بَابٌ فِي الْمَعَادِنِ وَالرِّكَازِ قَالَ: مَعْدِنُ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ أَوْ حَدِيدٍ أَوْ رَصَاصٍ أَوْ صُفْرٍ وُجِدَ فِي أَرْضِ خَرَاجٍ أَوْ عُشْرٍ فَفِيهِ الْخُمْسُ عِنْدَنَا. وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: لَا شَيْءَ عَلَيْهِ فِيهِ لِأَنَّهُ مُبَاحٌ سَبَقَتْ يَدُهُ إِلَيْهِ كَالصَّيْدِ. بَابٌ فِي الْمَعَادِنِ وَالرِّكَازِ۔ مَعَادِن، یاد رکھیے یہ جمع ہے مَعْدِن کی، اور مَعْدِن کہتے ہیں کان کو، کان۔ آپ جانتے ہیں سونا، چاندی، لوہا وغیرہ زمین سے نکالے جاتے ہیں اور ان کی کانیں ہوتی ہیں زمین میں، باقاعدہ کھدائی کر کے ان کے وہاں جو پتھر ہوتے ہیں، ان پتھروں کے اندر پتھر اور اس میں جو مٹی ہوتی ہے، اس میں یہ سونے چاندی وغیرہ ذرات کی صورت میں ہوتے ہیں، تو پھر ان کو ان سے جدا کیا جاتا ہے اور تو یہ وہ جگہ جہاں سے ان کو نکالا جاتا ہے وہ کیا کہلاتی ہے؟ کان کہلاتی ہے، کان۔ کان کو عربی میں مَعْدِن کہتے ہیں اور جمع ہے مَعَادِن۔ اور رِكَاز جو ہے رِكَاز، یہ کان کو بھی شامل ہے، کان کو بھی کہتے ہیں اور اسی طرح زمین کے اندر جو خزانہ یا مال وغیرہ دفنا دیا گیا ہے، چھپا دیا گیا ہے تو اس دفینے کو بھی کیا کہتے ہیں؟ رِكَاز کہتے ہیں۔ تو گویا رِكَاز کا لفظ شامل ہے یہ مَعْدِن کو بھی اور كَنْز، كَنْز جو خزانہ ہوتا ہے زمین میں دفنایا گیا اس کو بھی دونوں کو شامل ہے۔ لیکن یہاں پر رِكَاز سے مراد وہ خزانہ ہے کیونکہ مَعَادِن اس کے مقابلے پہ آ رہا ہے تو اب معلوم ہوا مَعْدِن کے علاوہ چیز مراد ہے اور یہ دو چیزوں کو شامل تھا، ایک مَعْدِن کو اور ایک كَنْز یعنی خزانے کو، تو یہاں اب کیا مراد ہے؟ خزانہ، کیونکہ مَعَادِن کا خود ذکر آ گیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو بَابٌ فِي الْمَعَادِنِ وَالرِّكَازِ، یہ باب ہے کانوں اور زمین میں دفن کیے ہوئے خزانے کے بیان میں۔ قَالَ، امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جامع صغیر میں۔ میں نے آپ کو پہلے بتلایا تھا کہ یہ باب اور جو پہلے اس سے پہلے پچھلا باب گزرا، یہ دونوں قدوری کے اندر نہیں ہیں، معلوم ہوا صاحبِ ہدایہ نے کہاں سے لیے ہیں؟ جامع صغیر سے لیے ہیں جو امام محمد رحمہ اللہ کی تصنیف ہے۔ تو قَالَ، امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مَعْدِنُ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ أَوْ حَدِيدٍ أَوْ رَصَاصٍ أَوْ صُفْرٍ وُجِدَ فِي أَرْضِ خَرَاجٍ أَوْ عُشْرٍ فَفِيهِ الْخُمْسُ عِنْدَنَا۔ سونے کی کان یا چاندی کی کان یا لوہے کی کان یا رصاص کی کان۔ رصاص بھئی یہ کوئی سفید دھات ہے جس سے برتن وغیرہ بنائے جاتے ہیں اور اردو میں اس کو رانگ کہتے ہیں، رانگ، را، الف، نون اور گاف، رانگ۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور غالباً یہ وہ دھات ہوگی یہ جو آپ برتن دیکھتے ہیں سفید عام، ایک تو اسٹیل کے برتن ہیں، ایک پلاسٹک کے ہیں اور یہ جو عام سفید، سلور غالباً کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ ہاں، سلور جس کو کہتے ہیں یہ وہ دھات ہوگی بھئی۔ تو رصاص وہ دھات جس سے وہ برتن بنائے جاتے ہیں جسے سلور آپ حضرات سلور کہتے ہیں۔ اسی طرح رصاص جو ہے سیسے کو بھی کہتے ہیں، سیسے کو بھی بھئی۔ أَوْ صُفْرٍ، صُفْر کہتے ہیں پیتل کو بھئی، پیتل جس سے برتن وغیرہ بنتے ہیں بھئی۔ تو سونے یا چاندی یا لوہے یا رانگ یا پیتل کی جو کان ہے، وُجِدَ فِي أَرْضِ خَرَاجٍ أَوْ عُشْرٍ، پایا جائے اس کو خراجی زمین میں یا عشری زمین میں، یعنی جس زمین میں بھی ملے، چاہے خراجی زمین ہو چاہے عشری، فَفِيهِ الْخُمْسُ عِنْدَنَا، تو اس کے اندر خمس واجب ہے ہمارے نزدیک، پانچواں حصہ بھئی دینا پڑے گا۔ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لَا شَيْءَ عَلَيْهِ فِيهِ، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس شخص پر اس کے اندر کچھ بھی واجب نہیں ہے، یہ جو سونے چاندی وغیرہ کی کان ہے، لوہے کی، لِأَنَّهُ مُبَاحٌ، وہ فرماتے ہیں: لِأَنَّهُ مُبَاحٌ، اس لیے کیونکہ یہ مباح چیز ہے بھئی، سَبَقَتْ يَدُهُ إِلَيْهِ، جس کی طرف اس کا ہاتھ سبقت کر گیا۔ یاد رکھیے يَد جیسے ہاتھ کو کہتے ہیں، اسی طرح يَد کا معنی قبضے کے بھی آتا ہے، تو موقع محل کے مطابق جو مناسب ترجمہ بنتا ہو آپ کر سکتے ہیں۔ تو وہ فرماتے ہیں: لِأَنَّهُ مُبَاحٌ، یہ ایک مباح چیز ہے بھئی، یعنی جو بھی اس کو حاصل کرنا چاہے حاصل کر سکتا ہے، پا سکتا ہے، تو یہ ایک مباح چیز ہے، ایسی مباح چیز ہے سَبَقَتْ يَدُهُ إِلَيْهِ کہ جس کی طرف اس کا ہاتھ سبقت کر گیا، یعنی پہلے اس کا ہاتھ اس تک پہنچ گیا ہے، اس کا قبضہ پہلے اس تک پہنچ گیا ہے، كَالصَّيْدِ، جیسے کہ شکار ہوتا ہے۔ شکار بھی جائز ہے، مباح ہے اور جو جس جانور کو شکار کر لیتا ہے وہی اس کا مالک ہوتا ہے، تو یہ بھی اسی طرح ہے، جس کو یہ کان وغیرہ مل جائے وہی اس کا مالک ہے بھئی۔ إِلَّا إِذَا كَانَ الْمُسْتَخْرَجُ ذَهَبًا أَوْ فِضَّةً فَيَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ۔ اچھا، تو جیسے بھئی اس شکار کے اندر کوئی حصہ نہیں دینا پڑتا، خمس وغیرہ نہیں ہے، اسی طرح یہ کان وغیرہ جو ہے اس کے اندر بھی خمس ان کے نزدیک واجب نہیں۔ إِلَّا إِذَا كَانَ الْمُسْتَخْرَجُ ذَهَبًا أَوْ فِضَّةً فَيَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ، مگر یہ کہ وہ چیز جس کو نکالا گیا ہے وہ سونا ہے یا چاندی ہے تو پھر اس میں زکوٰۃ واجب ہوگی۔ امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ کہ اگر وہ چیز جس کو نکالا گیا ہے وہ کیا ہے؟ سونا یا چاندی ہے تو اس میں زکوٰۃ واجب ہوگی کیونکہ سونے اور چاندی یہ تو ثمن ہیں، ان کے اندر تو ہر صورت میں زکوٰۃ واجب ہوتی ہے، تو اس وجہ سے ان میں واجب ہوگی۔ وَلَا يَشْتَرِطُ الْحَوْلَ فِي قَوْلٍ، اور وہ سال کی بھی شرط نہیں لگاتے فِي قَوْلٍ، ایک قول کے مطابق۔ ایک قول کے مطابق وہ فرماتے ہیں کہ سونا اور چاندی جو نکالا گیا ہے اس کے اندر سال گزرنے کی بھی شرط نہیں ہے بلکہ اس کے اندر اس کے اندر زکوٰۃ دینا پڑے گی، لِأَنَّهُ نَمَاءٌ كُلُّهُ، اس لیے کیونکہ وہ فرماتے ہیں: لِأَنَّهُ نَمَاءٌ كُلُّهُ، کیونکہ سال کا گزرنا کس لیے شرط ہوتا ہے؟ نماء کے لیے تاکہ اس میں زیادتی ہو جائے اور جبکہ یہ تو جو ہے نَمَاءٌ كُلُّهُ، یہ تو ساری کی ساری ہی نماء ہے بھئی، نماء ہے، زیادتی ہی ہے، اس میں اس کا کوئی خرچ وغیرہ نہیں، ساری نماء ہے، وَالْحَوْلُ لِلتَّنْمِيَةِ، اور سال تو بڑھانے کے لیے ہوتا ہے، تو یہاں اس کے اندر وہ فرماتے ہیں واجب ہوگی، سال کا گزرنا بھی شرط نہیں۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو وہ فرماتے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ: وَلَا يَشْتَرِطُ الْحَوْلَ فِي قَوْلٍ، وہ سال گزرنے کی شرط بھی نہیں لگاتے ایک قول کے مطابق، لِأَنَّهُ نَمَاءٌ كُلُّهُ، اس لیے کیونکہ یہ سارا کا سارا نماء ہی ہے، وَالْحَوْلُ لِلتَّنْمِيَةِ، اور سال تو بڑھانے کے لیے ہوتا ہے، نماء کے لیے ہوتا ہے۔ وَلَنَا، اور ہماری دلیل، ہمارے نزدیک خمس واجب ہے، ہماری دلیل: قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے، آپ نے فرمایا: ”وَفِي الرِّكَازِ الْخُمْسُ“، رکاز کے اندر خمس ہے، کس کے اندر؟ رکاز کے اندر خمس ہے، وَهُوَ مِنَ الرَّكْزِ، آگے صاحبِ ہدایہ معنی بیان کر رہے ہیں حدیث کا، کہتے ہیں: وَهُوَ مِنَ الرَّكْزِ، رکاز کس سے ہے؟ رَكْز سے ہے، رَكْز کا معنی ہے گاڑنا، گاڑنا، زمین کے اندر کوئی چیز گاڑ دینا۔ تو لہٰذا یہ رکاز جیسے خزانے کو شامل ہے، اسی طرح معدن کو بھی شامل ہے۔ جیسے خزانہ جو ہے اس کو انسان گاڑ دیتا ہے، تو جو کان ہے اس کے اندر جو سونا چاندی لوہا وغیرہ ہے، اس کو اللہ تعالیٰ نے اس زمین کے اندر گاڑ دیا، اس میں یعنی بنا دیا بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ تو لہٰذا یہ دونوں کو شامل ہے۔ وَهُوَ مِنَ الرَّكْزِ، اور یہ رَكْز سے ہے یعنی گاڑنے سے، فَأُطْلِقَ عَلَى الْمَعْدِنِ، تو معدن پر بھی اس کا اطلاق کیا گیا، تو یہاں رکاز سے وہ دونوں مراد ہیں ہمارے نزدیک بھئی، تو دونوں میں خمس آئے گا۔ وَلِأَنَّهَا كَانَتْ فِي أَيْدِي الْكَفَرَةِ وَحَوَتْهَا أَيْدِينَا غَلَبَةً فَكَانَتْ غَنِيمَةً وَفِي الْغَنَائِمِ الْخُمْسُ۔ دوسری دلیل ذکر کر رہے ہیں بھئی، کہتے ہیں: اس لیے کیونکہ یہ چیزیں جو تھیں کفار کے قبضے میں تھیں، کفار کے ہاتھوں میں تھیں، وَحَوَتْهَا أَيْدِينَا، اور ان کو جمع کر لیا، سمیٹ لیا ہمارے ہاتھوں نے، غَلَبَةً، بطور غلبہ کے، غلبہ کرتے کے طور پر، غلبہ پاتے ہوئے ان کو ہمارے ہاتھوں نے جمع کر لیا، فَكَانَتْ غَنِيمَةً، تو یہ تو یہ غنیمت ہے، وَفِي الْغَنَائِمِ الْخُمْسُ، اور غنیمتوں کے اندر خمس ہوتا ہے۔ غنیمتوں میں کتنا واجب ہے؟ خمس دینا پڑتا ہے بھئی، خمس دینا پڑتا ہے۔ تو یہ بھی یہ ساری زمین کس کے قبضے میں تھی پہلے؟ کفار کے، سمجھ میں آیا بھئی؟ کفار کے قبضے میں تھی اور پھر اسلام عرب سے آہستہ آہستہ پھیلتا چلا گیا، مسلمانوں کی مملکت وسیع ہوتی گئی، اسلام پھیلتا چلا گیا تو یہ چیزیں پہلے کس کے قبضے میں تھیں؟ کفار کے قبضے میں تھیں اور اب پھر مسلمانوں کے ہاتھ آ گئی ہیں تو یہ غنیمت ہے اور غنیمت کے اندر خمس واجب ہوتا ہے۔ بِخِلَافِ الصَّيْدِ، بخلاف شکار کے، یہ امام شافعی رحمہ اللہ کے قیاس کا جواب دے رہے۔ انہوں نے کس پر قیاس کیا تھا؟ شکار پر کہ جیسے شکار ہے وہ مباح ہے، جس کے ہاتھ لگ جائے اسی کا ہوتا ہے اور اس کے اندر خمس واجب نہیں، اسی طرح یہ سونے چاندی کی کانیں وغیرہ مل جائیں ان کے اندر بھی خمس واجب نہیں۔ جواب دے رہے ہیں کہ اس پر آپ قیاس نہیں کر سکتے کیونکہ شکار تو کسی کے قبضے میں نہیں تھا، وہ تو آزاد تھا وہ جانور وغیرہ اور جبکہ یہاں پر یہ جو مال وغیرہ یا کانیں تھیں، یہ زمینیں کس کے قبضے میں تھیں پہلے؟ کفار کے قبضے میں تھیں، پھر مسلمانوں کے ہاتھ میں آئی ہیں، تو گویا یہ کفار کے قبضے سے مسلمانوں کے ہاتھ لگا ہے یہ مال، اور مسلمانوں کے ہاتھ اس طرح جو مال آئے اس میں کیا واجب ہوتا ہے؟ خمس، تو اس میں بھی خمس واجب ہوگا، تو یہ شکار کی طرح نہیں ہے بھئی، وہ تو کسی کے قبضے میں نہیں تھا اور یہ تو پہلے کس کے قبضے میں تھیں؟ کفار کے قبضے میں۔ یہ معنی ہے: بِخِلَافِ الصَّيْدِ لِأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ فِي يَدِ أَحَدٍ، بخلاف شکار کے اس لیے کیونکہ وہ کسی کے قبضے میں نہیں تھا، إِلَّا أَنَّ لِلْغَانِمِينَ يَدًا حُكْمِيَّةً لِثُبُوتِهَا عَلَى الظَّاهِرِ وَأَمَّا الْحَقِيقِيَّةُ فَلِلْوَاجِدِ فَاعْتَبَرْنَا الْحُكْمِيَّةَ فِي حَقِّ الْخُمْسِ وَالْحَقِيقِيَّةَ فِي حَقِّ الْأَرْبَعَةِ الْأَخْمَاسِ حَتَّى كَانَتْ لِلْوَاجِدِ۔ ہاں، یہاں سے اب یہ بیان کر رہے ہیں کہ یوں کہیں، یہاں ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں۔ اعتراض یہ ہوتا ہے کہ آپ نے ہمیں بتلا دیا کہ یہ جو کان وغیرہ ملتی ہے، جو چیز ملتی ہے یہ کیا ہے دراصل؟ مالِ غنیمت ہے۔ اور مالِ غنیمت میں کیا دینا پڑتا ہے؟ خمس دینا پڑتا ہے، خمس واجب ہوتا ہے اس کے اندر۔ اور باقی چار خمس تو غنیمت والوں کے ہوتے ہیں یعنی وہ غازیوں کے ہوتے ہیں جو جہاد کر رہے ہیں جنہوں نے اس جگہ پر قبضہ کیا ہے مجاہدین نے، تو چار حصے کن کے ہوتے ہیں؟ ان مجاہدین، ان غازیوں کے ہوتے ہیں، تو یہاں پر بھی اسی طرح ہونا چاہیے کہ جب ایک حصہ جب یہ غنیمت ہے تو ایک حصہ یعنی پانچواں حصہ وہ تو خمس کا ہوا اور چار حصے کس کے ہونے چاہئیں؟ مجاہدین کے یعنی غازیوں کے ہونے چاہئیں، لیکن یہاں پر کیا کہا گیا کہ چار حصے اس شخص کے ہیں جس کو وہ کان ملی ہے، جس کے وہ قبضے میں ہے۔ تو تو یہ تو غنیمت والا پورا حکم نہیں آیا، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو غنیمت کا حکم تو کیا تھا، چار حصے کس کے ہونے چاہئیں؟ مجاہدین اور غازیوں کے ہونے چاہئیں اور یہاں پر چار حصے کس کے قرار دیے گئے؟ جس کا جس شخص کے قبضے میں ہے، جس کو وہ کان ملی ہے اس کے قرار دیے گئے۔ تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ غازی جو ہیں غازی، جب ان کا کسی چیز پر قبضہ ہوتا ہے تو جہاں حقیقتاً قبضہ ہوتا ہے وہاں حکماً قبضہ بھی آ جاتا ہے۔ کیا آ جاتا ہے؟ حکماً قبضہ بھی آ جاتا ہے۔ مثلاً غازیوں نے کفار سے کوئی مال چھین لیا تو حقیقتاً قبضہ کس کا اس وقت اس مال پر؟ غازیوں کا، اور حکماً بھی قبضہ کس کا؟ حکم بھی کیا لگایا جائے گا کس کا قبضہ ہے؟ غازیوں کا قبضہ ہے، تو حقیقتاً بھی قبضہ ان کا، حکماً بھی قبضہ ان کا۔ تو اس طرح کا جو مال ہوتا ہے جس میں غازیوں کا حقیقتاً بھی قبضہ ہو، حکماً بھی قبضہ ہو، اس کے اندر پانچواں حصہ خمس کا واجب ہوتا ہے اور باقی چار حصے کس کے ہوتے ہیں؟ غازیوں کے ہوتے ہیں۔ کس قسم کے مال میں؟ جہاں حقیقتاً قبضہ بھی ان کا ہو اور حکماً بھی قبضہ ان کا ہو۔ جبکہ یہاں پر ایسا نہیں ہے، یہاں پر غازیوں کا حکماً قبضہ تو ہے حقیقتاً نہیں۔ حکماً قبضہ کس طرح؟ کیونکہ یہ ساری جگہ پہلے کس نے فتح کی؟ غازیوں نے، اور جب یہ ساری زمین ان کے قبضے میں آئی تو زمین ہی کے اندر کان بھی تھی، وہ کان بھی کس کے قبضے میں آ گئی؟ غازیوں کے قبضے میں آئی، لیکن حکماً قبضہ ہے حقیقتاً نہیں غازیوں کا۔ کان پر حکماً قبضہ ہے کیونکہ حقیقتاً نہیں، حقیقت کے اعتبار سے تو غازیوں کو پتہ ہی نہیں تھا کان کا، یہ کان کا تو اب اس شخص کو آ کر پتہ لگا ہے۔ تو ان کا صرف قبضہ کون سا تھا؟ حکماً قبضہ تھا، حقیقتاً نہیں۔ حقیقتاً اور حکماً دونوں ہوں تو چار حصے غازیوں کے ہوتے ہیں اور ایک حصہ کس کا واجب ہے؟ خمس کا۔ لیکن یہاں پر غازیوں کا صرف حکماً قبضہ ہے حقیقتاً نہیں، حقیقتاً قبضہ تو اس آدمی کا ہے جس کو یہ کان ملی ہے، اس حقیقتاً اس وقت کس کے قبضے میں ہے؟ جس کو ملی ہے اس کے قبضے میں ہے۔ تو لہٰذا یہاں حقیقتاً قبضہ ہوا اس پانے والے کا اور حکماً قبضہ کس کا؟ غازیوں کا۔ تو ہم نے دونوں کا لحاظ رکھا، حکماً قبضہ چونکہ غازیوں کا ہے لہٰذا یہ غنیمت کے حکم میں ہے، اس میں کیا دینا پڑے گا؟ خمس پانچواں حصہ دینا پڑے گا۔ اور حقیقتاً قبضہ اس آدمی کا ہے، پانے والے کا ہے لہٰذا چار حصے وہ غازیوں کے نہیں ہوں گے بلکہ اس حقیقی قبضے والے کے ہوں گے۔ فرق سمجھ میں آ گیا بھئی؟ یہ معنی ہے: إِلَّا أَنَّ لِلْغَانِمِينَ يَدًا حُكْمِيَّةً لِثُبُوتِهَا عَلَى الظَّاهِرِ، مگر یہ کہ غنیمت والے جو ہیں یعنی غازی جو ہیں ان کا جو ہے يَدًا حُكْمِيَّةً، ان کا حکمی قبضہ ہے لِثُبُوتِهَا عَلَى الظَّاهِرِ، بوجہ اس قبضے کے ظاہر پر ثابت ہونے کے، اس وجہ سے کہ وہ قبضہ کس پر ثابت ہے؟ بھئی کان تو زمین کے اندر چھپی ہوئی ہے لیکن ظاہری زمین پر کس کا قبضہ پہلے؟ غازیوں کا، تو ظاہر پر اس قبضے کے ثبوت کی وجہ سے کہا جائے گا کہ غازیوں کا قبضہ کان پر بھی آ گیا۔ کس پر آ گیا؟ لیکن کان پر حقیقتاً قبضہ آیا یا حکماً آیا؟ حکماً آیا۔ حقیقتاً کیوں نہیں آیا؟ غازیوں کو پتہ ہی نہیں ہے یہاں پر کان، ہاں زمین قبضے میں ہے تو حکم کیا آ گیا، یہ بھی کس کے قبضے میں ہے؟ غازیوں، لیکن حقیقی قبضہ بہرحال نہیں ہے۔ فرق سمجھ میں آ گیا؟ یہ معنی ہے کہ إِلَّا أَنَّ لِلْغَانِمِينَ يَدًا حُكْمِيَّةً، مگر یہ کہ غنیمت والے جو ہیں ان کا حکمی قبضہ ہے، لِثُبُوتِهَا عَلَى الظَّاهِرِ، اس وجہ سے کہ یہ قبضہ ثابت ہے ظاہر پر، وَأَمَّا الْحَقِيقِيَّةُ فَلِلْوَاجِدِ، باقی حقیقی قبضہ جو ہے وہ اس پانے والے کا ہے جس نے اس کان کو پایا ہے جس کو یہ کان ملی ہے، فَاعْتَبَرْنَا الْحُكْمِيَّةَ فِي حَقِّ الْخُمْسِ، تو خمس کے حق میں ہم نے کس کا اعتبار کیا؟ حکمی قبضے کا اعتبار کیا اور حکمی قبضہ تو کس کا تھا؟ غازیوں کا، اور غازیوں کو جو مال ملتا ہے وہ مالِ غنیمت ہے اور مالِ غنیمت میں کیا واجب ہوتا ہے؟ خمس ہوتا ہے تو اس میں بھی خمس واجب ہوگا، تو ہم نے حکمی قبضے کا اعتبار کیا خمس کے حق میں، وَالْحَقِيقِيَّةَ فِي حَقِّ الْأَرْبَعَةِ الْأَخْمَاسِ، اور ہم نے حقیقی قبضے کا اعتبار کیا چار خمس کے حق میں کہ چار خمس جو ہیں وہ کس کے ہوں گے؟ جس کا حقیقی قبضہ ہے، تو ان میں ہم نے حقیقی قبضے کا اعتبار کیا، حَتَّى كَانَتْ لِلْوَاجِدِ، یہاں تک کہ یہ چار خمس جو ہیں پانے والے کے ہوں گے۔ وَلَوْ وَجَدَ فِي دَارِهِ مَعْدِنًا فَلَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ۔ مسئلہ یہ بھئی، ایک شخص ہے اس کو اپنے گھر کے اندر کان مل گئی بھئی، سونے، چاندی یا لوہے کی کان کہاں نکل آئی؟ گھر میں، تو کیا اس کے اندر بھی خمس ہوگا یا نہیں؟ تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ اس کے اندر خمس نہیں۔ جبکہ صاحبین کیا فرماتے ہیں؟ اس کے اندر بھی خمس واجب ہے بھئی۔ یہ معنی ہے: وَلَوْ وَجَدَ فِي دَارِهِ مَعْدِنًا فَلَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ، اور اگر پانے والے نے اپنے گھر میں کان پا لی تو اس میں کچھ نہیں ہے یعنی خمس واجب نہیں ہے امام صاحب کے نزدیک، وَقَالَا فِيهِ الْخُمْسُ، اور صاحبین فرماتے ہیں: اس میں بھی خمس واجب ہے۔ دلیل صاحبین کی، کہتے ہیں: لِإِطْلَاقِ مَا رَوَيْنَا، بوجہ مطلق ہونے کے اس حدیث کے جس کو ہم نے روایت کیا۔ کون سی حدیث بھئی؟ حدیث میں کیا آیا تھا؟ ”وَفِي الرِّكَازِ الْخُمْسُ“، اور رکاز کے اندر خمس ہے اور یہاں رکاز شامل ہے خزانے کو بھی اور معدن یعنی کان کو بھی شامل ہے، اور وہاں کوئی قید تھی کہ گھر میں ہو تو واجب نہیں، گھر سے باہر ہو تو واجب ہے؟ کوئی قید وہاں پر نہیں، تو وہ حدیث مطلق تھی تو لہٰذا اس کے اطلاق کا تقاضا یہ ہے کہ گھر کے اندر کان ملے تو اس میں بھی کیا واجب ہونا چاہیے؟ خمس ہونا چاہیے۔ یہ معنی ہے، صاحبین فرماتے ہیں: اس میں خمس ہوگا، لِإِطْلَاقِ مَا رَوَيْنَا، بوجہ مطلق ہونے کے اس حدیث کے جس کو ہم نے روایت کیا۔ وَلَهُ، اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے: أَنَّهُ مِنْ أَجْزَاءِ الْأَرْضِ مُرَكَّبٌ فِيهَا، کہ یہ جو کان یا کان میں سے جو چیز نکلی ہے، یاد رکھیے معدن کان کو بھی کہتے ہیں اور کان میں سے جو دھات نکلتی ہے چاہے سونا ہے، چاندی ہے، لوہا ہے، اس دھات کو بھی کیا کہتے ہیں؟ اس کو بھی معدن کہتے ہیں، اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ معدن کہتے ہیں۔ تو معدن کان اور کان سے جو چیز نکلی ہے دونوں پر معدن کا لفظ۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ جو کان ہے یا یہ جو اس میں سے دھات نکلی ہے، مِنْ أَجْزَاءِ الْأَرْضِ، یہ کس کے اجزاء میں سے ہے؟ یہ زمین کے اجزاء میں سے ہے، مُرَكَّبٌ فِيهَا، جو اسی کے اندر مرکب کی گئی ہے، اس کے ساتھ یعنی ملا دی گئی ہے۔ بھئی میں نے بتایا یہ سونا، چاندی وغیرہ کانوں سے نکالتے ہیں اور کان میں یہ کس شکل میں ہوتے ہیں؟ ذرات کی صورت میں، کس طرح؟ ذرات۔ بھئی جیسے یہ آپ ریت ہے نا ریت، اسی کے اندر جیسے سونے کے ذرات ملا دیں، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ اسی طرح یہ ذرات کی صورت میں یہ دھاتیں زمین میں ہوتی ہیں اور پھر وہاں سے زمین سے وہ پتھر وغیرہ نکالتے ہیں اور پھر بڑا لمبا عمل ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ ایک ایک ذرے کو علیحدہ کر کے نکالا جاتا ہے اس میں سے، سمجھ میں آیا بھئی طریقہ؟ تو یہ، تو یہ کہتے ہیں امام صاحب فرماتے ہیں: أَنَّهُ مِنْ أَجْزَاءِ الْأَرْضِ مُرَكَّبٌ فِيهَا، یہ کان کس میں سے تھی یا یہ دھات کس میں سے تھی؟ زمین کے اجزاء میں سے تھی، مُرَكَّبٌ فِيهَا، جو اسی کے ساتھ ملائی گئی تھی، زمین کے ساتھ ملائے ہوئے مٹی کی طرح اس کے ساتھ ملی ہوئی ہیں، وَلَا مُؤْنَةَ فِي سَائِرِ الْأَجْزَاءِ فَكَذَا فِي هَذَا الْجُزْءِ، اور کوئی خرچہ یا کوئی مشقت نہیں ہے باقی اجزاء کے اندر، تو اسی طرح اس جزء میں بھی ہوگا۔ اسی طرح بھئی دیکھیے، گھر ہے کسی کا گھر، زمین ہے اس زمین کے اندر آپ فصل وغیرہ کاشت کرتے ہیں تو خراجی زمین ہے تو اس میں شریعت نے خراج واجب کیا ہے اور عشری زمین ہے تو اس میں شریعت نے عشر واجب کیا ہے، لیکن کیا گھر کے اندر خراج یا عشر ہوتا ہے؟ گھر میں تو خراج یا عشر گھر میں کوئی خرچہ وغیرہ شریعت نے کوئی چیز انسان پر نہیں ڈالی، کوئی خراج نہیں، کوئی عشر نہیں، تو جب پورے گھر پر کوئی خرچہ نہیں شریعت کی طرف سے یعنی کوئی چیز واجب نہیں، نہ خراج ہے نہ اور نہ عشر ہے اور یہ کان بھی اسی کے اجزاء، زمین کے اجزاء میں سے ایک جزء ہے، تو جب باقی زمین کے اندر شریعت نے کچھ واجب نہیں کیا تو یہ کان جو گھر کے اندر سے نکلی ہے اس کے اندر بھی کچھ واجب نہیں ہوگا، دلیل سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے کہ یہ کیونکہ یہ زمین کے اجزاء میں سے ہے، مُرَكَّبٌ فِيهَا، اس کے اندر اس کو ملایا گیا ہے، وَلَا مُؤْنَةَ فِي سَائِرِ الْأَجْزَاءِ، اور باقی اجزاء کے اندر تو کوئی مشقت یعنی خرچہ نہیں ہے یعنی شرعاً کوئی چیز واجب نہیں ہے، فَكَذَا فِي هَذَا الْجُزْءِ، تو اسی طرح اس جزء کے اندر بھی ہوگا یعنی اس میں بھی کچھ واجب نہیں ہوگا، لِأَنَّ الْجُزْءَ لَا يُخَالِفُ الْجُمْلَةَ، اس لیے کیونکہ جزء جو ہوتا ہے وہ کُل کا مخالف نہیں ہوتا، جو کُل کا حکم ہوتا ہے وہی جزء کا، اور کُل گھر کے اندر تو کچھ واجب نہیں تو اس جزء کے اندر بھی کچھ واجب نہیں ہے یعنی اس میں خمس نہیں ہوگا۔ بِخِلَافِ الْكَنْزِ، بخلاف كنز کے یعنی خزانے کے، لِأَنَّهُ غَيْرُ مُرَكَّبٍ فِيهَا، اس لیے کیونکہ وہ زمین کے اندر مرکب نہیں ہے بھئی۔ خزانہ زمین کے ساتھ مرکب تھا، ملا ہوا تھا یا بعد میں کسی نے اس کو دفنایا ہے؟ وہ تو بعد میں کسی نے دفنایا ہے جبکہ یہ کان اور یہ دھات وغیرہ اس کو تو اللہ تعالیٰ نے اس زمین کے اندر اسی طرح پیدا فرمایا ہے بھئی، تو لہٰذا ان کا وہ حکم ہوگا جو زمین کا حکم ہے۔ زمین میں اگر شریعت نے کچھ واجب کیا ہے تو پھر ان میں بھی کیا کہیں گے؟ واجب ہے۔ اگر اس زمین میں کچھ نہیں واجب جیسے گھر کے اندر ہوتا ہے تو جو اس میں کان نکلی اس کے اندر بھی کچھ واجب نہیں ہوگا بھئی۔ جبکہ خزانے کا یہ حکم نہیں ہے کیونکہ خزانہ زمین کے اندر مرکب نہیں تھا، اس کو بعد میں کسی نے اس میں دفنایا ہے بھئی۔ دلیل بھی سمجھ میں آئی کہ نہیں آئی بھئی؟ یہ معنی ہے: بِخِلَافِ الْكَنْزِ لِأَنَّهُ غَيْرُ مُرَكَّبٍ فِيهَا، بخلاف خزانے کے اس لیے کیونکہ وہ زمین کے اندر مرکب نہیں ہوتا۔ قَالَ: وَإِنْ وَجَدَ فِي أَرْضِهِ فَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ فِيهِ رِوَايَتَانِ۔ یہ تو مسئلہ تھا کہ کسی شخص کو کان ملی اپنے گھر میں، کان گھر میں نکل آئی بھئی۔ دوسری صورت ہے گھر کے اندر نہیں ملی، اپنی زمین کے اندر ملی، اپنی مملوکہ زمین کے اندر، اس کی زمین تھی، کھیت تھا، باغ تھا، اس کے اندر کیا نکل آئی؟ کان نکل آئی بھئی، تو اس کا کیا حکم ہے؟ کہتے ہیں: وَإِنْ وَجَدَ فِي أَرْضِهِ، اور اگر کان کو پا لیا اپنے اپنی زمین کے اندر، فَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ فِيهِ رِوَايَتَانِ، تو امام صاحب سے اس بارے میں دو روایتیں ہیں۔ ایک روایت تو یہ ہے کہ اس میں خمس واجب ہے اور دوسری روایت کیا؟ کہ اس میں خمس واجب بھئی دو روایتیں ہیں نا، اسی سے پتہ چل گیا، ایک روایت کیا ہے کہ اس کے اندر خمس واجب ہے، دوسری روایت کیا؟ خمس واجب نہیں۔ تو جو روایت تھی کہ اس میں خمس واجب نہیں اس میں یہ تو پہلے قول کے مطابق ہوئی، پہلے قول کے اور دوسرا قول کیا آیا؟ خمس واجب ہے، تو اس میں فرق کیا گیا معلوم ہوا، گھر میں نکلنے والی کان میں اور زمین کے اندر مملوکہ زمین میں نکلنے والی کان کے اندر فرق کیا گیا، گھر میں جو کان نکلے اس میں تو کچھ واجب نہیں لیکن زمین میں جو نکلے اس میں واجب۔ تو اس میں فرق کی وجہ کیا ہے وہ وجہ آگے آپ کو بتائیں گے۔ کہتے ہیں: وَوَجْهُ الْفَرْقِ عَلَى إِحْدَاهُمَا، اور فرق کی وجہ ایک روایت پر، وَهُوَ رِوَايَةُ الْجَامِعِ الصَّغِيرِ، اور وہ کس کی روایت ہے؟ جامع صغیر کی کہ اس میں خمس ہوگا تو اس کے مطابق فرق کی وجہ یہ ہے: أَنَّ الدَّارَ مُلِّكَتْ خَالِيَةً عَنِ الْمُؤَنِ دُونَ الْأَرْضِ، اس لیے کیونکہ گھر جو ہے وہ مملوک ہوتا ہے اس حال میں کہ وہ خالی ہوتا ہے مشقت سے۔ گھر جو ہوتا ہے وہ مملوک ہوتا ہے اس حال میں کہ وہ مشقت سے خالی ہوتا ہے یعنی اس میں کوئی شرع شریعت کی طرف سے کوئی خرچہ وغیرہ عشر یا خراج وغیرہ اس میں نہیں ہوتا، دُونَ الْأَرْضِ، نہ کہ زمین۔ زمین خالی نہیں ہوتی، زمین میں ہمیشہ کیا دینا پڑتا ہے؟ خراج یا عشر دینا پڑتا ہے تو اس اعتبار سے زمین اس گھر سے مختلف ہوئی، تو گھر کے اندر جو ہو اس کے اندر خمس نہیں اور زمین میں جو کان نکلے اس میں کیا دینا پڑے گا؟ خمس کیونکہ زمین کے اندر شریعت نے بھی خراج یا عشر واجب کیا ہے۔ وَلِهَذَا، اور اسی وجہ سے، وَجَبَ الْعُشْرُ وَالْخَرَاجُ فِي الْأَرْضِ دُونَ الدَّارِ، عشر اور خراج واجب ہوتا ہے زمین میں دُونَ الدَّارِ نہ کہ گھر میں، فَكَذَا هَذِهِ الْمُؤْنَةُ، اسی طرح یہ خرچہ بھی ہوگا یا یہ مشقت بھی ہوگی یعنی جیسے زمین میں عشر اور خراج واجب ہوتا ہے اسی طرح یہ خمس بھی واجب ہوگا۔ وَإِنْ وَجَدَ رِكَازًا أَيْ كَنْزًا وَجَبَ فِيهِ الْخُمْسُ عِنْدَهُمْ، اور اگر رکاز پایا، کسی شخص کو خزانہ ملا، دفینہ کوئی زمین کے اندر مل گیا، خود معنی بیان کر رہے ہیں، میں نے بتلایا تھا بھئی رکاز کا اطلاق معدن پر بھی ہوتا ہے اور كَنْز یعنی خزانے پر بھی، تو بتلا دیا انہوں نے: رِكَازًا أَيْ كَنْزًا، یعنی کہ خزانہ۔ تو اگر خزانہ پایا، وَجَبَ فِيهِ الْخُمْسُ عِنْدَهُمْ، تو اس کے اندر خمس واجب ہوگا ہمارے ائمہ کے نزدیک یعنی تینوں ائمہ کے نزدیک، لِمَا رَوَيْنَا، اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے روایت کر دی اور وہ حدیث کیا تھی؟ ”وَفِي الرِّكَازِ الْخُمْسُ“، رکاز کے اندر خمس واجب ہے تو اس میں خمس ہوگا۔ آگے صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: وَاسْمُ الرِّكَازِ يُطْلَقُ عَلَى الْكَنْزِ لِمَعْنَى الرَّكْزِ وَهُوَ الْإِثْبَاتُ، کہ رکاز کا اسم جو ہے اس کا اطلاق خزانے پر بھی ہوتا ہے، لِمَعْنَى الرَّكْزِ، رَكْز یعنی گاڑنے کے معنی، رَكْز کے معنی پائے جانے کی وجہ سے، لِمَعْنَى الرَّكْزِ، رَكْز کا معنی پائے جانے کی وجہ سے، وَهُوَ الْإِثْبَاتُ، اور رَكْز کا کیا معنی ہے؟ اثبات، کسی چیز کو ثابت کرنا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ وہی ثابت کرنا یعنی گاڑنا، اس کو رکھ دینا۔ ثُمَّ إِنْ كَانَ عَلَى ضَرْبِ أَهْلِ الْإِسْلَامِ كَالْمَكْتُوبِ، یہاں سے آپ کو یہ بتلا رہے ہیں کہ خزانہ ملتا ہے تو اس کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں بھئی، دو صورتیں: کہ اس میں کوئی نشانی ملے گی یا اس پر کوئی نشانی نہیں لگی ہوگی۔ نشانی ملتی ہے مثلاً جس سے پتہ چلتا ہے اس کو کسی مسلمان نے دفن کیا ہے، مثلاً اس میں کوئی کلمۂ شہادت وغیرہ یا اس طرح کی کوئی چیز لکھی ہوئی ہے جس سے کیا پتہ چلتا ہے کہ اس کو کس نے دفن کیا ہے؟ مسلمان۔ یا نشانی ملتی ہے غیر مسلموں کی کوئی، مثلاً خزانے کے اندر کوئی بت کی صورت بنی ہوئی ہے وغیرہ بھئی۔ سمجھ گئے؟ تو یہ صورت تھی جب نشانی ملے۔ اور ایک صورت یہ ہے کہ جس میں نشانی نہیں ملتی، پتہ ہی نہیں کہ اس کو کس نے دفنایا، مسلمانوں نے یا کافروں نے۔ تو وہ اب پہلے جس کی نشانی ملتی ہے، اگر مسلمانوں کی نشانی اس پر لگی ہوئی ہے تو پھر کیا حکم ہے؟ کفار کی نشانی لگی ہے کیا حکم ہے؟ تو کفار کی نشانی لگی ہو پھر تو وہی مالِ غنیمت والا حکم ہے، خمس دینا پڑے گا اور باقی پانے والے کا۔ جبکہ مسلمانوں کی اگر نشانی اس پر لگی ہوئی ہے پھر یاد رکھیے، پھر یہ لقطہ کے حکم میں ہے۔ کس کے حکم میں؟ لقطہ۔ لقطہ، کوئی چیز کسی کو راستے میں پڑی ہوئی مل جائے اس کو لقطہ کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ لقطہ۔ تو کوئی چیز اگر کسی کی آپ کو راستے میں پڑی ہوئی مل جائے تو کیا آپ مالک بن جاتے ہیں اس کے؟ نہیں، بلکہ کیا ضروری ہے آپ پر؟ اس کے مالک کو تلاش کریں اور اس تک پہنچائیں، تو اس خزانے میں جس میں مسلمانوں کی نشانی ہے اس میں بھی آپ پر کیا ضروری ہے؟ کہ آپ اعلانات کروائیں، پتہ کروائیں یہ کس کا ہے اور مالک تک پہنچائیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ثُمَّ إِنْ كَانَ عَلَى ضَرْبِ أَهْلِ الْإِسْلَامِ، پھر یہ خزانہ جو ہے اگر اہل اسلام کی قسم پر تھا، كَالْمَكْتُوبِ عَلَيْهِ كَلِمَةُ الشَّهَادَةِ، جیسے کہ لکھا ہوا ہو اس پر کلمۂ شہادت، فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ اللُّقَطَةِ، تو یہ کس کے درجے میں ہے؟ لقطہ کے درجے میں ہے۔ جی، تو لقطہ کے اندر پھر اعلان کروانا پڑے گا، پتہ کروائیں گے بھئی۔ اور کتاب اللقطہ کے اندر آپ نے پڑھا ہوگا قدوری وغیرہ کے اندر کہ دس درہم یا اس سے زائد مال ہو تو کم از کم ایک سال تک اعلانات کرواتا رہے، پتہ کرتا رہے کہ کہیں سے اس کے مالک کا پتہ چل جائے، سمجھ میں آیا؟ اور بَابٌ فِي المَعَادِنِ وَالرِّكَازِ قَالَ مَعْدِنُ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ أَوْ حَدِيدٍ أَوْ رَصَاصٍ أَوْ صُفْرٍ وُجِدَ فِي أَرْضِ خَرَاجٍ أَوْ عُشْرٍ فَفِيهِ الخُمْسُ عِنْدَنَا، وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى لَا شَيْءَ عَلَيْهِ فِيهِ لِأَنَّهُ مُبَاحٌ سَبَقَتْ يَدُهُ إِلَيْهِ كَالصَّيْدِ. بَابٌ فِي المَعَادِنِ وَالرِّكَازِ۔ مَعَادِن یاد رکھیے یہ جمع ہے مَعْدِن کی، اور مَعْدِن کہتے ہیں کان کو کان۔ آپ جانتے ہیں سونا، چاندی، لوہا وغیرہ زمین سے نکالے جاتے ہیں اور ان کی کانیں ہوتی ہیں زمین میں باقاعدہ کھدائی کر کے ان کے وہاں جو پتھر ہوتے ہیں، ان پتھروں کے اندر پتھر اور اس جو مٹی ہوتی ہے، اس میں یہ سونے، چاندی وغیرہ ذرات کی صورت میں ہوتے ہیں۔ تو پھر ان کو ان سے جدا کیا جاتا ہے اور تو یہ وہ جگہ جہاں سے ان کو نکالا جاتا ہے وہ کیا کہلاتی ہے؟ کان کہلاتی ہے، کان۔ کان کو عربی میں مَعْدِن کہتے ہیں اور جمع ہے مَعَادِن۔ اور رِکَاز جو ہے رِکَاز، یہ کان کو بھی شامل ہے، کان کو بھی کہتے ہیں اور اسی طرح زمین کے اندر جو خزانہ یا مال وغیرہ دفنا دیا گیا ہے، چھپا دیا گیا ہے، تو اس دفینے کو بھی کیا کہتے ہیں؟ رِکَاز کہتے ہیں۔ تو گویا رِکَاز کا لفظ شامل ہے یہ مَعْدِن کو بھی اور کَنْز، کَنْز جو خزانہ ہوتا ہے زمین میں دفنایا گیا، اس کو بھی، دونوں کو شامل ہے۔ لیکن یہاں پر رِکَاز سے مراد وہ خزانہ ہے کیونکہ مَعَادِن اس کے مقابلے پر آ رہا ہے، تو اب معلوم ہوا مَعْدِن کے علاوہ چیز مراد ہے اور یہ دو چیزوں کو شامل تھا: ایک مَعْدِن کو اور ایک کَنْز یعنی خزانے کو، تو یہاں اب کیا مراد ہے؟ خزانہ، کیونکہ مَعَادِن کا خود ذکر آ گیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو بَابٌ فِي المَعَادِنِ وَالرِّكَازِ، یہ باب ہے کانوں اور زمین میں دفن کیے ہوئے خزانے کے بیان میں۔ قَالَ، امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جامع صغیر میں۔ میں نے آپ کو پہلے بتلایا تھا کہ یہ باب اور جو پہلے اس سے پہلے پچھلا باب گزرا، یہ دونوں قدوری کے اندر نہیں ہیں، معلوم ہوا صاحبِ ہدایہ نے کہاں سے لیے ہیں؟ جامع صغیر سے لیے ہیں جو امام محمد رحمہ اللہ کی تصنیف ہے۔ تو قَالَ، امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مَعْدِنُ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ أَوْ حَدِيدٍ أَوْ رَصَاصٍ أَوْ صُفْرٍ وُجِدَ فِي أَرْضِ خَرَاجٍ أَوْ عُشْرٍ فَفِيهِ الخُمْسُ عِنْدَنَا۔ مَعْدِنُ ذَهَبٍ، سونے کی کان، أَوْ فِضَّةٍ، یا چاندی کی کان، أَوْ حَدِيدٍ، یا لوہے کی کان، أَوْ رَصَاصٍ، یا رصاص کی کان۔ رصاص بھئی یہ کوئی سفید دھات ہے جس سے برتن وغیرہ بنائے جاتے ہیں اور اردو میں اس کو رانگ کہتے ہیں، رانگ۔ را، الف، نون اور گاف، رانگ۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور غالباً یہ وہ دھات ہوگی یہ جو آپ برتن دیکھتے ہیں سفید عام، ایک تو سٹیل کے برتن ہیں، ایک پلاسٹک کے ہیں اور یہ جو عام سفید، سلور غالباً کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ ہاں سلور جس کو کہتے ہیں، یہ وہ دھات ہوگی بھئی۔ تو رصاص وہ دھات جس سے وہ برتن بنائے جاتے ہیں جسے سلور آپ حضرات سلور کہتے ہیں۔ اسی طرح رصاص جو ہے سیسے کو بھی کہتے ہیں، سیسے کو بھی بھئی۔ أَوْ صُفْرٍ، صُفْر کہتے ہیں پیتل کو بھئی، پیتل، جس سے برتن وغیرہ بنتے ہیں بھئی۔ تو سونے یا چاندی یا لوہے یا رانگ یا پیتل کی جو کان ہے، وُجِدَ فِي أَرْضٍ، جس کو زمین میں پایا جائے، وُجِدَ فِي أَرْضِ خَرَاجٍ أَوْ عُشْرٍ، پایا جائے اس کو خراجی زمین میں یا عشری زمین میں، یعنی جس زمین میں بھی ملے چاہے خراجی زمین ہو چاہے عشری، فَفِيهِ الخُمْسُ عِنْدَنَا، تو اس کے اندر خمس واجب ہے ہمارے نزدیک، پانچواں حصہ بھئی، دینا پڑے گا۔ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ لَا شَيْءَ عَلَيْهِ فِيهِ، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس شخص پر اس اس کے اندر کچھ بھی واجب نہیں ہے، یہ جو سونے چاندی وغیرہ کی کان ہے، لوہے کی، لِأَنَّهُ مُبَاحٌ، وہ فرماتے ہیں لِأَنَّهُ مُبَاحٌ، اس لیے کیونکہ یہ مباح چیز ہے بھئی، سَبَقَتْ يَدُهُ إِلَيْهِ، جس کی طرف اس کا ہاتھ سبقت کر گیا۔ یاد رکھیے يَد جیسے ہاتھ کو کہتے ہیں، اسی طرح يَد کا معنی قبضے کے بھی آتا ہے، تو موقع محل کے مطابق جو مناسب ترجمہ بنتا ہو آپ کر سکتے ہیں۔ تو وہ فرماتے ہیں لِأَنَّهُ مُبَاحٌ، یہ ایک مباح چیز ہے بھئی، یعنی جو بھی اس کو حاصل کرنا چاہے، حاصل کر سکتا ہے، پا سکتا ہے، تو یہ ایک مباح چیز ہے، ایسی مباح چیز ہے سَبَقَتْ يَدُهُ إِلَيْهِ، کہ جس کی طرف اس کا ہاتھ سبقت کر گیا، یعنی پہلے اس کا ہاتھ اس تک پہنچ گیا ہے، اس کا قبضہ پہلے اس تک پہنچ گیا ہے، كَالصَّيْدِ، جیسے کہ شکار ہوتا ہے۔ شکار بھی شکار بھی جائز ہے، مباح ہے اور جو جس جانور کو شکار کر لیتا ہے وہی اس کا مالک ہوتا ہے، تو یہ بھی اسی طرح ہے، جس کو یہ کان وغیرہ مل جائے وہی اس کا مالک ہے بھئی۔ إِلَّا إِذَا كَانَ المَسْتَخْرَجُ ذَهَبًا أَوْ فِضَّةً۔ اچھا، تو جیسے بھئی اس شکار کے اندر کوئی حصہ نہیں دینا پڑتا، خمس وغیرہ نہیں ہے، اسی طرح یہ کان وغیرہ جو ہے اس کے اندر بھی خمس ان کے نزدیک واجب نہیں۔ إِلَّا إِذَا كَانَ المَسْتَخْرَجُ ذَهَبًا أَوْ فِضَّةً فَيَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ، مگر یہ کہ وہ چیز جس کو نکالا گیا ہے وہ سونا ہے یا چاندی ہے، تو پھر اس میں زکوٰۃ واجب ہوگی۔ امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ کہ اگر وہ چیز جس کو نکالا گیا ہے وہ کیا ہے؟ سونا یا چاندی ہے، تو اس میں زکوٰۃ واجب ہوگی۔ کیونکہ سونے اور چاندی یہ تو ثمن ہیں، ان کے اندر تو ہر صورت میں زکوٰۃ واجب ہوتی ہے، تو اس وجہ سے ان میں واجب ہوگی۔ وَلَا يَشْتَرِطُ الحَوْلَ فِي قَوْلٍ، اور وہ سال کی بھی شرط نہیں لگاتے فِي قَوْلٍ، ایک قول کے مطابق۔ ایک قول کے مطابق یہ وہ فرماتے ہیں کہ سونا اور چاندی جو نکالا گیا ہے، اس کے اندر سال گزرنے کی بھی شرط نہیں ہے بلکہ اس کے اندر اس کے اندر زکوٰۃ دینا پڑے گی۔ لِأَنَّهُ نَمَاءٌ كُلُّهُ، اس لیے کیونکہ وہ فرماتے ہیں لِأَنَّهُ نَمَاءٌ كُلُّهُ، کیونکہ سال کا گزرنا کس لیے شرط ہوتا ہے؟ نماء کے لیے تاکہ اس میں زیادتی ہو جائے اور جبکہ یہ تو جو ہے نَمَاءٌ كُلُّهُ، یہ تو ساری کی ساری ہی نماء ہے بھئی، نماء ہے، زیادتی ہی ہے، اس میں اس کا کوئی خرچ وغیرہ نہیں، ساری نماء ہے، وَالحَوْلُ لِلتَّنْمِيَةِ، اور سال تو بڑھانے کے لیے ہوتا ہے، تو یہاں اس کے اندر وہ فرماتے ہیں واجب ہوگی، سال کا گزرنا بھی شرط نہیں۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو وہ فرماتے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ لَا يَشْتَرِطُ الحَوْلَ فِي قَوْلٍ، وہ سال گزرنے کی شرط بھی نہیں لگاتے ایک قول کے مطابق، لِأَنَّهُ نَمَاءٌ كُلُّهُ، اس لیے کیونکہ یہ سارا کا سارا نماء ہی ہے، وَالحَوْلُ لِلتَّنْمِيَةِ، اور سال تو بڑھانے کے لیے ہوتا ہے، نماء کے لیے ہوتا ہے۔ وَلَنَا، اور ہماری دلیل، ہمارے نزدیک خمس واجب ہے۔ ہماری دلیل: قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے، آپ نے فرمایا: ”وَفِي الرِّكَازِ الخُمْسُ“، رکاز کے اندر خمس ہے، کس کے اندر؟ رکاز کے اندر خمس ہے، وَهُوَ مِنَ الرَّكْزِ، آگے صاحبِ ہدایہ معنی بیان کر رہے ہیں حدیث کا، کہتے ہیں: وَهُوَ مِنَ الرَّكْزِ، رکاز کس سے ہے؟ رَکْز سے ہے، رَکْز کا معنی ہے گاڑنا، گاڑنا، زمین کے اندر کوئی چیز گاڑ دینا۔ تو لہٰذا یہ رکاز جیسے خزانے کو شامل ہے، اسی طرح معدن کو بھی شامل ہے۔ جیسے خزانہ جو ہے اس کو انسان گاڑ دیتا ہے، تو جو کان ہے اس کے اندر جو سونا چاندی لوہا وغیرہ ہے، اس کو اللہ تعالیٰ نے اس زمین کے اندر گاڑ دیا، اس میں یعنی بنا دیا بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ تو لہٰذا یہ دونوں کو شامل ہے۔ وَهُوَ مِنَ الرَّكْزِ، اور یہ رکز سے ہے یعنی گاڑنے سے، فَأُطْلِقَ عَلَى المَعْدِنِ، تو معدن پر بھی اس کا اطلاق کیا گیا، تو یہاں رکاز سے دونوں مراد ہیں ہمارے نزدیک بھئی، تو دونوں میں خمس آئے گا۔ وَلِأَنَّهَا كَانَتْ فِي أَيْدِي الكَفَرَةِ وَحَوَتْهَا أَيْدِينَا غَلَبَةً فَكَانَتْ غَنِيمَةً وَفِي الغَنَائِمِ الخُمْسُ، دوسری دلیل ذکر کر رہے ہیں بھئی، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ یہ چیزیں جو تھیں کفار کے قبضے میں تھیں، کفار کے ہاتھوں میں تھیں، وَحَوَتْهَا أَيْدِينَا، اور ان کو جمع کر لیا، سمیٹ لیا ہمارے ہاتھوں نے، غَلَبَةً، بطور غلبہ کے، غلبہ کرتے کے طور پر، غلبہ پاتے ہوئے ان کو ہمارے ہاتھوں نے جمع کر لیا، فَكَانَتْ غَنِيمَةً، تو یہ تو یہ غنیمت ہے، وَفِي الغَنَائِمِ الخُمْسُ، اور غنیمتوں کے اندر خمس ہوتا ہے۔ غنیمتوں میں کتنا واجب ہے؟ خمس دینا پڑتا ہے بھئی، خمس دینا پڑتا ہے۔ تو یہ بھی یہ ساری زمین کس کے قبضے میں تھی پہلے؟ کفار کے، سمجھ میں آیا بھئی؟ کفار کے قبضے میں تھی اور پھر اسلام عرب سے آہستہ آہستہ پھیلتا چلا گیا، مسلمانوں کی مملکت وسیع ہوتی گئی، اسلام پھیلتا چلا گیا، تو یہ چیزیں پہلے کس کے قبضے میں تھیں؟ کفار کے قبضے میں تھیں اور اب پھر مسلمانوں کے ہاتھ آ گئی ہیں، تو یہ غنیمت ہے اور غنیمت کے اندر خمس واجب ہوتا ہے۔ بِخِلَافِ الصَّيْدِ، بخلاف شکار کے، یہ امام شافعی رحمہ اللہ کے قیاس کا جواب دے رہے ہیں۔ انہوں نے کس پر قیاس کیا تھا؟ شکار پر، کہ جیسے شکار ہے وہ مباح ہے، جس کے ہاتھ لگ جائے اسی کا ہوتا ہے اور اس کے اندر خمس واجب نہیں، اسی طرح یہ سونے چاندی کی کانیں وغیرہ مل جائیں، ان کے اندر بھی خمس واجب نہیں۔ جواب دے رہے ہیں کہ اس پر آپ قیاس نہیں کر سکتے، کیونکہ شکار تو کسی کے قبضے میں نہیں تھا، وہ تو آزاد تھا وہ جانور وغیرہ اور جبکہ یہاں پر یہ جو مال وغیرہ یا کانیں تھیں، یہ زمینیں کس کے قبضے میں تھیں پہلے؟ کفار کے قبضے میں تھیں، پھر مسلمانوں کے ہاتھ میں آئی ہیں، تو گویا یہ کفار کے قبضے سے مسلمانوں کے ہاتھ لگا ہے یہ مال، اور مسلمانوں کے ہاتھ اس طرح جو مال آئے اس میں کیا واجب ہوتا ہے؟ خمس، تو اس میں بھی خمس واجب ہوگا، تو یہ شکار کی طرح نہیں ہے بھئی، وہ تو کسی کے قبضے میں نہیں تھا اور یہ تو پہلے کس کے قبضے میں تھیں؟ کفار کے قبضے میں۔ یہ معنی ہے: بِخِلَافِ الصَّيْدِ لِأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ فِي يَدِ أَحَدٍ، بخلاف شکار کے، اس لیے کیونکہ وہ کسی کے قبضے میں نہیں تھا۔ إِلَّا أَنَّ لِلْغَانِمِينَ يَدًا حُكْمِيَّةً لِثُبُوتِهَا عَلَى الظَّاهِرِ وَأَمَّا الحَقِيقِيَّةُ فَلِلْوَاجِدِ فَاعْتَبَرْنَا الحُكْمِيَّةَ فِي حَقِّ الخُمْسِ وَالحَقِيقِيَّةَ فِي حَقِّ الأَرْبَعَةِ الأَخْمَاسِ حَتَّى كَانَتْ لِلْوَاجِدِ۔ ہاں، یہاں سے اب یہ بیان کر رہے ہیں کہ یوں کہیں یہاں ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں۔ اعتراض یہ ہوتا ہے کہ آپ نے ہمیں بتلا دیا کہ یہ جو کان وغیرہ ملتی ہے، جو چیز ملتی ہے، یہ کیا ہے دراصل؟ مالِ غنیمت ہے۔ اور مالِ غنیمت میں کیا دینا پڑتا ہے؟ خمس دینا پڑتا ہے، خمس واجب ہوتا ہے اس کے اندر۔ اور باقی چار خمس تو غنیمت والوں کے ہوتے ہیں، یعنی وہ غازیوں کے ہوتے ہیں جو جہاد کر رہے ہیں، جنہوں نے اس جگہ پر قبضہ کیا ہے مجاہدین نے، تو چار حصے کن کے ہوتے ہیں؟ ان مجاہدین ان غازیوں کے ہوتے ہیں، تو یہاں پر بھی اسی طرح ہونا چاہیے کہ جب ایک حصہ جب یہ غنیمت ہے تو ایک حصہ یعنی پانچواں حصہ وہ تو خمس کا ہوا اور چار حصے کس کے ہونے چاہئیں؟ مجاہدین کے یعنی غازیوں کے ہونے چاہئیں، لیکن یہاں پر کیا کہا گیا کہ چار حصے اس شخص کے ہیں جس کو وہ کان ملی ہے، جس کے وہ قبضے میں ہے۔ تو یہ تو غنیمت والا پورا حکم نہیں آیا، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو غنیمت کا حکم تو کیا تھا؟ چار حصے کس کے ہونے چاہئیں؟ مجاہدین اور غازیوں کے ہونے چاہئیں اور یہاں پر چار حصے کس کے قرار دیے گئے؟ جس کا جس شخص کے قبضے میں ہے، جس کو وہ کان ملی ہے، اس کے قرار دیے گئے۔ تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ غازی جو ہیں غازی، جب ان کا کسی چیز پر قبضہ ہوتا ہے تو جہاں حقیقتاً قبضہ ہوتا ہے وہاں حکماً قبضہ بھی آ جاتا ہے۔ کیا آ جاتا ہے؟ حکماً قبضہ بھی آ جاتا ہے۔ مثلاً غازیوں نے کفار سے کوئی مال چھین لیا، تو حقیقتاً قبضہ کس کا اس وقت اس مال پر؟ غازیوں کا، اور حکماً بھی قبضہ کس کا؟ حکم بھی کیا لگایا جائے گا؟ کس کا قبضہ ہے؟ غازیوں کا قبضہ ہے، تو حقیقتاً بھی قبضہ ان کا، حکماً بھی قبضہ ان کا۔ تو اس طرح کا جو مال ہوتا ہے جس میں غازیوں کا حقیقتاً بھی قبضہ ہو، حکماً بھی قبضہ ہو، اس کے اندر پانچواں حصہ خمس کا واجب ہوتا ہے اور باقی چار حصے کس کے ہوتے ہیں؟ غازیوں کے ہوتے ہیں۔ کس قسم کے مال میں؟ جہاں حقیقتاً قبضہ بھی ان کا ہو اور حکماً بھی قبضہ ان کا ہو۔ جبکہ یہاں پر ایسا نہیں ہے، یہاں پر غازیوں کا حکماً قبضہ تو ہے، حقیقتاً نہیں۔ حکماً قبضہ کس طرح؟ کیونکہ یہ ساری جگہ پہلے کس نے فتح کی؟ غازیوں نے، اور جب یہ ساری زمین ان کے قبضے میں آئی، تو زمین ہی کے اندر کان بھی تھی، وہ کان بھی کس کے قبضے میں آ گئی؟ غازیوں کے قبضے میں آئی۔ لیکن حکماً قبضہ ہے، حقیقتاً نہیں غازیوں کا، کان پر حکماً قبضہ ہے کیونکہ حقیقتاً نہیں، حقیقت کے اعتبار سے تو غازیوں کو پتہ ہی نہیں تھا کان کا، یہ کان کا تو اب اس شخص کو آ کر پتہ لگا ہے۔ تو ان کا صرف قبضہ کون سا تھا؟ حکماً قبضہ تھا، حقیقتاً نہیں۔ حقیقتاً اور حکماً دونوں ہو تو چار حصے غازیوں کے ہوتے ہیں اور ایک حصہ کس کا واجب ہے؟ خمس کا۔ لیکن یہاں پر غازیوں کا صرف حکماً قبضہ ہے، حقیقتاً نہیں۔ حقیقتاً قبضہ تو اس آدمی کا ہے جس کو یہ کان ملی ہے، حقیقتاً اس وقت کس کے قبضے میں ہے؟ جس کو ملی ہے اس کے قبضے میں ہے۔ تو لہٰذا یہاں حقیقتاً قبضہ ہوا اس پانے والے کا اور حکماً قبضہ کس کا؟ غازیوں کا، تو ہم نے دونوں کا لحاظ رکھا۔ حکماً قبضہ چونکہ غازیوں کا ہے، لہٰذا یہ غنیمت کے حکم میں ہے، اس میں کیا دینا پڑے گا؟ خمس، پانچواں حصہ دینا پڑے گا۔ اور حقیقتاً قبضہ اس آدمی کا ہے، پانے والے کا ہے، لہٰذا چار حصے وہ غازیوں کے نہیں ہوں گے بلکہ اس حقیقی قبضے والے کے ہوں گے۔ فرق سمجھ میں آ گیا بھئی؟ یہ معنی ہے: إِلَّا أَنَّ لِلْغَانِمِينَ يَدًا حُكْمِيَّةً لِثُبُوتِهَا عَلَى الظَّاهِرِ، مگر یہ کہ غنیمت والے جو ہیں یعنی غازی جو ہیں، ان کا جو ہے يَدًا حُكْمِيَّةً، ان کا حکمی قبضہ ہے لِثُبُوتِهَا عَلَى الظَّاهِرِ، بوجہ اس قبضے کے ظاہر پر ثابت ہونے کے، اس وجہ سے کہ وہ قبضہ کس پر ثابت ہے؟ بھئی کان تو زمین کے اندر چھپی ہوئی ہے، لیکن ظاہری زمین پر کس کا قبضہ پہلے؟ غازیوں کا، تو ظاہر پر اس قبضے کے ثبوت کی وجہ سے کہا جائے گا کہ غازیوں کا قبضہ کان پر بھی آ گیا، کس پر آ گیا؟ لیکن کان پر حقیقتاً قبضہ آیا یا حکماً آیا؟ حکماً آیا۔ حقیقتاً کیوں نہیں آیا؟ غازیوں کو پتہ ہی نہیں ہے یہاں پر کان، ہاں زمین قبضے میں ہے تو حکم کیا آ گیا؟ یہ بھی کس کے قبضے میں ہے؟ غازیوں، لیکن حقیقی قبضہ بہرحال نہیں ہے۔ فرق سمجھ میں آ گیا؟ یہ معنی ہے کہ إِلَّا أَنَّ لِلْغَانِمِينَ يَدًا حُكْمِيَّةً، مگر یہ کہ غنیمت والے جو ہیں ان کا حکمی قبضہ ہے، لِثُبُوتِهَا عَلَى الظَّاهِرِ، اس وجہ سے کہ یہ قبضہ ثابت ہے ظاہر پر، وَأَمَّا الحَقِيقِيَّةُ، باقی حقیقی قبضہ جو ہے فَلِلْوَاجِدِ، وہ اس پانے والے کا ہے جس نے اس کان کو پایا ہے، جس کو یہ کان ملی ہے، فَاعْتَبَرْنَا الحُكْمِيَّةَ فِي حَقِّ الخُمْسِ، تو خمس کے حق میں ہم نے کس کا اعتبار کیا؟ حکمی قبضے کا اعتبار کیا اور حکمی قبضہ تو کس کا تھا؟ غازیوں کا، اور غازیوں کو جو مال ملتا ہے وہ مالِ غنیمت ہے اور مالِ غنیمت میں کیا واجب ہوتا ہے؟ خمس ہوتا ہے، تو اس میں بھی خمس واجب ہوگا۔ تو ہم نے حکمی قبضے کا اعتبار کیا خمس کے حق میں، وَالحَقِيقِيَّةَ فِي حَقِّ الأَرْبَعَةِ الأَخْمَاسِ، اور ہم نے حقیقی قبضے کا اعتبار کیا فِي حَقِّ الأَرْبَعَةِ الأَخْمَاسِ، چار خمس کے حق میں، کہ چار خمس جو ہیں اس پر وہ کس کے ہوں گے؟ جس کا حقیقی قبضہ ہے، تو ان میں ہم نے حقیقی قبضے کا اعتبار کیا، حَتَّى كَانَتْ لِلْوَاجِدِ، یہاں تک کہ یہ چار خمس جو ہیں پانے والے کے ہوں گے۔ وَلَوْ وَجَدَ فِي دَارِهِ مَعْدِنًا فَلَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ۔ مسئلہ یہ بھئی: ایک شخص ہے، اس کو اپنے گھر کے اندر کان مل گئی بھئی۔ سونے، چاندی یا لوہے کی کان کہاں نکل آئی؟ گھر میں۔ تو کیا اس کے اندر بھی خمس ہوگا یا نہیں؟ تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ اس کے اندر خمس نہیں، جبکہ صاحبین کیا فرماتے ہیں؟ اس کے اندر بھی خمس واجب ہے بھئی۔ یہ معنی ہے: وَلَوْ وَجَدَ فِي دَارِهِ مَعْدِنًا فَلَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ، اور اگر پانے والے نے اپنے گھر میں کان پا لی، تو اس میں کچھ نہیں ہے یعنی خمس واجب نہیں ہے، عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ، امام صاحب کے نزدیک، وَقَالَا فِيهِ الخُمْسُ، اور صاحبین فرماتے ہیں اس میں بھی خمس واجب ہے۔ دلیل صاحبین کی، کہتے ہیں: لِإِطْلَاقِ مَا رَوَيْنَا، بوجہ مطلق ہونے کے اس حدیث کے جس کو ہم نے روایت کیا۔ کون سی حدیث بھئی؟ حدیث میں کیا آیا تھا؟ ”وَفِي الرِّكَازِ الخُمْسُ“، رکاز کے اندر خمس ہے، اور یہاں رکاز شامل ہے خزانے کو بھی اور معدن یعنی کان کو بھی شامل ہے، اور وہاں کوئی قید تھی کہ گھر میں ہو تو واجب نہیں، گھر سے باہر ہو تو واجب ہے؟ کوئی قید وہاں پر نہیں، تو وہ حدیث مطلق تھی، تو لہٰذا اس کے اطلاق کا تقاضا یہ ہے کہ گھر کے اندر کان ملے تو اس میں بھی کیا واجب ہونا چاہیے؟ خمس ہونا چاہیے۔ یہ معنی ہے، صاحبین فرماتے ہیں اس میں خمس ہوگا، لِإِطْلَاقِ مَا رَوَيْنَا، بوجہ مطلق ہونے کے اس حدیث کے جس کو ہم نے روایت کیا۔ وَلَهُ، اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے: أَنَّهُ مِنْ أَجْزَاءِ الأَرْضِ مُرَكَّبٌ فِيهَا، کہ یہ جو کان یا کان میں سے جو چیز نکلی ہے، یاد رکھیے معدن کان کو بھی کہتے ہیں اور کان میں سے جو دھات نکلتی ہے چاہے سونا ہے، چاندی ہے، لوہا ہے، اس دھات کو بھی کیا کہتے ہیں؟ اس کو بھی معدن کہتے ہیں، اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ معدن کہتے ہیں۔ تو معدن کان اور کان سے جو چیز نکلی ہے دونوں پر معدن کا لفظ۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ جو کان ہے یا یہ جو اس میں سے دھات نکلی ہے، مِنْ أَجْزَاءِ الأَرْضِ، یہ کس کے اجزاء میں سے ہے؟ یہ زمین کے اجزاء میں سے ہے، مُرَكَّبٌ فِيهَا، جو اسی کے اندر مرکب کی گئی ہے، اس کے ساتھ یعنی ملا دی گئی ہے۔ بھئی میں نے بتایا یہ سونا، چاندی وغیرہ کانوں سے نکالتے ہیں اور کان میں یہ کس شکل میں ہوتے ہیں؟ ذرات کی صورت میں، کس طرح؟ ذرات۔ بھئی جیسے یہ ریت ہے نا ریت، اسی کے اندر جیسے سونے کے ذرات ملا دیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو تو یہ اسی طرح یہ ذرات کی صورت میں یہ دھاتیں زمین میں ہوتی ہیں اور پھر وہاں سے زمین سے وہ پتھر وغیرہ نکالتے ہیں اور پھر بڑا لمبا عمل ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ ایک ایک ذرے کو علیحدہ کر کے نکالا جاتا ہے اس میں سے، سمجھ میں آیا بھئی طریقہ؟ تو یہ، تو یہ کہتے ہیں امام صاحب فرماتے ہیں: أَنَّهُ مِنْ أَجْزَاءِ الأَرْضِ مُرَكَّبٌ فِيهَا، یہ کان کس میں سے تھی یا یہ دھات کس میں سے تھی؟ زمین کے اجزاء میں سے تھی، مُرَكَّبٌ فِيهَا، جو اسی کے ساتھ ملائی گئی تھی، زمین کے ساتھ ملائے ہوئے مٹی کی طرح اس کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔ وَلَا مُؤْنَةَ فِي سَائِرِ الأَجْزَاءِ فَكَذَا فِي هَذَا الجُزْءِ، اور کوئی خرچہ یا کوئی مشقت نہیں ہے باقی اجزاء کے اندر، تو اسی طرح اس جزء میں بھی ہوگا۔ اسی طرح، بھئی دیکھیے گھر ہے کسی کا گھر، زمین ہے اس زمین کے اندر آپ فصل وغیرہ کاشت کرتے ہیں، تو خراجی زمین ہے تو اس میں شریعت نے خراج واجب کیا ہے اور عشری زمین ہے تو اس میں شریعت نے عشر واجب کیا ہے، لیکن کیا گھر کے اندر خراج یا عشر ہوتا ہے؟ گھر میں تو خراج یا عشر نہیں، گھر میں کوئی خرچہ وغیرہ شریعت نے کوئی چیز انسان پر نہیں ڈالی، کوئی خراج نہیں، کوئی عشر نہیں۔ تو جب پورے گھر پر کوئی خرچہ نہیں شریعت کی طرف سے یعنی کوئی چیز واجب نہیں، نہ خراج ہے نہ اور نہ عشر ہے اور یہ کان بھی اسی کے اجزاء زمین کے اجزاء میں سے ایک جزء ہے، تو جب باقی زمین کے اندر شریعت نے کچھ واجب نہیں کیا تو یہ کان جو گھر کے اندر سے نکلی ہے، اس کے اندر بھی کچھ واجب نہیں ہوگا۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے کہ یہ کیونکہ یہ زمین کے اجزاء میں سے ہے، مُرَكَّبٌ فِيهَا، اس کے اندر اس کو ملایا گیا ہے، وَلَا مُؤْنَةَ فِي سَائِرِ الأَجْزَاءِ، اور باقی اجزاء کے اندر تو کوئی مشقت یعنی خرچہ نہیں ہے یعنی شرعاً کوئی چیز واجب نہیں ہے، فَكَذَا فِي هَذَا الجُزْءِ، تو اسی طرح اس جزء کے اندر بھی ہوگا یعنی اس میں بھی کچھ واجب نہیں ہوگا، لِأَنَّ الجُزْءَ لَا يُخَالِفُ الجُمْلَةَ، اس لیے کیونکہ جزء جو ہوتا ہے وہ کُل کا مخالف نہیں ہوتا، جو کُل کا حکم ہوتا ہے وہی جزء کا، اور کُل گھر کے اندر تو کچھ واجب نہیں تو اس جزء کے اندر بھی کچھ واجب نہیں یعنی اس میں خمس نہیں ہوگا۔ بِخِلَافِ الكَنْزِ، بخلاف کنز کے یعنی خزانے کے، لِأَنَّهُ غَيْرُ مُرَكَّبٍ فِيهَا، اس لیے کیونکہ وہ زمین کے اندر مرکب نہیں ہے بھئی۔ خزانہ زمین کے ساتھ مرکب تھا، ملا ہوا تھا یا بعد میں کسی نے اس کو دفنایا ہے؟ وہ تو بعد میں کسی نے دفنایا ہے، جبکہ یہ کان اور یہ دھات وغیرہ اس کو تو اللہ تعالیٰ نے اس زمین کے اندر اسی طرح پیدا فرمایا ہے بھئی، تو لہٰذا ان کا وہ حکم ہوگا جو زمین کا حکم ہے۔ زمین میں اگر شریعت نے کچھ واجب کیا ہے تو پھر ان میں بھی کیا کہیں گے؟ واجب ہے۔ اگر اس زمین میں کچھ نہیں واجب جیسے گھر کے اندر ہوتا ہے تو جو اس میں کان نکلی اس کے اندر بھی کچھ واجب نہیں ہوگا بھئی۔ جبکہ خزانے کا یہ حکم نہیں ہے کیونکہ خزانہ زمین کے اندر مرکب نہیں تھا، اس کو بعد میں کسی نے اس میں دفنایا ہے بھئی۔ دلیل بھی سمجھ میں آئی کہ نہیں آئی بھئی؟ یہ معنی ہے: بِخِلَافِ الكَنْزِ لِأَنَّهُ غَيْرُ مُرَكَّبٍ فِيهَا، بخلاف خزانے کے، اس لیے کیونکہ وہ زمین کے اندر مرکب نہیں ہوتا۔ قَالَ: وَإِنْ وَجَدَ فِي أَرْضِهِ فَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ فِيهِ رِوَايَتَانِ۔ یہ تو مسئلہ تھا کہ کسی شخص کو کان ملی اپنے گھر میں، کان گھر میں نکل آئی بھئی۔ دوسری صورت ہے گھر کے اندر نہیں ملی، اپنی زمین کے اندر ملی، اپنی مملوکہ زمین کے اندر، اس کی زمین تھی، کھیت تھا، باغ تھا، اس کے اندر کیا نکل آئی؟ کان نکل آئی بھئی، تو اس کا کیا حکم ہے؟ کہتے ہیں: وَإِنْ وَجَدَ فِي أَرْضِهِ، اور اگر کان کو پا لیا اپنے اپنی زمین کے اندر، فَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ فِيهِ رِوَايَتَانِ، تو امام صاحب سے اس بارے میں دو روایتیں ہیں۔ ایک روایت تو یہ ہے کہ اس میں خمس واجب ہے، اور دوسری روایت کیا؟ کہ اس میں خمس واجب، بھئی دو روایتیں ہیں نا اسی سے پتہ چل گیا، ایک روایت کیا ہے کہ اس کے اندر خمس واجب ہے، دوسری روایت کیا؟ خمس واجب نہیں۔ تو جو روایت تھی کہ اس میں خمس واجب نہیں اس میں خمس، یہ تو پہلے قول کے مطابق ہوئی، پہلے قول کے مطابق، اور دوسرا قول کیا آیا؟ خمس واجب ہے، تو اس میں فرق کیا گیا معلوم ہوا، گھر میں نکلنے والی کان میں اور زمین کے اندر مملوکہ زمین میں نکلنے والی کان کے اندر فرق کیا گیا۔ گھر میں جو کان نکلے اس میں تو کچھ واجب نہیں لیکن زمین میں جو نکلے اس میں واجب، تو اس میں فرق کی وجہ کیا ہے؟ وہ وجہ آگے آپ کو بتائیں گے۔ کہتے ہیں: وَوَجْهُ الفَرْقِ عَلَى إِحْدَاهُمَا، اور فرق کی وجہ ایک روایت پر، وَهُوَ رِوَايَةُ الجَامِعِ الصَّغِيرِ، اور وہ کس کی روایت ہے؟ جامع صغیر کی کہ اس میں خمس ہوگا، تو اس کے مطابق فرق کی وجہ یہ ہے: أَنَّ الدَّارَ مُلِكَتْ خَالِيَةً عَنِ المُؤَنِ دُونَ الأَرْضِ، اس لیے کیونکہ گھر جو ہے وہ مملوک ہوتا ہے اس حال میں کہ وہ خالی ہوتا ہے مشقت سے، گھر جو ہوتا ہے وہ مملوک ہوتا ہے اس حال میں کہ وہ مشقت سے خالی ہوتا ہے، یعنی اس میں کوئی شریعت کی طرف سے کوئی خرچہ وغیرہ، عشر یا خراج وغیرہ اس میں نہیں ہوتا، دُونَ الأَرْضِ، نہ کہ زمین، زمین خالی نہیں ہوتی، زمین میں ہمیشہ کیا دینا پڑتا ہے؟ خراج یا عشر دینا پڑتا ہے، تو اس اعتبار سے زمین اس گھر سے مختلف ہوئی، تو گھر کے اندر جو ہو اس کے اندر خمس نہیں، اور زمین میں جو کان نکلے اس میں کیا دینا پڑے گا؟ خمس، کیونکہ زمین کے اندر شریعت نے بھی خراج یا عشر واجب کیا ہے۔ وَلِهَذَا وَجَبَ العُشْرُ وَالخَرَاجُ فِي الأَرْضِ دُونَ الدَّارِ، اور اسی وجہ سے عشر اور خراج واجب ہوتا ہے زمین میں دُونَ الدَّارِ، نہ کہ گھر میں، فَكَذَا هَذِهِ المُؤْنَةُ، اسی طرح یہ خرچہ بھی ہوگا یا یہ مشقت بھی ہوگی یعنی جیسے زمین میں عشر اور خراج واجب ہوتا ہے، اسی طرح یہ خمس بھی واجب ہوگا۔ وَإِنْ وَجَدَ رِكَازًا أَيْ كَنْزًا وَجَبَ فِيهِ الخُمْسُ عِنْدَهُمْ۔ اور اگر رکاز پایا، کسی شخص کو خزانہ ملا، دفینہ کوئی زمین کے اندر مل گیا، خود معنی بیان کر رہے ہیں، میں نے بتلایا تھا بھئی رکاز کا اطلاق معدن پر بھی ہوتا ہے اور کنز یعنی خزانے پر بھی، تو بتلا دیا انہوں نے رکاز سے کیا مراد ہے؟ أَيْ كَنْزًا، یعنی کہ خزانہ۔ تو اگر خزانہ پایا، وَجَبَ فِيهِ الخُمْسُ عِنْدَهُمْ، تو اس کے اندر خمس واجب ہوگا ہمارے ائمہ کے نزدیک یعنی تینوں ائمہ کے نزدیک، لِمَا رَوَيْنَا، اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے روایت کر دی، اور وہ حدیث کیا تھی؟ ”وَفِي الرِّكَازِ الخُمْسُ“، رکاز کے اندر خمس واجب ہے، تو اس میں خمس ہوگا۔ آگے صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: وَاسْمُ الرِّكَازِ يُطْلَقُ عَلَى الكَنْزِ لِمَعْنَى الرَّكْزِ وَهُوَ الإِثْبَاتُ، کہ رکاز کا اسم جو ہے اس کا اطلاق خزانے پر بھی ہوتا ہے لِمَعْنَى الرَّكْزِ، رکز یعنی گاڑنے کے معنی رکز کے معنی پائے جانے کی وجہ سے، لِمَعْنَى الرَّكْزِ، رکز کا معنی پائے جانے کی وجہ سے، وَهُوَ الإِثْبَاتُ، اور رکز کا کیا معنی ہے؟ اثبات، کسی چیز کو ثابت کرنا، سمجھ میں آیا بھئی؟ وہی ثابت کرنا یعنی گاڑنا، اس کو رکھ دینا۔ ثُمَّ إِنْ كَانَ عَلَى ضَرْبِ أَهْلِ الإِسْلَامِ كَالمَكْتُوبِ۔ یہاں سے آپ کو یہ بتلا رہے ہیں کہ خزانہ ملتا ہے تو اس کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں بھئی، دو صورتیں: کہ اس میں کوئی نشانی ملے گی یا اس پر کوئی نشانی نہیں لگی ہوگی۔ نشانی ملتی ہے مثلاً جس سے پتہ چلتا ہے اس کو کسی مسلمان نے دفن کیا ہے، مثلاً اس میں کوئی کلمۂ شہادت وغیرہ یا اس طرح کی کوئی چیز لکھی ہوئی ہے جس سے کیا پتہ چلتا ہے کہ اس کو کس نے دفن کیا ہے؟ مسلمان۔ یا نشانی ملتی ہے غیر مسلموں کی کوئی مثلاً خزانے کے اندر کوئی بت کی صورت بنی ہوئی ہے وغیرہ بھئی، تو یہ صورت تھی جب نشانی ملے۔ اور ایک صورت یہ ہے کہ جس میں نشانی نہیں ملتی، پتہ ہی نہیں کہ اس کو کس نے دفنایا، مسلمانوں نے یا کافروں نے؟ تو وہ اب پہلے جس کی نشانی ملتی ہے، اگر مسلمانوں کی نشانی اس پر لگی ہوئی ہے تو پھر کیا حکم ہے؟ کفار کی نشانی لگی ہے کیا حکم ہے؟ تو کفار کی نشانی لگی ہو پھر تو وہی مالِ غنیمت والا حکم ہے، خمس دینا پڑے گا اور باقی پانے والے کا۔ جبکہ مسلمانوں کی اگر نشانی اس پر لگی ہوئی ہے، پھر یاد رکھیے پھر یہ لقطہ کے حکم میں ہے، کس کے حکم میں؟ لقطہ، لقطہ کوئی چیز کسی کو راستے میں پڑی ہوئی مل جائے اس کو لقطہ کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ لقطہ۔ تو کوئی چیز اگر کسی کی آپ کو راستے میں پڑی ہوئی مل جائے تو کیا آپ مالک بن جاتے ہیں اس کے؟ نہیں، بلکہ کیا ضروری ہے آپ پر؟ اس کے مالک کو تلاش کریں اور اس تک پہنچائیں، تو اس خزانے میں جس میں مسلمانوں کی نشانی ہے اس میں بھی آپ پر کیا ضروری ہے؟ کہ آپ اعلانات کروائیں، پتہ کروائیں یہ کس کا ہے اور مالک تک پہنچائیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ثُمَّ إِنْ كَانَ عَلَى ضَرْبِ أَهْلِ الإِسْلَامِ، پھر یہ خزانہ جو ہے اگر اہل اسلام کی قسم پر تھا، كَالمَكْتُوبِ عَلَيْهِ كَلِمَةُ الشَّهَادَةِ، جیسے کہ لکھا ہوا ہو اس پر کلمۂ شہادت، فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ اللُّقَطَةِ، تو یہ کس کے درجے میں ہے؟ لقطہ کے درجے میں ہے۔ جی تو لقطہ کے اندر پھر اعلان کروانا پڑے گا، پتہ کروائیں گے بھئی، اور کتاب اللقطہ کے اندر آپ نے پڑھا ہوگا قدوری وغیرہ کے اندر کہ دس درہم یا اس سے زائد مال ہو تو کم از کم ایک سال تک اعلانات کرواتا رہے، پتہ کرتا رہے کہ کہیں سے اس کے مالک کا پتہ چل جائے، سمجھ میں آیا؟ اور اگر پھر بھی مالک کا پتہ نہیں چلتا تو پھر فقراء پر صدقہ کر دے، فقراء پر صدقہ کر دے۔ اور اگر مالک آ گیا پھر وہ آپ سے مطالبہ کر سکتا ہے، لاؤ بھئی میری چیز میرے حوالے کرو۔ آپ صدقہ کر چکے ہیں، وہ پھر آ گیا، تو چاہے اس کی مرضی ہے اس کو صدقے کو صدقہ ہی چلنے دے اسی طرح، یا چاہے جس نے صدقہ کیا ہے اس سے کیا کہے کہ لاؤ بھئی مجھے دو، میں نہیں جانتا، میرا مال تھا، آپ نے کس طرح صدقہ کیا ہے، تو پھر ضمان دینا پڑے گا اس آدمی کو۔ تو کہتے ہیں: فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ اللُّقَطَةِ، تو اگر اہل اسلام کی کوئی نشانی اس میں ہوئی تو وہ لقطہ کے درجے میں ہے، وَقَدْ عُرِفَ حُكْمُهَا فِي مَوْضِعِهَا، اور تحقیق لقطہ کا حکم جان لیا گیا ہے اپنے مقام میں۔ وَإِنْ كَانَ عَلَى ضَرْبِ أَهْلِ الجَاهِلِيَّةِ، اور اگر وہ اہلِ جاہلیت کے قسم پر ہوا، اہلِ جاہلیت بھئی زمانہ اسلام سے پہلے کا زمانہ کیا کہلاتا ہے؟ زمانۂ جاہلیت، یعنی وہ کفار کا زمانہ ہے۔ تو وہ اگر جاہلیت والوں کی قسم پر ہوا، كَالمَنْقُوشِ عَلَيْهِ الصَّنَمُ، جیسے کہ اس پر صورت بنی ہوئی ہو بت کی، فَفِيهِ الخُمْسُ عَلَى كُلِّ حَالٍ، تو اس میں خمس ہوگا ہر حال میں، لِمَا بَيَّنَّا، اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دی بھئی، کیونکہ یہ مالِ غنیمت ہے۔ ثُمَّ إِنْ وَجَدَهُ فِي أَرْضٍ مُبَاحَةٍ فَأَرْبَعَةُ أَخْمَاسِهِ لِلْوَاجِدِ لِأَنَّهُ تَمَّ الإِحْرَازُ مِنْهُ۔ اور پھر اگر اس جاہلی خزانہ جو ہے اس کو کسی مباح زمین کے اندر پایا یعنی جو کسی کی مملوک نہیں ہے، فَأَرْبَعَةُ أَخْمَاسِهِ لِلْوَاجِدِ، تو اس کے چار خمس جو ہیں اس کو پانے والے کے ہیں جس کو یہ ملی ہے، لِأَنَّهُ تَمَّ الإِحْرَازُ مِنْهُ، اس لیے کیونکہ احراز اس کی طرف سے پورا ہوا ہے۔ أَحْرَزَ يُحْرِزُ إِحْرَاز کا معنی ہے جمع کرنا، محفوظ کرنا۔ اس لیے کیونکہ محفوظ کرنا کس کی طرف سے پایا گیا؟ جمع کرنا اور محفوظ کرنا اس آدمی کی طرف سے پایا گیا ہے، اس نے اس کو محفوظ کر لیا، اس پر قبضہ کر لیا۔ یہ معنی ہے لِأَنَّهُ تَمَّ الإِحْرَازُ مِنْهُ، اس لیے کیونکہ جمع کرنا اس کی طرف سے ہے، إِذْ لَا عِلْمَ بِهِ لِلْغَانِمِينَ، اس لیے کیونکہ غانمین کو تو اس کا پتہ ہی نہیں تھا، مجاہدین اور بھئی جاہلی خزانہ ہے کہاں سے ملا؟ زمین میں اور مباح زمین میں سے ملا ہے، تو اس صورت میں اس صورت میں پھر وہی جو پہلے شروع میں بیان ہوا تھا کہ اس علاقے کو فتح کس نے کیا؟ مجاہدین نے، تو ظاہری قبضہ ان کا، تو جب ظاہری قبضہ ان کا تو حکمی قبضہ بھی ان کا، لیکن حقیقی قبضہ ان کا نہیں بھئی کیونکہ ان کو تو اس کے بارے میں پتہ ہی نہیں تھا بھئی، تو اس لیے اس میں باقی چار حصے اس پانے والے کے ہیں۔ إِذْ لَا عِلْمَ بِهِ لِلْغَانِمِينَ، اس لیے کیونکہ غنیمت والوں کو تو اس کا علم ہی نہیں تھا یعنی غازیوں کو، فَيَخْتَصُّ هُوَ بِهِ، تو یہی پانے والا اس کے ساتھ خاص ہوگا، یہ اسی کا ہوگا، چار خمس اس کے ہوں گے۔ وَإِنْ وَجَدَهُ فِي أَرْضٍ مَمْلُوكَةٍ فَكَذَا الحُكْمُ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ۔ اور اگر اس کو کسی مملوکہ زمین کے اندر پایا، کس کے اندر؟ کسی مملوکہ زمین کے اندر پایا، کسی بھی مملوکہ زمین میں، چاہے خود مالک ہو چاہے کوئی اور مالک، تو جب مملوکہ زمین میں پایا، فَكَذَا الحُكْمُ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ، تو اسی طرح حکم ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک، یعنی ایک خمس دینا پڑے گا، وہ فقراء وغیرہ کا حصہ ہو گیا وہ، اور باقی چار خمس پانے والے کے۔ دلیل امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں، کہتے ہیں: لِأَنَّ الِاسْتِحْقَاقَ بِتَمَامِ الحِيَازَةِ وَهُوَ مِنْهُ، اس لیے کیونکہ مستحق ہونا وہ حفاظت کے پورا ہونے سے ہوگا اور وہ حفاظت کرنا وہ کس کی طرف سے ہے؟ وہ اس پانے اس نے کیا کیا؟ اس مال کو محفوظ کیا، اس کو جمع کر لیا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللهُ هُوَ لِلْمُخْتَطِّ لَهُ وَهُوَ الَّذِي مَلَّكَهُ الإِمَامُ هَذِهِ البُقْعَةَ أَوَّلَ الفَتْحِ۔ بھئی اگر مملوکہ زمین کے اندر کیا پا لیا؟ خزانہ پا لیا، تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں کہ خمس دینا پڑے گا، وہ فقراء کا حق ہے اور باقی چار خمس ہاں پانے والے کے ہیں، اس لیے کیونکہ مستحق ہونا وہ محفوظ کرنے حفاظت کو پورا کرنے کے اعتبار سے ہوگا اور محفوظ کرنا اور حفاظت کرنا اور جمع کرنا کس کی طرف سے پایا گیا؟ اس آدمی کی طرف سے۔ جبکہ طرفین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ مختط لہٗ کے لیے ہوگا، یہ حصہ اس کا نہیں ہوگا پانے والے کا بلکہ کس کا ہوگا؟ مختط لہٗ کا ہوگا۔ بھئی مختط لہٗ کون ہے؟ کہتے ہیں مختط لہٗ وہ شخص ہے جس کو خلیفہ نے، امام المسلمین نے بالکل ابتداء کے اندر اس زمین کا مالک بنایا تھا۔ مجاہدین نے اس علاقے پر قبضہ کر لیا تھا، اس کو فتح کر لیا تھا، تو پھر خلیفہ نے جب زمینیں تقسیم کیں تو اس زمین کا مالک جس مسلمان کو بنایا تھا، یہ یہ خزانہ اسی کا ہوگا بھئی، یہ خزانہ اسی کا ہوگا یعنی اس میں سے خمس دینا پڑے گا اور باقی چار حصے اس کے ہو جائیں گے بھئی، چار حصے، اور بھئی اس کو تو مرے ہوئے عرصہ ہو چکا ہے تو بھئی اس کے وارث یا وارثوں کے وارث یا وارثوں کے وارثوں کے آگے جو وارث جو بھی ہوں ان کو دینا پڑے گا بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ تو کہتے ہیں: عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللهُ هُوَ لِلْمُخْتَطِّ لَهُ، مُخْتَطّ میں یہ طاء جو آخر میں آ رہی ہے طاء، یہ مشدد ہے، تو وہ مختط لہٗ کے لیے ہوگا، وَهُوَ الَّذِي مَلَّكَهُ الإِمَامُ هَذِهِ البُقْعَةَ أَوَّلَ الفَتْحِ، اور وہ یہ وہ شخص ہے جس کو امام نے مالک بنایا ہو اس جگہ کا، اس ٹکڑے کا، أَوَّلَ الفَتْحِ، اول فتح میں، ابتدائے فتح میں۔ لِأَنَّهُ سَبَقَتْ يَدُهُ إِلَيْهِ، اس لیے کیونکہ اس کا ہاتھ اس کی طرف سبقت، اس کا قبضہ اس کی طرف پہلے پہنچ چکا ہے، وہ اس کے قبضے میں یہ زمین ہے، وَهِيَ يَدُ الخُصُوصِ فَيَمْلِكُ بِهِ مَا فِي البَاطِنِ، اور وہ يدِ خصوص تھا، خاص قبضہ تھا، بھئی یاد رکھیے ایک ہے عام قبضہ، ایک ہے خاص قبضہ۔ مجاہدین نے جب علاقے کو فتح کیا تو اس میں کسی خاص آدمی کا قبضہ آیا یا تمام مجاہدین کا قبضہ آیا؟ تمام مجاہد، تو یہ ہے عام قبضہ، عام قبضہ۔ اور ایک ہے خاص قبضہ، خاص قبضہ جو کسی متعین فرد کا مثلاً ہوتا ہے، متعین فرد کا۔ اور عام قبضہ جب پایا جائے ظاہر پر، عام قبضہ جب ہو جائے کسی علاقے پر، تو جو چیزیں اس جگہ کے باطن میں ہیں، جو اندر چھپی ہوئی ہیں مثلاً خزانہ ہے یا کان ہے، تو اس پر حکماً قبضہ آتا ہے، حقیقتاً نہیں۔ حقیقتاً کب آئے گا؟ جب ان کو پتہ چل جائے اور اس پر باقاعدہ قبضہ کریں مجاہدین وغیرہ، پھر تو حقیقتاً آئے گا، لیکن ویسے کون سا قبضہ آئے گا؟ صرف حکمی قبضہ آئے گا، حکمی قبضہ۔ تو جو عام قبضہ ہوتا ہے اس کے اندر اس کے اندر حقیقی قبضہ باطنی چیزوں پر نہیں آتا بلکہ صرف کون سا قبضہ آتا ہے؟ حکمی قبضہ۔ لیکن اگر قبضہ خاص ہو کسی متعین فرد کا قبضہ ہے، تو جب اس کا قبضہ ظاہر پر آ جائے تو باطن پر بھی اس کا قبضہ آ جاتا ہے۔ عام قبضہ جب ظاہر پر آیا تو باطن پر قبضہ نہیں آتا، اسی لیے ہم نے کیا کہا تھا؟ زمین کے اندر سے جو کان نکلی ہے اس پر مجاہدین کا حکماً قبضہ ہے، حقیقی قبضہ نہیں، کیونکہ ان کو تو پتہ ہی نہیں تھا، یہ تو مال اندر چھپا ہوا تھا۔ لیکن اگر قبضہ خاص ہو کسی فرد کا تو جب اس کا قبضہ ظاہری زمین پر آتا ہے تو اس زمین کے جو اندر ہوتا ہے اس پر بھی اس کا قبضہ آ جاتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اس پر بھی اس کا قبضہ آ جاتا ہے، وہ صرف ظاہر کا مالک نہیں بنتا بلکہ اس زمین کے جو اندر ہوتا ہے اس کا بھی مالک بن جاتا ہے۔ فرق سمجھ میں آ گیا بھئی؟ یہی بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں یہ جو خزانہ ملا تو طرفین فرماتے ہیں یہ اس شخص کا ہوگا جس کو امام نے یہ زمین پہلے دی تھی، چاہے اس کی اپنی زمین میں ملا ہے خزانہ، جاہلی خزانہ ہے، چاہے کسی اور کی زمین میں ملا، اس کا مالک کون ہے طرفین کے نزدیک؟ جس کو امام نے، امام المسلمین نے شروع میں یہ زمین دی تھی، کیونکہ اس کا قبضہ ظاہر پر آ گیا تھا، ظاہری زمین جب دے دی تو ظاہر پر آیا قبضہ یا نہیں آیا؟ ظاہری زمین تو اس کے قبضے میں آ گئی، لیکن یہ باطنی اندر والا حصہ جو ہے کیا اس پر اس کا قبضہ آئے گا یا نہیں آئے گا؟ تو کہتے ہیں بھئی یہ قبضہ خاص ہے، قبضہ عام نہیں، اور قبضہ خاص جب ظاہر پر آتا ہے تو باطن پر بھی آ جاتا ہے، لہٰذا یہ چیز بھی اس کے قبضے میں ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ لہٰذا اس کو دیں گے۔ یہ معنی ہے: لِأَنَّهُ سَبَقَتْ يَدُهُ إِلَيْهِ، اس لیے کیونکہ مختط لہٗ کا قبضہ اس کی طرف سبقت کر گیا، وَهِيَ يَدُ الخُصُوصِ، اور یہ خاص قبضہ ہے، فَيَمْلِكُ بِهِ مَا فِي البَاطِنِ، تو اس قبضے کے ذریعے وہ مالک بن جائے گا اس چیز کا بھی جو زمین کے باطن میں ہے، اندر ہے، وَإِنْ كَانَتْ عَلَى الظَّاهِرِ، اگرچہ قبضہ اس کا صرف کس پر ہے؟ ظاہر پر، لیکن باطن کا بھی مالک بن جائے گا، كَمَنِ اصْطَادَ سَمَكَةً فِي بَطْنِهَا دُرَّةٌ، جیسے کہ وہ شخص جس نے جو کوئی کسی مچھلی کو شکار کرے ایسی مچھلی فِي بَطْنِهَا دُرَّةٌ، جس کے پیٹ میں موتی ہو موتی۔ بھئی یاد رکھیے شکار شکار حلال ہے اور جس شخص کے قبضے میں وہ جانور آ جائے گا وہی اس کا مالک ہے۔ اب مثلاً ایک شخص نے مثلاً ایک مچھلی شکار کی اور مچھلی کے پیٹ میں کیا ہے؟ موتی ہے، تو اس مچھلی پر اس آدمی کا قبضہ آیا، لیکن قبضہ ظاہر پر آیا صرف یا باطن پر بھی آ گیا؟ باطن پر بھی آ گیا کیونکہ یہ خاص قبضہ ہے اس آدمی کا، عام قبضہ نہیں، اور وہ باطن پر بھی آ گیا، لہٰذا یہ موتی کا بھی مالک بن گیا۔ لیکن اس کو پتہ نہیں کہ اس کے پیٹ میں موتی ہے، اس نے اسی طرح مچھلی آگے فروخت کر دی، فروخت کر دی، اور اس اگلے شخص نے پھر جب مچھلی کو کاٹا تو اس میں سے وہ موتی نکل آیا، تو یہ موتی جس نے اس کو مچھلی بیچی تھی اس کا ہے، اس کو لوٹانا پڑے گا بھئی، کیونکہ وہ قبضہ کس قسم کا تھا؟ خاص قبضہ تھا، جب ظاہر پر آیا تھا تو باطن پر بھی آ گیا، تو یہ باطن کی چیز بھی اس کی ہے، تو اس نے اس کو مچھلی بیچی ہے، موتی تو نہیں بیچا، لہٰذا موتی کا ابھی بھی وہی مالک ہے، لوٹانا پڑے گا۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ یہ معنی ہے: كَمَنِ اصْطَادَ سَمَكَةً فِي بَطْنِهَا دُرَّةٌ، جیسے کہ وہ شخص جو شکار کر لے ایسی مچھلی کو جس کے پیٹ میں موتی ہو۔ تو یہ مسئلہ بھی اسی کی طرح ہے۔ ثُمَّ بِالبَيْعِ لَمْ يَخْرُجْ عَنْ مِلْكِهِ، پھر بیچنے سے یہ اس کی ملکیت سے نہیں نکلتا، لِأَنَّهُ مُودَعٌ فِيهَا، اس لیے کیونکہ یہ اس کے اندر امانت رکھا گیا ہے۔ بھئی یہ اب موتی کی بات نہیں چل رہی بلکہ یہ اسی پھر رکاز یا کنز کی بات چل رہی ہے، کس کی؟ کیونکہ دُرَّةٌ موتی، دُرَّةٌ یہ تو مؤنث ہے اور آگے مؤنث کی ضمیریں نہیں لوٹا رہے: لَمْ يَخْرُجْ، کون سی ضمیر لوٹائی؟ مذکر کی، لِأَنَّهُ مُودَعٌ فِيهَا، لِأَنَّهُ یہ کون سی ضمیر لوٹائی؟ مذکر کی، تو معلوم ہوا یہ وہ کنز یا رکاز کی بات کر رہے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو وہ مچھلی اور موتی والی بات پوری ہو گئی بس۔ ثُمَّ بِالبَيْعِ، پھر بیچنے سے، لَمْ يَخْرُجْ عَنْ مِلْكِهِ، یہ خزانہ یا یہ رکاز اس کے مختط لہٗ کی ملک سے نہیں نکلا۔ اس نے کیا کیا تھا؟ خلیفہ نے اس کے حوالے کر دی تھی، بے شک اس نے کسی کو یہ زمین بیچ دی ہو، بیچنے سے بھی وہ خزانہ اس کی ملک سے نہیں نکلا، لِأَنَّهُ مُودَعٌ فِيهَا، اس لیے کیونکہ یہ خزانہ اس کے اندر بطور امانت رکھا ہوا ہے، تو یہ اس کا مالک ہے، تو اس نے صرف زمین بیچی ہے، خزانہ نہیں بیچا۔ بِخِلَافِ المَعْدِنِ، بخلاف کس کے؟ معدن کے، کان کے، لِأَنَّهُ مِنْ أَجْزَائِهَا فَيَنْتَقِلُ إِلَى المُشْتَرِي، اس لیے کیونکہ وہ زمین کے اجزاء میں سے ہے تو وہ منتقل ہو جاتی ہے مشتری کی طرف۔ بھئی یاد رکھیے زمین بیچی اس مختط لہٗ نے، کس نے؟ مختط لہٗ نے، اور اس میں کیا موجود تھا؟ خزانہ، اور خزانہ آج نکلا ہے، لیکن یہ قبضہ کس قسم کا تھا؟ خاص۔ جب ظاہر پر قبضہ آیا تو باطن پر بھی قبضہ آ گیا، تو یہ اس کا کیا بن گیا؟ مختط لہٗ اس کا مالک ہوا، اس کے بعد اس کے چاہے اس نے یا اس کے وارثوں نے زمین بیچی لیکن انہوں نے زمین بیچی ہے اور یہ خزانہ یہ تو زمین کے اندر ایک الگ چیز پڑی ہوئی ہے، زمین بیچنے سے اس کا بیچنا لازم نہیں آتا، لہٰذا اس کے ابھی بھی وہی مالک ہیں۔ لیکن اگر اس نے زمین بیچی تھی، بعد میں کسی یا یوں کہیں آج کل کسی زمین میں سے کان نکل آتی ہے، کیا نکل آتی ہے؟ کان، تو یہ نہیں کہیں گے کہ یہ کان بھی مختط لہٗ کی ہے۔ بھئی کیوں نہیں مختط لہٗ کی؟ کہ ابھی آپ نے ہمیں ضابطہ بتلا دیا کہ جب ظاہر پر قبضہ خاص آئے تو باطن پر بھی وہ قبضہ آ جاتا ہے، تو کہتے ہیں بھئی ٹھیک ہے، قبضہ خاص ظاہر کے ساتھ ساتھ کس پر آ جاتا ہے؟ باطن پر بھی آ جاتا ہے، لیکن یہ کان کی بات ہو رہی ہے اور کان کس کے اجزاء میں سے ہے؟ زمین کے اجزاء میں سے ہے، کوئی الگ چیز نہیں، جب الگ چیز نہیں تو جب اس نے زمین کو بیچا تو کان تو وہ کان بھی ساتھ ہی بک گئی کیونکہ وہ کس کے اجزاء میں سے؟ اور زمین کو اس نے سارے اجزاء سمیت بیچا ہے یا نہیں بیچا؟ اس نے زمین کو سارے اجزاء سمیت، جبکہ خزانہ تو ایک بالکل الگ چیز اس کے اندر رکھی ہوئی تھی تو دونوں میں فرق ہے۔ تو زمین بیچنے سے کان بھی بک گئی، وہ دوسرا مشتری اس کا مالک بن گیا، لیکن خزانہ ہے وہ زمین کو بیچنے سے وہ مشتری اس کا مالک نہیں ہوا۔ فرق سمجھ میں آ گیا؟ یہ معنی ہے: بِخِلَافِ المَعْدِنِ لِأَنَّهُ مِنْ أَجْزَائِهَا فَيَنْتَقِلُ إِلَى المُشْتَرِي، بخلاف کان کے، اس لیے کیونکہ وہ زمین کے اجزاء میں سے ہے، تو وہ منتقل ہو جاتی ہے خریدار کی طرف۔ وَإِنْ لَمْ يُعْرَفِ المُخْتَطُّ لَهُ يُصْرَفُ إِلَى أَقْصَى مَالِكٍ يُعْرَفُ فِي الإِسْلَامِ عَلَى مَا قَالُوا۔ اچھا بھئی، طرفین کے نزدیک یہ جو خزانہ نکلا ہے جاہلی خزانہ، یہ اس کا مالک کون ہے؟ مختط لہٗ ہے، اگر مختط لہٗ کا پتہ ہی نہیں، بڑا عرصہ گزر گیا، بڑے سال گزر گئے، سینکڑوں سال، کہ کس کو دی تھی ابتدائً جب پتہ کی اس علاقے کو فتح کیا گیا تھا تو کس مسلمان کو ملی تھی؟ تو کہتے ہیں اگر مختط لہٗ کا پتہ نہیں تو پھر جو آخری مالک کا پتہ چلتا ہے اوپر کی طرف مسلمانوں میں سے، اس کو وہ اس کا مالک ہوگا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ دادا، پردادا، لکڑدادا، اس سے اوپر جس آخری مسلمانوں کا میں سے آخری کا پتہ چلتا ہے وہ کیا ہوگا؟ اس کا مالک ہوگا کیونکہ اس سے پیچھے کا تو ہمیں پتہ ہی نہیں چل سکا کوشش کے باوجود بھئی۔ تو یہ معنی ہے: وَإِنْ لَمْ يُعْرَفِ المُخْتَطُّ لَهُ، اور اگر مختط لہٗ کا پتہ مختط لہٗ معلوم نہ ہو، يُصْرَفُ إِلَى أَقْصَى مَالِكٍ، تو اس کو پھیرا جائے گا آخری مالک کی طرف، يُعْرَفُ فِي الإِسْلَامِ، جو معلوم ہے اسلام کے اندر، عَلَى مَا قَالُوا، بوجہ اس کے جو فقہاء نے فرمایا ہے۔ وَلَوِ اشْتَبَهَ الضَّرْبُ، اور اگر ضرب جو ہے، قسم مشتبہ ہو گئی، یعنی یا تو کوئی نشانی نہیں یا نشانی مشتبہ ہے، پتہ ہی نہیں چل رہا یہ کس کا ہے، مسلمانوں نے دفنایا ہے یا کفار نے، جاہلی ہے؟ تو پھر کہتے ہیں اس صورت میں اس کو جاہلی ہی شمار کیا جائے گا۔ کیا شمار کیا جائے گا؟ جاہلی ہی شمار کیا جائے گا۔ یہ معنی ہے: وَلَوِ اشْتَبَهَ الضَّرْبُ يُجْعَلُ جَاهِلِيًّا، اور اگر مشتبہ ہو گئی قسم، تو اس کو جاہلی شمار جاہلی قرار دیا جائے گا، فِي ظَاهِرِ المَذْهَبِ لِأَنَّهُ الأَصْلُ، ظاہر مذہب میں، کیونکہ وہی اصل ہے، اصل یہی ہے کہ جاہلی ہی ہوگا۔ وَقِيلَ يُجْعَلُ إِسْلَامِيًّا فِي زَمَانِنَا، صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں کہ اور کہا گیا ہے کہ اس کو ہمارے زمانے میں اسلامی قرار دیا جائے گا کہ یہ خزانہ کس نے دفن کیا ہے؟ کسی مسلمان نے۔ بھئی کیوں؟ کہتے ہیں: لِتَقَادُمِ العَهْدِ، زمانے کے پرانا ہو جانے کی وجہ سے، یعنی اسلام کا زمانہ پرانا ہو چکا ہے، اسلام کو آئے ہوئے بھی سینکڑوں سال گزر چکے ہیں، تو اب کیا قرار دیا جائے گا اس کو؟ اسلامی ہی قرار دیا جائے گا، اور اسلامی ہے تو پھر یہ لقطے کے حکم میں ہے اور اس کے مالک کا پتہ چلانے کی کوشش کی جائے گی۔ وَمَنْ دَخَلَ دَارَ الحَرْبِ بِأَمَانٍ فَوَجَدَ فِي دَارِ بَعْضِهِمْ رِكَازًا رَدَّهُ عَلَيْهِمْ۔ مسئلہ یہ بھئی: ایک مسلمان دار الحرب گیا امان لے کر، امان لے کر، اور وہاں کسی گھر میں وہ رہنے لگا اور وہاں اس گھر کے اندر بھئی اس کو رکاز ملا، کیا ملا؟ کیا معنی؟ دونوں دونوں مراد ہیں، یہاں رکاز کا اطلاق کیا ہوتا ہے؟ دونوں پر ہوتا ہے۔ ماقبل میں رکاز کا معنی صاحبِ ہدایہ نے کنز کے ساتھ کیا تھا کیونکہ معدن کی بات پیچھے گزر گئی تھی، اس لیے وہاں بتلایا رکاز سے کیا مراد ہے؟ کنز مراد ہے۔ اور یہاں پر دار الحرب گیا ہے اور وہاں گھر میں کیا ملا؟ رکاز، تو یہاں تو معدن کی دونوں کی اکٹھی بات کر رہے ہیں، دونوں کا بیان کر رہے ہیں۔ تو اس گھر کے اندر اس کو کوئی کان مل گئی یا کوئی خزانہ مل گیا، تو کیا یہ اس کا ہوا؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، یہ جو گھر کا مالک ہے اس کو دے دے گا، اس پر رد کر دے گا، اس کو لوٹا دے گا، کیونکہ اس کا قبضہ کس قسم کا ہے؟ قبضہ خاص ہے، اور قبضہ خاص سے انسان ظاہر کے ساتھ ساتھ کس کا مالک بن جاتا ہے؟ باطن کا بھی مالک بن جاتا ہے۔ تو کہتے ہیں: وَمَنْ دَخَلَ دَارَ الحَرْبِ، اور جو شخص دار الحرب میں جو مسلمان دار الحرب میں داخل ہوا، بِأَمَانٍ، امان کے ساتھ، فَوَجَدَ فِي دَارِ بَعْضِهِمْ رِكَازًا، تو اس نے ان میں سے کسی کے گھر کے اندر رکاز پایا، یعنی چاہے کان ہو یا خزانہ، رَدَّهُ عَلَيْهِمْ، تو اس پر اس کو ان پر لوٹا دے گا، تَحَرُّزًا عَنِ الغَدْرِ، دھوکے سے بچنے کے لیے، عہد شکنی سے بچنے کے لیے، لِأَنَّ مَا فِي الدَّارِ فِي يَدِ صَاحِبِهَا خُصُوصًا، اس لیے کیونکہ وہ جو کچھ گھر کے اندر ہے وہ اس گھر کے مالک کے قبضے میں ہے خصوصاً خاص طور پر، کیونکہ یہ قبضہ کون سا ہے؟ قبضہ خاص ہے، تو لہٰذا یہ دھوکہ ہوگا کہ اس کی چیز لے لے بھئی۔ وَإِنْ وَجَدَهُ فِي الصَّحْرَاءِ فَهُوَ لَهُ، اور اگر اس نے اس رکاز کو صحرا میں پایا، دار الحرب میں کہاں پر؟ صحرا کے اندر، فَهُوَ لَهُ، تو پھر وہ اسی مسلمان کا ہے جو امان لے کر گیا۔ لِأَنَّهُ لَيْسَ فِي يَدِ أَحَدٍ عَلَى الخُصُوصِ، اس لیے کیونکہ یہ کان یا خزانہ کسی کے قبضے میں نہیں تھا علی الخصوص، خاص طور پر، کسی کے قبضہ خاص میں یہ نہیں تھا، فَلَا يُعَدُّ غَدْرًا، لہٰذا اس کو دھوکہ شمار نہیں کیا جائے گا، وَلَا شَيْءَ فِيهِ، یا یوں کہیں اس کو عہد شکنی شمار نہیں کیا جائے گا، کیونکہ جب یہ امان لے کر گیا ہے امان لے کر، تو گویا اس نے کیا وعدہ کیا ہے کہ ان لوگوں کے جان و مال میں کسی کو نقصان نہیں دے گا بھئی، تو لہٰذا لیکن اگر اس کو صحرا میں ملا پھر تو کسی کا قبضہ نہیں، تو اس صورت میں اس میں کوئی عہد شکنی نہیں ہے۔ یہ معنی ہے: فَلَا يُعَدُّ غَدْرًا، تو اس کو غدر شمار نہیں کیا جائے گا، وَلَا شَيْءَ فِيهِ، اور اس کے اندر کوئی چیز بھی واجب نہیں ہوگی یعنی خمس بھی نہیں ہوگا، اس میں کوئی بھئی خمس کیوں نہیں واجب ہوگا اس کے اندر؟ کہتے ہیں بھئی خمس اس مال میں واجب ہوتا ہے جو بطور غنیمت کے مسلمانوں کو ملتا ہے، اور غنیمت مسلمانوں کو کس طرح ملتی ہے؟ زور بازو سے اور قوت سے اور فتح کے بعد ملتی ہے یا نہیں ملتی بھئی؟ فتح، تو وہاں زبردستی ہوتی ہے اور اپنی قوت کے ذریعے ان سے وہ چیز کفار سے چھینی جاتی ہے تو اس کے اندر خمس، اور یہاں تو اس نے جو مال اس کو ملا ہے وہ خفیہ طور پر حاصل کیا ہے، لہٰذا یہ غنیمت کے حکم میں نہیں۔ جب خفیہ طور پر لیا، غنیمت کے حکم میں نہیں، تو اس میں خمس بھی واجب نہیں ہوگا۔ یہ معنی ہے: لِأَنَّهُ بِمَنْزِلَةِ المُتَلَصِّصِ غَيْرِ مُجَاهِرٍ، اس لیے کیونکہ یہ شخص جو ہے متلصص کے، خفیہ طور پر لینے والے کے درجے میں ہوا۔ لِصّ کہتے ہیں لِصّ عربی میں چور کو کہتے ہیں، کس کو؟ چور، چور بھی کیا کرتا ہے؟ خفیہ طور پر دوسرے کا مال لے جاتا ہے۔ تو یہ شخص بھی متلصص کے درجے میں ہوا یعنی خفیہ طور پر مال لینے والے کے درجے میں ہوا، غَيْرِ مُجَاهِرٍ، نہ کہ اعلانیہ طور پر، نہ کہ اعلانیہ طور پر مال لینے والا نہیں ہے، اگر اعلانیہ طور پر یہ مال لینے والا ہوتا زبردستی، تو پھر اس صورت میں اس میں خمس آنا تھا۔ وَلَيْسَ فِي الفَيْرُوزَجِ الَّذِي يُوجَدُ فِي الجِبَالِ خُمْسٌ۔ اور فیروزج یعنی فیروزہ بھئی، یہ قیمتی پتھر جو پہاڑوں سے نکلتے ہیں، تو یہ مختلف قسمیں ہیں: یاقوت ہے، زمرد ہے، فیروزہ وغیرہ، یہ قیمتی پتھر ہیں۔ تو ان کے اندر خمس نہیں ہے۔ کہتے ہیں: وَلَيْسَ فِي الفَيْرُوزَجِ الَّذِي يُوجَدُ فِي الجِبَالِ خُمْسٌ، اور وہ فیروزہ جو پہاڑوں میں پایا جائے اس میں خمس نہیں ہے، لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ”لَا خُمْسَ فِي الحَجَرِ“، بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے کہ آپ نے کیا فرمایا: پتھر کے اندر خمس نہیں، اور یہ یاقوت اور زمرد اور فیروزہ وغیرہ یہ کیا ہیں؟ یہ پتھر ہی ہیں۔ وَفِي الزَّئْبَقِ الخُمْسُ، زئبق کہتے ہیں پارے کو بھئی، پارہ۔ پارہ جانتے ہیں یا نہیں؟ بھئی یہ تھرمامیٹر جس کے ذریعے بخار کو ڈاکٹر چیک کرتے ہیں، اس میں یہ پارہ بھرا ہوتا ہے جو حرارت سے پھیلتا ہے اور اس کے لیے پھر ڈاکٹر بتلاتا ہے کہ کسی کو بخار ہے یا بخار نہیں، تو یہ پارہ ہوتا ہے اور یہ یعنی مائع چیز ہے، مائع چیز بھئی، بہنے والی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اس کے اندر خمس ہوگا یا نہیں؟ تو کہتے ہیں بھئی اس کے اندر خمس واجب ہے، امام یہ امام صاحب کا آخری قول ہے۔ کہتے ہیں: وَفِي الزَّئْبَقِ الخُمْسُ فِي قَوْلِ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ آخِرًا، اور پارے کے اندر خمس ہے امام صاحب کے آخری قول میں، وَهُوَ قَوْلُ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللهُ، اور یہی قول امام محمد رحمہ اللہ کا بھی ہے، خِلَافًا لِأَبِي يُوسُفَ، بخلاف امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے، ان کے نزدیک اس میں نہیں ہے۔ وَلَا خُمْسَ فِي اللُّؤْلُؤِ وَالعَنْبَرِ۔ لؤلؤ بھئی موتی، اور عنبر، عنبر یاد رکھیے یہ سمندر سے ایک چیز نکلتی ہے، ٹھوس، سخت چیز ہوتی ہے، بعض اوقات سمندر اس کو کنارے پر پھینک دیتا ہے، تو یہ ٹھوس چیز ہوتی ہے اور اس کو باریک پیسا جائے تو یہ خوشبو دینے لگتی ہے، مہکنے لگتی ہے، یا اسی طرح اس کو آگ پر ڈالیں تو اس سے بھی خوشبودار دھواں پھر بنتا ہے اور خوشبو کے طور پر اس کو استعمال کیا جاتا ہے۔ اور پھر یہ اصل میں کیا ہے؟ تو اس میں مختلف اقوال ہیں بھئی، بعض کہتے ہیں کہ یہ سمندر کے اندر کوئی خاص پودا ہے پودا، یہ اس کا حصہ ہوتا ہے یہ، یہ جو عنبر ہے۔ بعض کہتے ہیں یہ بعض سمندری جانور ہے یا مچھلی وغیرہ ہے، ان کے پیٹ سے یہ نکلتا ہے، تو یہ عنبر جو ہے ان کے پیٹ سے نکلتا ہے بھئی۔ تو اس میں خمس ہے یا نہیں؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، موتی اور عنبر کے اندر خمس نہیں ہے۔ کہتے ہیں: وَلَا خُمْسَ فِي اللُّؤْلُؤِ وَالعَنْبَرِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللهُ، اور موتیوں اور عنبر کے اندر خمس نہیں ہے طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک، وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ فِيهِمَا وَفِي كُلِّ حِلْيَةٍ تَخْرُجُ مِنَ البَحْرِ خُمْسٌ، امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان دونوں میں بھی یعنی موتی اور عنبر جو ہیں ان میں بھی، وَفِي كُلِّ حِلْيَةٍ، اور اسی طرح ہر زیور جو ہے، تَخْرُجُ مِنَ البَحْرِ، جو کس سے نکلے؟ سمندر سے نکلے، خُمْسٌ، اس میں خمس ہے، لِأَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ أَخَذَ الخُمْسَ مِنَ العَنْبَرِ، دلیل ان کی یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے خمس لیا تھا عنبر میں سے، خمس لیا تھا عنبر میں سے، عنبر ملا تھا بعض لوگوں کو، تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس میں سے پھر خمس لیا، تو یہ دلیل ہے کس کی؟ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی۔ وَلَهُمَا، طرفین کی دلیل یہ ہے: أَنَّ قَعْرَ البَحْرِ لَمْ يَرِدْ عَلَيْهِ القَهْرُ، قَعْر کہتے ہیں گہرائی کو، گہرائی کو۔ طرفین فرماتے ہیں کہ سمندر کی جو گہرائی ہے لَمْ يَرِدْ عَلَيْهِ القَهْرُ، قہر کہتے ہیں زبردستی کو، اس پر زبردستی نہیں ہو سکتی، زبردستی اس پر وارد، یعنی اس پر زبردستی قبضہ کوئی نہیں کر سکتا، بھئی گہرائی ہے، گہرائی تک کون پہنچ سکتا ہے؟ ظاہر پر تو قبضہ ہو سکتا ہے لیکن گہرائی پر قبضہ نہیں، اور غنیمت اور یہ خمس کس مال کے اندر واجب ہوتا ہے؟ جس کو زبردستی جس پر قبضہ کیا گیا ہو جس مال پر، اس میں کیا واجب ہوتا ہے؟ خمس، اور سمندر کی گہرائی سے یہ عنبر اور موتی نکلتے ہیں، اور سمندر کی گہرائی پر زبردستی قبضہ ہو سکتا ہے؟ جب وہاں کسی کی زبردستی چل نہیں سکتی تو یہ جس سے جو مال نکلے گا وہ غنیمت کے حکم میں نہیں، جب غنیمت کے حکم میں نہیں تو اس میں خمس بھی واجب نہیں۔ یہ معنی ہے: وَلَهُمَا أَنَّ قَعْرَ البَحْرِ لَمْ يَرِدْ عَلَيْهِ القَهْرُ، اور طرفین کی دلیل یہ ہے کہ سمندر کی جو گہرائی ہے اس پر زبردستی نہیں ہو سکتی، فَلَا يَكُونُ المَأْخُوذُ مِنْهُ غَنِيمَةً، تو اس سے جو لیا جائے، اس میں سے جو نکالا جائے وہ غنیمت نہیں ہوگا، وَإِنْ كَانَ ذَهَبًا أَوْ فِضَّةً، اگرچہ وہ سونا یا چاندی ہی کیوں نہ ہو، وہ غنیمت نہیں ہے۔ وَالمَرْوِيُّ عَنْ عُمَرَ فِيمَا دَسَرَهُ البَحْرُ، اور جواب بھی دے رہے ہیں طرفین کی طرف سے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل کا، کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے جو خمس لیا تھا عنبر میں سے، یہ وہ عنبر تھا جو سمندر کی گہرائی سے نہیں نکالا گیا تھا بلکہ سمندر نے خود اس کو کنارے پر پھینک دیا تھا، لہروں کے ساتھ کہاں پر آ گیا تھا؟ کنارے پر آ گیا تھا، تو یہ اس کے اندر ہے، اس کے اندر حضرت عمر نے خمس لیا تھا، کون فرما رہے ہیں؟ طرفین، کس کی دلیل کا جواب دے رہے ہیں؟ امام ابو یوسف رحمہ اللہ، کہ یہ عام عنبر نہیں تھا جو سمندر کی گہرائی سے نکالا گیا، اور سمندر کی گہرائی پر میں جو نکلے گا اس میں کچھ نہیں، بلکہ یہ وہ عنبر تھا جس کو سمندر نے کنارے پر پھینک دیا تھا، لہروں کے ساتھ کنارے پر آ گیا تھا، اور اس طرح جو کنارے پر جو ملے اس میں تو ہم بھی قائل ہیں، اس کے اندر کیا لیں گے؟ خمس لیں گے، ہاں جو اندر سے سمندر کے کوئی نکالتا ہے اس میں خمس نہیں، کیونکہ وہاں پر کسی کی زبردستی نہیں چلتی، تو وہاں اس کو زبردستی اس پر قبضہ بھی نہیں ہو سکتا، جب زبردستی قبضہ نہیں ہو سکتا تو اس میں جو نکلے گا وہ غنیمت نہیں، جب غنیمت نہیں تو اس کے اندر خمس بھی واجب نہیں، دلیل سمجھ میں آ گئی؟ تو وہ کہتے ہیں: وَالمَرْوِيُّ عَنْ عُمَرَ فِيمَا دَسَرَهُ البَحْرُ، اور جو روایت کیا گیا حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے، فِيمَا، یہ اس عنبر کے بارے میں ہے، دَسَرَهُ البَحْرُ، جس کو سمندر نے دھکیل دیا تھا یعنی سمندر نے باہر پھینک دیا تھا، وَبِهِ نَقُولُ، اور اسی اس کے ہم بھی قائل ہیں کہ اس طرح جو سمندر باہر پھینکے اس کے اندر خمس دینا پڑے گا۔ مَتَاعٌ وُجِدَ رِكَازًا فَهُوَ لِلَّذِي وَجَدَ وَفِيهِ الخُمْسُ۔ بھئی پہلے تو صورت ذکر کر دی کہ کسی کو خزانہ زمین سے ملا، اس کے اندر تفصیل گزر گئی۔ اب خزانہ نہیں ملا بلکہ کوئی سامان ملا زمین کے اندر دفنایا ہوا، برتن وغیرہ یا اس طرح کی کوئی چیزیں مل گئیں، تو اس کا کیا حکم ہے؟ کہتے ہیں اس کے اندر بھی خمس ہوگا اور باقی پانے والے کا ہوگا، جس شخص کو مل گیا یعنی اس کا یہ بھی اسی کی طرح ہے۔ تو کہتے ہیں: مَتَاعٌ وُجِدَ رِكَازًا، ایسا سامان جس کو بطور رکاز کے پایا جائے، فَهُوَ لِلَّذِي وَجَدَ، تو یہ اسی شخص کے لیے ہوگا جس نے اس کو پایا ہے، وَفِيهِ الخُمْسُ، اور اس کے اندر خمس ہوگا۔ مَعْنَاهُ، آگے صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ معنی اس کا یہ ہے کہ وُجِدَ فِي أَرْضٍ لَا مَالِكَ لَهَا، کہ یہ رکاز کس جگہ ملا ہے؟ ایسی زمین میں جس کا کوئی مالک نہیں ہے، تو پھر اس میں یہ پانے والے کا ہے اور اس میں کیا دیا جائے گا؟ خمس دیا جائے گا، لِأَنَّهُ غَنِيمَةٌ بِمَنْزِلَةِ الذَّهَبِ وَالفِضَّةِ، اس لیے کیونکہ یہ بھی غنیمت ہے سونے اور چاندی کے درجے میں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جو ایسی زمین میں ملے جس کا کوئی مالک نہیں ہے، اور اگر مالک ہے تو پھر وہی تفصیل جو پیچھے بیان ہو چکی رکاز کے اندر بھئی، جی سمجھ میں آیا؟ تو کہتے ہیں یہ معنی ہے: لِأَنَّهُ غَنِيمَةٌ بِمَنْزِلَةِ الذَّهَبِ وَالفِضَّةِ، اس لیے کیونکہ یہ غنیمت ہے سونے اور چاندی کے درجے میں، وَاللهُ أَعْلَمُ، اور اللہ خوب جاننے والے ہیں۔ چلیے بس ہَذَا هُوَ المَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الكَلَامِ۔