کل مولانا ہم نے پڑھا تھا کہ استعارہ جامع کے اعتبار سے یعنی وجہِ تشبیہ کے اعتبار سے دو قسم پر ہے، اس لیے کہ وہ وجہِ تشبیہ جو ہے مستعار لہ اور مستعار منہ کے مفہوم میں داخل ہوگی یا داخل نہیں ہوگی۔ جیسے مثال ذکر کی تھی حضور علیہ السلام کا قول ہے: "خَيْرُ" بہترین لوگوں میں سے وہ شخص ہے "رَجُلٌ مُمْسِكٌ بِعِنَانِ فَرَسِهِ"، جو تھامنے والا ہے اپنے گھوڑے کی لگام کو "كُلَّمَا سَمِعَ هَيْعَةً" جب بھی وہ کوئی خوفناک آواز سنتا ہے، یعنی جہاد کی، جنگ کی آواز سنتا ہے، "طَارَ إِلَيْهَا" تو اڑتا ہے اس کی طرف۔ "أَوْ رَجُلٌ" یا وہ شخص ہے "فِي شَعَفَةٍ" جو کس کے پر ہے؟ پہاڑ، کسی پہاڑ کی چوٹی میں رہتا ہے، "فِي غُنَيْمَةٍ" یہ تصغیر ہے مولانا تقلیل کے لیے، تھوڑی سی بھیڑ بکریوں میں "لَهُ" جو اس کی ہیں، "يَعْبُدُ اللَّهَ" اللہ کی عبادت کرتا ہے "حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمَوْتُ" یہاں تک کہ اس کے پاس موت آ جائے بھئی۔ تو یہ دو شخص بہترین ہیں بھئی، بہترین ہیں۔ تو دیکھیے یہاں پر مولانا، جب بھی وہ شخص ہو لوگ گھوڑے کی لگام تھامے رکھتا ہے اور جب بھی کیا سنتا ہے؟ کوئی جہاد وغیرہ کی دعوت سنتا ہے تو اس کی طرف دوڑ پڑتا ہے، لیکن دوڑنے کے لیے یہاں کیا لفظ ذکر کیا گیا؟ "طَارَ إِلَيْهِ"۔ تو ایک ہے طیران اور ایک ہے عَدْو۔ طیران کا معنی ہے قطع المسافۃ فی الـ بسرعۃ فی الهواء، اور عدو کا معنی ہے قطع المسافۃ بسرعۃ فی الارض۔ تو یہاں پر جامع دونوں کے اندر کیا ہے؟ قطع المسافۃ بسرعۃ، اور وہ مستعار لہ کا بھی جز ہے اور مستعار منہ کا بھی جز ہے بھئی، دونوں کے مفہوم میں داخل ہے بھئی۔ اور یہ قطع مسافت جو ہے بسـ یہ طیران کے انـ بسـ قطع مسافت بسرعت یہ طیران کے اندر زیادہ قوی ہے اور ضابطہ بھی یہی ہے کہ مشبہ بہ کے اندر وہ وصف کیا ہونا چاہیے؟ زیادہ قوی ہونا چاہیے۔ علامہ تفتازانی نے پھر اعتراض کیا بھئی کہ یہ زیادہ ظاہر یہ ہے کہ طیران کا معنی ہے قطع المسافۃ بالجناح بھئی، پر کے ساتھ مسافت طے کرنا۔ یہ جو آپ نے کہا "بسرعۃ"، یہ سرـ تیزی سے طے کرنا یہ دوڑنے میں تو ہمیں منظور ہے لیکن اڑنے کے اندر یہ اس کے مفہوم میں داخل ہو یہ ہمیں منظور نہیں ہے، بلکہ یہ مسافت اڑنے کا معنی ہے مسافت کو پروں سے طے کرنا، وہ آہستہ بھی ہو سکتا ہے اور تیز بھی ہو سکتا ہے۔ ہاں اگرچہ غالب احوال میں کیا ہوتا ہے؟ تیز ہی ہوتا ہے، لیکن وہ اس کے ساتھ لازم ہے اس کے مفہوم میں داخل نہیں۔ لہٰذا بہتر یہ ہے کہ یہ استعارہ ذکر کیا جائے جو تقطیع کا ہے۔ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: "وَقَطَّعْنَاهُمْ فِي الْأَرْضِ أُمَمًا" ہم نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ان کو زمین کے اندر جماعتیں بنا کر۔ تو زـ تو یہاں پر دیکھو، لوگوں کو بکھیر دیا جماعتیں بنا کر زمین میں، اس بکھیرنے اور تفریق کے لیے مولانا کیا لفظ استعمال ہوا؟ ٹکڑے ٹکڑے کرنا بھئی۔ اور ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے اندر کیا ہوتا ہے؟ کہ ایک چیز جس کے اجزاء آپس میں خوب مضبوطی سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں ان کو کیا کر دیا جاتا ہے؟ ان کے اس اجتماع کو ہٹا دیا جاتا ہے۔ تو اسی طرح تفریق کے اندر بھی ایک جماعت جو اکٹھی تھی اس کو کیا کر دیا جاتا ہے؟ اس کے اجتماع کو ختـ ختم کر دیا جاتا ہے۔ تو ازالہ اجتماع یہ دونوں کے مفہوم میں داخل ہے، تقطیع کے اندر بھی ازالہ اجتماع ہے اور تفریق کے اندر بھی ازالہ اجتماع ہے۔ البتہ تقطیع کے اندر ازالہ اجتماع زیادہ قوی ہے۔ تقطیع کیا ہے؟ مشبہ بہ ہے، تفریق کو تشبیہ دی ہے کس کے ساتھ؟ تقطیع کے ساتھ، اور ضابطہ بھی یہی ہے کہ مشبہ بہ کے اندر وہ وجہِ تشبیہ کیا ہونی چاہیے؟ زیادہ قوی ہونی چاہیے، اور تقطیع کے اندر بھی زیادہ قوی ہے، زیادہ قوی اس لیے ہے کہ تقطیع کے اندر ٹکڑے ٹکڑے کرنا وہ اجزاء آپس میں بڑی مضبوطی سے جڑے ہوئے ہیں اور جب مضبوطی سے جڑے ہوئے ہیں تو ان کا جدا کرنا بھی بڑی قوت کے ساتھ ہوگا بھئی۔ اس پر پھر اشکال ہوتا تھا کہ ابھی آپ چند صفحات قبل آپ نے مَرسن ذکر کیا تھا بھئی۔ مرسن کس کو کہتے ہیں؟ چوپائے کی ناک ہو اور اس میں کیا ہو؟ مہار نـ نکیل ڈلی ہوئی ہو بھئی۔ تو یہ ہاں، تو وہاں اور اسی مرسن کو جب انسانی ناک کے لیے استعمال کیا تو اس کو آپ نے کہا یہ مجازِ مرسل ہے۔ کیا کہا؟ اور یہاں پر یہ تقطیع کے جو تقطیع کو آپ نے تفریق کے لیے استعمال کیا اس کو بھی کیا ہونا چاہیے؟ مجازِ مرسل ہونا چاہیے۔ اس لیے کہ مرسن کے اندر بھی ایک وصف تھا جو یہاں پر انف کے اندر انسانی ناک کے اندر نہیں، اسی طرح تقطیع کے اندر بھی ایک وصف ہے جو تفریق کے اندر نہیں۔ مرسن کے اندر کیا وصف تھا؟ کہ ناک کس کی ہو؟ چوپائے کی ہو اور اس میں نکیل بھی ڈلی ہوئی ہو، اور انسانی ناک میں یہ ہے؟ یہ خاص وصف نہیں۔ اسی طرح تقطیع کے اندر تھا اجزاء آپس میں مضبوطی سے جڑے ہوئے ہوں اور تفریق کے اندر ایسا ہے؟ نہیں، وہاں بھی اجزاء آپس میں جڑے ہوئے نہیں، صرف اکٹھے ہیں۔ تو دونوں کے اندر ایک خاص وصف ہے جو دوسرے کے اندر نہیں، تو ایک کو آپ مجازِ مرسل کہہ رہے ہیں اور دوسرے کو کیا کہہ رہے ہیں؟ استعارہ کہہ رہے ہیں۔ تو جواب انہوں نے دیا تھا بھئی کہ وہ جو خاص وصف ہے، مرسن کا جب اطلاق کیا انسانی ناک پر تو اس خاص وصف کا لحاظ نہیں رکھا۔ مثلاً وہ ناک میں نکیل کا ہونا بھئی، اس کا لحاظ ہے یہاں پر؟ وہ اس کا لحاظ نہیں ہے۔ اور جبکہ ادھر تقطیع کے اندر اجزاء جڑے ہوئے تھے ان کا بکھر جانا، منتشر ہو جانا، اس وصف کا لحاظ تفریق میں بھی ہے۔ اس وصف کا لحاظ جب تفریق پر ہم نے اس کا اطلاق کیا تو اس وصف کا لحاظ اب بھی موجود ہے کہ تفریق میں بھی کیا ہوتے ہیں؟ جـ جمع شدہ چیزیں کیا ہوتی ہیں آپس میں؟ جدا۔ خلاصۂ کلام انہوں نے کہا یہ کہ یہ وہاں تشبیـ تقطیع کے اندر تشبیہ کا لحاظ ہے اور مرسن کا اطلاق جو انف پر ہوا تو اس میں تشبیہ کا اتـ لحاظ نہیں، اور جب تشبیہ کا لحاظ ہوگا تو پھر وہ استعارہ کہلائے گا ورنہ نہیں کہلائے گا بھئی۔ اس کے بعد ایک اور اعتراض اور اس کا جواب ذکر کیا۔ اعتراض یہ تھا کہ مصنف نے کیا کہا کہ جامع جو ہے مفہومِ طرفین میں داخل ہوگا، یعنی مستعار منہ میں بھی داخل اور مستعار لہ۔ جب اس میں داخل ہے تو معلوم ہوا وہ جزءِ مفہوم ہوا، اور جب جزءِ مفہوم ہے تو اس ہم نے پڑھا ہے کس کے اندر؟ فلسفے کے اندر کہ جزءِ ماہیت ہوتا ہے وہ کمی زیادتی کو قبول نہیں کرتا۔ مثلاً حیواـ انسان کے ہاں انسان کی حقیقت کیا ہے؟ حیوانِ ناطق۔ تو حیوان بھی اس کی حقیقت کا جز اور ناطق بھی اس کی حقیقت کا جز، اور حیوان کمی زیادتی کو قبول نہیں کرتا کہ بعض افرادِ انسان کے اندر حیوانیت زیادہ ہو اور بعض انـ افرادِ انسان کے اندر حیوانیت کم ہو، ایسا نہیں۔ اسی طرح بعض افرادِ انسان کے اندر ناطقیت کم ہو اور بعض افرادِ انسان کے اندر ناطقیت زیادہ ہو، ایسا نہیں۔ تو معلوم ہوا جزءِ ماہیت جو ہوتا ہے وہ کمی زیادتی کو قبول نہیں کرتا بھئی۔ جبکہ اس کے مقابلے میں جامع کے اندر اس میں آپ نے ضابطہ پڑھا ہے مولانا، کیا؟ "الِاسْتِعَارَةُ أَبْلَغُ مِنَ الْحَقِيقَةِ" کہ استعارہ حقیقت سے زیادہ بلیغ ہے یعنی اس میں زیادہ مبالغہ ہے، زیادہ مبالغہ کیوں ہے؟ کیوـ کیونکہ اس میں ادنیٰ کو کس سے ملایا جاتا ہے؟ اعلیٰ کے ساتھ ملایا جاتا ہے۔ معلوم ہوا جامع ایک کے اندر کم درجے کا ہوگا، دوسرے میں جامع اعلیٰ درجے کا۔ شجاعت انسان میں کچھ کم درجے کی ہوگی اور شیر کے اندر اعلیٰ درجے کی ہوگی، ورنہ تو مبالغہ ہی نہیں آ سکتا حالانکہ ضابطہ ہے کہ اس کے یہ بات قطعی ہے کہ اس کے اندر کیا ہوتا ہے؟ مبالغہ ہوتا ہے۔ تو اگر جب یہ جزءِ مفہوم ہوا تو اس کے اندر کمی زیادتی نہیں ہونی چاہیے، اور جب یہ جامع ہے تو اس میں کیا ہونی چاہیے؟ کمی زیادتی ہونی چاہیے، ایک میں کم۔ تو معلوم ہوا جامع جزءِ مفہوم ہو ہی نہیں سکتا، اس لیے کہ جامع کے اندر کمی اور زیادتی کا ہونا واجب اور جزءِ مفہوم کے اندر کمی اور زیادتی کا نہ ہونا واجب بھئی۔ تو معلوم ہوا جامع جزءِ مفہوم نہیں ہو سکتا، مصنف کی بات درست نہیں بھئی۔ جواب دیا کہ بھئی دونوں میں فرق ہے۔ یہاں پر ہم نے جو بات کی وہ مفہوم کی بات کی اور آپ کس کی بات کر رہے ہیں؟ ماہیت کی بات کر رہے ہیں بھئی۔ ماہیت کے جز کے اندر ٹھیک ہے کمی بیشی نہیں ہو سکتی لیکن مفہوم جو ہے لفظ کا ہو سکتا ہے بعض اوقات وہ کیا ہو؟ مرکب ہو ایسے امور سے جن میں سے بعض امر کیا کر لیتے ہوں؟ کمی اور زیادتی کو قبول کر لیتے ہوں۔ مثال کے طور پر اسود ہے، اسود کا لفظ، آپ سے کوئی پوچھے اسود کسے کہتے ہیں؟ آپ کیا کہیں گے؟ "الشَّيْءُ ثَبَتَ لَهُ اللَّـ لَهُ السَّوَادُ" بھئی، وہ چیز جس کے لیے کیا ثابت ہے؟ سواد، سیاہی ثابت ہے مولانا۔ اب دیکھو شے بھی ہونی چاہیے اور سیاہی بھی، دو چیزیں سے یہ اسود کا مفہوم مرکب ہے اور یہ جو سواد ہے، سیاہی، یہ کمی زیادتی کو کیا کرتی ہے؟ قبول کرتی ہے، کوئی چیز کم سیاہ ہوگی اور کوئی چیز زیادہ سیاہ ہوگی بھئی۔ معلوم ہوا مفہوم کے کا جز جو ہے وہ کمی زیادتی کو قبول کر سکتا ہے، لہٰذا جامع بھی کمی اور زیادتی کو قبول کرے اور مفہوم ہو اس کے اندر کوئی اشکال نہیں۔ اور یا مولانا جامع داخل نہیں ہوگا طرفین کے مفہوم میں، داخل نہیں۔ پہلے انہوں نے کہا طرفین کے مفہوم میں داخل ہوگا، اب کیا کہا؟ طرفین کے مفہوم میں داخل نہیں۔ یہ نہیں کہا کہ طرفین کے مفہوم سے خارج ہوگا، اس لیے کہ دراصل یہاں کل چار صورتیں بنتی تھیں اور داخل نہیں ہوگا اس میں تین صورتیں داخل کر دیں انہوں نے۔ کس طرح؟ کہ وہ جو جامع ہے یعنی وجہِ تشبیہ ہے، وجہِ تشبیہ مستعار منہ اور مستعار لہ کے مفہوم میں داخل ہوگی، دونوں کے مفہوم میں یا داخل ہوگی یا دونوں کے مفہوم سے وہ خارج ہوگی یا مولانا مستعار لہ کے مفہوم میں داخل ہوگی مستعار منہ کے مفہوم میں داخل نہیں، یا مستعار منہ کے مفہوم میں داخل ہوگی اور مستعار لہ کے مفہوم میں داخل نہیں۔ تو چار صورتیں ہوئیں۔ تو ایک صورت کے اندر دونوں کے مفہوم میں داخل، اور باقی تین صورتوں میں دونوں کے مفہوم میں داخل چاہے دونوں سے خارج ہو، چاہے پہلے کے مفہوم میں داخل ہو، چاہے دوسرے کے، لیکن دونوں کے مفہوم میں تو داخل نہیں۔ تو جب غیر داخل کہا تو یہ تینوں صورتیں کیا ہوئیں؟ اس میں داخل ہو گئیں بھئی۔ جیسے مولانا اسد اور رجل اسد کا استعارہ کیا رجل شجاع کے لیے، اب رجل شجاع کے اندر تو شجاعت کا تذکرہ آ رہا ہے، ٹھیک ہے مولانا اس کے مفہوم میں داخل ہوگا کیا؟ شجاعت، لیکن اسد کے مفہوم میں شجاعت داخل نہیں، اس لیے کہ اسد کس کو کہتے ہیں؟ حیوانِ مفترس کو کہتے ہیں، تو شجاعت کا تذکرہ آیا اس کے مفہوم میں؟ نہیں، معلوم ہوا یہ جزءِ مفہوم نہیں بھئی۔ اسی طرح مولانا سورج کو تشبیہ دیں کس سے؟ چمکدار چہرے کے ساتھ۔ اب یہ چمکدار چہرہ بھئی اس میں تو چمک کا ذکر آ رہا ہے لیکن سورج کے اندر چمک اس کے مفہوم کا جز نہیں، کیونکہ سورج کا مفہوم کیا ہے؟ کوکب کوکب نہاری بھئی، دن کا ستارہ۔ اب میں نے کہا کوکب نہاری، بھئی چمک کا تذکرہ آیا؟ نہیں آیا مولانا، معلوم ہوا یہ اس کے مفہوم میں داخل نہیں، لازم ہے اس کے ساتھ۔ پھر اس کے بعد استعارہ کی ایک اور تقسیم کی تھی، بتایا تھا استعارہ دو قسم پر ہے مولانا: یا عامیہ ہوگا یا کیا ہوگا؟ خاصیہ ہوگا۔ عامیہ وہ جو عام ہے جس کو ہر شخص سمجھ لیتا ہے وجہِ تشبیہ کو، اور خاصیہ وہ مولانا جس کو ہر شخص نہیں سمجھتا بلکہ صرف ذہین اور خاص لوگ ہی اس کو سمجھتے ہیں بھئی، جیسے ہاں، ذہین لوگ ہی سمجھتے ہیں۔ پھر بھئی اس کو خاص اور ذہین لوگ ہی کیوں سمجھتے ہیں؟ کہتے ہیں اس لیے کہ اس کے اندر غرابت ہوتی ہے، کیا ہوتی ہے؟ غرابت ہوتی ہے۔ اب یہ غرابت کی دو صورتیں ذکر کیں: یا تو وجہِ تشبیہ کے اندر ہی غرابت ہوگی، وجہِ تشبیہ خود ہی غریب ہوگی، اور کبھی غرابت کس کی وجہ سے آئے گی؟ استعارہ تو تھا عامیہ ہی مولانا، ہر ایک اس کو سمجھتا تھا لیکن اس کو بولنے والے، اس کو لکھنے والے نے اس میں تھوڑی سی تبدیلی کر دی اور تبدیلی کرنے کی وجہ سے کیا ہوا؟ اب اس میں غرابت آ گئی۔ دیکھیے دونوں کی باری باری مثالیں ذکر کریں گے۔ ایک یہ کہ استـ نفسِ تشبیہ ہی غریب ہو مولانا، جیسے ایک شاعر نے اپنے گھوڑے کو تشبیہ دی کہ میرا گھوڑا بڑا باادب ہے اور جب میں کسی کی زیارت کے لیے اور ملاقات کے لیے جاتا ہوں تو گھوڑے کی لگام قربوس کے اندر لگا جاتا ہوں اور میری واپسی تک یہ اسی طرح اپنی جگہ پر کھڑا میرا انتظار کرتا رہتا ہے۔ تو یہاں پر اس نے تشبیہ دی ہے گھوڑے کے اس طرح انتظـ انتظار میں کھڑے رہنے کو کس کے ساتھ؟ احتباء کے ساتھ۔ احتباء کس کو کہتے ہیں؟ کہ آدمی اپنے دونوں گھٹنوں کو پکڑ لے ہاتھوں کے ساتھ اور گھٹنوں کے جی؟ ہاتھوں کے ساتھ پکڑ کر بیٹھ جائے مولانا، یا اپنے دونوں گھٹنے جو ہیں یا پنڈلیاں جو ہیں ان کو کپڑے کے ساتھ باندھ دے کس کے؟ کمر کے ساتھ بھئی۔ تو اس میں جیسے مولانا گھٹنوں کے طرفین سے کپڑا جا رہا ہے، کہاں تک جا رہا ہے؟ کمر تک جا رہا ہے، اسی طرح قربوس جب اس نے گھوڑے کی لگام باندھی لگام بھی دونوں جانب سے منہ کے کہاں تک آ رہی ہے مولانا؟ قربوس تک آ رہی ہے۔ تو یہ عجیب تشبیہ دی مولانا یہ تـ کیونکہ ایک کے تصور سے دوسرے کا تصور کبھی ذہن میں نہیں آتا بھئی۔ تو یہ غریب تشبیہ ہے۔ اور کبھی کبھار غرابت آتی ہے میں نے ابھی بتایا کہ استعارہ عامیہ کے اندر وہ تصرف کر لیتے ہیں، جیسے ایک شاعر کہتا ہے کہ جب حج کے مناسک سب نے ادا کر لیے تو ہم سب مختلف قسم کی باتیں آپس میں کرنے لگے، "أَخَذْنَا بِأَطْرَافِ الْأَحَادِيثِ بَيْنَنَا" یہ بیننا ہونا چاہیے مولانا، دو نون ہیں یہاں پر بھئی۔ ہم شروع ہوئے مختلف انواع کی باتیں کرنے لگے آپس میں، "وَسَالَتْ بِأَعْنَاقِ الْمِطِيِّ الْأَبَاطِحُ" اور بہہ پڑیں مـ سواری کے جانوروں کی گردنوں کے ساتھ، کیا بہہ پڑیں بھئی؟ وادیاں بہہ پڑیں، وادیاں بہہ پڑیں۔ ابطح وہ جہاں سے سیلاب کا پانی گزرتا ہے وہ وادی بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ دیکھو۔ تو دیکھو، بھئی وادی کے اندر حج کے بعد سواری جو حاجیوں کی سواریاں چل پڑیں، ان کے اونٹ جو چل پڑے، اس چلنے کو تشبیہ دے دی کس کے ساتھ؟ سیلاب کے پانی کے بہنے کے ساتھ تشبیہ دے دی مولانا شاعر نے، اور اس کے لیے چلنے کے بجائے کیا لفظ استعمال کیا؟ سالت، بہنے۔ یہ ہے استعارہ مولانا۔ لیکن شاعر نے کیا کیا؟ دو اس کے اندر مجازِ عقلی استعمال کیے بھئی، دو طریقے سے مجازِ عقلی لے آئے جس کی وجہ سے اب یہ تھا تو استعارہ عامیہ، ہر ایک اس کو استعمال کرتا تھا، سمجھتا تھا بھئی، لیکن شاعر نے دو تبدیلیاں کیں جس کی وجہ سے اس میں کیا آ گئی؟ غرابت آ گئی۔ ایک تو شاعر کو یہ کہنا چاہیے تھا بھئی: "سَالَتِ الْمَطِيُّ" کیا بہہ پڑیں بھئی؟ سواریاں بہہ پڑیں، کیونکہ چل کیا چل پڑی ہیں؟ سواریاں۔ تو سالت کا اسناد ہونا چاہیے سواریوں کی طرف لیکن ہوا کس کی طرف؟ کیا اس نے وادی کی طرف بھئی شاعر نے بھئی۔ تو اس کی وجہ سے کیا یہ اب اس کس کی طرف ہوا؟ غیر ما ہو لہ کی طرف بھئی۔ اور نیز اس سے یہ بھی فائدہ حاصل ہوا کہ اگر مطی کی طرف کرتے کہ سواریاں بہہ پڑیں تو اتنا مبالغہ نہیں تھا، لیکن جب شاعر نے کہا وادیاں بہہ پڑیں معلوم ہوا وادیاں کیا تھیں؟ بھری ہوئی تھیں اور بے انتہا زیادہ لوگ تھے جو چل رہے تھے بھئی۔ دوسرا یہ تو تھا مولانا اس مجازِ عقلی لفظوں کے اندر بھئی، سالت کا اسناد کس کی طرف ہونا چاہیے تھا؟ مطی کی طرف لیکن ہوا کس کی طرف؟ اباطح کی طرف، تو یہ کیا ہوا؟ مجازِ عقلی۔ یہ تو تھا لفظوں کے اندر، ایک ہے مولانا ضمناً بھی اسناد مجازِ عقلی کیا، کس طرح؟ بھئی کہنا چاہیے تھا وادیاں بہہ پڑیں سواریوں کے ساتھ، وادیاں کس کے ساتھ بہہ پڑیں؟ یعنی سواریاں، لیکن کہا کیا؟ سواریوں کی گردنوں کے ساتھ مولانا۔ تو یہاں با مصاحبت یا با ملابست لے کر آئے بھئی، معلوم ہوا وادی کے ساتھ کیا بہہ پڑیں؟ میں کہتا ہوں: زید عمر کے ساتھ گیا، تو اسناد میں نے کس کی طرف کیا؟ زید کی طرف، زید گیا، اور ساتھ کون تھا؟ ساتھ عمر بھی تھا، "ذَهَبَ زَيْدٌ بِعَمْرٍو" تو زہـ ذہاب کا اسناد براہ راست کس کی طرف ہو رہا ہے؟ زید کی طرف ہو رہا ہے، لیکن ساتھ با مصابـ مصاحبت بھی ہے، زید ساتھ گیا کس کے؟ عمر کے۔ معلوم ہوا عمر بھی جانے کے اندر شریک ہے، تو ضمناً اسناد کس کی طرف ہوا؟ عمر کی طرف بھی۔ تو صراحۃً ہے زید کی طرف اور ضمناً کس کی طرف؟ عمر کی طرف بھی ہے، تو عمر بھی اس کے ساتھ چلنے میں شریک۔ تو یہاں پر بھی اسناد با کے بعد مطی کو ذکر ہونا چاہیے تھا لیکن ذکر کس کو کیا؟ اعناق کو۔ تو یہ بھی مولانا کیا ہے؟ تو یہ مولانا ضمناً اسناد کر دیا اعناق کی طرف اور یہ ایک اور مجازِ عقلی کا ارتکاب کیا ضمناً شاعر نے بھئی، تو اعناق کو بھی داخل کیا۔ اور اس لیے ضمناً کیا کہ وادیاں بہہ پڑیں جاـ سواری کے جانوروں کی گردنوں کے ساتھ۔ گردنوں کا تذکرہ اس لیے کیا، کہتے ہیں اس لیے کہ عموماً سواری کی رفتار وغیرہ کا پتہ کس سے چلتا ہے؟ اس کی گردن ہی سے چلتا ہے بھئی۔ "وَالِاسْتِعَارَةُ بِاعْتِبَارِ الثَّلَاثَةِ: الْمُسْتَعَارِ مِنْهُ، وَالْمُسْتَعَارِ لَهُ، وَالْجَامِعِ، سِتَّةُ أَقْسَامٍ" جی، ایک اور تقسیم کر رہے ہیں استعارہ کی مولانا۔ کہتے ہیں استعارہ تینوں کے اعتبار سے، تین کون مولانا؟ مستعار لہ، مستعار منہ اور جامع۔ ان تینوں کے اعتبار سے چھ قسم پر ہے بھئی۔ کتنی قسم پر؟ چھ قسم پر بھئی۔ آپ نے پڑھا ہے مولانا کہ مستعار لہ اور مستعار منہ یا دونوں حسی ہوں گے یا دونوں عقلی ہوں گے یا اول حسی، ثانی عقلی، یا اول عقلی، ثانی حسی۔ کتنی صورتیں ہوئیں؟ چار صورتیں ہوئیں، کتنی صورتیں؟ چار۔ اور ان میں آپ نے پڑھا ہے کہ مستعار منہ اور مستعار لہ دونوں جب حسی ہوں تو وجہِ تشبیہ حسی بھی ہو سکتی ہے اور عقلی بھی ہو سکتی ہے اور حسی اور عقلی دونوں سے مرکب بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن جب مستعار لہ اور مستعار منہ دونوں عقلی ہوں یا دونوں میں سے ایک عقلی ہو تو پھر وجہِ تشبیہ عقلی ہی ہو سکتی ہے، حسی اس لیے کہ حسی کا قیام عقلی کے ساتھ ممکن نہیں۔ ایک چیز جو خود جس کا ادراک ہم حس سے نہیں کر سکتے تو اس کے ساتھ ایسا وصف بھی قائم نہیں ہو سکتا جس کا ادراک کس سے ہو؟ حس سے، حس سے ہو۔ تو کہتے ہیں اس اعتبار سے چھ قسم پر ہے، چھ قسم پر کس طرح؟ دیکھو، ادھر دیکھو بھئی۔ یہ ہے مولانا مستعار منہ اور یہ کیا ہے؟ مستعار لہ ہے۔ اگر یہ تـ تو یہ بھی حسی ہو اور دوسرا یہ مستعار منہ بھی کیا ہو؟ حسی ہو، تو اس کے اندر جامع ان میں مولانا وجہِ تشبیہ جو ہے وہ حسی بھی ہو سکتی ہے کیونکہ حسی کے ساتھ حسی کا قیام ممکن ہے دونوں کے ساتھ، اور وجہِ تشبیہ عقلی بھی ہو سکتی ہے یا وجہ ایسی تشـ تشبیہ ایسی بھی ہو سکتی ہے کہ بعض تو اس میں سے حسی ہو اور بعض کیا ہو؟ عقلی ہو، دونوں ہوں بھئی دونوں۔ تو کتنی صورتیں ہوئیں؟ تین صورتیں بھئی۔ دیکھو، مستعار منہ پہلی صورت لو صرف: مستعار منہ بھی حسی، مستعار لہ بھی حسی، اور ان میں وجہِ تشبیہ یا حسی ہوگی یا عقلی ہوگی یا مختلف ہوگی، یعنی حسی بھی ہوگی اور عقلی بھی، کچھ حسی ہے اور کچھ عقلی۔ تو کتنی صورتیں ہوئیں؟ تین صورتیں۔ اور دوسـ پھر اگر مستعار منہ مستعار لہ اور مستعار منہ دونوں عقلی ہوں تو وجہِ تشبیہ صرف کیا ہوگی؟ عقلی ہی ہو سکتی ہے، حسی کتنی ہو گئیں؟ چار۔ اول حسی ہے، ثانی عقلی ہے، اب وجہِ تشبیہ کیا ہوگی؟ اب بھی صرف عقلی ہوگی کیونکہ جب ایک عقلی ہے تو لازمی بات ہے کہ اس کے ساتھ حـ عقلی ہی کا قیام ہو سکتا ہے، حسی کا قیام اور وجہِ تشبیہ تو دونوں کے اندر پائی جاتی ہے، لہٰذا کتنی صورتیں ہو گئیں؟ پانچ۔ اور ان میں بھی ایک عقلی ہے اور ایک حسی ہے تو وجہِ تشبیہ صرف کیا ہو سکتی ہے؟ عقلی ہی ہو سکتی ہے۔ کل کتنی صورتیں ہوئیں؟ چھ صورتیں ہوئیں بھئی۔ سمجھ میں آئیں کہ نہیں آئیں بھئی؟ دیکھو بھئی، تم کھڑے ہو بھئی عاطف۔ تم بھی کھڑے ہو جاؤ۔ یہ ہے مستعار لہ بھئی، یہ ہے مستعار منہ۔ اور یہ بھی حسی، یہ بھی حسی مولانا۔ ٹھیک ہے؟ ہاں بھئی، آپ دو بھی ساتھ کھڑے ہو جائیں۔ آپ بھی کھڑے ہو جائیں بھئی۔ یہ کیا ہے مولانا؟ مستعار منہ عقلی ہے، وہ بھی مستعار منہ کیا ہے؟ عقلی ہے۔ آگے بھئی دو کھڑے ہو جائیں۔ ہاں بھئی، ایک اول حسی، ثانی عقلی۔ آگے بھئی دو کھڑے ہو جائیں۔ جی، اول کیا ہے؟ عقلی، ثانی کیا ہے؟ حسی۔ یہ کتـ یہ چار صورتیں ہیں۔ اب ان کے اندر جامع دیکھنا ہے۔ یہ دونوں کیا ہیں مولانا؟ حسی، تو ان کے اندر جو وجہِ تشبیہ ہے وہ حسی بھی ہو سکتی ہے کیونکہ حسی کے ساتھ حسی کا قیام ہو سکتا ہے، اور عقلی بھی ہو سکتی ہے کیونکہ حسی کے ساتھ عقلی کا قیام بھی ہو سکتا ہے، اور ایسی وجہِ تشبیہ بھی ہو سکتی ہے جو کچھ حسی ہو اور کچھ عقلی ہو۔ تو کتنی صورتیں ہوئیں ان میں؟ تین صورتیں۔ بیٹھو بھئی۔ بھئی یہ دو جو ہیں، ان یہ دونوں عقلی ہیں، لہٰذا ان کے ساتھ جو وجہِ تشبیہ ہوگی وہ بھی صرف کیا ہوگی؟ کتنی بیٹھو بھئی، کتنی ہو گئیں؟ چار۔ ایک حسی ہے ایک عقلی ہے مولانا، اب بھی وجہِ تشبیہ صرف کیا ہو سکتی ہے؟ عقلی ہو سکتی ہے، کیونکہ ایک تو عقلی ہے اس کے ساتھ تو حسی کا قیام ممکن نہیں اور وجہِ تشبیہ تو دونوں کے اندر پائی جاتی ہے، لہٰذا کتنی صورتیں ہو گئیں؟ پانچ۔ اور ان میں بھی ایک عقلی ہے اور ایک حسی ہے تو وجہِ تشبیہ صرف کیا ہو سکتی ہے؟ عقلی ہی ہو سکتی ہے۔ کل کتنی صورتیں ہوئیں؟ چھ صورتیں ہوئیں بھئی۔ "وَالِاسْتِعَارَةُ بِاعْتِبَارِ الثَّلَاثَةِ: الْمُسْتَعَارِ مِنْهُ، وَالْمُسْتَعَارِ لَهُ، وَالْجَامِعِ، سِتَّةُ أَقْسَامٍ" چھ قسم پر ہے، "لِأَنَّ الْمُسْتَعَارَ مِنْهُ وَالْمُسْتَعَارَ لَهُ إِمَّا حِسِّيَّانِ أَوْ عَقْلِيَّانِ" اس لیے کہ مستعار منہ اور مستعار لہ دونوں یا تو حسی ہوں گے یا دونوں عقلی ہوں گے، "أَوِ الْمُسْتَعَارُ مِنْهُ حِسِّيٌّ وَالْمُسْتَعَارُ لَهُ عَقْلِيٌّ" یا مستعار منہ حسی ہوگا اور مستعار لہ مستعار لہ کیا ہوگا؟ عقلی ہوگا، "أَوْ بِالْعَكْسِ" یا مستعار منہ عقلی ہوگا اور مستعار لہ حسی ہوگا، "فَيَصِيرُ أَرْبَعَةً" تو مجموعہ کتنا بن گیا بھئی؟ چار۔ "وَالْجَامِعُ فِي الثَّلَاثَةِ الأَخِيرَةِ عَقْلِيٌّ لَا غَيْرُ" اور آخری تین کے اندر جامع جو ہے عقلی صرف عقلی ہی ہوگا، دوسرا نہیں، "لِمَا سَبَقَ فِي التَّشْبِيهِ" بوجـ بوجہ اس کے جو گزر گئی بات تشبیہ کے اندر کہ وہاں کہ حسی کے ساـ عقل عقلی کے ساتھ حسی کا قیام نہیں ہو سکتا۔ "لَكِنَّهُ فِي الْقِسْمِ الأَوَّلِ" لیکن پہلی قسم جس کے اندر مستعار لہ بھی حسی تھا اور مستعار منہ بھی کیا تھا؟ حسی تھا، "إِمَّا حِسِّيٌّ" وجہِ تشبیہ یا تو حسی ہوگی، "أَوْ عَقْلِيٌّ" یا کیا ہوگی؟ عقلی ہوگی، "أَوْ مُخْتَلِفٌ" یا کیا ہوگی؟ مختلف، بعض اس کا عقلی اور بعض حسی، "فَيَصِيرُ سِتَّةً" تو کتنی بن جائیں گی کل کے؟ چھ بن جائیں گی۔ "وَإِلَى هَذَا أَشَارَ بِقَوْلِهِ" اور اسی کی طرف اشارہ کیا مصنف نے قول کے ساتھ: "لِأَنَّ الطَّرَفَيْنِ إِنْ كَانَا حِسِّيَّيْنِ" اس لیے کہ طرفین جو ہیں اگر دونوں کیا ہیں؟ حسیین ہیں، "فَالْجَامِعُ إِمَّا حِسِّيٌّ" تو جامع کی کیا ہوگا مولانا؟ یا حسی ہوگا۔ اگلے صفحے پر دیکھیں شروع کے اندر مولانا پہلی سطر میں: "وَإِمَّا عَقْلِيٌّ" یا کیا ہوگا؟ عقلی ہوگا، جی۔ اور اس سے اگلے صفحے پر 392 پر دیکھیں مولانا: "وَإِمَّا مُخْتَلِفٌ" یا کیا ہوگا مولانا؟ 392 صفحے پر اما مختـ تو یہ پہلے کے اندر کتنی صورتیں بنتی تھیں؟ تین۔ علیٰ الترتیب تینوں کی مثالیں آئیں گی، دیکھیے بھئی۔ "نَحْوُ" جیسے مثال کے طور پر: "فَأَخْرَجَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا لَهُ خُوَارٌ" پس نکالا ان کے لیے ایک بچھڑا، بدن جس لہ خوار جس کا کیا جس کے لیے کیا تھی؟ آواز تھی گائے کی مولانا۔ خوار گائے، بھیڑ بکری وغیرہ، اونٹ کی آواز کو کہتے ہیں بھئی۔ تو دیکھو مولانا، پس نکالا ان کے لیے ایک بچھڑا۔ بھئی یہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ جب قوم کو لے کر گئے بھئی تو وہاں پر دریائے نیل کے وہ سمندر کو عبور کیا مولانا، وہاں دوسری جگہ جا کر رہنے لگے اور وہاں پر پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام گئے بھئی اور تو پیچھے کون تھا؟ وہ سامری جو تھا۔ سامری مولانا دراصل یہ سامرہ قبیلے کی طرف منسوب ہے، سامرہ قبیلے والا۔ اور اس کا نام بھی موسیٰ تھا بھئی، اور یہ کیا تھا؟ لوہار تھا کہتے ہیں۔ تو اس نے یہ وہ جو لوگ لے کر آئے تھے فرعون کے قبیلے کا نام تھا قبط بھئی۔ کیا نام تھا؟ قبط۔ تو اس کے لوگوں سے وہ زیور لے کر آئے تھے بھئی کہ تو مانگ لیا کرتے تھے ضرورت، شادی وغیرہ یا ایسے مواقع پر۔ تو وہ زیور اس نے کہا سامری نے کہ اے لوگو، لاؤ تم وہ زیور مجھے دو، میں تمہارے لیے کیا بنا دوں؟ ایک معبود بنا دیتا ہوں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام تو تھے نہیں، چنانچہ اس نے آگ جلائی اور اس کے چونکہ لوہار تھا طریقہ آتا تھا، تو اس نے بھٹی کے اندر وہ سارے سونے کو پگھلا کر کیا بنایا؟ ایک گائے کے بچھڑے کی شکل کی ایک چیز، بدن بنا دیا، اور پھر وہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کے گھوڑے کے سم اور کھر جہاں زمین پر لگتے تھے وہاں پر فوراً سبزہ اگ آیا کرتا تھا بھئی، حضرت جبرائیل علیہ السلام کے گھوڑے کی خصوصیت تھی۔ تو وہاں فوراً سبزہ اگ آتا تھا، تو سامری نے جب یہ دیکھا تھا تو اس نے وہ تھوڑی سی مٹی اٹھا لی تھی بھئی۔ چنانچہ اس نے یہ بچھڑا بنایا سونے سے اور اس کے منہ میں تھوڑی سی وہ کیا ہوئی؟ وہ مٹی ڈال دی جس کی وجہ سے اس سے بھی کچھ آثار زندگی کے اس میں نظر آنے لگے اور اس سے کیا ہوتی تھی؟ آواز نکلتی تھی، جی بعض مفسرین یہ کہتے ہیں۔ تو دیکھو وہ جو بدـ بدن بنایا سونے سے، اس کی شکل چونکہ کس کی طرح تھی؟ بچھڑے کی طرح تھی، لہٰذا اس کے لیے لفظِ عجل بولا گیا۔ حالانکہ اس نے وہ آگ میں سے بچھڑا نکالا تھا کوئی؟ نہیں، اس کی شکل کی ایک چیز تھی، تو وجہِ تشبیہ کیا ہے؟ شکل ہے، وجہِ تشبیہ کیا ہے؟ کہ اس کی شکل بھی اسی کی طرح تھی۔ تو "عِجْلًا" اس میں استعارہ ہے، اس لیے کہ عجل کو تو کہتے ہیں گائے کے بچھڑے کو، اور وہ جو اس نے نکالا تھا آگ میں سے وہ تو گائے کا ہاں، اس کی شکل کا تھا، تو اس پر عجل کا اطلاق ہوا یہ استعارہ ہے بھئی۔ "فَإِنَّ الْمُسْتَعَارَ مِنْهُ وَلَدُ الْبَقَرَةِ" اس لیے کہ مستعار منہ کیا ہے؟ گائے کا بچہ ہے۔ "وَالْمُسْتَعَارَ لَهُ" اور مستـ اور مستعار لہ جو ہے "الْحَيَوَانُ الَّذِي خَلَقَهُ اللَّهُ تَعَالَى مِنْ حُلِيِّ الْقِبْطِ" وہ حیوان ہے جس کو اللہ نے پیدا کیا تھا قبط کے زیور میں زیورات سے بھئی۔ حلی جمع ہے الحلی و الحلیۃ کی مولانا، زیور کی جمع۔ "الَّتِي سَبَكَتْهَا نَارُ السَّامِرِيِّ" وہ جس کو پگھلایا تھا سامری کی آگ نے، "عِنْدَ إِلْقَائِهِ فِي تِلْكَ الْحُلِيِّ التُّرْبَةَ الَّتِي أَخَذَهَا مِنْ مَوْطِئِ فَرَسِ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ" جب اس نے ڈالا تھا اس زیور کے اندر وہ مٹی جس کو اس نے اٹھایا تھا حضرت جبرائیل علیہ السلام کے گھوڑے کے قدموں کے نشانات، قدموں کی جگہ سے مولانا۔ "وَالْجَامِعُ الشَّكْلُ" اور جامع کیا ہے مولانا؟ شکل۔ دیکھو، مستعار منہ کیا ہے؟ مستعار منہ کیا ہے؟ کون سا لفظ بولا گیا بھئی؟ عجل کا لفظ۔ اور مستعار لہ کیا ہے؟ وہ جو کیا تھی؟ سونے کا بت سا جو بنا تھا، اور جامع کیا ہے؟ وجہِ تشبیہ کیا ہے؟ شکل ہے۔ تو شکل، بچھڑا اور وہ جو بت تھا، تینوں کیا ہیں؟ حسی ہیں، ان کا ادراک کس سے ہوتا ہے؟ حس سے ہوتا ہے۔ "فَإِنَّ ذَلِكَ الْحَيَوَانَ كَانَ عَلَى شَكْلِ وَلَدِ الْبَقَرَةِ" اس لیے کہ وہ حیوان جو ہے وہ بقرہ کے بچے کی شکل پر تھا، "وَالْجَمِيعُ" اور سارے کے سارے، یعنی مستعار منہ میں سے اور مستعار لہ اور جامع میں سے، "حِسِّيٌّ" سارے کیا ہیں؟ "مُدْرَكٌ بِالْبَصَرِ" ان کا ادراک بصر سے ہوتا ہے۔ "وَإِمَّا عَقْلِيٌّ" بھئی، یا کیا ہوگا جامع مولانا؟ عقلی ہوگا۔ جیسے: "وَآيَةٌ لَهُمُ اللَّيْلُ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ" اور نشانی ہے ان کے لیے رات کہ کھینچ نکالتے ہیں ہم اس سے دن کو۔ دیکھیے بھئی۔ کھینچ نکالنا مولانا، سلخ کہتے ہیں کھال اتارنا، سلخ کس کو کہتے ہیں؟ کھال اتارنا بکری وغیرہ سے۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ایک نشانی ہے ہماری قدرتوں کی نشانیوں میں سے رات ہے بھئی۔ یہ رات کیسے ظاہر ہوتی ہے؟ کہتے ہیں: دن کے چمڑے کو ہم اس پر سے اتار دیتے ہیں تو بیچ میں سے کیا نکل آتی ہے؟ رات نکل آتی ہے۔ جیسے بکرے پر سے مولانا کھال کو اتار دیا جائے تو اس میں سے کیا ظاہر ہو جائے گا؟ گوشت ظاہر ہو جائے گا بھئی۔ تو رات ہے دراصل اصل رات ہے مولانا، رات اس لیے ہے کہ رات تاریخی ہے، تاریخی کے لیے کسی سبب کی ضرورت نہیں، جبکہ دن کے لیے، روشنی کے لیے کیا ہے؟ کسی سبب کی ضرورت ہے۔ تو اصل رات ہے، اور پھر جب سورج نکلتا ہے تو اس رات پر پردہ پڑ جاتا ہے اور کھال چڑھ جاتی ہے کس چیز کی؟ دن کی مولانا۔ تو اللہ کیا فرماتے ہیں کہ پھر ہم اس یہ جو دن کی کھال اس پر چڑھی ہوئی ہے رات پر، اس کھال کو ہم کیا کر لیتے ہیں؟ کھینچ نکالتے ہیں تو اس میں سے کیا نکل آتی ہے؟ رات نکل آتی ہے بھئی۔ تو یہاں استعارہ ہے سلخ کے اندر مولانا، کھال اتارنا، یہاں حالانکہ کھال اتارنا ہے؟ لیکن تشبیہ دی گئی مولانا دیکھیے کس طرح: "وَآيَةٌ لَهُمُ اللَّيْلُ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ" آیت نشانی ان کے لیے رات ہے، کھینچ نکالتے ہیں ہم اس سے دن کو۔ "فَإِنَّ الْمُسْتَعَارَ مِنْهُ" اس لیے کہ مستعار منہ کیا ہے مولانا؟ مشبہ بہ، کہتے ہیں: "مَعْنَى السَّلْخِ" کیا ہے؟ سلخ کا معنی ہے۔ سلخ کا لفظ استعمال کیا نا بھئی، سلخ کا معنی کیا ہے؟ کھال اتارنا۔ خود بتلا رہے ہیں سلخ کا معنی: "وَهُوَ كَشْطُ الْجِلْدِ عَنْ نَحْوِ الشَّاةِ" اور وہ کھال کا اتارنا ہے بکری وغیرہ سے بھئی۔ "وَالْمُسْتَعَارُ لَهُ" اور مستعار لہ جو ہے "كَشْفُ الضَّوْءِ عَنْ مَكَانِ اللَّيْلِ" بھئی، روشنی کا کھولنا اور دور کرنا ہے کہاں سے؟ رات کی جگہ سے۔ بھئی کیا کیا جاتا ہے؟ دن کی کھال اتاری جاتی ہے یعنی روشنی کو ختم فرما دیتے ہیں کہاں سے؟ رات کی جگہ سے۔ بھئی رات کی جگہ کیا ہے؟ کہتے ہیں: "وَهُوَ مَوْضِعُ إِلْقَاءِ ظِلِّهِ" یہاں ہوا لگائیں مولانا، ہوا ہونا چاہیے بھئی۔ "وَهُوَ مَوْضِعُ إِلْقَاءِ ظِلِّهِ" وہ جگہ ہے جہاں پر رات اپنا سایہ ڈالتی ہے یعنی اپنی تاریکی پھیلاتی ہے مولانا، اور وہ کیا ہے؟ زمین ہے اور فضا۔ زمین اور فضا کے اندر رات کیا کر دیتی ہے؟ تاریکی کو پھیلا دیتی ہے، تو اس پر روشنی کا چمڑا چڑھ گیا تھا اس چمڑے کو اتار دیا تو پھر کیا نکل آئی بیچ میں سے؟ رات نکل آئی بھئی۔ "وَهُمَا حِسِّيَّانِ" اور یہ دونوں حسی ہیں، کون حسی ہیں مولانا؟ مستعار لہ اور مستعار منہ۔ بھئی پہلی صورت چل رہی ہے نا کہ مستعار لہ بھی حسی، مستعار منہ بھی حسی، اور اس میں پھر جامع کتنی قسم کا ہو سکتا تھا؟ تین قسم کا۔ ایک قسم کی بات ہو گئی اب دوسری قسم کہ جامع عقلی ہوگا۔ تو کہتے ہیں مولانا مستعار منہ بھی حسی اور وہ کیا تھا؟ کھال کا اتارنا۔ کھال کا اتارنا، اس کے ساتھ تشبیہ دی ہے کس کو؟ روشنی کے چلے جانے کو۔ تو کھال کا اتارنا بھئی یہ تو مصدر ہے، اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ مصدر کا خارج میں کوئی وجود نہیں، تو پھر یہ حسی کیسے ہوا؟ یہ تو عقلی ہے بھئی۔ کہتے ہیں بھئی واقعی اگر ہم اس کو معنیٰ مصدری میں لیں پھر آپ کی بات ٹھیک ہے، پھر یہ حسی نہیں بن سکتا بلکہ کیا ہے؟ عقلی ہے، اس کا ادراک عقل سے ہو سکتا ہے، حس اس کا ادراک نہیں۔ کہتے ہیں پھر زیادہ سے زیادہ ہم یہ کر سکتے ہیں کہ کشط بول کر، مصدر بول مصدر بول کر حاصل بالصدر مراد لیا جائے۔ اس مصدر کی سے جو ہیئت حاصل ہو رہی ہے، مثلاً مولانا خارج میں آپ کو میں نے بتلایا تھا ہنسنا نظر نہیں آتا کیونکہ ہنسنا مصدر ہے، ہاں اس ہنسنے سے جو کیفیت پیدا ہوئی اور وہ کیا ہے؟ ہنسی، وہ آپ کو دکھائی دیتی ہے۔ دوڑنا مصدر ہے، خارج میں آپ کو دوڑنا دکھائی نہیں دیتا بلکہ حاصل بالمصدر جو ہے اس سے جو کیفیت حاصل ہوئی وہ کیا ہے؟ دوڑ، خارج میں آپ کو دوڑ دکھائی دیتی ہے، دوڑنا دکھائی نہیں، کیونکہ دوڑنا تو مصدر ہے۔ تو یہاں بھی اسی طرح کھال کا اتارنا یہ تو مصدر ہے، دکھائی نہیں دیتا، لیکن اس سے جو کیفیت پیدا ہوئی وہ ہمیں دکھائی دیتی ہے جو کھال اتری ہوئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو حسی ہوا حاصل بالمصدر ہونے کے اعتبار سے۔ اور اسی طرح کشف الضوء کے اندر بھی جو روشنی کا ہٹانا اور چلے جانا جو ہے یہ ہمیں یہ مصدری مصدر تو نظر نہیں آتا لیکن اس سے جو کیفیت حاصل ہوئی وہ ہمیں دکھائی دیتی ہے بھئی، تو اس اعتبار سے یہ دونوں حسی ہیں۔ "وَالْجَامِعُ مَا يُعْقَلُ" اور جامع وہ ہے جس کا تعقل ہوتا ہے، جس کا ادراک عقل کرتی ہے مولانا۔ جامع عقلی ہے، وہ کیا ہے بھئی؟ کہتے ہیں: "مِنْ تَرَتُّبِ أَمْرٍ عَلَى آخَرَ" ایک چیز کا مرتب ہونا دوسری چیز۔ روشنی کے چلے جانے پر کیا مرتب ہوا؟ رات آ گئی مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟ جی۔ "أَيْ حُصُولِهِ عَقِيبَ حُصُولِهِ دَائِمًا" ایک امر کا مرتب ہونا دوسرے پر، یعنی حاصل ہونا ایک امر کا دوسرے امر کے فوراً بعد دائمًا ہمیشہ، "أَوْ غَالِبًا" یا کیا ہے؟ اکثر۔ ہمیشہ مولانا جب بھی کھال اترے گی گوشت ظاہر ہوگا، یا مولانا ہمیشہ تو نہیں لیکن غالباً جب بھی کھال اترے گی فوراً کیا ظاہر ہوگا؟ گوشت ظاہر ہوگا، اس لیے کہ ہو سکتا ہے کھال جدا ہو جائے گوشت سے لیکن ابھی اتاری نہیں ہے تو مولانا گوشت بھی ظاہر نہیں ہوگا بھئی۔ "كَتَرَتُّبِ ظُهُورِ اللَّحْمِ عَلَى الْكَشْطِ" جیسے کہ مرتب ہونا مولانا گوشت کے ظہور، گوشت کا ظہور ہوتا ہے، یہ کس پر مرتب ہوتا ہے؟ عن الکـ کشط، کھال اتارنے پر، کھال اتاری جائے گی تو گوشت کا ظہور مرتب ہوگا، گوشت ظاہر ہوگا۔ "وَتَرَتُّبِ ظُهُورِ الظُّلْمَةِ عَلَى كَشْفِ الضَّوْءِ" اور تاریکی کا ظہور یہ مرتب ہوتا ہے کس پر؟ کشف الضوء، روشنی کے چلے جانے پر، ہٹا دینے پر، "عَنْ مَكَانِ اللَّيْلِ" رات کی جگہ سے۔ "وَالتَّرَتُّبُ أَمْرٌ عَقْلِيٌّ" اور ترتب کیا ہے مولانا؟ ایک امرِ ایک چیز کا مرتب ہونا دوسری چیز پر، تو یہ مرتب ہونا مصدر ہے اور مصدر کیا ہے؟ امرِ عقلی ہے مولانا، حس سے ادراک نہیں ہو سکتا۔ "وَبَيَانُ ذَلِكَ" اب یہی بات کر رہے ہیں مولانا علامہ تفتازانی تفصیل سے جو میں نے آپ کو سمجھا دی بھئی۔ "وَبَيَانُ ذَلِكَ" اور بیان اس ترتب کا، یہ جو مولانا ظلمت ظاہر ہوتی ہے روشنی کے چلے جانے پر، دن کی روشنی چلی گئی تو کیا ظاہر ہوئی؟ رات کی تاریکی۔ اس کا بیان یہ ہے کہ: "أَنَّ الظُّلْمَةَ هِيَ الأَصْلُ" کہ ظلمت کیا ہے؟ اصل ہے، "وَالنُّورُ طَارٍ عَلَيْهَا" اور نور، روشنی جو ہے اس پر طاری ہوا ہے، اس پر پیش آیا ہے، اس پر واقع ہوا ہے، "يَسْتُرُهَا بِضَوْئِهِ" اس کو ڈھانپ لیتی ہے یہ نور ڈھانپ لیتا ہے اپنی روشنی کے ساتھ، "فَإِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ" جب سورج غروب ہو جاتا ہے "فَقَدْ سُلِخَ النَّهَارُ مِنَ اللَّيْلِ" تو تحقیق کھینچ نکالا جاتا ہے دن کو کس سے؟ رات سے، "أَيْ كُشِطَ وَأُزِيلَ" اتار لیا جاتا ہے اور زائل کر دیا جاتا ہے، "كَمَا يُكْشَفُ عَنِ الشَّيْءِ الشَّيْءُ" جیسے کہ دور کر دیا جائے ایک چیز سے کس کو؟ دوسری چیز کو، یعنی کہ گوشت سے کس کو دور کر دیا جائے؟ کھال کو، "الطَّارِي عَلَيْهِ السَّاتِرُ لَهُ" ایسی چیز جو اس پر واقع تھی، طاری تھی اور اس کو کیا کرنے والی تھی؟ ڈھانپنے والی تھی۔ "فَيُجْعَلُ ظُهُورُ الظُّلْمَةِ بَعْدَ ذَهَابِ ضَوْءِ النَّهَارِ" پس کر دیا گیا، بنا دیا گیا ظلمت کے ظہور کو دن کی روشنی کے چلے جانے کے بعد، بھئی دن کی روشنی کے جانے کے بعد کیا ظاہر ہوئی؟ ظلمت ظاہر ہوئی۔ دن کی روشنی کے بعد یہ جو ظلمت ظاہر ہوئی اس کو اسی طرح بنا دیا گیا، کس کی طرح؟ "بِمَنْزِلَةِ ظُهُورِ الْمَسْلُوخِ بَعْدَ سَلْخِ إِهَابِهِ عَنْهُ" جیسے مولانا مسلوخ ظاہر ہو جائے۔ مسلوخ کیا ہے جس سے کھال کو اتارا گیا ہے، کہ مسلوخ ظاہر ہو جائے بعد اس کے کہ جب اس سے اتارا جائے، اہاب کہتے ہیں کھال اور چمڑے کو، بعد اس کے کہ اس سے اس کے چمڑے کو اتار لیا جائے بھئی۔ "وَحِينَئِذٍ صَحَّ قَوْلُهُ" اور اس وقت یہ مولانا اللہ کا یہ قول بھی صحیح ہو جائے گا بغیر اشکال کے۔ مثلاً اگر ہم یہ تقریر لیں تو اللہ کے اس قول پر اشکال وارد نہیں ہوتا۔ کون سی تقریر لیں؟ یہ جو ہم تقریر لیں تو اس قول پر اشکال وارد ورنہ تو اشکال وارد ہوگا۔ کیا تقریر کی مولانا؟ دراصل آگے صاحبِ مفتاح کی تقریر آنے والی ہے۔ یہ تقریر جو چل رہی ہے یہ تو ہے صاحبِ تلخیص کی، انہوں نے کیا کہا؟ اصل ہے رات اور چمڑا کس چیز کا ہے؟ دن کا ہے۔ تو دن کے چمڑے کو اوپر سے نکالا تو کیا نکل آئی؟ رات۔ صاحبِ مفتاح نے برعکس کیا، کہتے ہیں: دن ہے، دن کے اوپر رات کا چمڑا ہے، رات کے چمڑے کو اتارا تو پھر کیا ایا؟ دن نکل آیا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو صاحبِ وہ چونکہ الگ تقریر تقریر کریں گے لیکن کہتے ہیں صاحبِ یہ جو تلخیص ہیں ان کی تقریر لی جائے تو اللہ کے اس قول پر اعتراض اور اشکال وارد نہیں ہوتا، ورنہ اگر دوسری تقریر لی جائے پھر تو کیا واقع ہوگا؟ اشکال وارد ہوگا۔ تو دیکھو، اللہ نے کیا فرمایا آگے بھئی؟ "وَآيَةٌ لَهُمُ اللَّيْلُ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ" آگے بھئی؟ "فَإِذَا هُمْ مُظْلِمُونَ" پس وہ اچانک تاریکی میں داخل ہونے والے ہوتے ہیں۔ پس اچانک وہ کس میں داخل ہونے والے ہیں؟ معلوم ہوا چمڑا دن کا مراد ہے، دن کا چمڑا اتارا تو کیا نکل آئی؟ رات، اور جب رات آئی تو "فَإِذَا هُمْ مُظْلِمُونَ" کس میں داخل ہو گئے؟ تاریکی میں داخل ہو گئے۔ اگر وہ صاحبِ مفتاح کی تقریر لیں، وہ کیا تھا؟ رات کا چمڑا اتارا، جب رات کا چمڑا اتارا تو کیا نکلا؟ دن، تو پھر "فَإِذَا هُمْ مُظْلِمُونَ" وہ تاریکی میں داخل ہوئے یا تاریکی میں روشنی میں آ گئے بھئی؟ پھر تو روشنی میں آ گئے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اس صورت میں یہ قول اللہ بھی صحیح یعنی اس پر اشکال وارد نہیں ہوتا اس تقریر کی بنا پر، ورنہ تو اس پر اشکال وارد ہوگا۔ "لِأَنَّ الْوَاقِعَ عَقِيبَ ذَهَابِ الضَّوْءِ عَنْ مَكَانِ اللَّيْلِ هُوَ الإِظْلَامُ" اس لیے کہ واقع جو ہے رات کی جگہ سے روشنی کے چلے جانے کے بعد وہ اظلام ہے، اس لیے کہ وہ چیز جو واقع ہونے والی ہے رات کی جگہ سے روشنی کے چلے جانے کے بعد، بھئی رات کی جگہ سے جب روشنی چلی گئی تو کیا واقع ہوا؟ وہ اظلام، وہ تاریکی، تاریکی۔ "وَأَمَّا عَلَى مَا ذُكِرَ فِي الْمِفْتَاحِ" اور باقی وہ جو ذکر کیا گیا ہے مفتاح العلوم کے اندر علامہ سکاکی میں، "مِنْ أَنَّ الْمُسْتَعَارَ لَهُ ظُهُورُ النَّهَارِ مِنْ ظُلْمَةِ اللَّيْلِ" کہ کیا ظاہر ہوگا؟ دن ظاہر ہو رہا ہے، من کس سے؟ رات کی تاریـ یہ ان لفظوں پہ غور بھئی ان پہ توجہ رکھنا، آگے اسی سے متعلق تقریر آئے گی، یہ صاحبِ مفتاح کی تقریر ہے، وہ کیا فرما رہے ہیں؟ "ظُهُورُ النَّهَارِ" کیا ظاہر ہوگا؟ دن ظاہر ہوگا، کس میں سے ظاہر ہوگا؟ معلوم ہوا چمڑا کس کا تھا؟ رات کا، اور اندر جو گوشت ہے وہ کیا ہے؟ دن ہے مولانا۔ تو کہتے ہیں: "فَفِيهِ إِشْكَالٌ" اس تقریر میں اشکال وارد ہوتا ہے۔ کیوں؟ "لِأَنَّ الْوَاقِعَ بَعْدَهُ إِنَّمَا هُوَ الإِبْصَارُ دُونَ الإِظْلَامِ" یہ اظلام کریں لفظ مولانا یہ کاتب کی غلطی ہے، اظلام بھئی۔ اس لیے کہ وہ جو چیز واقع ہو رہی ہے اس کے بعد کیا واقع ہونا چاہیے؟ وہ ابصار واقع ہونا چاہیے نہ کہ نہ کہ اظلام بھئی، پھر تو قرآن میں یوں ہونا چاہیے تھا: "فَإِذَا هُمْ مُبْصِرُونَ" اچانک وہ کیا ہیں؟ دیکھنے والے ہوتے ہیں۔ یہاں تک تقریر سمجھ میں آ گئی بھئی؟ بعضوں نے پھر اس کا جواب دینے کی کوشش کی بھئی، دونوں میں مطابقت، مصنف کا کلام کیا کہتا تھا بھئی؟ کہ چمڑا ہے دن کا اور اندر گوشت کیا ہے؟ وہ رات ہے۔ اور صاحبِ مفتاح کی تقریر کیا کہتی ہے؟ کہ چمڑا ہے رات اور اندر گوشت کیا ہے؟ دن۔ اب ان میں مطابقت بعضوں نے کوشش کی دینے کی، تین جوابات ذکر کریں گے بلکہ چار جواب۔ پہلا جواب یہ دیں گے مولانا کہ یہ جو صاحبِ مفتاح کی تقریر ہے اس میں قلب ہے۔ انہوں نے کیا کہا؟ "ظُهُورُ النَّهَارِ مِنْ ظُلْمَةِ اللَّيْلِ"، دیکھو بھئی وہ جو لفظ میں نے کہا تھا جن پہ نظر رکھو بھئی، "ظُهُورُ النَّهَارِ مِنْ ظُلْمَةِ اللَّيْلِ" یہاں قلب ہے، نہار کی جگہ ظلمۃ اللیل لے آئے اور ظلمۃ اللیل کی جگہ کیا لے آئے؟ نہار۔ تو اصل میں یوں ہے: "ظُهُورُ ظُلْمَةِ اللَّيْلِ مِنَ النَّهَارِ" رات کی تاریکی ظاہر ہوئی نہار میں سے۔ تو دیکھو اب ایک ہی بات بن گئی دونوں کی، دونوں کی بات کیا ہوئی؟ ایک ہی ہو گئی مولانا، قلب، کیونکہ علامہ سکاکی کیا فرماتے ہیں؟ قلب کر سکتے ہیں آپ کہیں پر بھی، ایک کلام کے جز کو دوسرے کی جگہ رکھ دیں اور دوسرے کو پہلے کی جگہ پر رکھ دیں، تو یہاں بھی اسی طرح۔ تو اگر قلب مانا جائے تو بھی اشکال ختم بھئی، دونوں کی تقریر ایک ہی بن جائے گی۔ دوسری تقریر سنو مولانا، دوسرا جواب بعضوں نے یہ دیا کہ ظہور سے مراد تمییز ہے مولانا، ممتاز ہونا، کیا ہونا؟ ممتاز ہونا۔ اب دیکھو اسی ترجمے پہ ذرا نظر ڈالو: "ظُهُورُ النَّهَارِ" اور من بمعنی عن کے ہے، "ظُهُورُ النَّهَارِ عَنْ ظُلْمَةِ اللَّيْلِ" دن ممتاز ہو جاتا ہے یعنی جدا ہو جاتا ہے رات کی تاریکی سے۔ دن کیا ہوتا ہے؟ جدا ہو جاتا ہے رات کی اب بھی مولانا اشکال ختم، جب دن جدا ہو گیا رات کی تاریکی سے، "فَإِذَا هُمْ مُظْلِمُونَ" تو وہ کس میں چلے گئے؟ اندھیرے میں۔ سمجھ میں آ رہی ہے تقریر بھئی؟ دن جدا ہو گیا، جدا ہوا تو رات رہ گئی۔ تیسرا جواب مولانا کہ ظہور بمعنی زوال کے ہے، ظہور النہار کا کیا معنی؟ دن زائل ہوا، دن کیا ہوا؟ چلا گیا، جب چلا گیا تو کیا آ گئی؟ رات آ گئی مولانا، اور جب رات آئی "فَإِذَا هُمْ مُظْلِمُونَ" تو وہ کس میں ہوئے؟ تاریکی میں ہوئے۔ تینوں جواب سمجھ میں آئے بھئی؟ دیکھیے بھئی۔ "وَحَاوَلَ بَعْضُهُمُ التَّوْفِيقَ بَيْنَ الْكَلَامَيْنِ" اور ارادہ کیا بعض علماء نے تطبیق بین الکلامین کا "بِحَمْلِ كَلَامِ الْمِفْتَاحِ عَلَى الْقَلْبِ" بایں طور کہ انہوں نے محمول کیا مفتاح کے کلام کو علی القلب، کس پر؟ قلب پر، "أَيْ ظُهُورِ ظُلْمَةِ اللَّيْلِ مِنَ النَّهَارِ" یعنی رات کی تاریکی ظاہر ہوئی نہار میں سے۔ "أَوْ بِأَنَّ الْمُرَادَ" یا دوسرا جواب مولانا، اس کا عطف بحمل الکلام پر ہو، "أَوْ بِأَنَّ الْمُرَادَ" یا بایں طور کہ مراد من الظہور، ظہور سے کیا مراد ہے؟ التمییز، ممتاز ہونا ہے، تو دن ممتاز ہوا، جدا ہوا کس سے بھئی؟ رات سے، تو کیا نکل آئی؟ رات نکل آئی۔ "أَوْ بِأَنَّ الظُّهُورَ بِمَعْنَى الزَّوَالِ" یا ظہور کس کے معنی میں ہے؟ زوال کے معنی میں ہے بھئی، یعنی زائل ہو گیا دن، جب دن زائل ہوا تو "فَإِذَا هُمْ مُظْلِمُونَ" وہ کس میں ہوئے؟ تاریکی میں۔ تو تقریریں دونوں کی ایک ہی ہو گئیں مولانا۔ "كَمَا فِي قَوْلِ الْحَمَاسِيِّ" جیسے اس حماسی شاعر کے قول کے اندر ہے مولانا۔ حماسی مولانا، حماسہ کے اندر بہت سے شعراء ہیں بھئی، لیکن وہ بڑے سارے کیا ہیں؟ ثقہ شعراء ہیں اور کیا ہیں؟ قدیم شعراء ہیں، قدیم شعراء، اور قدیم شعراء کا کلام کیا ہے؟ بطورِ دلیل کے ذکر کیا جاتا ہے۔ تو حماسی کوئی خاص شاعر نہیں ہے بلکہ حماسہ کے اندر جتنے شاعر ہیں کسی ایک کے بھی کلام کو ذکر کرتے ہوئے بس حماسی کہہ دیا جائے تو کافی ہے، اس کا نام لینے کی ضرورت نہیں، کیونکہ ہر ایک کا کلام بطورِ دلیل کے ذکر کر سکتے ہیں، وہ سب قدیم شعراء ہیں بھئی۔ "وَذَلِكَ"، دیکھو مولانا انہوں نے کیا کہا؟ ظہور بمعنی زوال کے ہے، ظاہر ہونے کا کیا معنی؟ زائل ہونا۔ بھئی کیا دلیل ہے کہ ظاہر ہونا بمعنی زائل ہونے کے آتا بھی ہے یا نہیں آتا؟ تو دو اشعار ذکر کریں گے جن کے اندر ظاہر بمعنی زائل کے ہے۔ "وَذَلِكَ عَارٌ يَا ابْنَ رَيْطَةَ" اور یہ عار ہے، اے ریطہ کے بیٹے، ریطہ نام ہے، اے ریطہ کے بیٹے یہ تو ایک عار ہے، شرم کی بات ہے، "ظَاهِرٌ" ظاہر ہے یعنی زائل ہونے والا ہے۔ اے ریطہ کے بیٹے، یہ ایسا عار ہے جو زائل ہونے والا ہے، جو کیا ہو جائے گا؟ زائل ہونے والا ہے، ختم ہو گئے، جی۔ تو دیکھو یہاں ظاہر کس کے معنی میں آیا؟ زائل، یہ صفت عار کی مولانا۔ "وَفِي قَوْلِ أَبِي ذُؤَيْبٍ" دوسرا مصرع دوسری مثال ذکر کر رہے ہیں، دوسری دلیل ذکر کر رہے ہیں، ایک اور شاعر ابو ذویب ہے اس نے بھی یہی ظاہر کو زائل کے معنی میں استعمال کیا ہے۔ "وَتِلْكَ شَكَاةٌ" اور یہ شکاۃ بمعنی شکایت کے ہے، اور یہ تو ایک شکایت ہے "ظَاهِرٌ عَنْكِ" جو زائل کرنے والا ہے تجھ سے "عَارُهَا" کس کو؟ اپنے عار کو۔ یہ شکایت اپنے عار کو تجھ سے کیا کرنے والی ہے؟ زائل کرنے والی ہے۔ تو دیکھو ظاہر کس کے معنی میں آیا؟ زائل، "أَيْ زَائِلٌ"۔ چلیے جی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔