بَابُ الْجَنَائِزِ إِذَا احْتُضِرَ الرَّجُلُ وُجِّهَ إِلَى الْقِبْلَةِ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ اعْتِبَارًا بِحَالِ الْوَضْعِ فِي الْقَبْرِ لِأَنَّهُ أَشْرَفَ عَلَيْهِ، وَالْمُخْتَارُ فِي بِلَادِنَا الِاسْتِلْقَاءُ لِأَنَّهُ أَيْسَرُ لِخُرُوجِ الرُّوحِ، وَالْأَوَّلُ هُوَ السُّنَّةُ. بَابُ الْجَنَائِزِ كتاب الصلاۃ ختم ہونے والی ہے اور تمام نمازیں بیان ہو گئیں، اب سب سے آخر میں صاحبِ ہدایہ صلاۃِ جنازہ بیان کریں گے بھئی، نمازِ جنازہ پڑھنے کا طریقہ بھئی، نمازِ جنازہ۔ تو چونکہ انسان پر انسان کی آخری حالت جو ہے اس دنیا میں وہ موت ہے اس لیے اس نماز کو سب سے آخر میں ذکر کیا۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ آخر میں تو صاحبِ ہدایہ جو ہے، کہ آخر میں صاحبِ ہدایہ تو بَابُ الصَّلَاةِ فِي الْكَعْبَةِ لے کر آئے ہیں، بَابُ الْجَنَائِزِ تو آخر میں نہیں ہے۔ جواب یہ کہ بَابُ الصَّلَاةِ فِي الْكَعْبَةِ کو صاحبِ ہدایہ نے آخر میں تبرکاً ذکر کیا ہے بھئی، آخر میں تبرکاً ذکر کیا ہے بطورِ برکت کے تاکہ کتاب الصلاۃ کا اختتام اس پر ہو جائے بھئی، تاکہ اس پر کتاب الصلاۃ کا اختتام ہو جائے اس لیے آخر میں اس کو ذکر کر دیا۔ وجہ سمجھ میں آئی بھئی کہ اس کو کیوں مؤخر کیا؟ بطورِ برکت کے بھئی تاکہ کتاب الصلاۃ کا اختتام اس پر ہو جائے۔ اور یہ جنائز یاد رکھیے یہ جمع ہے جَنَازَةٌ اور جِنَازَةٌ کی، ج کے فتحہ کے ساتھ بھی یہ لفظ ہے اور ج کے کسرہ کے ساتھ بھی، جَنَازَةٌ بھی اور جِنَازَةٌ بھی۔ اور علامہ ابو سعود جنہوں نے قرآن کی فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے عظیم تفسیر لکھی، ان کے ادبی نکات میں سے ہے کہ ایک مرتبہ ان سے کسی نے کسی نے ان سے پوچھا کہ مَا الْفَرْقُ بَيْنَ الْجَنَازَةِ وَالْجِنَازَةِ؟ تو عجیب جواب دیا انہوں نے، فرمانے لگے: الْعَالِي لِلْعَالِي وَالسَّافِلُ لِلسَّافِلِ۔ اوپر والا اوپر والے کے لیے، نیچے والا نیچے والے کے لیے۔ تو جنازہ دیکھیے اس میں ج پر زبر ہے اوپر ہے، تو یہ اوپر والی چیز یعنی میت کے لیے ہے۔ اور جِنازہ اس میں ج کے نیچے کسرہ ہے تو یہ نیچے والی چیز یعنی وہ چارپائی کے لیے ہے جس پر میت پڑی ہو بھئی۔ تو یہ فرق ہے بھئی۔ جنازہ کس کے لیے ہے؟ میت کے لیے، اور جِنازہ کسے کہتے ہیں؟ وہ چارپائی جس پر میت پڑی ہو۔ لیکن بہرحال یہ دونوں ایک دوسرے کی جگہ بھی استعمال ہو جاتے ہیں بھئی۔ میت ہی کو جنازہ بھی کہہ دیتے ہیں اور اسی طرح چارپائی کو جنازہ بھی کہہ دیتے ہیں۔ فرق سمجھ میں آ گیا بھئی؟ اور تو یہاں عنوان جو ہے بَابُ الْجَنَائِزِ ذکر کیا۔ دراصل اس کے اندر صاحبِ ہدایہ نمازِ جنازہ کو ذکر کریں گے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس سے متعلقہ جو چیزیں ہیں وہ بھی ساری ذکر کریں گے اس لیے اس کا نام بَابُ الْجَنَائِزِ رکھا بھئی، کہ کسی شخص کی موت کا وقت آئے تو کیا کیا جائے گا، پھر اس کے بعد اس کو غسل کیسے دیا جائے گا، پھر اس کو کفن کیسے دیا جائے گا وغیرہ یہ سب چیزیں ذکر کریں گے، تو اس لیے اس کا عنوان بَابُ الْجَنَائِزِ رکھا انہوں نے۔ دیکھیے اب کتاب پر: بَابُ الْجَنَائِزِ إِذَا احْتُضِرَ الرَّجُلُ وُجِّهَ إِلَى الْقِبْلَةِ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ إِذَا احْتُضِرَ الرَّجُلُ جب کسی آدمی کی موت کا وقت آ جائے۔ جب کسی شخص کی موت کا وقت آ جائے یعنی کوئی شخص مرنے لگے تو عربی زبان میں کہتے ہیں: اُحْتُضِرَ الرَّجُلُ، اس شخص کی موت کا وقت آ گیا ہے، وہ مرنے لگا ہے۔ تو کہتے ہیں إِذَا احْتُضِرَ الرَّجُلُ جب کسی آدمی کی موت کا وقت آ جائے، وُجِّهَ إِلَى الْقِبْلَةِ تو اس کو متوجہ کر دیا جائے قبلے کی طرف، عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ دائیں پہلو پر۔ دائیں پہلو پر لٹا کر اس کا رخ کس طرف کر دیا جائے؟ قبلے کی طرف کر دیا جائے۔ کس وقت؟ جب کسی آدمی کی موت کا وقت آ جائے بھئی، اور علماء نے اس کی علامات بیان کی ہیں بھئی۔ کہتے ہیں جس وقت کسی آدمی کا سانس اکھڑ جائے، سانس تیز تیز چلنے لگے اور ناک ٹیڑھی ہو جاتی ہے کچھ انسان کی اور کنپٹیاں اندر کو دھنس جاتی ہیں بھئی، تو اس وقت پھر سمجھ جائیں کہ اس شخص کی موت کا وقت آ گیا ہے، اور اس وقت اس کے پاس اونچی آواز سے انسان کلمہ پڑھنا شروع کر دے بھئی، شہادتین پڑھنا شروع کر دے اس کے سامنے۔ لیکن اس کو کہے نہ پڑھنے کا بھئی۔ اونچی آواز سے تو پڑھے انسان یہ شہادتین لیکن اس کو نہ کہے، حکم نہ دے کہ یہ پڑھو یہ پڑھو، اس لیے کیونکہ یہ وقت بڑی سختی کا ہے بھئی، بڑی ہی شدید تکلیف کا وقت ہے یہ، بہت شدید، اتنی تکلیف کہ کہتے ہیں اسے بیان نہیں کیا جا سکتا۔ تو کہتے ہیں موت اتنی سخت ہے یہ اسی طرح ہے جیسے ایک خاردار شاخ ہو، کانٹوں والی شاخ ہو اور اس کے اوپر کوئی نرم و نازک باریک سا ریشمی رومال یا کپڑا وغیرہ ڈال دیا جائے، تو اب اس رومال یا کپڑے کو کھینچا جائے گا تو یقیناً وہ تار تار ہو جائے گا، ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا، پھٹ جائے گا، تو اسی طرح روح جو ہے بدن کے ایک ایک حصے سے اس کو کھینچ کر نکالا جاتا ہے بھئی، ایک ایک حصے سے۔ تو بڑی تکلیف کا عالم ہوتا ہے اور اسی طرح روایات میں آتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو مردوں کو زندہ کرتے تھے اللہ کے حکم سے، ایک مرتبہ ایک مردے کو زندہ کیا اور اس سے پوچھا: کس حال میں ہو؟ تو وہ مردہ کہنے لگا کہ میرے انتقال کو تین سو سال گزر چکے ہیں، لیکن موت کے وقت جو تکلیف آئی تھی اسے آج تک میں نہیں بھلا سکا۔ اس کی تلخی اور کڑواہٹ ابھی بھی میں محسوس کرتا ہوں۔ تو اتنا سخت وقت ہوتا ہے، تو لہٰذا اس وقت اس کو حکم نہ دے کہ کلمہ پڑھو یا شہادتین پڑھو، بلکہ اس کے سامنے اونچی آواز سے یہ پڑھتا رہے تو شاید وہ بھی سن کر پڑھ لے بھئی، سن کر پڑھ لے۔ اور جب ایک دفعہ پڑھ لے تو پھر بار بار اس کو تلقین کرنے کی ضرورت نہیں، بس ایک دفعہ پڑھ لیا کافی ہو گیا تاکہ اس کا آخری کلام کیا ہو جائے؟ یہی کلمہ ہو جائے یا یہی شہادتین پر ہو جائے۔ اور ہاں اگر اس کے بعد اس نے پھر کوئی اور کلام کر لیا تو پھر دوبارہ اسی طرح کریں تاکہ اس کا آخری کلام وہ یہ شہادتین ہو جائے۔ یہ بھی یاد رکھیے بھئی کہ اگر اس حالت میں، اس جانکنی کی حالت میں اگر اس کے منہ سے کوئی کفریہ کلمہ نکل آئے تو اس کی طرف توجہ نہیں کرنی چاہیے، اور یہ نہ سوچے کہ یہ شخص کافر ہو گیا ہے بلکہ یہ گمان کرنا چاہیے کہ موت کی بے انتہا شدت کی وجہ سے اس کی عقل ہی ٹھکانے نہیں رہی بھئی، عقل ہی ٹھکانے نہیں رہی۔ اور جب عقل ٹھکانے نہ رہے انسان کی تو پھر اس وقت کے اس کے کسی عمل کا کوئی اعتبار نہیں، لہٰذا اس کا بھی کوئی اعتبار نہیں بھئی، تو نہ اس کی طرف توجہ کرے نہ کسی اور کو بتلائے بھئی، بلکہ بعد میں بھی اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتے رہیں بھئی، مغفرت کی دعا کرتے رہیں۔ اور نیز اس وقت میں جب کہ اس کی روح نکل رہی ہے، سورۂ یٰسٓ اس کے پاس پڑھی جائے کیونکہ اس سے بھی موت میں آسانی ہو جاتی ہے بھئی۔ جی دیکھیے اب کتاب پر، کہتے ہیں: إِذَا احْتُضِرَ الرَّجُلُ وُجِّهَ إِلَى الْقِبْلَةِ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ جب کسی شخص کی موت کا وقت آ جائے تو اس کو قبلہ رخ کر دیا جائے، قبلے کی طرف اس کو متوجہ کر دیا جائے، عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ دائیں پہلو پر، اعْتِبَارًا بِحَالِ الْوَضْعِ فِي الْقَبْرِ قیاس کرتے ہوئے قبر کی حال قبر میں رکھنے کی حالت پر۔ کس پر قیاس کرتے ہوئے؟ قبر میں رکھنے کی حالت پر، یعنی قبر میں انسان کو اسی طرح رکھا جاتا ہے دائیں پہلو پر کہ اس کا رخ قبلے کی طرف ہو تو لہٰذا یہاں پر بھی اس کو دائیں پہلو پر لٹا دیں گے، لِأَنَّهُ أَشْرَفَ عَلَيْهِ۔ أَشْرَفَ عَلَى الشَّيْءِ کا معنی ہوتا ہے کسی چیز کے قریب ہونا بھئی، کیونکہ وہ اس قبر کے قریب ہو گیا ہے تو لہٰذا اسی حالت جس حالت میں قبر میں لٹایا جاتا ہے اسی حالت پر اس کو لٹا دیا جائے۔ بھئی جب موت کا وقت آئے تو مرنے والے کو دائیں پہلو پر قبلہ رخ کر کے لٹا دینا چاہیے بھئی۔ اور اگر سیدھا لیٹا ہوا ہے تو یہ بھی صحیح ہے کہ پاؤں قبلہ رخ کر دیے جائیں اور سر کے نیچے کوئی اونچا تکیہ وغیرہ رکھ دیا جائے تاکہ چہرہ اس کا قبلے کی جانب ہو جائے، سیدھا لیٹا ہو اور چہرہ کس طرف ہو جائے؟ قبلے کی طرف تو یہ بھی صحیح ہے۔ لیکن اگر اس سے دائیں پہلو پر لٹانے سے یا اس طرح لٹانے سے کہ اس کا سر کے نیچے اونچا تکیہ رکھ دیا جائے چہرہ قبلے کی طرف کر دیا جائے اس میں اگر اس مرنے والے کو تکلیف ہوتی ہے تو پھر اس کو اسی حالت پر چھوڑ دینا چاہیے بھئی۔ وَالْمُخْتَارُ فِي بِلَادِنَا الِاسْتِلْقَاءُ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں اور مختار جو ہے زیادہ پسندیدہ جو ہے ہمارے شہروں میں یعنی ہمارے علاقے میں الِاسْتِلْقَاءُ چت لٹانا ہے بھئی، یعنی کمر کے بل سیدھا لٹانا ہے، تو اس کو اختیار کیا گیا ہے، لِأَنَّهُ أَيْسَرُ لِخُرُوجِ الرُّوحِ اس لیے کیونکہ یہ زیادہ آسان ہے روح کے نکلنے کے لیے، یعنی اس میں انسان کی روح آسانی سے نکل جاتی ہے تو سیدھا لٹایا جاتا ہے۔ وَالْأَوَّلُ هُوَ السُّنَّةُ اور اول طریقہ جو ہے وہی سنت ہے، یعنی سنت وہی طریقہ ہے کہ کس پہلو پر لٹایا جائے؟ دائیں پہلو پر۔ وَلُقِّنَ الشَّهَادَتَيْنِ اور اس کو شہادتین کی تلقین کی جائے، لِقَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ شَهَادَةَ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ“ اور اس کو شہادتین کی تلقین کی جائے بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے کہ تم لوگ تلقین کرو اپنے مردوں کو لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ کی شہادت کی، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ کی شہادت کی تلقین کرو بھئی۔ تو آپ کہیں گے یہاں پر تو صرف توحید کی جو شہادت ہے اس کی تلقین کا ذکر آ رہا ہے حدیث میں بھئی، تو یاد رکھیے شہادتِ رسالت جو ہے وہ اس کے تابع ہے، جب اس کا ذکر آ گیا تو طبعاً اس کا بھی ذکر آ گیا بھئی اس کا۔ اور نیز اس لیے بھی بھئی، اس لیے کیونکہ صرف توحید یہ تو نجات کے لیے کافی نہیں جب تک حضور علیہ السلام کی رسالت کا اقرار نہ کیا جائے، تو بہرحال یہاں پر مقصد یہ کہ اس کا آخری کلام یہ بن جائے بھئی آخری کلام، کیونکہ حدیث میں آتا ہے جس کا آخری کلام لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ ہوا وہ جنت میں داخل ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو بھی موت کے وقت کلمہ نصیب فرمائے بھئی، آمین۔ تو یہ تلقین کرو حضور علیہ السلام فرماتے ہیں۔ تو حدیث کے اندر آیا: ”لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ“ تم اپنے مردوں کو کیا کرو؟ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ کی شہادت کی تلقین کرو۔ صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں: وَالْمُرَادُ الَّذِي قَرُبَ مِنَ الْمَوْتِ مردے سے مراد مردہ نہیں ہے بلکہ وہ شخص مراد ہے جو مرنے کے قریب ہے، تو چونکہ وہ مرنے ہی والا ہے اس لیے پہلے سے ہی اس کو کس لفظ سے تعبیر کر دیا گیا؟ مردے کے لفظ سے، تو مردے سے مردہ نہیں مراد بھئی کیونکہ اس کو تو تلقین کرنے کا کوئی فائدہ نہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَالْمُرَادُ الَّذِي قَرُبَ مِنَ الْمَوْتِ تو مراد اس سے وہ شخص ہے جو موت کے قریب ہو، کس سے؟ مَوْتَاكُمْ مَوْتَاكُمْ، اپنے مردوں کو، تو اس مردے سے کیا مراد ہے؟ جو مرنے کے قریب ہو بھئی۔ فَإِذَا مَاتَ شُدَّ لِحْيَاهُ وَغُمِّضَ عَيْنَاهُ جب وہ مر جائے تو شُدَّ لِحْيَاهُ تو اس کے جبڑے باندھ دیے جائیں، وَغُمِّضَ عَيْنَاهُ اور اس کی دونوں آنکھیں بند کر دی جائیں۔ فَإِذَا مَاتَ شُدَّ لِحْيَاهُ جب وہ مر جائے تو اس کے دونوں جبڑے باندھ دیے جائیں بھئی۔ بھئی جبڑے دو ہیں انسان کے ایک اوپر والا حصہ اور ایک نیچے والا جس میں اوپر والے دانت لگے ہیں اور ایک حصہ نیچے والا جس میں نیچے والے دانت ہیں، تو ان کو باندھ دیا جائے بھئی، ان کو باندھ دیا جائے۔ تو وجہ اس کی یہ ہے کہ مرتے وقت ابھی تو جسم نرم ہے لیکن پھر تھوڑا سا وقت گزر جاتا ہے تو اس مرنے والے کا جسم سخت ہو جاتا ہے، اکڑ جاتا ہے، تو یہ نہ ہو اسی حالت میں اس کا منہ کھلا ہوا ہے اور اسی حالت میں اس کا بدن اکڑ جائے تو بڑی بری شکل اس کی دکھائی دے گی، لہٰذا ابھی سے اس کو باندھ دیا جائے تاکہ منہ صحیح حالت پر رہے بھئی، اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ اس کی ٹھوڑی کے نیچے سے ایک پٹی گزار کر سر کے اوپر اس کو گرہ دے دی جائے بھئی سر کے اوپر۔ تو کہتے ہیں فَإِذَا مَاتَ شُدَّ لِحْيَاهُ جب وہ مر جائے تو اس کے دونوں جبڑوں کو باندھ دیا جائے، وَغُمِّضَ عَيْنَاهُ اور اس کی دونوں آنکھوں کو بند کر دیا جائے، دونوں اس کی آنکھیں بھی بھئی دونوں بند کر دی جائیں۔ اور اسی طرح یاد رکھیے اس کے پاؤں کے دونوں انگوٹھوں کو بھی آپس میں باندھ دیا جائے بھئی، پاؤں کے انگوٹھوں کو تاکہ پاؤں سیدھے رہیں اس کے بھئی۔ اور یہ جو شخص پٹی باندھ رہا ہے آنکھیں بند کر رہا ہے وغیرہ اس کو ”بِسْمِ اللهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللهِ“ یہ پڑھتا رہے بھئی، پٹی باندھتے ہوئے اور آنکھیں بند کرتے ہوئے ”بِسْمِ اللهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللهِ“ بھئی۔ تو کہتے ہیں اس کی آنکھیں بند کر دی جائیں، بِذٰلِكَ جَرَتِ التَّوَارُثُ اسی پر توارث جاری ہے یعنی اسی پر عمل ہوتا چلا آیا ہے آج تک، ثُمَّ فِيهِ تَحْسِينُهُ فَيُسْتَحْسَنُ پھر اس کے اندر اس مردے کو اچھا بنانا ہے تو یہ پسندیدہ ہوگا، اس لیے کیونکہ اگر آنکھیں کھلی رہیں گی منہ کھلا ہوا ہوگا تو پھر تو بڑی خوفناک صورت اس کی بن جائے گی کچھ وقت گزرے گا، لہٰذا اس میں اس کی صورت کو اچھا بنانا ہے لہٰذا ایسا کرنا مستحسن ہوگا بھئی۔ اور یہ بھی یاد رکھیے کہ پھر جب اس کا انتقال ہو جائے تو اس کے پاس کوئی خوشبو وغیرہ سلگا دی جائے بھئی، کوئی اگر بتی وغیرہ یہ اس کے پاس جلا دی جائیں اور نیز اس کے پاس کوئی شخص جنابت کی حالت والا اس کے پاس نہ رہے بھئی، اسی طرح حیض و نفاس کی حالت میں جو عورتیں ہیں وہ اس کے پاس نہ رہیں، اور اسی طرح اس کو غسل دینے سے پہلے اس کے پاس قرآن نہیں پڑھنا چاہیے بھئی، ہاں جب میت کو غسل دے دیا جائے پھر اس کے پاس قرآن پڑھ سکتے ہیں۔ فَصْلٌ فِي الْغُسْلِ یہ فصل ہے غسلِ میت کے بیان میں بھئی۔ یاد رکھو مرنے والے کو غسل دینا یہ زندوں پر فرض ہے بھئی۔ مرنے والے کو غسل دینا یہ زندوں پر فرض ہے اور بغیر اس کے نمازِ جنازہ صحیح نہیں۔ اگر کسی کو غسل دیے بغیر ہی اس پر نمازِ جنازہ پڑھی گئی تو یہ نمازِ جنازہ درست نہیں ہے بھئی، لہٰذا غسل دے کر پھر دوبارہ اس پر نمازِ جنازہ پڑھنی چاہیے، اور اگر اس کو اسی طرح دفنا دیا گیا ہے تو اب اس کی قبر پر نمازِ جنازہ پڑھ دینی چاہیے بشرطیکہ ابھی میت گلی نہ ہو، پھولا پھٹا اس کا جسم نہ ہو تو اس وقت تک اس کی قبر پر پھر نمازِ جنازہ پڑھ دینی چاہیے۔ تو پہلے جب اس کو بغیر غسل کے نمازِ جنازہ پڑھی گئی تھی تو وہ صحیح نہ ہوئی، کیونکہ اس وقت غسل دینا ممکن تھا پھر بھی ویسے ہی پڑھی جا رہی ہے نمازِ جنازہ لہٰذا یہ صحیح نہ ہوئی، اور اب تو چونکہ اس کو قبر میں دفن کر دیا گیا ہے اب تو ممکن نہیں اس کو غسل دینا لہٰذا اب صحیح ہو جائے گی نمازِ جنازہ جب قبر پر پڑھی جائے گی بھئی۔ اور یہ بھی یاد رکھیے کہ مرد کو مرد غسل دے گا اور عورت کو عورت غسل دے گی بھئی۔ تو کہتے ہیں فَصْلٌ فِي الْغُسْلِ یہ فصل ہے غسل یعنی غسلِ میت کے بیان میں: فَإِذَا أَرَادُوا غَسْلَهُ وَضَعُوهُ عَلَى سَرِيرٍ لِيَنْصَبَّ الْمَاءُ عَنْهُ فَإِذَا أَرَادُوا غَسْلَهُ پس جب وہ ارادہ کریں غَسْلَهُ میت کو غسل دینے کا، وَضَعُوهُ عَلَى سَرِيرٍ تو رکھ دیں اس کو عَلَى سَرِيرٍ کسی تختے پر۔ بھئی فَإِذَا أَرَادُوا غَسْلَهُ اس کو غَسل پڑھنا بھئی غُسل نہیں پڑھنا۔ اور یہ ضابطہ غالباً میں پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں، صاحبِ جوہرہ جنہوں نے قدوری کی شرح لکھی ہے قدیم شرح ہے قدوری کی سینکڑوں برس پرانی، وہ یہ ضابطہ ذکر فرماتے ہیں کہ جب یہ غ، س، ل یہ غَسل مادہ یا غُسل مادہ جو ہے جب اس کی اضافت جب اس کی اضافت غیرِ مغسول کی طرف ہو تو غ پر پیش پڑھیں گے، اور جب اس کی اضافت مغسول کی طرف ہو تو غ پر زبر پڑھیں گے یعنی غَسل پڑھیں گے۔ جب اس کی اضافت کس کی طرف ہو؟ غیرِ مغسول کی طرف تو کیا پڑھیں گے؟ پیش یعنی غُسل پڑھیں گے، اور جب اس کی اضافت مغسول کی طرف ہو تو کیا پڑھیں گے؟ غَسل۔ بھئی دیکھیے، جمعہ کی طرف ذرا اضافت کریں، اضافت کی صورت بیان ہو رہی ہے جب یہ لفظ مضاف واقع ہو اور آگے اس کے مضاف الیہ آئے۔ اب مجھے بتائیے بھئی ایک مقام پر ایک لفظ لکھا ہوا ہے غ، س، ل اور آگے لفظ ہے الجمعۃ، تو اب آپ کیا پڑھیں گے؟ غَسلِ جمعہ یا غُسلِ جمعہ؟ غُسلِ جمعہ پڑھیں گے، اس لیے کیونکہ اس مادے کی اضافت ہو رہی ہے جمعہ کے لفظ کی طرف اور جمعہ تو مغسول نہیں ہے، جمعے کو دھویا جاتا ہے؟ یا یہ غسل کا وقت ہے؟ یہ وقت کا نام ہے، تو لہٰذا یہاں اضافت غیرِ مغسول چیز کی طرف ہوئی اور اس وقت غ پر پیش پڑھا جاتا ہے۔ اور اگر اضافت مغسول کی طرف ہو تو پھر غ پر زبر پڑھیں گے، جیسے یہاں پر غسل کا لفظ ہے اور آگے المیت ہے میت بھئی، تو کیا پڑھیں گے؟ غُسلِ میت یا غَسلِ میت؟ غَسلِ میت کیونکہ میت مغسول ہے اس کو غسل دیا جائے گا اس کو دھویا جائے گا بھئی، تو یہاں غَسل پڑھیں گے۔ اسی طرح اگر لفظ لکھا ہو غ، س، ل اور آگے لفظ ہو الجنابۃ، تو کیا پڑھیں گے؟ غَسلِ جنابت یا غُسلِ جنابت؟ غُسلِ جنابت بھئی، سمجھ میں آیا؟ کیونکہ جنابت مغسول نہیں ہے۔ اور اسی طرح اگر غسل لکھا ہو اور آگے الثوب کا لفظ ہو تو غَسلِ ثوب پڑھیں گے یا غُسلِ ثوب پڑھیں گے؟ غَسلِ ثوب کیونکہ ثوب مغسول ہے اس کو دھویا جاتا ہے۔ تو ضابطہ کیا ہوا؟ اگر غیرِ مغسول کی طرف اس لفظ کی اضافت ہو تو غ پر ضمہ پڑھیں گے اور اگر مغسول کی طرف اضافت ہو تو فتحہ پڑھیں گے اس پر غَسل پڑھیں گے بھئی۔ تو یہاں دیکھیے فَإِذَا أَرَادُوا غَسْلَهُ، ہا ضمیر میت کو راجع ہے تو میت کی طرف اضافت ہوئی لہٰذا غَسل پڑھیں گے۔ فَإِذَا أَرَادُوا غَسْلَهُ پس جب وہ لوگ ارادہ کریں اس میت کو غسل دینے کا، وَضَعُوهُ عَلَى سَرِيرٍ تو رکھ دیں اس کو کسی تختے پر، لِيَنْصَبَّ الْمَاءُ عَنْهُ تاکہ پانی اس سے بہہ جائے، وَجَعَلُوا عَلَى عَوْرَتِهِ خِرْقَةً اور ڈال دیں اس کی شرمگاہ پر خِرْقَةً کوئی کپڑے کا ٹکڑا، إِقَامَةً لِوَاجِبِ السَّتْرِ قائم کرنے کے لیے ستر کے واجب کو، وہ ستر جو کہ واجب ہے اس کو قائم کرنے کے لیے تاکہ کیونکہ ستر یعنی پردہ پوشی واجب ہے اس کو قائم کرنے کے لیے اس کی شرمگاہ پر کپڑا ڈال دیا جائے گا بھئی۔ وَيُكْتَفَى بِسَتْرِ الْعَوْرَةِ الْغَلِيظَةِ هُوَ الصَّحِيحُ اور اکتفا کیا جائے گا عورتِ غلیظہ کے ستر پر، هُوَ الصَّحِيحُ یہی قول صحیح ہے، تَيْسِيرًا آسانی کے لیے۔ بعض روایات میں آیا کہ جیسے زندہ کا ستر تھا ناف کے نیچے سے لے کر گھٹنوں تک اس سارے حصے پر کیا کر دیا جائے؟ کپڑا ڈال دیا جائے۔ صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلا دیا کہ نہیں، اس سارے ستر کو ڈھانپنا ضروری نہیں ہے بلکہ عورتِ غلیظہ یعنی شرمگاہ کو ڈھانپ دینا صرف کافی ہے بھئی، صرف شرمگاہ کو اس کے ڈھانپ دینا اور اس پر کپڑا ڈال دینا کافی ہے، باقی حصہ جو رانیں ہیں اور گھٹنے ہیں ان کو ڈھانپنا ضروری نہیں ہے بھئی، کیونکہ اگر یہ سارا حصہ ڈھانپا ہوا ہوگا تو پھر غسل دینے میں مشکل ہوگی، تو شرمگاہ کو ڈھانپ دیا جائے یہ کافی ہے اور اس سے غسل دینے میں آسانی ہوگی بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ غسل کا طریقہ بھئی یاد رکھیے بھئی، مختصراً میں پہلے بیان کر دیتا ہوں آگے پھر صاحبِ ہدایہ ذکر کریں گے بھئی۔ غسل کا طریقہ یہ ہے کہ میت کو سب سے پہلے جو ہے استنجا کروایا جائے گا بھئی۔ اس کو تختے پر لٹا دیا اور اس کے بعد اس کو استنجا کروایا جائے گا پہلے۔ تو پہلے اس کے پیٹ کو آہستہ سے ملیں، اگر کوئی نجاست وغیرہ نکلے تو اس کو دھو دیا جائے اور اسے استنجا کروا دیا جائے، اور یہ بھی یاد رکھیے استنجا کرواتے ہوئے اس کی شرمگاہ کو ہاتھ نہیں لگانا بلکہ ہاتھ پر کوئی کپڑا وغیرہ چڑھا لیں گے، کپڑے کی تھیلی یا کوئی دستانہ وغیرہ ہو اس کے ساتھ اس کو استنجا کروا دیا جائے گا بھئی، استنجا کروا دیا جائے گا۔ اور اس میں بھی پہلے مٹی کے ڈھیلے سے ہو اور پھر اس کے بعد پانی کے ساتھ بھئی پانی کے ساتھ۔ پھر اس کے بعد اس کو وضو کروایا جائے گا بھئی وضو، تو پھر اس کو وضو کروایا جائے گا اور وضو میں یاد رکھیے صرف وضو کے فرائض پورے کیے جائیں گے۔ یعنی چہرہ اس کا دھلوا دیا جائے گا اور ہاتھ کہنیوں تک دھو دیں گے، سر کا مسح کروا دیں گے اور اس کے پاؤں کو دھو دیا جائے گا بھئی۔ ناک میں پانی نہیں ڈالیں گے اس کے اور اسے کلی بھی نہیں کروائی جائے گی کیونکہ اگر ناک میں پانی ڈالیں گے پھر اس کا نکالنا آسان نہیں، اسی طرح منہ میں پانی ڈال دیا تو پھر نہیں نکال سکتے، لہٰذا ناک میں بھی پانی نہیں ڈالیں گے اور منہ میں بھی پانی نہیں ڈالیں گے۔ ہاں البتہ یہ کر سکتے ہیں کہ کوئی کپڑا یا روئی اس کو گیلا کر کے اسے اسی کے ساتھ اس کے مسوڑھوں وغیرہ پر اور دانتوں پر پھیر دیا جائے اس تر کپڑے وغیرہ کو اور اسی طرح اس کے ناک میں بھی پھیر دیا جائے یہ کرنا جائز ہے بھئی یہ کر سکتے ہیں۔ لیکن یہ اس صورت میں، یہ اس صورت میں جب مرنے والا جنابت کی حالت میں نہ ہو اور اگر علم ہے اس کے یہ جنابت کی حالت میں تھا پھر یہ کرنا واجب ہے بھئی، کہ اس کے منہ میں اور اسی طرح اس کے ناک میں کیا کیا جائے؟ تر کپڑے کو لگایا جائے اچھی طرح، یہ پھر واجب ہے بھئی واجب بھئی، کیونکہ جیسے غسل میں غسلِ جنابت میں کیا تھا؟ کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا فرض تھا تو یہاں بھی اسی طرح ضروری ہوگا۔ اور پھر اس کے بعد اس کے سر کو دھویا جائے گا بھئی، اور وہ آگے ذکر کریں گے صاحبِ ہدایہ کہ خطمی کے ساتھ، خطمی اس کے ساتھ اس کے سر کو دھویا جائے گا یہ ایک بوٹی تھی یہ ایک بوٹی ہے جس کے ساتھ کہتے ہیں بال وغیرہ خوب اچھی طرح صاف ہو جاتے ہیں، بال خوب اچھی طرح صاف ہو جاتے ہیں۔ اور اگر صابن وغیرہ سے بھی دھو لیا جائے ٹھیک ہے صابن سے بھی دھو سکتے ہیں سر کو اور داڑھی کے بالوں کو دھو دیا جائے گا۔ اور ہاں یہ بھی یاد رکھیں غسل دینے لگے ہیں تو اس کے منہ میں، ناک میں اور کانوں میں روئی رکھ دیں بھئی تاکہ پانی اندر نہ جائے بھئی پانی اندر نہ جائے۔ اچھا پھر اس کے بعد اس کے سر اور داڑھی کے بالوں کو دھویا جائے گا پھر اس کو بائیں کروٹ پر لٹا دیں گے بھئی بائیں کروٹ پر، تاکہ دائیں جانب اوپر آ جائے، بائیں کروٹ پر جب لٹائیں گے تو کون سی کروٹ اوپر آ جائے گی؟ دائیں کروٹ، دایاں پہلو اوپر آ جائے گا اور اب اس کے سارے بدن پر تین مرتبہ پانی بہائیں گے خوب اچھی طرح تاکہ نیچے تک جو حصہ تختے کے ساتھ ملا ہوا ہے وہاں تک خوب اچھی طرح پانی پہنچ جائے بھئی پانی پہنچ جائے۔ پھر اس کے بعد اسی میت کو اب دائیں پہلو پر اب لٹائیں گے اب بایاں پہلو اوپر آ گیا اب اس پر تین مرتبہ اچھی طرح پانی ڈالیں گے یہاں تک کہ پانی جو حصہ نیچے ملا ہوا ہے تختے کے ساتھ وہاں تک اچھی طرح پانی پہنچ جائے بھئی پانی پہنچ جائے۔ پھر اس کے بعد غسل دینے والا اس کو میت کو اپنے ساتھ اس کو بٹھا دے گا میت کو اور اپنے ساتھ ٹیک لگوا دے گا، اور پھر اس حالت میں آہستہ آہستہ اس کے پیٹ کو ملے نرمی سے اگر کوئی نجاست وغیرہ خارج ہو تو اس کو دھو دے، صاف کر دے، اور بائیں پہلو پر پھر اس کو لٹا دے اور پھر اس کے سارے بدن پر کافور ملا ہوا پانی اچھی طرح ڈالا جائے بھئی، کافور ملا، کافور یہ خوشبودار مادہ ہے ایک خوشبودار درخت سے نکلتا ہے، اس کے پانی کے ساتھ مرنے والے کو غسل دیا جاتا ہے اور اسی طرح اس کے بدن پر بھی لگایا جاتا ہے اس خوشبو کو، تو اس پانی کے ساتھ اس کو غسل دے دیا جائے بھئی۔ پھر اس کے بعد کسی کپڑے وغیرہ کے ساتھ اس کے بدن کو خشک کیا جائے اور اس کو کفن دیا جائے گا اور اس کے سر اور داڑھی پر سر اور داڑھی پر خوشبو لگا دی جائے گی، حنوط خوشبو، اسی طرح جو اس کے سجدے کی جگہیں ہیں یعنی جن اعضاء پر وہ سجدہ کرتا تھا، پیشانی، ناک، دونوں ہاتھ اور دونوں گھٹنے ہیں اور دونوں پاؤں ہیں ان پر کافور لگا دیا جائے گا کافور بھئی، اور پھر اس کے بعد اس کو کفن پہنایا جائے گا۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کیا طریقہ ہوا؟ سب سے پہلے اس کو استنجا کروائیں گے، پھر اس کے بعد اس کو وضو کروایا جائے گا اور پھر اس کے بعد بائیں پہلو پر لٹائیں گے تاکہ دایاں پہلو اوپر آ جائے کیونکہ ہر اچھے کام کی ابتدا کس طرف سے ہونی چاہیے؟ دائیں طرف سے، تو دائیں پہلو پر تاکہ وہ پہلے اس کو دھویا جائے، تو اس پورے بدن پر تین مرتبہ پانی ڈال دیں گے خوب اچھی طرح دھو دیا، اس کے بعد دائیں پہلو پر لٹا دیں گے اور بائیں پہلو پر تین مرتبہ اچھی طرح پانی ڈالیں گے تو یہ دو دفعہ ہو گیا۔ پہلی مرتبہ کس جانب کو دھویا؟ دائیں طرف کو اچھی طرح، اب بائیں جانب کو دھویا دو دفعہ ہو گیا، پھر اس کے بعد اس کو بٹھا دیں گے اور اس کے پیٹ کو آہستہ نرمی سے ملیں گے اور کوئی نجاست وغیرہ نکلے اس کو دھو دیا جائے گا، پھر بائیں پہلو پر لٹا کر دائیں پہلو پر کافور ملا ہوا پانی پورے بدن پر اچھی طرح ڈال دیں گے اور پھر اس کے بعد اس کو خشک کر کے اور خوشبو وغیرہ لگا کر پھر کس میں ڈالیں گے؟ پھر اس کو کفن پہنا دیں گے بھئی پھر اس کو کفن۔ اچھا بھئی دیکھیے اب کتاب پر بھئی، تو کہتے ہیں: وَجَعَلُوا عَلَى عَوْرَتِهِ خِرْقَةً اور ڈال دیں اس کی شرمگاہ پر کوئی کپڑا، إِقَامَةً لِوَاجِبِ السَّتْرِ ستر کے واجب کو قائم کرنے کے لیے تاکہ یعنی تاکہ اس کا ستر چھپا رہے۔ وَيُكْتَفَى بِسَتْرِ الْعَوْرَةِ الْغَلِيظَةِ اور اکتفا کیا جائے گا عورتِ غلیظہ کے ستر پر، عورتِ غلیظہ یعنی شرمگاہ۔ ایک تو ویسے ستر ہے نا، ناف کے نیچے سے لے کر گھٹنوں تک بھئی، یہ سارا کیا ہے؟ یہ ستر ہے اور یہ سارا عورت ہے، کیا ہے؟ عورت یعنی اس کا چھپانا ضروری ہے، اور عورتِ غلیظہ جو ہے وہ پھر بالخصوص شرمگاہ کو کہتے ہیں، تو یہاں اس ساری جگہ کو ڈھانپنا ضروری نہیں بلکہ صرف کس جگہ کو ڈھانپا جائے؟ شرمگاہ کو۔ هُوَ الصَّحِيحُ یہی قول صحیح ہے تَيْسِيرًا کس لیے؟ آسانی کے لیے کہ غسل دینے میں آسانی ہوگی۔ وَنَزَعُوا ثِيَابَهُ اور اس کے کپڑے اتار دیں، لِيُمْكِنَهُمُ التَّنْظِيفُ تاکہ ان کے لیے صاف کرنا ان لوگوں کے لیے ممکن ہو جو غسل دینے والے ہیں ان کے لیے صاف ستھرا کرنا ممکن ہو تو اس کے کپڑے اتار دیں گے، یعنی کپڑوں سمیت اس کو غسل نہیں دیا جائے گا۔ ہاں البتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کپڑوں سمیت غسل دیا گیا تھا بھئی، غسل دیا گیا۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ جب حضور علیہ السلام کو وفات کے بعد ان کو غسل دینے کا وقت آیا تو اب صحابہ آپس میں پریشان ہیں کہ کیا کریں، کیا ان کو بھی عام میتوں کی طرح ان کے کپڑے اتار کر ان کو غسل دیا جائے گا یا کپڑوں سمیت ان کو غسل دیا جائے گا؟ تو اللہ تعالیٰ نے ان سب پر نیند طاری فرما دی بھئی، اور وہ سارے ان سب پر یہاں تک کہ ان سب کی ٹھوڑیاں ان کے سینوں کو لگ رہی تھیں سب سو گئے، اور اسی کیفیت کے اندر ایک پکارنے والے نے پکارا، کسی فرشتے نے اونچی آواز سے پکار کر کہا کہ حضور علیہ السلام کو ان کے کپڑوں ہی میں غسل دے دو، اور چنانچہ وہ پھر بیدار ہوئے اور پھر حضور علیہ السلام کو ان کے کپڑوں سمیت ہی حضور علیہ السلام کو غسل دیا گیا بھئی۔ البتہ عام لوگوں کو غسل دیتے ہوئے ان کے کپڑے اتارے جائیں گے، تو کہتے ہیں: وَنَزَعُوا ثِيَابَهُ لِيُمْكِنَهُمُ التَّنْظِيفُ اور اس میت کے کپڑے اتار دیں گے تاکہ ممکن ہو ان لوگوں کے لیے اس کو صاف ستھرا کرنا۔ وَوَضَّئُوهُ مِنْ غَيْرِ مَضْمَضَةٍ وَاسْتِنْشَاقٍ وَضَّأَ کے معنی وضو کروانا، وَوَضَّئُوهُ اور اس کو وضو کروائیں گے مِنْ غَيْرِ مَضْمَضَةٍ وَاسْتِنْشَاقٍ بغیر کلی کروائے اور ناک میں پانی ڈالے، لِأَنَّ الْوُضُوءَ سُنَّةُ الِاغْتِسَالِ اس لیے کیونکہ وضو غسل کی سنت ہے، تو پہلے کیا کروا دیں؟ غسل دینے لگے ہیں تو پہلے وضو کروا دیں، غَيْرَ أَنَّ إِخْرَاجَ الْمَاءِ مِنْهُ مُتَعَذِّرٌ فَيُتْرَكَانِ علاوہ اس کے کہ اس سے پانی کا نکالنا ممکن نہیں ہے فَيُتْرَكَانِ تو ان دونوں کو چھوڑ دیا جائے گا یعنی مضمضہ اور استنشاق کو، ثُمَّ يُفِيضُونَ الْمَاءَ عَلَيْهِ پھر اس کے اوپر پانی بہائیں گے، پانی ڈالیں گے، اعْتِبَارًا بِحَالِ الْحَيَاةِ قیاس کرتے ہوئے زندگی کی حالت پر۔ زندگی میں جیسے کیا طریقہ تھا غسل کا؟ کہ انسان پہلے وضو کرتا ہے اور پھر اس کے بعد اپنے بدن پر پانی ڈالتا ہے تو یہاں بھی اسی طرح ہوگا۔ وَيُجَمَّرُ سَرِيرُهُ وِتْرًا یا یوں پڑھ لیں وَيُجْمَرُ، يُجْمَرُ پڑھ لیں یا يُجَمَّرُ معنی ایک ہی ہے۔ اِجْمَار کہتے ہیں اِجْمَار، دھونی دینا بھئی، خوشبودار دھواں پہنچانا، خوشبودار دھواں پہنچانا بھئی خوشبودار دھواں۔ تو وَيُجْمَرُ سَرِيرُهُ وِتْرًا اور اس کا جو تخت ہے جس پر اس کو غسل دیا جائے گا اس کو دھونی دی جائے وِتْرًا طاق مرتبہ یعنی تین یا پانچ یا سات مرتبہ۔ کوئی خوشبودار چیز سلگا کر اور اس کے تخت کے گرد اچھی طرح چاروں کونوں پر اور پورے تخت کو دھواں پہنچ جائے تین مرتبہ یا پانچ مرتبہ یا سات مرتبہ طاق عدد کے ساتھ یعنی طاق عدد کے ساتھ۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ کوئی خوشبودار چیز جیسے اگر بتی وغیرہ اس طرح کی چیز یا جو بھی ہو تو خوشبودار دھواں تاکہ اس کی بو وغیرہ ختم ہو جائے۔ تو اس کے تخت جو ہے اس کو دھونی دی جائے گی طاق مرتبہ، بھئی اس کی کیا وجہ ہے؟ کہتے ہیں: لِمَا فِيهِ مِنْ تَعْظِيمِ الْمَيِّتِ اس وجہ سے کہ اس کے اندر میت کی تعظیم ہے، اور طاق مرتبہ کیوں دی جائے گی؟ کہتے ہیں: وَإِنَّمَا يُوتَرُ لِقَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”إِنَّ اللهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ“ بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے کہ وہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ وتر ہیں طاق ہیں، يُحِبُّ الْوِتْرَ اور طاق سے محبت کرتے ہیں یعنی طاق عدد کو پسند کرتے ہیں۔ وَيُغْلَى الْمَاءُ بِالسِّدْرِ أَوْ بِالْحُرْضِ اور ابالا جائے گا، جوش دیا جائے گا پانی کو بِالسِّدْرِ بیری کے ساتھ أَوْ بِالْحُرْضِ یا اشنان کے ساتھ۔ بھئی جس پانی کے ساتھ میت کو غسل دینا ہے اس پانی کو بیری کے پتے ڈال کر ابالا جائے گا اس کو جوش دیا جائے گا، بیری کے، اس وجہ سے کہ یہ جو پانی جس میں بیری کے پتے ڈال کر ابالے گئے ہوں اس سے صفائی اچھی طرح حاصل ہوتی ہے، یہ میل کچیل کو خوب اچھی طرح صاف کرتا ہے تو اس لیے ایسا کیا جائے گا۔ اور نیز اس لیے بھی کہتے ہیں کہ اس سے جو میت ہے اس کو بھی فائدہ ہوتا ہے کہ اس سے لاش جو ہے وہ جلدی خراب نہیں ہوتی تو۔ أَوْ بِالْحُرْضِ یا اشنان کے ساتھ، بیری کے پتوں کے ساتھ اس پانی کو ابالا جائے یا کس کے ساتھ؟ اشنان، اشنان یہ بھی ایک بوٹی ہے اور اسے صابن کی طرح استعمال کیا جاتا اور اس سے صابن کی طرح صفائی حاصل ہوتی ہے، تو ان دو چیزوں میں سے کسی ایک کے ساتھ پانی کو ابالا جائے، مُبَالَغَةً فِي التَّنْظِيفِ صفائی میں مبالغہ کرنے کے لیے یعنی تاکہ خوب اچھی طرح میت پھر اس سے صاف ہو جائے، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ اگر یہ نہ ہوں، فَالْمَاءُ الْقَرَاحُ، قراح ق پر فتحہ ہے، فَالْمَاءُ الْقَرَاحُ تو خالص پانی کے ساتھ، کس کے ساتھ غسل دے دیا جائے؟ خالص پانی، یہ جو عام پانی ہوتا ہے، لِحُصُولِ أَصْلِ الْمَقْصُودِ اصل مقصود کے حاصل ہو جانے سے، کیونکہ عام خالص پانی جو ہے اس سے بھی اصل مقصود حاصل ہو جائے گا اور اصل مقصود کیا ہے؟ مرنے والے کو غسل دینا ہے اور وہ اس سے حاصل ہو جائے گا۔ وَيُغْسَلُ رَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ بِالْخِطْمِيِّ اور دھویا جائے گا اس کے سر کو اور اس کی داڑھی کو بِالْخِطْمِيِّ خطمی کے ساتھ بھئی، یہ بھی ایک بوٹی کا نام ہے خطمی اور اس سے بال وغیرہ خوب اچھی طرح صاف ہو جاتے ہیں، اور میں نے بتایا اگر یہ نہ ہو صابن وغیرہ سے دھو دیں یہ بھی ٹھیک ہے بھئی، تو کہتے ہیں دھویا جائے گا اس کے سر کو اور اس کی داڑھی کو خطمی کے ساتھ، لِيَكُونَ أَنْظَفَ لَهُ تاکہ یہ اس کے لیے خوب صاف کرنے والا ہو یعنی خوب صفائی اسے حاصل ہو جائے، ثُمَّ يُضْجَعُ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ پھر اس کو لٹایا جائے اس کے بائیں پہلو پر۔ کس پہلو پر؟ کیونکہ پہلے کس حصے کو دھونا ہے؟ دائیں پہلو کو، اور دائیں پہلو کو تبھی دھو سکتے ہیں جب لٹائیں بائیں پہلو پر تو دایاں پہلو اوپر آ جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ثُمَّ يُضْجَعُ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ پھر اس کو لٹایا جائے اس کے بائیں پہلو پر، فَيُغْسَلُ بِالْمَاءِ وَالسِّدْرِ پھر اس کو دھویا جائے گا پانی اور اس بیری کے ساتھ، حَتَّى يُرَى أَنَّ الْمَاءَ قَدْ وَصَلَ إِلَى مَا يَلِي التَّخْتَ مِنْهُ یہاں تک کہ دکھائی دے کہ پانی جو ہے وہ تحقیق پہنچ گیا ہے إِلَى مَا اس حصے کو يَلِي جو ملا ہوا ہے التَّخْتَ کس کے ساتھ؟ تخت کے ساتھ، مِنْهُ أَيْ مِنَ الْمَيِّتِ کس میں سے؟ میت، یعنی میت کا وہ حصہ جو تخت کے ساتھ ملا ہوا ہے اس تک پانی پہنچ جائے بھئی، تو اتنا پانی خوب اچھی طرح اس پر ڈالیں، ثُمَّ يُضْجَعُ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ پھر اس کو لٹایا جائے گا اس کے دائیں پہلو پر، فَيُغْسَلُ تو پھر اس کو دھویا جائے گا، حَتَّى يُرَى یہاں تک کہ دکھائی دے، أَنَّ الْمَاءَ قَدْ وَصَلَ إِلَى مَا يَلِي التَّخْتَ مِنْهُ کہ پانی جو ہے وہ تحقیق پہنچ چکا ہے اس حصے کو جو تخت کے ساتھ ملا ہوا ہے اس میت میں سے، لِأَنَّ السُّنَّةَ هُوَ الْبِدَايَةُ بِالْمَيَامِنِ وجہ ذکر کر رہے ہیں کہ یہ آپ نے کیوں کہا کہ پہلے بائیں پہلو پر لٹا کر دائیں پر پانی ڈالیں اور پھر دائیں پہلو پر لٹا کر بائیں پہلو پر پانی ڈالیں؟ کہتے ہیں: لِأَنَّ السُّنَّةَ هُوَ الْبِدَايَةُ بِالْمَيَامِنِ اس لیے کیونکہ سنت جو ہے وہ ابتدا کرنا ہے دائیں طرف سے بھئی، ہر اچھے کام کی ابتدا کس طرف سے ہونی چاہیے؟ دائیں طرف سے، اس لیے یہ طریقہ بتلایا گیا۔ ثُمَّ يُجْلِسُهُ پھر اس کو بٹھا دے وہ غسل دینے والا اس میت کو بٹھا دے، وَيُسْنِدُهُ إِلَيْهِ اور اس کی اپنے ساتھ ٹیک لگوا دے، کیونکہ ٹیک نہیں لگوائے گا پھر تو میت پھر گر جائے گی لہٰذا اسے اپنے ساتھ ٹیک لگوا دے، وَيَمْسَحُ بَطْنَهُ مَسْحًا رَفِيقًا اور ملے اس کے پیٹ کو مَسْحًا رَفِيقًا نرمی کے ساتھ۔ بھئی یاد رکھیے یہ جو لفظ ہے نا رَفِيقًا تو بعض نسخوں کے اندر یہ اسی طرح رَفِيقًا ہے ف کے ساتھ اور بہت سے نسخوں میں رَقِيقًا ہے، دونوں جگہ ق ہیں بھئی ق، اور معنی دونوں میں ٹھیک بنتا ہے، رَفِيقًا کہیں یا رَقِيقًا مراد کیا ہے کہ کس طرح پیٹ کو ملا جائے؟ نرمی کے ساتھ، یہ معنی ہے وَيَمْسَحُ بَطْنَهُ مَسْحًا رَفِيقًا اور ملے اس کے پیٹ کو نرمی سے۔ بھئی یہ کیوں؟ تَحَرُّزًا عَنْ تَلْوِيثِ الْكَفَنِ کفن کے آلودہ ہونے سے بچنے کے لیے، کفن کے آلودہ ہونے سے، بھئی اس لیے اس کے پیٹ کو ملا جائے گا تاکہ اگر کوئی نجاست وغیرہ ہو وہ اس کے بدن سے نکل جائے کہیں ایسا نہ ہو بعد میں کفن کیا ہو جائے؟ آلودہ ہو جائے، گندا ہو جائے، تو تَحَرُّزًا عَنْ تَلْوِيثِ الْكَفَنِ بچنے کے لیے کفن کے آلودہ ہونے سے۔ فَإِنْ خَرَجَ مِنْهُ شَيْءٌ غَسَلَهُ پس اگر اس میت سے کوئی چیز نکلے یعنی پیٹ کو آہستہ آہستہ ملا اگر اس سے کوئی چیز پاخانہ وغیرہ نکلا غَسَلَهُ تو اس کو دھو دے، وَلَا يُعِيدُ غُسْلَهُ وَلَا وُضُوءَهُ اور اس کے غسل اور وضو دوبارہ لوٹانے کی ضرورت نہیں۔ پیٹ کو آہستہ ملا بھئی اس سے نجاست نکلی تو اب اس کے بعد دوبارہ وضو کروانے اور پھر غسل کو لوٹانے کی ضرورت نہیں، بھئی کیوں نہیں ضرورت؟ نجاست بدن سے خارج ہوئی ہے تو دوبارہ وضو ہونا چاہیے، دوبارہ غسل ہونا چاہیے؟ کہتے ہیں بھئی: لِأَنَّ الْغُسْلَ عَرَفْنَاهُ بِالنَّصِّ اس لیے کیونکہ غسل جو ہے اس کو ہم نے نص سے جانا ہے، حدیث سے ہمیں پتہ چلا کہ میت کو کیا کرنا چاہیے؟ غسل دینا چاہیے، ورنہ تو مردہ ان چیزوں سے بے نیاز ہو چکا ہے اس کو وضو اور غسل کی کوئی حاجت نہیں ہے، اس کو وضو اور غسل کی حاجت نہیں ہے البتہ چونکہ شریعت نے ہمیں بتلایا ہے نص میں سے ہمیں پتہ چلا کہ مرنے والے کو غسل دینا زندوں پر فرض ہے اور وہ فرض ہم ایک مرتبہ ادا کر چکے ایک دفعہ غسل اس کو دے دیا گیا ہے بھئی۔ دلیل سمجھ میں آئی بھئی؟ لِأَنَّ الْغُسْلَ عَرَفْنَاهُ بِالنَّصِّ وَقَدْ حَصَلَ مَرَّةً اس لیے کیونکہ یہ غسل جو ہے اس کو ہم نے نص سے یعنی حدیث سے جانا ہے وَقَدْ حَصَلَ مَرَّةً اور تحقیق یہ ایک مرتبہ حاصل ہو چکا ہے۔ ثُمَّ يَنْشُفُهُ بِثَوْبٍ پھر اس کو خشک کر دے، نَشَفَ يَنْشُفُ کے معنی خشک کرنا، پونچھ دینا، ثُمَّ يَنْشُفُهُ بِثَوْبٍ پھر اس میت کو کسی کپڑے سے پونچھ ڈالے، اس کو خشک کر دے، كَيْ لَا تَبْتَلَّ أَكْفَانُهُ تاکہ کہیں اس کے کفن گیلے نہ ہو جائیں، وَيَجْعَلُهُ أَيِ الْمَيِّتَ فِي أَكْفَانِهِ اور پھر ڈال دے اس مرنے والے کو فِي أَكْفَانِهِ اس کے کفنوں میں یعنی اس کے کفن پھر اس کو پہنا دے۔ وَيَجْعَلُ الْحَنُوطَ عَلَى رَأْسِهِ اور ڈال دے حَنُوط، حنوط خوشبو بھئی یہ خوشبو کا نام ہے کوئی بھی خوشبو استعمال کر سکتے ہیں، وَيَجْعَلُ الْحَنُوطَ عَلَى رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ اور حنوط خوشبو جو ہے اس کے سر اور داڑھی پر لگا دی جائے، وَالْكَافُورَ عَلَى مَسَاجِدِهِ اور کافور خوشبو لگا دی جائے عَلَى مَسَاجِدِهِ اس کے اس کے سجدوں کی جگہوں، مساجد جمع ہے مسجد کی سجدے کی جگہ بھئی جو ہے، تو اس کے سجدوں کی جگہ سجدے کے اعضاء پر کافور لگا دیا جائے، لِأَنَّ التَّطَيُّبَ سُنَّةٌ اس لیے کیونکہ خوشبو لگانا یہ سنت ہے، وَالْمَسَاجِدُ أَوْلَى بِزِيَادَةِ الْكَرَامَةِ اور سجدے کے اعضاء جو ہیں وہ زیادہ لائق ہیں کرامت کے یعنی وہ زیادہ احترام کے لائق ہیں تو ان پر خوشبو لگا دی جائے یہ کافور بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ میں نے بتلایا کہ یہ کافور ایک خوشبودار درخت ہے اور اس سے اسی سے ایک مادہ حاصل ہوتا ہے شفاف سا وہ خوشبودار مادہ کافور کہلاتا ہے۔ وَلَا يُسَرَّحُ شَعْرُ الْمَيِّتِ وَلَا لِحْيَتُهُ اور کنگھی نہیں کی جائے گی مرنے والے کے بالوں میں اور اس کی داڑھی میں، وَلَا يُقَصُّ ظُفُرُهُ وَلَا شَعْرُهُ اور کاٹے نہیں جائیں گے اس کے ناخن اور نہ اس کے بال، لِقَوْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا: ”عَلَامَ تَنْصُونَ مَيِّتَكُمْ؟“ بوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے قول کے، آپ فرماتی ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: ”عَلَامَ تَنْصُونَ مَيِّتَكُمْ؟“ کس وجہ سے تم اپنے مردے کے پیشانی کے بال کھینچتے ہو؟ تم اپنے مرنے والے کے پیشانی کے بال کیوں کھینچ رہے ہو؟ بھئی یہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے دیکھا کہ ایک عورت جو ہے جو ایک عورت جس کا انتقال ہو چکا ہے بعض عورتیں کیا کر رہی ہیں اس کے بال کنگھی کر رہی ہیں، تو حضرت عائشہ فرمانے لگیں کہ تم کیوں اپنے مردے کی پیشانی کے بال کھینچ رہے ہو؟ یعنی اس کو کس کے ساتھ تعبیر فرمایا کنگھی کرنے کے؟ کنگھی کرنے کو کس سے تعبیر فرمایا؟ پیشانی کے بال کھینچنے کے ساتھ تعبیر فرمایا بھئی، یعنی ناپسند فرمایا اس کو۔ تو نَصَا يَنْصُو کے معنی ہوتے ہیں یہ پیشانی کے جو آگے کے بال ہیں اسے پکڑ کر کھینچنا بھئی۔ اور عَلَامَ یہ عَلَى جارہ ہے بھئی عَلَى عَلَى، یا کے ساتھ لکھتے ہیں نا یا کی صورت میں اسی کے ساتھ م آیا تو الف کے ساتھ لکھ دیا گیا، اور یہ مَا جو ہے نا مَا، مَا استفہامیہ ہے بھئی اور اس پر حرفِ جر جب داخل ہو جائے تو اس کا الف گر جاتا ہے آپ نے پڑھا ہے جیسے قرآن میں بھی ہے: عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ، اصل میں کیا تھا؟ عَنْ مَا يَتَسَاءَلُونَ، تو وہ الف جیسے وہاں گر گیا یہاں پر بھی الف گر گیا۔ تو حضرت عائشہ فرمانے لگیں: عَلَامَ تَنْصُونَ مَيِّتَكُمْ کس وجہ سے تم اپنے میت کے پیشانی کے بال کھینچ رہے ہو؟ وَلِأَنَّ هٰذِهِ الْأَشْيَاءَ لِلزِّينَةِ دوسری دلیل ذکر کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ، ایک تو یہ نقلی دلیل آ گئی کہ دا کنگھی وغیرہ نہیں کرنی چاہیے، وَلِأَنَّ هٰذِهِ الْأَشْيَاءَ لِلزِّينَةِ اور نیز اس لیے کیونکہ یہ چیزیں زینت کے لیے ہیں، یہ بالوں کا اور داڑھی کا کنگھی کرنا اور ناخنوں اور بالوں کا کاٹنا یہ زینت کے لیے ہیں، وَقَدِ اسْتَغْنَى الْمَيِّتُ عَنْهَا اور مرنے والا ان سے بے نیاز ہو چکا ہے، وَفِي الْحَيِّ كَانَ تَنْظِيفًا لِاجْتِمَاعِ الْوَسَخِ تَحْتَهُ اور زندہ کے اندر یہ جو بالوں کا کنگھی کرنا اور ناخنوں اور بالوں کا کاٹنا وغیرہ ان میں سے ہر ایک جو ہے زندہ کے اندر كَانَ تَنْظِيفًا یہ کس لیے تھا؟ كَانَ تَنْظِيفًا صفائی کے لیے تھا، لِاجْتِمَاعِ الْوَسَخِ تَحْتَهُ اس وجہ سے کہ ان کے نیچے میل جمع ہو جاتا ہے۔ بھئی زندہ شخص جو ہے وہ اپنے ناخن بھی کاٹتا ہے اور بال بھی کاٹتا ہے اس وجہ سے کہ ان کے نیچے کیا جمع ہو جاتا ہے؟ میل جمع ہو جاتا ہے تو اس وجہ سے وہ ان کو وقتاً فوقتاً کاٹتا رہتا ہے، مرنے والے کے جو ہے وہ اس کے ناخن اور بال نہیں کاٹے جائیں گے تو کہتے ہیں: وَفِي الْحَيِّ كَانَ تَنْظِيفًا لِاجْتِمَاعِ الْوَسَخِ تَحْتَهُ تو زندہ کے اندر یہ صاف کرنے کے لیے ہے اس وجہ سے کہ ان کے نیچے میل جمع ہو جاتا ہے، وَصَارَ كَالْخِتَانِ اور یہ ہو گئے ختنے کے مقام کی طرح، یہ کس کی طرح ہو گئے؟ ختنے کے مقام کی طرح ہو گئے، اور ختنہ تو بالاتفاق مرنے والے کا اگر ختنہ نہیں ہوا تو بعد میں اس کا ختنہ مرنے کے بعد پھر اس کا ختنہ نہیں کیا جاتا، تو یہ بال اور ناخن بھی کس کی طرح ہو گئے؟ اسی ختنے کے مقام کی طرح، اور ختنہ تو بالاتفاق مرنے کے بعد نہیں کیا جاتا لہٰذا جب یہ اس کی طرح ہو گئے بال اور ناخن تو یہ بھی مرنے کے بعد نہیں کاٹے جائیں گے بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو زندہ میں اس کو صفائی وغیرہ ان کے نیچے میل جم جاتا ہے اس لیے وہ کاٹتا ہے ان کو، لیکن مردہ ان چیزوں سے بے نیاز ہو چکا اور اب اسے زیب و زینت کی ان چیزوں کی حاجت نہیں بھئی۔ تو میں نے بتلایا آپ کو کہ زندوں پر فرض ہے کہ مرنے والے کو غسل دیں بھئی غسل دیں، اور یاد رکھیے یہ جو تفصیل بیان ہوئی یہ غسل کا مسنون طریقہ ہے مسنون طریقہ، اور اگر کوئی اس طریقے پر عمل نہیں کرتا صرف میت پر پانی خوب اچھی طرح بہا دیتا ہے تو بھی یاد رکھیے فرض ادا ہو جائے گا۔ اگرچہ صحیح طریقہ یہی ہے مسنون طریقے کے مطابق اس کو غسل دیا جائے لیکن اگر کوئی کیا کر لیتا ہے؟ اچھی طرح اس پر پانی پورے بدن پر ڈال دیتا ہے تو غسل کا فرض ادا ہو جائے گا بھئی۔ اور یہ بھی یاد رکھیے بھئی علماء فرماتے ہیں کہ اگر مرنے والے کو غسل دیتے ہوئے اگر آپ کوئی بری علامت دیکھتے ہیں مثلاً اس کا چہرہ بگڑ گیا ہے، خوفناک صورت بن گئی یا پورا چہرہ سیاہ ہو گیا ہے وغیرہ کوئی بری علامت دیکھیں تو اس کا چرچا نہیں کرنا چاہیے، کسی کو نہیں بتانا چاہیے بھئی کسی کو بھی نہیں بتانا چاہیے۔ ہاں اگر وہ کوئی اعلانیہ گناہ کرنے والا شخص تھا مثلاً کوئی عورت ہے گانا گانے والی ہے یا ناچنے والی ہے یا طوائف ہے یا اسی طرح کوئی شخص ہے جو اعلانیہ گناہ کرنے والا ہے پھر لوگوں کو بتانا چاہیے تاکہ لوگ جو ہیں ان کاموں سے اجتناب کریں بچیں بھئی۔ ویسے عام حالات میں کوئی بری علامت دیکھے کسی کو بتانا نہیں چاہیے بھئی بتانا نہیں چاہیے۔ اور اگر کوئی اچھی علامت دیکھے مثلاً چہرے پر نورانیت ہے یا چہرے پر مسکراہٹ ہے وغیرہ اس طرح کی کوئی اچھی علامت دیکھے تو وہ پھر مستحب ہے دوسروں کو بتانی چاہیے بھئی مستحب ہے۔ اچھا بھئی میں نے جو آپ کو غسل کی ترتیب بتلائی کہ سب سے پہلے کیا کیا جائے؟ اس کے دائیں پہلو پر تین دفعہ پانی ڈالا جائے گا میت کے، اور پھر اس کے بعد اس کے بائیں پہلو پر تین دفعہ پانی ڈالا جائے گا، اور پھر اس کے بعد اس کے پیٹ کو ملا جائے گا اور کوئی نجاست وغیرہ نکلے اس کو صاف کر دیا جائے گا، اور پھر اس کے بعد اس کے دائیں پہلو پر کافور ملا پانی تین دفعہ ڈال دیا جائے گا۔ جبکہ صاحبِ ہدایہ نے جو ہے صرف دو مرتبہ پانی ڈالنے کی پانی ڈالنے کے بارے میں بتلایا کہ ایک مرتبہ اس کے دائیں پہلو پر پانی ڈال دیا جائے اور پھر بائیں پہلو پر پانی ڈال دیا جائے۔ تو یاد رکھیے فقہاء نے یہ دونوں طریقے لکھے ہیں بھئی، بعض فقہاء نے وہ طریقہ بیان کیا جو صاحبِ ہدایہ ذکر فرما رہے ہیں اور بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ پانی تین مرتبہ ڈالا جائے گا، تین مرتبہ ڈالنا مسنون ہے تین مرتبہ بھئی، اور وہ اسی صورت میں ہے جو میں نے بیان کی کہ پہلے دائیں پہلو پر تین دفعہ پانی ڈالیں، پھر بائیں پہلو پر تین دفعہ پانی ڈالیں اور آخر میں پھر دائیں پہلو پر تین مرتبہ کافور ملا ہوا پانی ڈالا جائے بھئی۔ ترتیب سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اور علماء نے اس طریقے کو ترجیح دی ہے بھئی کہ کم از کم تین دفعہ تاکہ پانی ہو جائے مسنون یہ ہے تین دفعہ ہونا چاہیے۔ تو بہرحال جس طریقے کو بھی اختیار کیا جائے کبار فقہاء نے دونوں طریقے بیان کیے ہیں بھئی۔ تو یاد رکھیں خوشبو مرد ہے تو اس کے سر اور داڑھی دونوں پر وہ حنوط خوشبو جو ہے وہ لگائی جائے گی بھئی، عورت ہے تو صرف اس کے سر پر خوشبو لگا دی جائے گی بھئی۔ اور اسی طرح اس کے سجدوں کی جو جگہیں ہیں وہاں پر کافور لگا دیا جائے گا بھئی کافور خوشبو۔ غسل دینا یہ زندوں کے ذمے فرض ہے۔ لہٰذا اگر کسی کی میت دریا سے ملتی ہے، دریا سے ملتی ہے تو اس کا یہ معنی نہیں کہ اب اس کو غسل نہیں دیا جائے گا۔ دریا میں اگر اس کو اس کے سارے بدن پر پانی لگا ہے اس میں ان زندہ لوگوں کا ان لوگوں کا کوئی عمل دخل ہے؟ نہیں، تو اس کو غسل دینا فرض ہے لہٰذا اس کو پھر غسل دیا جائے گا۔ ہاں اگر وہ جو دریا سے یا سمندر سے اس کی میت نکال رہے ہیں وہ اس میت کو نکالتے ہوئے پکڑ کر ایک دفعہ پانی میں حرکت بھی دے دیں اس نیت سے غسل کی نیت سے، پھر فرض ادا ہو جائے گا ویسے فرض ادا نہیں ہوگا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ چلیے بس بھئی هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔