”وَفِي الرِّقَابِ: أَنْ يُعَانَ الْمُكَاتَبُونَ مِنْهَا فِي فَكِّ رِقَابِهِمْ هُوَ الْمَنْقُولُ، وَالْغَارِمُ: مَنْ لَزِمَهُ دَيْنٌ وَلَا يَمْلِكُ نِصَابًا فَاضِلًا عَنْ دَيْنِهِ، وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: مَنْ تَحَمَّلَ غَرَامَةً فِي إِصْلَاحِ ذَاتِ الْبَيْنِ وَإِطْفَاءِ النَّائِرَةِ بَيْنَ الْقَبِيلَتَيْنِ“. بھئی گزشتہ سبق میں یہ بحث آئی تھی۔ صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ مؤلفۃ القلوب جو ہیں وہ ساقط ہو گئے ہیں، اس لیے کیونکہ اللہ نے اسلام کو قوت دے دی ہے اور اسلام کو ان سے بے نیاز کر دیا ہے اور اس پر صحابہ کا اجماع منعقد ہوا ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا کہ اجماع اگرچہ قطعی دلیل ہے لیکن اس کے ذریعے قرآن یا حدیث کے کسی قطعی حکم کو ساقط نہیں کیا جا سکتا، تو یہ اس کے لیے ناسخ نہیں بن سکتا۔ اور پھر میں نے اس کا جواب بھی آپ کو بتلایا کہ بھئی کہ یہ جو مؤلفۃ القلوب کو دینے کا حکم تھا یہ معلول تھا علت کے ساتھ کہ ان کو دینے کی علت کیا تھی؟ اسلام کا کمزور ہونا۔ تو یہ حکم علت کے ساتھ معلول تھا اور چونکہ یہ علت ختم ہو گئی اس لیے یہ مؤلفۃ القلوب ساقط ہو گئے۔ یہ مؤلفۃ القلوب کیا ہوئے؟ ساقط ہو گئے۔ علت ختم ہو گئی، اور علت کیا تھی؟ اسلام کا کمزور ہونا۔ اور جب یہ علت دوبارہ پائی جائے گی تو یہ حکم بھی دوبارہ اسی طرح آئے گا اور مؤلفۃ القلوب کو دینا جائز ہو گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ ”وَفِي الرِّقَابِ“، بھئی آیت کے اندر ”وَفِي الرِّقَابِ“ آیا تھا۔ اس سے کیا مراد ہے؟ رقاب جمع ہے رقبۃ کی بھئی، اور گردنوں کے اندر، یعنی گردنوں کے چھڑانے میں، غلاموں کو آزاد کروانے میں۔ اس کا معنیٰ بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَفِي الرِّقَابِ“ اور ”وَفِي الرِّقَابِ“ جو ہے وہ یہ ہے کہ ”أَنْ يُعَانَ الْمُكَاتَبُونَ“ کہ مدد کی جائے گی مکاتبوں کی ”مِنْهَا“ اس زکوٰۃ میں سے ”فِي فَكِّ رِقَابِهِمْ“ ان کی گردنوں کے چھڑانے میں۔ فکّ کا معنیٰ ہے چھڑانا۔ ان کی گردنوں کے چھڑانے میں ان کی مدد کی جائے گی بھئی۔ ”هُوَ الْمَنْقُولُ“، یہی منقول ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ سے بھئی۔ کہ ”وَفِي الرِّقَابِ“ سے کیا مراد ہے؟ کہ مکاتبوں کی مدد کی جائے گی۔ میں نے آپ کو بتلا دیا کہ مکاتب وہ غلام ہے جسے اس کے آقا نے کہہ دیا مثلاً دو سال کے اندر اتنے پیسے لے آؤ تو تم آزاد ہو۔ تو یہ مکاتب ہے۔ تو اب یہ مالِ زکوٰۃ میں سے اس کی بھی مدد کی جائے گی تاکہ یہ جلد سے جلد وہ مال کی ادائیگی کر کے اپنے آپ کو آزاد کروا سکے۔ جبکہ اسی ”وَفِي الرِّقَابِ“ کی دوسری تفسیر بھی بعض فقہاء نے کی اور وہ اس کی طرف گئے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں ”وَفِي الرِّقَابِ“ سے مراد یا گردنوں کے چھڑانے سے مراد یہ ہے کہ اس مالِ زکوٰۃ کے ذریعے غلاموں کو خرید کر آزاد کیا جائے گا۔ کیا کیا جائے گا؟ غلاموں کو باقاعدہ خرید کر آزاد کیا جائے گا۔ جبکہ ہمارے نزدیک غلاموں کو خرید کر آزاد کرنا صحیح نہیں اس لیے کیونکہ یہ زکوٰۃ کا مال ہے اور زکوٰۃ کے اندر دوسرے کو مالک بنانا ضروری ہے۔ تو جب غلام کو خرید کر آزاد کیا جائے گا اس کے اندر مالک بنانا نہیں پایا گیا، حالانکہ زکوٰۃ میں کیا ضروری ہے؟ کہ کسی کو اس مال کا مالک باقاعدہ بنایا جائے بھئی۔ جی آگے اس کا بھی ذکر آ جائے گا بھئی۔ تو بہرحال ہمارے نزدیک غلاموں کو خرید کر آزاد نہیں کیا جائے گا بلکہ مکاتب جو ہیں ان کو، ان کی مدد کی جائے گی تاکہ وہ اپنے آپ کو آزاد کروائیں اور بدلِ کتابت ادا کریں جلد سے جلد بھئی۔ یہ معنیٰ ہے کہ ”أَنْ يُعَانَ الْمُكَاتَبُونَ مِنْهَا“ کہ مدد کی جائے گی مکاتبوں کی اس مالِ زکوٰۃ میں سے ”فِي فَكِّ رِقَابِهِمْ“ ان کی گردنوں کے چھڑانے میں، ان کی گردنوں کے آزاد کروانے میں۔ ”هُوَ الْمَنْقُولُ“، اور یہی منقول ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ سے۔ ”وَالْغَارِمُ: مَنْ لَزِمَهُ دَيْنٌ“، بھئی آیت کے اندر غارمین کا ذکر آیا تھا بھئی، غارمین کا۔ اور وہ کہتے ہیں ”وَالْغَارِمُ: مَنْ لَزِمَهُ دَيْنٌ“، غارم وہ ہے جس پر دین لازم ہو گیا ہو یعنی جو مقروض ہو گیا ہے، مقروض ہو گیا ہے۔ تو جو مقروض ہے جس بیچارے پر قرضے زیادہ ہیں ان کی بھی اس مالِ زکوٰۃ کے ذریعے مدد کی جائے گی، ان کو دیا جائے گا تاکہ اس کے ذریعے وہ اپنے قرضے ادا کریں۔ تو کہتے ہیں ”وَالْغَارِمُ: مَنْ لَزِمَهُ دَيْنٌ“، اور غارم جو ہے وہ شخص ہے جس پر دین لازم ہو گیا ہو ”وَلَا يَمْلِكُ نِصَابًا فَاضِلًا عَنْ دَيْنِهِ“ اور وہ اپنے دین سے زائد نصاب کا مالک نہ ہو۔ اپنے دین سے زائد نصاب، یعنی، یعنی بے شک اس کے پاس مال ہو لیکن وہ مال کس کے ساتھ مشغول ہے؟ دین کے ساتھ مشغول ہے۔ مثلاً فرض کریں ایک شخص ہے اس کے پاس دس لاکھ روپے موجود ہیں لیکن اس پر قرضہ بھی تقریباً دس لاکھ ہی ہے، تو اب بے شک اس کے پاس مال موجود ہے یہ لیکن یہ مال کس کے ساتھ مشغول ہے؟ دین کے ساتھ مشغول ہے۔ اگر اس کے ذریعے وہ دین ادا کرتا ہے تو باقی اس کے پاس نصاب کے بقدر مال بچتا ہی نہیں ہے۔ تو یہ شخص بھی محتاج ہے لہٰذا اس کو بھی کیا کیا جائے گا؟ مالِ زکوٰۃ میں سے دیا جائے گا۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ قید ضروری ہے کہ دین سے زائد مال اتنا نہ ہو جو نصاب کو پہنچتا ہو، ورنہ قرضہ تو مالداروں پر بھی ہو جاتا ہے، وہ بھی کسی سے قرضہ لے لیتے ہیں لیکن ان کے پاس تو مال ہوتا ہے، قرضہ ارام سے پھر ادا بھی کر دیتے ہیں، تو وہ مراد نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَلَا يَمْلِكُ نِصَابًا فَاضِلًا عَنْ دَيْنِهِ“ اور وہ مالک نہ ہو نصاب کا جو کہ زائد ہو اس کے دین سے۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: مَنْ تَحَمَّلَ غَرَامَةً فِي إِصْلَاحِ ذَاتِ الْبَيْنِ وَإِطْفَاءِ النَّائِرَةِ بَيْنَ الْقَبِيلَتَيْنِ“، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں غارم وہ شخص ہے ”مَنْ تَحَمَّلَ غَرَامَةً“ جس نے غرامت کو برداشت کر لیا، جس نے غرامت کو یعنی جرمانے کو اٹھا لیا ”فِي إِصْلَاحِ ذَاتِ الْبَيْنِ“، ذات البین کہتے ہیں آپس کا تعلق بھئی، رشتہ اور محبت جو ہے۔ تو ذات البین یعنی آپس کے تعلق کی اصلاح کے لیے۔ ”وَإِطْفَاءِ النَّائِرَةِ“، اطفاء یطفیء کے معنیٰ ہوتے ہیں بجھانا، بجھا دینا۔ النائرۃ، نائرۃ یہ نار سے ہے نار سے۔ تو نائرۃ غصے اور عداوت کی آگ بھئی، غصے اور بغض و عداوت کی جو آگ ہے۔ ”بَيْنَ الْقَبِيلَتَيْنِ“ دو قبیلوں کے درمیان۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں غارم سے مراد وہ شخص ہے کہ مثلاً دو آدمیوں کے درمیان تعلق خراب تھا، آپس میں انہوں نے فیصلہ کر کے کسی پر جرمانہ وغیرہ ڈالا کہ یہ میرے اتنے مال ادا کر دے، اتنا مال، تو اس جرمانے کو اس تیسرے آدمی نے اٹھا لیا اور برداشت کر لیا کہ چلو یہ جرمانہ میں ادا کر دوں گا، تم دونوں کیا کر لو آپس میں؟ صلح کر لو۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ شخص جو ہے یہ ہے غارم کہ اس نے غرامت کو اٹھا لیا، غرامت کو اٹھا لیا۔ یا اسی طرح دو قبیلوں کے درمیان بغض و عداوت کی آگ جل رہی تھی، یہ شخص اس آگ کو بجھا دیتا ہے یعنی ان میں آپس میں صلح نہیں ہو رہی، ایک قبیلہ کہتا ہے یہ ہمیں اتنا مال ادا کرے اس نے ان کی وجہ سے ہمارا یہ نقصان ہوا یا کچھ ہوا ہے تو تب ہی ہم ان کے ساتھ صلح کریں گے، اور وہ دوسرا ادا کرنے پر راضی نہیں ہے تو یہ تیسرا شخص کیا کر لیتا ہے؟ وہ کہتا ہے بھئی یہ مال میں اپنی جیب سے دے دوں گا لیکن آپس میں کیا کر لو؟ صلح کر لو۔ تو دیکھو اس نے جرمانے کو اٹھا لیا۔ کس لیے اٹھایا؟ دو قبیلوں کے درمیان بغض و عداوت کی آگ کو بجھانے کے لیے۔ تو یہ ہے غارم، لہٰذا یہ اگرچہ مالدار ہی کیوں نہ ہو لیکن اس نے کیا کیا ہے؟ جرمانے کو اٹھایا ہے تو یہ غارم ہوا اور غارم کو آیت کے اندر مالِ زکوٰۃ دینے کا حکم ہے بھئی۔ یہ معنیٰ ہے ”قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: مَنْ تَحَمَّلَ غَرَامَةً فِي إِصْلَاحِ ذَاتِ الْبَيْنِ“، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس نے جرمانے کو اٹھا لیا یعنی تاوان کو اٹھا لیا آپس کے تعلق کی اصلاح کے لیے ”وَإِطْفَاءِ النَّائِرَةِ“ اور بغض و عداوت کی آگ کو بجھانے کے لیے ”بَيْنَ الْقَبِيلَتَيْنِ“ دو قبیلوں کے درمیان، وہ ہے غارم بھئی۔ ”وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ“، اور آیت کے اندر چھٹی قسم کیا آئی تھی؟ ”وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ“۔ اس سے کون مراد ہیں؟ کہتے ہیں: ”مُنْقَطِعُ الْغُزَاةِ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“، وہ منقطع الغزاۃ ہیں بھئی۔ غزاۃ جمع ہے غازی کی، غازی کی، جو مجاہد ہے۔ تو ”فِي سَبِيلِ اللَّهِ“ سے مراد جو ہیں منقطع الغزاۃ ہیں۔ منقطع یعنی کٹے ہوئے ہیں، جدا ہوئے ہیں۔ منقطع الغزاۃ وہ غازی جو یعنی مال سے کٹے ہوئے ہیں، مال سے کٹے ہوئے ہیں یعنی محتاج ہیں، کیا ہیں؟ محتاج ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ، تو ”وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ“ سے مراد جو ہیں ”مُنْقَطِعُ الْغُزَاةِ“، منقطعِ غزاۃ ہیں یعنی وہ غازی ہیں جو محتاج ہیں جن کے پاس مال نہیں ہے ”عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک، ”لِأَنَّهُ الْمُتَفَاهَمُ عِنْدَ الْإِطْلَاقِ“ اس لیے کیونکہ ”فِي سَبِيلِ اللَّهِ“ سے یہی مفہوم ہوتے ہیں اطلاق کے وقت۔ جب ”فِي سَبِيلِ اللَّهِ“ کا لفظ مطلقاً بولا جائے تو عرف میں عام لوگ اس سے کیا سمجھتے ہیں؟ مجاہدین ہی سمجھتے ہیں کہ وہ کیا ہیں، اللہ کے راستے میں لڑ رہے ہیں، جہاد کر رہے ہیں۔ ”وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ مُنْقَطِعُ الْحَاجِّ“، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک ”فِي سَبِيلِ اللَّهِ“ سے مراد منقطع الحاج ہیں۔ وہ حاجی جو مال سے کٹے ہوئے ہیں یعنی وہ حاجی جن بیچاروں کے پاس مال نہیں ہے۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک ”فِي سَبِيلِ اللَّهِ“ سے کیا مراد ہیں؟ غازی مراد ہیں، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک حاجی مراد ہیں۔ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی کیا دلیل گزری؟ کیونکہ وہ فرماتے ہیں ”فِي سَبِيلِ اللَّهِ“ کا لفظ مطلقاً بولا جائے تو اس سے کون لوگ اس سے کیا سمجھتے ہیں؟ مجاہدین مراد لیتے ہیں، وہ مجاہدین کا معنیٰ اس سے سمجھا جاتا ہے، حاجی کا معنیٰ اس سے سمجھا نہیں جاتا۔ لیکن امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں منقطع الحاج مراد ہیں، ”لِمَا رُوِيَ“ بوجہ اس حدیث کے جس کو روایت کیا گیا ہے ”أَنَّ رَجُلًا جَعَلَ بَعِيرًا لَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ“ کہ ایک آدمی جو تھا اس نے کر دیا بعیراً لہٗ ایسا اونٹ جو اس کا تھا یعنی جو اس کا اپنا تھا، کہ ایک آدمی نے اپنے اونٹ کو کر دیا فی سبیل اللہ، کس میں؟ اللہ، ایک آدمی نے جو ہے وہ اپنا اونٹ جو ہے فی سبیل اللہ وقف کر دیا تھا تو ”فَأَمَرَهُ“ اب تو پھر حضور علیہ السلام سے پوچھا کہ اب کیا کریں اس اونٹ کا؟ ”فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْمِلَ عَلَيْهِ الْحَاجَّ“، تو حضور علیہ السلام نے اس کو حکم دیا کہ وہ اس پر حاجیوں کو سوار کرے۔ کن کو سوار کرے؟ بھئی دیکھیے اس آدمی نے کیا کہا تھا کہ میں نے اپنے اونٹ کو کس کے لیے وقف کر دیا؟ فی سبیل اللہ۔ اور حضور علیہ السلام کیا حکم دے رہے ہیں؟ اس کو حاجیوں کو اس پر سوار کرو۔ معلوم ہوا فی سبیل اللہ سے کون مراد ہیں؟ حاجی مراد ہیں بھئی۔ یہ امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل ہے بھئی۔ ”وَلَا يُصْرَفُ إِلَى أَغْنِيَاءِ الْغُزَاةِ عِنْدَنَا لِأَنَّ الْمَصْرِفَ هُوَ الْفُقَرَاءُ“، اور یہ صدقات جو ہیں، زکوٰۃ جو ہے اس کو خرچ نہیں کیا جائے گا، اس کو صرف نہیں کیا جائے گا ”إِلَى أَغْنِيَاءِ الْغُزَاةِ“ مالدار غازیوں پر، جو غازیوں میں سے مالدار ہیں ان پر کی طرف نہیں پھیرا جائے گا، ان پر نہیں خرچ کیا جائے گا ”عِنْدَنَا“ ہمارے نزدیک، ”لِأَنَّ الْمَصْرِفَ هُوَ الْفُقَرَاءُ“ اس لیے کیونکہ اس کا مصرف کون ہیں؟ فقراء ہیں، تو لہٰذا غازیوں میں سے بھی جو فقراء ہیں وہ مراد ہیں آیت کے اندر۔ ”وَابْنُ السَّبِيلِ“، تو آیت کے اندر آخری قسم جو ہے ابن السبیل ذکر ہے، اور ابن السبیل عربی زبان میں کسے کہتے ہیں؟ مسافر کو۔ مسافر کو ابن السبیل اس لیے کہتے ہیں کیونکہ سبیل کا معنیٰ ہے راستہ، ابن السبیل کا کیا معنیٰ ہوا؟ راستے کا بیٹا، یعنی راستے کے ساتھ لازم رہنے والا۔ چونکہ مسافر بھی سفر کے اندر ہے اور راستے کے ساتھ لازم رہنے والا ہے، راستے پر چل رہا ہے، تو اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ ابن السبیل کہتے ہیں۔ تو یہ آٹھویں قسم بیان ہوئی آیت میں تو یہ مسافر ہیں۔ اور اس کی بھی تفسیر کر رہے ہیں کون سا مسافر مراد ہے؟ کہتے ہیں: ”مَنْ كَانَ لَهُ مَالٌ فِي وَطَنِهِ“ وہ مسافر کہ اس کے وطن کے اندر تو اس کا مال ہے ”وَهُوَ فِي مَكَانٍ آخَرَ“ اور وہ خود دوسری جگہ پر ہے ”لَا شَيْءَ لَهُ فِيهِ“ اس کے اس کے پاس کوئی چیز نہیں فیہ اس جگہ میں۔ مسافر سے کون سا مسافر مراد ہے؟ یعنی جو محتاج ہے، جو مسافر کیا ہے؟ محتاج ہے۔ چاہے وہ مسافر ایسا ہے کہ اس کے پاس گھر میں تو بڑا مال موجود ہے لیکن اس وقت سفر میں نکلا ہوا ہے اور یہاں پر اس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے تو یہ بھی زکوٰۃ کا مصرف ہے۔ ”قَالَ: فَهَذِهِ جِهَاتُ الزَّكَاةِ“، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں یہ ہیں زکوٰۃ کی جہتیں، یہ آٹھ قسمیں جو آیت میں بیان ہو گئیں اور جن کی ہم نے تفسیر کر دی یہ کیا ہے؟ زکوٰۃ کی جہتیں ہیں یعنی جن میں زکوٰۃ کو خرچ کیا جائے گا۔ ”فَلِمَالِكٍ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ“، تو مالک کے لیے جائز ہے کہ ان میں سے ہر ایک کو دے۔ مسئلہ یاد رکھیے بھئی، یہ زکوٰۃ کے مصارف جو بیان ہوئے آیت کے اندر تو زکوٰۃ دینے والے کو اختیار ہے ہمارے نزدیک کہ وہ کیا کر سکتا ہے؟ چاہے تو سب کو تھوڑا تھوڑی تھوڑی زکوٰۃ دے دے، اور چاہے تو کسی ایک ہی قسم کو کیا کر دے؟ ساری زکوٰۃ دے دے بھئی، ساری۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں۔ سب قسموں کو دینا پڑے گا، سب قسمیں، سب قسموں کو دینا پڑے گا کیونکہ یہ سارے زکوٰۃ کے مستحق ہیں۔ یہ کیا ہیں؟ وہ فرماتے ہیں یہ جو لام آیا نا آیت کے اندر لام: ﴿إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ﴾، یہ جو لام آیا یہ لام استحقاق کا ہے، کون سا ہے؟ تو یہ مستحقینِ صدقات بیان ہو رہے ہیں اور زکوٰۃ کے مستحق یہ سارے ہیں۔ جب سارے ہیں تو کسی ایک کو نہیں دیں گے بلکہ ساروں کو دیں گے کیونکہ سارے زکوٰۃ کے مستحق ہیں، اور نیز آیت کے اندر جمع کے صیغے استعمال ہوئے ہیں فقراء، مساکین وغیرہ۔ تو اور جمع کا اطلاق کتنے افراد پر ہوتا ہے کم از کم؟ تین افراد پر، لہٰذا ہر قسم میں سے کم از کم تین افراد کو زکوٰۃ دینا پڑے گی۔ لہٰذا مؤلفۃ القلوب تو ہو گئے ساقط، باقی کتنے رہ گئے؟ سات، اور سات میں سے ہر ایک کو میں سے کے تین افراد، تو گویا کم از کم اکیس افراد میں یہ زکوٰۃ تقسیم کرنا پڑے گی بھئی۔ جبکہ ہمارے نزدیک کسی ایک کو بھی دے سکتے ہیں کیونکہ زکوٰۃ یہ ہمارے نزدیک یہ لام جو ہے یہ استحقاق کے لیے نہیں ہے، یہ لام استحقاق کے لیے نہیں، تو یہ سارے زکوٰۃ کے مستحق نہ ہوئے بلکہ یہ لام اختصاص کے لیے ہے، کس کے لیے ہے؟ اختصاص، یعنی یہ صدقات انہی کے ساتھ خاص ہیں، انہی کو دیے جائیں گے تو یہ صدقات کے مصارف بیان ہو گئے۔ یہ سارے صدقات کے زکوٰۃ کے مصارف ہیں، تو اب دینے والے کی مرضی ہے چاہے ساروں کو دے چاہے ان میں سے کسی ایک کو دے، جب ایک کو بھی دے گا وہ بھی کیا ہے؟ زکوٰۃ کا مصرف ہے تو زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنیٰ ہے ”فَلِمَالِكٍ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ وَلَهُ أَنْ يَقْتَصِرَ عَلَى صِنْفٍ وَاحِدٍ“، پس مالک کے لیے جائز ہے کہ وہ دے ان میں سے ہر ایک کو یعنی ساتوں قسموں کو، ”وَلَهُ“ اور اس کے لیے یہ بھی جائز ہے ”أَنْ يَقْتَصِرَ عَلَى صِنْفٍ وَاحِدٍ“ کہ وہ اکتفاء کر لے کسی ایک قسم پر۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا يَجُوزُ إِلَّا أَنْ يَصْرِفَ إِلَى ثَلَاثَةٍ مِنْ كُلِّ صِنْفٍ لِأَنَّ الْإِضَافَةَ بِحَرْفِ اللَّامِ لِلِاسْتِحْقَاقِ“، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جائز نہیں ہے مگر یہ کہ وہ اس کو خرچ کرے ”إِلَى ثَلَاثَةٍ“ تین افراد کی طرف ”مِنْ كُلِّ صِنْفٍ“ ہر قسم میں سے، ”لِأَنَّ الْإِضَافَةَ بِحَرْفِ اللَّامِ“ اس لیے کیونکہ یہاں جو اضافت کی گئی ہے وہ کس کے ساتھ ہے؟ حرفِ لام، ﴿إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ﴾ یہ لام کے ساتھ ہے، اور وہ لام ”لِلِاسْتِحْقَاقِ“ کس کے لیے ہے؟ استحقاق کے لیے ہے۔ یہ معنیٰ ہے ”لِأَنَّ الْإِضَافَةَ بِحَرْفِ اللَّامِ لِلِاسْتِحْقَاقِ“ اس لیے کیونکہ حرفِ لام کے ساتھ جو اضافت کی گئی ہے وہ استحقاق کے لیے ہے۔ ”وَلَنَا أَنَّ الْإِضَافَةَ لِبَيَانِ أَنَّهُمْ مَصَارِفُ لَا لِإِثْبَاتِ الِاسْتِحْقَاقِ“، اور ہماری دلیل یہ ہے کہ ہمارے نزدیک یہ جو لام کے ساتھ جو ہے اضافت کی گئی ہے یہ بیان کرنے کے لیے ہے کہ یہ زکوٰۃ کے مصارف ہیں ”لَا لِإِثْبَاتِ الِاسْتِحْقَاقِ“ استحقاق کو ثابت کرنے کے لیے نہیں، یعنی یہ لامِ استحقاق نہیں ہے بلکہ لامِ اختصاص ہے ہمارے نزدیک۔ ”وَهَذَا لِمَا عُرِفَ أَنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ اللَّهِ تَعَالَى“، اور یہ اس وجہ سے جو جانی گئی ہے کہ زکوٰۃ جو ہے وہ اللہ کا حق ہے۔ یہ اس وجہ سے کہ یہ بات معلوم ہے کہ زکوٰۃ جو ہے اللہ کا حق ہے، ”وَبِعِلَّةِ الْفَقْرِ صَارُوا مَصَارِفَ“ اور فقر کی علت کی وجہ سے، محتاج ہونے کی علت کی وجہ سے یہ زکوٰۃ کے مصارف ہو گئے، ”فَلَا يُبَالَى بِاخْتِلَافِ جِهَاتِهِ“ لہٰذا پرواہ نہیں کی جائے گی ان کی جہتوں کے مختلف ہونے کی۔ بھئی یہ سارے کیا بیان ہوئے ہیں آیت کے اندر؟ یہ سارے زکوٰۃ کے مصارف ہیں، اور زکوٰۃ یہ اللہ تعالیٰ کا حق ہے، اور یہ جو مصارف ہیں، یرحمک اللہ، یہ جو مصارف ہیں، یہ جو زکوٰۃ کے مصارف بنے کس وجہ سے زکوٰۃ کے مصارف بنے؟ فقر یعنی محتاج ہونے کی وجہ سے یہ زکوٰۃ کے مصارف بنے ہیں اگرچہ جہت الگ الگ ہے۔ مسافر وہ بھی محتاج لیکن جہت الگ، اور اسی طرح غازی ہے تو ہے وہ بھی محتاج لیکن جہت کیا ہے؟ محتاج ہونے کی جہت الگ ہے، اور اسی طرح غارم ہے، مسکین وغیرہ سب بھئی۔ تو جہتیں بے شک الگ الگ ہیں لیکن بہرحال سارے کیا ہیں؟ محتاج ہیں اور علتِ احتیاج کی وجہ سے یہ مصرف بنے ہیں تو لہٰذا ان میں سے جس پر بھی خرچ کر دے گا، جس کو بھی زکوٰۃ دے دے گا زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنیٰ ہے ”فَلَا يُبَالَى بِاخْتِلَافِ جِهَاتِهِ“، لہٰذا پرواہ نہیں کی جائے گی ان کی جہتوں کے مختلف ہونے کی۔ ”وَالَّذِي ذَهَبْنَا إِلَيْهِ مَرْوِيٌّ عَنْ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ“، اور یہ جس کی طرف ہم گئے ہیں، کس بات کی طرف ہم گئے؟ کہ مالک سب کو بھی دے سکتا ہے اور کسی ایک کو بھی دے سکتا ہے۔ یہ صرف ہم نے صرف اپنی رائے سے بات نہیں کی بلکہ یہی روایت ہے کس سے؟ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی اور یہی روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے بھی۔ یہ معنیٰ ہے ”وَالَّذِي ذَهَبْنَا إِلَيْهِ“ اور وہ بات جس کی طرف ہم گئے ”مَرْوِيٌّ عَنْ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ“ وہ روایت کی گئی ہے حضرت عمر سے بھی اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھی۔ ”وَلَا يَجُوزُ أَنْ يَدْفَعَ الزَّكَاةَ إِلَى ذِمِّيٍّ“، اور جائز نہیں ہے کہ زکوٰۃ دینے والا زکوٰۃ دے ذمی کو۔ ذمی وہ غیر مسلم جو دار الاسلام میں رہتے ہیں۔ تو زکوٰۃ دینے والے کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ ذمی کو زکوٰۃ دے یعنی کافر کو زکوٰۃ دے، اس سے زکوٰۃ ادا نہیں ہو گی۔ اور یہ بھی یاد رکھیے یہ صرف زکوٰۃ کا حکم نہیں ہے اس طرح بلکہ ہر صدقۂ واجبہ کا یہی حکم ہے۔ جو بھی صدقہ انسان پر واجب ہے وہ کسی کافر کو نہیں دیا جا سکتا، وہ کسی مسلمان ہی کو دینا پڑے گا۔ صدقۂ واجبہ مثلاً ایک عام زکوٰۃ ہے، عشر ہے، اسی طرح منت مانی تھی وہ پوری ہو گئی اس کی وجہ سے اس پر مال واجب ہو گیا، تو جو بھی صدقۂ واجبہ ہے اسی طرح یا کفارات کی وجہ سے جو مال واجب ہوا ہے، تو جو واجب مال ہو گا وہ صرف مسلمان ہی کو دینے سے ادا ہو گا۔ اور باقی نفلی صدقات یعنی خیرات وغیرہ غیر مسلموں کو دینا چاہتا ہے؟ ہاں وہ دے سکتا ہے، وہ مسلمانوں کو بھی دے سکتا ہے خیرات وغیرہ اور غیر مسلموں کو بھی دیا جا سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَلَا يَجُوزُ أَنْ يَدْفَعَ الزَّكَاةَ إِلَى ذِمِّيٍّ“ اور جائز نہیں ہے کہ زکوٰۃ حوالے کرے ذمی کے ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے جو آپ نے فرمایا ”لِمُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ“ حضرت معاذ سے، حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”خُذْهَا مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ وَرُدَّهَا فِي فُقَرَائِهِمْ“۔ حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن بھیجا قاضی بنا کر اور جہاں ان کو اور احکامات آپ نے دیے وہاں ایک حکم یہ بھی دیا کہ زکوٰۃ انہی لوگوں کے مالداروں سے لے کر انہی کے فقراء پر اس کو لوٹا دینا یعنی انہی کے فقراء میں اس کو تقسیم کر دینا۔ تو حدیث میں کیا آیا؟ انہی کے فقراء کو دے دینا، اور لی کس سے جاتی ہے زکوٰۃ؟ مسلمانوں سے، اور انہی کے فقراء پر لوٹا دینا، معلوم ہوا کس کو دینا ضروری ہے؟ مسلمانوں ہی کے فقراء کو دینا ضروری ہے۔ یہ معنیٰ ہے بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے جو آپ نے حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ ”خُذْهَا مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ“ کہ زکوٰۃ لینا ان کے مالداروں سے ”وَرُدَّهَا فِي فُقَرَائِهِمْ“ اور اس کو لوٹا دینا ان کے محتاجوں میں۔ ”وَيَدْفَعُ إِلَيْهِ مَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الصَّدَقَةِ“، زکوٰۃ دینے والا ذمی کو تو زکوٰۃ نہیں دے گا لیکن اس کے علاوہ اور جو صدقات ہیں وہ ذمی کو دے سکتا ہے۔ یہ معنیٰ ہے ”وَيَدْفَعُ إِلَيْهِ“ اور ذمی کو دے سکتا ہے ”مَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الصَّدَقَةِ“ اس کے علاوہ جو ہیں صدقے میں سے یعنی نفلی صدقے دے سکتا ہے۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا يَدْفَعُ“، اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں دے سکتا، اور نفلی صدقے بھی غیر مسلم کو نہیں دے سکتا، ”وَهُوَ رِوَايَةٌ عَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور یہی ایک روایت ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے بھی، ”اعْتِبَارًا بِالزَّكَاةِ“ زکوٰۃ پر قیاس کرتے ہوئے، جیسے زکوٰۃ غیر مسلم کو دینا جائز نہیں اسی طرح وہ فرماتے ہیں یہ نفلی صدقہ بھی غیر مسلم کو دینا جائز نہیں۔ ”وَلَنَا قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: تَصَدَّقُوا عَلَى أَهْلِ الْأَدْيَانِ كُلِّهَا“، اور ہماری دلیل حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے کہ ”تَصَدَّقُوا عَلَى أَهْلِ الْأَدْيَانِ كُلِّهَا“ کہ تم لوگ صدقہ کرو تمام دینوں والوں پر، تمام دین والے جو ہیں ان پر کیا کرو؟ صدقہ کرو۔ ”وَلَوْلَا حَدِيثُ مُعَاذٍ لَقُلْنَا بِالْجَوَازِ فِي الزَّكَاةِ“، اور اگر حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ والی حدیث نہ ہوتی تو ہم قائل ہو جاتے زکوٰۃ کے اندر بھی جواز کے۔ زکوٰۃ میں بھی ہم کس کے قائل ہوتے؟ جواز کے قائل ہوتے۔ تو کیونکہ اس حدیث میں کیا آیا: ”تَصَدَّقُوا عَلَى أَهْلِ الْأَدْيَانِ كُلِّهَا“، تمام دینوں والے جو ہیں ان پر کیا کرو تم لوگ؟ صدقہ کرو، اور صدقہ تو شامل ہے نفلی صدقے کو بھی اور صدقۂ واجبہ کو بھی شامل ہے۔ تو یہ حدیث تقاضا کر رہی ہے کہ سب کو دینا جائز ہو، سب کو دینا جائز ہو، لیکن حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث سے پتہ چل رہا تھا کہ زکوٰۃ کس کو دی جائے گی؟ مسلمانوں ہی کے فقراء کو۔ اس وجہ سے ہم نے کہا کہ زکوٰۃ یعنی صدقاتِ واجبہ غیر مسلموں کو نہیں دیے جا سکتے، اور اگر وہ حدیث نہ ہوتی تو اس حدیث کے اطلاق کی وجہ سے ہم کس چیز کے قائل ہو جاتے؟ زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ وہ غیر مسلموں کو دینا بھی جائز ہے کیونکہ یہ حدیث عام ہے۔ ”وَلَا يُبْنَى بِهَا مَسْجِدٌ وَلَا يُكَفَّنُ بِهَا مَيِّتٌ“، اور اس کے ذریعے مسجد تعمیر نہیں کی جا سکتی اور نہ اس کے ذریعے کسی میت کو کفن دیا جا سکتا ہے۔ یاد رکھیے مالِ زکوٰۃ سے مسجد وغیرہ تعمیر نہیں کر سکتے، اس کے ذریعے کسی کو میت کو کفن دفن وغیرہ اس پر اس کو خرچ نہیں کر سکتے۔ کیوں نہیں کر سکتے؟ کہتے ہیں: ”لِانْعِدَامِ التَّمْلِيكِ“، کیونکہ تملیک معدوم ہے۔ تملیک کا معنیٰ ہے مالک بنانا۔ زکوٰۃ کے اندر ضروری ہے کہ کسی فقیر اور محتاج کو اس کا مالک بنایا جائے، اور اب آپ اس سے مسجد تعمیر کرتے ہیں تو اس میں کسی کو مالک بنا رہے ہیں؟ نہیں، آپ خرچ تو کر رہے ہیں لیکن کسی کو مالک نہیں بنا رہے۔ میت کو کفن دیتے ہیں اس میں بھی کسی کو مالک بنانا نہیں ہے، جبکہ مالک بنانا رکن ہے زکوٰۃ کے اندر، اس کے بغیر وہ ادا ہو گی ہی نہیں بھئی۔ یہ معنیٰ ہے ”لِانْعِدَامِ التَّمْلِيكِ“ تملیک کے معدوم ہونے کی وجہ سے ”وَهُوَ الرُّكْنُ“ اور تملیک وہ تو رکن ہے زکوٰۃ کا۔ ”وَلَا يُقْضَى بِهَا دَيْنُ مَيِّتٍ“، اور اس کے ذریعے کسی مرنے والے کا دین بھی ادا نہیں کیا جا سکتا۔ کسی شخص کے مرنے والے کا دین بھی ادا نہیں کیا جا سکتا، ”لِأَنَّ قَضَاءَ دَيْنِ الْغَيْرِ لَا يَقْتَضِي التَّمْلِيكَ مِنْهُ لَا سِيَّمَا فِي الْمَيِّتِ“ اس لیے کیونکہ کسی دوسرے کا، کسی دوسرے کا دین ادا کرنا ”لَا يَقْتَضِي“ یہ تقاضا نہیں کرتا ”التَّمْلِيكَ مِنْهُ“ اس کو مالک بنانے کا۔ اس کو مالک بنانے کا یہ تقاضا نہیں، بھئی دیکھیے زید پر مثلاً قرض ہے، زید پر قرض ہے۔ آپ زید کی طرف سے یہ قرض خود ادا کر دیتے ہیں، خود ادا کرتے ہیں، تو کسی دوسرے کی طرف سے جب قرض ادا کیا جائے یہ تقاضا نہیں کرتا اس بات کا کہ اس کو مالک پہلے بنایا جائے پھر ہی قرضہ ادا ہو گا ورنہ قرضہ ادا نہیں ہو گا۔ دلیل سمجھ میں آ رہی ہے یا نہیں؟ آپ زید کی طرف سے مال دے دیتے ہیں تو قرض ادا ہو گیا یا ادا نہیں ہو گیا؟ قرض ادا ہو گیا۔ لیکن کیا اس میں یہ شرط ہے کہ پہلے زید مالک بنے پھر اس کے بعد وہ قرض خواہ کو مال ملے تو قرض ادا ہو گا ویسے ادا نہیں؟ نہیں، یہ شرط یہاں پر نہیں ہے۔ تو کسی کے، کسی دوسرے کا قرضہ ادا کرنا یہ اس بات کا تقاضا نہیں کرتا کہ دوسرے شخص کو پہلے کیا بنایا جائے؟ یعنی مقروض کو مالک بنایا جائے، یہ تقاضا نہیں کرتا۔ جب یہ تقاضا نہیں کرتا تو یہاں تملیک نہیں پائی گئی، دوسرے کو مالک نہیں بنایا گیا، اور حالانکہ زکوٰۃ کے اندر تو کیا ضروری تھا؟ دوسرے کو مالک بنانا ضروری تھا بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنیٰ ہے ”لِأَنَّ قَضَاءَ دَيْنِ الْغَيْرِ لَا يَقْتَضِي التَّمْلِيكَ مِنْهُ“ اس لیے کیونکہ کسی دوسرے کے دین کو ادا کرنا یہ تقاضا نہیں کرتا کہ اس کو مالک بھی بنایا جائے ”لَا سِيَّمَا فِي الْمَيِّتِ“ خاص طور پر میت کے اندر مرنے والے میں، وہ تو مالک بن ہی نہیں سکتا کسی چیز کا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اس صورت میں وہ مرنے والے کا دین بھی اس کے ذریعے ادا نہیں کیا جا سکتا۔ ”وَلَا تُشْتَرَى بِهَا رَقَبَةٌ تُعْتَقُ خِلَافًا لِمَالِكٍ“، اور اس کے ذریعے کسی رقبہ کو، کسی غلام یا باندی کو بھی نہیں خریدا جا سکتا ”تُعْتَقُ“ کہ وہ کیا ہو؟ کہ وہ اسے آزاد کر دیا جائے ”خِلَافًا لِمَالِكٍ رَحِمَهُ اللَّهُ“ بخلاف امام مالک رحمہ اللہ کے۔ بھئی یہ مسئلہ میں پہلے ذکر کر چکا ہوں کہ ”وَفِي الرِّقَابِ“ کے دو معنیٰ بیان کیے گئے ہیں۔ ہمارے نزدیک ”وَفِي الرِّقَابِ“ سے کیا مراد ہے؟ کہ زکوٰۃ خرچ کی جائے گی گردنوں کے چھڑانے میں یعنی ان کو آزاد کرنے میں۔ اب اس سے کیا مراد ہے؟ ہمارے نزدیک مراد کیا ہے؟ کہ مکاتب کی مدد کی جائے گی کہ وہ اپنا بدلِ کتابت ادا کر دے۔ جبکہ بعض فقہاء نے اس کا کیا معنیٰ کیا؟ کہ غلاموں کو خرید کر باقاعدہ اس کے ذریعے کیا کیا جائے گا؟ آزاد کیا جائے گا، اور اسی کی طرف امام مالک رحمہ اللہ گئے ہیں۔ ہم کہتے ہیں نہیں، غلام کو آزاد کرنا، غلام کو آزاد کرنا یہ ملکیت کو اس پر سے ختم کرنا ہے، پہلے وہ مملوک تھا اب اس پر سے ملکیت کو کیا کر دیا گیا؟ ختم۔ اور زکوٰۃ کی ادائیگی میں دوسرے کو مالک بنائیں گے تو پھر زکوٰۃ ادا ہو گی، تو یہاں تملیک نہیں پائی جا رہی۔ جب کسی غلام کو کیا کیا گیا؟ اسقاطِ ملک تو ہے، وہ پہلے کیا تھا؟ مملوک، اب اس پر سے ملکیت کیا کر دی گئی؟ ختم کر کے اس کو آزاد کر دیا گیا، تو یہاں اسقاطِ ملک تو پایا جائے گا لیکن تملیک نہیں پائی جائے گی، حالانکہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے کیا ضروری؟ تملیک ضروری ہے دوسرے کو مالک بنایا جائے۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں ”وَلَا تُشْتَرَى بِهَا رَقَبَةٌ تُعْتَقُ“ اور اس کے ذریعے کسی رقبہ کو نہیں خریدا جائے گا کہ اس کو آزاد کر دیا جائے ”خِلَافًا لِمَالِكٍ رَحِمَهُ اللَّهُ“ بخلاف امام مالک رحمہ اللہ کے، ”حَيْثُ ذَهَبَ إِلَيْهِ فِي تَأْوِيلِ قَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَفِي الرِّقَابِ﴾“ کیونکہ وہ گئے ہیں اس بات اسی تاویل کی طرف اللہ تعالیٰ کے قول ”وَفِي الرِّقَابِ“ میں۔ ”وَلَنَا أَنَّ الْإِعْتَاقَ إِسْقَاطُ الْمِلْكِ وَلَيْسَ بِتَمْلِيكٍ“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ اعتاق یعنی آزاد کرنا جو ہے وہ ملکیت کو ساقط کرنا ہے، ملکیت کو اس غلام پر سے ختم کرنا ہے ”وَلَيْسَ بِتَمْلِيكٍ“ اور یہ آزاد کرنا یہ تملیک نہیں ہے اور زکوٰۃ میں تو کیا ضروری؟ تملیک ضروری ہے۔ ”وَلَا تُدْفَعُ إِلَى غَنِيٍّ“، اور زکوٰۃ جو ہے مالدار کو بھی نہیں دی جائے گی ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ“ اس وجہ سے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ زکوٰۃ حلال نہیں ہے مالدار کے لیے، تو معلوم ہوا مالدار کو زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی۔ ”وَهُوَ بِإِطْلَاقِهِ حُجَّةٌ عَلَى الشَّافِعِيِّ فِي غَنِيِّ الْغُزَاةِ“، اور یہ حدیث اپنے اطلاق کے ساتھ یہ دلیل ہے امام شافعی رحمہ اللہ کے خلاف مالدار غازیوں میں۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آیت کے اندر آیا ”وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ“ اور ”وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ“ سے مراد غازی ہیں، تو غازیوں کو بھی زکوٰۃ میں سے دیا جائے گا چاہے وہ مالدار ہی کیوں نہ ہوں، کیونکہ آیت کے اندر فقر وغیرہ کی قید نہیں، ”وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ“ مطلق ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ حدیث، یہ حدیث جو ابھی ذکر ہوئی کہ ”لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ“، یہ حدیث مطلق ہے کہ مالدار کو زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی۔ اس میں کوئی قید ہے کہ غازی ہو تو اس کو دی جا سکتی ہے؟ نہیں، تو یہ حدیث اپنے اطلاق کے اعتبار سے امام شافعی رحمہ اللہ کے خلاف بھی حجت ہے اور دلیل ہے۔ یہ معنیٰ ہے ”وَهُوَ بِإِطْلَاقِهِ حُجَّةٌ عَلَى الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي غَنِيِّ الْغُزَاةِ“ اور یہ حدیث اپنے اطلاق کے ساتھ یہ دلیل ہے امام شافعی رحمہ اللہ کے خلاف مالدار غازیوں میں۔ ”وَكَذَا حَدِيثُ مُعَاذٍ عَلَى مَا رَوَيْنَاهُ“، اور اسی طرح حدیثِ معاذ بھی بوجہ اس کے جو ہم نے روایت کر دی بھئی۔ تو حدیث جیسے یہ حدیث امام شافعی رحمہ اللہ کے امام شافعی رحمہ اللہ کے خلاف دلیل ہے مالدار غازیوں کے سلسلے میں، وہ فرماتے ہیں مالدار غازیوں کو دے سکتے ہیں لیکن یہ حدیث اپنے اطلاق کے ساتھ جیسے یہ ان کے خلاف دلیل تھی اسی طرح وہ حدیثِ معاذ بھی ان کے خلاف دلیل ہے کیونکہ اس میں حضور علیہ السلام نے کیا فرمایا تھا؟ ”وَرُدَّهَا فِي فُقَرَائِهِمْ“، کہ انہی کے فقراء پر زکوٰۃ کو لوٹا دینا، تو وہاں بھی فقراء ہی کا ذکر ہے۔ ”قَالَ: وَلَا يَدْفَعُ الْمُزَكِّي زَكَاةَ مَالِهِ إِلَى أَبِيهِ وَجَدِّهِ وَإِنْ عَلَا“، بھئی یہاں سے یہ مسئلہ آپ کو بتلا رہے ہیں کہ زکوٰۃ اپنے اصول و فروع کو نہیں دی جا سکتی۔ اصول وہ ہیں جو اوپر کی طرف ہیں جیسے باپ ہے، دادا دادی ہے، نانا نانی ہے، پردادا پردادی ہے، پرنانا پرنانی وغیرہ یا ان سے اوپر تک، یہ سارے کیا ہیں؟ اصول ہیں، اصول ہیں کسی آدمی جو بھی آدمی ہے اس کے لیے یہ اصول ہیں بھئی، تو ان کو بھی زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی۔ اسی طرح اس شخص کے جو فروع ہوتے ہیں یعنی اس کی جو اولاد ہے یا آگے اولاد کی اولاد ہے ان میں سے بھی کسی کو زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی۔ اولاد مثلاً بیٹا بیٹی، اولاد کی اولاد جیسے پوتا پوتی، نواسہ نواسی، یا اسی طرح چاہے یہ سلسلہ نیچے تک ہی کیوں نہ ہو، تو ان میں سے کسی کو زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی۔ تو آدمی اپنے اصول کو بھی اپنی زکوٰۃ نہیں دے سکتا اور اپنے فروع کو بھی زکوٰۃ نہیں دے سکتا۔ وجہ اس کی یہ کہ یہ اصول و فروع جو ہوتے ہیں ان کے منافع مشترک ہوتے ہیں، منافع کیا ہوتے ہیں؟ مشترک ہوتے ہیں۔ یہ آپس میں ایک دوسرے کی چیزیں استعمال کرتے ہیں تو لہٰذا ان میں سے اگر ایک کو دے گا، تو منافع تو مشترک ہیں تو گویا خود اپنے اس کا نفع خود ہی حاصل کر رہا ہے، کیونکہ یہ کیا کرتے ہیں؟ ایک دوسرے کی چیزیں استعمال کرتے ہیں، ان کے منافع مشترک ہوتے ہیں، تو... ”وَفِي الرِّقَابِ أَنْ يُعَانَ الْمُكَاتَبُونَ مِنْهَا فِي فَكِّ رِقَابِهِمْ، هُوَ الْمَنْقُولُ، وَالْغَارِمُ مَنْ لَزِمَهُ دَيْنٌ وَلَا يَمْلِكُ نِصَابًا فَاضِلًا عَنْ دَيْنِهِ، وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: مَنْ تَحَمَّلَ غَرَامَةً فِي إِصْلَاحِ ذَاتِ الْبَيْنِ وَإِطْفَاءِ النَّائِرَةِ بَيْنَ الْقَبِيلَتَيْنِ.“ بھئی گزشتہ سبق میں یہ بحث آئی تھی، صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ مؤلفۃ القلوب جو ہیں وہ ساقط ہو گئے ہیں، اس لیے کیونکہ اللہ نے اسلام کو قوت دے دی ہے اور اسلام کو ان سے بے نیاز کر دیا ہے اور اس پر صحابہ کا اجماع منعقد ہوا ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا کہ اجماع اگرچہ قطعی دلیل ہے لیکن اس کے ذریعے قرآن یا حدیث کے کسی قطعی حکم کو ساقط نہیں کیا جا سکتا، تو یہ اس کے لیے ناسخ نہیں بن سکتا۔ اور پھر میں نے اس کا جواب بھی آپ کو بتلایا کہ بھئی یہ جو مؤلفۃ القلوب کو دینے کا حکم تھا، یہ معلول تھا علت کے ساتھ، کہ ان کو دینے کی علت کیا تھی؟ اسلام کا کمزور ہونا۔ تو یہ حکم علت کے ساتھ معلول تھا اور چونکہ یہ علت ختم ہو گئی اس لیے یہ مؤلفۃ القلوب ساقط ہو گئے۔ مؤلفۃ القلوب کیا ہوئے؟ ساقط ہو گئے۔ تو علت ختم ہو گئی اور علت کیا تھی؟ اسلام کا کمزور ہونا۔ اور جب یہ علت دوبارہ پائی جائے گی تو یہ حکم بھی دوبارہ اسی طرح آئے گا اور مؤلفۃ القلوب کو دینا جائز ہو گا بھئی، صورت سمجھ میں آئی؟ ”وَفِي الرِّقَابِ“ بھئی آیت کے اندر ”وَفِي الرِّقَابِ“ آیا تھا۔ اس سے کیا مراد ہے؟ رقاب جمع ہے رقبۃ کی بھئی، اور گردنوں کے اندر، یعنی گردنوں کے چھڑانے میں، غلاموں کو آزاد کروانے میں۔ اس کا معنی بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَفِي الرِّقَابِ“ اور ”وَفِي الرِّقَابِ“ جو ہے وہ یہ ہے کہ ”أَنْ يُعَانَ الْمُكَاتَبُونَ“ کہ مدد کی جائے گی مکاتبوں کی ”مِنْهَا“ اس زکوٰۃ میں سے ”فِي فَكِّ رِقَابِهِمْ“ ان کی گردنوں کے چھڑانے میں۔ فک کا معنی ہے چھڑانا۔ ان کی گردنوں کے چھڑانے میں ان کی مدد کی جائے گی بھئی۔ ”هُوَ الْمَنْقُولُ“ یہی منقول ہے حضور ﷺ اور صحابہ سے بھئی۔ کہ ”وَفِي الرِّقَابِ“ سے کیا مراد ہے؟ کہ مکاتبوں کی مدد کی جائے گی۔ میں نے آپ کو بتلا دیا کہ مکاتب وہ غلام ہے جسے اس کے آقا نے کہہ دیا مثلاً دو سال کے اندر اتنے پیسے لے آؤ تو تم آزاد ہو۔ تو یہ مکاتب ہے، تو اب یہ مالِ زکوٰۃ میں سے اس کی بھی مدد کی جائے گی تاکہ یہ جلد سے جلد وہ مال کی ادائیگی کر کے اپنے آپ کو آزاد کروا سکے۔ جبکہ اسی ”وَفِي الرِّقَابِ“ کی دوسری تفسیر بھی بعض فقہاء نے کی اور وہ اس کی طرف گئے ہیں، وہ فرماتے ہیں ”وَفِي الرِّقَابِ“ سے مراد یا گردنوں کے چھڑانے سے مراد یہ ہے کہ اس مالِ زکوٰۃ کے ذریعے غلاموں کو خرید کر آزاد کیا جائے گا۔ کیا کیا جائے گا؟ غلاموں کو باقاعدہ خرید کر آزاد کیا جائے گا۔ جبکہ ہمارے نزدیک غلاموں کو خرید کر آزاد کرنا صحیح نہیں، اس لیے کیونکہ یہ زکوٰۃ کا مال ہے اور زکوٰۃ کے اندر دوسرے کو مالک بنانا ضروری ہے، تو جب غلام کو خرید کر آزاد کیا جائے گا اس کے اندر مالک بنانا نہیں پایا گیا، حالانکہ زکوٰۃ میں کیا ضروری ہے؟ کہ کسی کو اس مال کا مالک باقاعدہ بنایا جائے بھئی۔ جی آگے اس کا بھی ذکر آ جائے گا بھئی۔ تو بہرحال ہمارے نزدیک غلاموں کو خرید کر آزاد نہیں کیا جائے گا بلکہ مکاتب جو ہیں ان کو، ان کی مدد کی جائے گی تاکہ وہ اپنے آپ کو آزاد کروائیں اور بدلِ کتابت ادا کریں جلد سے جلد بھئی۔ یہ معنی ہے کہ ”أَنْ يُعَانَ الْمُكَاتَبُونَ مِنْهَا“ کہ مدد کی جائے گی مکاتبوں کی اس مالِ زکوٰۃ میں سے ”فِي فَكِّ رِقَابِهِمْ“ ان کی گردنوں کے چھڑانے میں، ان کی گردنوں کے آزاد کروانے میں۔ ”هُوَ الْمَنْقُولُ“ اور یہی منقول ہے حضور ﷺ اور صحابہ سے۔ ”وَالْغَارِمُ مَنْ لَزِمَهُ دَيْنٌ“ بھئی آیت کے اندر غارمین کا ذکر آیا تھا بھئی، غارمین کا۔ اور وہ کہتے ہیں ”وَالْغَارِمُ مَنْ لَزِمَهُ دَيْنٌ“ غارم وہ ہے جس پر دین لازم ہو گیا ہو، یعنی جو مقروض ہو گیا ہے، مقروض ہو گیا ہے۔ تو جو مقروض ہے جس بیچارے پر قرضے زیادہ ہیں ان کی بھی اس مالِ زکوٰۃ کے ذریعے مدد کی جائے گی، ان کو دیا جائے گا تاکہ اس کے ذریعے وہ اپنے قرضے ادا کریں۔ تو کہتے ہیں ”وَالْغَارِمُ مَنْ لَزِمَهُ دَيْنٌ“ اور غارم جو ہے وہ شخص ہے جس پر دین لازم ہو گیا ہو ”وَلَا يَمْلِكُ نِصَابًا فَاضِلًا عَنْ دَيْنِهِ“ اور وہ اپنے دین سے زائد نصاب کا مالک نہ ہو۔ اپنے دین سے زائد نصاب، یعنی بے شک اس کے پاس مال ہو، مال ہو لیکن وہ مال کس کے ساتھ مشغول ہے؟ دین کے ساتھ مشغول ہے۔ مثلاً فرض کریں ایک شخص ہے اس کے پاس دس لاکھ روپے موجود ہیں لیکن اس پر قرضہ بھی تقریباً دس لاکھ ہی ہے، تو اب بے شک اس کے پاس مال موجود ہے یہ، لیکن یہ مال کس کے ساتھ مشغول ہے؟ دین کے ساتھ مشغول ہے۔ اگر اس کے لیے وہ دین ادا کرتا ہے تو باقی اس کے پاس نصاب کے بقدر مال بچتا ہی نہیں ہے، تو یہ شخص بھی محتاج ہے لہٰذا اس کو بھی کیا کیا جائے گا؟ مالِ زکوٰۃ میں سے دیا جائے گا۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ قید ضروری ہے کہ دین سے زائد مال اتنا نہ ہو جو نصاب کو پہنچتا ہو، ورنہ قرضہ تو مالداروں پر بھی ہو جاتا ہے، وہ بھی کسی سے قرضہ لے لیتے ہیں لیکن ان کے پاس تو مال ہوتا ہے، قرضہ آرام سے پھر ادا بھی کر دیتے ہیں، تو وہ مراد نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَلَا يَمْلِكُ نِصَابًا فَاضِلًا عَنْ دَيْنِهِ“ اور وہ مالک نہ ہو نصاب کا جو کہ زائد ہو اس کے دین سے۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: مَنْ تَحَمَّلَ غَرَامَةً فِي إِصْلَاحِ ذَاتِ الْبَيْنِ وَإِطْفَاءِ النَّائِرَةِ بَيْنَ الْقَبِيلَتَيْنِ“ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: غارم وہ شخص ہے ”مَنْ تَحَمَّلَ غَرَامَةً“ جس نے غرامت کو برداشت کر لیا، جس نے غرامت کو یعنی جرمانے کو اٹھا لیا ”فِي إِصْلَاحِ ذَاتِ الْبَيْنِ“ ذات البین کہتے ہیں آپس کا تعلق بھئی، رشتہ اور محبت جو ہے۔ تو ذات البین یعنی آپس کے تعلق کی اصلاح کے لیے۔ ”وَإِطْفَاءِ النَّائِرَةِ“ اطفا یطفی کے معنی ہوتے ہیں بجھانا، بجھا دینا۔ النائرۃ، نائرہ یہ نار سے ہے، نار سے۔ تو نائرہ غصے اور عداوت کی آگ بھئی، غصے اور بغض و عداوت کی جو آگ ہے۔ ”بَيْنَ الْقَبِيلَتَيْنِ“ دو قبیلوں کے درمیان۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں غارم سے مراد وہ شخص ہے کہ مثلاً دو آدمیوں کے درمیان تعلق خراب تھا، آپس میں انہوں نے فیصلہ کر کے کسی پر جرمانہ وغیرہ ڈالا کہ یہ میرے اتنے مال ادا کر دے، اتنا مال، تو اس جرمانے کو اس تیسرے آدمی نے اٹھا لیا اور برداشت کر لیا کہ چلو یہ جرمانہ میں ادا کر دوں گا، تم دونوں کیا کر لو آپس میں؟ صلح کر لو۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ شخص جو ہے یہ ہے غارم، کہ جس نے غرامت کو اٹھا لیا، غرامت کو اٹھا لیا۔ یا اسی طرح دو قبیلوں کے درمیان بغض و عداوت کی آگ جل رہی تھی، یہ شخص اس آگ کو بجھا دیتا ہے، یعنی ان میں آپس میں صلح نہیں ہو رہی، ایک قبیلہ کہتا ہے یہ ہمیں اتنا مال ادا کرے اس نے ان کی وجہ سے ہمارا یہ نقصان ہوا ہے یا کچھ ہوا ہے تو تب ہی ہم ان کے ساتھ صلح کریں گے، اور وہ دوسرا ادا کرنے پر راضی نہیں ہے، تو یہ تیسرا شخص کیا کر لیتا ہے؟ وہ کہتا ہے بھئی یہ مال میں اپنی جیب سے دے دوں گا لیکن آپس میں کیا کر لو؟ صلح کر لو۔ تو دیکھو اس نے جرمانے کو اٹھا لیا۔ کس لیے اٹھایا؟ دو قبیلوں کے درمیان بغض و عداوت کی آگ کو بجھانے کے لیے۔ تو یہ ہے غارم، لہٰذا یہ اگرچہ مالدار ہی کیوں نہ ہو لیکن اس نے کیا کیا ہے؟ جرمانے کو اٹھایا ہے تو یہ غارم ہوا اور غارم کو آیت کے اندر مالِ زکوٰۃ دینے کا حکم ہے بھئی۔ یہ معنی ہے ”قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: مَنْ تَحَمَّلَ غَرَامَةً فِي إِصْلَاحِ ذَاتِ الْبَيْنِ“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس نے جرمانے کو اٹھا لیا یعنی تاوان کو اٹھا لیا آپس کے تعلق کی اصلاح کے لیے ”وَإِطْفَاءِ النَّائِرَةِ“ اور بغض و عداوت کی آگ کو بجھانے کے لیے ”بَيْنَ الْقَبِيلَتَيْنِ“ دو قبیلوں کے درمیان، وہ ہے غارم بھئی۔ ”وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ“ اور آیت کے اندر چھٹی قسم کیا آئی تھی؟ ”وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ“، اس سے کون مراد ہیں؟ کہتے ہیں: ”مُنْقَطِعُ الْغُزَاةِ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ وہ منقطع الغزاۃ ہیں بھئی۔ غزاۃ جمع ہے غازی کی، غازی کی، جو مجاہد ہے۔ تو فی سبیل اللہ سے مراد جو ہیں منقطع الغزاۃ ہیں۔ منقطع یعنی کٹے ہوئے ہیں، جدا ہوئے ہیں۔ منقطع الغزاۃ وہ غازی جو یعنی مال سے کٹے ہوئے ہیں، مال سے کٹے ہوئے ہیں یعنی محتاج ہیں، کیا ہیں؟ محتاج ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ فی سبیل اللہ سے مراد جو ہیں منقطع الغزاۃ ہیں، یعنی وہ غازی ہیں جو محتاج ہیں جن کے پاس مال نہیں ہے۔ ”عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک۔ ”لِأَنَّهُ الْمُتَفَاهَمُ عِنْدَ الْإِطْلَاقِ“ اس لیے کیونکہ فی سبیل اللہ سے یہی مفہوم ہوتے ہیں اطلاق کے وقت۔ جب فی سبیل اللہ کا لفظ مطلقاً بولا جائے تو عرف میں عام لوگ اس سے کیا سمجھتے ہیں؟ مجاہدین ہی سمجھتے ہیں کہ وہ کیا ہیں، اللہ کے راستے میں لڑ رہے ہیں، جہاد کر رہے ہیں۔ ”وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ مُنْقَطِعُ الْحَاجِّ“ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک فی سبیل اللہ سے مراد منقطع الحاج ہیں، وہ حاجی جو مال سے کٹے ہوئے ہیں یعنی وہ حاجی جن بیچاروں کے پاس مال نہیں ہے۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک فی سبیل اللہ سے کیا مراد ہیں؟ غازی مراد ہیں، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک حاجی مراد ہیں۔ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی کیا دلیل گزری؟ کیونکہ وہ فرماتے ہیں ”وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ“ کا لفظ مطلقاً بولا جائے تو اس سے لوگ اس سے کیا سمجھتے ہیں؟ مجاہدین مراد لیتے ہیں، مجاہدین کا معنی اس سے سمجھا جاتا ہے، حاجی کا معنی اس سے سمجھا نہیں جاتا۔ لیکن امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں منقطع الحاج مراد ہیں۔ ”لِمَا رُوِيَ: أَنَّ رَجُلًا جَعَلَ بَعِيرًا لَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ“ بوجہ اس حدیث کے جس کو روایت کیا گیا ہے کہ ایک آدمی جو تھا اس نے کر دیا ”بَعِيرًا لَهُ“ ایسا اونٹ جو اس کا تھا یعنی اس کا اپنا تھا، کہ ایک آدمی نے اپنے اونٹ کو کر دیا ”فِي سَبِيلِ اللَّهِ“ کس میں؟ ایک آدمی نے جو ہے وہ اپنا اونٹ فی سبیل اللہ وقف کر دیا تھا، ”فَأَمَرَهُ“ تو پھر حضور علیہ السلام سے پوچھا کہ اب کیا کریں اس اونٹ کا؟ ”فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْمِلَ عَلَيْهِ الْحَاجَّ“ تو حضور علیہ السلام نے اس کو حکم دیا کہ وہ اس پر حاجیوں کو سوار کرے۔ کن کو سوار کرے؟ بھئی دیکھیے اس آدمی نے کیا کہا تھا کہ میں نے اپنے اونٹ کو کس کے لیے وقف کر دیا؟ فی سبیل اللہ، اور حضور علیہ السلام کیا حکم دے رہے ہیں؟ اس کو حاجیوں کو اس پر سوار کرو۔ معلوم ہوا فی سبیل اللہ سے کون مراد ہیں؟ حاجی مراد ہیں بھئی۔ یہ امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل ہے بھئی۔ ”وَلَا يُصْرَفُ إِلَى أَغْنِيَاءِ الْغُزَاةِ عِنْدَنَا؛ لِأَنَّ الْمَصْرِفَ هُوَ الْفُقَرَاءُ“ اور یہ صدقات جو ہیں، زکوٰۃ جو ہے اس کو خرچ نہیں کیا جائے گا، اس کو صرف نہیں کیا جائے گا ”إِلَى أَغْنِيَاءِ الْغُزَاةِ“ مالدار غازیوں پر، جو غازیوں میں سے مالدار ہیں ان کی طرف نہیں پھیرا جائے گا، ان پر نہیں خرچ کیا جائے گا ”عِنْدَنَا“ ہمارے نزدیک، ”لِأَنَّ الْمَصْرِفَ هُوَ الْفُقَرَاءُ“ اس لیے کیونکہ اس کا مصرف کون ہیں؟ فقراء ہیں، تو لہٰذا غازیوں میں سے بھی جو فقراء ہیں وہ مراد ہیں آیت کے اندر۔ ”وَابْنُ السَّبِيلِ“ تو آیت کے اندر آخری قسم جو ہے ابن السبیل ذکر ہے، اور ابن السبیل عربی زبان میں کسے کہتے ہیں؟ مسافر کو۔ مسافر کو ابن السبیل اس لیے کہتے ہیں کیونکہ سبیل کا معنی ہے راستہ، ابن السبیل کا کیا معنی ہوا؟ راستے کا بیٹا، یعنی راستے کے ساتھ لازم رہنے والا، چونکہ مسافر بھی سفر کے اندر ہے اور راستے کے ساتھ لازم رہنے والا ہے، راستے پر چل رہا ہے تو اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ ابن السبیل کہتے ہیں۔ تو یہ آٹھویں قسم بیان ہوئی آیت میں، تو یہ مسافر ہیں اور اس کی بھی تفسیر کر رہے ہیں کہ کون سا مسافر مراد ہے؟ کہتے ہیں: ”مَنْ كَانَ لَهُ مَالٌ فِي وَطَنِهِ“ وہ مسافر کہ اس کے وطن کے اندر تو اس کا مال ہے ”وَهُوَ فِي مَكَانٍ آخَرَ لَا شَيْءَ لَهُ فِيهِ“ اور وہ خود دوسری جگہ پر ہے، اس کے پاس کوئی چیز نہیں اس جگہ میں۔ مسافر سے کون سا مسافر مراد ہے؟ یعنی جو محتاج ہے، جو مسافر کیا ہے؟ محتاج ہے۔ چاہے وہ مسافر ایسا ہے کہ اس کے پاس گھر میں تو بڑا مال موجود ہے لیکن اس وقت سفر میں نکلا ہوا ہے اور یہاں پر اس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے، تو یہ بھی زکوٰۃ کا مصرف ہے۔ ”قَالَ: فَهَذِهِ جِهَاتُ الزَّكَاةِ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں یہ ہیں زکوٰۃ کی جہتیں، یہ آٹھ قسمیں جو آیت میں بیان ہو گئیں اور جن کی ہم نے تفسیر کر دی، یہ کیا ہے؟ زکوٰۃ کی جہتیں ہیں یعنی جن میں زکوٰۃ کو خرچ کیا جائے گا۔ ”فَلِلْمَالِكِ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ“ تو مالک کے لیے جائز ہے کہ وہ دے ان میں سے ہر ایک کو، مسئلہ یاد رکھیے بھئی، یہ زکوٰۃ کے مصارف جو بیان ہوئے آیت کے اندر، تو زکوٰۃ دینے والے کو اختیار ہے ہمارے نزدیک کہ وہ کیا کر سکتا ہے؟ چاہے تو سب کو تھوڑی تھوڑی زکوٰۃ دے دے، اور چاہے تو کسی ایک ہی قسم کو کیا کر دے؟ ساری زکوٰۃ دے دے بھئی۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نہیں، سب قسموں کو دینا پڑے گا، سب قسموں کو دینا پڑے گا کیونکہ یہ سارے زکوٰۃ کے مستحق ہیں، یہ کیا ہیں؟ وہ فرماتے ہیں یہ جو لام آیا نا آیت کے اندر لام، ”إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ“ یہ جو لام آیا، یہ لام استحقاق کا ہے، کون سا ہے؟ تو یہ مستحقینِ صدقات بیان ہو رہے ہیں، اور زکوٰۃ کے مستحق یہ سارے ہیں، جب سارے ہیں تو کسی ایک کو نہیں دیں گے بلکہ ساروں کو دیں گے کیونکہ سارے زکوٰۃ کے مستحق ہیں، اور نیز آیت کے اندر جمع کے صیغے استعمال ہوئے ہیں: فقراء، مساکین وغیرہ۔ تو اور جمع کا اطلاق کتنے افراد پر ہوتا ہے کم از کم؟ تین افراد پر، لہٰذا ہر قسم میں سے کم از کم تین افراد کو زکوٰۃ دینا پڑے گی۔ لہٰذا مؤلفۃ القلوب تو ہو گئے ساقط، باقی کتنے رہ گئے؟ سات، اور سات میں سے ہر ایک کے تین افراد، تو گویا کم از کم اکیس افراد میں یہ زکوٰۃ تقسیم کرنا پڑے گی بھئی۔ جبکہ ہمارے نزدیک کسی ایک کو بھی دے سکتے ہیں، کیونکہ ہمارے نزدیک یہ لام جو ہے یہ استحقاق کے لیے نہیں ہے، یہ لام استحقاق کے لیے نہیں، تو یہ سارے زکوٰۃ کے مستحق نہ ہوئے بلکہ یہ لام اختصاص کے لیے ہے، کس کے لیے ہے؟ اختصاص، یعنی یہ صدقات انہی کے ساتھ خاص ہیں، انہی کو دیے جائیں گے، تو یہ صدقات کے مصارف بیان ہو گئے۔ یہ سارے صدقات کے، زکوٰۃ کے مصارف ہیں، تو اب دینے والے کی مرضی ہے چاہے ساروں کو دے، چاہے ان میں سے کسی ایک کو دے، جب ایک کو بھی دے گا وہ بھی کیا ہے؟ زکوٰۃ کا مصرف ہے تو زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے ”فَلِلْمَالِكِ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ، وَلَهُ أَنْ يَقْتَصِرَ عَلَى صِنْفٍ وَاحِدٍ“ پس مالک کے لیے جائز ہے کہ وہ دے ان میں سے ہر ایک کو یعنی ساتوں قسموں کو، اور اس کے لیے یہ بھی جائز ہے کہ وہ اکتفاء کر لے کسی ایک قسم پر۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا يَجُوزُ إِلَّا أَنْ يَصْرِفَ إِلَى ثَلَاثَةٍ مِنْ كُلِّ صِنْفٍ؛ لِأَنَّ الْإِضَافَةَ بِحَرْفِ اللَّامِ لِلِاسْتِحْقَاقِ“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جائز نہیں ہے مگر یہ کہ وہ اس کو خرچ کرے تین افراد کی طرف ہر قسم میں سے، اس لیے کیونکہ یہاں جو اضافت کی گئی ہے وہ کس کے ساتھ ہے؟ حرفِ لام، ”إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ“ یہ لام کے ساتھ ہے، اور وہ لام للاستحقاق، کس کے لیے ہے؟ استحقاق کے لیے ہے۔ یہ معنی ہے ”لِأَنَّ الْإِضَافَةَ بِحَرْفِ اللَّامِ لِلِاسْتِحْقَاقِ“ اس لیے کیونکہ حرفِ لام کے ساتھ جو اضافت کی گئی ہے وہ استحقاق کے لیے ہے۔ ”وَلَنَا: أَنَّ الْإِضَافَةَ لِبَيَانِ أَنَّهُمْ مَصَارِفُ، لَا لِإِثْبَاتِ الِاسْتِحْقَاقِ“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ جو لام کے ساتھ جو ہے اضافت کی گئی ہے یہ بیان کرنے کے لیے ہے کہ یہ زکوٰۃ کے مصارف ہیں، استحقاق کو ثابت کرنے کے لیے نہیں، یعنی یہ لامِ استحقاق نہیں ہے بلکہ لامِ اختصاص ہے ہمارے نزدیک۔ ”وَهَذَا لِمَا عُرِفَ أَنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ اللَّهِ تَعَالَى“ اور یہ اس وجہ سے جو جانی گئی ہے کہ زکوٰۃ جو ہے وہ اللہ کا حق ہے، یہ اس وجہ سے کہ یہ بات معلوم ہے کہ زکوٰۃ جو ہے اللہ کا حق ہے، ”وَبِعِلَّةِ الْفَقْرِ صَارُوا مَصَارِفَ“ اور فقر کی علت کی وجہ سے، محتاج ہونے کی علت کی وجہ سے یہ زکوٰۃ کے مصارف ہو گئے، ”فَلَا يُبَالَى بِاخْتِلَافِ جِهَاتِهِ“ لہٰذا پروا نہیں کی جائے گی ان کی جہتوں کے مختلف ہونے کی۔ بھئی یہ سارے کیا بیان ہوئے ہیں آیت کے اندر؟ یہ سارے زکوٰۃ کے مصارف ہیں، اور زکوٰۃ یہ اللہ تعالیٰ کا حق ہے، اور یہ جو مصارف ہیں، یہ جو زکوٰۃ کے مصارف بنے کس وجہ سے زکوٰۃ کے مصارف بنے؟ فقر یعنی محتاج ہونے کی وجہ سے یہ زکوٰۃ کے مصارف بنے ہیں، اگرچہ جہت الگ الگ ہے۔ مسافر وہ بھی محتاج لیکن جہت الگ، اور اسی طرح غازی ہے تو ہے وہ بھی محتاج لیکن جہت کیا ہے؟ محتاج ہونے کی جہت الگ ہے، اور اسی طرح غارم ہے، مسکین وغیرہ سب بھئی۔ تو جہتیں بے شک الگ الگ ہیں لیکن بہرحال سارے کیا ہیں؟ محتاج ہیں، اور علتِ احتیاج کی وجہ سے یہ مصرف بنے ہیں، تو لہٰذا ان میں سے جس پر بھی خرچ کر دے گا، جس کو بھی زکوٰۃ دے دے گا، زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے ”فَلَا يُبَالَى بِاخْتِلَافِ جِهَاتِهِ“ لہٰذا پروا نہیں کی جائے گی ان کی جہتوں کے مختلف ہونے کی۔ ”وَالَّذِي ذَهَبْنَا إِلَيْهِ مَرْوِيٌّ عَنْ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ“ اور یہ جس کی طرف ہم گئے ہیں، کس بات کی طرف ہم گئے؟ کہ مالک سب کو بھی دے سکتا ہے اور کسی ایک کو بھی دے سکتا ہے، یہ صرف ہم نے اپنی رائے سے بات نہیں کی بلکہ یہی روایت ہے کس سے؟ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی اور یہی روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے بھی۔ یہ معنی ہے ”وَالَّذِي ذَهَبْنَا إِلَيْهِ“ اور وہ بات جس کی طرف ہم گئے وہ روایت کی گئی ہے حضرت عمر سے بھی اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھی۔ ”وَلَا يَجُوزُ أَنْ يَدْفَعَ الزَّكَاةَ إِلَى ذِمِّيٍّ“ اور جائز نہیں ہے کہ زکوٰۃ دینے والا زکوٰۃ دے ذمی کو۔ ذمی وہ غیر مسلم جو دار الاسلام میں رہتے ہیں، تو زکوٰۃ دینے والے کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ ذمی کو زکوٰۃ دے یعنی کافر کو زکوٰۃ دے، اس سے زکوٰۃ ادا نہیں ہو گی۔ اور یہ بھی یاد رکھیے یہ صرف زکوٰۃ کا حکم نہیں ہے اس طرح، بلکہ ہر صدقۂ واجبہ کا یہی حکم ہے۔ جو بھی صدقہ انسان پر واجب ہے وہ کسی کافر کو نہیں دیا جا سکتا، وہ کسی مسلمان ہی کو دینا پڑے گا۔ صدقۂ واجبہ مثلاً ایک عام زکوٰۃ ہے، عشر ہے، اسی طرح منت مانی تھی وہ پوری ہو گئی اس کی وجہ سے اس پر مال واجب ہو گیا، تو جو بھی صدقۂ واجبہ ہے، اسی طرح یا کفارات کی وجہ سے جو مال واجب ہوا ہے، تو جو واجب مال ہو گا وہ صرف مسلمان ہی کو دینے سے ادا ہو گا۔ اور باقی نفلی صدقات یعنی خیرات وغیرہ غیر مسلموں کو دینا چاہتا ہے؟ ہاں، وہ دے سکتا ہے، وہ مسلمانوں کو بھی دے سکتا ہے خیرات وغیرہ اور غیر مسلموں کو بھی دیا جا سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَلَا يَجُوزُ أَنْ يَدْفَعَ الزَّكَاةَ إِلَى ذِمِّيٍّ“ اور جائز نہیں ہے کہ زکوٰۃ حوالے کرے ذمی کے، ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے جو آپ نے فرمایا ”لِمُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ“ حضرت معاذ سے، حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”خُذْهَا مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ، وَرُدَّهَا فِي فُقَرَائِهِمْ“ حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضور ﷺ نے یمن بھیجا قاضی بنا کر، اور جہاں ان کو اور احکامات آپ نے دیے وہاں ایک حکم یہ بھی دیا کہ زکوٰۃ انہی لوگوں کے مالداروں سے لے کر انہی کے فقراء پر اس کو لوٹا دینا، یعنی انہی کے فقراء میں اس کو تقسیم کر دینا۔ تو حدیث میں کیا آیا؟ انہی کے فقراء کو دے دینا، اور لی کس سے جاتی ہے زکوٰۃ؟ مسلمانوں سے، اور انہی کے فقراء پر لوٹا دینا، معلوم ہوا کس کو دینا ضروری ہے؟ مسلمانوں ہی کے فقراء کو دینا ضروری ہے۔ یہ معنی ہے کہ بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے جو آپ نے حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ ”خُذْهَا مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ“ کہ زکوٰۃ لینا ان کے مالداروں سے ”وَرُدَّهَا فِي فُقَرَائِهِمْ“ اور اس کو لوٹا دینا ان کے محتاجوں میں۔ ”وَيَدْفَعُ إِلَيْهِ مَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الصَّدَقَةِ“ زکوٰۃ دینے والا ذمی کو تو زکوٰۃ نہیں دے گا لیکن اس کے علاوہ اور جو صدقات ہیں وہ ذمی کو دے سکتا ہے۔ یہ معنی ہے ”وَيَدْفَعُ إِلَيْهِ“ اور ذمی کو دے سکتا ہے ”مَا سِوَى ذَلِكَ“ اس کے علاوہ جو ہیں ”مِنَ الصَّدَقَةِ“ صدقے میں سے یعنی نفلی صدقے دے سکتا ہے۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا يَدْفَعُ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نہیں دے سکتا، اور نفلی صدقے بھی غیر مسلم کو نہیں دے سکتا۔ ”وَهُوَ رِوَايَةٌ عَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ اعْتِبَارًا بِالزَّكَاةِ“ اور یہی ایک روایت ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے بھی، زکوٰۃ پر قیاس کرتے ہوئے، جیسے زکوٰۃ غیر مسلم کو دینا جائز نہیں اسی طرح وہ فرماتے ہیں یہ نفلی صدقہ بھی غیر مسلم کو دینا جائز نہیں۔ ”وَلَنَا قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: تَصَدَّقُوا عَلَى أَهْلِ الْأَدْيَانِ كُلِّهَا“ اور ہماری دلیل حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے کہ تم لوگ صدقہ کرو تمام دینوں والوں پر، تمام دین والے جو ہیں ان پر کیا کرو؟ صدقہ کرو۔ ”وَلَوْلَا حَدِيثُ مُعَاذٍ لَقُلْنَا بِالْجَوَازِ فِي الزَّكَاةِ“ اور اگر حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ والی حدیث نہ ہوتی تو ہم قائل ہو جاتے زکوٰۃ کے اندر بھی جواز کے۔ زکوٰۃ میں بھی ہم کس کے قائل ہوتے؟ جواز کے قائل ہوتے۔ تو کیونکہ اس حدیث میں کیا آیا؟ ”تَصَدَّقُوا عَلَى أَهْلِ الْأَدْيَانِ كُلِّهَا“ تمام دینوں والے جو ہیں ان پر کیا کرو تم لوگ؟ صدقہ کرو، اور صدقہ تو شامل ہے نفلی صدقے کو بھی اور صدقۂ واجبہ کو بھی شامل ہے۔ تو یہ حدیث تقاضا کر رہی ہے کہ سب کو دینا جائز ہو، سب کو دینا جائز ہو، لیکن حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث سے پتہ چل رہا تھا کہ زکوٰۃ کس کو دی جائے گی؟ مسلمانوں ہی کے فقراء کو، اس وجہ سے ہم نے کہا کہ زکوٰۃ یعنی صدقاتِ واجبہ غیر مسلموں کو نہیں دیے جا سکتے، اور اگر وہ حدیث نہ ہوتی تو اس حدیث کے اطلاق کی وجہ سے ہم کس چیز کے قائل ہو جاتے؟ زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ وہ غیر مسلموں کو دینا بھی جائز ہے کیونکہ یہ حدیث عام ہے۔ ”وَلَا يُبْنَى بِهَا مَسْجِدٌ، وَلَا يُكَفَّنُ بِهَا مَيِّتٌ“ اور اس کے ذریعے مسجد تعمیر نہیں کی جا سکتی اور نہ اس کے ذریعے کسی میت کو کفن دیا جا سکتا ہے۔ یاد رکھیے مالِ زکوٰۃ سے مسجد وغیرہ تعمیر نہیں کر سکتے، اس کے ذریعے کسی میت کو کفن دفن وغیرہ اس پر اس کو خرچ نہیں کر سکتے۔ کیوں نہیں کر سکتے؟ کہتے ہیں: ”لِانْعِدَامِ التَّمْلِيكِ“ کیونکہ تملیک معدوم ہے، تملیک کا معنی ہے مالک بنانا۔ زکوٰۃ کے اندر ضروری ہے کہ کسی فقیر اور محتاج کو اس کا مالک بنایا جائے، اور اب آپ اس سے مسجد تعمیر کرتے ہیں تو اس میں کسی کو مالک بنا رہے ہیں؟ نہیں، آپ خرچ تو کر رہے ہیں لیکن کسی کو مالک نہیں بنا رہے ہیں۔ میت کو کفن دیتے ہیں اس میں بھی کسی کو مالک بنانا نہیں ہے، جبکہ مالک بنانا رکن ہے زکوٰۃ کے اندر، اس کے بغیر وہ ادا ہو گی ہی نہیں بھئی۔ یہ معنی ہے ”لِانْعِدَامِ التَّمْلِيكِ“ تملیک کے معدوم ہونے کی وجہ سے ”وَهُوَ الرُّكْنُ“ اور تملیک وہ تو رکن ہے زکوٰۃ کا۔ ”وَلَا يُقْضَى بِهَا دَيْنُ مَيِّتٍ“ اور اس کے ذریعے کسی مرنے والے کا دین بھی ادا نہیں کیا جا سکتا۔ کسی شخص کے مرنے والے کا دین بھی ادا نہیں کیا جا سکتا، ”لِأَنَّ قَضَاءَ دَيْنِ الْغَيْرِ لَا يَقْتَضِي التَّمْلِيكَ مِنْهُ، لَا سِيَّمَا فِي الْمَيِّتِ“ اس لیے کیونکہ کسی دوسرے کا، کسی دوسرے کا دین ادا کرنا ”لَا يَقْتَضِي“ یہ تقاضا نہیں کرتا ”التَّمْلِيكَ مِنْهُ“ اس کو مالک بنانے کا۔ اس کو مالک بنانے کا یہ تقاضا نہیں کرتا۔ بھئی دیکھیے زید پر مثلاً قرض ہے، زید پر قرض ہے۔ آپ زید کی طرف سے یہ قرض خود ادا کر دیتے ہیں، خود ادا کرتے ہیں، تو کسی دوسرے کی طرف سے جب قرض ادا کیا جائے یہ تقاضا نہیں کرتا اس بات کا کہ اس کو مالک پہلے بنایا جائے پھر ہی قرضہ ادا ہو گا ورنہ قرضہ ادا نہیں ہو گا۔ دلیل سمجھ میں آ رہی ہے یا نہیں؟ آپ زید کی طرف سے مال دے دیتے ہیں تو قرض ادا ہو گیا یا ادا نہیں ہو گیا؟ قرض ادا ہو گیا۔ لیکن کیا اس میں یہ شرط ہے کہ پہلے زید مالک بنے پھر اس کے بعد وہ قرض خواہ کو مال ملے تو قرض ادا ہو گا، ویسے ادا نہیں؟ نہیں، یہ شرط یہاں پر نہیں ہے۔ تو کسی کے، کسی دوسرے کا قرضہ ادا کرنا یہ اس بات کا تقاضا نہیں کرتا کہ دوسرے شخص کو پہلے کیا بنایا جائے؟ یعنی مقروض کو مالک بنایا جائے، یہ تقاضا نہیں کرتا۔ جب یہ تقاضا نہیں کرتا تو یہاں تملیک نہیں پائی گئی، دوسرے کو مالک نہیں بنایا گیا اور حالانکہ زکوٰۃ کے اندر تو کیا ضروری تھا؟ دوسرے کو مالک بنانا ضروری تھا بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے ”لِأَنَّ قَضَاءَ دَيْنِ الْغَيْرِ لَا يَقْتَضِي التَّمْلِيكَ مِنْهُ“ اس لیے کیونکہ کسی دوسرے کے دین کو ادا کرنا یہ تقاضا نہیں کرتا کہ اس کو مالک بھی بنایا جائے ”لَا سِيَّمَا فِي الْمَيِّتِ“ خاص طور پر میت کے اندر، مرنے والے میں، وہ تو مالک بن ہی نہیں سکتا کسی چیز کا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اس صورت میں وہ مرنے والے کا دین بھی اس کے ذریعے ادا نہیں کیا جا سکتا۔ ”وَلَا تُشْتَرَى بِهَا رَقَبَةٌ تُعْتَقُ خِلَافًا لِمَالِكٍ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور اس کے ذریعے کسی رقبہ کو، کسی غلام یا باندی کو بھی نہیں خریدا جا سکتا ”تُعْتَقُ“ کہ وہ کیا ہو؟ کہ وہ اسے آزاد کر دیا جائے ”خِلَافًا لِمَالِكٍ رَحِمَهُ اللَّهُ“ برخلاف امام مالک رحمہ اللہ کے۔ بھئی یہ مسئلہ میں پہلے ذکر کر چکا ہوں کہ ”وَفِي الرِّقَابِ“ کے دو معنی بیان کیے گئے ہیں، ہمارے نزدیک ”وَفِي الرِّقَابِ“ سے کیا مراد ہے؟ کہ زکوٰۃ خرچ کی جائے گی گردنوں کے چھڑانے میں یعنی ان کو آزاد کرنے میں، اب اس سے کیا مراد ہے؟ ہمارے نزدیک مراد کیا ہے؟ کہ مکاتب کی مدد کی جائے گی کہ وہ اپنا بدلِ کتابت ادا کر دے، جبکہ بعض فقہاء نے اس کا کیا معنی کیا؟ کہ غلاموں کو خرید کر باقاعدہ اس کے ذریعے کیا کیا جائے گا؟ آزاد کیا جائے گا، اور اسی کی طرف امام مالک رحمہ اللہ گئے ہیں۔ ہم کہتے ہیں: نہیں۔ غلام کو آزاد کرنا، غلام کو آزاد کرنا یہ ملکیت کو اس پر سے ختم کرنا ہے، پہلے وہ مملوک تھا اب اس پر سے ملکیت کو کیا کر دیا گیا؟ ختم، اور زکوٰۃ کی ادائیگی میں دوسرے کو مالک بنائیں گے تو پھر زکوٰۃ ادا ہو گی، تو یہاں تملیک نہیں پائی جا رہی، جب کسی غلام کو کیا کیا گیا؟ اسقاطِ ملک تو ہے، وہ پہلے کیا تھا؟ مملوک، اب اس پر سے ملکیت کیا کر دی گئی؟ ختم کر کے اس کو آزاد کر دیا گیا، تو یہاں اسقاطِ ملک تو پایا جائے گا لیکن تملیک نہیں پائی جائے گی، حالانکہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے کیا ضروری ہے؟ تملیک ضروری ہے، دوسرے کو مالک بنایا جائے، دلیل سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں ”وَلَا تُشْتَرَى بِهَا رَقَبَةٌ تُعْتَقُ“ اور اس کے ذریعے کسی رقبہ کو نہیں خریدا جائے گا کہ اس کو آزاد کر دیا جائے ”خِلَافًا لِمَالِكٍ رَحِمَهُ اللَّهُ“ برخلاف امام مالک رحمہ اللہ کے ”حَيْثُ ذَهَبَ إِلَيْهِ فِي تَأْوِيلِ قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَفِي الرِّقَابِ}“ کیونکہ وہ گئے ہیں اس بات، اسی تاویل کی طرف اللہ تعالیٰ کے قول ”وَفِي الرِّقَابِ“ میں۔ ”وَلَنَا: أَنَّ الْإِعْتَاقَ إِسْقَاطُ الْمِلْكِ وَلَيْسَ بِتَمْلِيكٍ“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ اعتاق یعنی آزاد کرنا جو ہے وہ ملکیت کو ساقط کرنا ہے، ملکیت کو اس غلام پر سے ختم کرنا ہے ”وَلَيْسَ بِتَمْلِيكٍ“ اور یہ آزاد کرنا یہ تملیک نہیں ہے، اور زکوٰۃ میں تو کیا ضروری؟ تملیک ضروری ہے۔ ”وَلَا تُدْفَعُ إِلَى غَنِيٍّ“ اور زکوٰۃ جو ہے مالدار کو بھی نہیں دی جائے گی ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ“ اس وجہ سے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ زکوٰۃ حلال نہیں ہے مالدار کے لیے، تو معلوم ہوا مالدار کو زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی۔ ”وَهُوَ بِإِطْلَاقِهِ حُجَّةٌ عَلَى الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي غَنِيِّ الْغُزَاةِ“ اور یہ حدیث اپنے اطلاق کے ساتھ یہ دلیل ہے امام شافعی رحمہ اللہ کے خلاف مالدار غازیوں میں۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آیت کے اندر آیا ”وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ“، اور ”وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ“ سے مراد غازی ہیں، تو غازیوں کو بھی زکوٰۃ میں سے دیا جائے گا چاہے وہ مالدار ہی کیوں نہ ہوں، کیونکہ آیت کے اندر فقر وغیرہ کی قید نہیں، ”وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ“ مطلق ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ حدیث، یہ حدیث جو ابھی ذکر ہوئی کہ ”لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ“ یہ حدیث مطلق ہے کہ مالدار کو زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی۔ اس میں کوئی قید ہے کہ غازی ہو تو اس کو دی جا سکتی ہے؟ نہیں، تو یہ حدیث اپنے اطلاق کے اعتبار سے امام شافعی رحمہ اللہ کے خلاف بھی حجت ہے اور دلیل ہے۔ یہ معنی ہے ”وَهُوَ بِإِطْلَاقِهِ حُجَّةٌ عَلَى الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي غَنِيِّ الْغُزَاةِ“ اور یہ حدیث اپنے اطلاق کے ساتھ یہ دلیل ہے امام شافعی رحمہ اللہ کے خلاف مالدار غازیوں میں۔ ”وَكَذَا حَدِيثُ مُعَاذٍ عَلَى مَا رَوَيْنَاهُ“ اور اسی طرح حدیثِ معاذ بھی بوجہ اس کے جو ہم نے روایت کر دی بھئی۔ تو جیسے یہ حدیث امام شافعی رحمہ اللہ کے خلاف دلیل ہے مالدار غازیوں کے سلسلے میں، وہ فرماتے ہیں مالدار غازیوں کو دے سکتے ہیں لیکن یہ حدیث اپنے اطلاق کے ساتھ جیسے یہ ان کے خلاف دلیل تھی اسی طرح وہ حدیثِ معاذ بھی ان کے خلاف دلیل ہے کیونکہ اس میں حضور علیہ السلام نے کیا فرمایا تھا؟ ”رُدَّهَا فِي فُقَرَائِهِمْ“ کہ انہی کے فقراء پر زکوٰۃ کو لوٹا دینا، تو وہاں بھی فقراء ہی کا ذکر ہے۔ ”قَالَ: وَلَا يَدْفَعُ الْمُزَكِّي زَكَاةَ مَالِهِ إِلَى أَبِيهِ وَجَدِّهِ وَإِنْ عَلَا“ بھئی یہاں سے یہ مسئلہ آپ کو بتلا رہے ہیں کہ زکوٰۃ اپنے اصول و فروع کو نہیں دی جا سکتی۔ اصول وہ ہیں جو اوپر کی طرف ہیں جیسے باپ ہے، دادا دادی ہے، نانا نانی ہے، پردادا پردادی ہے، پرنانا پرنانی وغیرہ یا ان سے اوپر تک، یہ سارے کیا ہیں؟ اصول ہیں، اصول ہیں، جو بھی آدمی ہے اس کے لیے یہ اصول ہیں بھئی، تو ان کو بھی زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی۔ اسی طرح اس شخص کے جو فروع ہوتے ہیں یعنی اس کی جو اولاد ہے یا آگے اولاد کی اولاد ہے ان میں سے بھی کسی کو زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی۔ اولاد مثلاً بیٹا بیٹی، اولاد کی اولاد جیسے پوتا پوتی، نواسہ نواسی، یا اسی طرح چاہے یہ سلسلہ نیچے تک ہی کیوں نہ ہو، تو ان میں سے کسی کو زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی۔ تو آدمی اپنے اصول کو بھی اپنی زکوٰۃ نہیں دے سکتا اور اپنے فروع کو بھی زکوٰۃ نہیں دے سکتا۔ وجہ اس کی یہ کہ یہ اصول و فروع جو ہوتے ہیں ان کے منافع مشترک ہوتے ہیں، منافع کیا ہوتے ہیں؟ مشترک ہوتے ہیں، یہ آپس میں ایک دوسرے کی چیزیں استعمال کرتے ہیں تو لہٰذا ان میں سے اگر ایک کو دے گا تو منافع تو مشترک ہیں تو گویا خود اپنے، اس کا نفع خود ہی حاصل کر رہا ہے، کیونکہ یہ کیا کرتے ہیں؟ ایک دوسرے کی چیزیں استعمال کرتے ہیں، ان کے منافع مشترک ہوتے ہیں، تو اس کے اندر ضروری تھا کہ کسی غیر کو مالک بنایا جائے، خود نفع نہ اٹھائے اس سے۔ ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَلَا يَدْفَعُ الْمُزَكِّي زَكَاةَ مَالِهِ إِلَى أَبِيهِ وَجَدِّهِ“ کہ زکوٰۃ دینے والا اپنے مال کی زکوٰۃ اپنے والد کو نہ دے اور اپنے جد کو، جد عربی زبان میں دادا نانا سب پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ ”وَإِنْ عَلَا“ اگرچہ اوپر تک ہی کیوں نہ ہو یعنی پردادا پرنانا وغیرہ۔ ”وَلَا إِلَى وَلَدِهِ“ اور نہ اپنی اولاد کو دے ”وَوَلَدِ وَلَدِهِ“ اور نہ اپنے اولاد کی اولاد کو ”وَإِنْ سَفَلَ“ اگرچہ نیچے تک ہی ہو۔ ”لِأَنَّ مَنَافِعَ الْأَمْلَاكِ بَيْنَهُمْ مُتَّصِلَةٌ“ اس لیے کیونکہ املاک کے یعنی ملکیتوں کے منافع جو ہوتے ہیں، ملکیتیں ہیں ان میں سے جو بھی جس چیز کا مالک ہوتا ہے ان کے منافع ”بَيْنَهُمْ مُتَّصِلَةٌ“ وہ ان کے درمیان متصل ہوتے ہیں، ملے ہوئے ہوتے ہیں، ”فَلَا يَتَحَقَّقُ التَّمْلِيكُ عَلَى الْكَمَالِ“ لہٰذا یہاں پر مالک بنانا کامل طریقے پر نہ ہوا کیونکہ خود ہی اس چیز کا نفع خود ہی اس کو پہنچے گا، تو دوسرے کو تو کامل طور پر اس مال کا مالک نہ بنایا بھئی۔ ”وَلَا إِلَى امْرَأَتِهِ“ اور اسی طرح زکوٰۃ دینے والا زکوٰۃ اپنی بیوی کو بھی نہیں دے سکتا ”لِلِاشْتِرَاكِ فِي الْمَنَافِعِ عَادَةً“ بوجہ منافع کے اندر شریک ہونے کے عادتاً، کیونکہ میاں بیوی بھی کیا ہے، عادتاً منافع کے اندر شریک ہوتے ہیں، ایک دوسرے کی چیزیں استعمال کرتے ہیں تو منافع اسی دینے والے کو لوٹیں گے۔ ”وَلَا تَدْفَعُ الْمَرْأَةُ إِلَى زَوْجِهَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور بیوی بھی جو ہے وہ زکوٰۃ نہیں دے گی اپنے خاوند کو، امام صاحب کے نزدیک ”لِمَا ذَكَرْنَا“ اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دی کہ میاں بیوی کے منافع مشترک ہوتے ہیں۔ ”وَقَالَا: تَدْفَعُ إِلَيْهِ“ اور صاحبین فرماتے ہیں کہ بیوی خاوند کو دے سکتی ہے اگر خاوند فقیر ہے محتاج ہے، ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: لَكِ أَجْرَانِ: أَجْرُ الصَّدَقَةِ، وَأَجْرُ الصِّلَةِ، قَالَهُ لِامْرَأَةِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ“ صاحبین دلیل میں حضور علیہ السلام کا قول ذکر فرماتے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی سے فرمایا تھا: ”لَكِ أَجْرَانِ“ تیرے لیے دو اجر ہیں: ”أَجْرُ الصَّدَقَةِ“ ایک تو صدقے کا اجر ہے ”وَأَجْرُ الصِّلَةِ“ اور ایک صلہ رحمی کا اجر ہے، کہ رشتہ دار سے کیا کر رہی ہے؟ نیک سلوک کر رہی ہے۔ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زوجہ جو ہیں وہ حضور علیہ السلام کے پاس تشریف لائیں اور پوچھا کہ یا رسول اللہ، کیا میں صدقہ اپنے خاوند کو دے سکتی ہوں؟ وہ بیچارہ غریب ہے۔ تو حضور علیہ السلام فرمانے لگے کہ تمہیں دگنا اجر ملے گا، ایک تو صدقے کی ادائیگی کا اور ایک صلہ رحمی کا۔ صلہ رحمی ہے رشتہ داروں سے نیک سلوک کرنا، اچھا سلوک۔ تو صلہ رحمی بھی ہے اس کے اندر اور نیز تمہیں صدقے کا بھی ثواب۔ تو انہوں نے کس چیز کے بارے میں پوچھا؟ صدقے کے بارے میں، صدقے کے کہ صدقہ میں دے سکتی ہوں یا صدقہ نہیں دے سکتی، تو حضور نے فرمایا تمہیں دو اجر ملیں گے: ایک صدقے کا اور ایک صلہ رحمی کا۔ ”قَالَهُ لِامْرَأَةِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ“ یہ حضور علیہ السلام نے حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زوجہ سے فرمایا۔ ”وَقَدْ سَأَلَتْهُ عَنِ التَّصَدُّقِ عَلَيْهِ“ اور تحقیق انہوں نے پوچھا تھا حضور علیہ السلام سے ان پر صدقہ کرنے کے بارے میں۔ ”قُلْنَا: هُوَ مَحْمُولٌ عَلَى النَّافِلَةِ“ ہم جواب میں کہتے ہیں کہ یہ جو صدقہ ذکر ہوا حدیث کے اندر یہ محمول ہے نفلی صدقے پر، یعنی اس میں صدقے سے مراد زکوٰۃ نہیں ہے بلکہ کون سا صدقہ مراد ہے؟ نفلی صدقہ ہے، اور نفلی صدقہ تو ہمارے نزدیک بھی کر سکتی ہے، بات یہاں کس کی ہو رہی ہے؟ زکوٰۃ کی ہو رہی ہے بھئی، زکوٰۃ کی۔ ”قَالَ: وَلَا يَدْفَعُ إِلَى مُدَبَّرِهِ، وَمُكَاتَبِهِ، وَأُمِّ وَلَدِهِ“ اور صاحبِ قدوری فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ نہیں دے سکتا اپنے مدبر کو، زکوٰۃ دینے والا اپنے مدبر کو زکوٰۃ نہیں دے سکتا ”وَمُكَاتَبِهِ“ اور اپنے مکاتب کو بھی نہیں دے سکتا ”وَأُمِّ وَلَدِهِ“ اور اپنی ام ولد کو بھی زکوٰۃ نہیں دے سکتا۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ زکوٰۃ دینے والا اپنے ہی مدبر کو یا اپنے مکاتب کو یا اپنے ام ولد کو زکوٰۃ دینا چاہتا ہے؟ نہیں بھئی، ان کو وہ زکوٰۃ نہیں دے سکتا، اگر ان کو دے گا زکوٰۃ ادا نہیں ہو گی۔ مدبر وہ غلام جس کو آقا نے کہہ دیا ہو کہ میرے مرنے کے بعد تم آزاد ہو، تو یہ کیا ہے؟ مدبر ہے بھئی۔ اور مکاتب، یہ تو کئی دفعہ گزر چکا، مکاتب وہ غلام جسے آقا نے کہہ دیا کہ تم مثلاً دو سال میں دس لاکھ روپے لے آؤ تو تم آزاد ہو۔ اور ام ولد وہ باندی جس نے بچے کو جنم دیا اور پھر آقا نے کہہ دیا کہ یہ میرا بچہ ہے، میری اولاد ہے یعنی اس بچے کے نسب کا اقرار کر لیا، تو پھر یہ باندی اس کی ام ولد بن جائے گی بھئی۔ جب تک آقا اقرار نہ کرے اس وقت تک یہ ام ولد نہیں، تو اقرار کرنے کے بعد یہ ام ولد بن گئی اور یہ بھی آقا کے انتقال کے بعد آزاد ہو جائے گی۔ تو ان کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں ہے۔ بھئی ان کو کیوں نہیں زکوٰۃ دے سکتے؟ کہتے ہیں ”لِفُقْدَانِ التَّمْلِيكِ“ تملیک کے نہ پائے جانے کی وجہ سے۔ فقدان کا معنی نہ ہونا بھئی، تو ”لِفُقْدَانِ التَّمْلِيكِ“ تملیک کے نہ پائے جانے کی وجہ سے، کیونکہ زکوٰۃ کے اندر دوسرے کو مالک بنانا ضروری ہے اور غلام تو کسی چیز کا بھی مالک نہیں ہوتا، اس کے پاس جو کچھ ہوتا ہے وہ کس کا ہوتا ہے؟ آقا کا ہوتا ہے، تو ان کو اگر دیتا ہے تو یہ غلام ہیں یہ تو مالک نہیں بنیں گے، گویا یہ خود ہی اپنے آپ ہی کو دے رہا ہے کیونکہ یہ غلام اسی کے ہیں زکوٰۃ دینے والے کے، تو لہٰذا تملیک نہ پائی گئی اور ادائے زکوٰۃ کے لیے کیا ضروری تھا؟ تملیک ضروری تھی بھئی۔ تو کہتے ہیں ”لِفُقْدَانِ التَّمْلِیکِ إِذْ كَسْبُ الْمَمْلُوكِ لِسَيِّدِهِ“ تملیک کے نہ پائے جانے کی وجہ سے کیونکہ مملوک یعنی غلام کی جو کمائی ہوتی ہے وہ اپنے آقا کے لیے ہوتی ہے۔ ”وَلَهُ حَقٌّ فِي كَسْبِ مُكَاتَبِهِ“ بھئی یہ مدبر اور ام ولد، ان کے پاس تو جو کچھ ہے یہ ان کے آقا کا ہے۔ البتہ مکاتب جو ہے وہ مال کا مالک بنتا ہے، مکاتب کیا ہے؟ جسے آقا نے کہا ہے کہ مثلاً دس لاکھ روپے دو سال میں لے آؤ تو تم آزاد ہو، یہ مال کا مالک بنتا ہے لیکن اس کو بھی، اپنے مکاتب کو بھی زکوٰۃ کی ادائیگی صحیح نہیں ہے کیونکہ مکاتب جو ہے وہ اگرچہ مال کا مالک ہوتا ہے لیکن اس کے مال کے اندر اس کے آقا کا بھی حق ہوتا ہے، کیونکہ وہ کما کر لا کر کس کو دیتا ہے؟ اپنے ہی آقا کو دیتا ہے، اور نیز اگر مکاتب کمائی سے عاجز آ جائے جتنے پر عقد ہوا تھا وہ پیسے اتنی مدت میں وہ اکٹھے نہ کر سکا تو پھر وہ عام غلام بن جائے گا، اور جو کچھ اب تک وہ آقا کو ادا کر چکا ہے یا جو کچھ اس کے پاس مال ہے وہ سارا کس کا بن جائے گا؟ اس کے آقا کا ہو جائے گا۔ تو معلوم ہوا مکاتب اگرچہ مالک بنتا ہے لیکن اس کی کمائی کے اندر اس کے آقا کا حق ہوتا ہے، تو اگر اپنے ہی مکاتب کو کوئی شخص زکوٰۃ دے گا تو اس کمائی کے اندر اس کی، اپنا بھی اس کا حق ہے، تو پورے طور پر مالک بنانا نہیں پایا گیا، حالانکہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے اندر کیا ضروری تھا کہ دوسرے کو پورے طور پر مالک بنا دے، لیکن اس میں تو اس کا اپنا حق ہے زکوٰۃ دینے والے کا، اس لیے اس کو زکوٰۃ ادا نہیں کر سکتا۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ یہ معنی ہے ”وَلَهُ حَقٌّ فِي كَسْبِ مُكَاتَبِهِ“ اور نیز زکوٰۃ ادا کرنے والے کا حق ہے اپنے مکاتب کی کمائی میں ”فَلَمْ يَتِمَّ التَّمْلِيكُ“ لہٰذا تملیک پوری نہ ہوئی۔ ”وَلَا إِلَى عَبْدٍ قَدْ أَعْتَقَ بَعْضَهُ“ اور اسی طرح زکوٰۃ نہیں دے سکتا کسی ایسے غلام کو ”قَدْ أَعْتَقَ بَعْضَهُ“ جس کے بعض کو اس نے آزاد کر دیا ہے۔ زکوٰۃ دینے والے نے کیا کیا ہے؟ غلام کے کچھ حصے کو آزاد کر دیا ہے، کچھ حصے کو آزاد کر دیا۔ مثلاً دیکھیے بھئی ایک شخص ہے اس کا غلام ہے، وہ اس کے نصف کو آزاد کر دیتا ہے، کیا کہتا ہے کہ تمہارا نصف آج سے آزاد ہے، یا تمہارا ثلث تیسرا حصہ آزاد ہے یا تمہارا دسواں حصہ آزاد ہے، تو یاد رکھیے یہ ایسا غلام جس کے کچھ حصے کو آزاد کر دیا جائے وہ امام صاحب کے نزدیک مکاتب کے درجے میں ہوتا ہے۔ کس کے درجے میں ہوتا ہے؟ مکاتب کے درجے میں ہوتا ہے، یعنی جتنا حصہ اس کا ابھی غلامی کے اندر باقی ہے اس کی وہ کمائی کرے گا اور لا کر اپنے آقا کو دے گا اور اپنے آپ کو آزاد کروائے گا۔ دیکھیے دوسری مثال سے ذرا زیادہ بات سمجھ میں آئے گی: آپ کے اور زید کے درمیان ایک غلام مشترک ہے، مثلاً آدھے آدھے پیسے ملا کر آپ نے اس کو خریدا ہے، تو آدھا آپ کا ہوا اور آدھا زید کا۔ آپ اپنے حصے، آدھے حصے کو آزاد کر دیتے ہیں کیونکہ آپ آدھے کے مالک ہیں، آپ نے اپنے حصے کو آزاد کر دیا، تو اس صورت میں یاد رکھیے یہ امام صاحب کے نزدیک یہ غلام مکاتب کی طرح بن گیا زید کے لیے۔ اپنے حصے کو تو آپ نے کیا کر دیا؟ آزاد، لیکن زید کے، زید نے تو اپنے حصے کو آزاد نہیں کیا، تو اس کے لیے یہ غلام کس کی طرح ہوا؟ مکاتب۔ زید چاہے تو اپنے حصے کو بھی آزاد کر دے، اور چاہے تو غلام سے کہے کہ بھئی تمہارے اندر نصف حصہ میرا تھا، تو میرا حصہ لاؤ جا کر کما کر لاؤ اور لا کر مجھے ادا کر دو اور تم پھر کیا ہو جاؤ گے؟ آزاد ہو جاؤ گے۔ تو یہ شخص، یہ غلام جو ہے دوسرے کے لیے مکاتب کے درجے میں ہو گیا، جائے گا اور اس کے حصے کے بقدر یعنی اپنی قیمت میں سے نصف پیسے جو بنتے ہیں اس کے، وہ کما کر لا کر زید کو دے گا اور پھر کیا ہو جائے گا؟ آزاد ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو امام صاحب کے نزدیک غلام کے نصف کو یا کچھ حصے کو آزاد کر دیا جائے تو باقی غلام کس کی طرح ہو جاتا ہے؟ مکاتب کی طرح ہو جاتا ہے کہ اس میں پھر جن جن کا حصہ ہے اس غلام کے اندر ان کو لا کر ان کے حصے کے جتنا حصہ ہے اپنی قیمت میں سے وہ لا کر ان کو ادا کرے گا اور اپنے آپ کو آزاد کروائے گا۔ جبکہ صاحبین کے نزدیک اگر غلام کے کچھ حصے کو آزاد کر دیا جائے تو پورا غلام ہی آزاد ہو جاتا ہے، پورا غلام ہی آزاد ہو جاتا ہے۔ البتہ چونکہ یہ غلام مثلاً آپ نے اپنے نصف حصے کو آزاد کیا اور آدھا تو کس کا تھا؟ زید کا۔ لیکن صاحبین کے نزدیک جیسے ہی آپ نے اپنے حصے کو آزاد کیا باقی حصہ بھی کیا ہو گیا؟ آزاد ہو گیا، تو اب زید بیچارے کا تو حصہ اس کے اندر تھا اس نے تو آزاد نہیں کیا تھا، اب اس غلام پر لازم ہے کہ یہ جا کر کمائے اور لا کر زید کو اس کے حصے کے بقدر دے، جتنا حصہ زید کا بنتا تھا وہ اس کو دے۔ تو فرق صرف اتنا ہے: امام صاحب کی صورت میں بھی اس نے وہ حصہ کما کر لا کر دینا ہے اس دوسرے آدمی کو، صاحبین کے نزدیک بھی اس نے کما کر لا کر دینا ہے اس دوسرے آدمی کو، دوسرے مالک کو، لیکن فرق اتنا کہ امام صاحب کے نزدیک وہ شخص ابھی بھی غلام ہی ہے، مکاتب کی طرح ہے، جبکہ صاحبین کے نزدیک یہ آزاد ہو چکا ہے، البتہ اب اس پر قرضہ ہے، یہ جو مال دے رہا ہے یہ کس صورت میں ہے اب اس پر؟ قرضے کی صورت میں ہے۔ فرق سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو اب یہاں پر جو کتاب کے اندر مسئلہ ذکر ہوا صورت یہ کہ آپ کا ایک غلام تھا، آپ نے اس کے نصف حصے کو آزاد کر دیا اور نصف ابھی بھی آپ اس کے مالک ہیں، تو اب وہی مسئلہ جو جس طرح اقوال ذکر ہو گئے، امام صاحب کے نزدیک یہ ابھی بھی غلام ہے اور کس درجے میں ہے؟ مکاتب، تو یہ آپ کے مکاتب کے درجے میں ہوا، آپ نے اس کے کچھ حصے کو آزاد کر دیا اور باقی غلام کس کی طرح ہوا؟ آپ کے لیے مکاتب بن گیا، آپ کا مکاتب بن گیا، اور ابھی مسئلہ ذکر ہوا کہ اپنے مکاتب کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں کیونکہ اس کی کمائی کے اندر آقا کا بھی حق ہوتا ہے، تو لہٰذا یہ مکاتب ہوا، امام صاحب کے نزدیک اس کو ادا کرنا صحیح نہیں۔ جبکہ صاحبین کے نزدیک یہ کیا ہو چکا؟ پورا آزاد ہے، البتہ اب یہ مقروض ہے، اور جو حصہ باقی تھا وہ کما کر لا کر آپ کو دے گا، تو یہ آزاد اور مقروض، آزاد مقروض ہوا، اور آزاد کوئی ہو اور مقروض ہو اس کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں یا نہیں دے سکتے؟ اس کو تو زکوٰۃ دے سکتے ہیں، تو صاحبین فرماتے ہیں کہ آپ بھی اپنے اس غلام کو جس کے کچھ حصے کو آپ نے آزاد کیا تھا آپ زکوٰۃ ادا کر سکتے ہیں، جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ آپ اس کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ یہ ذکر کر رہے ہیں ”وَلَا إِلَى عَبْدٍ قَدْ أَعْتَقَ بَعْضَهُ“ اور نہ ادا کر سکتے ہیں زکوٰۃ ایسے غلام کو کہ تحقیق اس کے بعض کو اس زکوٰۃ دینے والے نے آزاد کر دیا ہے ”عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ امام صاحب کے نزدیک ”لِأَنَّهُ بِمَنْزِلَةِ الْمُكَاتَبِ عِنْدَهُ“ اس لیے کیونکہ یہ غلام جو ہے مکاتب کے درجے میں ہے ان کے نزدیک، ”وَقَالَا: يَدْفَعُ إِلَيْهِ“ اور صاحبین فرماتے ہیں کہ وہ اس کو زکوٰۃ دے سکتا ہے ”لِأَنَّهُ حُرٌّ مَدْيُونٌ عِنْدَهُمَا“ اس لیے کیونکہ یہ ایسا آزاد ہے جو مقروض ہے صاحبین کے نزدیک بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ ”وَلَا يَدْفَعُ إِلَى مَمْلُوكِ غَنِيٍّ“ اسی طرح زکوٰۃ جو ہے وہ کسی مالدار کا جو مملوک ہے، اس کا غلام یا اس کی باندی ہے اس کو بھی زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی، کیونکہ غلام کو کچھ دینا یہ دراصل کس کو دینا ہے؟ اس کے آقا کو، کیونکہ غلام کے پاس جو کچھ ہوتا ہے اس کا مالک اس کا آقا ہوتا ہے، اور یہاں اس کا جو آقا ہے وہ تو مالدار ہے، تو اس کو گویا ادا کر رہا ہے اور مالدار کو تو زکوٰۃ دینے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی۔ یہ معنی ہے ”وَلَا يَدْفَعُ إِلَى مَمْلُوكِ غَنِيٍّ“ اور زکوٰۃ نہیں دے سکتا مالدار کے غلام کو ”لِأَنَّ الْمِلْكَ وَاقِعٌ لِمَوْلَاهُ“ اس لیے کیونکہ ملکیت جو ہے وہ اس کے آقا کے لیے واقع ہو گی، یعنی جو مالک بنے گا زکوٰۃ کا وہ یہ غلام نہیں بنے گا بلکہ کون بنے گا؟ اس کا آقا بنے گا۔ ”وَلَا إِلَى وَلَدِ غَنِيٍّ إِذَا كَانَ صَغِيرًا“ جی، یہاں مسئلہ آپ کو بتلا رہے ہیں، یاد رکھیے اگر کسی مالدار کے بچے کو کوئی شخص زکوٰۃ دیتا ہے، زکوٰۃ، کس کو دے رہا ہے؟ مالدار کے بچے کو۔ تو اس میں دو صورتیں ہیں: یا وہ بچہ نابالغ ہو گا یا بالغ ہو گا۔ اگر نابالغ ہے تو اس کو دینے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی، اس لیے کیونکہ نابالغ بچہ جو ہے وہ اس کا باپ اگر مالدار ہو تو بچے کو بھی کیا شمار کیا جاتا ہے؟ مالدار شمار کیا جاتا ہے، تو جب یہ بھی مالدار ہوا تو اس کو زکوٰۃ دینے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہو گی۔ لیکن اگر اس کے بجائے وہ بالغ ہے، وہ بالغ ہے اور اس کے پاس نصاب کے بقدر مال نہیں تو اس کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے، اس لیے کیونکہ جو بالغ اولاد ہوتی ہے اس کو باپ کے مالدار ہونے کی وجہ سے اس کو مالدار شمار نہیں کیا جاتا، چاہے بے شک یہ رہتا باپ کے ساتھ ہی ہے، کھاتا پیتا وہیں پر ہے لیکن پھر بھی باپ کے مالدار ہونے کی وجہ سے اس کو مالدار شمار نہیں کیا جاتا، تو جب یہ مالدار نہیں تو اس کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں ”وَلَا إِلَى وَلَدِ غَنِيٍّ إِذَا كَانَ صَغِيرًا“ اور زکوٰۃ اسی طرح نہیں دے سکتا مالدار کی اولاد کو بھی جبکہ وہ صغیر ہو یعنی نابالغ ہو ”لِأَنَّهُ يُعَدُّ غَنِيًّا بِمَالِ أَبِيهِ“ اس لیے کیونکہ اس کو بھی مالدار شمار کیا جاتا ہے اپنے باپ کے مال کی وجہ سے، ”بِخِلَافِ مَا إِذَا كَانَ كَبِيرًا“ برخلاف اس صورت کے جبکہ یہ اولاد جو غنی کی تھی یہ بڑی تھی یعنی بالغ تھی ”فَقِيرًا“ اور کیا تھی؟ فقیر یعنی محتاج ہے، ”لِأَنَّهُ لَا يُعَدُّ غَنِيًّا بِيَسَارِ أَبِيهِ“ اس لیے کیونکہ اس کو مالدار شمار نہیں کیا جاتا اپنے باپ کی مالداری کی وجہ سے ”وَإِنْ كَانَتْ نَفَقَتُهُ عَلَيْهِ“ اگرچہ اس کا نفقہ کس پر ہو؟ اس کے باپ پر ہو، وہ اس کے پاس ہی کھاتا پیتا ہے پھر بھی اس کو مالدار شمار نہیں کیا جاتا۔ ”وَبِخِلَافِ امْرَأَةِ الْغَنِيِّ“ اور اسی طرح برخلاف مالدار کی بیوی کے، مالدار کی بیوی اگر محتاج ہے تو اس کو بھی کیا کیا جا سکتا ہے؟ زکوٰۃ دی جا سکتی ہے، ”لِأَنَّهَا وَإِنْ كَانَتْ فَقِيرَةً لَا تُعَدُّ غَنِيَّةً بِيَسَارِ زَوْجِهَا“ اس لیے کیونکہ یہ اگرچہ محتاج ہے تو اس کو مالدار شمار نہیں کیا جاتا اپنے خاوند کے مالدار ہونے کی وجہ سے۔ خاوند کے مالدار ہونے کی وجہ سے اس کو مالدار شمار نہیں کیا جاتا۔ بھئی خاوند اس کو نفقہ وغیرہ تو دیتا ہے، خرچہ وغیرہ دیتا ہے، کہتے ہیں بھئی خرچہ وغیرہ دینے سے کوئی مالدار تو نہیں ہوتا، وہ تو اس کی ضرورت کے بقدر ہی ہوتا ہے، تو اس سے مالداری ثابت نہیں ہوتی۔ یہ معنی ہے ”وَبِقَدْرِ النَّفَقَةِ لَا تَصِيرُ مُوسِرَةً“ اور نفقے کی مقدار کے ساتھ تو یہ مالدار نہیں بنتی۔ ”وَلَا تُدْفَعُ إِلَى بَنِي هَاشِمٍ“ اور زکوٰۃ نہیں دی جائے گی بنو ہاشم کو یعنی حضور علیہ السلام کے جو خاندان والے ہیں، ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ بوجہ حضور علیہ السلام کے اس فرمانِ مبارک کے، آپ نے فرمایا: ”يَا بَنِي هَاشِمٍ، إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى حَرَّمَ عَلَيْكُمْ غُسَالَةَ النَّاسِ“ اے بنو ہاشم، بے شک اللہ تعالیٰ نے تم پر حرام کر دیا ہے لوگوں کے غسالے کو، لوگوں کے غسالے کو تم پر حرام کر دیا ہے۔ غسالہ کہتے ہیں غسل کے بعد وہ جو بچا ہوا پانی یا غسل کا استعمال شدہ پانی ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ غسالۃ۔ ہاں، وہ غسل کا جو مستعمل پانی ہے وہ ہے غسالہ، یعنی دھوون کہیں، کیا کہیں؟ دھوون۔ کہ اے بنو ہاشم، اللہ تعالیٰ نے تم پر لوگوں کے دھوون کو حرام کر دیا ہے ”وَأَوْسَاخَهُمْ“ اور ان کے میل کچیل کو، ”وَعَوَّضَكُمْ مِنْهَا بِخُمُسِ الْخُمُسِ“ اور اللہ نے تمہیں عوض دے دیا ہے اس کے بدلے میں خمس کا خمس۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر لوگوں کے دھوون اور ان کے غسالے کو حرام کر دیا ہے اور اس کے عوض تمہیں کیا دے دیا ہے؟ خمس کا خمس۔ بھئی یاد رکھیے جو غنیمت آتی ہے اس کے اندر کتنا حصہ نکالا جاتا ہے؟ پانچواں حصہ خمس نکالا جاتا ہے۔ اس خمس کے مصارف جہاں اور ہیں وہاں اس خمس میں سے پھر اس کا پانچواں حصہ وہ بنو ہاشم کو دیا جائے گا یعنی حضور علیہ السلام کے جو خاندان والے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ معنی ہے ”وَعَوَّضَكُمْ مِنْهَا بِخُمُسِ الْخُمُسِ“ اور عوض دیا تمہیں اس کے بدلے میں خمس کا خمس۔ ”بِخِلَافِ التَّطَوُّعِ“ برخلاف نفل کے، یعنی نفلی صدقہ بنو ہاشم والوں کو دیا جا سکتا ہے لیکن صدقۂ واجبہ ان کو نہیں دیا جا سکتا اس حدیث کی وجہ سے۔ بھئی نفلی صدقہ کیوں دیا جا سکتا ہے؟ آگے صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ”لِأَنَّ الْمَالَ هَاهُنَا كَالْمَاءِ يَتَدَنَّسُ بِإِسْقَاطِ الْفَرْضِ“ اس لیے کیونکہ مال یہاں پر پانی کی طرح ہے جو میلا ہو جاتا ہے فرض کے ساقط ہونے کی وجہ سے، ”أَمَّا التَّطَوُّعُ فَبِمَنْزِلَةِ التَّبَرُّدِ بِالْمَاءِ“ باقی تطوع جو ہے یہ پانی سے ٹھنڈک حاصل کرنے کے درجے میں ہے۔ کس درجے میں ہے؟ بھئی دیکھیے ایک آدمی ہے وہ غسل کرتا ہے، غسل کرتا ہے، اگر اس پر غسل فرض تھا تو جس پانی کو اس نے استعمال کر لیا یہ اب گندا پانی ہو گیا، میلا کچیلا پانی ہو گیا، اور اس کے ساتھ اب وضو وغیرہ کرنا جائز نہیں، مسئلہ پڑھ چکے ہیں یا نہیں پڑھ چکے؟ ماءِ مستعمل ہو گیا۔ تو یہ گندا میلا کچیلا پانی ہو گیا، اور ایک شخص وہ غسل کرتا ہے صرف ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے، وضو وغیرہ اس کا ہے، صرف کیا گرمی کی وجہ سے اس نے بدن پر پانی بہایا تو یاد رکھیے یہ پانی پاک ہے، ماءِ مستعمل بھی نہیں کیونکہ اس کے لیے کوئی حدث دور نہیں کیا گیا، جب یہ پانی پاک ہے تو یہاں تک کہ اس کے ساتھ وضو کرنا بھی جائز ہے بھئی، مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ تو اب ایک پانی وہ ہے جس کے ذریعے بدن سے فرض کو ساقط کیا گیا، وہ پانی ہوا میلا کچیلا، اور ایک وہ پانی ہے جس کے ساتھ صرف ٹھنڈک حاصل کی گئی، وہ ہے صاف پانی۔ تو یہاں پر مال بھی کس کی طرح ہے؟ پانی کی طرح ہے، تو وہ مال جس کے ساتھ فرض ادا کیا گیا یعنی صدقۂ واجبہ، وہ کس قسم کا مال ہے؟ وہ اس غسل کے پانی کی طرح ہے یعنی یہ میل کچیل ہے، اور میل کچیل ان کو نہیں دی جائے گی جو حضور علیہ السلام کے رشتہ دار ہیں کیونکہ یہ مال یہ کیا ہے؟ میل کچیل ہے۔ جبکہ عام صدقہ جو ہے نفلی صدقہ وہ اس پانی کی طرح ہے جس کو صرف کس لیے استعمال کیا گیا ہو؟ ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے، اور وہ تو صاف ستھرا ہوتا ہے تو یہ نفلی صدقہ بھی اسی کی طرح ہے، یہ صاف ستھرا ہے یہ ان کو بنو ہاشم کو دیا جا سکتا ہے۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے ”لِأَنَّ الْمَالَ هَاهُنَا كَالْمَاءِ“ اس لیے کیونکہ مال یہاں پر پانی کی طرح ہے ”يَتَدَنَّسُ بِإِسْقَاطِ الْفَرْضِ“ جو میلا ہو جاتا ہے، گندا ہو جاتا ہے فرض کے ساقط کرنے کی وجہ سے، ”أَمَّا التَّطَوُّعُ فَبِمَنْزِلَةِ التَّبَرُّدِ بِالْمَاءِ“ اور باقی نفلی صدقہ جو ہے وہ تو پانی سے ٹھنڈک حاصل کرنے کے درجے میں ہے۔ ”قَالَ: وَهُمْ آلُ عَلِيٍّ، وَآلُ عَبَّاسٍ، وَآلُ جَعْفَرٍ، وَآلُ عَقِيلٍ، وَآلُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَمَوَالِيهِمْ“ اب بتلا رہے ہیں بھئی کہ بنو ہاشم سے کون مراد ہیں بنو ہاشم سے؟ تو کہتے ہیں ”وَهُمْ آلُ عَلِيٍّ“ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جو اولاد ہے ”وَآلُ عَبَّاسٍ“ اور حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جو اولاد ہے ”وَآلُ جَعْفَرٍ“ اور حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جو اولاد ہے ”وَآلُ عَقِيلٍ“ اور حضرت عقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جو اولاد ہے ”وَآلُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ“ اور جو حارث بن عبد المطلب کی اولاد ہے۔ عبد المطلب یاد رکھیے اس میں ط مشدد ہے، ط۔ بعض طلبہ غلطی کرتے ہیں لام کو مشدد پڑھتے ہیں، لام نہیں مشدد، ط مشدد ہے لام کے نیچے کسرہ ہے، عبد المطلب۔ تو یہ ہیں بنو ہاشم۔ ”وَمَوَالِيهِمْ“ اور اسی طرح جو ان کے موالی یعنی ان کے مولا ہیں یعنی ان کے جو آزاد کردہ غلام ہیں۔ جو ان کے، کیونکہ آزاد کردہ غلام بھی انہی لوگوں میں سے شمار کیا جاتا ہے جنہوں نے اس کو آزاد کیا ہو بھئی، تو ان کا بھی یہی حکم ہے۔ تو یہ ہیں بھئی بنو ہاشم، سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ ہیں بنو ہاشم، تو باقی لوگ مراد نہیں، حضور علیہ السلام کے اور رشتہ دار مراد نہیں، یہ رشتہ دار ہیں بنو ہاشم میں سے۔ وجہ یہ کہ یہ جو لوگ تھے اور ان کی جو اولاد تھی وہ حضور ﷺ کی نصرت اور مدد کرتے تھے ہر معاملے کے اندر بھئی۔ یہی لوگ تھے انہی لوگوں کی وجہ سے جب حضور ﷺ دینِ حق لے کر آئے تو تمام عرب حضور ﷺ کے دشمن بن گئے، اور حضور علیہ السلام کو بے انتہا تکالیف دیں، لیکن ایک حد سے بڑھ کر زیادہ وہ تکلیف نہیں دے سکتے تھے کیونکہ حضور علیہ السلام کی قوم والوں سے وہ ڈرتے تھے، کیونکہ اس زمانے میں قومی غیرت ایک بہت بڑی چیز تھی جو اب ختم ہوتی جا رہی ہے۔ کوئی قوم یہ برداشت نہیں کرتی تھی کہ کسی دوسرے قبیلے والے ہمارے کسی آدمی کو نقصان پہنچائیں، بلکہ کیا کہتے تھے کہ ہمیں آ کر بتاؤ، کوئی شکایت ہے ہمارے آدمی سے، اس نے کوئی جرم کیا ہے، ہمیں آ کر بتلاؤ ہم اس سے بدلہ لیں گے، لیکن کسی دوسرے کو یہ اجازت نہیں ہے کہ ہمارے آدمی کو ہاتھ لگائے اور اس کو نقصان پہنچائے۔ تو یہ جو تھے حضور علیہ السلام کی قوم والے ان کی وجہ سے حضور علیہ السلام کو کفار تکالیف تو دیتے تھے لیکن ایک حد سے بڑھ کر تجاوز نہیں کرتے تھے، حضور علیہ السلام کی قوم والوں سے ڈرتے تھے کہ اگر ہم نے کوئی زیادہ تکلیف دی تو یہ لوگ ہمیں چھوڑیں گے نہیں، ہمارے ساتھ جنگ شروع کر دیں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ چونکہ حضور علیہ السلام کی مدد کرتے تھے تو اس لیے، اسی لیے ان کے لیے خمس کا خمس مقرر کیا گیا۔ کیا مقرر کیا گیا؟ خمس کا خمس ان لوگوں کا حق مقرر کیا گیا۔ تو اور یہ وہ، یہ لوگ تھے بھئی جن کا ذکر آ گیا۔ باقی حضور علیہ السلام کے جو رشتہ دار جو مدد نہیں کرتے تھے وہ اس میں داخل نہیں، جیسے ابو لہب جو مدد نہیں کرتے تھے وہ اس کے اندر داخل نہیں ہیں بھئی، داخل نہیں ہیں۔ تو ابو لہب وہ تو حضور علیہ السلام کی مدد کیا کرتا، وہ تو سب سے بڑھ چڑھ کر حضور علیہ السلام کو تکلیف دیا کرتے تھے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ وہ تو اپنے ہی خاندان والے تھے، ان کو تو اپنے باقی خاندان کی پروا بھی نہیں ہوتی تھی، دوسرے لوگ تو حضور علیہ السلام کے خاندان والوں سے ڈرتے تھے لیکن ان کو تو فکر بھی نہیں تھی، تو یہ بڑھ چڑھ کر تکلیف دیتے تھے حضور علیہ السلام کو بھئی، تو لہٰذا وہ نہیں اس کے اندر داخل۔ اگرچہ وہ بھی بنو ہاشم میں سے اگر جن کو بنو ہاشم کہا جاتا تھا اس کے اندر وہ بھی داخل ہوتے ہیں کیونکہ یہ سارے بنو ہاشم جن کو کہتے ہیں یہ نسبت ہے ہاشم بن عبد مناف کی طرف، حضور علیہ السلام کے اوپر جو پردادا وغیرہ جو تھے ان میں ہاشم بن عبد مناف جو تھے ان کی جو اولاد ہے وہ ساری کیا کہلاتی ہے؟ بنو ہاشم، اور اس کے اعتبار سے تو ابو لہب بھی داخل ہوتے ہیں لیکن وہ داخل نہیں کیونکہ وہ حضور علیہ السلام کو تکلیف دیتے تھے، یہ حضور علیہ السلام کی مدد کرتے تھے۔ اور ان میں سے، ان میں سے آپ سب کو جانتے ہیں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں، یہ حضور علیہ السلام کے چچا زاد بھئی ہیں، اسی طرح جعفر یہ حضرت علی کے بھئی ہیں، عقیل یہ بھی حضرت علی کے بھئی ہیں، جبکہ حضرت عباس یہ حضور علیہ السلام کے چچا ہیں، اور حارث بن عبد المطلب یہ بھی کیا تھے؟ حضور علیہ السلام کے چچا اور ان کی اولاد بھئی، یہ بھی مدد کرتے تھے حضور علیہ السلام کی۔ ”وَمَوَالِيهِمْ“ اور ان کے موالی۔ یاد رکھیے یہ موالی کا عطف جو ہے نا موالی کا عطف، یہ بنو ہاشم پر ہے: ”لَا تُدْفَعُ إِلَى بَنِي هَاشِمٍ وَمَوَالِيهِمْ“، زکوٰۃ نہیں دی جائے گی کس کو؟ بنو ہاشم کو اور ان کے جو موالی ہیں۔ ”أَمَّا هَؤُلَاءِ فَلِأَنَّهُمْ يَنْتَسِبُونَ إِلَى هَاشِمِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ“ باقی یہ لوگ، یہ بنو ہاشم کیوں ہیں یہ لوگ ان میں سے؟ اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں: یہ لوگ ”فَلِأَنَّهُمْ يَنْتَسِبُونَ“ یہ لوگ منسوب ہوتے ہیں ”إِلَى هَاشِمِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ“ کس کی طرف؟ ہاشم بن عبد مناف جو حضور علیہ السلام کے جد گزرے ہیں، ”وَنِسْبَةُ الْقَبِيلَةِ إِلَيْهِ“ اور انہی کی طرف قبیلے کی نسبت ہے، اسی نسبت سے یہ بنو ہاشم کہلاتے ہیں۔ ”وَأَمَّا مَوَالِيهِمْ“ باقی جو بنو ہاشم کے موالی ہیں ان کو کیوں نہیں زکوٰۃ دے سکتے؟ کہتے ہیں: ”فَلِمَا رُوِيَ: أَنَّ مَوْلًى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهُ“ بوجہ اس حدیث کے جس کو روایت کیا گیا ہے کہ حضور علیہ السلام کے مولا نے حضور علیہ السلام سے پوچھا یعنی حضور علیہ السلام کے آزاد کردہ غلام نے حضور علیہ السلام سے پوچھا: ”أَتَحِلُّ لِيَ الصَّدَقَةُ؟“ کہ یا رسول اللہ، کیا میرے لیے صدقہ حلال ہے، زکوٰۃ حلال ہے، میں لے سکتا ہوں؟ ”فَقَالَ: لَا، أَنْتَ مَوْلَانَا“ حضور علیہ السلام نے فرمایا: نہیں، تو ہمارا مولا ہے، یعنی تو ہمارا آزاد کردہ ہے لہٰذا تو بھی زکوٰۃ نہیں، تم بھی زکوٰۃ نہیں لے سکتے۔ ”بِخِلَافِ مَا إِذَا أَعْتَقَ الْقُرَشِيُّ عَبْدًا نَصْرَانِيًّا حَيْثُ تُؤْخَذُ مِنْهُ الْجِزْيَةُ“ برخلاف اس کے کہ جب کوئی قریشی، قریشی سے مراد کوئی بھی مسلمان ہے بھئی، خاص طور پر قبیلہ قریش والا ہی مراد نہیں ہے، کوئی بھی مسلمان جب وہ آزاد کرتا ہے ”عَبْدًا نَصْرَانِيًّا“ کسی نصرانی غلام کو ”حَيْثُ تُؤْخَذُ مِنْهُ الْجِزْيَةُ“، بھئی یہ دراصل ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ اعتراض یہ ہوتا ہے کہ آپ کی تقریر سے یہ معلوم ہوا کہ موالیِ بنو ہاشم جو ہیں ان کو بھی زکوٰۃ نہیں دی جائے گی، کیوں نہیں دی جائے گی؟ کیونکہ جنہوں نے ان کو آزاد کیا یعنی بنو ہاشم ان کو زکوٰۃ جب نہیں دی جاتی تو ان کے موالی کا بھی یہی حکم، ان کے آزاد کردہ کا بھی یہی حکم، اس کو بھی زکوٰۃ نہیں دی، معلوم ہوا مولا کا وہی حکم ہوتا ہے جو اس کو آزاد کرنے والے کا حکم ہو، تو پھر تو اگر کوئی مسلمان اپنے عیسائی غلام کو آزاد کر دے تو آقا سے کوئی جزیہ لیا جاتا تھا؟ نہیں، وہ تو مسلمان تھا اس سے تو جزیہ نہیں لیا جاتا تھا، اور غلام جس کو آزاد کیا جائے اس کا بھی وہی حکم ہوتا ہے جو آقا کا ہوتا ہے تو اس غلام سے بھی جزیہ نہیں لینا چاہیے، حالانکہ اس پر کیا واجب ہے آپ کے نزدیک؟ جزیہ واجب ہے، اب یہ آزاد ہو گیا لیکن عیسائی ہے، دار الاسلام میں رہتا ہے تو اب اس کو کیا ادا کرنا پڑے گا؟ جزیہ ادا کرنا پڑے گا۔ تو یہاں پر تو وہ آزاد کیا ہوا شخص اپنے آزاد کرنے والے کے مخالف ہو گیا۔ اعتراض سمجھ میں آ رہا ہے؟ تو اس کا جواب دے رہے ہیں، کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ مَا إِذَا أَعْتَقَ الْقُرَشِيُّ عَبْدًا نَصْرَانِيًّا حَيْثُ تُؤْخَذُ مِنْهُ الْجِزْيَةُ“ برخلاف اس کے کہ جب آزاد کرے کوئی قریشی کسی عیسائی غلام کو کیونکہ اس سے جزیہ لیا جائے گا، ”وَيُعْتَبَرُ حَالُ الْمُعْتَقِ؛ لِأَنَّهُ الْقِيَاسُ“ اور وہاں پر وہ آزاد کیے ہوئے کے حال کا اعتبار کیا جائے گا کیونکہ یہی قیاس ہے، قیاس بھی یہی تقاضا کرتا ہے کہ جس کو آزاد کیا گیا ہے اس کے حال کا اعتبار کرنا چاہیے، قیاس بھی کیا تقاضا کرتا ہے؟ بھئی جزیہ لینا ہے یا جزیہ نہیں لینا ہے، زکوٰۃ دینی ہے یا زکوٰۃ نہیں دینی، اس میں کس کا اعتبار کرنا چاہیے، قیاس کیا تقاضا کرتا ہے؟ جس کو دینی ہے زکوٰۃ یا جس سے جزیہ وصول کرنا ہے ان کی حالت کا اعتبار کرنا چاہیے، اس کے آزاد کرنے والے کی حالت کا اعتبار نہیں کرنا چاہیے، تو ان سے یہ جو عیسائی غلام آزاد کیا اس سے جزیہ لیا جائے گا کیونکہ قیاس بھی یہی تقاضا کرتا ہے کہ اس شخص کی اپنی حالت کا اعتبار کیا جائے یعنی معتق کی، معتق جو ہے جس کو آزاد کیا گیا ہے اس کی اپنی حالت کا اعتبار کیا جائے، یہی قیاس تقاضا بھی کرتا ہے اور ہم نے بھی یہی حکم دیا کہ اس سے جزیہ لیا جائے گا۔ اور باقی ”وَالْإِلْحَاقُ بِالْمَوْلَى بِالنَّصِّ وَقَدْ خُصَّتِ الصَّدَقَةُ“ باقی جو حدیث کے اندر بنو ہاشم کے مولا کو بنو ہاشم کے ساتھ ملایا گیا وہ تو خلافِ قیاس نص سے ثابت ہوا، خلافِ قیاس نص سے، قیاس تو کیا تقاضا کرتا تھا؟ غلام کی اپنی حالت کا اعتبار کیا جائے، یہ اگر مالدار نہیں تو اس کو زکوٰۃ دینی چاہیے، اور اگر مالدار ہے تو زکوٰۃ نہیں دینی چاہیے، لیکن کس کا اعتبار کیا گیا؟ اس کے آقا کا کہ آزاد کرنے والا کون ہے؟ بنو ہاشم، تو اس کے آقا کا جو اعتبار کیا گیا یہ مطابقِ قیاس ہے یا خلافِ قیاس ہوا؟ تو یہاں خلافِ قیاس ایک حکم آیا تھا لیکن چونکہ نص میں آیا تھا لہٰذا اسی طرح اس پر عمل کیا گیا، اور آپ جانتے ہیں جو حکم خلافِ قیاس ہو وہ اپنے مورد پر بند رہتا ہے، یعنی جس چیز کے بارے میں آیا جس چیز کے بارے میں وہ خلافِ قیاس حکم ہے اسی پر بند رہتا ہے اور چیزوں کو اس میں داخل نہیں کیا جا سکتا، تو یہ بھی اپنے مورد پر بند رہے گا اور یہ حکم صرف کس چیز کے بارے میں تھا؟ زکوٰۃ کے بارے میں تھا، تو یہ زکوٰۃ والا حکم یہیں پر بند رہے گا اور باقی چیزوں کو، جزیہ وغیرہ کو اس پر قیاس نہیں کیا جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے ”وَالْإِلْحَاقُ بِالْمَوْلَى بِالنَّصِّ“ اور آقا کے ساتھ ملانا یہ نص کی وجہ سے تھا، اور کس طرح تھا؟ خلافِ قیاس، تو یہ خلافِ قیاس نص کی وجہ سے آقا کے ساتھ ملانا تھا ”وَقَدْ خُصَّتِ الصَّدَقَةُ“ اور تحقیق کس کی تخصیص کی گئی تھی؟ صدقہ کی تخصیص کی گئی تھی، وہاں پر صرف کس کا ذکر ہے؟ کہ صدقہ یہ موالیِ بنو ہاشم بھی نہیں لے سکتے، تو یہ صدقے پر ہی یعنی زکوٰۃ پر ہی یہ حکم بند رہے گا، جزیہ وغیرہ کو اس پر قیاس نہیں کیا جائے گا۔ دلیل اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔