنی یہ ہے کہ الْإِغْنَاءُ عَنِ السُّؤَالِ، بے نیاز کرنا یعنی کس چیز سے بے نیاز کرنا؟ سوال، جی، الْإِغْنَاءُ عَنِ السُّؤَالِ سوال کرنے یعنی مانگنے سے بے نیاز کرنا، لِأَنَّ الْإِغْنَاءَ مُطْلَقًا مَكْرُوهٌ، تو امام اوپر آیا نا أَنْ يُغْنِيَ بِهَا اس کا معنی مالدار تو نہیں کہ اس کو مالدار کا، امام محمد رحمہ اللہ یہ نہیں فرما رہے ہیں کہ اس کو مالدار کر دینا یہ مجھے پسند ہے، بلکہ کیا مراد ہے؟ مانگنے سے اس کو بے نیاز کر دینا یہ مجھے زیادہ پسند ہے، لِأَنَّ الْإِغْنَاءَ مُطْلَقًا مَكْرُوهٌ اس لیے کیونکہ مطلقاً بے نیاز کر دینا یعنی مالدار بنا دینا یہ تو مکروہ ہے، ابھی اوپر ذکر ہوا کہ اتنے مال کا مالک بنا دیں کہ وہ کیا بن جائے؟ صاحبِ نصاب بن جائے یہ مکروہ ہے بھئی۔ وَيُكْرَهُ نَقْلُ الزَّكَاةِ مِنْ بَلَدٍ إِلَى بَلَدٍ، یاد رکھیے بھئی زکوٰۃ جس شہر والوں سے لی جائے گی انہی کے اندر اس کو تقسیم کیا جائے گا۔ لہٰذا کوئی شخص خود زکوٰۃ دیتا ہے اپنے شہر والے وہ زیادہ حقدار ہیں، وہ اس کے پڑوسی ہیں، اس کے پاس رہنے والے ہیں تو انہی فقراء کو زکوٰۃ دے، تو ایک شہر سے دوسرے شہر زکوٰۃ بھیجنا یہ مکروہ ہے۔ رہتا وہ شخص لاہور میں ہے اور اپنی زکوٰۃ وہ بھیجتا ہے فیصل آباد، یہ کیا ہے؟ مکروہ ہے، جہاں رہتا ہے انہی اسی شہر والے فقیروں کو دے۔ ہاں البتہ اگر اس کے مثلاً جس شہر میں یہ زکوٰۃ بھیج رہا ہے وہاں اس کے کوئی رشتہ دار وغیرہ ہیں بھئی اور وہ بھی بیچارے فقراء ہیں، محتاج ہیں تو پھر بھیج سکتا ہے، پھر ان کو بھیجنا مکروہ بھی نہیں، یا دوسرے شہر کو اس لیے بھیج رہا ہے کہ دوسرے شہر والے لوگ اس شہر والوں سے زیادہ محتاج ہیں تو پھر اس صورت میں بھیجنا مکروہ بھی نہیں، پھر بھیج سکتا ہے، صورت سمجھ میں آگئی؟ ہاں تو ایک شہر سے دوسرے شہر ویسے زکوٰۃ بھیجنا مکروہ ہے لیکن بہرحال زکوٰۃ ادا ہو جائے گی کیونکہ دینی کس کو ہے زکوٰۃ؟ فقراء کو، تو جہاں بھی دے دی جائے ادا ہو جائے گی۔ وَيُكْرَهُ نَقْلُ الزَّكَاةِ مِنْ بَلَدٍ إِلَى بَلَدٍ اور مکروہ ہے زکوٰۃ نقل کرنا ایک شہر سے دوسرے شہر کو، وَإِنَّمَا تُفَرَّقُ صَدَقَةُ كُلِّ فَرِيقٍ فِيهِمْ اور تقسیم کیا جائے گا صدقہ ہر فریق کا انہی میں، ہر فریق کا؟ ہر فریق، ہر گروہ کا صدقہ جو ہے ان کی زکوٰۃ انہی میں یعنی انہی کے فقراء میں تقسیم کی جائے گی، لِمَا رَوَيْنَا مِنْ حَدِيثِ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ بوجہ اس حدیث کے جو ہم نے روایت کر دی یعنی حدیثِ معاذ بھئی، حدیثِ معاذ میں کیا آیا تھا؟ حضور علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ انہی کے مالداروں سے زکوٰۃ لے کر انہی کے فقراء پر لوٹا دینا، معلوم ہوا انہی پر لوٹانا بہتر ہے۔ یہ تو ایک نقلی دلیل ہو گئی، نیز وَفِيهِ رِعَايَةُ حَقِّ الْجِوَارِ نیز اس کے اندر پڑوس کے حق کی بھی رعایت ہے کہ پاس والوں کو دی جائے، تو پڑوسیوں کی بھی رعایت ہو گئی۔ إِلَّا أَنْ يَنْقُلَهَا الْإِنْسَانُ إِلَى قَرَابَتِهِ أَوْ إِلَى قَوْمٍ هُمْ أَحْوَجُ مِنْ أَهْلِ بَلَدِهِ، مگر یہ کہ منتقل کرے اس کو منتقل کرے انسان اس زکوٰۃ کو إِلَى قَرَابَتِهِ اپنے رشتہ داروں کو جو دوسرے شہر میں ہیں، أَوْ إِلَى قَوْمٍ یا ایسے لوگوں کی طرف هُمْ أَحْوَجُ مِنْ أَهْلِ بَلَدِهِ جو زیادہ محتاج ہیں اس کے اپنے شہر والوں سے تو پھر ٹھیک ہے، لِمَا فِيهِ مِنَ الصِّلَةِ اس وجہ سے کہ اس کے اندر صلہ رحمی ہے، اپنے رشتہ داروں کو بھیجے گا دوسرے شہر میں تو پھر مکروہ بھی نہیں کیونکہ اس کے اندر کیا آگئی؟ ایک تو زکوٰۃ اپنے مصرف کو پہنچ رہی ہے اور نیز ساتھ ساتھ صلہ رحمی بھی ہے، رشتہ داروں سے نیک سلوک ہے، أَوْ زِيَادَةِ دَفْعِ الْحَاجَةِ اس اور اس وجہ سے کہ اس کے اندر حاجت کو دور کرنا زیادہ پایا جا رہا ہے۔ یہ اس کا تعلق إِلَى قَوْمٍ هُمْ أَحْوَجُ مِنْ أَهْلِ بَلَدِهِ اس کے ساتھ ہے۔ تو ایک اس کے اپنے شہر والے محتاج ہیں اور ایک دوسرے شہر والے ہیں وہ بھی محتاج ہیں لیکن وہ زیادہ محتاج ہیں تو پھر ان کو بھیجنا اور زکوٰۃ کو یہاں سے منتقل کرنا مکروہ بھی نہیں کیونکہ اس کے اندر جو زیادہ محتاج بھی ہے اس کو دور کرنا ہے۔ یہ معنی ہے أَوْ زِيَادَةِ دَفْعِ الْحَاجَةِ یا اس کے اندر زیادہ حاجت کو دور کرنا ہے۔ وَلَوْ نَقَلَ إِلَى غَيْرِهِمْ أَجْزَأَهُ اور اگر نقل کیا اس شہر والوں کے علاوہ کی طرف أَجْزَأَهُ تو بھی کافی ہو جائے گی، مکروہ تو ہے لیکن زکوٰۃ ادا ہو جائے گی، وَإِنْ كَانَ مَكْرُوحًا اگرچہ یہ مکروہ ہے، لِأَنَّ الْمَصْرِفَ مُطْلَقُ الْفُقَرَاءِ بِالنَّصِّ اس لیے کیونکہ زکوٰۃ کا مصرف جو ہیں وہ مطلق فقراء ہیں نص کی وجہ سے: ﴿إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ﴾، کیا پتہ چلا کہ زکوٰۃ کا مصرف کون ہے؟ فقراء ہیں، تو یہ بے شک دوسرے شہر بھیج رہا ہے لیکن ہیں تو وہاں بھی فقراء، لہٰذا ادا ضرور ہو جائے گی اگرچہ مکروہ ہے۔ وَاللَّهُ أَعْلَمُ اور اللہ خوب جاننے والے ہیں۔ بَابُ صَدَقَةِ الْفِطْرِ، یہ باب ہے صدقہ فطر کے بیان میں۔ قَالَ: صَدَقَةُ الْفِطْرِ وَاجِبَةٌ عَلَى الْحُرِّ الْمُسْلِمِ إِذَا كَانَ مَالِكًا لِمِقْدَارِ النِّصَابِ فَاضِلًا عَنْ مَسْكَنِهِ وَثِيَابِهِ وَأَثَاثِهِ وَفَرَسِهِ وَسِلَاحِهِ وَعَبِيدِهِ. صاحبِ قدوری فرماتے ہیں صدقہ فطر واجب ہے عَلَى الْحُرِّ الْمُسْلِمِ آزاد مسلمان پر، إِذَا كَانَ مَالِكًا لِمِقْدَارِ النِّصَابِ جب وہ مالک ہو نصاب کی مقدار کا، نصاب کی مقدار کا۔ بھئی ابھی ذکر ہوا تھا ایک ہے نصابِ نامی اور وہ کس میں ہے؟ درہم، دنانیر ہیں، کرنسی ہے، مالِ تجارت ہے اور سائمہ جانور ہیں، لیکن یہ یاد رکھیے وہ زکوٰۃ کے اندر ضروری تھا جس کے پاس نصابِ نامی ہوگا اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی، جس کے پاس نصابِ نامی نہیں اس پر زکوٰۃ بھی واجب نہیں، لیکن صدقہ فطر میں ایسا نہیں ہے، صدقہ فطر کے اندر جو ابھی دوسرا نصاب ذکر ہوا تھا کہ کسی بھی مال میں سے کیا ہو؟ نصاب کے بقدر اس کی ضرورت سے، حاجتِ اصلی سے زائد مال کس مقدار کو پہنچ رہا ہے؟ نصاب کو، تو بے شک نصابِ نامی نہیں لیکن کیا ہے؟ نصاب تو موجود ہے تو حاجتِ اصلی سے زائد جو بھی مال اس کے پاس ہے وہ حساب لگائیں گے، وہ نصاب کو پہنچتا ہو چاہے نصابِ نامی نہیں لیکن نصاب کو پہنچ رہا ہے تو اس پر صدقہ فطر واجب ہوگا۔ مسئلہ سمجھ میں آگیا؟ تو یہاں نصاب سے مراد وہ نصاب عام ہے چاہے نامی ہو چاہے غیر۔ دیکھیے خود آگے یہ بیان کریں گے متن میں دیکھیے گا بھئی۔ کہتے ہیں صدقہ فطر واجب ہے آزاد مسلمان پر إِذَا كَانَ مَالِكًا لِمِقْدَارِ النِّصَابِ جبکہ وہ مالک ہو نصاب کی مقدار کا، فَاضِلًا عَنْ مَسْكَنِهِ وَثِيَابِهِ وَأَثَاثِهِ وَفَرَسِهِ وَسِلَاحِهِ وَعَبِيدِهِ اس حال میں کہ یہ جو نصاب ہے یہ زائد ہو، دیکھو دیکھا بھئی؟ زائد ہو عَنْ مَسْكَنِهِ اس کی رہائش سے، وَثِيَابِهِ اور اس کے کپڑوں سے، وَأَثَاثِهِ اور اس کا جو سامان ہے گھر کا سامان وغیرہ سارا، وَأَثَاثِهِ اور اس کا جو سامان ہے، وَفَرَسِهِ اور اس کے گھوڑے سے، وَسِلَاحِهِ اور اس کے اسلحے سے، وَعَبِيدِهِ اور اس کے غلاموں سے، کس سے؟ میں نے کیا ذکر کیا تھا؟ ایک آدمی کے پاس بے شک گاڑی بھی ہے پھر بھی وہ مستحقِ زکوٰۃ ہے اگر اس کی حاجتِ اصلیہ سے زائد نصاب کے بقدر مال اس کے پاس نہیں، دیکھو وہی مثالیں آ رہی ہیں۔ یہ شخص ذکر ہو رہا ہے اس کے پاس غلام بھی ہیں بہت سارے، عَبِيدِهِ اس کے غلام ہیں اور غلام تو بڑے مالدار کے پاس ہو سکتا تھا ہر ایک کے پاس نہیں، وَفَرَسِهِ فرس کا بھی ذکر آ رہا ہے، فرس بھی ہر ایک کے پاس نہیں ہوتا تھا تو چاہے بظاہر اس کے پاس استعمال کی چیزیں زیادہ ہیں لیکن ان کا اعتبار نہیں، یہ تو ساری کس کے اندر مشغول ہیں؟ حاجتِ اصلی کے اندر۔ ان سے زائد چیز اب کس کو کہیں گے حاجتِ اصلی سے زائد چیز؟ میں نے کیا بتلایا؟ جو بہت ہی کم استعمال میں آتی ہیں، کبھی سال میں ایک آدھ دفعہ ہی ان کی ضرورت پیش آتی ہے یا سالوں میں کبھی ایک آدھ دفعہ ضرورت پیش آتی ہے تو یہ سب کیا ہیں؟ حاجتِ اصلی سے زائد، اور جو چیزیں روزمرہ اور عام استعمال میں آتی رہتی ہیں ان میں سے کوئی بھی ضرورت سے زائد نہیں ہے بھئی۔ تو یہ معنی ہے جبکہ وہ نصاب کی مقدار کا مالک ہو اس حال میں کہ وہ نصاب زائد ہو اس کی رہائش گاہ سے، اس کے کپڑوں سے اور اس کے سامان سے اور اس کے گھوڑے سے اور اس کے اسلحے سے اور اس کے غلاموں سے۔ أَمَّا وُجُوبُهَا، بھئی انہوں نے متن میں کیا کہا صدقہ فطر واجب ہے، اس کی دلیل ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں أَمَّا وُجُوبُهَا باقی صدقہ فطر کا وجوب جو ہے فَلِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي خُطْبَتِهِ وہ حضور علیہ السلام کے یہ فرمانے کی وجہ سے ہے، اس قول کی وجہ سے ہے فِي خُطْبَتِهِ اپنے خطبے کے اندر آپ نے فرمایا: ”أَدُّوا عَنْ كُلِّ حُرٍّ وَعَبْدٍ صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ“، کہ ادا کرو تم ہر آزاد کی طرف سے اور ہر غلام کی طرف سے صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ چاہے چھوٹا ہو وہ غلام یا بڑا ہو یعنی نابالغ ہو یا بالغ ہو اس کی طرف سے بھی ادا کرو، اور کتنا ادا کرو؟ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ آدھا صاع مِنْ بُرٍّ گندم میں سے، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ یا ایک صاع جو میں سے۔ گندم میں سے ادا کرنا ہے تو کتنا ادا کرو؟ نصفِ صاع، اور جو میں سے ادا کرنے ہیں تو ایک صاع۔ رَوَاهُ ثَعْلَبَةُ بْنُ صُعَيْرٍ الْعَدَوِيُّ روایت کیا اس حدیث کو حضرت ثعلبہ بن صعیر عدوی رضی اللہ تعالی عنہ نے، وَبِمِثْلِهِ يَثْبُتُ الْوُجُوبُ لِعَدَمِ الْقَطْعِ اور اس قسم کی حدیث سے جو ہے وجوب ثابت ہوتا ہے، فرضیت نہیں ثابت ہوتی بلکہ وجوب ثابت ہوتا ہے لِعَدَمِ الْقَطْعِ یقینی نہ ہونے کی وجہ سے، کیونکہ خبرِ واحد ہے نا اور خبرِ واحد کیا ہوتی ہے؟ ظنی ہوتی ہے، وہ غالب گمان کا فائدہ تو دیتی ہے کہ غالباً بات اسی طرح ہے، اور یقین کا فائدہ نہیں، یقین کا فائدہ کون سی خبر دیتی ہے؟ خبرِ متواتر ہے، تو لہٰذا اس سے وجوب ثابت ہوگا یعنی فرضیت اس سے ثابت نہیں ہو سکتی۔ فَشَرْطُ الْحُرِّيَّةِ لِتَحَقُّقِ التَّمْلِيكِ اور آزاد ہونے کی شرط تھی بھئی، متن میں آیا تھا وَاجِبَةٌ عَلَى الْحُرِّ الْمُسْلِمِ تو یہ آزاد ہونے کی شرط جو ہے کہتے ہیں فَشَرْطُ الْحُرِّيَّةِ اور آزاد ہونے کی شرط لِتَحَقُّقِ التَّمْلِيكِ تاکہ تملیک پائی جائے۔ تملیک کا کیا معنی؟ دوسرے کو مالک بنانا، ہم نے کہا صدقہ فطر آزاد آدمی پر واجب ہے معلوم ہوا غلام پر واجب نہیں کیونکہ صدقہ فطر میں دوسرے کو مالک بنانا ضروری ہے، صدقہ ہے نا کس کو دینا پڑے گا؟ محتاج کو، فقیر کو، تو اس تو اس میں تملیک یعنی مالک بنانا ضروری ہے فقیر کو اور غلام میں تو خود غلام تو خود کسی چیز کا مالک نہیں بن سکتا دوسرے کو کیا اس کا مالک بنائے گا بھئی، تو لہٰذا یہاں تملیک ہی نہیں پائی جائے گی اگر غلام ہوگا تو، اور تملیک تو ضروری ہے لہٰذا غلام پر صدقہ فطر واجب نہیں، آزاد ہونا چاہیے۔ یہ معنی ہے فَشَرْطُ الْحُرِّيَّةِ لِتَحَقُّقِ التَّمْلِيكِ اور آزاد ہونے کی شرط جو ہے وہ تملیک کے پائے جانے کے لیے ہے، وَالْإِسْلَامِ اس کو مجرور پڑھنا بھئی، حُرِّيَّةِ پر اس کا عطف ہے، أَيْ شَرْطُ الْإِسْلَامِ اور اسلام کی جو شرط متن میں ذکر ہوئی لِيَقَعَ قُرْبَةً تاکہ صدقہ فطر کیا واقع ہو؟ عبادت بن کر واقع ہو، کیا واقع ہو؟ عبادت مسلمان ہوگا تو اس پر صدقہ فطر واجب ہے، کافر تو اس کا اہل ہی نہیں عبادت کافر تو عبادت کا اہل ہی نہیں اور صدقہ فطر کیا ہے؟ یہ عبادت ہے تو اس لیے مسلمان ہونا ضروری۔ یہ معنی ہے وَالْإِسْلَامِ لِيَقَعَ قُرْبَةً اور مسلمان ہونے کی شرط جو ہے تاکہ قربت واقع ہو، وَالْيَسَارِ اس کا عطف بھی اسی الْإِسْلَامِ پر ہے یا الْحُرِّيَّةِ پر ہے اور مالدار ہونے کی شرط بھئی، کیا شرط لگائی تھی متن میں؟ إِذَا كَانَ مَالِكًا لِمِقْدَارِ النِّصَابِ تو یہ مالدار ہونے کی شرط کیوں لگائی گئی؟ کہتے ہیں اور مالدار ہونے کی شرط لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے: ”لَا صَدَقَةَ إِلَّا عَنْ ظَهْرِ غَنِيٍّ“، کہ صدقہ نہیں ہے مگر مالدار کی طرف سے، صدقہ نہیں ہے مگر کس کی طرف سے؟ مالدار کی طرف سے۔ تو حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”لَا صَدَقَةَ إِلَّا عَنْ ظَهْرِ غَنِيٍّ“، ظہر کا لفظ زائد ہے یہ اسی طرح عربی میں استعمال ہوتا ہے بھئی، تو حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”لَا صَدَقَةَ إِلَّا عَنْ ظَهْرِ غَنِيٍّ“ أَيْ إِلَّا عَنْ غَنِيٍّ بھئی کہ صدقہ نہیں ہے مگر مالدار کی طرف سے، تو اسی لیے ہم نے بھی نصاب کی شرط لگائی۔ وَهُوَ حُجَّةٌ عَلَى الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي قَوْلِهِ: يَجِبُ عَلَى مَنْ يَمْلِكُ زِيَادَةً عَلَى قُوتِ يَوْمِهِ لِنَفْسِهِ وَعِيَالِهِ. امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صدقہ فطر ہر اس شخص پر واجب ہے، ہر اس شخص پر جو اپنے اور اپنے اہل و عیال کے کو ایک دن سے زیادہ کی خوراک کا مالک ہو۔ کتنی کتنا کتنا مال ہے اس کے پاس کتنی چیز ہے؟ ایک دن کی جو خوراک ہوتی ہے اس سے زائد مال ہے اس کے پاس تو بس اس پر صدقہ فطر واجب ہے، ہم کہتے ہیں نہیں یہ تو بڑا معمولی سا ہے ایک دن کی ضرورت، تو اگر اس پر بھی صدقہ فطر کو واجب قرار دے دیا جائے واجب قرار دے دیا جائے تو اج اگر یہ صدقہ فطر دے گا تو کل خود اس کو پھر سوال کرنے اور مانگنے کی ضرورت پیش آ جائے گی، سمجھ میں آیا؟ تو ہمارے نزدیک کیا ضروری ہے؟ وہ مالدار ہو یعنی نصاب کے بقدر مال کا مالک ہو، چاہے وہ مالِ نامی ہو یا مالِ نامی نہ ہو لیکن نصاب کے بقدر مال کا مالک ہو۔ تو یہ حدیث جو ہے ہماری امام شافعی رحمہ اللہ کے خلاف بھی حجت اور دلیل ہے کیونکہ اس حدیث میں کیا ایا ”لَا صَدَقَةَ إِلَّا عَنْ ظَهْرِ غَنِيٍّ“، صدقہ کس کی طرف سے ہوگا؟ غنی یعنی مالدار کی طرف سے ہوگا۔ تو کہتے ہیں وَهُوَ حُجَّةٌ عَلَى الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي قَوْلِهِ اور یہ حدیث دلیل ہے امام شافعی رحمہ اللہ کے خلاف ان کے اس قول کے اندر وہ فرماتے ہیں: يَجِبُ عَلَى مَنْ يَمْلِكُ زِيَادَةً عَلَى قُوتِ يَوْمِهِ لِنَفْسِهِ وَعِيَالِهِ کہ صدقہ فطر جو ہے یہ واجب ہے اس شخص پر جو مالک ہے جو مالک ہے کس چیز کا؟ زِيَادَةً عَلَى قُوتِ يَوْمِهِ ایک دن کی خوراک، قوت کہتے ہیں خوراک اور غذا، ایک دن کی خوراک ایک دن کی غذا سے زیادہ کا مالک ہے لِنَفْسِهِ وَعِيَالِهِ اپنے لیے اور اپنے اہل و عیال کے لیے۔ وَقُدِّرَ الْيَسَارُ بِنِصَابٍ، اچھا بھئی متن میں بھئی یہاں کیا ذکر ہوا تھا جب وہ مالک ہو کس چیز کا؟ نصاب کا، بھئی پھر مالداری کی شرط لگائیں نا، یہ نصاب کی شرط اپ کیوں لگا رہے ہیں؟ تو جواب یہ کہ شریعت میں مالدار ہونے کا اعتبار کیا ہی کس کے ذریعے جاتا ہے؟ نصاب کے ذریعے، جو نصاب کے بقدر مال کا مالک ہے وہ شرعاً وہ مالدار شمار ہوتا ہے، تو اسی لیے بھی ہم نے بھی کیا کہا کہ وہ نصاب کے بقدر مال کا مالک ہو۔ یہ معنی ہے وَقُدِّرَ الْيَسَارُ بِنِصَابٍ اور اندازہ لگایا گیا مالداری کا نصاب کے ساتھ لِتَقَدُّرِ الْغِنَى فِي الشَّرْعِ بِهِ اس وجہ سے کہ اندازہ لگایا ہے اندازہ لگایا گیا ہے مالداری کا شریعت نے بِهِ اس کے ذریعے، فَاضِلًا عَمَّا ذُكِرَ مِنَ الْأَشْيَاءِ اس حال میں کہ وہ نصاب جو ہے زائد ہو ان چیزوں سے جو ذکر ہو گئیں، وہ نصاب ان چیزوں سے زائد ہو جو ذکر ہوئیں، لِأَنَّهَا مُسْتَحَقَّةٌ بِالْحَاجَةِ الْأَصْلِيَّةِ اس لیے کیونکہ یہ جو چیزیں ہیں یہ لازم ہیں کس کے ساتھ؟ حاجتِ اصلی کے ساتھ، یہ تو اس میں یہ تو اس کے لائق ہیں، اس کے قابل ہیں، تو مُسْتَحَقَّةٌ کا ترجمہ یا لازم کے کر لیں یا لائق ہیں، قابل ہیں، اس لیے کیونکہ یہ جو چیزیں متن میں ذکر ہوئیں یہ حاجتِ اصلی کے لائق ہیں یا یوں کہیں یہ حاجتِ اصلی کے ساتھ لازم ہیں، وَالْمُسْتَحَقُّ بِالْحَاجَةِ الْأَصْلِيَّةِ كَالْمَعْدُومِ اور وہ چیز جو حاجتِ اصلی کے ساتھ لازم ہو یا اس کے لائق ہو یا اس یوں کہیں اور جو چیز حاجتِ اصلی کی حقدار ہو كَالْمَعْدُومِ وہ کیا ہے؟ وہ معدوم چیز کی طرح ہے اس کو شمار ہی نہیں کیا جائے گا۔ جیسے بھئی ایک شخص جنگل میں سفر کر رہا ہے اور اس کے پاس پانی تو ہے لیکن وہ پانی اس کو اس کو پینے کے لیے ضرورت پڑے گی تو وہ اس کے ذریعے وضو نہیں کرتا بلکہ کیا کر لیتا ہے؟ تیمم کر لیتا ہے تو تیمم جائز ہے، حالانکہ تیمم تو پانی کے ہوتے ہوئے جائز نہیں لیکن یہاں پر یہ پانی چونکہ اس کی حاجتِ اصلی میں مشغول ہے لہٰذا تیمم کے حق میں اس کو معدوم شمار کیا گیا گویا اس کے پاس پانی ہے ہی نہیں، جب ہے ہی نہیں تو تیمم اس کا کرنا جائز ہوا تو یہاں بھی یہ چیزیں حاجتِ اصلی میں مشغول ہیں تو ان کو معدوم شمار کیا جائے گا۔ وَلَا يُشْتَرَطُ فِيهِ النُّمُوُّ، نُمُوٌّ بھئی، نون پر بھی پیش اور میم پر بھی پیش ہے اور واو مشدد ہے، نُمُوٌّ، نُمُوٌّ وہی زیادتی بھئی، نماء، نماء۔ وَلَا يُشْتَرَطُ فِيهِ النُّمُوُّ اور اس نصاب کے اندر نماء کی بھی یعنی زیادتی زیادہ ہونے کی بھی شرط نہیں ہے کہ یہ نصابِ نامی ہو، سمجھ میں آیا؟ وَيَتَعَلَّقُ بِهَذَا النِّصَابِ حِرْمَانُ الصَّدَقَةِ وَوُجُوبُ الْأُضْحِيَّةِ وَالْفِطْرِ اور متعلق ہے اسی نصاب کے ساتھ حِرْمَانُ الصَّدَقَةِ صدقے سے محروم ہونا، اسی نصاب سے متعلق ہے صدقے سے محروم ہونا یعنی زکوٰۃ سے محروم ہونا۔ بھئی ابھی پچھلا باب گزرا اس میں کیا ذکر تھا؟ زکوٰۃ کس شخص کو دینا جائز ہے؟ جس کے پاس نصاب کے بقدر زائد مال اور کون سا نصاب؟ نصابِ نامی ہونا ضروری ہے یا کوئی بھی نصاب ہو؟ کوئی بھی نصاب ہو، یہی بات ذکر کر رہے ہیں یہ جو اوپر ذکر ہوا تھا اور یہاں بھی کون سا نصاب ذکر ہوا؟ نامی یا غیر نامی جو بھی ہو، جو بھی ہو، یہی ذکر کر رہے ہیں کہ یہ جو نصاب ذکر ہوا نا یہ غیر نامی، یہ حرمانِ صدقہ کا سبب ہے یعنی وہ شخص صدقے سے محروم ہوگا، یعنی جس شخص کے پاس اس نصاب کے بقدر زائد مال ہے چاہے بے شک مالِ نامی نہ ہو نصابِ نامی نہ ہو لیکن کیا ہو؟ نصاب ہو، زائد مال ہے حاجتِ اصلی حاجتِ اصلیہ سے تو یہ زکوٰۃ سے محروم ہوگا یعنی اس کو زکوٰۃ نہیں دی جائے گی، زکوٰۃ دیں گے تو ادا نہیں ہوگی۔ اور نیز اسی نصاب سے متعلق ہے وَوُجُوبُ الْأُضْحِيَّةِ قربانی کا وجوب بھی۔ یاد رکھیے قربانی واجب ہوتی ہے اس کے قربانی اس شخص پر واجب ہے جو اپنی ضرورت سے زائد نصاب کے بقدر مال کا مالک ہو اور وہاں بھی نصابِ نامی نہیں ضروری بلکہ کسی بھی قسم کا نصاب ہو چاہے نامی ہو چاہے غیر نامی ہو تو اس کی ضرورت سے زائد اس کے پاس نصاب کے بقدر مال ہے، بے شک مالِ نامی نہیں ہے لیکن مال ہے نصاب کے بقدر ضرورت سے زائد تو اس پر کیا واجب ہوگی؟ قربانی واجب ہوگی، تو معلوم ہوا اسی نصاب سے متعلق ہے وَوُجُوبُ الْأُضْحِيَّةِ قربانی کے وجوب کا بھی، وَالْفِطْرِ أَيْ وَوُجُوبُ الْفِطْرِ اور اسی نصاب کے ساتھ متعلق ہے صدقہ فطر کا وجوب بھی بھئی، کہ یہ نصاب جو ہے جس کے پاس ہو تو اس پر صدقہ فطر بھی واجب ہوگا چاہے نامی ہو یا نامی نہ ہو، اس پر صدقہ فطر واجب ہوگا بھئی۔ تو معلوم ہوا اس نصاب کے ساتھ تعلق ہے تین چیزوں کا: حرمانِ صدقہ کا تعلق بھی اسی سے ہے، قربانی کے وجوب کا تعلق بھی اسی سے ہے اور وجوبِ فطر یعنی وجوبِ صدقہ فطر کا تعلق بھی اسی نصاب کے ساتھ ہے جو نصابِ غیر نامی کے ساتھ ہی ہے۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ.