سبق نمبر۔41 الباب الرابع في التعريف والتنكير. إذا تعلق الغرض بتفهيم مخاطب ارتباط الكلام بمعين فالمقام للتعريف، وإذا لم يتعلق الغرض بذلك فالمقام للتنكير. ولتفصيل هذا الإجمال نقول: من المعلوم أن المعارف الضمير، والعلم، واسم الإشارة، والاسم الموصول، والمحلى بأل، والمضاف لواحد مما ذكر، والمنادى. الباب الرابع في التعريف والتنكير. چوتھا باب: تعریف اور تنکیر کے بیان میں، یعنی معرفہ اور نکرہ لانے کے بیان میں۔ بئی! آپ علم المعانی پڑھ رہے ہیں اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ بڑی نحو ہے، ایک چھوٹی نحو ہے جس کے اندر آپ کو یہ بتلایا جاتا ہے کہ فاعل مسند الیہ ہوتا ہے اور اس پر رفع پڑھا جاتا ہے، اسی طرح نائب الفاعل بھی مسند الیہ ہوتا ہے اس پر رفع پڑھا جاتا ہے، مبتدا پر بھی رفع پڑھتے ہیں خبر پر بھی رفع پڑھتے ہیں، اور مفعول منصوب ہوتا ہے اسی طرح انّ کا اسم منصوب ہوتا ہے اس کی خبر مرفوع ہوتی ہے وغیرہ، اس طرح کی چیزیں یعنی اعراب وغیرہ بتلائے جاتے ہیں۔ یہاں آپ کو اعراب وغیرہ نہیں بتلائے جائیں گے بلکہ آپ کو یہ بتلایا جائے گا جیسے کہ آپ پڑھتے آئے ہیں بئی! کہ کبھی کبھار جو ہے معرفہ لایا جاتا ہے، کسی چیز کو معرفہ لانے میں کیا کیا نقطے ہوتے ہیں؟ کبھی کسی چیز کو نکرہ ذکر کیا جاتا ہے، نکرہ لانے میں کیا نقطے ہوتے ہیں؟ اور جیسے پچھلے باب میں آپ نے پڑھا کہ کبھی کسی چیز کو مقدم کیا جاتا ہے، مقدم کرنے میں کیا نکات ہوتے ہیں؟ کسی لفظ کو مؤخر کیا جاتا ہے، مؤخر کرنے میں کیا نکات ہوتے ہیں؟ اسی طرح آپ نے پڑھا کبھی کسی لفظ کو ذکر کیا جاتا ہے، تو ذکر کے کیا کیا دواعی ہوتے ہیں اس میں کیا کیا نکات ہوتے ہیں؟ کبھی کسی لفظ کو حذف کیا جاتا ہے، حذف کی کیا کیا وجوہات ہوتی ہیں؟ کن نکات کی بناء پر حذف کیا جاتا ہے؟ تو آج اس باب کے اندر آپ کو بتلا رہے ہیں تعریف اور تنکیر کے بارے میں، کہ کبھی کسی لفظ کو کیا کیا جاتا ہے؟ معرفہ ذکر کیا جاتا ہے، معرفہ کیوں ذکر کیا جاتا ہے اس کے لانے میں کیا نقطے ہوتے ہیں؟ اور تنکیر یعنی کسی اسم کو نکرہ لایا جاتا ہے، نکرہ لانے کے اندر کیا کیا نکات ہوتے ہیں؟ تو کہتے ہیں: الباب الرابع في التعريف والتنكير، چوتھا باب جو ہے تعریف اور تنکیر کے بیان میں۔ إذا تعلق الغرض بتفهيم المخاطب، جب غرض کا تعلق یعنی متکلم کی جو غرض ہے اس کا تعلق بتفهيم المخاطب مخاطب کو سمجھانا ہو، جب متکلم کی غرض کیا ہو؟ مخاطب کو سمجھانا ہو۔ کیا سمجھانا ہو؟ ارتباط الكلام بمعين، کہ اس کلام کا ربط ہے کسی معین کے ساتھ، فالمقام للتعريف، تو مقام کس چیز کا ہے؟ تعریف کا ہے۔ بئی! سب سے پہلے معرفہ اور نکرہ کو سمجھ لیجیے، معرفہ وہ اسم ہے جو کسی معین ذات پر دلالت کرے۔ معرفہ کسے کہتے ہیں؟ وہ اسم جو کسی معین ذات پر دلالت کرے اسے معرفہ کہا جاتا ہے، اور وہ اسم جو کسی ذات غیر معین پر دلالت کرے اسے نکرہ کہتے ہیں۔ تو معرفہ کسی معین ذات پر دلالت کرے گا، اور نکرہ وہ ہے جو ذات غیر معین پر دلالت کرے بئی۔ مثلاً آپ کا ایک ساتھی ہے اس کا نام زید ہے، تو دیکھیے جیسے ہی میں نے کہا: "زید"، آپ کے ذہن میں اس معین ساتھی کا تصور آ گیا، اس معین ساتھی کا تصور۔ تو لفظ زید دیکھیے یہ علم ہے اور یہ معرفہ کی اقسام میں سے ہے، اور اس نے ایک معین ذات پر دلالت کی، اب آپ کے ذہن میں بکر یا خالد وغیرہ کا تصور نہیں آیا بلکہ زید کہا تو کس کا تصور آیا؟ زید اس معین ذات ہی کا تصور آپ کے ذہن میں آیا بئی! یا اسی طرح بئی! مثلاً اور کوئی لے لیں: "هذا"، میں کسی چیز کی طرف اشارہ کرتا ہوں تو دیکھو کوئی متعین چیز ہوگی جس کی طرف میں اشارہ کر رہا ہوں گا۔ یا اسی طرح میں "الذي" اسم موصول استعمال کرتا ہوں: الذي لقيته أمس، وہ آدمی جس سے آپ کی کل ملاقات ہوئی تھی، دیکھو فوراً ایک متعین شخص جس سے آپ کی کل ملاقات ہوئی تھی وہ آپ کے ذہن میں آ گیا بئی! یا اسی طرح بئی ان کی طرف مضاف ہو جائے، آگے یہ ذکر بھی کریں گے، مثلاً "غلام" بئی، غلام نکرہ ہے لیکن جب معرفہ کی طرف اس کی اضافت ہو جائے تو پھر یہ بھی معرفہ بن جاتا ہے، جیسے "غلامك"، آپ کا غلام، مثلاً آپ کا کوئی غلام ہے تو جیسے ہی میں نے "غلامك" کہا، "غلامك"، تو یہ لفظ کہتے ہی فوراً آپ کے ذہن میں اس کا تصور آ گیا، اس نے اس معین غلام پر دلالت کر دی، کسی دوسرے کا غلام آپ کے ذہن میں نہیں آیا بلکہ آپ کا اپنا غلام آپ کے ذہن میں آ گیا بئی! سمجھ میں آیا؟ تو معرفہ جو ہے وہ کسی معین ذات پر دلالت کرتا ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں نکرہ وہ ذات غیر معین پر دلالت کرتا ہے یعنی غیر معین ذات پر دلالت کرتا ہے، جیسے "رجل"، رجل کا کیا معنیٰ؟ "کوئی آدمی"، تو اب رجل کہا تو کوئی متعین آدمی آپ کے ذہن میں نہیں آیا، تو دیکھیے یہ نکرہ ہے، اس نے کس پر دلالت کی؟ ایک غیر معین ذات پر دلالت کی بئی۔ تو یہاں سے اب آپ کو یہی بتلا رہے ہیں کہ إذا تعلق الغرض بتفهيم المخاطب، جب غرض کا تعلق ہو، "الغرض" معرفہ کہا بئی یہ، کس کی غرض مراد ہے؟ متکلم کی، جو بات کرنے والا ہے، جب اس کی غرض یعنی اس کے مقصد کا تعلق جو ہے بتفهيم المخاطب مخاطب کو یہ سمجھانا ہو کہ ارتباط الكلام بمعين کہ اس کلام کا ربط ہے، تعلق ہے بمعين کسی معین چیز، معین ذات کے ساتھ، فالمقام للتعريف، تو وہ مقام کس چیز کا ہے؟ تعریف کا ہے یعنی معرفہ لانے کا ہے۔ آسان لفظوں میں یوں کہیے، جب آپ مخاطب سے، مخاطب جو ہے سامع جو ہے، جس سے آپ بات کر رہے ہیں، جب آپ اس کو یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ میری اس بات کا تعلق کسی متعین شخص یا متعین چیز کے ساتھ ہے تو یہ مقام معرفہ کا ہے، کیونکہ متعین چیز کے لیے کون سا لفظ وضع ہے عربی زبان میں؟ جو معرفہ ہے بئی، وہ معرفہ متعین چیز کے لیے وضع کیا گیا ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ یعنی جب آپ کسی آسان اور آسان لفظوں میں یوں کہیے، کہ متکلم جب کسی معین ذات کے بارے میں بات کرنا چاہے تو اس کے لیے کون سا، وہ کیا لفظ لے کر آئے؟ معرفہ لے کر آئے، جب بھی کسی متعین کے بارے میں بات کرنا چاہے تو یہ مقام ہے تعریف کا، وہ معرفہ لفظ لے کر آئے، کیونکہ متعین کے لیے عربی زبان میں کیا وضع ہے؟ معرفہ وضع ہے بئی۔ وإذا لم يتعلق الغرض بذلك فالمقام للتنكير، اور جب غرض اس متکلم کی غرض کا تعلق اس کے ساتھ نہ ہو، یعنی وہ مخاطب کو یہ نہیں سمجھانا چاہتا کہ کلام کا تعلق کسی معین کے ساتھ ہے، جب یہ نہیں سمجھانا چاہتا، فالمقام للتنكير، تو وہ مقام کس چیز کا ہے؟ تنکیر کا ہے، نکرہ لانے کا ہے۔ خلاصہ کلام کیا ہوا؟ اگر متکلم سننے والے کو یہ بتلانا چاہتا ہے کہ میرے اس کلام کا، یہ جو میں بات اب کر رہا ہوں، اس کا تعلق کسی معین ذات کے ساتھ ہے تو وہ مقام کس چیز کا ہے؟ تعریف کا ہے وہاں معرفہ لایا جائے، اور جب متکلم کی یہ غرض نہ ہو تو وہ مقام تنکیر کا ہے وہاں پر کس قسم کا اسم لایا جائے؟ نکرہ لایا جائے۔ ولتفصيل هذا الإجمال نقول، اور اس اجمال کی تفصیل کے لیے ہم کہتے ہیں، اجمال کہتے ہیں مختصر کلام کرنا، اجمال کا کیا معنیٰ؟ مختصر کلام کرنا، اس کے مقابل ہے تفصیل بئی! تو یہاں دیکھیے انہوں نے اجمالی بات کی، مختصر بات کی، پہلے جو ذکر کی، کون سی مختصر بات؟ یہی جو دو جملے پہلے ذکر کر دیے کہ جب مخاطب کو یہ بات بتلانا مقصد ہو کہ کلام کا تعلق کسی معین ذات کے ساتھ ہے تو وہ معرفہ لانے کا مقام ہے، اور جب متکلم کی یہ غرض نہ ہو تو وہ نکرہ لانے کا مقام ہے، یہ جو ہم نے اجمالاً اور مختصر کلام کیا اس کی تفصیل کے لیے نقول ہم کہتے ہیں: من المعلوم، معلوم باتوں میں سے ہے کہ أن المعارف، کہ معرفہ جو ہیں وہ یہ ہیں بئی، ذکر کر رہے ہیں بئی! کہ یہ بات تو آپ کو معلوم ہے بئی، آپ نحو کے اندر پڑھ چکے ہیں کہ معرفہ جو ہیں: الضمير، وہ کیا ہے؟ ضمیر ہے، والعلم، اور علم ہے نام ہے کسی کا، واسم الإشارة، اور اسم اشارہ ہے، والاسم الموصول، اور اسم موصول ہے، والمحلى بأل، محلى؟ محلى، مزین کیا ہوا، حليّة اصل میں کہتے ہیں زیور کو زیور کو، حليّة کسے کہتے ہیں؟ تو حلیہ زیور کو کہتے ہیں تو محلى اسم مفعول کا صیغہ ہے جس کو زیور پہنایا گیا ہو۔ محلى کا کیا معنیٰ؟ جس، تو المحلى بأل، وہ لفظ جس کو "أل" کا زیور پہنایا گیا ہو یعنی الف لام کا، یعنی جس پر الف لام داخل کیا گیا ہو، یعنی معرف باللام، بات سمجھ میں آ گئی؟ جیسے "الرجل"، الرجل کیا ہے؟ معرفہ ہے۔ تو اور محلى بأل جو ہے اور معرف باللام جو ہے، والمضاف لواحد مما ذكر، اور ان میں سے یہ جو ذکر کیے گئے ان میں سے کسی ایک کی طرف جو لفظ مضاف ہو، والمنادى، اور اسی طرح منادىٰ ہے۔ بئی دیکھیے یہ معرفہ کی ساری قسمیں انہوں نے ذکر کر دیں، ایک ضمیر ہے بئی پہلے نمبر پر، آپ جانتے ہیں: أنا، أنتَ، أنتما، هو، هما، هم، وغیرہ یہ ساری کیا ہیں؟ ضمائر ہیں، اور یہ ضمائر معرفہ ہیں کیونکہ یہ کس پر دلالت کرتی ہیں؟ معین ذات پر، "أنا" جب میں کہوں گا تو انا سے مراد میری ذات ہوگی اور میری ذات کیا ہے؟ متعین، "أنتَ" جب میں کہوں گا تو جس سے بات کر رہا ہوں اس کی ذات مراد ہوگی اور وہ بھی کیا ہے؟ متعین ہے میرے سامنے موجود ہے، اور جب میں "هو" کہوں گا ایک شخص جس کا ایک دفعہ ذکر ہو چکا تھا تو دوبارہ میں بار بار اس کا کلام میں آپ بھی اسی طرح کرتے ہیں، ایک شخص کا جب ایک دفعہ ذکر ہو جائے تو پھر بار بار اس کا نام نہیں لیتے بلکہ اس غائب کی ضمیر کے ساتھ اس کا ذکر کرتے ہیں، مثلاً آپ کہتے ہیں: جاءني زيدٌ، میرے پاس زید آیا، فأكرمته، تو میں نے اس کا اکرام کیا، فأكرمته، "ه" ضمیر لے کر آئے، آپ نے یہ نہیں کہا: فأكرمتُ زيداً، دوبارہ نام نہیں ذکر کیا کیونکہ ایک دفعہ نام ذکر ہو چکا، تو اب جب ایک دفعہ ایک چیز کا ذکر ہو جائے تو وہ متعین ہو گئی لہٰذا اب اس کے لیے ضمیر پھر لائی جاتی ہے، تو ضمیر ہمیشہ کس پر دلالت کرتی ہے؟ کسی متعین ذات پر۔ والعلم، دوسری قسم علم ہے، نام ہے بئی: زید، عمر، بکر، خالد وغیرہ، دیکھیے آپ کے ساتھیوں کے نام ہیں مختلف اور جو نام لیا جائے وہی ذات آپ کے ذہن میں آتی ہے، تو دیکھیے یہ بھی معرفہ ہیں۔ واسم الإشارة، اور اسی طرح اسم اشارہ ہے بئی: هذا، ذلك، وغیرہ، تو هذا اور ذلك کے ذریعے آپ کسی چیز کی طرف اشارہ کرتے ہیں، قریب ہو تو کہتے ہیں هذا، دور ہو تو کہتے ہیں ذلك، اور کسی متعین چیز کی طرف آپ اس کے ذریعے اشارہ کرتے ہیں تو یہ بھی معرفہ۔ والاسم الموصول، اور اسی طرح اسم موصول ہے بئی: الذي وغیرہ، یہ بھی کیا ہیں؟ یہ بھی معرفہ ہیں۔ والمحلى بأل، اور وہ لفظ جو معرف باللام ہو جس پر الف لام داخل ہو، وہ بھی معرفہ ہے، جیسے "رجل"، رجل کا معنیٰ کوئی آدمی، لیکن اسی پر الف لام آ جائے: "الرجل"، معلوم ہوا کوئی متعین آدمی مراد ہے، تو یہ بھی کیا ہے؟ معرفہ۔ والمضاف لواحد مما ذكر، اور وہ اسم جو مضاف ہو ان میں سے جو ذکر کیے گئے ان میں سے کسی ایک کی طرف، یہ جو ضمیر، علم وغیرہ ان کی طرف مضاف ہو، تو جو اسم ان کی طرف مضاف ہوگا وہ بھی معرفہ بن جائے گا، "غلام" کا لفظ نکرہ ہے لیکن ضمیر کی طرف اضافت کر دیں: "غلامه"، اس کا غلام، دیکھیے متعین ذات پر اب دلالت کرے گا، یا "غلام زيدٍ"، صورت سمجھ میں آ گئی؟ والمنادى، اور اسی طرح آخری قسم، ساتویں قسم کیا ہے؟ منادىٰ ہے بئی منادىٰ، منادىٰ مثلاً بئی ایک آدمی آپ کے سامنے سے گزر رہا ہے، آپ نے اس کو آواز دی: "يا رجلُ"، "يا رجلُ"، اب آپ مجھے بتائیے، اس متعین آدمی جو آپ کے سامنے سے گزر رہا ہے اس کو ندا دی یا کسی غیر متعین کو؟ اس متعین کو، تو "يا رجلُ"، اب اس پر رجل پر "يا" داخل ہوا لہٰذا اب یہ بھی معرفہ ہے، یہ منادىٰ ہے بئی! رجل کا لفظ خود تو نکرہ ہے لیکن اس پر کیا داخل ہو گیا؟ "يا" حرفِ ندا، اور آپ کو میں نے مثال کے ذریعے وضاحت آپ کے سامنے کر دی، دیکھیے آپ "يا رجلُ" کہہ رہے ہیں اور کس کو کہہ رہے ہیں؟ ایک متعین آدمی، نام کا آپ کو پتہ نہیں لیکن آپ نے کیا کہہ دیا اس کو؟ "يا رجلُ"، اب رجل کا لفظ نکرہ نہیں ہے بلکہ اس کے ذریعے ایک متعین آدمی جو آپ کے پاس سے گزر رہا تھا وہ مراد ہے اس کو آپ آواز دے رہے ہیں، تو یہ بھی کیا ہے؟ معرفہ۔ تو یہ، یہ جو حروفِ ندا ہیں یہ بھی آلہِ تعریف ہیں، کیا ہیں؟ آلہِ، جیسے الف لام کے داخل ہونے سے کوئی لفظ معرفہ بن جاتا ہے، رجل پر الف لام داخل کیا "الرجل" تو یہ معرفہ بن گیا، اسی طرح رجل پر "يا" حرفِ ندا کو داخل کریں تب بھی یہ کیا بن جائے گا؟ معرفہ بن جائے گا۔ تو یہ معرفہ کی اقسام تھیں، اب ان میں سے ہر ایک کے الگ الگ نکات بیان کریں گے، کہ ضمیر کے لانے میں کیا کیا نقطے ہوتے ہیں؟ ضمیر کیوں ذکر کی جاتی ہے؟ علم کے لانے میں کیا کیا نقطے ہوتے ہیں؟ علم کی صورت میں معرفہ کیوں لایا جاتا ہے؟ آپ نے معرفہ لانا ہے لیکن آپ اسم اشارہ کی صورت میں لائے ہیں بئی، اسم اشارہ کی صورت میں لانے میں کیا کیا نقطے ہوتے ہیں؟ آپ نے معرفہ ذکر کرنا ہے، معرفہ کی بہت سی قسمیں ہیں لیکن آپ کیا لے کر آتے ہیں؟ اسم موصول، اسم موصول کیوں لایا جاتا ہے؟ اس کے لانے میں کیا کیا نقطے ہوتے ہیں؟ یہ چیزیں اب ذکر کریں گے بئی! صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ أما الضمير، باقی ضمیر جو ہے، فيؤتى به، اس کو لایا جاتا ہے، لكون المقام للتكلم، اس وجہ سے کہ وہ مقام جو ہے تکلم کا ہوتا ہے، أو الخطاب، یا خطاب کا، أو الغيبة، یا غیبت کا، مع الاختصار، ساتھ ساتھ اختصار کے، کہ وہاں اختصار بھی مقصود ہوتا ہے۔ بئی دیکھیے کلام کرنے کے تین طریقے ہیں: تکلم، خطاب، اور غیبت۔ یا تو بات کرنے والا اپنے بارے میں بات کرے گا، کہ میں نے یہ کام کیا، میں آج وہاں گیا تھا، آج میں نے زید سے ملاقات کی، یہ کیا ہے، کون سا انداز ہے کلام کا؟ یہ ہے تکلم بئی، متکلم اپنے بارے میں بات کرتا ہے۔ اور ایک ہے کلام کا انداز مخاطب کے بارے میں بات کرتا ہے، کہ آپ کا کیا حال ہے؟ آج آپ کہاں تشریف لے گئے تھے؟ آج آپ سبق آپ نے یاد کیا ہے یا نہیں کیا؟ دیکھیے اب کس کے بارے میں بات چل رہی ہے؟ مخاطب، تو اس کو کہیں گے خطاب بئی، یہ دوسری قسم۔ تیسری قسم ہے غیبت بئی، کسی غائب کے بارے میں بات کی جائے، نہ متکلم اپنے بارے میں بات کرتا ہے، نہ جس سے بات کر رہا ہے اس کی بھی بات نہیں کر رہا، بلکہ ایک تیسرا غائب آدمی ہے اس کے بارے میں بات کرتا ہے، کہ زید جو ہے آج میرے پاس آیا تھا، زید نے آج اس طرح کے کپڑے پہنے ہوئے تھے، تو دیکھیے یہ ہے غیبت کا مقام، کون سا مقام ہے؟ تو کلام کے کتنے طریقے ہوئے؟ تین طریقے: تکلم، خطاب، اور غیبت۔ تو یاد رکھیے جب یہ مواقع ہوں: تکلم، خطاب، تکلم اور خطاب اس میں ہمیشہ ضمیر استعمال کی جاتی ہے، کیسے استعمال کی جاتی ہے؟ ضمیر۔ بئی دیکھیے، میں آپ کے بارے میں بات کر رہا ہوں، مخاطب کے بارے میں، مثلاً آپ کا نام زید ہے، تو اب میں آپ کو یہ نہیں کہوں گا: "زید کا کیا حال ہے؟" بلکہ آپ کو کیا کہوں گا؟ "آپ کا کیا حال ہے؟" دیکھو "آپ" لفظ لے کر آیا، یہ "آپ" اردو کے اندر ضمیر ہے، یا عربی میں کہوں گا: "كيف أنتَ؟"، اب میں نے آپ کا نام تو زید ہے لیکن میں نے زید نہیں کہا: "كيف زيدٌ؟" بلکہ کیا کہا؟ "كيف أنتَ"، تو مخاطب سے جب بھی بات کی جاتی ہے کس کو ذکر کیا جاتا ہے؟ ضمیر کو ذکر کیا جاتا ہے، تو خطاب کے اندر ہمیشہ کیا استعمال ہوتی ہے؟ ضمیر۔ اور اسی طرح متکلم جب اپنے بارے میں بات کرتا ہے تب بھی ضمیر استعمال کرتا ہے، میں اپنے بارے میں جب بھی بات کروں گا، میں اپنا نام نہیں لوں گا بلکہ کیا کروں گا؟ ضمیر، کہ میں نے آج زید سے ملاقات کی، میں آج وہاں گیا تھا، میں نے آج یہ کام کیا۔ یہ وغیرہ دیکھئے یہ میں کا لفظ بول رہا ہوں اور یہ میں اردو کے اندر کیا ہے؟ ضمیر ہے، یا عربی میں جیسے کہوں گا انا ذہبت الی زید، انا فعلت کذا و کذا دیکھئے انا ذکر کرتا جا رہا ہوں، تو متکلم اپنے بارے میں بھی اپنی تعبیر بھی کس کے ساتھ کرتا ہے؟ ضمیر کے مع معلوم ہوا تکلم اور خطاب یہ مواقع ہی کس چیز کے ہیں؟ ضمیر کے، ان میں ضمیر ہی استعمال ہوتی ہے ہمیشہ بھئی نام وغیرہ استعمال نہیں ہوتے۔ اور اسی طرح غیبت بھئی غیبت غائب کا جب ایک دفعہ پہلی دفعہ ذکر ہو جائے پہلی دفعہ تو ٹھیک ہے اس کا علم آ جائے گا یا کسی اور لفظ کے ساتھ اس کا ذکر ہو جائے گا، مثلاً جائنی زید میرے پاس زید آیا یہ پہلی مرتبہ ذکر ہو رہا ہے لیکن پہلی دفعہ جب ایک دفعہ ذکر ہو جائے اب اس کے بعد آگے جب بھی زید کا ذکر آئے گا اب میں لفظِ زید نہیں بولوں گا اب میں ضمیر استعمال کرتا جاؤں گا، جائنی زید پہلے کیا ذکر کر دیا؟ زید، اب آگے کہوں گا فاکرمتہُ دیکھو یہ ہا ضمیر میں نے زید کے لیے استعمال کی تو غائب جو ہے اس کا ایک مرتبہ ذکر کیا جاتا ہے اور جب ایک دفعہ ذکر ہو جائے تو پھر اس کے بعد اس کے لیے کیا استعمال کی جاتی ہے ہمیشہ؟ ضمیر استعمال کی جاتی ہے بار بار اس کا نام وغیرہ یا کسی اور لفظ کے ساتھ اس کا ذکر نہیں کیا جاتا۔ تو کہتے ہیں ضمیر کیوں لائی جاتی ہے؟ بتلا رہے ہیں بھئی اما الضمیر باقی ضمیر جو ہے فیؤتى بہ لكون المقام للتکلم او الخطاب او الغیبۃ، بوجہ اس اس وجہ سے کہ مقام جو ہوتا ہے تکلم کا ہوتا ہے یا خطاب کا ہوتا ہے یا غیبت کا ساتھ میں نے ذکر کر دیا غیبت میں ایک قید یاد رکھنا غیبت میں ضمیر استعمال کر رہے ہیں لیکن اس کے لیے کیا ضروری؟ پہلے ایک دفعہ اس چیز کا ذکر ہو چکا ہو، تو مقام تکلم کا ہو تب بھی ضمیر استعمال کرتے ہیں، مقام خطاب کا ہو تب بھی ضمیر استعمال کرتے ہیں اور غیبت کا مقام ہو اور ایک دفعہ ذکر ہو چکا ہو تب بھی کیا استعمال کرتے ہیں؟ ضمیر استعمال کرتے ہیں، بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟ مع الاختصار ساتھ اختصار کے بھئی ساتھ اختصار کے، اور نیز وہاں پر اختصار بھی مقصود ہوتا ہے بھئی دیکھئے ایک ہے ضمیر کے ساتھ کلام کلام میں ضمیر کو ذکر کرنا اور ایک ہے کلام کے اندر نام وغیرہ یا اور چیز لفظوں کو معرفہ کو ذکر کرنا تو ضمیر کے ساتھ کلام کو ذکر کریں گے تو کلام مختصر ہو گا، اگر اور لفظ وغیرہ ذکر کریں گے پھر کلام اتنا مختصر نہ رہے گا، مثلاً دیکھئے میں کہتا ہوں ضرب زید زید نے پٹائی کی، ضرب زید اب دوسری صورت یہ ہے میں یوں کہتا ہوں ضرب، اب ضرب فعل اس کے اندر ہوا ضمیر فاعل، پہلے کیا تھا؟ ضرب فعل زید اس کا فاعل، اب آپ مجھے بتائیے ضرب زید یہ کلام مختصر ہے یا ضرب یہ مختصر ہے؟ دیکھو ضرب اس کے اندر کلام کیا ہو گیا؟ مختصر، تو ضمیر کے اندر کلام مختصر ہو جاتا ہے، اسی طرح بھئی مثلاً میں متکلم جو ہے مثلاً وہ ذکر کرنا چاہتا ہے اپنے بارے میں اور اپنے بارے میں ذکر کرتے ہوئے فرض کرو ایک صورت یہ ہے وہ نام ذکر کرتا ہے کہتا ہے ضرب زید، کیا کہتا ہے؟ متکلم کا فرض کرو اپنا نام ہے زید وہ اپنے بارے میں کیا کہتا ہے زید نے پٹائی کی ایک یہ صورت، ایک یہ صورت وہ ضمیر لاتا ہے ضربتُ میں نے پٹائی کی۔ آپ بتائیے ضرب زید مختصر ہے یا ضربتُ مختصر ہے؟ ظاہر سی بات ہے ضربتُ مختصر ہے، تو ضمیر سے ہمیشہ کیا ہوتا ہے کلام مختصر ہوتا ہے تو اختصار مقصود ہوتا ہے اختصار اس سے حاصل ہوتا ہے، تو اس وجہ سے ضمیر کو لایا جاتا ہے، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں اما الضمیر تو ضمیر جو ہے فیؤتى بہ تو اس کو لایا جاتا ہے لكون المقام اس وجہ سے کہ وہ مقام جو ہے للتکلم تکلم کا ہوتا ہے او الخطاب یا خطاب کا ہوتا ہے او الغیبۃ یا غیبت کا ہوتا ہے جبکہ پہلے ایک دفعہ ذکر ہو چکا ہو مع الاختصار ساتھ کس کے؟ اختصار کے کہ وہاں کیا حاصل ہوتا ہے؟ اختصار حاصل ہوتا ہے وہاں اختصار مقصود ہوتا ہے۔ تو اس کے لیے احتراز کیا کہ بعض اوقات مقام مثلاً تکلم کا ہے اور کہ کہنے والا اپنا نام استعمال کر لیتا ہے یا کوئی اور لفظ استعمال کر لیتا ہے مثلاً بھئی جیسے انہوں نے حاشیے میں بڑی پیاری مثال دی کہ خلیفہ جو ہے خلیفۃ المسلمین بھئی خلیفۃ المسلمین وہ ایک شخص کو حکم دیتے ہوئے کہتا ہے بھئی خلیفہ ہے ایک آدمی کو حکم دے رہا ہے کہنا یہ چاہتا ہے میں تمہیں اس بات کا حکم دیتا ہوں امرک بکذا، امرک بکذا میں تمہیں اس بات کا حکم دیتا ہوں، ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ امرک بکذا کون کہہ رہا ہے؟ امیرالمؤمنین، اب یہی ایک کلام ہے یہ مقام تکلم کا ہے اور تکلم میں ضمیر استعمال کی جاتی ہے تو ایک صورت یہ ہے کہ خلیفہ ضمیر استعمال کرتے ہوئے یوں کہے امرک بکذا میں تمہیں اس بات کا حکم دے رہا ہوں، اور ایک صورت یہ ہے کہ امیر خلیفہ جو ہے وہ یوں کہے اس آدمی سے امیر المؤمنین یامرک بکذا، کہنے والا کون؟ خلیفہ امیر المؤمنین ہی ہے اور وہ خود ہی دوسرے کو کہنا تو چاہیے تھا انا امرک بکذا لیکن کہتا کیا ہے؟ امیر المؤمنین یامرک بکذا کہ امیر المؤمنین تمہیں اس بات کا حکم دے رہے ہیں، تو دیکھئے ضمیر کو چھوڑ کر کس لفظ کی طرف عدول کیا؟ امیر المؤمنین کی طرف عدول لفظ کی طرف عدول کیا دوسرے معرفہ کی طرف عدول کیا، کس لیے؟ دوسرے کے دل میں ہیبت ڈالنے کے لیے اس پر روب ڈالنے کے لیے کہ دیکھو معمولی میری بات کو معمولی نہ سمجھنا یہ تم بلکہ یہ حکم دینے والی ذات کون سی ہے؟ امیر المؤمنین کی ذات ہے جو تمہیں حکم دے رہی ہے لہذا تمہیں اس بات کو پورا کرنا چاہیے ورنہ نتیجے کے طور پر تم تمہیں سزا بھی مل سکتی ہے اگر ایسا نہیں کرو گے۔ تو دیکھئے دوسرے پر روب ڈالنے کے لیے ہیبت طاری کرنے کے لیے انا امرک بکذا نہیں کہا بلکہ کیا کہا امیر المؤمنین یامرک بکذا بھئی، اب دیکھئے یہاں امیر المؤمنین کہا بھئی اور اس نقطے کی وجہ سے عدول کیا ضمیر سے ورنہ مقام تو کیا تھا؟ مقام تو تکلم کا تھا استعمال کیا ہونی چاہیے تھی؟ ضمیر استعمال ہونی چاہیے تھی، تو یہاں پر اگرچہ تکلم کے مقام میں اسمِ ظاہر کو استعمال کر دیا گیا لیکن اختصار کس میں ہے؟ امیر المؤمنین یامرک بکذا یہ کلام مختصر ہے یا انا امرک بکذا؟ انا امرک بکذا وہ ضمیر والی صورت میں کلام مختصر ہوتا ہے، تو مع الاختصار کی قید کے ذریعے اس قسم کے کلام سے احتراز کیا بھئی کہ اس طرح کی کہ اس طرح بعض اوقات تکلم یا خطاب وغیرہ کے اندر مقام ضمیر کا ہوتا ہے لیکن کوئی شخص کیا کر لیتا ہے؟ کوئی دوسرا اسمِ ظاہر استعمال کر لیتا ہے تو وہاں اگرچہ وہ لفظ استعمال تو ہو جائے گا لیکن اس میں اختصار نہیں ہو گا، اگر اختصار چاہیے تو پھر کیا کرنا پڑے گا؟ ضمیر کو لانا پڑے گا بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو مقام تکلم کا بھی ہو، خطاب کا ہو یا غیبت کا ہو جبکہ ایک دفعہ پہلے ذکر ہو چکا ہو اس چیز کا اور ساتھ ساتھ اختصار بھی مقصود ہو تو پھر کیا لایا کس چیز کو لایا جائے؟ ضمیر کو لایا جائے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ نحو مثال کے طور پر انا رجوتک فی هذا الامر، انا رجوتک رجاء امید کو کہتے ہیں انا رجوتک میں نے آپ سے امید کی ہے فی هذا الامر اس معاملے کے اندر، آپ ایک آدمی کے پاس گئے بھئی آپ کو اس سے کوئی کام ہے اور وہ کام اس کے اختیار میں ہے وہ کر سکتا ہے اب آپ اس کو کہتے ہیں انا رجوتک فی هذا الامر میں نے آپ سے امید کی ہے اس معاملے کے اندر، میں آپ کے پاس توقع لے کر آیا ہوں اس معاملے کے اندر کہ آپ کیا کریں گے؟ میری مدد کریں گے۔ جی تو دیکھئے اس کے اندر ضمیر صیغہ آ گئی انا، متکلم نے اپنے آپ کو کس سے تعبیر کیا؟ ضمیر سے اور یہ ضمیرِ منفصل ہے، اور رجوتُ، رجوتُ اس میں دیکھو تُو ضمیر آخر میں آئی یہ بھی متکلم کی ضمیر ہے، اور کاف ضمیر کون سی آ گئی؟ خطاب کی ضمیر بھی آ گئی، تو انا متکلم کی ضمیرِ منفصل بھی آ گئی ضمیرِ متصل بھی آ گئی، انا منفصل اور رجوتُ کے اندر تُو ضمیر متصل، تو بتلانا یہ چاہتے ہیں دونوں صورتوں میں دونوں صورتوں میں یہی حکم ہے بھئی۔ یعنی تکلم کے اندر اختصار مقصود ہو مقام بھی تکلم کا ہو اور اختصار بھی مقصود ہو تو پھر ضمیر لائی جاتی ہے چاہے ضمیرِ منفصل ہو چاہے ضمیرِ متصل ہو۔ وانت وعدتنی بانجازه اور آپ نے مجھ سے وعدہ کیا ہے بانجازه اس کام کے اس معاملے کے پورا کرنے کا، انجاز کا کیا معنیٰ؟ پورا کرنا، وانت وعدتنی بانجازه بانجازه ہا ضمیر آئی بھئی اور یہ ہا ضمیر راجع ہے هذا الامر کو، تو دیکھئے ایک دفعہ هذا الامر یہ معاملہ یہ لفظ اب ذکر ہو گئے تھے تو دوسری مرتبہ اس کو کس کے ساتھ ذکر کیا گیا؟ غائب کی ضمیر کے ساتھ ذکر کیا گیا بھئی، تو یہ دوسرے جملے کے اندر دیکھئے آپ مخاطب کی ضمیریں ہیں انت ضمیرِ منفصل ہے۔ اور وعدتَ، وعدتَ کے آخر میں کیا ہے؟ تا ضمیر ہے ضمیرِ متصل ہے، بتلانا چاہتے ہیں کہ ضمیر چاہے متصل ہو چاہے منفصل ہو دونوں کا یہی حکم ہے بھئی، اور وعدتنی یہ یا ضمیر آخر میں جو ملی ہوئی ہے یہ کس کی ہے؟ متکلم کی ہے بھئی، بانجازه ہا ضمیر یہاں آ گئی یہ کس کی ہے؟ یہ غائب کی ہے، تو یہ دو جملے ذکر کر دیے بھئی اور ان میں ہر قسم کی ضمیریں آ گئیں جو یعنی متکلم کی بھی آ گئیں، مخاطب کی بھی آ گئیں اور غائب کی بھی آ گئیں بھئی۔ تو دیکھئے اس سے مقام تکلم، خطاب اور غیبت کا تھا تو ضمیریں استعمال کیں اور مع الاختصار ساتھ کس کے؟ اختصار بھی مقصود تھا اختصار بھی حاصل ہو گیا بھئی، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں آگے دیکھئے والاصل فی الخطاب ان یکون لمشاهد معین اور اصل خطاب کے اندر یہ ہے ان یکون لمشاهد معین کہ وہ کسی مشاهد سے ہو ایسا مشاهد معین جو کیا ہو؟ معین ہو۔ بھئی یاد رکھیے خطاب کے اندر اصل یہ ہے کہ وہ خطاب خطاب جانتے ہو یا نہیں کسے کہتے ہیں؟ مخاطب کی طرف متوجہ ہو کر جو کلام کیا جائے اس کو خطاب کہتے ہیں۔ بھئی آپ سارے میرے سامنے بیٹھے ہیں اور میں یہ سبق آپ کو پڑھا رہا ہوں تو دیکھو آپ کی طرف متوجہ ہو کر میں ایک بات کر رہا ہوں اس کو خطاب کہتے ہیں، دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر جو بھی بات کی جائے اس کو کیا کہتے ہیں؟ خطاب کہتے ہیں تو یہ بھی خطاب ہے، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں اصل تو خطاب میں یہ ہے ان یکون لمشاهد معین کہ خطاب کس سے ہونا چاہیے؟ ایسے مشاهد سے جو معین ہو یعنی دو چیزیں ہوں گی جس سے خطاب کیا جائے، وہ مشاهد بھی ہو۔ بھئی میں ضمیر لے کر آتا ہوں انت، انت کے ساتھ کسی کو کیا کروں گا؟ مخاطب کو خطاب کروں گا تو اس میں اصل یہ ہے اصل یہ ہے کہ وہ مخاطب مشاهد ہو یعنی میرے سامنے ہو۔ مشاهد ہو کیا معنیٰ؟ میرے سامنے ہو جبھی انت کہوں گا نا اگر میرے سامنے ہی نہیں ہے تو انت کیسے کہوں گا اگر وہ لاہور میں بیٹھا ہے میں یہاں بات کر رہا ہوں تو اس وقت تو میرا مخاطب نہیں یہاں تو مجھے غائب کی ضمیر لانی چاہیے، تو خطاب ہمیشہ کس سے ہوتا ہے؟ جو مخاطب ہے سامنے موجود ہے بھئی، تو مشاهد ہو اور معین ہو خطاب ہمیشہ کس سے ہو گا؟ لازمی بات ہے سامنے جب میں انت ضمیر استعمال کر رہا ہوں انت آپ تو کوئی معین ہو گا یا معین نہیں ہو گا؟ معین، تو خطاب کے اندر اصل یہ ہے کہ کس سے خطاب کیا جائے مخاطب کو کیا ہونا چاہیے؟ مشاهد سامنے بھی ہو نظر بھی آ رہا ہو اور معین بھی ہونا چاہیے دو چیزیں اصل ہیں۔ تو کہتے ہیں والاصل فی الخطاب ان یکون لمشاهد معین اور اصل خطاب کے اندر یہ ہے کہ وہ کسی معین مشاهد کے لیے ہونا چاہیے وقد یخاطب غیر المشاهد لیکن کبھی کبھار کیا کر لیا جاتا ہے؟ خطاب کر لیا جاتا ہے غیرِ مشاهد کو بھی۔ ایک چیز مشاهد نہیں ہے آنکھوں سے دکھائی نہیں دے رہی لیکن پھر اس سے بھی کیا کر لیا جاتا ہے؟ خطاب کر لیا جاتا ہے، کب؟ اذا كان مستحضرا فی القلب جبکہ وہ مخاطب جو ہے وہ دل کے اندر حاضر ہو بھئی، کس کے اندر؟ بھئی سامنے آنکھوں کے سامنے تو حاضر نہیں ہے لیکن دل کے اندر کیا ہے وہ؟ حاضر ہے، جیسے نحو مثال کے طور پر ایاک نعبد۔ اے اللہ ہم آپ کی عبادت کرتے ہیں، ایاک آپ کی ضمیر خطاب والی آ گئی، آپ کی عبادت کرتے ہیں، اب دیکھئے خطاب کے اندر اصل تو یہ ہے کس سے خطاب کیا جائے؟ یہ ایاک کی ضمیر کہاں لائی جائے؟ ایسی ذات کے لیے جو آنکھوں کے سامنے موجود ہو دکھائی دے اور متعین ہو، لیکن یہاں پر اللہ کی اللہ سے کے سامنے انسان کیا کہتا ہے؟ ایاک نعبد اللہ کو خطاب کرتے ہوئے اے اللہ ہم آپ کی عبادت کرتے ہیں، اب حالانکہ اللہ کی ذات تو مشاهد نہیں اللہ کی ذات تو آنکھوں سے دکھائی نہیں دے سکتی بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو پھر بھی انسان خطاب کرتے ہوئے کہتا ہے ایاک نعبد، کیوں کس وجہ سے؟ نقطہ کیا ہے اس کے اندر؟ کہ اللہ کی ذات اگرچہ آنکھوں سے دکھائی نہیں دے رہی لیکن ہر مومن کے قلب میں تو موجود ہے تو ہمارے بھی قلب میں موجود ہے تو اسی حضورِ قلبی کو کس کے درجے میں اتار لیا؟ مشاهدے کے درجے میں اتار کر اس سے خطاب کر دیا گیا، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اللہ کی ذات جو ہے وہ یہ آنکھیں یہ تو یہ تو قوت ہی نہیں رکھتیں کہ اللہ کی ذات کو دیکھ سکیں، سمجھ میں آیا بھئی؟ ہاں آخرت میں اللہ کا دیدار ہو گا بھئی آخرت میں، جو اہل ایماں ہوں گے جو جنتی ہوں گے اللہ کا دیدار ہو گا لیکن وہ یہ آنکھیں نہیں ہوں گی بھئی، یہ آنکھیں تو فانی ہیں ختم ہو جائیں گی فنا ہو جائیں گی، آخرت میں جب انسان کو پیدا کیا جائے گا تو پھر اس کے لیے لا زوال زندگی ہے اس کے لیے ہمیشہ کی زندگی ہے اور جو جنت میں جائیں گے ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے بھئی کبھی ختم ہونے والے نہیں، تو اس وقت کیا ہو گا؟ اللہ تعالیٰ کی زیارت ہو گی تو وہ اور نگاہیں ہوں گی یہ نگاہیں نہیں ہوں گی بھئی۔ تو لہذا یہاں پر دیکھئے اب اللہ کی ذات تو ان آنکھوں سے دکھائی نہیں دے رہی تو غیرِ مشاهد ہونے کے باوجود یہاں خطاب کیا گیا کس وجہ سے؟ ہاں کہ حضورِ قلبی کو کس کے درجے میں اتار لیا گیا؟ مشاهدے کے درجے میں اتار لیا گیا بھئی۔ نحو ایاک نعبد مثال کے طور پر ایاک نعبد ہم تیری عبادت کرتے ہیں اللہ، وغیر المعین اس کا عطف ہے اوپر غیر المشاهد پر، وقد یخاطب غیر المعین اور کبھی بھئی خطاب میں اصل تو کیا تھا؟ پہلی بات کیا تھی وہ مشاهد ہونا چاہیے، دوسری بات کیا تھی وہ معین ہونا چاہیے خطاب جس مخاطب جو ہے اس کو معین ہونا چاہیے، لیکن کبھی کبھار غیرِ معین کو خطاب کر لیا جاتا ہے اذا قصد تعمیم الخطاب لکل من یمکن خطابه، اذا قصد جب ارادہ کر لیا جائے تعمیم الخطاب خطاب کو عام کرنے کا، متکلم کیا ارادہ کر لیتا ہے؟ اپنے خطاب کو عام کرنے کا ارادہ کرتا ہے یعنی صرف یہ جو سامنے موجود ہے اس کو نہیں سنانا چاہتا بلکہ ہر ایک کو اپنا کلام سنانا چاہتا ہے۔ کیا چاہتا ہے؟ ہاں سب کو اپنا کلام سنانا چاہتا ہے۔ تو اس پھر غیرِ معین کو بھی خطاب کر لیا جاتا ہے، تو اصل تو کیا ہے خطاب میں؟ معین کے لیے ہونا چاہیے لیکن کبھی کبھار کیا کر لیا جاتا ہے؟ غیرِ معین کو بھی خطاب کر لیا جاتا ہے کس وجہ سے؟ کیونکہ کہنے والا ہر ایک کو اپنی بات سنانا چاہتا ہے۔ کہتے ہیں اذا قصد تعمیم الخطاب جب خطاب میں تعمیم کا ارادہ کر لیا جائے لکل من یمکن خطابه ہر اس شخص کے لیے کہ ممکن ہو جس سے خطاب کرنا۔ ہر اس شخص بھئی دیکھئے! آپ ایک جملہ کہتے ہیں اور صرف اپنے سامنے والے جس سے خطاب کیا جا سکے، ہر وہ شخص جس سے خطاب کیا جا سکے، جس سے خطاب کرنا ممکن ہے، آپ ان سب کو خطاب کرنا چاہتے ہیں۔ جس سے بھی خطاب کرنا ممکن ہے، آپ ان سب کو کیا کرنا چاہتے ہیں؟ خطاب کرنا چاہتے ہیں۔ تو معلوم ہوا، آپ اپنے کلام میں عموم پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ تو اس صورت میں پھر غیر متعین کو بھی کیا کر لیا جاتا ہے؟ خطاب کر لیا جاتا ہے۔ دیکھیے، مثال سے اور وضاحت ہو گی۔ نحو، مثال کے طور پر: اللَّئِيمُ مَنْ إِذَا أَحْسَنْتَ إِلَيْهِ أَسَاءَ إِلَيْكَ۔ کمینہ، اللئیم کا معنی کمینہ، اللَّئِيمُ مَنْ کمینہ وہ شخص ہے إِذَا أَحْسَنْتَ إِلَيْهِ کہ جب آپ اس کے ساتھ احسان کریں، جب آپ اس کے ساتھ نیکی کریں أَسَاءَ إِلَيْكَ تو وہ آپ کے ساتھ برائی کرے۔ کوئی کہنے والا کہتا ہے یا اگر یہ کسی شعر کا مصرع ہے تو مثلاً شاعر کہنا چاہتا ہے کہ کمینہ وہ شخص ہے إِذَا أَحْسَنْتَ إِلَيْهِ أَسَاءَ إِلَيْكَ جب آپ اس کے ساتھ احسان کریں تو بدلے میں وہ کیا کرے آپ کے ساتھ؟ برائی کرے، تو سمجھ جائیے یہ اصل کمینہ شخص ہے، گھٹیا اور ادنیٰ شخص ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آئی؟ بھئی، ہونا تو یہ چاہیے کہ کوئی کسی کے ساتھ احسان اور نیکی کرے تو دوسرے کو بھی بدلے میں اس کے ساتھ نیکی کرنی چاہیے، لیکن اگر نیکی نہیں کر سکتا تو کم از کم اس کو تکلیف تو نہ دے، نقصان تو نہ دے۔ لیکن اگر کوئی احسان کرنے والے کے ساتھ برائی کرتا ہے، اس کو تکلیف دیتا ہے، اس کو نقصان پہنچاتا ہے تو سمجھ جاؤ یہ کیا ہے؟ کمینہ آدمی ہے، گھٹیا اور ادنیٰ آدمی ہے بھئی۔ اب دیکھیے یہاں پر اللَّئِيمُ مَنْ إِذَا أَحْسَنْتَ إِلَيْهِ أَسَاءَ إِلَيْكَ، مثلاً دیکھیے یہ شعر کا کوئی مصرع ہو گا غالباً، کمینہ ہے وہ کہ جب تو اس کے ساتھ احسان کرے، أَسَاءَ إِلَيْكَ وہ تیرے ساتھ برائی کرے۔ اب أَحْسَنْتَ، یہاں خطاب والی ضمیر آئی، تو احسان کرے، أَسَاءَ إِلَيْكَ وہ تیرے ساتھ کیا کرے؟ برائی کرے۔ یہ کاف ضمیر آئی اور کاف ضمیر تو خطاب والی ہے اور اسی طرح أَحْسَنْتَ میں تا ضمیر خطاب والی ہے اور خطاب کس کو کیا جاتا ہے؟ کسی متعین ذات کو کیا جاتا ہے، لیکن یہاں شاعر کسی متعین سے خطاب نہیں کر رہا بلکہ یہ خطاب ہے غیر متعین کو بھئی۔ کسی متعین سے وہ خطاب نہیں کر رہا بلکہ غیر متعین سے خطاب کر رہا ہے۔ ہر وہ شخص جس سے خطاب کرنا ممکن ہے، ان سب کو وہ شامل کرنا چاہتا ہے اپنے خطاب میں، یعنی ان سب کو یہ بات سنانا چاہتا ہے، سب کو یہ بات سنانا چاہتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور نقطہ کیا ہے؟ کیوں سب کو سنانا چاہتا ہے؟ وجہ یہ کہ مثلاً شاعر کسی کی مذمت بیان کر رہا ہے، کیا کر رہا ہے؟ کسی کی مذمت اور برائی بیان کر رہا ہے کہ وہ بڑے ہی ادنیٰ اور گھٹیا درجے کے لوگ ہیں۔ تو شاعر کہتا ہے گھٹیا اور ادنیٰ شخص وہ ہے جس کے ساتھ آپ احسان کریں، اے مخاطب! اور ہر مخاطب اس میں آ گیا۔ علیٰ سبیل البدل، مفرد کی ضمیر ہے نا أَحْسَنْتَ۔ أَحْسَنْتَ، مخاطب مفرد مخاطب کی ضمیر ہے کہ تثنیہ اور جمع کی ہے؟ أَحْسَنْتَ، واحد مخاطب کی ضمیر ہے۔ تو دیکھیے تثنیہ اور جمع نہیں ہے، لیکن ارادہ اس کا کیا ہے؟ سارے مخاطب جو جن میں بھی مخاطب، جن کے لیے جو بھی مخاطب بن سکتے ہیں، جن میں مخاطب بننے کی صلاحیت ہے، ان سب کو خطاب ہے۔ لیکن ضمیر تو یہاں مفرد مخاطب والی ہے تو پھر کس طرح ہر ایک کو خطاب ہو گا؟ تو وہ علماء فرماتے ہیں کہ بدل کے طریقے پر، مثلاً پہلے آپ ایک ہیں، آپ کی طرف کلام گویا متوجہ ہے۔ ایک شخص اور اس کو شاعر نے کہا اللَّئِيمُ مَنْ إِذَا أَحْسَنْتَ إِلَيْهِ أَسَاءَ، پھر اسی ضمیر سے دوسرا، یہ ایک مخاطب علیٰ سبیل البدل مراد ہوا۔ کس طریقے پر؟ بدل کے طریقے پر۔ پھر تیسرا بدل کے طریقے پر مراد ہوا، پھر چوتھا مخاطب اس کو خطاب ہوا بدل کے طریقے پر، پھر پانچواں مخاطب بدل کے طریقے پر، تو ہر مخاطب مراد ہے۔ اور کس طریقے پر مراد ہے؟ علیٰ سبیل البدل بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اس کو الگ خطاب گویا، اس کو الگ، اس کو، ہر ایک بدل کے طریقے پر یہ بھی مراد، یہ بھی اس سے مراد، یہ بھی اس خطاب میں داخل بدل کے طریقے پر، یہ بھی اس خطاب کے اندر داخل یعنی کس طریقے پر؟ بدل کے طریقے پر۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو علیٰ سبیل البدل ہر مخاطب مراد ہے جس میں بھی مخاطب بننے کی صلاحیت ہے، جس سے بھی خطاب کرنا ممکن ہے، وہ سب مراد ہیں اور سب کیوں مراد ہیں؟ یہ تعمیم کا ارادہ کیوں کیا شاعر نے؟ دراصل شاعر بتلانا چاہتا ہے کہ یہ جس کی میں مذمت بیان کر رہا ہوں، جس کی میں برائی بیان کر رہا ہوں، وہ اتنا برا آدمی ہے کہ سب کو اس کے گھٹیا ہونے کا پتہ ہے، کسی پر بھی اس کا گھٹیا ہونا مخفی اور چھپا ہوا نہیں ہے۔ کسی پر بھی اس کا گھٹیا ہونا چھپا ہوا نہیں ہے، کیونکہ شاعر نے ایک ایسی بات کر دی جس کا ہر ایک اقرار کرتا ہے۔ شاعر جس سے بھی کہے گا: کمینہ وہ آدمی ہے کہ جب آپ اس کے ساتھ احسان کریں وہ آپ کے ساتھ کیا کرے گا؟ برائی کرے گا، تو سننے والا کہے گا: ہاں واقعی، جو احسان کے بعد برائی کرے یقیناً وہ کیا ہے؟ گھٹیا آدمی۔ دوسرا بھی تسلیم کرے گا، تیسرا بھی تسلیم کرے گا، چوتھا بھی کیا کرے گا؟ سارے اس بات کو تسلیم کریں گے اور شاعر کسی متعین کی بات کر رہا ہے اور اس بات کو ہر ایک کیا کر رہا ہے؟ تسلیم کرتا ہے کہ واقعی یہ گھٹیا ہونے کی علامت ہے اور شاعر کہنا یہ چاہتا ہے کہ جن کا میں ذکر کر رہا ہوں، جن کی میں برائی کر رہا ہوں، ان میں یہ والا عیب پایا جاتا ہے اور آپ سب تسلیم کرتے ہیں یا نہیں کہ یہ عیب کیا ہے؟ یہ عیب کیا ہے؟ گھٹیا اور ادنیٰ ہونے کی علامت ہے۔ تو گویا ہر شخص ان کے گھٹیا ہونے کا اقرار کرتا ہے، ہر ایک کو ان کے گھٹیا ہونے کا پتہ ہے۔ شاعر کہنا کیا چاہتا ہے گویا؟ ہر ایک کو ان کے گھٹیا ہونے کے بارے میں علم ہے، کیونکہ یہ بات تو سارے تسلیم کرتے ہیں اور یہ عیب ان کے اندر پایا جاتا ہے، یہ سب کو پتہ ہے، لہٰذا معلوم ہوا سب کے نزدیک وہ کیا ہیں؟ ادنیٰ اور گھٹیا ہیں۔ نقطہ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ معنیٰ ہے وَغَيْرُ الْمُعَيَّنِ اور کبھی کبھار غیر متعین کو خطاب کیا جاتا ہے إِذَا قُصِدَ تَعْمِيمُ الْخِطَابِ لِكُلِّ مَنْ يُمْكِنُ خِطَابُهُ، جب ارادہ کیا جائے خطاب کو عام کرنے کا ہر اس شخص کے لیے کہ ممکن ہو اس سے خطاب کرنا۔ نحو، مثال کے طور پر: اللَّئِيمُ مَنْ إِذَا أَحْسَنْتَ إِلَيْهِ أَسَاءَ إِلَيْكَ کہ کمینہ وہ شخص ہے کہ جب آپ اس کے ساتھ احسان کریں تو وہ آپ کے ساتھ برائی کرے۔ وَأَمَّا الْعَلَمُ، بھئی یہ تو ضمیر لانے کے نکات تھے۔ ضمیر کہاں لائی جاتی ہے؟ جب مقام تکلم کا ہو يا مقام خطاب کا ہو یا مقام غیبت کا ہو اور ایک دفعہ پہلے ذکر ہو چکا ہو اور ان کے ساتھ ساتھ کیا مقصود ہو؟ اختصار بھی مقصود ہو تو ضمیر لائی جاتی ہے۔ اور پھر اصل تو خطاب کے اندر یہ ہے کہ مشاهد متعین کے لیے ہوتا ہے، لیکن کبھی کبھار غیر مشاهد کو بھی مشاهد کے درجے میں اتار لیا جاتا ہے حضور قلبی کی وجہ سے بھئی، جیسے إِيَّاكَ نَعْبُدُ کے اندر بھئی، ذات باری تعالیٰ کو کس کے درجے میں اتار لیا گیا؟ مشاهد کے درجے میں، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات جو ہے وہ ہر مومن کے دل میں موجود ہے اور تو اس حضور قلبی کو مشاهدے کے درجے میں اتار کر خطاب کر لیا گیا۔ اور اسی طرح خطاب کے اندر اصل تو یہ ہے متعین کے لیے ہونا چاہیے، لیکن کبھی کبھار غیر متعین کو بھی خطاب کر دیا جاتا ہے، خطاب کے اندر عموم پیدا کرنے کے لیے تاکہ ہر وہ شخص جس سے خطاب کرنا ممکن ہو وہ اس خطاب کے اندر داخل ہو جائے بھئی۔ اچھا، تو یہاں پر جو اللَّئِيمُ آیا، اللَّئِيمُ، تو اس سے چاہے تو کوئی متعین لئیم گھٹیا مراد ہو يا ایک عام بات کے طور پر اس کو رکھا جائے، دونوں صورتوں میں۔ مثلاً کوئی کہنے والا ایک عام بات کرتا ہے کہ گھٹیا وہ شخص ہے کہ جس کے ساتھ آپ احسان کریں تو وہ بدلے میں آپ کے ساتھ کیا کرے؟ برائی کرے، ایک عام بات ذکر کرنا چاہتا ہے تو اس صورت میں بھی معنیٰ صحیح ہے اور ہر ایک کو خطاب ہے، گویا کہنے والا کہنے والا یہ بتلانا چاہتا ہے کہ جو شخص اس طرح کی اس طرح کا عمل کرتا ہے کہ اپنے محسن کے ساتھ برائی کرتا ہے، اس کا ادنیٰ اور گھٹیا ہونا کسی پر بھی مخفی نہیں ہے، ہر ایک اس بات کا اقرار کرتا ہے بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔