سبق نمبر۔36 وَقِلَّةُ الثِّقَةِ بِالْقَرِينَةِ لِضَعْفِهَا أَوْ ضَعْفِ فَهْمِ السَّامِعِ، نَحْوُ: زَيْدٌ نِعْمَ الصَّدِيقُ، تَقُولُ ذَلِكَ إِذَا سَبَقَ لَكَ ذِكْرُ زَيْدٍ وَطَالَ عَهْدُ السَّامِعِ بِهِ أَوْ ذُكِرَ مَعَهُ كَلَامٌ فِي شَأْنِ غَيْرِهِ، وَالتَّعْرِيضُ بِغَبَاوَةِ السَّامِعِ، نَحْوُ: عَمْرٌو قَالَ كَذَا، فِي جَوَابِ: مَاذَا قَالَ عَمْرٌو؟ گزشتہ سبق میں ہم نے دوسرا باب شروع کیا تھا جو ذکر اور حذف کے بارے میں ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ کلام کے اندر مسند الیہ اور اسی طرح مسند، اور اسی طرح ان کے جو متعلقات ہیں ان کو کبھی ذکر کیا جاتا ہے اور کبھی حذف کیا جاتا ہے۔ تو ذکر کے اندر کیا کیا نکات ہوتے ہیں اور حذف کے اندر کیا کیا نکات ہوتے ہیں وہ یہ بیان کر رہے ہیں بھئی، یہ بیان کر رہے ہیں۔ اور آپ نے گزشتہ سبق میں پڑھا کہ جب سامع کو کسی بات کا فائدہ دینے کا ارادہ ہو اور اس حکم کے اندر کوئی لفظ کسی معنی پر دلالت کر رہا ہو تو اصل یہ ہے کہ اس لفظ کو ذکر کیا جائے۔ اور جب باقی کلام جو ہے ایک لفظ پر دلالت کر رہا ہے، اس سے ایک لفظ کا پتہ چل رہا ہے تو اس میں اصل یہ ہے کہ اس کو حذف کیا جائے۔ لیکن کبھی کبھار ان دونوں اصلوں میں تعارض آتا ہے تو پھر ایک اصل کو چھوڑ کر دوسرے اصل کے مقتضیٰ پر عمل کرنا پڑتا ہے۔ تو اس کے لیے کوئی مرجح چاہیے، کوئی ترجیح دینے والی چیز چاہیے کہ کس بناء پر آپ نے ذکر کو حذف پر ترجیح دی ہے یا حذف کو ذکر پر ترجیح دی ہے۔ تو اس کے لیے کوئی ترجیح دینے والی چیز ہونی چاہیے، کوئی داعی ہونا چاہیے، وہاں کوئی نقطہ ہونا چاہیے جس کی وجہ سے ترجیح دی جائے بھئی۔ تو لہٰذا، ایک مقام پر ایک لفظ ہے، وہ حکم کے اندر معنی کا فائدہ دے رہا ہے۔ تو اصل یہ ہے کہ اس لفظ کو ذکر کیا جائے۔ لیکن صرف اس اصل ہونے کی بناء پر آپ اس ذکر کی رعایت رکھتے ہیں اور اس لفظ کو ذکر کر دیتے ہیں، نہیں، صرف اصل کی رعایت رکھتے ہوئے ذکر کیا جائے یہ ایسا نہیں کیا جائے گا۔ بلکہ جہاں پر اصل ذکر کا تقاضا کر رہی ہے وہاں پھر دوسری جانب جو ہے جانبِ مخالف یعنی حذف کے بارے میں بھی دیکھیں گے کہ کوئی چیز اس کو ترجیح دینے والی تو نہیں ہے، جب حذف کو ترجیح دینے والی کوئی چیز نہ ملے تو پھر اس اصل پر عمل کیا جائے گا۔ اور اگر کوئی حذف کو ترجیح دینے والی چیز ہے تو پھر اس اصل کو چھوڑ دیں گے اور اس حذف پر عمل کر لیں گے۔ اسی طرح حذف کے اندر بھی ہے، اگر باقی کلام دلالت کر رہا ہو کسی لفظ پر تو اصل یہ ہے کہ اس لفظ کو حذف کر دیا جائے، اس کو ذکر کرنا بیکار ہوا کیونکہ باقی کلام سے جب اس کا پتہ چل رہا ہے تو پھر دوبارہ اس کو ذکر کرنے کی کیا ضرورت ہے! تو اصل تو یہ ہے کہ اس مقام پر لفظ کو حذف کیا جائے۔ لیکن صرف اصل ہونے کی بناء پر اس کی آپ رعایت رکھیں اور لفظ کو حذف کر دیں، نہیں، ایسا فوراً نہیں کیا جائے گا بلکہ پہلے دیکھا جائے گا کہ جانبِ مخالف یعنی ذکر کا کوئی نقطہ تو یہاں موجود نہیں! اگر جانبِ مخالف کا نقطہ موجود نہیں تو پھر تو حذف پر ہم عمل کر لیں گے، اور اگر جانبِ مخالف یعنی ذکر کا کوئی نقطہ موجود ہے وہاں پر تو اس اصل کو چھوڑ دیں گے اور اس نقطے کی رعایت کرتے ہوئے کیا کریں گے، اس لفظ کو ذکر کریں گے بھئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ اور میں نے یہ بھی ذکر کیا تھا کہ حذف کے لیے قرینہ ضرور ہونا چاہیے۔ بغیر قرینے کے تو سننے والے کو پتہ ہی نہیں چلے گا کہ یہاں یہ لفظ محذوف ہے، بات ہی اس بات ہی اس کی سمجھ میں پوری طرح نہیں آئے گی بھئی۔ تو قرینہ ہونا بہت ضروری ہے، بغیر قرینے کے حذف کرنا صحیح نہیں ورنہ بات ہی اس کو سمجھ میں نہیں آئے گی، کلام ہی آپ کا بالکل بیکار ہو جائے گا بھئی۔ اب گزشتہ سبق میں ہم نے ذکر کے نکات پڑھنا شروع کیے تھے۔ انہوں نے آپ کو بتلایا تھا: فَمِنْ دَوَاعِي الذِّكْرِ زِيَادَةُ التَّقْرِيرِ وَالْإِيضَاحِ، ذکر کے دواعی میں سے وہ چیزیں جو ذکر کی کا کی دعوت دینے والی ہیں ان میں سے ایک نقطہ آپ نے پڑھا تھا وہ کیا ہے؟ زیادہٴ تقریر اور زیادہٴ ایضاح۔ تو دیکھیے، قرآن کے اندر جو آیا: أُولَٰئِكَ عَلَىٰ هُدًى مِّن رَّبِّهِمْ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ، یہ أُولَٰئِكَ دوسری دفعہ جو آ رہا ہے أُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ، یہ والا جو أُولَٰئِكَ ہے یہ مسند الیہ ہے، یہاں پر مسند الیہ کو ذکر کیا گیا، کیوں ذکر کیا گیا؟ زیادہ زیادہٴ تقریر اور زیادہٴ ایضاح کی وجہ سے۔ اگر اس کو حذف بھی کر لیا جاتا تو بھی تقریر تھی، ایضاح تھا، تقریر کا کیا معنیٰ؟ سننے والے کے ذہن میں بات کو پختہ کرنا، اچھی طرح جمانا۔ تو تقریر پھر بھی تھی، وضاحت پھر بھی تھی، لیکن مقصد کیا ہے؟ زیادہ تقریر اور زیادہ وضاحت، اور ظاہر سی بات ہے زیادہ تقریر تو ذکر کرنے کے اندر ہے، زیادہ وضاحت تو ذکر کرنے کے اندر ہے، حذف کے اندر نہیں ہے، اس لیے یہاں اس کو ذکر کیا گیا۔ جی، اب دوسرا نقطہ بیان کر رہے ہیں ذکر کے دواعی میں سے، دوسرا داعی کیا ہے؟ وَقِلَّةُ الثِّقَةِ بِالْقَرِينَةِ، اور ثقہ کہتے ہیں اعتماد کو، اعتماد۔ وَقِلَّةُ الثِّقَةِ بِالْقَرِينَةِ، اور قرینے پر اعتماد کم ہونے کی وجہ سے۔ قرینے پر اعتماد کم ہونے کی وجہ سے، بھئی ایک لفظ ہے اور اس کو حذف کیا جا سکتا ہے وہاں پر، قرینہ موجود ہے، اور جب قرینہ موجود ہو تو کیا کیا جا سکتا ہے؟ کسی لفظ، مسند الیہ کو مثلاً حذف کیا جا سکتا ہے، قرینہ بھی موجود ہے، لیکن آپ کا اس قرینے پر اعتماد کم ہے کیونکہ وہ قرینہ پورے طور پر ظاہر نہیں ہے، اس کے اندر کچھ خفاء ہے۔ پورے طور پر وہ قرینہ ظاہر نہیں، اس کے اندر کچھ خفاء ہے، تو آپ سوچتے ہیں کہ اگر میں قرینے پر اعتماد کروں گا تو پتہ نہیں یہ جو سامنے بیٹھے ہے سامنے بیٹھا ہے اس کو جس سے میں بات کر رہا ہوں اس کو میری بات سمجھ آتی ہے یا سمجھ میں نہیں آتی، کیونکہ قرینہ پورے طور پہ ظاہر نہیں ہے۔ اگر پورے طور پر ظاہر ہوتا تو پھر آپ اعتماد کر لیتے، لیکن وہ قرینہ پورے طور پر ظاہر نہیں، اس وجہ سے آپ کا اس قرینے پر اعتماد کم ہے، چنانچہ آپ کیا کرتے ہیں اس لفظ کو، مسند الیہ کو مثلاً ذکر کر دیتے ہیں۔ تو کس وجہ سے اعتماد کم ہے قرینے پر؟ قرینے کے لِضَعْفِهَا، اس قرینے کے ضعیف ہونے کی وجہ سے، وہ قرینہ ضعیف ہے یعنی اس میں خفاء ہے، پورے طور پر ظاہر نہیں۔ أَوْ ضَعْفِ فَهْمِ السَّامِعِ، قرینہ تو کمزور نہیں لیکن سننے والے کی کی فہم کمزور ہے، اس کی سمجھ کم ہے، وہ اتنا زیادہ سمجھدار نہیں کہ خفی قرینے کو سمجھ لے، قرینہ تو موجود ہے لیکن قرینہ کس قسم کا ہے؟ خفی ہے، تو آپ یہاں پر قرینہ موجود ہے، آپ اس کو حذف کر سکتے ہیں اس مسند الیہ کو، ہونا بھی یہ چاہیے کہ اس کو کیا کرنا چاہیے جب قرینہ موجود ہے اسے حذف کرنا چاہیے، لیکن آپ کے خیال میں، آپ یہ سمجھتے ہیں کہ سننے والے کا ذہن اتنا تیز نہیں کہ وہ گہری بات کو سمجھ جائے، اشارے کو سمجھ جائے، بلکہ کیا کرنا پڑے گا؟ اس کے سامنے پوری بات کرنا پڑے گی، تو اب آپ حذف نہیں کرتے بلکہ اس مسند الیہ کو ذکر کر دیتے ہیں۔ تو دوسرا داعی جو ہے ذکر کا: وَقِلَّةُ الثِّقَةِ بِالْقَرِينَةِ، اور قرینے پر اعتماد کا کم ہونا، لِضَعْفِهَا، کس وجہ سے؟ اس قرینے کے ضعیف ہونے کی وجہ سے، أَوْ ضَعْفِ فَهْمِ السَّامِعِ، یا سامع کی سمجھ کے ضعیف ہونے کی وجہ سے، نَحْوُ، مثال کے طور پر: زَيْدٌ نِعْمَ الصَّدِيقُ، زید کتنا اچھا ساتھی ہے، کتنا اچھا دوست ہے۔ زید کی اب آپ تعریف کر رہے ہیں، کیا کہا آپ نے؟ زَيْدٌ نِعْمَ الصَّدِيقُ، تو آپ نے زید جو مبتدا ہے اس کو ذکر کر دیا۔ حالانکہ قرینہ موجود تھا، آپ کو حذف کرنا چاہیے تھا اور یوں کہنا چاہیے تھا: نِعْمَ الصَّدِيقُ۔ قرینہ کیا موجود تھا؟ کہ یہ جو میرے سامنے بیٹھا ہے اس سے ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی میں زید کے بارے میں ہی تو بات کر رہا تھا، جب زید کے بارے میں ہی بات کر رہا تھا تو جب میں کہوں گا نِعْمَ الصَّدِيقُ کتنا اچھا ساتھی ہے، تو واضح سی بات ہے کہ اس سے کس کون مراد ہوگا؟ زید ہی مراد ہوگا، تو اس مقام پر زید کو ذکر نہیں کرنا چاہیے لفظِ زید کو، بلکہ اس کو حذف کرنا چاہیے تھا، لیکن آپ پھر بھی ذکر کر دیتے ہیں، کیوں ذکر کرتے ہیں؟ کیونکہ قرینہ پورا ظاہر نہیں بلکہ اس میں کچھ خفاء ہے، کمزور ہے۔ بھئی کیوں کمزور ہے؟ اس لیے کیونکہ زید کی بات ابھی فوراً اس سے پہلے میں نے نہیں کی بلکہ اس کی بات کیے ہوئے کچھ دیر گزر گئی ہے، اس کی بات کیے ہوئے کچھ دیر گزر گئی ہے، اگر ابھی میں نے زید کی بات کی ہوتی اور اس کے فوراً بعد میں کہتا تو پھر صرف یہ کہتا نِعْمَ الصَّدِيقُ، زید کو حذف کر دیتا، لیکن زید کے ذکر کو کچھ منٹ گزر چکے ہیں، کچھ وقت گزر چکا ہے، بیچ میں کچھ اور باتیں بھی آ گئی تھیں، اب اگر میں صرف نِعْمَ الصَّدِيقُ کہوں گا تو شاید سننے والے کو سمجھ میں نہ آئے کہ کون ہے اچھا ساتھی بھئی؟ زید ہے کہ عمرو ہے کہ بکر ہے؟ تو شاید اس کو پتہ نہ چلے، تو قرینے پر آپ کا اعتماد کم ہے، کیوں کم ہے؟ کیونکہ ضعیف ہے قرینہ، کیوں ضعیف ہے؟ کیونکہ اس جس کا ذکر چل رہا تھا اس کو کچھ وقت گزر چکا ہے۔ نَحْوُ جیسے آپ کہتے ہیں: زَيْدٌ نِعْمَ الصَّدِيقُ، تَقُولُ ذَلِكَ، آپ یہ اس وقت کہتے ہیں إِذَا سَبَقَ لَكَ ذِكْرُ زَيْدٍ، جب مقدم ہو چکا ہے آپ کی طرف سے زید کا ذکر، وَطَالَ عَهْدُ السَّامِعِ بِهِ، اور لمبا ہو گیا ہے، عہد کہتے ہیں زمانے کو، وَطَالَ، طالَ یَطُولُ کے معنی ہیں لمبا ہونا، وَطَالَ عَهْدُ السَّامِعِ بِهِ، اور اس کو سننے والے کا زمانہ لمبا ہو گیا ہے، سننے والے کا زمانہ کیا ہو گیا ہے؟ لمبا ہو گیا ہے یعنی زید کے ذکر سے اس کا زمانہ لمبا ہو گیا ہے یعنی بیچ میں کچھ وقت کچھ وقت گزر گیا ہے اس کی بات کیے ہوئے، اس وجہ سے اب آپ کا قرینے پر اعتماد نہ رہا بھئی۔ أَوْ ذُكِرَ مَعَهُ كَلَامٌ فِي شَأْنِ غَيْرِهِ، یا اس وجہ سے کہ اس کے ساتھ سننے جو سامع ہے جو مخاطب ہے اس کے ساتھ ذکر ہوا ہے کَلَامٌ فِي شَأْنِ غَيْرِهِ کسی اور کی شان میں بھی کلام ذکر ہوا ہے، اس کے ساتھ بھئی اس وجہ سے میرا قرینے پر اعتماد کمزور ہے کیونکہ مخاطب کے ساتھ زید کا ذکر ٹھیک ہے ابھی ہوا تھا، لیکن زید کے ساتھ ساتھ عمرو اور بکر کا بھی ذکر آ گیا تھا، اب اگر میں صرف یہ کہہ دوں نِعْمَ الصَّدِيقُ تو پھر تو اس کو پتہ نہیں چلے گا کیونکہ صرف زید کا ذکر نہیں ہوا بلکہ اس کے بعد کس کا ذکر ہوا؟ عمرو کا بھی ذکر ہوا، بکر کا بھی ذکر ہوا، خالد کا بھی ذکر ہوا، تو اب اسے پتہ ہی نہیں چلے گا کہ یہ کس کی بات کر رہا ہے، تو اس لیے قرینے پر آپ کا اعتماد کم ہوا تو آپ نے لفظِ زید کو ذکر کر دیا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنیٰ ہے: أَوْ ذُكِرَ مَعَهُ كَلَامٌ فِي شَأْنِ غَيْرِهِ، شان کہتے ہیں حال کو حالت کو بھئی، حالت، یا ذکر ہوا ہے اس سامع کے ساتھ کلام فِي شَأْنِ غَيْرِهِ کسی اور کی شان میں، کسی اور کے حال کے بارے میں بھی، یعنی کسی اور کا بھی ذکر ہوا ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آئی بھئی؟ دوسرا نقطہ کیا بیان ہوا؟ کہ ذکر کبھی کیا جاتا ہے، کس وجہ سے؟ کیونکہ قرینے پر آپ کا اعتماد کم ہوتا ہے، کیوں کم ہوتا ہے قرینے پر اعتماد؟ کیونکہ وہ قرینہ کمزور ہوتا ہے، اس وجہ سے اعتماد کم ہوتا ہے، یا اس وجہ سے اعتماد کم ہوتا ہے کہ سننے والے کی سمجھ کم ہے، وہ ظاہری بات کو تو سمجھتا ہے اور گہری بات کو نہیں سمجھتا، تو اس لیے اب آپ اس کے سامنے ذکر کرتے ہیں، جیسے انہوں نے مثال ذکر کر دی: زَيْدٌ نِعْمَ الصَّدِيقُ، یہ آپ ذکر کرتے ہیں اگرچہ زید کا پہلے ذکر ہو چکا ہے لیکن پھر بھی آپ زید کو ذکر کرتے ہیں اس لیے کیونکہ اس کے ذکر کو کچھ دیر گزر گئی، جب کچھ دیر گزر گئی تو قرینہ کمزور ہو گیا، اس کے ذکر کے فوراً بعد آپ کہتے تو پھر نِعْمَ الصَّدِيقُ کہتے وہ سمجھ جاتا، لیکن اب کچھ دیر گزر گئی ہے اب پتہ نہیں وہ سمجھتا ہے یا نہیں سمجھتا، یا اس وجہ سے کہ زیادہ دیر تو زید کے ذکر کو نہیں ہوئی لیکن زید کے ساتھ ساتھ ایک شخص کا اور بھی ذکر آ گیا تھا یا دو شخصوں کا اور بھی ذکر آ گیا تھا، تو اب ہو سکتا ہے بات اس کی سمجھ میں نہ آئے بھئی، تو اب آپ کیا کرتے ہیں لفظِ زید کو حذف کرنے کے بجائے ذکر کر دیتے ہیں تاکہ بات خوب واضح ہو جائے، پتہ چل جائے زَيْدٌ نِعْمَ الصَّدِيقُ کہ میں زید کی تعریف کر رہا ہوں، کسی دوسرا دوسرا شخص جس کا ذکر آیا تھا اس کی تعریف نہیں کر رہا۔ وَالتَّعْرِيضُ بِغَبَاوَةِ السَّامِعِ، تعریض کہتے ہیں اشارہ کرنا، اشارہ کرنا، یوں کہیے، کہنا ایک کو، سنانا دوسرے کو بھئی، کہنا ایک کو، سنانا دوسرے کو، مثلاً بھئی آپ کا ایک ساتھی ہے، اس کا ذہن ذرا کمزور ہے، وہ ظاہری باتیں تو سمجھتا ہے گہری باتیں نہیں سمجھتا، اب وہ کمزور ذہن والا ہے، آپ کے کئی ساتھی بیٹھے ہوئے ہیں، اس نے آپ سے پوچھا کہ عمرو نے پھر کیا کہا تھا؟ کوئی بات چل رہی ہے تو آپ نے اس کو بات سنا، ان سب کو بات سنا رہے ہیں، اس نے درمیان میں پوچھا کہ پھر عمرو نے کیا کہا؟ تو اب آپ کو جواب میں صرف وہ بات ذکر کرنی چاہیے تھی، یا یوں کہنا چاہیے تھا: اس نے کہا تھا، اس نے کہا تھا اور یہ یہ بات کہی تھی، آگے وہ بات ذکر کر دیں، لیکن آپ کیا کہتے ہیں اس کو؟ اس نے کیا کہا؟ عمرو نے کیا کہا تھا؟ آپ کہتے ہیں: عمرو نے کہا تھا کہ یہ یہ آگے بات آگے ذکر کر دیتے ہیں آپ۔ کیا کہا آپ نے اس کو؟ عمرو نے یہ کہا تھا! بھئی یہ عمرو کہنے کی کیا ضرورت تھی؟ اس نے عمرو ہی کا تو سوال کیا ہے، زید بکر کا تو سوال ہی نہیں کیا، لیکن آپ عمرو کیوں ذکر کرتے ہیں؟ یہ جو باقی ساتھی بیٹھے ہوئے ہیں ان کو بتانا چاہتے ہیں کہ یہ بڑا کمزور ذہن والا ہے، اس سے اس طرح بات کرو تو اسے سمجھ میں آتی ہے، ویسے اس کو بات سمجھ میں نہیں آتی بھئی۔ صورت ذہن میں آئی کہ نہیں آئی؟ جی؟ آ گئی۔ آپ اس ایک مجلس کا ذرا نقشہ ذہن میں لائیں اور ساتھی آپ کے ہی بیٹھے ہوئے ہیں اور وہ آپ کا ساتھی آپ سے کہتا ہے کہ عمرو نے کیا کہا تھا؟ اور آپ اب آپ اس کے سامنے کیا کہتے ہیں؟ ذرا انداز جملے کا دیکھنا: عمرو نے کہا تھا کہ میں پرسوں آؤں گا۔ دیکھو اس جملے کو ذرا آپ اس مجلس میں اور اس ساری صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے غور کریں، فوراً آپ کے ذہن میں آ جائے گا، اس طرح کوئی نہیں کسی سے بات کرتا، اس طرح نہیں کسی کو کہا جاتا، جب بھی اب، جب اس نے پوچھ لیا عمرو نے کیا کہا تھا؟ ہر ایک کہے گا اس نے کہا تھا، اس نے کہا تھا، لیکن آپ اس کو کیا کہہ رہے ہیں؟ عمرو نے کہا، یہ ضروری نہیں یہی نقطہ ہو، بعض اوقات اور بھی نقطے ہو سکتے ہیں لیکن یہاں پر، اس موقع پر مثلاً کیا نقطہ ہے؟ کہ آپ دوسروں کو کیا بتانا چاہتے ہیں؟ کہ اس کا ذہن کا، آپ میرے ذہن میں اس وقت کوئی خاص ایسی جملہ نہیں آ رہا جسے میں اور اس کی وضاحت کروں ورنہ یہ تو ہم نے بھی دیکھا ہے، اس طرح ہوتا ہے، ایک ساتھی دوسرے سے کوئی بات پوچھتا ہے، وہ وہاں پر ایک لفظ کو ذکر نہیں کرنا چاہیے تھا، اس کو ذکر کرتا ہے اور بڑا ٹھہر ٹھہر کے پورا جملہ بولتا ہے، مقصد کیا ہوتا ہے؟ ساروں کو بتانا مقصد ہوتا ہے کہ یہ اتنا کم عقل ہے اس کے سامنے اس کو اس سے اس طرح بات کیا کرو، اس کو ویسے بات سمجھ میں نہیں آتی بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو بعض اوقات تو وہ ہوگا ہی کمزور ذہن والا، اس وجہ سے آپ دوسروں کو اشارہ کرتے ہیں کہ یہ کمزور ذہن والا ہے، اس لیے آپ کہتے ہیں عمرو نے یوں کہا تھا بجائے یہ کہنے کے کہ اس نے یوں کہا تھا، اور بعض اوقات آپ صرف اس کو ذلیل کر رہے ہیں، اس کی اہانت کر رہے ہیں سب کے سامنے، اس کی بے عزتی کرنا مقصد ہے، تو اب آپ اس کو سب کے سب کے سامنے اسے کہتے ہیں: بھئی عمرو نے کہا تھا کہ مثلاً میں پرسوں آؤں گا یا اترسوں آؤں گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو وہ کمزور ذہن والا نہیں لیکن آپ کیا کر رہے ہیں؟ دوسروں کو بتلا رہے ہیں کہ اس کا ذہن بڑا کمزور ہے، دراصل اس کی بے عزتی کر رہے ہیں، اہانت کر رہے ہیں بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنیٰ ہے: وَالتَّعْرِيضُ بِغَبَاوَةِ السَّامِعِ، اور اشارہ کرنے کے لیے سامع کے غبی ہونے کی طرف، غباوت کہتے ہیں ‎ ربی ہونا، کمزور ذہن والا ہونا اور اشارہ کرنا سننے والے کے کمزور ذہن ہونے کی طرف۔ نحوُ: ﻋَﻤْﺮٌﻭ ﻗَﺎﻝَ كَذَا (عمرو نے یوں کہا تھا)۔ ﻓِﻲ ﺟَﻮَاﺏِ (اس بات کے جواب میں) آپ یہ کہتے ہیں: ﻣَﺎﺫَا ﻗَﺎﻝَ ﻋَﻤْﺮٌﻭ؟ (عمرو نے کیا کہا تھا؟) کسی نے، اس نے آپ سے پوچھا کیا تھا؟ ﻣَﺎﺫَا ﻗَﺎﻝَ ﻋَﻤْﺮٌﻭ؟ (عمرو نے کیا کہا تھا؟) آپ جواب میں کیا کہتے ہیں؟ ﻋَﻤْﺮٌﻭ ﻗَﺎﻝَ كَذَا (عمرو نے اس طرح کہا تھا)۔ تو کبھی اس تعریض کے لیے آئے گا یہ مسند الیہ کا ذکر۔ ﻭَﺍﻟﺘَّﺴْﺠِﻴﻞُ ﻋَﻠَﻰ ﺍﻟﺴَّﺎﻣِﻊِ۔ تسجيل کا معنیٰ ہے، تسجيل کا معنیٰ ہے قلم بند کروانا، لکھوانا، لکھوانا۔ تسجيل کا کیا معنیٰ ہے؟ قلم بند کروانا، کوئی چیز لکھوانا۔ ﻋَﻠَﻰ ﺍﻟﺴَّﺎﻣِﻊِ، 'علیٰ' آتا ہے ضرر کے لیے، 'لام' آتا ہے نفع کے لیے۔ تو ﻭَﺍﻟﺘَّﺴْﺠِﻴﻞُ ﻋَﻠَﻰ ﺍﻟﺴَّﺎﻣِﻊِ، سامع کے خلاف کوئی بات قلم بند کروانا، سامع کے خلاف کوئی بات لکھوانا۔ اس کے لیے اس وجہ، اس نقطے کی بناء پر مسند الیہ کو کلام میں ذکر کیا جاتا ہے۔ بھئی کیوں؟ کہتے ہیں: ﺣَﺘَّﻰ ﻟَﺎ ﻳَﺘَﺄَﺗَّﻰ ﻟَﻪُ ﺍﻹِﻧْﻜَﺎﺭُ۔ 'یتأتیٰ' کے معنیٰ ہیں آسان کرنا، آسان بنانا۔ 'یتأتیٰ' کا کیا معنیٰ ہے؟ آسان کرنا، آسان بنانا۔ تو دوسرا نقطہ ہے ﻭَﺍﻟﺘَّﺴْﺠِﻴﻞُ ﻋَﻠَﻰ ﺍﻟﺴَّﺎﻣِﻊِ، سامع کے خلاف کوئی بات لکھوانا ﺣَﺘَّﻰ ﻟَﺎ ﻳَﺘَﺄَﺗَّﻰ ﻟَﻪُ ﺍﻹِﻧْﻜَﺎﺭُ تاکہ وہ، تاکہ آسان نہ ہو اس کے لیے انکار کرنا، اس کے لیے تاکہ انکار کرنا آسان نہ ہو۔ ﻛَﻤَﺎ ﺇِﺫَﺍ ﻗَﺎﻝَ، دیکھیے مثال سے وضاحت ہو گی۔ ﻛَﻤَﺎ ﺇِﺫَﺍ ﻗَﺎﻝَ ﺍﻟْﺤَﺎﻛِﻢُ ﻟِﺸَﺎﻫِﺪٍ، جیسے کہا حاکم نے گواہ سے۔ کوئی حاکم ہے اس کے سامنے مقدمہ پیش ہوا، کوئی قاضی ہے بھئی، اس کے سامنے مقدمہ پیش ہوا اور مثلاً ایک شخص نے زید پر دعویٰ کیا ہے کہ اس زید نے میرا ایک لاکھ روپیہ دینا ہے۔ اس نے کئی لوگوں کے سامنے اقرار کیا ہے کہ اس نے میرا ایک لاکھ روپیہ دینا ہے۔ تو قاضی کے پاس لے آیا ہے۔ اب قاضی نے اس سے کہا: گواہ لے کر آؤ بھئی، تم نے دعویٰ کیا ہے۔ اب وہ گواہ لے آیا بھئی کہ دیکھیے یہ دو بھی گواہ ہیں، ان کے سامنے زید نے اقرار کیا تھا کہ اس نے میرا ایک لاکھ روپیہ دینا ہے۔ اب قاضی اس گواہ کی طرف متوجہ ہوا اور اس سے پوچھتا ہے: ﻫَﻞْ ﺃَﻗَﺮَّ ﺯَﻳْﺪٌ ﻫَﺬَﺍ ﺑِﺄَﻥَّ ﻋَﻠَﻴْﻪِ كَذَا؟ ﻫَﻞْ ﺃَﻗَﺮَّ، کیا اقرار کیا ہے ﺯَﻳْﺪٌ ﻫَﺬَﺍ اس زید نے ﺑِﺄَﻥَّ ﻋَﻠَﻴْﻪِ كَذَا کہ اس پر اتنا مال ہے؟ کیا اس زید، قاضی کس سے پوچھ رہا ہے؟ گواہ سے، گواہی طلب کی جا رہی ہے تو قاضی اس سے پوچھتا ہے: کیا اس زید نے اقرار کیا ہے کہ اس پر اتنی رقم ہے بطورِ دین کے، بطورِ قرض کے؟ ﻓَﻴَﻘُﻮﻝُ ﺍﻟﺸَّﺎﻫِﺪُ، تو گواہ جواب میں کہتا ہے: ﻧَﻌَﻢْ ﺯَﻳْﺪٌ، ﺯَﻳْﺪٌ ﺃَﻗَﺮَّ ہے آپ کی کتابوں میں؟ ﺯَﻳْﺪٌ ﻫَﺬَﺍ ہونا چاہیے، 'زیدٌ' کے بعد 'ہٰذا' کا لفظ بھی ہے۔ اگر رہ گیا ہے تو لکھ لیں، یہ کتابت کی غلطی ہے اور کتابوں کے اندر اور نسخوں کے اندر یہ لفظ موجود ہے یہاں پر۔ تو جواب میں گواہ کیا کہتا ہے؟ ﻓَﻴَﻘُﻮﻝُ ﺍﻟﺸَّﺎﻫِﺪُ، تو گواہ کہتا ہے: ﻧَﻌَﻢْ ﺯَﻳْﺪٌ ﻫَﺬَﺍ ﺃَﻗَﺮَّ ﺑِﺄَﻥَّ ﻋَﻠَﻴْﻪِ كَذَا۔ کہنا تو کیا چاہیے تھا اس کو صرف؟ نعم، ہاں! ﺃَﻗَﺮَّ ﺑِﺄَﻥَّ ﻋَﻠَﻴْﻪِ كَذَا، اس نے اقرار کیا ہے کہ اس پر اتنا مال ہے، اس کے ذمے اتنا مال ہے اس نے اقرار کیا۔ لیکن وہ کیا کہتا ہے؟ ﺯَﻳْﺪٌ ﻫَﺬَﺍ، مسند الیہ کو بھی ذکر کر دیتا ہے۔ بھئی کیوں؟ یہاں پر کیوں ذکر کیا؟ وجہ یہ، وجہ یہ کہ گواہ کی گواہی کا ایک ایک لفظ لکھا جا رہا ہے، قاضی کے سامنے مقدمہ پیش ہوا ہے، وہ مقدمہ بھی فائلوں میں لکھا جا رہا ہے رجسٹروں کے اندر اور گواہ کی گواہی اور اس کے الفاظ کو بھی لکھا جا رہا ہے۔ تو گواہ کیا کرنا چاہتا ہے؟ مسند الیہ کو کیوں ذکر کیا؟ تاکہ زید جو ہے اس کے خلاف بات پکی ہو جائے، کل کو اس کو انکار کرنے کی گنجائش نہ رہے۔ ورنہ اگر وہ صرف یہ کہہ دیتا ہے مثلاً گواہ: ﻧَﻌَﻢْ ﺃَﻗَﺮَّ ﺑِﺄَﻥَّ ﻋَﻠَﻴْﻪِ كَذَا، ہاں! اس نے اقرار کیا، ہاں اس نے اقرار کیا ہے۔ تو اب اس کے ذریعے تو زید کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے، عمرو کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے، بکر کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے، اس نے کہا ہے۔ جس کی طرف بھی اشارہ کر دیں گے وہی مراد ہو جائے گا۔ لیکن جب آ گیا ﺯَﻳْﺪٌ ﻫَﺬَﺍ، کس کا نام آ گیا؟ باقاعدہ زید کا نام آ گیا! اب پتہ چل گیا عمرو کی طرف اشارہ قطعاً نہیں تھا، بکر کی طرف قطعاً نہیں تھا۔ تو کل زید یہ کہہ سکتا تھا اگر زید کا نام نہ ہوتا، تو زید پھر کہہ سکتا تھا کہ قاضی صاحب! آپ فیصلہ کرنے لگے ہیں لیکن یاد رکھیے، مثلاً گواہ گواہی دے کے چلا گیا، اب قاضی فیصلہ کرنے لگا تو اب زید بـ، انـ، کے لیے انکار آسان ہے کیونکہ گواہ نے اس کا نام نہیں لیا تھا اور وہ کہتا ہے: قاضی صاحب! آپ تو میرا کہنا چاہ رہے تھے لیکن وہ جو گواہ تھا، گواہ وہ تو سمجھا کہ آپ میرے ساتھ یہ جو عمرو کھڑا ہے اس کی طرف اشارہ کر کے پوچھ رہے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یا اس طرح کوئی صورت بنا لیتا، انکار کی گنجائش اس کے لیے نکل آتی ہے، آسانی سے انکار وہ کر سکتا ہے۔ لیکن جب اس نے کہہ دیا ﺯَﻳْﺪٌ ﻫَﺬَﺍ، باقاعدہ لفظوں کے اندر زید کہہ دیا، سمجھ میں آیا بھئی؟ آپ کے ذہن میں سوال آئے گا قاضی نے بھی تو کہا ہے: ﻫَﻞْ ﺃَﻗَﺮَّ ﺯَﻳْﺪٌ ﻫَﺬَﺍ؟ ﻫَﻞْ ﺃَﻗَﺮَّ ﺯَﻳْﺪٌ ﻫَﺬَﺍ؟ تو جواب یہ کہ بھئی پھر بھی انکار کی کوئی نہ کوئی صورت وہ نکال لے گا انکار کی، کہ یہ میرے بارے میں گواہی نہیں دے کے گیا، یہ میرے ساتھ جو آدمی کھڑا ہے اس کے بارے میں وہ گواہی دے کر چلا گیا ہے، وہ تو سمجھا تھا شاید آپ اس کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ مثلاً وہ کہہ دے گا: قاضی صاحب! جب آپ نے میرا نام لیا تھا اس کے کان میں آپ کی آواز نہیں پڑی، اس کی توجہ نہیں تھی، اس وقت اس کی توجہ نہیں تھی اس کو پتہ ہی نہیں چلا، اگر پتہ چلا ہوتا وہ میرا نام ذکر کرتا، اس نے میرا نام نہیں ذکر کیا معلوم ہوا میری طرف اس کا اشارہ نہیں تھا۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو مقامِ استشہاد کیا ہے یہاں پر؟ ﻧَﻌَﻢْ ﺯَﻳْﺪٌ ﻫَﺬَﺍ، یہ جو 'زیدٌ ہٰذا' یہاں پر آ رہا ہے نا، یہ والا مقامِ استشہاد ہے کہ گواہ اس سامع یعنی مدعیٰ علیہ کے خلاف ایک حکم کو کیا کرنا چاہتا ہے؟ قلم بند کروانا چاہتا ہے ایک بات کو۔ دوبارہ ترجمہ دیکھیے: ﻭَﺍﻟﺘَّﺴْﺠِﻴﻞُ ﻋَﻠَﻰ ﺍﻟﺴَّﺎﻣِﻊِ، اور سامع کے خلاف کوئی بات لکھوانے کے لیے ﺣَﺘَّﻰ ﻟَﺎ ﻳَﺘَﺄَﺗَّﻰ ﻟَﻪُ ﺍﻹِﻧْﻜَﺎﺭُ تاکہ اس کے لیے انکار کرنا آسان نہ ہو ﻛَﻤَﺎ ﺇِﺫَﺍ ﻗَﺎﻝَ ﺍﻟْﺤَﺎﻛِﻢُ ﻟِﺸَﺎﻫِﺪٍ جیسے کہ حاکم کسی گواہ سے کہتا ہے: ﻫَﻞْ ﺃَﻗَﺮَّ ﺯَﻳْﺪٌ ﻫَﺬَﺍ ﺑِﺄَﻥَّ ﻋَﻠَﻴْﻪِ كَذَا؟ کیا اقرار کیا ہے اس زید نے کہ اس پر اتنا اتنا مال ہے؟ ﻓَﻴَﻘُﻮﻝُ ﺍﻟﺸَّﺎﻫِﺪُ، تو گواہ جواب میں کہتا ہے: ﻧَﻌَﻢْ ﺯَﻳْﺪٌ ﻫَﺬَﺍ ﺃَﻗَﺮَّ ﺑِﺄَﻥَّ ﻋَﻠَﻴْﻪِ كَذَا، ہاں اس زید نے اقرار کیا ہے کہ اس کے ذمے اتنا اتنا مال ہے۔ ﻭَﺍﻟﺘَّﻌَﺠُّﺐُ ﺇِﺫَﺍ ﻛَﺎﻥَ ﺍﻟْﺤُﻜْﻢُ ﻏَﺮِﻳﺒًﺎ، اور کبھی کبھار مسند الیہ کو ذکر کیا جاتا ہے تعجب کے لیے ﺇِﺫَﺍ ﻛَﺎﻥَ ﺍﻟْﺤُﻜْﻢُ ﻏَﺮِﻳﺒًﺎ جب حکم انوکھا ہو، حکم عجیب ہو۔ جب عجیب و غریب حکم ہے عجبـ، یعنی حکم سے کیا مراد ہے؟ میں کیا معنیٰ کرتا ہوں حکم کا؟ بات، بات! جب کیا ہو کوئی انوکھی بات ہو، عجیب بات ہو تو اس وجہ سے آپ کیا کرتے ہیں؟ مسند الیہ کو ذکر کرتے ہیں۔ ﻧَﺤْﻮُ، مثال کے طور پر: ﻋَﻠِﻲٌّ ﻳُﻘَﺎﻭِﻡُ ﺍﻟﺄَﺳَﺪَ، علی جو ہے وہ شیر کے ساتھ لڑتا ہے، شیر کے ساتھ مقابلہ کرتا ہے۔ 'قاوم یقاوم' کے معنیٰ ہیں مقابلہ کرنا۔ علی تو کیا ہے؟ شیر کے ساتھ مقابلہ کرتا ہے۔ اب دیکھیے! صرف یہ کہہ دیتا: ﻳُﻘَﺎﻭِﻡُ ﺍﻟﺄَﺳَﺪَ، ﻳُﻘَﺎﻭِﻡُ ﺍﻟﺄَﺳَﺪَ، بات پھر بھی پوری تھی۔ لیکن جو متکلم ہے وہ اپنے تعجب کا اظہار کر رہا ہے اور اس لیے اس نے مسند الیہ کو ساتھ ذکر کر دیا کہ علی جو ہے وہ کیا ہے؟ شیر سے مقابلہ کرتا ہے، تو اب یہ ایک انوکھی بات تھی، عجیب بات تھی کہ اتنا جرات والا اور اتنا بہادر انسان کہ شیر کے ساتھ بھی باقاعدہ لڑتا ہے اور مقابلہ کرتا ہے، تو اس وجہ سے اس نے کیا کیا؟ علی کو باقاعدہ ساتھ ذکر، اگرچہ مثلاً علی کا بھی ذکر چل رہا تھا، علی کا بھی ذکر چل رہا تھا، اب علی کے ذکر کی ضرورت نہیں تھی لیکن پھر بھی اس نے علی ذکر کیا، کیوں ذکر کیا؟ اپنے تعجب کا اظہار کر رہا ہے، اپنی حیرت کا اظہار کر رہا ہے کہ کتنی انوکھی بات ہے ذرا غور تو کرو کہ علی شیر کا مقابلہ کرتا ہے۔ صرف یہ نہیں کہا وہ شیر کا مقابلہ کرتا ہے بلکہ کیا کہا؟ علی شیر کا مقابلہ کرتا ہے۔ دیکھیے! خود کہہ رہے ہیں: ﺗَﻘُﻮﻝُ ﺫَﻟِﻚَ ﻣَﻊَ ﺳَﺒْﻖِ ﺫِﻛْﺮِﻩِ، آپ یہ کہتے ہیں باوجود اس کے ذکر کے مقدم ہونے کے، باوجود اس کے کہ ابھی اس کا ذکر مقدم ہوا تھا، علی کا ہی ذکر چل رہا تھا، اب جب علی کا ذکر چل رہا تھا تو اب علی کا لفظ لانے کی ضرورت تو نہیں، اب صرف کیا کہنا کافی تھا؟ ﻳُﻘَﺎﻭِﻡُ ﺍﻟﺄَﺳَﺪَ۔ لیکن آپ ذکر کرتے ہیں، کیوں کرتے ہیں؟ اپنے تعجب کے اظہار کے لیے کیونکہ بات بڑی انوکھی ہے، بات بڑی عجیب ہے کہ وہ شیر کا مقابلہ کرتا ہے اور یہ اتنی جرات تو کم ہی کسی کے اندر ہوتی ہے کہ اس طرح کرے بھئی۔ ﻭَﺍﻟﺘَّﻌْﻈِﻴﻢُ ﻭَﺍﻟﺈِﻫَﺎﻧَﺔُ ﺇِﺫَﺍ ﻛَﺎﻥَ ﺍﻟﻠَّﻔْﻆُ ﻳُﻔِﻴﺪُ ﺫَﻟِﻚَ، اور کبھی مسند الیہ کو ذکر کیا جاتا ہے کس داعی کی وجہ سے؟ تعظیم کی وجہ سے یا ﻭَﺍﻟﺈِﻫَﺎﻧَﺔُ، یا کس وجہ سے؟ اور اہانت کی وجہ سے ﺇِﺫَﺍ ﻛَﺎﻥَ ﺍﻟﻠَّﻔْﻆُ ﻳُﻔِﻴﺪُ ﺫَﻟِﻚَ جب لفظ اس کا فائدہ دے، کس کا؟ تعظیم کا یا کس کا؟ اہانت کا۔ بھئی ایک مقام ہے وہاں پر مسند الیہ کو حذف کرنا چاہیے لیکن آپ مسند الیہ کو ذکر کرتے ہیں کیونکہ مسند الیہ کے اندر تعظیم والا معنیٰ ہے، کون سا معنیٰ ہے؟ تعظیم کا۔ یا اس کا برعکس مثلاً کر لیں، آپ یہ ایک مقام ہے مسند الیہ کو حذف کرنا چاہیے لیکن آپ اس کو ذکر کرتے ہیں کیونکہ مسند الیہ جو کا جو لفظ ہے اس میں اہانت والا معنیٰ ہے، بے عزتی والا معنیٰ ہے، تو آپ کا بھی مقصد اس شخص کے بے عزتی کرنا ہے، اہانت کرنا ہے تو آپ اس لفظ کو ذکر کرتے ہیں، سمجھ میں آیا؟ تو یہ تعظیم کی الگ صورت ہو گی، اہانت والی الگ صورت۔ جو لفظ تعظیم پر دلالت کے لیے ہو گا اس کو اگر آپ ذکر کرتے ہیں، کرنا تو اس موقع پر حذف کرنا چاہیے تھا لیکن آپ ذکر کرتے ہیں، معلوم ہوا کیا مقصد ہے؟ تعظیم کے طور پر آپ لائے ہیں، عظمت بیان کرنے کے لیے اور ایک لفظ ہے اس کو حذف کرنا چاہیے تھا لیکن آپ اس کو لے کر آئے ہیں ذکر کیا ہے، کیا مقصد ہے آپ کا؟ اہانت کے طور پر کہ وہ آپ اس شخص کی اہانت کر رہے ہیں بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ جیسے دیکھیے بھئی، آگے مثال آ رہی ہے: ﻛَﺄَﻥْ ﻳَﺴْﺄَﻟَﻚَ ﺳَﺎﺋِﻞٌ، جیسے کہ آپ سے کوئی سوال پوچھنے والا پوچھتا ہے: ﻫَﻞْ ﺭَﺟَﻊَ ﺍﻟْﻘَﺎﺋِﺪُ؟ کیا قائد واپس آ گیا؟ کیا سردار واپس آ گیا؟ تو آپ کو جواب میں صرف کیا کہنا چاہیے؟ ﺭَﺟَﻊَ، واپس آ گیا ہے۔ یا کہہ دیں: ﻧَﻌَﻢْ ﺭَﺟَﻊَ۔ لیکن آپ کیا کہتے ہیں؟ ﺭَﺟَﻊَ ﺍﻟْﻤَﻨْﺼُﻮﺭُ، اب آپ نے 'المنصور' کا لفظ بڑھا دیا کیونکہ منصور کے لفظ کے اندر تعظیم والا معنیٰ ہے، منصور کا معنیٰ ہے کامیاب، کیا معنیٰ ہے؟ کامـ، تو آپ کہتے ہیں: ﺭَﺟَﻊَ ﺍﻟْﻤَﻨْﺼُﻮﺭُ، وہ کامیاب آ گیا ہے، تو آپ تعظیم کے طور پر یہ لفظ لاتے ہیں یہ بتلانے کے لیے کہ یہ جنگ میں فتح حاصل کر کے آیا ہے، کامیابی حاصل کر کے سردار واپس آیا ہے۔ یا کوئی اور مقام ہے وہاں پر وہ شکست کھا کر واپس آیا ہے، اب کوئی آپ سے پوچھتا ہے: ﻫَﻞْ ﺭَﺟَﻊَ ﺍﻟْﻘَﺎﺋِﺪُ؟ کیا قائد آ گیا ہے، قائد واپس آ گئے ہیں؟ تو آپ کو جواب میں صرف کیا کہنا چاہیے؟ ﺭَﺟَﻊَ، وہ آ گئے ہیں۔ لیکن آپ اس کی بے عزتی بھی کرنا چاہتے ہیں، آپ کہتے ہیں: ﺭَﺟَﻊَ ﺍﻟْﻤَﻬْﺰُﻭﻡُ، شکست خوردہ واپس آ گیا ہے، شکست کھانے والا آ گیا ہے۔ تو دیکھیے! آپ اسـ، آپ نے 'المهزوم' مسند الیہ جو ہے جو فاعل ہے اس کو بھی ذکر کر دیا، کیوں ذکر کر دیا؟ اس میں کون سا معنیٰ ہے؟ اہانت والا، تو اہانت کی وجہ سے، اہانت کے ارادے کی وجہ سے آپ نے اس کو ذکر کیا بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ کچھ نکات تھے جو انہوں نے ذکر کیے کہ مسند الیہ کو کبھی ذکر کیا جاتا ہے، اس کے ذکر میں کیا کیا نکات ہو سکتے ہیں؟ انہوں نے بتلایا زیادتیِ تقریر اور زیادتیِ ایضاح اس کی وجہ سے بھی بعض اوقات مسند الیہ کو ذکر کیا جاتا ہے، کبھی کبھار مسند الیہ کو اس لیے ذکر کیا جاتا ہے کیونکہ قرینے پر آپ کا اعتماد کم ہوتا ہے، کبھی مسند الیہ کو اس لیے ذکر کیا جاتا ہے کہ آپ جو ہے مخاطب کی کم ذہنی پر اور کم سمجھ پر، کم سمجھ کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں، دوسروں کو بتانا چاہتے ہیں، کبھی اس لیے مسند الیہ کو ذکر کیا جاتا ہے کہ آپ مخـ، سامع کے خلاف کوئی بات قلم بند کروانا چاہتے ہیں، لکھوانا چاہتے ہیں باقاعدہ اور کبھی کبھار مسند الیہ کو ذکر کیا جاتا ہے اظہارِ تعجب کے لیے کہ آپ اپنے تعجب کا اظہار کر رہے ہیں اور کبھی کبھار مسند الیہ کو ذکر کیا جاتا ہے بطورِ تعظیم کے جبکہ اس لفظ کے اندر کون سا معنیٰ ہو؟ تعظیم والا، اس مسند الیہ کے اندر تعظیم والا معنیٰ ہو اور کبھی کبھار آپ مسند الیہ کو ذکر کرتے ہیں بطورِ اہانت کے جبکہ اس مسند الیہ کے لفظ میں کون سا معنیٰ ہو؟ اہانت والا معنیٰ ہو۔ جی آگے اب حذف کے دواعی ذکر کریں گے۔ تو یہ ذکر کے دواعی تھے، یہ ذکر کے نکات تھے۔ ان نکات کی بناء پر کیا کیا جاتا ہے؟ مسند الیہ کو ذکر کیا جاتا ہے اور یاد رکھیے صرف یہی نکات نہیں ہوتے، یہ انہوں نے بطورِ مثال کے چند نقطے ذکر کر دیے، موقع محل کے مطابق کوئی بھی نقطہ ہو سکتا ہے جو اس بات کی طرف آپ کو دعوت دے دے کہ اس کو کیا کرنا چاہیے؟ ذکر کرنا چاہیے، تو چنـ، چند ایک انہوں نے بطورِ مثال کے ذکر کر دیے تو صرف یہی نکات نہیں ہیں اور بھی نکات ہو سکتے ہیں اور نیز مسند الیہ کی مثالیں ذکر کرتے چلے گئے، جہاں بھی مثال آئی کس کو ذکر کیا جا رہا ہے؟ مسند الیہ کو، لیکن یہ صرف مسند الیہ کے ذکر میں یہ نکات نہیں ہوتے، مسند کے ذکر میں بھی یہ نکات ہو سکتے ہیں، ان کے متعلقات جو ہیں ان کے ذکر میں بھی یہ نکات ہو سکتے ہیں، تو بس مسند الیہ سے آپ سمجھ جائیے باقیوں میں بھی اسی طرح ہوتا ہے، مسند میں بھی اسی طرح ہوتا ہے اور مسند، ان کے جو متعلقات وغیرہ ہیں ان میں بھی اسی طرح ہوتا ہے۔ ﻭَﻣِﻦْ ﺩَﻭَﺍﻋِﻲ ﺍﻟْﺤَﺬْﻑِ، اور حذف کے دواعی میں سے یعنی بعض اوقات مسند الیہ کو کلام سے حذف کیا جاتا ہے، اس کے حذف میں کیا کیا نکات ہوتے ہیں؟ وہ بیان کرنے لگے ہیں، کہتے ہیں: ﻭَﻣِﻦْ ﺩَﻭَﺍﻋِﻲ ﺍﻟْﺤَﺬْﻑِ، اور حذف کے دواعی میں سے ﺇِﺧْﻔَﺎﺀُ ﺍﻟْﺄَﻣْﺮِ ﻋَﻦْ ﻏَﻴْﺮِ ﺍﻟْﻤُﺨَﺎﻃَﺐِ، ﺇِﺧْﻔَﺎﺀُ ﺍﻟْﺄَﻣْﺮِ، بات کو، امر کو چھپانا ﻋَﻦْ ﻏَﻴْﺮِ ﺍﻟْﻤُﺨَﺎﻃَﺐِ مخاطب کے علاوہ سے۔ آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ معاملے کو مخاطب کے علاوہ باقی لوگوں سے چھپانا چاہتے ہیں۔ ﻧَﺤْﻮُ، مثال کے طور پر: ﺃَﻗْﺒَﻞَ، آپ کی کتابوں میں با کے نیچے زیر تو نہیں؟ زیر نہیں ہونی چاہیے، یہ کتابت کی غلطی ہے، یہ امر کا صیغہ نہیں ہے، یہ ماضی کا صیغہ ہے: ﺃَﻗْﺒَﻞَ، ﺃَﻗْﺒَﻞَ۔ ﺗُﺮِﻳﺪُ ﻋَﻠِﻴًّﺎ ﻣَﺜَﻠًﺎ، آپ کا ارادہ علی کا ہے بطورِ مثال کے۔ بھئی دیکھیے! صورت یہ، بعض اوقات مسند الیہ کو حذف کیا جاتا ہے، کیوں حذف کیا جاتا ہے؟ کیونکہ آپ مخاطب کے علاوہ باقی آدمیوں سے بات کو چھپانا چاہتے ہیں، بات کو چھپانا چاہتے ہیں۔ بھئی آپ ایک جگہ پر سات آٹھ ساتھی بیٹھے ہوئے باتوں میں مصروف ہیں، باتوں کے اندر اندر آپ نے اپنے ساتھ والے ساتھی سے قریب ہو کر علی کے بارے میں کوئی بات کر دی، کس کے بارے میں؟ علی کے بارے میں کوئی بات کر دی، باقی ساتھی اپنی باتوں میں مصروف ہیں، آپ نے یہ ساتھ والے کو علی کے بارے میں کوئی بات کی۔ بات کی ہے ابھی ایک دو منٹ نہیں گزرے، اچانک آپ کے چار پانچ ساتھی اور آ گئے اور ان میں وہ علی بھی ہے جس کی بات آپ نے ساتھ والے سے کی تھی، وہ علی جیسے ہی آتا ہے آپ کہتے ہیں: آ گیا۔ کیا کہتے ہیں؟ وہ آ گیا! اب دیکھیے بھئی! اگر آپ کہتے: 'علی آ گیا ہے'، ساروں کو پتہ چل جاتا آپ کس کے آنے کی بات کر رہے ہیں، علی! لیکن جب آپ نے صرف یہ کہا: 'وہ آ گیا ہے'۔ تو صرف کس کو سمجھ میں آئی بات؟ صرف جو میرے ساتھ بیٹھا ہوا ہے جس سے میں نے بات کی تھی، صرف اس کو پتہ لگا اور کسی کو نہیں پتہ چلا کہ ک- کس کی بات کر رہا ہے، کیونکہ پانچ ساتھی آئے ہیں، ایک تو نہیں آیا۔ ایک آتا پھر تو چلو پتہ لگ جاتا اسی کی بات ہو رہی، لیکن اب پانچ ہیں، اب ان کو نہیں پتہ چلا یہ کس کے آنے کے بارے میں اس نے کہا ہے، یہ علی جو آیا ہے یا بکر آیا ہے یا خالد ہے، کس کی طرف اس کا اشارہ ہے۔ کسی کو پتہ نہیں چلے گا۔ تو دیکھیے! یہاں پر آپ یہ جو آپ کا مخاطب ہے اس کے علاوہ باقی سب سے بات کو چھپانا چاہتے تھے، اس لیے آپ نے "أَقْبَلَ" کہا، وہ آ گیا۔ آپ نے "أَقْبَلَ عَلِيٌّ" نہیں کہا، علی کو آپ نے حذف کر دیا۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ معنی ہے: إِخْفَاءِ الْأَمْرِ عَنْ غَيْرِ الْمُخَاطَبِ کہ آپ بات کو چھپانا چاہتے ہیں مخاطب کے علاوہ سے، نحوُ مثال کے طور پر: أَقْبَلَ، وہ آ گیا۔ تُرِيدُ عَلِيًّا مَثَلًا، آپ کا ارادہ علی کا ہے بطورِ مثال کے۔ وَيَتَأَتَّى الْإِنْكَارِ عِنْدَ الْحَاجَةِ، اور کبھی کبھار مسند الیہ کو حذف کیا جاتا ہے، تأتی کا کیا معنیٰ کیا میں نے ابھی پیچھے گزرا یہ لفظ؟ آسان کرنا، آسان بنانا۔ وَتَأَتَّى الْإِنْكارِ عِنْدَ الْحَاجَةِ، اور انکار کرنے کو آسان بنانے کے لیے ضرورت کے وقت۔ کبھی کبھار مسند الیہ کو کیوں حذف کیا جاتا ہے؟ تاکہ ضرورت کے وقت آپ آسانی سے انکار کر سکیں، آپ چار پانچ ساتھی بیٹھے ہوئے ہیں بھئی، چار پانچ ساتھی اور ان میں ایک آپ کا مخالف بھی ہے، جس کے ساتھ آپ کی کوئی لڑائی ہوئی ہے، ناراضگی ہوئی ہے۔ اب آپ اپنے ساتھ والے کی طرف متوجہ ہو کر اس سے باتیں کر رہے ہیں اور باتوں باتوں میں کہتے ہیں: بڑا ذلیل آدمی ہے، بڑا کمینہ آدمی ہے، بڑا گھٹیا آدمی ہے۔ آپ نے یہ نہیں کہا وہ جو آپ کا- تھا جس کی لڑائی ہوئی ہے وہ زید کہ زید بڑا کمینہ ہے، زید بڑا گھٹیا ہے، کیوں نہیں کہا؟ اس لیے کیونکہ اے- پھر تو لازمی بات ہے وہ فوراً اٹھے گا، آپ کو پکڑ لے گا بھئی کیوں میرے خلاف اس طرح بول رہے ہو؟ تو آپ نے اس کے ذکر کو حذف کر دیا، تاکہ اگر یہ اٹھا بھی تو میں آرام سے انکار کر دوں گا، بھئی میں تمہاری بات تو نہیں کر رہا تھا، میں تو اپنے کسی اور ساتھ کی بات کر رہا تھا، تو دیکھو آپ نے یہاں پر مسند الیہ کو کیوں حذف کیا؟ تاکہ آپ آسانی سے انکار کر سکیں بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی کے؟ وَتَأَتَّى الْإِنْكارِ عِنْدَ الْحَاجَةِ، اور ضرورت کے وقت انکار کو آسان بنانے کے لیے، نحوُ مثال کے طور پر: لَئِيمٌ خَسِيسٌ، تو اب آپ نے یہ نہیں کہا: زَيْدٌ لَئِيمٌ خَسِيسٌ، تو حذف کیا ہے تاکہ آسانی سے پھر انکار کر سکیں، تو لئیم کا معنیٰ ہے کمینہ، خسیس کا معنیٰ ہے گھٹیا، ادنیٰ۔ بَعْدَ ذِكْرِ شَخْصٍ مُعَيَّنٍ، ایک معین شخص کا ذکر کرنے کے بعد۔ ایک معین شخص کا ذکر کرنے کے بعد آپ نے یہ کہا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اس آدمی کا ذکر کیا اور پھر اس کے بعد آپ نے لَئِيمٌ خَسِيسٌ کہا، تو اب اِ- پتہ تو چل گیا کہ آپ کا اشارہ اس کی طرف ہے، لیکن بہرحال نام تو ذکر نہیں کیا آپ نے، تو آپ کیا کر سکتے ہیں؟ بعد میں انکار کر سکتے ہیں۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔