بَابُ الْعِيدَيْنِ ”وَتَجِبُ صَلَاةُ الْعِيدِ عَلَى كُلِّ مَنْ تَجِبُ عَلَيْهِ صَلَاةُ الْجُمُعَةِ، وَفِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ: عِيدَانِ اجْتَمَعَا فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ فَالْأَوَّلُ سُنَّةٌ وَالثَّانِي فَرِيضَةٌ“ تو یہاں مضاف محذوف ہے، أَيْ بَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ، یہ باب ہے دو عیدیں جو ہیں ان کی نماز کے بیان میں بھئی۔ تو نمازِ عید کا طریقہ اب اس میں سکھلائیں گے بھئی، اور اس سے متعلقہ احکام جو ہیں وہ بیان کریں گے۔ کہتے ہیں: ”وَتَجِبُ صَلَاةُ الْعِيدِ عَلَى كُلِّ مَنْ تَجِبُ عَلَيْهِ صَلَاةُ الْجُمُعَةِ“ اور عید کی نماز جو ہے واجب ہے ہر اس شخص پر جس پر جمعہ کی نماز واجب ہو۔ عید کی نماز ہر اس شخص پر واجب ہے جس پر جمعہ کی نماز واجب ہو بھئی واجب ہو۔ تو معلوم ہوا مسافر اس سے نکل گیا بھئی، کیونکہ مسافر پر جمعہ نہیں بھئی۔ اسی طرح مریض وغیرہ جن کا گزشتہ باب کے اندر ذکر آیا تھا بھئی۔ عید کی نماز ہر اس شخص پر واجب ہے جس پر جمعہ کی نماز واجب ہے۔ ”وَفِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ: عِيدَانِ اجْتَمَعَا فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ فَالْأَوَّلُ سُنَّةٌ وَالثَّانِي فَرِيضَةٌ“ آگے صاحبِ ہدایہ جامعِ صغیر کی عبارت نقل فرما رہے ہیں۔ کہتے ہیں جامعِ صغیر کے اندر امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عِيدَانِ اجْتَمَعَا فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ، عِيدَانِ نکرہ آیا اور اجْتَمَعَا اس کے بعد فعل آیا، اور نکرہ کے بعد فعل آئے تو میں نے آپ کو بتلایا تھا یہ عموماً اس کے لیے کیا بنے گا؟ صفت بھئی، تو یہاں بھی یہ صفت بنے گا۔ عِيدَانِ ایسی دو عیدیں اجْتَمَعَا فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ جو جمع ہو جائیں ایک ہی دن میں۔ تو یہ بنے گا مبتدا، عِيدَانِ ہے مبتدا موصوف ہے اور اجْتَمَعَا فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ اس کی صفت ہے بھئی۔ اور آگے فَالْأَوَّلُ سُنَّةٌ یہ اس کی خبر ہے بھئی، یہ کیا ہے؟ اور آپ نے پڑھا کبھی خبر جملہ ہوا کرتی ہے، تو یہ جملہ کیا ہے پورا خبر بن رہا ہے بھئی، اور وَالثَّانِي فَرِيضَةٌ کا اسی خبر پر عطف ہے بھئی۔ اور تو یہ خبر پر فا داخل ہوئی بھئی، خبر پر فا داخل ہوئی۔ اور آپ نے کافیہ کے اندر پڑھا ہوگا کہ بعض اوقات مبتدا جو ہے وہ متضمن ہوتا ہے معنیٰ شرط کو، تو اس کی خبر پر فا کا لانا جائز ہے بھئی۔ وہ کبھی مبتدا کے اندر شرط والے معنیٰ آ جاتے ہیں تو اس کی خبر پر فا کا لانا جائز ہے بھئی جائز ہے۔ اور ان میں سے ایک وہ مبتدا ہے جو ایسا نکرہ ایسا نکرہ جس کی صفت فعل یا ظرف آئے بھئی۔ ایسا نکرہ جس کی صفت فعل یا ظرف آئے۔ تو دیکھیے عِيدَانِ یہ نکرہ ہے اور اس کی صفت کیا آئی؟ اجْتَمَعَا فعل آئی بھئی، اور تو یہ متضمن ہوا کس کو؟ معنیٰ شرط کو بھئی۔ اور کافیہ میں اس کی مثال انہوں نے دی ہے: كُلُّ رَجُلٍ يَأْتِينِي فَلَهُ دِرْهَمٌ بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”عِيدَانِ اجْتَمَعَا فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ فَالْأَوَّلُ سُنَّةٌ وَالثَّانِي فَرِيضَةٌ“ يَرْحَمُكَ اللهُ، ایسی دو عیدیں جو جمع ہو جائیں ایک ہی دن کے اندر۔ بھئی بعض اوقات عید جمعہ والے دن آ جاتی ہے، کس دن؟ جمعہ والے دن آ جاتی ہے، تو اس دن یاد رکھیے عید کی نماز بھی ہوگی اور اس کے بعد پھر جمعہ کی نماز بھی ہوگی، یہ نہیں کہ عید کی نماز ہو گئی تو اب جمعہ کی نماز نہیں ہوگی بلکہ صرف کون سی ہو جائے، ظہر کی ہو جائے، ایسا نہیں بلکہ دونوں نمازیں ہوں گی۔ تو اسی سے متعلقہ عبارت ذکر کر رہے ہیں جامعِ صغیر کی، کہتے ہیں جامعِ صغیر کے اندر امام محمد فرماتے ہیں کہ ایسی دو عیدیں جو جمع ہو جائیں ایک ہی دن کے اندر، یعنی عید کا دن کون سے دن آ جائے؟ جمعہ کے دن، فَالْأَوَّلُ سُنَّةٌ تو ان میں سے جو اول ہے وہ سنت ہے، وَالثَّانِي فَرِيضَةٌ اور دوسرا جو ہے وہ فرض۔ پہلی نماز سنت ہے اور دوسری فرض۔ اور پہلے کون سی نماز ہوگی؟ عید کی پہلے، اور اس کے بعد جمعہ کی۔ ”وَلَا يُتْرَكُ وَاحِدٌ مِنْهُمَا“ اور ان میں سے کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا بھئی۔ ان میں سے ایک کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا، یہ نہیں کہ عید کی نماز پڑھ لی تو اب جمعہ کی نماز نہیں پڑھی جائے گی بلکہ نہیں، دونوں کو پڑھا جائے گا۔ ”قَالَ“ آگے اب عبارت نقل کرنے کے بعد صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: قَالَ، اس سے مراد صاحبِ ہدایہ ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَهَذَا تَنْصِيصٌ عَلَى السُّنَّةِ“ اور یہ تصریح ہے سنت پر۔ اس عبارت میں تصریح ہے اس بات پر، اب کس بات پر؟ سنت ہونے پر، کہ یعنی کہ عید کی نماز سنت ہے بھئی، عید کی نماز سنت ہے۔ ”وَالْأَوَّلُ عَلَى الْوُجُوبِ“ اور پہلا جو ہے پہلا کون سا؟ جو متن میں آیا: ”وَتَجِبُ صَلَاةُ الْعِيدِ“ وہاں سے کیا پتہ چلا؟ صاحبِ قدوری فرما رہے ہیں عید کی نماز واجب، اور امام محمد رحمہ اللہ فرما رہے ہیں کہ عید کی نماز سنت ہے۔ تو کہتے ہیں تو یہ تصریح ہے سنت ہونے پر۔ تصریح کہتے ہیں صاف لفظوں میں کوئی بات کہنا، واضح لفظوں میں بات کہنا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ تصریح اور صراحت کہتے ہیں۔ تو یہ تصریح ہے، دیکھو صاف لفظوں میں کہہ دیا گیا: ”فَالْأَوَّلُ سُنَّةٌ“، کسی اور اشارے وغیرہ سے نہیں پتہ چل رہا، صراحتاً کیا فرما رہے ہیں امام محمد؟ ”فَالْأَوَّلُ سُنَّةٌ“ کہ پہلی نماز سنت ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَهَذَا تَنْصِيصٌ عَلَى السُّنَّةِ، وَالْأَوَّلُ عَلَى الْوُجُوبِ“ اور پہلا قول کس پر تصریح کر رہا ہے؟ واجب کے، کہ عید کی نماز واجب ہے۔ ”وَهُوَ رِوَايَةٌ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور یہ روایت ہے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے، وہ بھی یہی فرماتے ہیں کہ عید کی نماز واجب ہے واجب ہے۔ اب وجہ ذکر کر رہے ہیں بھئی، تو کہتے ہیں وجہ الاول، پہلے قول کی وجہ، پہلا قول کیا آیا تھا متن میں؟ واجب ہے۔ کہتے ہیں پہلے قول کی وجہ جو ہے: ”مُوَاظَبَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا“ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پر پابندی فرمانا ہے، کہ حضور علیہ السلام نے ہمیشہ اس عید کی نماز کو ادا فرمایا اور کبھی ترک نہیں کیا، اور یہ کس چیز کی علامت ہے؟ واجب ہونے کی، کس چیز کی؟ واجب ہونے کی۔ ”وَوَجْهُ الثَّانِي“ اور دوسرے قول کی وجہ: ”قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَدِيثِ الْأَعْرَابِيِّ عَقِيبَ سُؤَالِهِ“ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے اعرابی والی یعنی دیہاتی والی حدیث میں، اس کے سوال کرنے کے بعد۔ وہ دیہاتی آیا تھا اور اس نے سوالات وغیرہ کچھ کیے جاتے ہوئے تو آخر میں جب حضور علیہ السلام نے نمازیں اس کو بتلا دیں تو کہنے لگا: ”هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُنَّ؟“ کیا ان کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی اور نماز ہے؟ ان نمازوں کے علاوہ جو آپ نے ذکر فرما دیں، ان کے علاوہ کوئی اور بھی نماز مجھ پر ہے یا نہیں؟ ”قَالَ: لَا، إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ“ تو حضور علیہ السلام فرمانے لگے نہیں، مگر یہ کہ تو نفل پڑھے۔ مگر یہ کہ تو نفل پڑھے۔ تو اس کے اندر تو حضور علیہ السلام نے عید کا ذکر پیچھے نہیں فرمایا تھا، پانچ نمازیں وغیرہ آپ نے بتلا دیں، اس کے بعد اس نے کہا اور کوئی نماز ہے؟ حضور علیہ السلام فرمانے لگے نہیں، مگر یہ کہ تو نفل پڑھے، یعنی نفل ہیں اس کے علاوہ۔ اور باقی کے اندر تو عید بھی آ گئی۔ معلوم ہوا عید بھی نفل ہے یعنی سنت، کیونکہ سنت بھی کس چیز کا نام ہے؟ نفل ہی کا نام ہے جس پر حضور علیہ السلام نے پابندی فرمائی ہو۔ تو معلوم ہوا عید کی نماز بھی سنت ہے، یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے۔ آگے صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں: ”وَالْأَوَّلُ أَصَحُّ“ اور پہلا قول زیادہ صحیح ہے، پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ اور وجہ بھی ذکر کر رہے ہیں کہ ”فَالْأَوَّلُ سُنَّةٌ“ امام محمد رحمہ اللہ نے جو فرمایا: ”فَالْأَوَّلُ سُنَّةٌ“، اس میں سنت کیوں کہا گیا پھر اس کو جب یہ واجب ہے؟ کہتے ہیں: ”وَتَسْمِيَتُهُ سُنَّةً لِوُجُوبِهِ بِالسُّنَّةِ“ اور اس کا نام سنت رکھا گیا یعنی اس کو سنت کہا گیا لِوُجُوبِهِ بِالسُّنَّةِ اس لیے کیونکہ اس کا وجوب کس سے ثابت ہے؟ سنت سے ثابت ہے بھئی سنت سے۔ ”وَيُسْتَحَبُّ فِي يَوْمِ الْفِطْرِ أَنْ يَطْعَمَ قَبْلَ الْخُرُوجِ إِلَى الْمُصَلَّى وَيَغْتَسِلَ وَيَسْتَاكَ وَيَتَطَيَّبَ“ اور مستحب ہے عید الفطر والے دن، مستحب ہے عید الفطر کے دن کہ ”أَنْ يَطْعَمَ قَبْلَ الْخُرُوجِ إِلَى الْمُصَلَّى“ کہ نمازی جو ہے وہ کچھ کھا لے عیدگاہ کی طرف نکلنے سے پہلے۔ عیدگاہ کی طرف نکلنے سے پہلے کچھ کھا لے۔ بھئی یاد رکھیے، عید الفطر کے اندر مسنون یہ ہے کہ انسان عید کی نماز سے پہلے ہی کچھ کوئی میٹھی چیز کھا لے بھئی، کوئی میٹھی چیز۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ سنت ہے کہ آپ عیدگاہ کے لیے نکلنے سے پہلے آپ کوئی میٹھی چیز کھا لیتے، اور نہیں تو کم از کم کھجوریں کھا لیتے بھئی، تو لہٰذا یہ مسنون ہے۔ جبکہ عید الاضحیٰ کے اندر مسنون یہ ہے کہ عیدگاہ کی طرف جانے سے پہلے انسان کچھ نہ کھائے بھئی کچھ نہ کھائے۔ حضور علیہ السلام عید الاضحیٰ کے موقع پر کچھ نہیں تناول فرماتے تھے، ہاں جب عید کی نماز سے واپس آتے پھر وہ قربانی کا گوشت، قربانی ہوتی، اس کا گوشت تناول فرماتے تھے بھئی۔ تو واپس آتے تو قربانی کا گوشت تناول فرماتے تھے۔ اس میں یاد رکھیے کہ دراصل یہاں ماقبل کی مخالفت ہے بھئی، ماقبل کی کیا ہے؟ مخالفت۔ چونکہ عید الفطر سے ماقبل روزے کے ایام تھے اور روزوں میں تو ہم نہیں کھاتے تھے صبح، روزوں میں تو نہیں کھایا جاتا روزہ ہوتا ہے انسان کا، تو عید کے دن کیا کر لے؟ کچھ کھا لے، کوئی میٹھی چیز کھا لے تاکہ ان پتہ لگ جائے کہ یہ آج روزہ نہیں ہے بھئی۔ اور عید الاضحیٰ کے اندر تو ماقبل میں روزے نہیں ہیں، نفلی انسان رکھ لے نفلی کی بات نہیں ہو رہی، تو اس سے ماقبل میں تو روزے وغیرہ نہیں ہیں، لہٰذا وہاں پر کیا کرے؟ مسنون طریقہ کیا ہے؟ کچھ نہ کھائے اور بعد میں کھائے بھئی۔ اور اس میں پھر حضور علیہ السلام کا طریقہ یہ تھا کہ آپ واپس آنے کے بعد پھر وہ جب قربانی ہو جاتی اس کا گوشت تناول فرماتے تھے بھئی۔ لیکن اس میں بھی یاد رکھیں یہ قربانی تو یہاں پر اب بعض اوقات بڑی تاخیر ہو جاتی ہے بڑی تاخیر، سمجھ میں آیا؟ حتیٰ کہ بعض اوقات شام پڑ جاتی ہے، تو یہ نہیں کہ اب اس میں انسان سارا دن پھر کچھ کھائے ہی نہ، یہ تو پھر روزہ بن جائے گا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ لہٰذا یہ بھی مناسب نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَيُسْتَحَبُّ فِي يَوْمِ الْفِطْرِ أَنْ يَطْعَمَ قَبْلَ الْخُرُوجِ إِلَى الْمُصَلَّى“ اور مستحب ہے عید الفطر کے دن کہ وہ شخص کچھ کھا لے عیدگاہ کی طرف نکلنے سے پہلے، ”وَيَغْتَسِلَ“ اور غسل کر لے، ”وَيَسْتَاكَ“ اور مسواک کر لے، ”وَيَتَطَيَّبَ“ اور خوشبو لگا لے، ”لِمَا رُوِيَ أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَطْعَمُ فِي يَوْمِ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ إِلَى الْمُصَلَّى“ اس بوجہ اس حدیث کے جس کو روایت کیا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کَانَ يَطْعَمُ فِي يَوْمِ الْفِطْرِ کہ آپ کھایا کرتے تناول فرماتے تھے عید الفطر کے دن قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ إِلَى الْمُصَلَّى عیدگاہ کی طرف نکلنے سے پہلے، ”وَكَانَ يَغْتَسِلُ فِي الْعِيدَيْنِ“ اور یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم غسل فرمایا کرتے تھے دونوں عیدوں کے دن، ”وَلِأَنَّهُ يَوْمُ اجْتِمَاعٍ فَيُسَنُّ فِيهِ الْغُسْلُ“ دوسری وجہ ذکر کر رہے ہیں کہ اور اس لیے کیونکہ عید کا دن جو ہے یہ اجتماع والا دن ہے جس میں لوگ اکٹھے ہوتے ہیں، ”فَيُسَنُّ فِيهِ الْغُسْلُ“ تو اس کے اندر غسل مسنون ہوگا، ”وَالتَّطَيُّبُ“ اور خوشبو لگانا یہ بھی کیا ہوگا؟ مسنون ہوگا، ”كَمَا فِي الْجُمُعَةِ“ جیسے کس دن ہوتا ہے؟ جمعہ میں ہوتا ہے، جمعہ کے دن بھی لوگوں کا اجتماع ہوتا ہے تو غسل کرنا اور خوشبو لگانا مسنون ہے، تو یہاں بھی عید کے دن بھی لوگوں کا اجتماع ہوتا ہے تو یہاں بھی غسل کرنا اور خوشبو لگانا مسنون ہوگا۔ ”وَيَلْبَسُ أَحْسَنَ ثِيَابِهِ“ اور پہن لے اپنے سب سے عمدہ اچھے کپڑے، سب سے اچھے کپڑے۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَهُ جُبَّةُ فَنَكٍ أَوْ صُوفٍ يَلْبَسُهَا فِي الْأَعْيَادِ“ صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ عید کے لیے جانے والا کیا کر لے؟ اپنے سب سے اچھے کپڑے پہن لے، اور دلیل ذکر کر رہے ہیں: ”لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ“ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو تھے ”كَانَ لَهُ جُبَّةُ فَنَكٍ“ آپ کا ایک فنک کا جبہ تھا ”أَوْ صُوفٍ“ یا اون کا ”يَلْبَسُهَا فِي الْأَعْيَادِ“ جس کو آپ پہنتے تھے عیدوں میں۔ عید کے موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کو پہنا کرتے تھے بھئی، جُبَّةُ فَنَكٍ۔ فنک بھئی یہ کہتے ہیں لومڑی کے مشابہ کوئی جانور ہے اور اس کی کھال اور پوستین جو ہے وہ بڑی عمدہ ہوتی ہے بھئی، بڑی عمدہ ہوتی ہے، تو اس کا بنا ہوا ایک جبہ تھا اور حضور علیہ السلام اس کو عید کے موقع پر پہنتے تھے، یا اون کا کوئی جبہ تھا اس کو حضور علیہ السلام عید کے موقع پر پہنتے تھے۔ ”وَيُؤَدِّيَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ“ اس کا عطف بھی اسی پر ہے بھئی، أَنْ يَطْعَمَ وَأَنْ يُؤَدِّيَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ، اور مستحب ہے عید الفطر کے دن کہ وہ عید پڑھنے والا ادا کر دے صدقۃ الفطر، کس کو؟ صدقۂ فطر کو ادا کر دے۔ صدقۂ فطر کے بارے میں آگے مفصل باب آ رہا ہے وہاں تفصیل آ جائے گی۔ یہ ادا کر دے: ”إِغْنَاءً لِلْفَقِيرِ“ بھئی عید کی نماز کے لیے نکلنے سے پہلے کیا کر دے؟ صدقۂ فطر ادا کر دے بھئی۔ ”إِغْنَاءً لِلْفَقِيرِ“ فقیر کو بے نیاز کرنے کے لیے، محتاج کو بے پرواہ کرنے کے لیے، ”لِيَتَفَرَّغَ قَلْبُهُ لِلصَّلَاةِ“ تاکہ اس فقیر کا دل جو ہے وہ فارغ ہو جائے نماز کے لیے۔ فقیر جو ہے وہ بیچارہ تو کھانے پینے کی اور ضرورت کی طرف اس کی توجہ رہے گی، لیکن جب اس کو صدقۂ فطر مل جائے گا تو اب وہ ان چیزوں کی طرف اس کی توجہ نہیں ہوگی اور کامل توجہ کے ساتھ وہ نماز ادا کر سکے گا بھئی۔ تو یہ عید کی نماز کے لیے نکلنے سے پہلے کیا کرنا چاہیے کم از کم؟ صدقۂ فطر بھئی، احسن تو یہ ہے کہ عید کے دن سے پہلے ہی کم از کم ایک دو دن پہلے ہی انسان ادا کر دے۔ ”وَيَتَوَجَّهُ إِلَى الْمُصَلَّى“ اور متوجہ ہو جائے عیدگاہ کی طرف، یعنی عیدگاہ کی طرف چل پڑے۔ ”وَلَا يُكَبِّرُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي طَرِيقِ الْمُصَلَّى وَعِنْدَهُمَا يُكَبِّرُ اعْتِبَارًا بِالْأَضْحَى“ ”وَلَا يُكَبِّرُ“ اور تکبیر نہ کہے، یہاں یاد رکھنا بھئی دو روایتیں ہیں، یہاں اختلاف ذکر ہو رہا ہے امام صاحب کا اور صاحبین کا۔ بھئی عید الاضحیٰ کے اندر تو بالاتفاق جو شخص عید کی نماز پڑھنے جا رہا ہے، کون سی عید میں؟ عید الاضحیٰ میں، وہ راستے میں چلتے ہوئے جاتے ہوئے تکبیر بلند آواز سے پڑھتا ہوا جائے بھئی، مسنون یہ طریقہ ہے مسنون طریقہ۔ بلند آواز کے ساتھ تکبیر تکبیر کہتا ہوا جائے، وہی تکبیر جو ان ایامِ تشریق میں پڑھی جاتی ہے: ”اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ“ تو یہ تکبیر اونچی آواز سے پڑھتا ہوا جائے۔ اب عید الفطر کے اندر جب نماز کے لیے انسان جا رہا ہے تو کیا اس وقت بھی یہ تکبیر پڑھی جائے گی اونچی آواز سے یا نہیں پڑھی جائے گی بھئی؟ تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ اس موقع پر نہیں پڑھی جائے گی تکبیر بھئی، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ نہیں، جیسے عید الاضحیٰ کے اندر تکبیر پڑھی جاتی ہے جاتے ہوئے اسی طرح یہاں پر بھی تکبیر پڑھی جائے گی۔ اور پھر اس میں بعض علماء نے لکھا کہ یہ اختلاف جو ہے یہ اختلاف کہ اصلِ تکبیر کے اندر ہی اختلاف ہے۔ صاحبین فرماتے ہیں پڑھیں گے، امام صاحب فرماتے ہیں بالکل پڑھنی ہی نہیں ہے۔ اصلِ تکبیر میں ہی کیا ہے؟ اختلاف۔ لیکن زیادہ صحیح قول یہ ہے اصلِ تکبیر میں نہیں اختلاف، صاحبین جیسے فرماتے ہیں وہ کہ یہ تکبیر پڑھی جائے گی راستے میں اسی طرح امام صاحب بھی یہی فرماتے ہیں کہ پڑھی جائے گی، ہاں اختلاف صرف جہراً پڑھنے میں ہے کہ بلند آواز سے پڑھی جائے گی یا نہیں؟ تو امام صاحب فرماتے ہیں بلند آواز سے نہیں بلکہ آہستہ آواز سے پڑھتا ہوا جائے گا، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں نہیں، عید الاضحیٰ کے دن کی طرح جیسے اس دن بلند آواز سے پڑھی جاتی ہے اس دن بھی کیا کیا کرے گا یہ شخص؟ بلند آواز سے تکبیرات کہتا ہوا جائے گا بھئی۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو زیادہ صحیح قول یہ بھئی۔ تو ”وَلَا يُكَبِّرُ“ أَيْ جَهْرًا بھئی، جَهْرًا، جہراً کی قید یہاں یاد رکھنا۔ کہ ”وَلَا يُكَبِّرُ“ اور تکبیر نہیں کہے گا یعنی بلند آواز سے، ”عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي طَرِيقِ الْمُصَلَّى“ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک عیدگاہ کے راستے میں، یعنی بلند آواز سے تکبیرات نہیں کہے گا آہستہ آواز سے۔ ”وَعِنْدَهُمَا يُكَبِّرُ اعْتِبَارًا بِالْأَضْحَى“ اور صاحبین کے نزدیک تکبیر کہے گا یعنی اونچی آواز سے کہے گا اعتباراً بالاضحیٰ قیاس کرتے ہوئے عید الاضحیٰ پر بھئی۔ ”وَلَهُ“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے: ”أَنَّ الْأَصْلَ فِي الثَّنَاءِ الْإِخْفَاءُ“ کہ اصل کیا ہے ثناء کے اندر؟ اخفاء ہے، آہستہ آواز سے کہنا ہے۔ دیکھا صاحبِ ہدایہ نے دلیل بھی کیا ذکر کر دی؟ کہ پڑھنی نہیں ہے یا آہستہ پڑھنی ہے؟ ہاں آہستہ پڑھنے کی دلیل ذکر کی۔ تو امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ أَنَّ الْأَصْلَ فِي الثَّنَاءِ الْإِخْفَاءُ کہ ثناء کے اندر جو ہے اللہ کے حمد و ثناء میں اصل جو ہے اخفاء ہے کہ پست آواز سے کی جائے، ”وَالشَّرْعُ وَرَدَ بِهِ فِي الْأَضْحَى“ اور شریعت وارد ہوئی ہے یعنی اونچی آواز کے بارے میں فِي الْأَضْحَى عید الاضحیٰ کے بارے میں۔ شریعت میں صرف کس دن پڑھنے کے بارے کس دن اونچی تکبیرات کہنے کا حکم دیا گیا ہے؟ ہاں صرف یوم الاضحیٰ کے دن بھئی۔ اور شریعت وارد ہوئی ہے عید الاضحیٰ کے بارے میں، ”لِأَنَّهُ يَوْمُ تَكْبِيرٍ“ اس لیے کیونکہ وہ تکبیر والا دن ہے بھئی، ان دنوں میں کیا کیا جاتا ہے نمازوں کے بعد؟ تکبیرات کہی جاتی ہیں تو وہ تکبیر والے دن ہیں، ”وَلَا كَذَلِكَ الْفِطْرُ“ اور عید الفطر کا دن اس طرح نہیں ہے بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟ يَرْحَمُكَ اللهُ۔ اور یہ بھی یاد رکھیے، اس مسئلے کے اندر فتویٰ امام صاحب کے قول پر ہے بھئی، کہ عیدگاہ کی طرف جاتے ہوئے عید الفطر کے دن تکبیرات جو ہیں وہ آہستہ آواز سے کہنی چاہئیں بھئی، آہستہ آواز سے۔ اور چنانچہ چنانچہ صاحبِ ہدایہ نے بھی اسی کی طرف اشارہ کیا، اور امام صاحب کی دلیل بعد میں ذکر کی بھئی، اور صاحبین کی دلیل پہلے ذکر کی، اور آپ پڑھ چکے ہیں کہ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ جو قول قوی ہوتا ہے صاحبِ ہدایہ اس کی دلیل بعد میں ذکر کرتے ہیں تاکہ یہ اس قول کی دلیل بھی ہو جائے اور دوسرے قول کا جواب بھی ہو جائے بھئی، ان کی دلیل کا جواب بھی ہو جائے، اور یہ بھی یاد رکھیے بھئی کہ عموماً جب امام صاحب ایک طرف ہوں اور صاحبین دوسری طرف ہوں کسی مسئلے میں، تو تو پھر اس صورت میں بعض اوقات فقہاء صاحبین کے قول کو لیتے ہیں یا بعض اوقات کس کے قول کو لیتے ہیں؟ امام صاحب کے قول کو، اگرچہ اکثر اس میں بھی امام صاحب ہی کے قول کو لیا جاتا ہے۔ اور جب امام صاحب کے ساتھ امام ابو یوسف رحمہ اللہ آ جائیں اور امام محمد دوسری طرف ہوں، اور یا امام صاحب کے ساتھ امام محمد رحمہ اللہ آ جائیں اور صرف امام ابو یوسف رحمہ اللہ دوسری طرف ہوں، تو پھر اس صورت میں جب امام صاحب اکیلے ہوتے تھے تو عموماً ان کے قول کو اختیار کیا جاتا تھا، اب ان کے ساتھ ایک اور بھی مل گئے تو اب اور زیادہ قوت آ جاتی ہے، تو اس صورت میں بھی عموماً فتویٰ انہی کے قول پر ہوتا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ امام صاحب ہی کے قول پر، کیونکہ وہ اکیلے تھے تو اس وقت ان کے قول کو قوت حاصل تھی تو اب ساتھ ایک اور شاگرد بھی مل گئے تو مزید قوت آ گئی ان کے قول کے اندر۔ تو یہاں پر فتویٰ امام صاحب کے قول پر ہے بھئی۔ ”وَلَا يَتَنَفَّلُ فِي الْمُصَلَّى قَبْلَ صَلَاةِ الْعِيدِ“ یاد رکھیے بھئی کہ عید والے دن عید والے دن عید کی نماز سے قبل نوافل وغیرہ پڑھنا مکروہ ہے، گھر پر پڑھنا بھی مکروہ عیدگاہ کے اندر پڑھنا بھی مکروہ ہے بھئی عیدگاہ کے اندر بھی۔ اور نمازِ عید کے بعد اب نوافل پڑھ سکتے ہیں لیکن گھر وغیرہ پر پڑھ سکتے ہیں، عیدگاہ میں پھر عید کی نماز کے بعد بھی نوافل وغیرہ پڑھنا مکروہ ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يَتَنَفَّلُ فِي الْمُصَلَّى قَبْلَ صَلَاةِ الْعِيدِ“ اور نفل نہ پڑھے عیدگاہ کے اندر عید کی نماز سے پہلے۔ دلیل کیا اس کی؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مَعَ حِرْصِهِ عَلَى الصَّلَاةِ“ اس لیے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں فرمایا باوجود آپ کے حریص ہونے کے عَلَى الصَّلَاةِ نماز پر۔ باوجود اس کے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پر بے انتہا حریص تھے لیکن آپ نے ایسا نہیں فرمایا کہ عید کی نماز سے پہلے یا عید کی نماز کے بعد وہاں نوافل ادا فرمائے ہوں۔ ”ثُمَّ قِيلَ: الْكَرَاهَةُ فِي الْمُصَلَّى خَاصَّةً“ پھر کہا گیا ہے کہ کراہت صرف عیدگاہ کے اندر ہے، یعنی عیدگاہ کے اندر نفلوں کا پڑھنا عید کی نماز سے پہلے، یہ صرف عیدگاہ کے اندر پہلے پڑھنا مکروہ ہے، گھر میں پہلے پڑھنا مکروہ نہیں، یہ ایک قول ہے۔ ”وَقِيلَ: فِيهِ وَفِي غَيْرِهِ عَامَّةٌ“ اور کہا گیا ہے کہ یہ کراہت عیدگاہ میں اور عیدگاہ کے علاوہ میں عام ہے، یعنی ہر جگہ پر نفل پڑھنا مکروہ ہے چاہے گھر پر پڑھے چاہے عیدگاہ میں سب مکروہ ہیں۔ دلیل کیا؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَفْعَلْهُ“ اس لیے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں فرمایا۔ ”وَإِذَا حَلَّتِ الصَّلَاةُ بِارْتِفَاعِ الشَّمْسِ دَخَلَ وَقْتُهَا إِلَى الزَّوَالِ“ اور جب نماز حلال ہو جائے سورج کے بلند ہو جانے کی وجہ سے، تو عید کی نماز کا وقت داخل ہو گیا زوال تک۔ بھئی جب نماز حلال ہو جائے، آپ پڑھ چکے ہیں بھئی کہ جب سورج طلوع ہو اس وقت نماز کا پڑھنا جائز نہیں ہے بھئی، تو جب کچھ سورج سورج جو ہے ایک دو نیزے بلند ہو جائے افق سے تو پھر اس کے بعد جو ہے عید کی نماز کا وقت شروع ہو گیا اور یہ وقت کب تک رہے گا؟ زوال تک، یعنی نصف النہار تک، سورج ڈھلنے کے وقت تک اس کا وقت ہے، اور اس وقت کے دوران ہی عید کی نماز پڑھی جا سکتی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا حَلَّتِ الصَّلَاةُ بِارْتِفَاعِ الشَّمْسِ دَخَلَ وَقْتُهَا إِلَى الزَّوَالِ“ اور جب نماز حلال ہو جائے یعنی جائز ہو جائے بِارْتِفَاعِ الشَّمْسِ سورج کے بلند ہو جانے کی وجہ سے، کیونکہ جب تک ابھی سورج بلند نہیں ہوا سورج نکل رہا ہے اس وقت تو اس وقت تو نماز پڑھنا جائز ہی نہیں۔ ”دَخَلَ وَقْتُهَا“ تو داخل ہو جائے گا عید کی نماز کا وقت ”إِلَى الزَّوَالِ“ کب تک؟ زوال تک، یعنی سورج ڈھلنے تک۔ ”وَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ خَرَجَ وَقْتُهَا“ اور جس وقت سورج ڈھل جائے تو عید کی نماز کا وقت نکل جائے گا۔ دلیل اس کی ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعِيدَ وَالشَّمْسُ عَلَى قَيْدِ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَيْنِ“ اس لیے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم عید کی نماز پڑھا کرتے تھے اس حال میں کہ سورج جو ہے عَلَى قَيْدِ رُمْحٍ، قَيْد اور قِيد دونوں طرح درست ہے یہ لفظ، قَيْد بھی اور قِيد، اور یہ کہتے ہیں مسافت اور فاصلے کو، کہ حضور علیہ السلام عید کی نماز پڑھا کرتے تھے وَالشَّمْسُ عَلَى قَيْدِ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَيْنِ اس حال میں کہ سورج جو ہے ایک نیزے یا دو نیزوں کی مسافت پر ہوتا تھا، یعنی افق کے کنارے سے مشرق کے کنارے سے سورج ایک یا دو نیزوں کی بلندی پر ہوتا تھا اس وقت آپ عید کی نماز ادا فرمایا کرتے تھے۔ اور یہ تو تھا کہ اس وقت عید کی نماز کا وقت شروع ہو جاتا ہے، اور کب تک رہتا ہے؟ زوال تک، تو زوال تک وقت رہنے کی کیا دلیل ہے؟ وہ بھی ذکر کر رہے ہیں: ”وَلَمَّا شَهِدُوا بِالْهِلَالِ بَعْدَ الزَّوَالِ أَمَرَ بِالْخُرُوجِ إِلَى الْمُصَلَّى مِنَ الْغَدِ“ یہ بھئی صحابہ کو ایک مرتبہ عید کا چاند نظر نہ آیا بادل وغیرہ رہا یا کسی وجہ سے، تو اگلے دن پھر روزہ رکھا گیا بھئی روزہ رکھا گیا۔ اور زوال کے بعد سورج ڈھلنے کے بعد کچھ سوار آئے اور مدینہ کے کہیں قریب کی بستیوں سے، اور انہوں نے آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گواہی دی کہ ہم نے کل شام کو چاند دیکھا تھا، انہوں نے گواہی دی۔ تو حضور علیہ السلام نے سب کو روزہ کھولنے کا حکم دیا کیونکہ چاند پر جب گواہی آ گئی معلوم ہوا چاند نظر آ چکا ہے تو یہ عید کا دن ہے، لیکن چونکہ وہ زوال کے بعد آئے تھے تو اسی وقت عید کی نماز کے لیے نکلنے کا حکم نہیں دیا بلکہ عید کی نماز کے لیے اگلے دن صبح نکلنے کا حکم دیا۔ تو یہ دلیل ہے اس بات کی کہ زوال کے بعد عید کی نماز کا وقت نہیں ہوتا، ورنہ اگر زوال کے بعد بھی عید کی نماز کا وقت ہوتا تو حضور علیہ السلام اسی دن صحابہ کو نماز کے لیے نکلنے کا حکم دیتے، تو آپ نے روزہ کھولنے کا تو حکم دے دیا لیکن عید کی نماز پڑھنے کے لیے اگلے دن نکلنے کا حکم دیا۔ اسی کو بیان کر رہے ہیں: ”وَلَمَّا شَهِدُوا بِالْهِلَالِ بَعْدَ الزَّوَالِ“ اور جب ان لوگوں نے گواہی دی چاند کی بعد الزوال زوال کے بعد، یعنی سورج ڈھلنے کے بعد، ”أَمَرَ بِالْخُرُوجِ إِلَى الْمُصَلَّى مِنَ الْغَدِ“ تو حضور علیہ السلام نے نکلنے کا حکم دیا عیدگاہ کی طرف اگلے روز۔ تو معلوم ہوا عید کی نماز کا وقت کب تک ہے؟ زوال تک ہے، ورنہ اسی دن حضور علیہ السلام نکلنے کا حکم دیتے۔ ”وَيُصَلِّي الْإِمَامُ بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ يُكَبِّرُ فِي الْأُولَى لِلِافْتِتَاحِ“ آگے بھئی اب عید کی نماز کا طریقہ بیان فرما رہے ہیں۔ عید کی نماز کا وقت بیان کر دیا، اب عید کی نماز کا طریقہ بیان کر رہے ہیں۔ یاد رکھیے بھئی عید کی نماز کا طریقہ آپ جانتے ہیں کہ ہمارے نزدیک عید کی نماز میں چھ زائد تکبیریں ہیں، چھ زائد تکبیریں ہیں، تین پہلی رکعت میں اور تین دوسری رکعت میں۔ یعنی جو اصل اصل تکبیرات ہیں ان سے زائد ہیں چھ بھئی چھ، اور یہ بھی واجب ہیں یہ تکبیریں بھی واجب ہیں بھئی واجب۔ اور مختصراً عید کی نماز کا طریقہ بیان کر دیتا ہوں، سب سے پہلے تو یہ یاد رکھیے کہ عید کی نماز کے لیے جیسے اذان نہیں دی جاتی اسی طرح اس کے لیے اقامت بھی نہیں ہے بھئی۔ تو یہ نہ ہو کبھی آپ عید کی نماز پڑھنے جائیں اور آگے کھڑے ہو کر اب نماز ہی نہیں شروع کروا رہے انتظار کر رہے ہیں کہ بھئی کوئی پیچھے تکبیر کہے گا تو میں نماز شروع کرواؤں گا۔ جمعہ کے لیے اذان ہے تو اس کے لیے اقامت بھی ہے، لیکن عید کی نماز میں اذان نہیں ہے تو اسی طرح اقامت بھی نہیں ہے۔ تو پھر چنانچہ امام دو رکعتیں پڑھائے اور پہلی رکعت میں تکبیرِ تحریمہ کہنے کے بعد ثناء پڑھی جائے گی بھئی، جو جیسے عام نماز میں ثناء پڑھی جاتی ہے: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ۔ اور ثناء پڑھنے کے بعد پھر امام تکبیر کہے گا اور کانوں تک ہاتھ اٹھائے بھئی، اور پھر تکبیر کہنے کے بعد ہاتھ باندھنے نہیں، ہاتھ چھوڑ دے بھئی نیچے، کھلے چھوڑ دے۔ اور پھر اس کے بعد دوسری تکبیر کہی جائے گی اسی طریقے سے کانوں تک ہاتھ اٹھاتے ہوئے، اور اس کے بعد بھی ہاتھوں کو نیچے لٹکا دیں گے، اور پھر تیسری زائد تکبیر جو ہے جو اصل سے زائد ہے وہ تیسری تکبیر کہی جائے گی اور اس کے بعد پھر ہاتھوں کو باندھ لیا جائے گا، کیونکہ تین زائد واجب تکبیریں جو تھیں وہ گزر گئیں اب امام قراءت کرے گا۔ اور ہر دو تکبیروں کے درمیان تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کی مقدار فصل ہونا چاہیے بھئی، تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کی مقدار فصل ہونا چاہیے۔ اور اس کے بعد پھر جو ہے قراءت ہوگی اور پھر پہلی رکعت مکمل ہو گئی۔ اس کے بعد دوسری رکعت کے اندر قراءت کے بعد تین تکبیرات آئیں گی بھئی قراءت کے بعد، اور وہاں پر قراءت جب مکمل ہو جائے پھر اسی طرح تکبیر کہے گا امام دونوں کانوں تک ہاتھ اٹھاتے ہوئے اور پھر اس کے بعد ہاتھوں کو کھلا چھوڑ دے گا۔ اور پھر اگلی تکبیر کہی جائے گی اسی طریقے سے، اس میں بھی ہاتھ اسی طرح اس کے بعد نہیں باندھنے، پھر تیسری تکبیر کہی جائے گی اور تیسری تکبیر کے بعد اب چوتھی تکبیر کس کی آئے گی آگے؟ رکوع والی، تو اس رکوع والی تکبیر سے پہلے جب آخری تیسری تکبیر کہی اس کے بعد بھی ہاتھ نہیں باندھنے بھئی، اس کے بعد بھی ہاتھ نہیں باندھنے، ہاتھوں کو اسی طرح کھلا چھوڑ دینا ہے لٹکا دینا ہے۔ اور پیچھے ضابطہ ذکر ہوا تھا کہ ہاتھ اس قیام کے اندر باندھے جاتے ہیں جس میں کوئی ذکر مسنون ہو، جس میں کوئی ذکر مسنون ہو اس قیام کے اندر ہاتھ باندھے جاتے ہیں، اور یہاں تیسری تکبیر کے بعد رکوع کی تکبیر سے پہلے کوئی ذکر مسنون نہیں، لہٰذا اس میں بھی ہاتھوں کو نہیں باندھا جائے گا بھئی۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو یہ چھ واجب تکبیریں ہیں ہمارے نزدیک جو زائد ہیں زائد۔ چلیے یہیں پر یاد رکھیے بھئی کہ اگر کوئی شخص عید کی نماز میں دیر سے پہنچا وہ کیا کرے گا بھئی؟ مثلاً آپ پہنچے تو پہلی ہی رکعت میں لیکن قراءت شروع ہو چکی ہے وہ تکبیریں گزر چکی ہیں تکبیریں، تو یاد رکھیے گا بھئی یاد رکھیے گا کہ قراءت ہو رہی ہو آپ جب شامل ہوں جا کر تو پہلے اسی طریقے کے مطابق تینوں تکبیریں کہہ لیجیے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو قراءت چاہے جاری ہو آپ تکبیریں کہہ لیں گے کیونکہ یہ تکبیرات واجب ہیں۔ اور اگر آپ پہنچے کہ امام رکوع میں جا چکا ہے تو اب اگر ممکن ہے کہ تکبیرِ تحریمہ کے بعد آپ وہ تکبیریں کہہ کر رکوع میں شامل ہو سکتے ہیں تو پھر تو اسی وقت کہہ لے انسان، لیکن اتنا وقت تو مشکل ہی ہوتا ہے کہ وہ تکبیرات کہہ سکے، تو پھر اس صورت میں رکوع میں چلے جائیں اور رکوع کی تسبیحات کے بجائے پھر وہ تکبیرات کہہ لیجیے رکوع کے اندر ہی بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ رکوع کے اندر ہی وہ کہہ لے اور پھر اس میں وہ ہاتھ اٹھانے وغیرہ کی ضرورت نہیں ہے تو بس رکوع کے اندر تسبیحات تکبیرات کہہ لے بھئی۔ اور اگر پہلی رکعت نکل گئی ہے اور پھر جا کر آپ شامل ہوئے ہیں پھر جا کر شامل ہوئے ہیں، تو اب دوسری رکعت امام کے ساتھ آپ پڑھ رہے ہیں اور وہ دوسری رکعت کے آخر میں تین تکبیرات کہے گا پھر وہ سلام پھیر دے گا اور آپ اٹھ کر کھڑے ہو جائیں گے کیونکہ ایک رکعت آپ کی باقی ہے۔ تو اب تکبیرات کس موقع پر کہی جائیں گی بھئی؟ کس موقع پر کہی جائیں گی؟ آپ کی ترتیب کے اعتبار سے یہ دوسری رکعت ہے لیکن یہ اصل میں کون سی رکعت ہے آپ کی؟ پہلی ہے کیونکہ وہ پہلی آپ کی رہ گئی تھی اسی کی اب آپ قضاء کر رہے ہیں بھئی۔ تو پہلی رکعت ہے اور پہلی رکعت میں تکبیرات کہاں پر آتی تھیں؟ قراءت سے پہلے آتی تھیں، لیکن یہاں قراءت سے پہلے نہیں تکبیرات کہنی بلکہ قراءت کے بعد ہی تکبیرات کہنی ہیں، کس کے بعد؟ قراءت کے بعد ہی تکبیرات کہنی ہیں۔ بھئی اس کی کیا وجہ ہے؟ وجہ یہ کہ اگر قراءت سے پہلے آپ تکبیرات کہیں گے تو ساری تکبیرات اکٹھی ہو گئیں۔ تین تکبیرات تھیں پچھلی رکعت کے آخر میں اور تین آ گئیں اگلی کے شروع میں، تو کیا ہو گئیں؟ اکٹھی ہو گئیں، اور اس کا کوئی بھی قائل نہیں ہے کہ کہ تکبیرات اکٹھی ہو جائیں دونوں رکعتوں والی، بلکہ درمیان میں کس کا فصل آتا ہے؟ قراءت کا فصل آتا ہے۔ تو لہٰذا اب پس وہ قراءت کے بعد تکبیریں کہے گا تاکہ تکبیروں کے درمیان قراءت کا فصل آ جائے بھئی۔ تو فرماتے ہیں: ”وَيُصَلِّي الْإِمَامُ بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ يُكَبِّرُ فِي الْأُولَى لِلِافْتِتَاحِ“ اور امام لوگوں کو دو رکعتیں پڑھائے، پہلی میں تکبیرِ افتتاح کہے، ”ثُمَّ يَسْتَفْتِحُ“ پھر ثناء پڑھے، یعنی سبحانک اللہم وبحمدک پڑھے، ”ثُمَّ يُكَبِّرُ ثَلَاثًا“ پھر تین تکبیریں کہے، یعنی ثناء کے بعد اب تین زائد تکبیریں کہے، ”يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِيهَا“ اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھائے ان تکبیروں میں، یعنی کانوں تک ہاتھوں کو اٹھائے، ”ثُمَّ يَقْرَأُ فَإِذَا فَرَغَ كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ“ پھر قراءت کرے، پھر جب فارغ ہو جائے، تو رکوع کے لیے تکبیر کہے۔ ”وَفِي الثَّانِيَةِ يَبْدَأُ بِالْقِرَاءَةِ“ اور دوسری رکعت میں قراءت سے شروع کرے۔ دیکھو، پہلی رکعت میں قراءت سے پہلے تکبیریں تھیں اور دوسری میں قراءت کے بعد، تاکہ دونوں تکبیریں آپس میں نہ ملیں۔ ”فَإِذَا فَرَغَ كَبَّرَ ثَلَاثًا“ پھر جب قراءت سے فارغ ہو جائے تو تین تکبیریں کہے، ”يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِيهَا“ اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ان تکبیروں میں، ”وَالرَّابِعَةُ لِلرُّكُوعِ“ اور چوتھی تکبیر رکوع کے لیے کہے۔ ”هَذَا قَوْلُ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ“ یہ قول ہے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا۔ اور چونکہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کوفہ تشریف لائے تھے، تو اہل کوفہ نے اور ہمارے ائمہ نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے قول کو اختیار کیا ہے۔ ”وَهُوَ مَأْخُوذُنَا“ اور یہ ہمارا ماخوذ ہے، یعنی ہمارے ائمہ کا ماخوذ ہے، انہوں نے اس کو اختیار کیا ہے۔ ”وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: يُكَبِّرُ فِي الْأُولَى ثَلَاثًا بَعْدَ الِافْتِتَاحِ ثُمَّ يَقْرَأُ ثُمَّ يُكَبِّرُ وَيَرْكَعُ وَفِي الثَّانِيَةِ كَذَلِكَ“ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ پہلی رکعت میں افتتاح کے بعد تین تکبیریں کہے، پھر قراءت کرے، پھر تکبیر کہے اور رکوع کرے، اور دوسری میں بھی اسی طرح کرے، یعنی دوسری میں بھی پہلے تکبیریں کہے اور بعد میں قراءت کرے، بعد میں رکوع کرے بھئی۔ ”وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي سَبْعٍ وَخَمْسٍ“ اور یہ قول امام شافعی رحمہ اللہ کا ہے، لیکن سات اور پانچ تکبیروں کے اندر۔ یعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما تو تین تین زائد کے قائل تھے دونوں میں، لیکن ترتیب وہی تھی کہ دونوں رکعتوں میں تکبیرات قراءت سے پہلے تھیں، تو امام شافعی رحمہ اللہ بھی ترتیب یہی فرماتے ہیں کہ دونوں رکعتوں میں قراءت سے پہلے تکبیرات ہیں۔ لیکن تکبیرات کی تعداد مختلف ہے کہ پہلی میں سات تکبیریں ہیں اور دوسری میں پانچ تکبیریں ہیں بھئی۔ پہلی میں سات تکبیریں اور دوسری میں پانچ تکبیریں ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک تکبیرات کی تعداد کتنی ہے؟ پہلی میں سات اور دوسری میں پانچ۔ اب اس سات اور پانچ کے اندر بھی اختلاف ہے کہ آیا یہ زائد تکبیریں ہیں، یا تکبیرِ تحریمہ اور تکبیرِ رکوع وغیرہ کو ملا کر ہیں؟ اس میں اختلاف ہے، وہ آگے آ جائے گا۔ لیکن بہرحال ان کے نزدیک ترتیب یہی ہے کہ تکبیریں دونوں رکعتوں میں قراءت سے پہلے کہی جائیں گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي سَبْعٍ وَخَمْسٍ“ اور یہ امام شافعی رحمہ اللہ کا قول ہے سات اور پانچ کے اندر۔ یعنی تعداد مختلف ہے لیکن ترتیب وہی ہے۔ ”وَالْحُجَّةُ لَنَا مَا رُوِيَ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ وَأَبَا مُوسَى وَحُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ اجْتَمَعُوا فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ فَقَالَ أَبُو مُوسَى وَحُذَيْفَةُ لِابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ: كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ فِي هَذِهِ الصَّلَاةِ؟ فَقَالَ: أَرْبَعًا فِي الْأُولَى وَأَرْبَعًا فِي الثَّانِيَةِ، فَصَدَّقَاهُ عَلَى ذَلِكَ“ اور ہمارے لیے دلیل اب دلیل ذکر کر رہے ہیں۔ وہ حدیث جس کو روایت کیا گیا ہے کہ ابن مسعود اور ابو موسیٰ اور حذیفہ رضی اللہ عنہم وہ اکٹھے ہوئے مسجدِ کوفہ میں، کوفہ کی مسجد میں، تو ابو موسیٰ اور حذیفہ نے ابن مسعود رضی اللہ عنہم سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز میں تکبیریں کیسے کہا کرتے تھے؟ یعنی عید کی نماز میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا تکبیریں کہنے کا کیا طریقہ تھا؟ تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: چار تکبیریں پہلی میں اور چار تکبیریں دوسری میں۔ یعنی پہلی میں تین زائد اور ایک تکبیرِ افتتاح، تو کل چار ہو گئیں۔ اور دوسری میں تین زائد اور چوتھی رکوع کی، تو وہ بھی کل چار ہو گئیں بھئی۔ تو ان دونوں نے ان کی تصدیق کی اس بات پر۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے بتلانے کے بعد تصدیق کی کہ ہاں واقعی حضور صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح پڑھا کرتے تھے بھئی۔ تو یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ پہلی میں چار اور دوسری میں چار، یعنی تین تین زائد ہیں دونوں میں۔ اور دونوں میں جو حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ترتیب ذکر کی تھی، اس پر بھی وہ متفق ہو گئے۔ چلیے بس یہیں تک۔ بَابُ الْعِيدَيْنِ ”وَتَجِبُ صَلَاةُ الْعِيدِ عَلَى كُلِّ مَنْ تَجِبُ عَلَيْهِ صَلَاةُ الْجُمُعَةِ، وَفِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ: عِيدَانِ اجْتَمَعَا فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ فَالْأَوَّلُ سُنَّةٌ وَالثَّانِي فَرِيضَةٌ“. تو یہاں مضاف محذوف ہے، أَيْ بَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ، یہ باب ہے دو عیدیں جو ہیں ان کی نماز کے بیان میں بھئی۔ تو نماز عید کا طریقہ اب اس میں سکھلائیں گے بھئی اور اس سے متعلقہ احکام جو ہیں وہ بیان کریں گے۔ کہتے ہیں: ”وَتَجِبُ صَلَاةُ الْعِيدِ عَلَى كُلِّ مَنْ تَجِبُ عَلَيْهِ صَلَاةُ الْجُمُعَةِ“، اور عید کی نماز جو ہے واجب ہے ہر اس شخص پر جس پر جمعہ کی نماز واجب ہو۔ عید کی نماز ہر اس شخص پر واجب ہے جس پر جمعہ کی نماز واجب ہو بھئی، واجب ہو۔ تو معلوم ہوا مسافر اس سے نکل گیا بھئی کیونکہ مسافر پر جمعہ نہیں بھئی۔ اسی طرح مریض وغیرہ جن کا گزشتہ باب کے اندر ذکر آیا تھا بھئی۔ عید کی نماز ہر اس شخص پر واجب ہے جس پر جمعہ کی نماز واجب ہے۔ ”وَفِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ: عِيدَانِ اجْتَمَعَا فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ فَالْأَوَّلُ سُنَّةٌ وَالثَّانِي فَرِيضَةٌ“، آگے صاحبِ ہدایہ جامع صغیر کی عبارت نقل فرما رہے ہیں۔ کہتے ہیں جامع صغیر کے اندر امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عِيدَانِ اجْتَمَعَا فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ، عِيدَانِ نکرہ آیا اور اجْتَمَعَا اس کے بعد فعل آیا اور نکرہ کے بعد فعل آئے تو میں نے آپ کو بتلایا تھا یہ عموماً اس کے لیے کیا بنے گا؟ صفت بھئی، تو یہاں بھی یہ صفت بنے گا۔ عِيدَانِ ایسی دو عیدیں، اجْتَمَعَا فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ جو جمع ہو جائیں ایک ہی دن میں۔ تو یہ بنے گا مبتدا، عِيدَانِ ہے مبتدا موصوف ہے اور اجْتَمَعَا فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ اس کی صفت ہے بھئی۔ اور آگے فَالْأَوَّلُ سُنَّةٌ یہ اس کی خبر ہے بھئی، یہ کیا ہے؟ اور آپ نے پڑھا کبھی خبر جملہ ہوا کرتی ہے تو یہ جملہ کیا ہے؟ پورا خبر بن رہا ہے بھئی، اور وَالثَّانِي فَرِيضَةٌ کا اسی خبر پر عطف ہے بھئی۔ اور تو یہ خبر پر فا داخل ہوئی بھئی، خبر پر فا داخل ہوئی۔ اور آپ نے کافیہ کے اندر پڑھا ہوگا کہ بعض اوقات مبتدا جو ہے وہ متضمن ہوتا ہے معنیٰ شرط کو تو اس کی خبر پر فا کا لانا جائز ہے بھئی۔ وہ کبھی مبتدا کے اندر شرط والے معنیٰ آ جاتے ہیں تو اس کی خبر پر فا کا لانا جائز ہے بھئی، جائز ہے۔ اور ان میں سے ایک وہ مبتدا ہے جو ایسا نکرہ، ایسا نکرہ جس کی صفت فعل یا ظرف آئے بھئی۔ ایسا نکرہ جس کی صفت فعل یا ظرف آئے۔ تو دیکھیے عِيدَانِ یہ نکرہ ہے اور اس کی صفت کیا آئی؟ اجْتَمَعَا فعل آئی بھئی، اور تو یہ متضمن ہوا کس کو؟ معنیٰ شرط کو بھئی۔ اور کافیہ میں اس کی مثال انہوں نے دی ہے: كُلُّ رَجُلٍ يَأْتِينِي فَلَهُ دِرْهَمٌ بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”عِيدَانِ اجْتَمَعَا فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ فَالْأَوَّلُ سُنَّةٌ وَالثَّانِي فَرِيضَةٌ“، يَرْحَمُكَ اللهُ، ایسی دو عیدیں جو جمع ہو جائیں ایک ہی دن کے اندر، بھئی بعض اوقات عید جمعہ والے دن آ جاتی ہے۔ کس دن؟ جمعہ والے دن آ جاتی ہے، تو اس دن یاد رکھیے عید کی نماز بھی ہوگی اور اس کے بعد پھر جمعہ کی نماز بھی ہوگی۔ یہ نہیں کہ عید کی نماز ہو گئی تو اب جمعہ کی نماز نہیں ہوگی بلکہ صرف کونسی ہو جائے؟ ظہر کی ہو جائے، ایسا نہیں بلکہ دونوں نمازیں ہوں گی۔ تو اسی سے متعلقہ عبارت ذکر کر رہے ہیں جامع صغیر کی، کہتے ہیں جامع صغیر کے اندر امام محمد فرماتے ہیں کہ ایسی دو عیدیں جو جمع ہو جائیں ایک ہی دن کے اندر یعنی عید کا دن کونسے دن آ جائے؟ جمعہ کے دن، فَالْأَوَّلُ سُنَّةٌ تو ان میں سے جو اول ہے وہ سنت ہے، وَالثَّانِي فَرِيضَةٌ اور دوسرا جو ہے وہ فرض۔ پہلی نماز سنت ہے اور دوسری فرض۔ اور پہلے کونسی نماز ہوگی؟ عید کی پہلے اور اس کے بعد جمعہ کی۔ ”وَلَا يُتْرَكُ وَاحِدٌ مِنْهُمَا“، اور ان میں سے کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا بھئی۔ ان میں سے ایک کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا، یہ نہیں کہ عید کی نماز پڑھ لی تو اب جمعہ کی نماز نہیں پڑھی جائے گی بلکہ نہیں، دونوں کو پڑھا جائے گا۔ ”قَالَ“، آگے اب عبارت نقل کرنے کے بعد صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: قَالَ، اس سے مراد صاحبِ ہدایہ ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَهَذَا تَنْصِيصٌ عَلَى السُّنَّةِ“، اور یہ تصریح ہے سنت پر۔ اس عبارت میں تصریح ہے اس بات پر، اب کس بات پر؟ سنت ہونے پر، کہ یعنی کہ عید کی نماز سنت ہے بھئی، عید کی نماز سنت ہے۔ ”وَالْأَوَّلُ عَلَى الْوُجُوبِ“، اور پہلا جو ہے، پہلا کونسا؟ جو متن میں آیا: ”وَتَجِبُ صَلَاةُ الْعِيدِ“، وہاں سے کیا پتہ چلا؟ صاحبِ قدوری فرما رہے ہیں عید کی نماز واجب، اور امام محمد رحمہ اللہ فرما رہے ہیں کہ عید کی نماز سنت ہے۔ تو کہتے ہیں تو یہ تصریح ہے سنت ہونے پر، تصریح کہتے ہیں صاف لفظوں میں کوئی بات کہنا، واضح لفظوں میں بات کہنا اس کو کیا کہتے ہیں؟ تصریح اور صراحت کہتے ہیں۔ تو یہ تصریح ہے دیکھو صاف لفظوں میں کہہ دیا گیا: فَالْأَوَّلُ سُنَّةٌ۔ کسی اور اشارے وغیرہ سے نہیں پتہ چل رہا، صراحتاً کیا فرما رہے ہیں امام محمد؟ فَالْأَوَّلُ سُنَّةٌ کہ پہلی نماز سنت ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَهَذَا تَنْصِيصٌ عَلَى السُّنَّةِ“، اور یہ تصریح ہے سنت ہونے پر، ”وَالْأَوَّلُ عَلَى الْوُجُوبِ“، اور پہلا قول کس پر تصریح کر رہا ہے؟ واجب کہ عید کی نماز واجب ہے۔ ”وَهُوَ رِوَايَةٌ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ“، اور یہ روایت ہے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے، وہ بھی یہی فرماتے ہیں کہ عید کی نماز واجب ہے، واجب ہے۔ اب وجہ ذکر کر رہے ہیں بھئی، تو کہتے ہیں وجہ الاول، پہلے قول کی وجہ، پہلا قول کیا آیا تھا متن میں؟ واجب ہے۔ کہتے ہیں پہلے قول کی وجہ جو ہے: ”مُوَاظَبَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا“، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پر پابندی فرمانا ہے کہ حضور علیہ السلام نے ہمیشہ اس عید کی نماز کو ادا فرمایا اور کبھی ترک نہیں کیا اور یہ کس چیز کی علامت ہے؟ واجب ہونے کی، کس چیز کی؟ واجب ہونے کی۔ ”وَوَجْهُ الثَّانِي“، اور دوسرے قول کی وجہ، ”قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَدِيثِ الْأَعْرَابِيِّ“، وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے اعرابی والی یعنی دیہاتی والی حدیث میں، ”عَقِيبَ سُؤَالِهِ“، اس کے پوچھ، سوال کرنے کے بعد۔ وہ دیہاتی آیا تھا اور اس نے سوالات وغیرہ کچھ کیے جاتے ہوئے تو آخر میں جب حضور علیہ السلام نے نمازیں اس کو بتلا دیں تو کہنے لگا: ”هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُنَّ؟“ کیا ان کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی اور نماز ہے؟ ان نمازوں کے علاوہ جو آپ نے ذکر فرما دیں، ان کے علاوہ کوئی اور بھی نماز مجھ پر ہے یعنی؟ ”قَالَ: لَا“، تو حضور علیہ السلام فرمانے لگے: نہیں۔ ”إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ“، مگر یہ کہ تو نفل پڑھے۔ مگر یہ کہ تو نفل پڑھے۔ تو اس کے اندر تو حضور علیہ السلام نے عید کا ذکر پیچھے نہیں فرمایا تھا، پانچ نمازیں وغیرہ آپ نے بتلا دیں، اس کے بعد اس نے کہا اور کوئی نماز ہے؟ حضور علیہ السلام فرمانے لگے نہیں، مگر یہ کہ تو نفل پڑھے یعنی نفل ہیں اس کے علاوہ۔ اور باقی کے اندر تو عید بھی آ گئی، معلوم ہوا عید بھی نفل ہے یعنی سنت کیونکہ نفل، سنت بھی کس چیز کا نام ہے؟ نفل ہی کا نام ہے جس پر حضور علیہ السلام نے پابندی فرمائی ہو۔ تو معلوم ہوا عید کی نماز بھی سنت ہے، یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے۔ آگے صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں: ”وَالْأَوَّلُ أَصَحُّ“، اور پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ اور وجہ بھی ذکر کر رہے ہیں کہ فَالْأَوَّلُ سُنَّةٌ امام محمد رحمہ اللہ نے جو فرمایا: فَالْأَوَّلُ سُنَّةٌ، اس میں سنت کیوں کہا گیا پھر اس کو جب یہ واجب ہے؟ کہتے ہیں: ”وَتَسْمِيَتُهُ سُنَّةً لِوُجُوبِهِ بِالسُّنَّةِ“، اور اس کا نام سنت رکھا گیا یعنی اس کو سنت کہا گیا لِوُجُوبِهِ بِالسُّنَّةِ اس لیے کیونکہ اس کا وجوب کس سے ثابت ہے؟ سنت سے ثابت ہے بھئی، سنت سے۔ ”وَيُسْتَحَبُّ فِي يَوْمِ الْفِطْرِ أَنْ يَطْعَمَ قَبْلَ الْخُرُوجِ إِلَى الْمُصَلَّى وَيَغْتَسِلَ وَيَسْتَاكَ وَيَتَطَيَّبَ“، اور مستحب ہے عید الفطر والے دن، مستحب ہے عید الفطر کے دن: ”أَنْ يَطْعَمَ قَبْلَ الْخُرُوجِ إِلَى الْمُصَلَّى“، کہ نمازی جو ہے وہ کچھ کھا لے عید گاہ کی طرف نکلنے سے پہلے۔ عید گاہ کی طرف نکلنے سے پہلے کچھ کھا لے۔ بھئی یاد رکھیے عید الفطر کے اندر مسنون یہ ہے کہ انسان عید کی نماز سے پہلے ہی کچھ کوئی میٹھی چیز کھا لے بھئی، کوئی میٹھی چیز۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ سنت ہے کہ آپ عید گاہ کے لیے نکلنے سے پہلے آپ کوئی میٹھی چیز کھا لیتے، اور نہیں تو کم از کم کھجوریں کھا لیتے بھئی۔ تو لہٰذا یہ مسنون ہے۔ جبکہ عید الاضحیٰ کے اندر مسنون یہ ہے کہ عید گاہ کی طرف جانے سے پہلے انسان کچھ نہ کھائے بھئی، کچھ نہ کھائے۔ حضور علیہ السلام عید الاضحیٰ کے موقع پر کچھ نہیں تناول فرماتے تھے، ہاں جب عید کی نماز سے واپس آتے پھر وہ قربانی کا گوشت، قربانی ہوتی اس کا گوشت تناول فرماتے تھے بھئی۔ تو واپس آتے تو قربانی کا گوشت تناول فرماتے تھے۔ اس میں یاد رکھیے کہ دراصل یہاں ماقبل کی مخالفت ہے بھئی، ماقبل کی کیا ہے؟ مخالفت۔ چونکہ عید الفطر سے ماقبل روزے کے ایام تھے اور روزوں میں تو ہم نہیں کھاتے تھے صبح، روزوں میں تو نہیں کھایا جاتا روزہ ہوتا ہے انسان کا، تو عید کے دن کیا کر لے؟ کچھ کھا لے، کوئی میٹھی میٹھی چیز کھا لے تاکہ ان پتہ لگ جائے کہ یہ آج روزہ نہیں ہے بھئی۔ اور عید الاضحیٰ کے اندر تو ماقبل میں روزے نہیں ہیں، نفلی انسان رکھ لے نفلی کی بات نہیں ہو رہی، اس سے ماقبل میں تو روزے وغیرہ نہیں ہیں لہٰذا وہاں پر کیا کرے؟ مسنون طریقہ کیا ہے؟ کچھ نہ کھائے اور بعد میں کھائے بھئی۔ اور اس میں پھر حضور علیہ السلام کا طریقہ یہ تھا کہ آپ واپس آنے کے بعد پھر وہ جب قربانی ہو جاتی اس کا گوشت تناول فرماتے تھے بھئی۔ لیکن اس میں بھی یاد رکھیں یہ قربانی تو یہاں پر اب بعض اوقات بڑی تاخیر ہو جاتی ہے، بڑی تاخیر، سمجھ میں آیا؟ حتیٰ کہ بعض اوقات شام پڑ جاتی ہے، تو یہ نہیں کہ اب اس میں انسان سارا دن پھر کچھ کھائے ہی نہ، یہ تو پھر روزہ بن جائے گا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ لہٰذا یہ بھی مناسب نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَيُسْتَحَبُّ فِي يَوْمِ الْفِطْرِ أَنْ يَطْعَمَ قَبْلَ الْخُرُوجِ إِلَى الْمُصَلَّى“، اور مستحب ہے عید الفطر کے دن کہ وہ شخص کچھ کھا لے عید گاہ کی طرف نکلنے سے پہلے، ”وَيَغْتَسِلَ“، اور غسل کر لے، ”وَيَسْتَاكَ“، اور مسواک کر لے، ”وَيَتَطَيَّبَ“، اور خوشبو لگا لے، ”لِمَا رُوِيَ أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَطْعَمُ فِي يَوْمِ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ إِلَى الْمُصَلَّى“، بوجہ اس حدیث کے جس کو روایت کیا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم كَانَ يَطْعَمُ فِي يَوْمِ الْفِطْرِ کہ آپ کھایا کرتے تناول فرماتے تھے عید الفطر کے دن قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ إِلَى الْمُصَلَّى عید گاہ کی طرف نکلنے سے پہلے، ”وَكَانَ يَغْتَسِلُ فِي الْعِيدَيْنِ“، اور یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم غسل فرمایا کرتے تھے دونوں عیدوں کے دن۔ ”وَلِأَنَّهُ يَوْمُ اجْتِمَاعٍ فَيُسَنُّ فِيهِ الْغُسْلُ“، دوسری وجہ ذکر کر رہے ہیں کہ اور اس لیے کیونکہ عید کا دن جو ہے یہ اجتماع والا دن ہے جس میں لوگ اکٹھے ہوتے ہیں، فَيُسَنُّ فِيهِ الْغُسْلُ تو اس کے اندر غسل مسنون ہوگا، ”وَالتَّطَيُّبُ“، اور خوشبو لگانا یہ بھی کیا ہوگا؟ مسنون ہوگا، ”كَمَا فِي الْجُمُعَةِ“، جیسے کس دن ہوتا ہے؟ جمعہ میں ہوتا ہے، جمعہ کے دن بھی لوگوں کا اجتماع ہوتا ہے تو غسل کرنا اور خوشبو لگانا مسنون ہے تو یہاں بھی عید کے دن بھی لوگوں کا اجتماع ہوتا ہے تو یہاں بھی غسل کرنا اور خوشبو لگانا مسنون ہوگا۔ ”وَيَلْبَسُ أَحْسَنَ ثِيَابِهِ“، اور پہن لے اپنے سب سے عمدہ اچھے کپڑے، سب سے اچھے کپڑے، کہتے ہیں: ”لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَهُ جُبَّةُ فَنَكٍ أَوْ صُوفٍ يَلْبَسُهَا فِي الْأَعْيَادِ“، صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ عید کے لیے جانے والا کیا کر لے؟ اپنے سب سے اچھے کپڑے پہن لے، اور دلیل ذکر کر رہے ہیں کہ لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو تھے كَانَ لَهُ جُبَّةُ فَنَكٍ آپ کا ایک فنک کا جبہ تھا أَوْ صُوفٍ یا اون کا، يَلْبَسُهَا فِي الْأَعْيَادِ جس کو آپ پہنتے تھے عیدوں میں۔ عید کے موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کو پہنا کرتے تھے بھئی، جُبَّةُ فَنَكٍ۔ فنک بھئی یہ کہتے ہیں لومڑی کے مشابہ کوئی جانور ہے اور اس کی کھال اور پوستین جو ہے وہ بڑی عمدہ ہوتی ہے بھئی، بڑی عمدہ ہوتی ہے، تو اس کا بنا ہوا ایک جبہ تھا اور حضور علیہ السلام اس کو عید کے موقع پر پہنتے تھے، یا اون کا کوئی جبہ تھا اس کو حضور علیہ السلام عید کے موقع پر پہنتے تھے۔ ”وَيُؤَدِّيَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ“، اس کا عطف بھی اسی پر ہے بھئی: أَنْ يَطْعَمَ وَأَنْ يُؤَدِّيَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ، اور مستحب ہے عید الفطر کے دن کہ وہ عید پڑھنے والا ادا کر دے صدقۃ الفطر، کس کو؟ صدقہ فطر کو ادا کر دے۔ صدقہ فطر کے بارے میں آگے مفصل باب آ رہا ہے وہاں تفصیل آ جائے گی۔ یہ ادا کر دے: ”إِغْنَاءً لِلْفَقِيرِ“، بھئی عید کی نماز کے لیے نکلنے سے پہلے کیا کر دے؟ صدقہ فطر ادا کر دے بھئی، إِغْنَاءً لِلْفَقِيرِ فقیر کو بے نیاز کرنے کے لیے، محتاج کو بے پرواہ کرنے کے لیے، ”لِيَتَفَرَّغَ قَلْبُهُ لِلصَّلَاةِ“، تاکہ اس فقیر کا دل جو ہے وہ فارغ ہو جائے نماز کے لیے۔ فقیر جو ہے وہ بیچارہ تو کھانے پینے کی اور ضرورت کی طرف اس کی توجہ رہے گی لیکن جب اس کو صدقہ فطر مل جائے گا تو اب وہ ان چیزوں کی طرف اس کی توجہ نہیں ہوگی اور کامل توجہ کے ساتھ وہ نماز ادا کر سکے گا بھئی۔ تو یہ عید کے یہ نماز کے لیے نکلنے سے پہلے کیا کرنا چاہیے کم از کم؟ صدقہ فطر بھئی، احسن تو یہ ہے کہ عید کے دن سے پہلے ہی کم از کم ایک دو دن پہلے ہی انسان ادا کر دے۔ ”وَيَتَوَجَّهَ إِلَى الْمُصَلَّى“، اور متوجہ ہو جائے عید گاہ کی طرف یعنی عید گاہ کی طرف چل پڑے، ”وَلَا يُكَبِّرُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي طَرِيقِ الْمُصَلَّى وَعِنْدَهُمَا يُكَبِّرُ اعْتِبَارًا بِالْأَضْحَى“. ”وَلَا يُكَبِّرُ“، اور تکبیر نہ کہے۔ یہاں یاد رکھنا بھئی دو روایتیں ہیں، یہاں اختلاف ذکر ہو رہا ہے امام صاحب کا اور صاحبین کا۔ بھئی عید الاضحیٰ کے اندر تو بالاتفاق جو شخص عید کی نماز پڑھنے جا رہا ہے، کونسی عید میں؟ عید الاضحیٰ میں، وہ راستے میں چلتے ہوئے جاتے ہوئے تکبیر بلند آواز سے پڑھتا ہوا جائے بھئی، مسنون یہ طریقہ ہے، مسنون طریقہ۔ بلند آواز کے ساتھ تکبیرات تکبیر کہتا ہوا جائے، وہی تکبیر جو ان ایام تشریق میں پڑھی جاتی ہے: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ، تو یہ تکبیر اونچی آواز سے پڑھتا ہوا جائے۔ اب عید الفطر کے اندر جب نماز کے لیے انسان جا رہا ہے تو کیا اس وقت بھی یہ تکبیر پڑھی جائے گی اونچی آواز سے یا نہیں پڑھی جائے گی بھئی؟ تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ اس موقع پر نہیں پڑھی جائے گی تکبیر بھئی، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ نہیں جیسے عید الاضحیٰ کے اندر تکبیر پڑھی جاتی ہے جاتے ہوئے اسی طرح یہاں پر بھی تکبیر پڑھی جائے گی۔ اور پھر اس میں بعض علماء نے لکھا کہ یہ اختلاف جو ہے، یہ اختلاف کہ اصل تکبیر کے اندر ہی اختلاف ہے، صاحبین فرماتے ہیں پڑھیں گے، امام صاحب فرماتے ہیں بالکل پڑھنی ہی نہیں ہے۔ اصل تکبیر میں ہی کیا ہے؟ اختلاف، لیکن زیادہ صحیح قول یہ ہے اصل تکبیر میں نہیں اختلاف، صاحبین جیسے فرماتے ہیں وہ کہ یہ تکبیر پڑھی جائے گی راستے میں، اسی طرح امام صاحب بھی یہی فرماتے ہیں کہ پڑھی جائے گی، ہاں اختلاف صرف جہراً پڑھنے میں ہے کہ بلند آواز سے پڑھی جائے گی یا نہیں؟ تو امام صاحب فرماتے ہیں بلند آواز سے نہیں بلکہ آہستہ آواز سے پڑھتا ہوا جائے گا، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں نہیں عید الاضحیٰ کے دن کی طرح جیسے اس دن بلند آواز سے پڑھی جاتی ہے اس دن بھی کیا کیا کرے گا یہ شخص؟ بلند آواز سے تکبیرات کہتا ہوا جائے گا بھئی۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو زیادہ صحیح قول یہ بھئی۔ تو: ”وَلَا يُكَبِّرُ“، أَيْ جَهْرًا بھئی جَهْرًا، جَهْرًا کی قید یہاں یاد رکھنا، کہ وَلَا يُكَبِّرُ اور تکبیر نہیں کہے گا یعنی بلند آواز سے: ”عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي طَرِيقِ الْمُصَلَّى“، امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک عید گاہ کے راستے میں یعنی بلند آواز سے تکبیرات نہیں کہے گا، آہستہ آواز سے۔ ”وَعِنْدَهُمَا يُكَبِّرُ اعْتِبَارًا بِالْأَضْحَى“، اور صاحبین کے نزدیک تکبیر کہے گا یعنی اونچی آواز سے کہے گا اعْتِبَارًا بِالْأَضْحَى قیاس کرتے ہوئے عید الاضحیٰ پر بھئی۔ ”وَلَهُ“، اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے: ”أَنَّ الْأَصْلَ فِي الثَّنَاءِ الْإِخْفَاءُ“، کہ اصل کیا ہے ثناء کے اندر؟ اخفاء ہے، آہستہ آواز سے کہنا ہے۔ دیکھا صاحبِ ہدایہ نے دلیل بھی کیا ذکر کر دی؟ کہ پڑھنی نہیں ہے یا آہستہ پڑھنی ہے؟ آہستہ پڑھنے کی دلیل ذکر کی۔ تو امام صاحب کی دلیل یہ ہے: أَنَّ الْأَصْلَ فِي الثَّنَاءِ الْإِخْفَاءُ کہ ثناء کے اندر جو ہے اللہ کے حمد و ثناء میں اصل جو ہے اخفاء ہے کہ پست آواز سے کی جائے۔ ”وَالشَّرْعُ وَرَدَ بِهِ فِي الْأَضْحَى“، اور شریعت وارد ہوئی ہے یعنی اونچی آواز کے بارے میں فِي الْأَضْحَى عید الاضحیٰ کے بارے میں۔ شریعت میں صرف کس دن پڑھنے کے بارے کس دن اونچی تکبیرات کہنے کا حکم دیا گیا ہے؟ صرف یوم الاضحیٰ کے دن بھئی۔ اور شریعت وارد ہوئی ہے عید الاضحیٰ کے بارے میں: ”لِأَنَّهُ يَوْمُ تَكْبِيرٍ“، اس لیے کیونکہ وہ تکبیر والا دن ہے بھئی۔ ان دنوں میں کیا کیا جاتا ہے نمازوں کے بعد؟ تکبیرات کہی جاتی ہیں تو وہ تکبیر والے دن ہیں، ”وَلَا كَذَلِكَ الْفِطْرُ“، اور عید الفطر کا دن اس طرح نہیں ہے بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟ يَرْحَمُكَ اللهُ۔ اور یہ بھی یاد رکھیے اس مسئلے کے اندر فتویٰ امام صاحب کے قول پر ہے بھئی کہ عید گاہ کی طرف جاتے ہوئے عید الفطر کے دن تکبیرات جو ہیں وہ آہستہ آواز سے کہنی چاہیے بھئی، آہستہ آواز سے۔ اور چنانچہ چنانچہ صاحبِ ہدایہ نے بھی اسی کی طرف اشارہ کیا اور امام صاحب کی دلیل بعد میں ذکر کی بھئی اور صاحبین کی دلیل پہلے ذکر کی، اور آپ پڑھ چکے ہیں کہ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ جو قول قوی ہوتا ہے صاحبِ ہدایہ اس کی دلیل بعد میں ذکر کرتے ہیں تاکہ یہ اس قول کی دلیل بھی ہو جائے اور دوسرے قول کا جواب بھی ہو جائے، ان کی دلیل کا جواب بھی ہو جائے۔ اور یہ بھی یاد رکھیے بھئی کہ عموماً جب امام صاحب ایک طرف ہوں اور صاحبین دوسری طرف ہوں کسی مسئلے میں تو تو پھر اس صورت میں بعض اوقات فقہاء صاحبین کے قول کو لیتے ہیں یا بعض اوقات کس کے قول کو لیتے ہیں؟ امام صاحب کے قول کو، اگرچہ اکثر اس میں بھی امام صاحب ہی کے قول کو لیا جاتا ہے۔ اور جب امام صاحب کے ساتھ امام ابو یوسف رحمہ اللہ آ جائیں اور امام محمد دوسری طرف ہوں اور یا امام صاحب کے ساتھ امام محمد رحمہ اللہ آ جائیں اور صرف امام ابو یوسف رحمہ اللہ دوسری طرف ہوں تو پھر اس صورت میں جب امام صاحب اکیلے ہوتے تھے تو عموماً ان کے قول کو اختیار کیا جاتا تھا، اب ان کے ساتھ ایک اور بھی مل گئے تو اب اور زیادہ قوت آ جاتی ہے تو اس صورت میں بھی عموماً فتویٰ انہی کے قول پر ہوتا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ امام صاحب ہی کے قول پر کیونکہ وہ اکیلے تھے تو اس وقت ان کے قول کو قوت حاصل تھی تو اب ساتھ ایک اور شاگرد بھی مل گئے تو مزید قوت آ گئی ان کے قول کے اندر۔ تو یہاں پر فتویٰ امام صاحب کے قول پر ہے بھئی۔ ”وَلَا يَتَنَفَّلُ فِي الْمُصَلَّى قَبْلَ صَلَاةِ الْعِيدِ“، یاد رکھیے بھئی کہ عید والے دن، عید والے دن عید کی نماز سے قبل نوافل وغیرہ پڑھنا مکروہ ہے۔ گھر پر پڑھنا بھی مکروہ، عید گاہ کے اندر پڑھنا بھی مکروہ ہے بھئی، عید گاہ کے اندر بھی۔ اور نمازِ عید کے بعد اب نوافل پڑھ سکتے ہیں لیکن گھر وغیرہ پر پڑھ سکتے ہیں، عید گاہ میں پھر عید کی نماز کے بعد بھی نوافل وغیرہ پڑھنا مکروہ ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يَتَنَفَّلُ فِي الْمُصَلَّى قَبْلَ صَلَاةِ الْعِيدِ“، اور نفل نہ پڑھے عید گاہ کے اندر عید کی نماز سے پہلے۔ دلیل کیا اس کی؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مَعَ حِرْصِهِ عَلَى الصَّلَاةِ“، اس لیے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں فرمایا باوجود آپ کے حریص ہونے کے عَلَى الصَّلَاةِ نماز پر۔ باوجود اس کے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پر بے انتہا حریص تھے لیکن آپ نے ایسا نہیں فرمایا کہ عید کی نماز سے پہلے یا عید کی نماز کے بعد وہاں نوافل ادا فرمائے ہوں۔ ”ثُمَّ قِيلَ: الْكَرَاهَةُ فِي الْمُصَلَّى خَاصَّةً“، پھر کہا گیا ہے کہ کراہت صرف عید گاہ کے اندر ہے یعنی عید گاہ کے اندر نفلوں کا پڑھنا عید کی نماز سے پہلے یہ صرف عید گاہ کے اندر پہلے پڑھنا مکروہ ہے، گھر میں پہلے پڑھنا مکروہ نہیں، یہ ایک قول ہے۔ ”وَقِيلَ: فِيهِ وَفِي غَيْرِهِ عَامَّةٌ“، اور کہا گیا ہے کہ یہ کراہت عید گاہ میں اور عید گاہ کے علاوہ میں عام ہے یعنی ہر جگہ پر نفل پڑھنا مکروہ ہے چاہے گھر پر پڑھے چاہے عید گاہ میں سب مکروہ ہیں، دلیل کیا؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَفْعَلْهُ“، اس لیے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں فرمایا۔ ”وَإِذَا حَلَّتِ الصَّلَاةُ بِارْتِفَاعِ الشَّمْسِ دَخَلَ وَقْتُهَا إِلَى الزَّوَالِ“، اور جب نماز حلال ہو جائے بِارْتِفَاعِ الشَّمْسِ سورج کے بلند ہو جانے کی وجہ سے، دَخَلَ وَقْتُهَا تو عید کی نماز کا وقت داخل ہو گیا إِلَى الزَّوَالِ زوال تک۔ بھئی جب نماز حلال ہو جائے، آپ پڑھ چکے ہیں بھئی کہ جب سورج طلوع ہو اس وقت نماز کا پڑھنا جائز نہیں ہے بھئی، تو جب سورج ایک دو نیزے بلند ہو جائے افق سے تو پھر اس کے بعد جو ہے عید کی نماز کا وقت شروع ہو گیا اور یہ وقت کب تک رہے گا؟ زوال تک یعنی نصف النہار تک، سورج ڈھلنے کے وقت تک اس کا وقت ہے اور اس وقت کے دوران ہی عید کی نماز پڑھی جا سکتی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا حَلَّتِ الصَّلَاةُ بِارْتِفَاعِ الشَّمْسِ دَخَلَ وَقْتُهَا إِلَى الزَّوَالِ“، اور جب نماز حلال ہو جائے یعنی جائز ہو جائے بِارْتِفَاعِ الشَّمْسِ سورج کے بلند ہو جانے کی وجہ سے کیونکہ جب تک ابھی سورج بلند نہیں ہوا سورج نکل رہا ہے اس وقت تو اس وقت تو نماز پڑھنا جائز ہی نہیں۔ دَخَلَ وَقْتُهَا تو داخل ہو جائے گا عید کی نماز کا وقت إِلَى الزَّوَالِ کب تک؟ زوال تک یعنی سورج ڈھلنے تک۔ ”وَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ خَرَجَ وَقْتُهَا“، اور جس وقت سورج ڈھل جائے تو عید کی نماز کا وقت نکل جائے گا۔ دلیل اس کی ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعِيدَ وَالشَّمْسُ عَلَى قَيْدِ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَيْنِ“، اس لیے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم عید کی نماز پڑھا کرتے تھے اس حال میں کہ سورج جو ہے عَلَى قَيْدِ رُمْحٍ، قَيْد اور قِيد دونوں طرح درست ہے یہ لفظ، قَيْد بھی اور قِيد، اور یہ کہتے ہیں مسافت اور فاصلے کو، کہ حضور علیہ السلام عید کی نماز پڑھا کرتے تھے وَالشَّمْسُ عَلَى قَيْدِ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَيْنِ اس حال میں کہ سورج جو ہے ایک نیزے یا دو نیزوں کی مسافت پر ہوتا تھا یعنی افق کے کنارے سے، مشرق کے کنارے سے سورج ایک یا دو نیزوں کی بلندی پر ہوتا تھا اس وقت آپ عید کی نماز ادا فرمایا کرتے تھے۔ اور یہ تو تھا کہ اس وقت عید کا کی نماز کا وقت شروع ہو جاتا ہے، اور کب تک رہتا ہے؟ زوال تک، تو زوال تک وقت رہنے کی کیا دلیل ہے؟ وہ بھی ذکر کر رہے ہیں: ”وَلَمَّا شَهِدُوا بِالْهِلَالِ بَعْدَ الزَّوَالِ أَمَرَ بِالْخُرُوجِ إِلَى الْمُصَلَّى مِنَ الْغَدِ“. یہ بھئی صحابہ کو ایک مرتبہ عید کا چاند نظر نہ آیا، بادل وغیرہ رہا یا کسی وجہ سے، تو اگلے دن پھر روزہ رکھا گیا بھئی، روزہ رکھا گیا۔ اور زوال کے بعد سورج ڈھلنے کے بعد کچھ سوار آئے اور مدینہ کے کہیں قریب کی بستیوں سے اور انہوں نے آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گواہی دی کہ ہم نے کل شام کو چاند دیکھا تھا، انہوں نے گواہی دی، تو حضور علیہ السلام نے سب کو روزہ کھولنے کا حکم دیا کیونکہ چاند پر جب گواہی آ گئی معلوم ہوا چاند نظر آ چکا ہے تو یہ عید کا دن ہے، لیکن چونکہ وہ زوال کے بعد آئے تھے تو اسی وقت عید کی نماز کے لیے نکلنے کا حکم نہیں دیا بلکہ عید کی نماز کے لیے اگلے دن صبح نکلنے کا حکم دیا۔ تو یہ دلیل ہے اس بات کی کہ زوال کے بعد عید کی نماز کا وقت نہیں ہوتا ورنہ اگر زوال کے بعد بھی عید کی نماز کا وقت ہوتا تو حضور علیہ السلام اسی دن صحابہ کو نماز کے لیے نکلنے کا حکم دیتے، تو آپ نے روزہ کھولنے کا تو حکم دے دیا لیکن عید کی نماز پڑھنے کے لیے اگلے دن نکلنے کا حکم دیا۔ اسی کو بیان کر رہے ہیں: ”وَلَمَّا شَهِدُوا بِالْهِلَالِ بَعْدَ الزَّوَالِ“، اور جب ان لوگوں نے گواہی دی چاند کی زوال کے بعد یعنی سورج ڈھلنے کے بعد، ”أَمَرَ بِالْخُرُوجِ إِلَى الْمُصَلَّى مِنَ الْغَدِ“، تو حضور علیہ السلام نے نکلنے کا حکم دیا عید گاہ کی طرف اگلے روز۔ تو معلوم ہوا عید کی نماز کا وقت کب تک ہے؟ زوال تک ہے ورنہ اسی دن حضور علیہ السلام نکلنے کا حکم دیتے۔ ”وَيُصَلِّي الْإِمَامُ بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ يُكَبِّرُ فِي الْأُولَى لِلِافْتِتَاحِ“، آگے بھئی اب عید کی نماز کا طریقہ بیان فرما رہے ہیں۔ عید کی نماز کا وقت بیان کر دیا، اب عید کی نماز کا طریقہ بیان کر رہے ہیں۔ یاد رکھیے بھئی عید کی نماز کا طریقہ آپ جانتے ہیں کہ ہمارے نزدیک عید کی نماز میں چھ زائد تکبیریں ہیں، چھ زائد تکبیریں ہیں، تین پہلی رکعت میں اور تین دوسری رکعت میں یعنی جو اصل اصل تکبیرات ہیں ان سے زائد ہیں چھ بھئی چھ، اور یہ بھی واجب ہیں یہ تکبیریں بھی واجب ہیں بھئی واجب۔ اور مختصراً عید کی نماز کا طریقہ بیان کر دیتا ہوں، سب سے پہلے تو یہ یاد رکھیے کہ عید کی نماز کے لیے جیسے اذان نہیں دی جاتی اسی طرح اس کے لیے اقامت بھی نہیں ہے بھئی۔ تو یہ نہ ہو کبھی آپ عید کی نماز پڑھنے جائیں اور آگے کھڑے ہو کر اب نماز ہی نہیں شروع کروا رہے انتظار کر رہے ہیں کہ بھئی کوئی پیچھے تکبیر کہے گا تو میں نماز شروع کرواؤں گا۔ جمعہ کے لیے اذان ہے تو اس کے لیے اقامت بھی ہے لیکن عید کی نماز میں اذان نہیں ہے تو اسی طرح اقامت بھی نہیں ہے۔ تو پھر چنانچہ امام دو رکعتیں پڑھائے اور پہلی رکعت میں تکبیر تحریمہ کہنے کے بعد ثناء پڑھی جائے گی بھئی، جو جیسے عام نماز میں ثناء پڑھی جاتی ہے: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ۔ اور ثناء پڑھنے کے بعد پھر امام تکبیر کہے گا اور کانوں تک ہاتھ اٹھائے بھئی، اور پھر تکبیر کہنے کے بعد ہاتھ باندھنے نہیں ہاتھ چھوڑ دے بھئی نیچے، کھلے چھوڑ دے۔ اور پھر اس کے بعد دوسری تکبیر کہی جائے گی اسی طریقے سے کانوں تک ہاتھ اٹھاتے ہوئے، اور اس کے بعد بھی ہاتھوں کو نیچے لٹکا دیں گے، اور پھر تیسری زائد تکبیر جو ہے جو اصل سے زائد ہے وہ تیسری تکبیر کہی جائے گی اور اس کے بعد پھر ہاتھوں کو باندھ لیا جائے گا کیونکہ تین زائد واجب تکبیریں جو تھیں وہ گزر گئیں، اب امام قرات کرے گا۔ اور ہر دو تکبیروں کے درمیان تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کی مقدار فصل ہونا چاہیے بھئی، تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کی مقدار فصل ہونا چاہیے۔ اور اس کے بعد پھر جو ہے قرات ہوگی اور پھر پہلی رکعت مکمل ہو گئی۔ اس کے بعد دوسری رکعت کے اندر قرات کے بعد تین تکبیرات آئیں گی بھئی، قرات کے بعد۔ اور وہاں پر قرات جب مکمل ہو جائے پھر اسی طرح تکبیر کہے گا امام دونوں کانوں تک ہاتھ اٹھاتے ہوئے اور پھر اس کے بعد ہاتھوں کو کھلا چھوڑ دے گا، اور پھر اگلی تکبیر کہی جائے گی اسی طریقے سے اس میں بھی ہاتھ اسی طرح اس کے بعد نہیں باندھنے، پھر تیسری تکبیر کہی جائے گی، اور تیسری تکبیر کے بعد اب چوتھی تکبیر کس کی آئے گی آگے؟ رکوع والی، تو اس رکوع والی تکبیر سے پہلے جب آخری تیسری تکبیر کہی اس کے بعد بھی ہاتھ نہیں باندھنے بھئی، اس کے بعد بھی ہاتھ نہیں باندھنے ہاتھوں کو اسی طرح کھلا چھوڑ دینا ہے لٹکا دینا ہے۔ اور پیچھے ضابطہ ذکر ہوا تھا کہ ہاتھ اس قیام کے اندر باندھے جاتے ہیں جس میں کوئی ذکر مسنون ہو، جس میں کوئی ذکر مسنون ہو اس قیام کے اندر ہاتھ باندھے جاتے ہیں اور یہاں تیسری تکبیر کے بعد رکوع کی تکبیر سے پہلے کوئی ذکر مسنون نہیں لہٰذا اس میں بھی ہاتھوں کو نہیں باندھا جائے گا بھئی۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو یہ چھ واجب تکبیریں ہیں ہمارے نزدیک جو زائد ہیں، زائد۔ چلیے یہیں پر یاد رکھیے بھئی کہ اگر کوئی شخص عید کی نماز میں دیر سے پہنچا وہ کیا کرے گا بھئی؟ مثلاً آپ پہنچے تو پہلی ہی رکعت میں لیکن قرات شروع ہو چکی ہے، وہ تکبیریں گزر چکی ہیں تکبیریں، تو یاد رکھیے گا بھئی یاد رکھیے گا کہ قرات ہو رہی ہو آپ جب شامل ہوں جا کر تو پہلے اسی طریقے کے مطابق تینوں تکبیریں کہہ لیجیے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو قرات چاہے جاری ہو آپ تکبیریں کہہ لیں گے کیونکہ یہ تکبیرات واجب ہیں۔ اور اگر آپ پہنچے کہ امام رکوع میں جا چکا ہے تو اب اگر ممکن ہے کہ تکبیر تحریمہ کے بعد آپ وہ تکبیریں کہہ کر رکوع میں شامل ہو سکتے ہیں تو پھر تو اسی وقت کہہ لے انسان لیکن اتنا وقت تو مشکل ہی ہوتا ہے کہ وہ تکبیرات کہہ سکے، تو پھر اس صورت میں رکوع میں چلے جائیں اور رکوع کی تسبیحات کے بجائے پھر وہ تکبیرات کہہ لیجیے رکوع کے اندر ہی بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ رکوع کے اندر ہی وہ کہہ لے اور پھر اس میں وہ ہاتھ اٹھانے وغیرہ کی ضرورت نہیں ہے تو بس رکوع کے اندر تکبیرات کہہ لے بھئی۔ اور اگر پہلی رکعت نکل گئی ہے اور پھر جا کر آپ شامل ہوئے ہیں، پھر جا کر شامل ہوئے ہیں، تو اب دوسری رکعت امام کے ساتھ آپ پڑھ رہے ہیں اور وہ دوسری رکعت کے آخر میں تین تکبیرات کہے گا پھر وہ سلام پھیر دے گا اور آپ اٹھ کر کھڑے ہو جائیں گے کیونکہ ایک رکعت آپ کی باقی ہے۔ تو اب تکبیرات کس موقع پر کہی جائیں گی بھئی؟ کس موقع پر کہی جائیں گی؟ آپ کی ترتیب کے اعتبار سے یہ دوسری رکعت ہے لیکن یہ اصل میں کونسی رکعت ہے آپ کی؟ پہلی ہے کیونکہ وہ پہلی آپ کی رہ گئی تھی اسی کی اب آپ قضا کر رہے ہیں بھئی، تو پہلی رکعت ہے اور پہلی رکعت میں تکبیرات کہاں پر آتی تھیں؟ قرات سے پہلے آتی تھیں لیکن یہاں قرات سے پہلے نہیں تکبیرات کہنی بلکہ قرات کے بعد ہی تکبیرات کہنی ہیں۔ کس کے بعد؟ قرات کے بعد ہی تکبیرات کہنی ہیں۔ بھئی اس کی کیا وجہ ہے؟ وجہ یہ کہ اگر قرات سے پہلے آپ تکبیرات کہیں گے تو ساری تکبیرات اکٹھی ہو گئیں۔ تین تکبیرات تھیں پچھلی رکعت کے آخر میں اور تین آ گئیں اگلی کے شروع میں، تو کیا ہو گئیں؟ اکٹھی ہو گئیں اور اس کا کوئی بھی قائل نہیں ہے کہ کہ تکبیرات اکٹھی ہو جائیں دونوں رکعتوں والی، بلکہ درمیان میں کس کا فصل آتا ہے؟ قرات کا فصل آتا ہے تو لہٰذا اب ان تین تکبیرات کو دوسری رکعت کے جو آپ کی پہلی ہے اس کے اسی طرح رکوع سے پہلے ہی آپ تین تکبیرات کہیں گے بھئی۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ اور اگر امام بھول جائے تکبیرات بھئی، امام بھول جائے، تو یاد رکھیے امام اگر بھول کر رکوع میں چلا گیا ہے تو رکوع کے اندر ہی وہ تکبیرات کہہ لے بھئی، رکوع کے اندر ہی۔ اور اگر واپس آ جائے تو واپس بھی آ سکتا ہے اور اس سے اس کی نماز فاسد نہیں ہوگی تو واپس آ کر بھی تکبیرات کہہ سکتا ہے۔ جی طریقہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ جی اب دیکھیے کتاب پر بھئی: ”وَيُصَلِّي الْإِمَامُ بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ“، اور امام لوگوں کو دو رکعتیں پڑھائے، ”يُكَبِّرُ فِي الْأُولَى لِلِافْتِتَاحِ“، اور تکبیر کہے پہلی رکعت میں لِلِافْتِتَاحِ افتتاح، نماز کے شروع کرنے کے لیے یعنی تکبیر تحریمہ کہے، ”وَثَلَاثًا بَعْدَهَا“، اور تین تکبیرات اس کے بعد کہے، ”ثُمَّ يَقْرَأُ الْفَاتِحَةَ وَسُورَةً“، پھر اس کے بعد امام جو ہے سورہ فاتحہ پڑھے اور کوئی سورت اس کے ساتھ پڑھے، اس کے ساتھ کوئی سورت پڑھے بھئی۔ ”وَيُكَبِّرُ تَكْبِيرَةً يَرْكَعُ بِهَا“، قرات کرنے کے بعد پھر تکبیر کہے امام اور يَرْكَعُ بِهَا اس کے ساتھ کیا کر لے؟ يَرْكَعُ بِهَا اس کے ساتھ رکوع کرے یعنی رکوع کرتے ہوئے تکبیر کہے۔ ”ثُمَّ يَبْتَدِئُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ“، پھر امام شروع ہو دوسری رکعت کے اندر، پھر امام دوسری رکعت میں شروع ہوگا، ”بِالْقِرَاءَةِ“، کس کے ساتھ؟ قرات، قرات کے ساتھ دوسری رکعت میں شروع ہوگا یعنی وہاں قرات پہلے آئے گی۔ ”ثُمَّ يُكَبِّرُ ثَلَاثًا بَعْدَهَا“، پھر اس کے بعد تکبیر کہے تین مرتبہ اس قرات کے بعد، ”وَيُكَبِّرُ الرَّابِعَةَ يَرْكَعُ بِهَا“، اور چوتھی تکبیر کہے اس حال میں کہ اس کے ساتھ کیا کرے گا؟ رکوع کرے گا یعنی رکوع کرتے ہوئے چوتھی تکبیر کہے گا بھئی، رکوع میں جاتے ہوئے۔ ”وَهَذَا قَوْلُ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ“، اور یہ قول ہے حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ شروع میں کیا کرے گا؟ تکبیر تحریمہ کہے گا، اس کے بعد تین تکبیرات کہے گا امام اور پھر اس کے بعد قرات کرے گا۔ اور دوسری رکعت کے اندر پہلے قرات کرے گا، فاتحہ اور سورت ملائے گا اور پھر اس کے بعد تین تکبیرات کہے گا اور پھر چوتھی تکبیر کہتے ہوئے کس میں چلا جائے گا؟ رکوع میں چلا جائے گا۔ وَهَذَا قَوْلُ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ اور یہ حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے۔ ”وَهُوَ قَوْلُنَا“، اور یہی ہمارا بھی قول ہے یعنی احناف بھی اسی کے قائل ہیں، انہوں نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔ ”وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا: يُكَبِّرُ فِي الْأُولَى لِلِافْتِتَاحِ وَخَمْسًا بَعْدَهَا وَفِي الثَّانِيَةِ يُكَبِّرُ خَمْسًا ثُمَّ يَقْرَأُ“، اور حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ پہلی رکعت میں ایک تکبیر کہے گا لِلِافْتِتَاحِ نماز شروع کرنے کے لیے یعنی تکبیر تحریمہ، وَخَمْسًا بَعْدَهَا اور اس کے بعد پانچ تکبیرات کہے گا، وَفِي الثَّانِيَةِ يُكَبِّرُ خَمْسًا اور دوسری رکعت میں بھی پانچ تکبیرات کہے گا، ثُمَّ يَقْرَأُ پھر کیا کرے گا؟ قرات۔ معلوم ہوا دوسری رکعت میں بھی پانچ پہلے کہنی ہے اور قرات اس کے بعد۔ ”وَفِي رِوَايَةٍ: يُكَبِّرُ أَرْبَعًا“، اور ایک روایت یہ ہے کہ دوسری رکعت میں چار مرتبہ تکبیرات کہے گا۔ تو حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے جو روایت آئی ان کے مطابق زائد تکبیرات جو ہیں وہ پہلی رکعت میں پانچ اور دوسری رکعت میں ایک روایت کے مطابق پانچ اور دوسری روایت کے مطابق چار۔ تو زائد تکبیرات کتنی ہوئیں؟ کل کل نماز میں؟ پانچ اور پانچ دس یا پانچ اور چار نو۔ تو ان کے قول کے مطابق ان کے روایت کے مطابق عید کی نماز میں دس یا نو زائد تکبیرات ہیں بھئی، زائد تکبیرات ہیں۔ ”وَظَهَرَ عَمَلُ الْعَامَّةِ الْيَوْمَ بِقَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا لِأَمْرِ بَنِيهِ الْخُلَفَاءِ“. بھئی صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ وَظَهَرَ عَمَلُ الْعَامَّةِ الْيَوْمَ، آج بھئی الْيَوْمَ آج یعنی آج کل عام لوگوں کا عمل ظاہر ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول پر۔ آج کل عام لوگ کس پر عمل کرتے ہیں؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے قول پر۔ یہ صاحبِ ہدایہ جو جس علاقے میں تھے وہاں پر ان کے زمانے میں عموماً کس پر عمل ہوتا تھا؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے قول پر بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو وہ نو یا دس زائد تکبیرات کہی جاتی تھیں اور اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ، کہتے ہیں: ”وَظَهَرَ عَمَلُ الْعَامَّةِ الْيَوْمَ بِقَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ“، اور ظاہر ہوا ہے عام لوگوں کا عمل آج کل حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول پر، ”لِأَمْرِ بَنِيهِ“، بوجہ ان کے بیٹوں کے حکم کے، ”الْخُلَفَاءِ“، یعنی خلفاء جو ہیں، يَرْحَمُكَ اللهُ۔ بھئی آپ جانتے ہیں عباسی خلفاء کا زمانہ ان کا کافی طویل عرصے تک ان کی حکومت رہی اور تو یہ عباسی خلفاء چونکہ یہ انہی کی اولاد میں سے تھے تو یہ حکم کرتے تھے اپنے دادا کے قول پر عمل کرنے کا، لوگوں کو کیا حکم کرتے تھے؟ اپنے دادا یعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے قول پر عمل کرنے کا حکم دیتے تھے۔ تو چونکہ حکومت ان کی تھی، حکم خلیفہ کا ہوتا تھا اس لیے یہی طریقہ رائج ہوا، شائع ہوا اور صاحبِ ہدایہ کے زمانے میں بھی اسی طریقے پر عمل تھا بھئی، صاحبِ ہدایہ کے۔ حتیٰ کہ روایات میں آتا ہے کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ جو ہیں انہوں نے عید کی نماز پڑھائی بھئی تو انہوں نے بھی حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے طریقے پر عمل کیا بھئی، ان کے طریقے پر۔ اگرچہ احناف کا اور ان کا اپنا مذہب کیا تھا؟ چھ زائد، لیکن انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے قول پر عمل کیا، وجہ اس کی یہ کہ ان کے پیچھے خلیفہ خود موجود تھا ہارون الرشید، وہ بھی ان کی اقتداء میں ان کی امامت میں نمازِ عید ادا کر رہا تھا اور ان اس ان کا حکم یہی تھا کہ کونسے طریقے کو اختیار کیا جائے؟ حضرت عبداللہ ابن عباس، تو انہوں نے اس طریقے کے مطابق ہی عمل کیا۔ اور اسی طرح امام محمد رحمہ اللہ سے بھی یہی روایت ہے بھئی، رہی یہی روایت ہے۔ اور میں پہلے بیان کر چکا ہوں یہ سب مسنون طریقے ہیں بھئی، یہ احادیث سے ثابت ہیں، روایات سے صحابہ خود ذکر کرتے ہیں۔ البتہ ہمارے نزدیک بہتر چھ زائد تکبیروں والی صورت ہے اس کو ہم نے ترجیح دی جبکہ وہ کس کو ترجیح دیتے ہیں؟ نو یا دس زائد تکبیرات والی روایت کو ترجیح دیتے ہیں تو بہرحال یہ سب سنت طریقے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَمْرِ بَنِيهِ“، بوجہ ان کے بیٹوں کے حکم کے، ان کے بیٹوں کے حکم کی وجہ سے، ”الْخُلَفَاءِ“، یعنی کہ خلفاء۔ تو ان کے بیٹے جو خلفاء ہیں ان کے حکم کی وجہ سے آج کل کہتے ہیں عام لوگوں کا عمل جو ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے قول پر ظاہر ہوا ہے۔ ”فَأَمَّا الْمَذْهَبُ فَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ“، باقی مذہب جو ہے الْمَذْهَبُ الف لام آیا بھئی، أَيْ مَذْهَبُ الْأَحْنَافِ، جو احناف کا مذہب ہے فَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ وہ پہلا قول ہے جو کس کے اندر آیا؟ متن کے اندر آ گیا، اور کونسا قول ہے؟ حضرت ابن مسعود کہ چھ تکبیریں ہوں گی۔ اور ایک دلیل تو ذکر کر دی، ایک دلیل تو ذکر کر دی کہ ہمارے نزدیک چھ تکبیرات ہوں گی، اور اس کی وجہ کیا؟ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے یہی روایت ہے، تو ایک نقلی دلیل بھی ذکر کر دی۔ اب آگے عقلی دلیل بھی صاحبِ ہدایہ ذکر کر رہے ہیں بھئی، کہتے ہیں: ”لِأَنَّ التَّكْبِيرَ وَرَفْعَ الْأَيْدِي خِلَافُ الْمَعْهُودِ“، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ تکبیر کہنا اور ہاتھوں کا اٹھانا خِلَافُ الْمَعْهُودِ یہ معلوم اور متعین طریقے کے خلاف ہے بھئی۔ تو صاحبِ ہدایہ عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں بھئی دیکھیے ہم عید کی نماز کے اندر ہاتھ اٹھاتے ہیں اور تکبیرات کہتے ہیں حالانکہ عام نمازوں کے اندر اس طرح نہیں ہے۔ تو یہ نمازوں کا جو معلوم اور متعین طریقہ ہے جیسے ہم عام نمازیں پڑھتے ہیں ان کے خلاف ہے، یہ تکبیرات کا کہنا اور ہاتھوں کا اٹھانا اس کے خلاف ہے۔ لہٰذا بہتر اس میں یہ ہے کہ کم تکبیرات والی صورت کو اختیار کیا جائے، کم تکبیرات والی صورت کو اختیار کرنا بہتر ہے کیونکہ یہ نئی چیز ہے، عام نمازوں میں نہیں ہوتی۔ تو ہم نے جو روایت دی حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ان کے مطابق کتنی ہیں تکبیرات؟ چھ ہیں زائد، اور حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی روایت کے مطابق نو ہیں، تو اس نو میں بھی چھ آ گئیں یا نہیں آ گئیں؟ چھ آ گئیں اور تین یا چار کیا ہیں؟ وہ زائد ہیں۔ معلوم ہوا چھ تو یقینی ہیں، چھ کیونکہ یہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے بھی روایت ہے اور حضرت عبداللہ ابن عباس، تو یہ چھ تو ہیں یقینی، باقی اوپر والی زائد جو ہیں وہ یقینی نہیں ان میں شک آ گیا کیونکہ ایک روایت بعض روایات میں ہیں، بعض میں ان کا ذکر نہیں ہے۔ تو ہم نے یقینی والی یقین والی صورت کو اختیار کر لیا کیونکہ یقین پر عمل کرنا بہتر ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ التَّكْبِيرَ وَرَفْعَ الْأَيْدِي خِلَافُ الْمَعْهُودِ“، اس لیے کیونکہ تکبیر کہنا یعنی بلند آواز سے وَرَفْعَ الْأَيْدِي اور ہاتھوں کا اٹھانا خِلَافُ الْمَعْهُودِ یہ معلوم طریقے کے خلاف ہے، ”فَكَانَ الْأَخْذُ بِالْأَقَلِّ أَوْلَى“، تو اقل قول کو اقل والے قول کو لے لینا یہ بہتر ہے، ”ثُمَّ التَّكْبِيرَاتُ مِنْ أَعْلَامِ الدِّينِ حَتَّى يُجْهَرَ بِهَا“، پھر یہ جو تکبیرات ہیں یہ دین کی علامتوں میں سے ہیں حَتَّى يُجْهَرَ بِهَا یہاں تک کہ ان کے ساتھ جہر کیا جاتا ہے، کیا کیا جاتا ہے؟ یہ جو تکبیرات ہیں یہ دین کی علامتوں میں سے ہیں بھئی، یہاں تک کہ ان کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے؟ جہر کیا جاتا ہے، بلند آواز سے کہا جاتا ہے تاکہ سب کو پتہ چل جائے بھئی، سب کو پتہ چل جائے۔ آپ پڑھ چکے ہیں کہ جب یہ انسان تکبیر تحریمہ کہتا ہے تو ہاتھوں کو اٹھاتا ہے، اور ہاتھوں کو اٹھاتا ہے اگر آپ غور کریں ہاتھوں کو اٹھاتے ہوئے تو ہاتھ آپ کے پہلے سامنے آتے ہیں اور پھر سامنے سے اٹھ ہوتے ہوئے کانوں کی طرف جاتے ہیں گویا جلدی میں کریں تو یوں ہی صورت بنتی ہے جیسے انسان کسی چیز کو پشت کی جانب پھینک رہا ہو، پیچھے کی جانب کسی چیز کو پھینک رہا ہو، تو تکبیر کے اندر بھی جب کانوں تک ہاتھ اٹھائے جاتے ہیں تو دراصل یہ نمازی ساری دنیا کو اٹھا کر اپنی پشت کی طرف پھینک دیتا ہے اور پھر اللہ اکبر کہہ کر اللہ کی تعظیم اور عظمت بیان کرتا ہے اور اس کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے بھئی۔ تو لہٰذا یہ جب تکبیر کے اندر ہم ہاتھ اٹھاتے ہیں تو یہ دین کی علامتوں میں سے ہے اور اسی وجہ سے اس کے اونچا پڑھنے کا حکم دیا گیا کہ اونچا پڑھو تاکہ سب کو پتہ چل جائے، تو اصل ان کے اندر یہ ہے کہ ان کو اکٹھا ہونا چاہیے۔ کیا ہونا چاہیے؟ اکٹھا ہونا چاہیے، ان تکبیرات کو اکٹھے ہونا چاہیے۔ کس کے ساتھ اس کو ملائیں؟ اکٹھا کریں؟ تو پہلی رکعت میں ایک تکبیر بالکل نماز کے شروع میں آئی تکبیر تحریمہ، اور ایک تکبیر اسی قیام کے آخر میں آئے گی جب کیا کرے گا انسان؟ رکوع کرے گا۔ تو اب کس تکبیر کے ساتھ اس کو ملایا جائے؟ کیونکہ ان کو اکٹھا ہونا چاہیے، یہ دین کا اعلان ہو رہا ہے، اللہ کی عظمت بیان کی جا رہی ہے اونچی آواز میں تاکہ سب کو پتہ چل جائے، بار بار اس تکبیر کا تکبیر کہی جا رہی ہے تو ان کو اکٹھا ہونا چاہیے، اب اکٹھی ہونی ہے اکٹھی کرنی ہے تو کس کے ساتھ اکٹھا کریں؟ شروع میں ایک تکبیر ہے وہ تکبیر تحریمہ ہے، دوسری اسی قیام کے آخر میں کونسی تکبیر ہے؟ رکوع والی تکبیر ہے، تو کہتے ہیں پہلی رکعت میں تکبیر تحریمہ کے ساتھ ہونی چاہیے۔ کس کے ساتھ ہونی چاہیے یہ تکبیر؟ تکبیر تحریمہ کے ساتھ، کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ تکبیر تحریمہ شرائط صلوٰۃ میں سے ہے، یہ فرض ہے، یہ کیا ہے؟ فرض ہے، اور رکوع والی تکبیر وہ تو سنت ہے، تو قوت کس کو حاصل ہے؟ تکبیر تحریمہ کو حاصل ہے کہ وہ فرض ہے۔ اور نیز وہ مقدم بھی ہے جبکہ رکوع والی تکبیر مؤخر ہے، تو لہٰذا وہ اس کو فرض ہونے کی قوت بھی حاصل اور مقدم ہونے کی قوت بھی حاصل ہے، لہٰذا اس کے ساتھ پہلی رکعت میں تکبیرات ہونی چاہیے، اسی لیے قرات سے پہلے پہلی رکعت میں تینوں تکبیرات کہی جاتی ہیں۔ دلیل سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ پہلی رکعت میں قرات سے پہلے کس کے ساتھ؟ تکبیر تحریمہ کے ساتھ تین تکبیرات کہی جاتی ہیں۔ اور دوسری رکعت میں، دوسری رکعت میں، دوسری رکعت میں تو تکبیر تحریمہ ہے ہی نہیں صرف کونسی تکبیر ہے؟ رکوع والی ہے، رکوع والی ہے، سمجھ میں آیا؟ تو جو پچھلی تھی وہ تو ہم سجدے سے اٹھتے ہوئے کہہ رہے تھے قیام کی حالت میں تو نہیں تھی وہ تکبیر، تو دوسری رکعت میں صرف ایک تکبیر ہے اور وہ رکوع والی ہے تو لہٰذا اس کے ساتھ پھر ملا کر تین کہہ دیں گے بھئی۔ ترتیب سمجھ میں آ گئی؟ یہ تھی عقلی دلیل بھئی، اور نقلی دلیل وہ حدیث بھئی گزر گئی جو۔ تو کہتے ہیں: ”وَرَفْعُ الْأَيْدِي خِلَافُ الْمَعْهُودِ“، اور ہاتھوں کا اٹھانا یہ متعین طریقے معلوم طریقے کے خلاف ہے، ”فَكَانَ الْأَخْذُ بِالْأَقَلِّ أَوْلَى“، تو اقل قول کو اقل والے قول کو لینا یہ بہتر ہے، ”ثُمَّ التَّكْبِيرَاتُ مِنْ أَعْلَامِ الدِّينِ حَتَّى يُجْهَرَ بِهَا“، پھر یہ تکبیرات دین کی علامتوں میں سے ہیں یہاں تک کہ ان کے ساتھ جہر کیا جاتا ہے یعنی اونچی آواز سے کہی جاتی ہیں، ”فَكَانَ الْأَصْلُ فِيهَا الْجَمْعُ“، تو ان کے اندر اصل جو ہے وہ جمع کرنا ہے کہ ان کو کیا ہونا چاہیے؟ اکٹھا ہونا چاہیے، ”وَفِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى يَجِبُ إِلْحَاقُهَا بِتَكْبِيرَةِ الِافْتِتَاحِ“، تو پہلی رکعت میں واجب ہے ان کو ملانا افتتاح والی تکبیر یعنی تکبیر تحریمہ کے ساتھ، ”لِقُوَّتِهَا“، بوجہ اس کے قوی ہونے کے، ”مِنْ حَيْثُ الْفَرْضِيَّةُ وَالسَّبْقُ“، فرض ہونے اور مقدم ہونے کی حیثیت سے کہ اس کو قوت حاصل ہے، فرض بھی ہے اور مقدم بھی ہے، ”وَفِي الثَّانِيَةِ لَمْ يُوجَدْ إِلَّا تَكْبِيرَةُ الرُّكُوعِ“، اور دوسری رکعت میں تو نہیں پائی جاتی سوائے تکبیر رکوع کے، وہاں وہی ایک تکبیر ہے، ”فَوَجَبَ الضَّمُّ إِلَيْهَا“، تو اس کے ساتھ ملانا واجب ہوگا بھئی۔ صاحبِ ہدایہ عقلی دلیل ذکر کر رہے تھے کہ تکبیرات کو کس مقام پر ہونا چاہیے عید کی نمازوں میں، تو بتلایا تھا: ”فَأَمَّا الْمَذْهَبُ فَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ“، باقی مذہب جو ہے یعنی ہمارا مذہب احناف کا مذہب وہ قول اول ہی ہے کہ چھ زائد تکبیریں کہی جائیں گی عید کی نماز میں۔ ”لِأَنَّ التَّكْبِيرَ وَرَفْعَ الْأَيْدِي خِلَافُ الْمَعْهُودِ“، اس لیے کیونکہ تکبیر کہنا اور ہاتھوں کا اٹھانا یہ معلوم طریقے کے خلاف ہے بھئی، عام نمازوں کے اندر تو تکبیرات نہیں کہی جاتیں، ”فَكَانَ الْأَخْذُ بِالْأَقَلِّ أَوْلَى“، تو اقل کو لے لینا کم والی صورت کو اختیار کر لینا اولیٰ یہ بہتر ہے کیونکہ کم یقینی ہیں بھئی، یقینی۔ ”ثُمَّ التَّكْبِيرَاتُ مِنْ أَعْلَامِ الدِّينِ حَتَّى يُجْهَرَ بِهَا“، پھر یہ تکبیرات جو ہیں یہ دین کی علامتوں میں سے ہیں یہاں تک کہ ان کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے؟ جہر کیا جاتا ہے، اونچی آواز سے کہا جاتا ہے، اللہ کی عظمت کا اللہ کی عظمت بیان کی جاتی ہے اور اپنے مومن ہونے کا اعلان کیا جاتا ہے بھئی، تو یہ کیا ہے؟ دین کی علامتوں میں سے ہے۔ ”فَكَانَ الْأَصْلُ فِيهَا الْجَمْعُ“، تو اصل ان کے اندر کیا ہوگا؟ جمع کرنا ہوگا۔ اصل ان کے اندر جمع کرنا ہوگا کیونکہ ایک جنس کی ہیں، کیا ہیں یہ؟ ایک جنس کی ہیں تو ان کو اکٹھا ہونا چاہیے بھئی، ایک جنس کی ہیں سب تکبیرات ہی ہیں تو ان کو اکٹھا ہونا چاہیے یعنی شروع میں جو تکبیر تحریمہ آ رہی ہے یا قیام کے آخر میں جو رکوع والی تکبیر آ رہی ہے ان میں سے کسی ایک کے ساتھ ان کو اکٹھا ہونا چاہیے کیونکہ وہ بھی تکبیر اور یہ بھی کیا ہے؟ تکبیر ہے، تو ایک ہی جنس کی ہیں ایک ہی چیز ہیں لہٰذا ان کو اکٹھا ہونا چاہیے بھئی، اکٹھا ہونا چاہیے، اور پھر اس کو پہلی رکعت کے اندر تکبیر تحریمہ کے بعد یہ ہوگی بھئی۔ کس کے بعد ہوگی؟ تکبیر تحریمہ کے بعد یہ تکبیرات کہی جائیں گی، اس لیے کیونکہ تکبیر تحریمہ جو ہے اس کو قوت حاصل ہے اس حیثیت سے کہ وہ فرض ہے وہ شرائط نماز میں سے ہے، تو وہ فرض ہے اور نیز وہ مقدم ہے، تو فرض ہونے کی وجہ سے بھی اس کو قوت حاصل اور مقدم ہونے کی وجہ سے بھی اس کو قوت حاصل ہے، لہٰذا اس کے ساتھ ملائیں گے بھئی پہلی رکعت کے اندر تکبیرات۔ اور دوسری رکعت کے اندر تو صرف رکوع والی تکبیر ہے، دوسری رکعت میں صرف رکوع والی تکبیر ہے قیام کے اندر جبکہ شروع میں کوئی تکبیر نہیں، وہ تکبیر تحریمہ تو پہلی رکعت میں تھی اور دوسری رکعت میں شروع میں کوئی تکبیر نہیں، وہ جو تکبیر ہے وہ تو سجدے سے ہم اٹھتے ہوئے کہتے ہیں قیام کی حالت میں نہیں ہے، تو قیام کی حالت میں صرف یہی تکبیر ہے جس میں تکبیر کہتے ہوئے انسان رکوع میں جاتا ہے، تو جب کوئی اور تکبیر نہیں تو وہاں پر اور کوئی مقابل اور مزاحم بھی نہیں ہے تو اسی تکبیر کے ساتھ یعنی رکوع والی تکبیر کے ساتھ ان زائد تکبیرات کو ملایا جائے گا۔ دلیل سمجھ میں آئی بھئی؟ کہ ان کے محل کی عقلی ایک دلیل تو وہ نقلی دلیل تو گزر گئی وہ حدیث حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی، اور عقلی دلیل کیا ہوئی؟ کہ یہ سب تکبیرات ہیں چونکہ اور یہ ایک جنس کی ہیں اور ایک جنس کی چیزوں کو کیا ہونا چاہیے؟ اکٹھا ہونا چاہیے، تو لہٰذا اس کو بھی اس نما ان زائد تکبیروں کو بھی نماز کی ان اصل تکبیروں کے ساتھ، زائد تو یہ والی جو چھ زائد ہیں، تین پہلی رکعت میں اور تین دوسری یہ ہیں زائد اور کچھ کیا ہیں؟ اصلی ہیں نماز کی، ایک تکبیر تحریمہ اور دوسری دو رکوع والی، پہلی رکعت میں ایک رکوع کی تکبیر اور دوسری رکعت میں بھی ایک رکوع والی تکبیر، تو یہ تو نماز یہ اصلی تکبیرات ہیں اور باقی تین تین جو آئیں گی ہر رکعت میں وہ زائد ہیں لیکن ہیں یہ ایک ہی جنس کی تو ان کو کیا ہونا چاہیے؟ اکٹھا ہونا چاہیے، اکٹھا ہونا چاہیے، اور پہلی رکعت کے اندر قیام والی تکبیر تحریمہ بھی ہے اور رکوع والی تکبیر بھی ہے، اور دوسری رکعت میں صرف قیام کے اندر رکوع والی تکبیر ہے اور کوئی تکبیر نہیں، تو پہلی رکعت میں تکبیر تحریمہ ہے ایک طرف تو دوسری طرف رکوع والی تکبیر ہے تو ان میں تقابل ہے مزاحمت ہے لیکن پھر کس کو ترجیح دی جائے گی؟ تکبیر تحریمہ کو ترجیح مل جائے گی کیونکہ تکبیر تحریمہ کو ترجیح دی جائے گی کیونکہ وہ وہ فرض بھی ہے اور مقدم بھی ہے، تو تکبیر تحریمہ کے ساتھ ہم تین زائد تکبیرات کو ملائیں گے اور اس کے بعد کہیں گے قرات سے پہلے ہی، جبکہ دوسری رکعت میں صرف تو صرف رکوع والی اصلی تکبیر ہے شروع میں تکبیر نہیں تو پھر اسی کے ساتھ ملایا جائے گا ان زائد تکبیرات کو یعنی قرات کے بعد کہا جائے گا بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ معنیٰ ہے کہ: ”فَكَانَ الْأَصْلُ فِيهَا الْجَمْعُ“، تو اصل ان کے اندر کیا ہے؟ جمع کرنا ہے۔ اچھا، تو یہ معنیٰ ہوا: فَكَانَ الْأَصْلُ فِيهَا الْجَمْعُ تو اصل ان کے اندر جمع کرنا ہے، ”وَفِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى يَجِبُ إِلْحَاقُهَا بِتَكْبِيرَةِ الِافْتِتَاحِ“، اور پہلی رکعت میں واجب ہے ان کا ملانا افتتاح والی تکبیر یعنی تکبیر تحریمہ کے ساتھ، ”لِقُوَّتِهَا مِنْ حَيْثُ الْفَرْضِيَّةُ وَالسَّبْقُ“، بوجہ اس کے قوی ہونے کے کہ وہ قوی ہے فرض ہونے اور مقدم ہونے کی حیثیت سے کہ وہ فرض بھی ہے اور مقدم بھی ہے، ”وَفِي الثَّانِيَةِ لَمْ يُوجَدْ إِلَّا تَكْبِيرَةُ الرُّكُوعِ فَوَجَبَ الضَّمُّ إِلَيْهَا“، اور دوسری رکعت میں تو نہیں پائی جاتی سوائے تکبیر رکوع کے کہ وہاں وہی ایک تکبیر ہے تو اس کے ساتھ ملانا واجب ہوگا بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ ”وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ أَخَذَ بِقَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَّا أَنَّهُ حَمَلَ الْمَرْوِيَّ كُلَّهُ عَلَى الزَّوَائِدِ فَصَارَتِ التَّكْبِيرَاتُ عِنْدَهُ خَمْسَةَ عَشَرَ أَوْ سِتَّةَ عَشَرَ“، اور امام شافعی رحمہ اللہ نے حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے قول کو لیا ہے إِلَّا أَنَّهُ حَمَلَ الْمَرْوِيَّ كُلَّهُ عَلَى الزَّوَائِدِ مگر یہ کہ انہوں نے محمول کیا ہے ان تمام تکبیرات کو جو روایت کی گئی ہیں عَلَى الزَّوَائِدِ کس پر؟ زوائد پر، فَصَارَتِ التَّكْبِيرَاتُ عِنْدَهُ خَمْسَةَ عَشَرَ أَوْ سِتَّةَ عَشَرَ تو تکبیرات ان کے نزدیک پندرہ یا سولہ ہو گئیں۔ تو ان کے نزدیک کتنی تکبیرات ہیں؟ پندرہ یا سولہ ہیں بھئی، اس جگہ کو اچھی طرح سمجھ لیجیے بھئی۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ نے حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے قول کو اختیار کیا مگر انہوں نے روایت کی ہوئی تمام تکبیرات کو محمول کیا ہے زوائد پر، زوائد پر۔ بھئی دیکھیے ہمارے نزدیک زائد واجب تکبیرات کتنی ہیں؟ چھ ہیں، اور اصلی تین ہیں، اصلی تین ہیں۔ کس طرح اصلی تین ہیں؟ ایک تکبیر تحریمہ، ایک رکوع والی تکبیر، دو ہو گئیں، اور دوسری رکعت میں بھی رکوع والی تکبیر، کتنی ہو گئیں؟ تین۔ تو قیام کی حالت میں کتنی تکبیرات ہو گئیں؟ تین اصلی اور چھ زائد۔ تین اصلی کونسی؟ ایک تکبیر تحریمہ اور دو تکبیریں رکوع والی، تین ہوئیں اصلی اور چھ ہوئیں زائد۔ تو روایات میں اسی طرح آتا ہے اور نو کا ذکر ملتا ہے، نو کا ذکر ملتا ہے روایات میں تو اس نو کے اندر معلوم ہوا چھ زوائد ہیں اور تین تکبیرات کیا ہیں؟ اصل، اصلی ہیں۔ جبکہ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے قول کے مطابق ایک روایت کے مطابق زائد تکبیرات ہیں دس اور ایک روایت کے مطابق زائد تکبیرات کتنی ہیں؟ نو، اور اس کے ساتھ اصلی ملائیں اصلی کتنی ہیں؟ تین ہیں، تو دس اور تین کتنی ہو گئیں؟ تیرہ، اور دوسری روایت ہے زائد نو ہیں تو نو اور تین کتنی ہو گئیں؟ بارہ۔ تو ان سے روایات کے اندر یہ ذکر ملتا ہے کہ عید کی تکبیرات بارہ یا تیرہ ہیں، بارہ یا تیرہ ہیں۔ تو یہ بارہ اور تیرہ اس میں کچھ اصلی ہیں اور کچھ زائد ہیں، تین اس میں اصلی ہیں اور باقی زائد ہیں۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ نے یہ جو روایات کے اندر بارہ یا تیرہ تکبیرات کا ذکر آیا اب اس کے اندر تین تو تھیں اصلی اور باقی کیا تھیں؟ زائد، لیکن امام شافعی رحمہ اللہ نے ان سب کو محمول کیا زائد تکبیرات پر، کس پر؟ زائد تکبیرات پر۔ تو ایک روایت کے مطابق زائد تکبیرات کتنی ہوئیں؟ بارہ، اور دوسری کے مطابق تیرہ۔ بارہ کے ساتھ تین اصلی ملائیں کتنی ہو جائیں گی؟ اب پندرہ ہو جائیں گی ان کے نزدیک کیونکہ یہ ساری تو زائد ہیں اور تین اصلی ہیں تو کتنی ہو جائیں گی؟ پندرہ، اور اگر تیرہ والی روایت کو لیتے ہیں تو تیرہ کے ساتھ وہ ساری انہوں نے کہا زائد ہیں تو تین اصلی ملائیں کتنی ہو جائیں گی؟ سولہ ہو جائیں گی۔ یہ معنیٰ ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے قول کو لیا إِلَّا أَنَّهُ حَمَلَ الْمَرْوِيَّ كُلَّهُ عَلَى الزَّوَائِدِ مگر انہوں نے محمول کیا ہے وہ جو روایت کی گئی ہیں تکبیرات ان سب کو عَلَى الزَّوَائِدِ کس پر؟ زائد تکبیرات پر، فَصَارَتِ التَّكْبِيرَاتُ عِنْدَهُ خَمْسَةَ عَشَرَ أَوْ سِتَّةَ عَشَرَ تو تکبیرات ان کے نزدیک پندرہ یا سولہ ہو گئیں۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ صاحبِ ہدایہ نے ذکر فرمایا کہ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے مطابق پہلی رکعت میں پانچ تکبیرات ہوں گی زائد اور دوسری رکعت میں پانچ ہوں گی یا چار ہوں گی دونوں طرح کی روایات آتی ہیں۔ اسی طرح یاد رکھیے بعض روایات کے اندر پہلی رکعت میں سات تکبیرات زائد تکبیرات کا بھی ذکر ملتا ہے بھئی سات زائد تکبیرات، اور بعض کتابوں کے اندر امام شافعی رحمہ اللہ کا یہی مذہب لکھا گیا ہے کہ ان کے نزدیک پہلی رکعت میں سات تکبیرات زائد ہوں گی اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیرات زائد ہوں گی تو کتنی ہو گئیں؟ بارہ ہو گئیں، اور تین اصلی کتنی ہو گئیں؟ پندرہ، تو اس کے مطابق پھر ان کی عید کی نماز میں کل کتنی تکبیرات ہوئیں؟ پندرہ، تو ان کے نزدیک پندرہ اور ہمارے نزدیک کتنی ہیں؟ نو ہیں، ہمارے نزدیک نو، ان نو میں سے پھر تفصیل یہ ہے کہ چھ زائد ہیں اور تین اصلی ہیں۔ تو ہمارا اور یا یوں کہیں حضرت عبداللہ ابن عباس اور حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے قول کے اندر دو چیزوں میں اختلاف آیا، ایک تو تکبیرات کی تعداد میں اختلاف آ گیا، تکبیرات کی تعداد میں، اور نیز دوسرا اختلاف جو آیا وہ محل تکبیر کے اندر بھی اختلاف آ گیا کہ کس مقام پر تکبیر کہنی ہے، ہمارے نزدیک پہلی رکعت میں پہلے ہوں گی قرات سے اور دوسری رکعت میں قرات کے بعد ہوں گی جبکہ ان کے نزدیک دونوں رکعتوں میں قرات سے پہلے ہی ہوں گی بھئی۔ ”قَالَ: وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي تَكْبِيرَاتِ الْعِيدَيْنِ يُرِيدُ بِهِ مَا سِوَى التَّكْبِيرِ فِي الرُّكُوعِ“. ”وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي تَكْبِيرَاتِ الْعِيدَيْنِ“، اور دونوں ہاتھ اٹھائے فِي تَكْبِيرَاتِ الْعِيدَيْنِ دونوں ہاتھ اٹھائے گا نماز پڑھنے والا فِي تَكْبِيرَاتِ الْعِيدَيْنِ عید کی تکبیرات میں، ”يُرِيدُ بِهِ مَا سِوَى التَّكْبِيرِ فِي الرُّكُوعِ“، ارادہ کیا اس کے ذریعے صاحبِ قدوری نے وہ جو رکوع کی تکبیر کے علاوہ تکبیرات ہیں ان کا۔ صاحبِ قدوری فرما رہے ہیں اور نماز پڑھنے والا دونوں ہاتھ اٹھائے گا عید کی تکبیروں میں، صاحبِ ہدایہ تشریح کر رہے ہیں کہ عید کی تکبیروں میں ہاتھ اٹھانے کا معنیٰ یہ وہ جو زوائد ہیں صرف ان میں ہاتھ اٹھائے گا، رکوع والی تکبیر کے علاوہ، اس میں ہاتھ نہیں اٹھائے گا بھئی۔ يُرِيدُ بِهِ مَا سِوَى التَّكْبِيرِ فِي الرُّكُوعِ ارادہ کیا صاحبِ قدوری نے اس کے ذریعے ان تکبیروں کا جو رکوع کی تکبیر کے علاوہ ہیں، ”لِقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُرْفَعُ الْأَيْدِي إِلَّا فِي سَبْعِ مَوَاطِنَ“، بوجہ حضور علیہ السلام کے قول کے، آپ فرماتے ہیں کہ ہاتھ نہیں اٹھائے جائیں گے مگر سات جگہوں کے اندر، ”وَذَكَرَ مِنْ جُمْلَتِهَا تَكْبِيرَاتِ الْأَعْيَادِ“، اور ان کے مجموعے میں سے حضور علیہ السلام نے عید کی تکبیروں کو بھی ذکر فرمایا۔ جن سات جگہوں میں ہاتھ اٹھائے جائیں گے اس مجموعے کے اندر حضور علیہ السلام نے عید کی تکبیرات کو بھی ذکر فرمایا، معلوم ہوا عید کی جو زائد تکبیرات ہیں ان میں ہاتھ اٹھائے جائیں گے۔ ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ لَا يَرْفَعُ“، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نماز پڑھنے والا ہاتھوں کو نہیں اٹھائے گا ان تکبیرات میں، ”وَالْحُجَّةُ عَلَيْهِ مَا رَوَيْنَا“، اور دلیل ان کے خلاف وہ حدیث ہے جس کو ہم نے روایت کر دیا، کونسی حدیث؟ یہ جو ابھی گزری کہ حضور علیہ السلام نے سات جگہوں فرمایا کہ سات جگہوں پر ہاتھ اٹھائے جائیں گے اور ان میں عیدین کی تکبیرات کا بھی ذکر فرمایا۔ ”قَالَ: وَيَخْطُبُ بَعْدَ الصَّلَاةِ خُطْبَتَيْنِ“، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں اور امام خطبہ دے گا بَعْدَ الصَّلَاةِ نماز کے بعد خُطْبَتَيْنِ دو خطبے، ”بِذَلِكَ وَرَدَ النَّقْلُ الْمُسْتَفِيضُ“، اسی کے ساتھ وارد ہوئی ہے مشہور نقل یعنی مشہور طریقے پر یہی منقول ہے بھئی، مشہور طریقے پر یہی منقول ہے کہ امام کتنے خطبے دے گا؟ دو خطبے دے گا۔ یاد رکھیے جیسے جمعہ کے اندر خطبہ ہے اسی طرح عید کی نماز میں بھی خطبہ ہے، اور جیسے جمعہ کے اندر دو خطبے ہیں اسی طرح عید کی نماز میں بھی دو خطبے ہیں بھئی۔ البتہ جمعہ کے اندر خطبہ شرط ہے، خطبہ ہے تو جمعہ کی نماز ہے، خطبہ نہیں تو جمعہ کی نماز بھی نہیں، جبکہ عید کی نماز کے اندر خطبہ سنت ہے بھئی، خطبہ سنت ہے بھئی۔ اور جمعہ کی نماز میں خطبہ مقدم ہوتا ہے نماز مؤخر، لیکن عید کی نماز کے اندر خطبہ مؤخر ہوگا اور نماز مقدم ہوگی۔ یہ معنیٰ ہے کہ عید کی نماز کے بعد دو خطبے دے گا کیونکہ اسی پر مشہور نقل وارد ہوئی ہے یعنی مشہور نقل آئی ہے یعنی مشہور طریقے پر منقول ہے، ”يُعَلِّمُ النَّاسَ فِيهَا صَدَقَةَ الْفِطْرِ وَأَحْكَامَهَا“، سکھائے اس کے اندر امام لوگوں کو صدقہ فطر اور اس کے احکام۔ اس خطبے میں کیا سکھائے لوگوں کو؟ صدقہ فطر اور اس کے احکام، ”لِأَنَّهَا شُرِعَتْ لِأَجْلِهِ“، اس لیے کیونکہ یہ خطبہ اسی کے لیے مشروع ہے، اسی لیے مشروع ہے، اسی لیے شریعت نے بتلایا ہے کہ اس میں یہ بتلایا جائے بھئی، اسی کی وجہ سے یہ خطبہ دیا جاتا ہے۔ ”وَمَنْ فَاتَتْهُ صَلَاةُ الْعِيدِ مَعَ الْإِمَامِ لَمْ يَقْضِهَا“، اور جس کی نماز فوت ہو گئی عید کی مَعَ الْإِمَامِ امام کے ساتھ، لَمْ يَقْضِهَا تو اس کی وہ قضا نہیں کرے گا۔ بھئی امام کے ساتھ جس کی عید کی نماز رہ گئی، یہ معنیٰ نہیں کہ امام کی بھی رہ گئی، مثلاً امام نے تو پڑھی لیکن یہ اس کے ساتھ عید کی نماز نہ پڑھ سکا لَمْ يَقْضِهَا تو بعد میں اس کی قضا نہیں کرے گا تو عید کی نماز کی قضا نہیں ہے۔ ”لِأَنَّ الصَّلَاةَ بِهَذِهِ الصِّفَةِ لَمْ تُعْرَفْ قُرْبَةً إِلَّا بِشَرَائِطَ لَا تَتِمُّ بِالْمُنْفَرِدِ“، اس لیے کیونکہ نماز اس صفت کے ساتھ، اس طریقے کے ساتھ لَمْ تُعْرَفْ قُرْبَةً اس کو عبادت نہیں جانا گیا إِلَّا بِشَرَائِطَ مگر ایسی شرطوں کے ساتھ لَا تَتِمُّ بِالْمُنْفَرِدِ جو پوری نہیں ہوتیں اکیلے شخص کے ساتھ۔ بھئی نماز اس طریقے کے ساتھ جس کے اندر اس طریقے پر تکبیرات کہی جاتی ہیں یہ اس طریقے پر نماز جو ہے اس کو عبادت نہیں جانا گیا، بھئی اور نمازوں کے اندر نوافل کے اندر سنتوں وغیرہ کے اندر کیا اس طریقے پر تکبیرات کہی جاتی ہیں اور ہاتھوں کو اٹھایا جاتا ہے؟ نہیں، تو اس طریقے پر جو نماز ہے اس کو عبادت نہیں جانا گیا۔ اور جگہ پر ایسا نہیں، ہاں اس موقع پر ہے اور اس کی بھی شرائط ہیں، اس کی بھی کیا ہیں؟ شرائط ہیں۔ تو یاد رکھیے جمعہ کے لیے جو شرائط ہیں وہی شرائط کس کے لیے ہیں؟ عید کی نماز میں بھی ہیں یعنی جیسے جمعہ کے اندر اجتماع ہونا ضروری عید کے اندر بھی اجتماع ہونا ضروری ہے، جیسے جمعہ جو ہے وہ کون قائم کروائے گا؟ خلیفہ یا جس کو اس نے حکم دیا ہو، اسی طرح عید کی نماز بھی ہے بھئی عید کی نماز بھی ہے، اور البتہ میں نے ذکر کر دیا جمعہ کے اندر خطبہ شرط ہے لیکن عید کی نماز میں خطبہ شرط نہیں ہے سنت ہے بھئی۔ تو اس کو اس نماز کو اس طریقے پر اس کو عبادت نہیں جانا گیا إِلَّا بِشَرَائِطَ مگر ایسی شرطوں کے ساتھ، کونسی شرطیں؟ مثلاً جماعت ہونی چاہیے اور بادشاہ یا اس کا مقرر جس کو اس نے حکم دیا وہ ہو، مگر ایسی شرائط کے ساتھ لَا تَتِمُّ بِالْمُنْفَرِدِ جو پوری نہیں ہوتیں اکیلے شخص کے ساتھ۔ یہ ایسی شرطیں ہیں جو اکیلے شخص کے ساتھ پوری نہیں ہوتیں تو جس کی نماز قضا ہو گئی ہے بعد میں کیا کرنا پڑے گی؟ اب وہ اکیلے پڑھے گا اور اکیلے کے اندر تو یہ شرطیں پوری نہیں، جماعت بھی نہیں ہے، بادشاہ بھی یا اس کا مقرر کردہ کوئی شخص اس کو جس کو اس نے حکم دیا وہ بھی نہیں ہے تو اس لیے اس کی قضا نہیں ہے۔ دلیل بھی سمجھ میں آئی کہ نہیں؟ دوبارہ دیکھ لیں: ”لِأَنَّ الصَّلَاةَ بِهَذِهِ الصِّفَةِ لَمْ تُعْرَفْ قُرْبَةً إِلَّا بِشَرَائِطَ لَا تَتِمُّ بِالْمُنْفَرِدِ“، اس لیے کیونکہ نماز اس طریقے پر اس کو عبادت نہیں جانا گیا مگر ایسی شرطوں کے ساتھ جو پوری نہیں ہوتیں اکیلے شخص کے ساتھ، تو جب شرطیں نہیں پوری ہوتیں تو لہٰذا اس کی قضا بھی نہیں۔ تو یاد رکھیے بھئی عید کی نماز کی قضا نہیں، آپ نے مسئلہ پڑھ لیا، جماعت کے ساتھ پڑھ سکے تو ٹھیک ہے بعد میں اس کی قضا نہیں کی جائے گی۔ اور یہ تو وہ صورت تھی جب پہلے شہر میں عموماً ایک ہی بڑا اجتماع ہوتا تھا عید کا، اب تو عید کے کئی جگہ پر اجتماع ہوتے ہیں تو لہٰذا اگر کسی ایک جگہ جماعت رہ جائے تو انسان کو کوشش کر کے دوسری جگہ دوسری جگہ پہنچنے کی کوشش کرے اور وہاں جا کر عید کی نماز میں شامل ہو کیونکہ اکیلے اس کی قضا نہیں ہے بھئی۔ چلیے بس بھئی بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔