سبق نمبر۔ 35 الباب الثاني في الذكر والحذف. إذا أريد إفادة السامع حكماً فأي لفظ يدل على معنى فيه فالأصل ذكره، وأي لفظ علم من الكلام لدلالة باقيه عليه فالأصل حذفه، وإذا تعارض هذان الأصلان فلا يعدل عن مقتضى أحدهما إلى مقتضى الآخر إلا لداعٍ. فمن دواعي الذكر زيادة التقرير والإيضاح نحو: "أولئك على هدى من ربهم وأولئك هم المفلحون". الباب الثاني في الذكر والحذف. دوسرا باب: ذکر اور حذف کے بیان میں۔ بئی اس سے پہلے آپ نے نحو کے اندر پڑھا ہے کہ مسند علیہ جو ہوتا ہے، اس پر رفع آتا ہے۔ اور مسند علیہ مبتدا ہے، اسی طرح مسند علیہ فاعل ہے، اسی طرح مسند علیہ جو ہے نائب الفاعل ہے۔ تو ان پر کیا پڑھا جاتا ہے؟ رفع پڑھا جاتا ہے۔ تو یاد رکھیے، وہ تھی چھوٹی نحو۔ اس نحو میں آپ کو مسند اور مسند علیہ کی پہچان کروائی جاتی ہے اور پھر یہ بتلایا جاتا ہے کہ کسی لفظ پر رفع پڑھنا ہے، نصب پڑھنا ہے یا جر پڑھنا ہے یا جزم وغیرہ پڑھنا ہے، یہ چیزیں بیان کی جاتی ہیں۔ جبکہ اب ہم علم المعانی پڑھ رہے ہیں اور یہ بڑی نحو ہے بئی۔ اس میں آپ کو یہ مسند علیہ اور مسند کے بارے میں کہ یہ مسند ہوتا ہے یا یہ مسند علیہ ہوتا ہے، یہ نہیں بتایا جائے گا۔ اس میں آپ کو یہ نہیں بتایا جائے گا کہ فلاں لفظ پر نصب پڑھنا ہے یا رفع پڑھنا ہے یا جر پڑھنا ہے، بلکہ یہاں پر آپ کو یہ بتلایا جاتا ہے کہ بعض اوقات مسند یا مسند علیہ یا ان کے متعلقات جو ہیں، ان کو عبارت میں ذکر کیا جاتا ہے تو اس کے ذکر کرنے میں کیا کیا نقطے ہوتے ہیں، کس وجہ سے ان کو ذکر کیا جاتا ہے۔ کبھی کبھار ان کو عبارت سے حذف کیا جاتا ہے تو ان کے حذف کے اندر کیا کیا نکات ہوتے ہیں، وہ بیان ہوں گے۔ کبھی کبھار مسند مسند علیہ وغیرہ کو جو ہے معرفہ لے کر آتے ہیں، تو معرفہ لانے میں کیا کیا نقطے ہوتے ہیں؟ کبھی کبھار اس کو نکرہ لایا جاتا ہے، نکرہ لانے کے اندر کیا کیا نکات ہوتے ہیں وغیرہ اس طرح کی باتیں یہاں ذکر ہوں گی بئی۔ بات سمجھ میں آگئی بئی؟ پہلا باب جو تھا وہ خبر اور انشاء کے بارے میں تھا، اب یہ دوسرا باب ہے ذکر اور حذف کے بارے میں۔ کہ بعض اوقات کسی لفظ کو عبارت کے اندر، یعنی مسند یا اور مسند علیہ یا ان کے متعلقات میں سے جو ہے، کوئی لفظ اس کو عبارت میں ذکر کیا جاتا ہے، تو اس کے ذکر کرنے میں کیا کیا نقطے ہوتے ہیں، کس وجہ سے اس کو ذکر کیا جاتا ہے۔ اور بعض اوقات مسند علیہ یا مسند یا ان کے متعلقات میں سے کسی لفظ کو حذف کیا جاتا ہے، اس کے حذف میں کیا کیا نکات ہوتے ہیں، وہ بیان کیے جائیں گے بئی۔ تو اس باب میں کیا ذکر ہوں گے؟ ذکر اور حذف کے نکات ذکر ہوں گے کہ ذکر کرنے میں کیا نقطے ہوتے ہیں اور حذف کرنے میں کیا نقطے ہوتے ہیں بئی کیا نقطے ہوتے ہیں۔ اور یہ آپ کو بتلائیں گے کہ جب آپ نے سامع کو کوئی بات بتلانی ہے، تو اس بات کے لیے جو بھی لفظ استعمال کریں گے، وہ لفظ اگر کسی معنی پر دلالت کر رہا ہے تو اصل یہ ہے کہ اس لفظ کو ذکر کیا جائے۔ جب بھی آپ نے مخاطب کو کوئی بات بتلانی ہے، کسی حکم کا فائدہ دینا ہے، تو اس حکم کے اندر جو لفظ بھی کسی معنی پر دلالت کر رہا ہو تو اصل کیا ہے؟ لفظوں کے، میرے لفظوں پر توجہ ہے آپ کی بئی؟ جب بھی آپ نے مخاطب کو کسی حکم کا فائدہ دینا ہو، تو اس حکم کے اندر جو بھی لفظ کسی معنی پر دلالت کر رہا ہو، تو اصل کیا ہے اس لفظ کو؟ ذکر کیا جائے۔ کیونکہ جب ایک لفظ معنی کا فائدہ دے رہا ہے اور حکم کے اندر ہے، تو اگر آپ اس لفظ کو ذکر نہیں کریں گے تو اس وہ معنی تو مخاطب تک نہیں پہنچے گا، تو بات اس کی پوری سمجھ میں نہیں آئے گی اور بات بات اس کو کیا سمجھ میں آئے گی، بلکہ یہ تو پہیلی کی طرح معمہ بن جائے گا کہ یہ کیا کہنا چاہتا تھا، مجھے تو بات اس کی سمجھ میں نہیں آئی، کیونکہ ایک لفظ جو تھا وہ آپ نے ذکر ہی نہیں کیا۔ اور بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ باقی کا کلام ایک لفظ پر دلالت کر رہا ہوتا ہے، تو پھر وہاں پر اصل یہ ہے کہ اس لفظ کو حذف کر دیا جائے۔ لفظ تو ہے اس کا معنی بھی پہنچانا مقصود ہے دوسرے کو، وہ بات کہنی بھی مقصود ہے دوسرے کو، لیکن باقی کلام کیا کر رہا ہوتا ہے؟ اس لفظ پر دلالت کر رہا ہوتا ہے۔ تو ایسے موقع پر جب باقی کلام اس لفظ پر کیا کر رہا ہے؟ دلالت کر رہا ہے، باقی کلام سے اس لفظ کا پتہ چل رہا ہے، تو اب اس لفظ کو ذکر کر کیا جائے تو بیکار ہو جائے گا بئی۔ جب باقی کلام سے پتہ چل رہا ہے تو اب اس کو ذکر کرنے کی ضرورت نہیں، تو ایسے موقع پر اصل یہ ہے کہ اس لفظ کو کیا کر دیا جائے؟ حذف کر دیا جائے بئی۔ بات سمجھ میں آگئی بئی؟ تو دو اصلوں کا آپ کو پتہ چل گیا۔ ایک اصل کیا؟ کہ اگر مخاطب کو کسی حکم کا فائدہ دینا مقصد ہو، تو اگر کوئی لفظ اس حکم کے اندر کسی معنی پر دلالت کر رہا ہے، تو اصل کیا ہے اس لفظ کو؟ ذکر کیا جائے بئی، ذکر کیونکہ وہ لفظ ایک معنی پر دلالت کر رہا ہے۔ تو اصل یہ ہے اس کو ذکر کیا جائے۔ اور بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک لفظ جو ہے معنی پر دلالت تو کر رہا ہے لیکن لیکن بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ باقی کا کلام اس لفظ پر دلالت کر رہا ہوتا ہے، تو ایسے موقع پر اصل یہ ہے کہ اس لفظ کو حذف کر دیا جائے بئی حذف کر دیا جائے۔ تو یہ دو اصلے۔ اور بعض اوقات ان اصلوں میں تعارض آجاتا ہے۔ ایک طرف کو دیکھیں تو ایک اصل تقاضا کر رہی ہے اس کے ذکر کا، دوسری جانب دوسری اصل کو دیکھیں تو وہ اس کے تقاضا کر رہی ہے اس کے حذف کا۔ کس چیز کا؟ حذف کا۔ مثلاً دیکھیے! میں آپ کو ایک بات بتلانا چاہتا ہوں اور اس بات کے اندر ایک لفظ لاؤں لفظ ہے وہ ایک معنی پر دلالت کر رہا ہے اور جب کوئی لفظ کسی معنی پر دلالت کر رہا ہو حکم کے اندر تو اصل کیا ہے اس کو؟ ذکر کرنا۔ تو یہ اصل تقاضا کر رہی ہے اس لفظ کو ذکر کرنا۔ دوسری طرف دیکھیں تو باقی کا کلام اس لفظ پر کیا کر رہا ہے؟ دلالت کر رہا ہے۔ تو یہ اصل کہ باقی کا کلام باقی کلام کا اس پر دلالت کرنا، یہ تقاضا کر رہا ہے یہاں پر کہ کیا کیا جائے اس لفظ کو؟ حذف کیا جائے، تو کبھی کبھار ان دو اصلوں کے اندر تعارض آتا ہے، یعنی ٹکراؤ آتا ہے۔ ایک اصل کی جانب دیکھیں تو وہ تقاضا کر رہی ہے اس کو ذکر کرنا چاہیے، دوسری اصل کی جانب نظر کریں تو وہ تقاضا کر رہی ہے اس کو حذف کرنا چاہیے، اب کیا کریں کس پر عمل کیا جائے گا؟ ایک اصل کیا تقاضا کر رہی ہے؟ ذکر، تو وہ اصل ہوئی مقتضی اور ذکر ہوا اس کا مقتضا۔ تقاضا کرنے والی کیا ہے؟ وہ اصل جو کہ لفظ معنی پر دلالت کر رہا ہے۔ وہ اصل وہ ہے مقتضی، تقاضا کر رہی ہے اور کس چیز کا تقاضا کر رہی ہے؟ ذکر کا، تو ذکر ہوا مقتضا جس کا اس نے تقاضا کیا۔ تو پہلی اصل کیا ہوئی؟ مقتضی اور ذکر اس کا کیا ہوا؟ مقتضا۔ اور دوسری اصل جو ہے وہ ہوئی مقتضی، وہ تقاضا کر رہی ہے۔ دوسری اصل کیا تھی؟ کہ باقی کا کلام اس لفظ پر دلالت کر رہا ہو، یہ دوسری اصل ہے، یہ تقاضا کرنے والی ہے، یہ ہے مقتضی، اور کس چیز کا تقاضا کر رہی ہے؟ حذف کرنے کا، تو حذف ہوا مقتضا۔ حذف کیا ہوا؟ مقتضا۔ تو ذکر بھی مقتضا، حذف بھی مقتضا۔ تو ایک مقتضا سے دوسرے مقتضا کی طرف جو عدول کیا جائے گا، ایک کو چھوڑ کر آپ دوسرے کی طرف جائیں گے، یعنی ذکر کو چھوڑ کر آپ نے حذف کا رخ کر لیا اور لفظ کو حذف کر دیا، یا حذف کو چھوڑ کر آپ نے کس پر عمل کیا؟ ذکر پر عمل کیا کہ لفظ کو ذکر کر دیا، تو یاد رکھیے یہ کسی نقطے کی وجہ سے ہوگا، ویسے نہیں بئی۔ کوئی نقطہ ہوگا جو ایک اصل دیکھو تقاضا کر رہی ہے ذکر کرنے کا، ایک اصل تقاضا کس کا کر رہی ہے؟ حذف کرنے کا، تو وہاں کوئی داعی ہونا چاہیے جس کی بنا پر آپ ایک جانب کو ترجیح دیں۔ کوئی ایسی چیز دعوت دینے والی ہو، کوئی ایسی چیز ہو جو اس بات کی طرف بلائے کہ یہاں ذکر کر دو۔ کوئی یا کوئی ایسی چیز ہونی چاہیے جو اس بات کی طرف دعوت دے کہ یہاں کیا بہتر ہے؟ حذف بہتر ہے۔ تو کبھی کبھار ان دو اصلوں کے اندر تعارض آتا ہے، ٹکراؤ آتا ہے، اور ٹکراؤ کی صورت میں اب کسی جانب کو بھی ترجیح ویسے نہیں دی جائے گی، بلکہ ترجیح کس بنا پر دی جائے گی؟ کسی داعی کی وجہ سے، کسی نقطے کی وجہ سے، وہاں کوئی نقطہ، کوئی گہری بات، کوئی باریک بات وہاں پر ہوگی جس کی وجہ سے آپ کیا کریں گے؟ ذکر کو مثلاً ترجیح دے دیں گے اور حذف کو چھوڑ دیں گے۔ یا کوئی ایسے باریک نقطہ ہوگا، باریک بات ہوگی جس کی وجہ سے آپ حذف کو ترجیح دے دیں گے اور حذف پر عمل کر لیں گے اور ذکر کو چھوڑ دیں گے۔ تو کبھی کبھار کیا ہوتا ہے ان دونوں اصلوں کے اندر؟ تعارض آتا ہے اور جب تعارض آئے تو کسی ایک کو ترجیح دیں گے کس بنا پر؟ کسی داعی کی وجہ سے، کسی نقطے کی وجہ سے بئی۔ بات سمجھ میں آگئی بئی؟ تو ذکر بھی ہے مقتضا، حذف بھی ہے مقتضا، تو ایک اصل کے مقتضا سے دوسرے اصل کے مقتضا کی طرف جب انسان عدول کرتا ہے، اس کی جانب پھر جاتا ہے، اس کی جانب پلٹ جاتا ہے، یہ ہمیشہ کس کی وجہ سے ہوگا؟ کسی داعی کی وجہ سے ہوگا، کسی نقطے کی وجہ سے ہوگا بئی۔ سمجھ میں آیا بئی؟ تو لہٰذا، آپ ایک کلام کرنا چاہتے ہیں اور اس کلام کے اندر ایک لفظ ہے جو ایک معنی پر دلالت کر رہا ہے۔ ایک لفظ ہے جو کسی توجه ہے سب کی طرف؟ آپ ایک حکم مخاطب کو پہنچانا چاہتے ہیں، میں نے پہلے بتلایا تھا، حکم کا کیا معنی؟ آسان لفظوں میں یوں کہو بات کہنا چاہتے ہیں دوسرے کو۔ تو آپ مخاطب کو ایک بات کہنا چاہتے ہیں اور اس بات میں ایک لفظ ہے جو ایک معنی پر دلالت کر رہا ہے، تو یہاں پر اصل کیا ہوا؟ ذکر کرنا اصل ہوا، لیکن صرف اصل ہونے کی بنا پر اب آپ ذکر کر دیں؟ نہیں، ایسا نہیں ہوگا۔ صرف اصل ہونے کی بنا پر کیا کر دیا جائے؟ ذکر کر دیا جائے، نہیں ایسا نہیں ہوگا، بلکہ جانب مخالف کو بھی دیکھو، کوئی حذف کا نقطہ تو یہاں نہیں ہے؟ اگر حذف کا نقطہ یہاں ہے تو حذف کو ترجیح دے دیں گے بئی۔ اور اگر حذف کا کوئی نقطہ نہیں، پھر اس صورت میں کیا کر دیں گے؟ ذکر کر دیں گے۔ تو صرف اصل ہونے کی بنا پر کسی کو ذکر کریں؟ یا صرف اصل ہونے کی بنا پر کسی کو حذف کیا جائے؟ یہ یہ یعنی کہ صرف اصل کی بنا پر ذکر کی رعایت نہیں رکھی جائے گی، صرف اصل ہونے کی بنا پر حذف کی رعایت نہیں رکھی جائے گی، بلکہ وہاں یہ بھی دیکھا جائے گا کہ جانب مخالف کا کوئی مقتضی تو نہیں ہے یہاں؟ سمجھ میں آیا؟ دوبارہ سنیں بئی۔ جب بھی آپ کوئی بات کسی دوسرے کو کہنا چاہتے ہیں اور اس بات کے اندر کوئی لفظ ہے جو کسی معنی پر دلالت کر رہا ہے، تو اصل کیا ہے؟ ذکر کیا جائے۔ لیکن صرف اس اصل ہونے کی بنا پر آپ ذکر کی رعایت رکھیں اور اس لفظ کو ذکر کر دیں، ایسا نہیں ہوگا۔ بلکہ کیا اصل کے ساتھ ساتھ کیا دیکھنا پڑے گا؟ کہ جانب مخالف کا کوئی مقتضی تو نہیں؟ یعنی حذف کا کوئی تقاضا کرنے والی چیز تو یہاں نہیں ہے؟ اگر حذف کا تقاضا کرنے والی کوئی چیز ہے یہاں پر، تو پھر حذف کی رعایت رکھنا پڑے گی، اصل کو اس اصل کو چھوڑنا پڑے گا، یعنی ذکر کی اصل کو چھوڑنا۔ اور اسی طرح ایک مقام ہے وہاں پر باقی کلام ایک لفظ پر پہلے سے ہی دلالت کر رہا ہے۔ جب باقی کلام اس لفظ پر پہلے سے دلالت کر رہا ہے، تو اصل کیا ہوا؟ حذف کرنا، لیکن صرف اصل ہونے کی بنا پر آپ اس لفظ کو حذف کر دیں اور اس کی رعایت رکھیں، ایسا نہیں ہو کیا جائے گا، بلکہ کیا دیکھنا پڑے گا؟ اصل کے ساتھ ساتھ، بئی یہاں اصل تو یہی ہے کہ کیا کیا جائے؟ حذف کیا جائے، لیکن جانب مخالف یعنی ذکر کے بارے میں بھی دیکھ لیں، کہ یہاں کوئی نقطہ ذکر کی طرف ذکر کو ترجیح تو نہیں دے رہا؟ کوئی نقطہ تو نہیں ہے ذکر کا؟ اگر ذکر کا نقطہ کوئی ہے تو پھر ذکر کو ترجیح دے دیں گے، اس اصل یعنی حذف کو چھوڑ دیں گے۔ اور کس پر عمل کریں گے؟ ذکر پر۔ لیکن اگر جانب مخالف یعنی ذکر کا کوئی داعی نہیں، کوئی چیز ترجیح دینے والی نہیں ہے، تو پھر اس جانب مخالف کو چھوڑ دیا اور اس اصل پر عمل کر لیا۔ یہاں تک تقریر سمجھ میں آگئی؟ یہ تو بات تھی ذکر اور حذف کے اندر۔ اب یہاں لفظ آیا حذف۔ اب آپ اس سے جہاں بھی کوئی لفظ محذوف ہو، آپ فوراً اس وہاں پر یہ نہ کہیں کہ یہ بلاغت ہے، یہ کیا ہے؟ جہاں بھی کوئی لفظ محذوف ملے آپ کہیں یہ بلاغت ہے بئی، نہیں بئی۔ محذوف بھی دو قسم پر ہے۔ ایک وہ محذوف ہے جو ترکیب کے اعتبار سے محذوف ہوتا ہے اور آپ اس کو وہاں پھر نکالتے ہیں، ترکیب کو پورا کرنے کے لیے۔ جیسے: زيد في الدار، زيد في الدار۔ اب یہاں آپ ترکیب کس طرح کرتے ہیں؟ زيد مبتدا، في جارة، الدار مجرور، جار مجرور مل کر متعلق کس سے؟ ثابت سے متعلق نکالتے ہیں، تو دیکھو یہاں ثابت آپ محذوف نکالتے ہیں، لیکن یاد رکھو اس کا بلاغت سے تعلق نہیں، یہ ثابت تو آپ نے کس لیے نکالا ہے؟ ترکیب کے اعتبار سے کہ اس کے بغیر ترکیب نہیں پوری ہو رہی تھی۔ یا جیسے اور مثال دیکھ لیں، عرب والے جب ان کے پاس کوئی مہمان آتا ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ أهلاً وسهلاً۔ اب دیکھیے أهلاً وسهلاً، یہاں پر بھی أهلاً منصوب ہے، نصب بلاوجہ تو نہیں آتا، نصب کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ کوئی عامل چاہیے جو نصب دے، تو أهلاً بھی منصوب، معلوم ہوا اس کا عامل محذوف ہے۔ سهلاً منصوب، معلوم ہوا اس کا عامل محذوف ہے، تو وہ آپ پھر کیا نکالتے ہیں، کیا پڑھا ہے آپ نے قافیہ اور جامی وغیرہ کے اندر؟ اتيت اهلاً ووطئت سهلاً، یا یوں کہیں اتيت اهلاً ونزلت سهلاً۔ تو یہاں دیکھیے، آپ نے یہ محذوف نکالے، لیکن یاد رکھیے یہ بلاغت نہیں ہے، بلکہ یہ تو محذوف ہے کس وجہ سے؟ یہ عرب استعمال ہی اسی طرح کرتے ہیں، اور ان محذوف کو آپ نے ذکر کرتے ہیں، کس وجہ سے ذکر کرتے ہیں؟ ترکیب کو پورا کرنے کے لیے، نہیں بھئی یہ ترکیب کی بات یہاں نہیں ہوگی، بلکہ یہاں محذوف سے مراد ایسا محذوف ہے جس کا تعلق ترکیب سے نہیں ہوتا، بلکہ آپ معنی کے اندر غور کرتے ہیں اس کلام میں، جب معنی کے اندر غور کرتے ہیں تو پتہ لگتا ہے یہاں فلاں چیز ہونی چاہیے تھی، اس کے بغیر معنی پورا ہوتا ہی نہیں، معلوم ہوا وہ چیز یہاں پر حذف کی گئی ہے بھئی۔ اور وہ ایسا محذوف ہوتا ہے کہ اس کو عبارت میں ذکر کرنے کی گنجائش بھی نہیں ہوتی، ترکیب میں تو آپ کیا کرتے ہیں اس کو محذوف کو نکال لیتے ہیں، بتا دیتے ہیں کہ یہ محذوف ہے، لیکن یہاں پر جو محذوف ہوتا ہے وہ کس اعتبار سے ہوتا ہے؟ معنی کے اعتبار سے ہوتا ہے، اس کے بغیر معنی پورا نہیں، اور اس کو عبارت میں ذکر کرنے کی گنجائش بھی نہیں ہوتی، اگر اس کو عبارت کے اندر ذکر کر دیا جائے تو عبارت کا سارا حسن اور اس کی ساری رونق ہی ختم ہو جائے گی بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ ہاں، تو وہاں وہ نقطہ ہوتا ہے، وہ خاص نقطہ ہی ختم ہو جائے گا، وہ حسن اور جمال ہی عبارت کا ختم ہو جائے گا کلام کا بھئی۔ تو وہ یہ وہ محذوف مراد ہے بھئی، جو کس اعتبار سے ہوتا ہے؟ معنی کے اعتبار سے ہوتا ہے، ترکیب کے اعتبار سے محذوف جو ہے وہ یہاں پر مراد نہیں ہے۔ اور پھر یاد رکھیے، یاد رکھیے، یہ موقوف ہے پھر دو چیزوں پر، کس چیز پر؟ یہ والا حذف؟ دو چیزوں پر، یہ جس کا تعلق بلاغت سے ہے، ایک وہ ترکیب والا محذوف ہے، ایک یہ بلاغت والا محذوف ہے، یہ جو بلاغت والا محذوف ہے، اس کا یہ موقوف ہے دو چیزوں پر، ایک تو یہ کہ وہاں کوئی قرینہ ہونا چاہیے جو ہمیں بتلائے یہ لفظ یہاں محذوف ہے۔ کیا ہونا چاہیے؟ قرینہ، قرینہ کسے کہتے تھے؟ میں نے کیا بتلایا تھا؟ القرينة هو أمر يشير إلى المطلوب، قرینہ وہ امر ہے جو مطلوب کی طرف کیا کر دے؟ اشارہ کر دے۔ تو کوئی بھی چیز جو آپ کو اشارہ کر دے، بتلا دے کہ یہاں پر یہ لفظ حذف ہے، اس کو کیا کہیں گے؟ قرینہ کہیں گے۔ تو اب ایک لفظ حذف ہے، اس کے لیے کوئی قرینہ چاہیے، بغیر قرینے کے تو دوسرے کو پتہ ہی نہیں چلے گا وہ، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو پہلی بات، اس محذوف پر کیا ہونا چاہیے؟ کوئی قرینہ ہونا چاہیے ہمیشہ ہمیشہ، اس کے بغیر نہیں پتہ چلے گا کبھی بھی، سننے والے کو قرینے سے ہی اندازہ ہوگا کہ یہاں یہ لفظ محذوف ہے، چاہے وہ قرینہ کوئی لفظوں کے اندر ہو یا کوئی حال وغیرہ ہو، جو بھی چیز بہرحال دلالت کر دے اس کو کیا کہیں گے؟ قرینہ۔ تو پہلی بات یہ کہ اس محذوف پر کوئی قرینہ ہونا چاہیے جو بتلا دے کہ یہاں یہ لفظ محذوف ہے۔ اور دوسری چیز کہ یہاں پر لفظ محذوف ہے، تو حذف کو ترجیح دینے والا کوئی نقطہ بھی ہونا چاہیے، کیا ہونا چاہیے؟ ہاں، آپ نے ذکر کے بجائے کس کو ترجیح دی ہے؟ حذف کو، تو اس حذف کو ترجیح دینے والا کوئی نقطہ ہو کہ اس نقطے کی وجہ سے ذکر کو چھوڑ کر کس پر عمل کیا گیا؟ حذف پر عمل کیا گیا۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو حاصلِ کلام کیا ہوا کہ یہاں پر جو حذف اور محذوف وغیرہ ذکر ہوئے اس سے کیا مراد ہے؟ ترکیب والا محذوف مراد نہیں بلکہ کون سا محذوف مراد ہے؟ جو معنی کے اعتبار سے ہو، اس کے بغیر بات پوری ہی نہ ہوتی ہو، اور وہ محذوف مراد ہے، اور اس کا تعلق بلاغت سے ہے، تو معنی ہمیں بتلاتا ہے کہ اس لفظ کا یہاں ہونا ضروری ہے بھئی، اور اس کو ذکر کرنے کی بھی گنجائش نہیں ہوتی، بلکہ اگر آپ اس کو ذکر کر دیں گے تو پھر سارے کلام کا حسن ہی ختم ہو جائے گا، اس کی رونق ہی باقی نہ رہے گی۔ اور اس میں، اس لیے کتنی چیزوں پر موقوف ہے یہ والا محذوف؟ دو چیزوں پر موقوف ہے، نمبر ایک یا ایک کہ وہاں پر کوئی قرینہ ہونا چاہیے جو اس محذوف پر دلالت کرے، اور دوسرا وہاں کوئی نقطہ ہونا چاہیے جس کی وجہ سے ذکر کو چھوڑ دیا گیا اور حذف پر عمل کیا گیا، بات سمجھ میں آگئی؟ جی، اب دیکھیے کتاب پر۔ الباب الثاني في الذكر والحذف، دوسرا باب ذکر اور حذف کے بیان میں۔ إذا أريد إفادة السامع حكماً، جب ارادہ کیا جائے فائدہ دینے کا سامع کو حكماً کسی حکم کا، جب سامع کو کسی حکم کا فائدہ دینے کا ارادہ کیا جائے۔ ترجمہ سمجھ میں آرہا ہے؟ جب سامع کو کسی حکم کا فائدہ دینے کا ارادہ کیا جائے، آسان لفظوں میں کیا ترجمہ کریں گے؟ ہاں شاباش، جب سامع کو کوئی بات بتانے کا ارادہ کیا جائے۔ جب سننے والے کو یعنی مخاطب کو کوئی بات بتانے کا ارادہ کیا جائے، فأي لفظ يدل على معنى فيه، پس جو بھی لفظ دلالت کر رہا ہو کسی معنی پر فيه أي في الحكم اس حکم میں، تو جو بھی لفظ کسی لفظ، جو بھی لفظ کسی معنی پر دلالت کر رہا ہو اس حکم کے اندر، فالأصل ذكره، تو اصل کیا ہے؟ اس لفظ کو ذکر کرنا ہے۔ وأي لفظ علم من الكلام لدلالة باقيه عليه فالأصل حذفه، وأي لفظ اور جو بھی لفظ علم من الكلام معلوم ہو کس سے؟ کلام سے معلوم ہو رہا ہو، لدلالة باقيه أي باقي الكلام، بوجہ دلالت کرنے باقی کلام کے عليه أي على اللفظ اس لفظ پر، فالأصل حذفه، تو اصل کیا ہے؟ اس لفظ کو حذف کرنا ہے۔ دوبارہ دیکھیے ترجمہ: وأي لفظ علم من الكلام لدلالة باقيه عليه فالأصل حذفه، اور جو بھی لفظ جانا جائے کلام سے اس وجہ سے کہ باقی کلام اس لفظ پر دلالت کر رہا ہے، فالأصل حذفه، تو اصل کیا ہے؟ اس لفظ کا حذف کرنا ہے۔ وإذا تعارض هذان الأصلان، اور جب تعارض آ جائے ان دو اصلوں کے اندر بھئی، کس میں؟ دو اصلوں میں، کیسے تعارض آیا مثلاً؟ ایک لفظ ہے اور وہ حکم میں کسی معنی پر دلالت کر رہا ہے، تو یہ اصل تقاضا کر رہی ہے اس کو ذکر کیا جائے، لیکن دوسری طرف آپ غور کرتے ہیں کہ باقی کا کلام بھی اس لفظ پر کیا کر رہا ہے؟ دلالت، جب باقی کلام دلالت کر رہا ہو تو اصل کیا ہے؟ اس لفظ کو حذف کیا جائے، تو یہ دوسری اصل اب تقاضا کر رہی ہے اس کو حذف کرنا چاہیے، تو دونوں میں تعارض آ گیا، دونوں میں ٹکراؤ آ گیا۔ اب فلا يعدل عن مقتضى أحدهما إلى مقتضى الآخر، لہذا عدول نہیں کیا جائے گا، پھیرا نہیں جائے گا ان دونوں اصلوں میں سے ایک کے مقتضا سے إلى مقتضى الآخر دوسرے کے مقتضا کی طرف۔ ایک اصل کیا ہے؟ کس چیز کا تقاضا کر رہی ہے؟ ذکر، تو ذکر ہوا مقتضا، اور دوسری اصل تقاضا کس چیز کا کر رہی ہے؟ حذف، تو حذف بھی کیا ہوا؟ مقتضا۔ تو ایک کے مقتضا سے، ایک کا مقتضا مثلاً کیا ہے؟ ذکر، اس سے دوسرے کے مقتضا یعنی حذف کی طرف عدول نہیں کیا جائے گا، یا اس کا عکس کریں، ایک کا مقتضا کیا ہے؟ حذف، اور دوسرے کا مقتضا کیا ہے؟ ذکر، تو حذف سے ذکر کی طرف عدول نہیں کیا جائے گا، إلا لدائع، مگر کسی داعی کی وجہ سے، کوئی چیز ہو جو دعوت دینے والی ہو، یعنی کوئی نقطہ ہو جو اس کو ترجیح دے رہا ہو بھئی، بات سمجھ میں آگئی؟ اب وہ نقطے بیان کرنے لگے ہیں کہ ذکر کے کیا کیا نکات ہوتے ہیں، حذف کے کیا کیا نکات ہوتے ہیں، کہتے ہیں فمن دواعي الذكر، تو ذکر کے دواعی میں سے، دواعی جمع ہے داعی کی بھئی، ذکر کے وہ چیزیں جو ذکر کرنے کی دعوت دینے والی ہیں ان میں سے ایک داعی کیا ہے؟ زيادة التقرير والإيضاح۔ تقریر کا معنی ہے کسی چیز کا، کو پختہ کرنا، مضبوط کرنا، مضبوط کرنا، تو مراد کیا ہے؟ سننے والے کے ذہن میں ایک چیز کو زیادہ مضبوط کرنا۔ زيادة التقرير کا کیا معنی؟ ہاں، سننے والے کے ذہن میں ایک بات کو پختہ کرنا، یعنی اس کے ذہن میں بات کو اچھی طرح بٹھانا، والإيضاح، اس کا عطف بھی تقریر پر ہے، أي زيادة الإيضاح، ایضاح کا کیا معنی ہے؟ وضاحت کرنا، تفصیل کرنا، اور زيادة الإيضاح کا کیا معنی ہوا؟ زیادہ وضاحت کرنا۔ تو بھئی ذکر کے دواعی میں سے ایک نقطہ یہ ہے کہ بعض اوقات متکلم کا ارادہ یہ ہوتا ہے کہ وہ سننے والے کے ذہن میں بات کو اچھی طرح بٹھانا چاہتا ہے، اچھی طرح بٹھانا چاہتا ہے، اچھی طرح اس بات کی وضاحت کرنا چاہتا ہے۔ نحو، مثال کے طور پر أولئک على هدى من ربهم وأولئک هم المفلحون، یہ وہ لوگ ہیں على هدى جو کس پر ہیں؟ ہدایت پر ہیں، من ربهم کس کی جانب سے؟ اپنے پروردگار، یہ ہدایت جو کس کی جانب سے ہے؟ ان کے پروردگار کی جانب سے ہے، وأولئک هم المفلحون اور یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں، کامیاب ہونے والے ہیں بھئی۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ أولئک على هدى من ربهم، یہ وہ لوگ ہیں جو ہدایت پر ہیں اپنے پروردگار کی جانب سے، وأولئک هم المفلحون، اور یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں بھئی، فلاح پانے والے ہیں۔ اب دیکھیے بھئی، مقامِ استشہاد ہے یہاں پر یہ اولئک ثانی جو ہے، دوسرا اولئک آیا، أولئک هم المفلحون، یہ والا اولئک، اس اولئک کو ذکر کیا گیا اور ذکر کرنے کا مقصد کیا ہے؟ زيادة تقریر اور زيادة ایضاح بھئی، سننے والے کے ذہن میں بات کو اچھی طرح بٹھانا اور بات کی اچھی طرح وضاحت کرنا۔ بھئی دیکھیے، اگر یہ اس اولئک کو ذکر نہ کیا جاتا کلام پھر بھی صحیح، کلام کلام پھر بھی صحیح ہوتا، اپنے معنی پر دلالت کرتا، سننے والے کے ذہن میں بات بیٹھ جاتی اور بات خوب واضح ہوتی، لیکن ذکر کیا گیا تو ذکر کی وجہ سے اب بات زیادہ اچھے طریقے سے ذہن میں بیٹھ گئی اور زیادہ اس کی وضاحت ہو گئی۔ تو دیکھیے، ایک ہے ذکر ایک ہے حذف، ایک ہے ذکر اور ایک ہے حذف، تو زیادہ وضاحت اور زیادہ اچھی طرح بات ذہن میں کب بیٹھے گی؟ جس چیز کو ذکر کیا جائے یا حذف کیا جائے؟ جب چیز کو ذکر کیا جائے، جب ذکر کیا جائے گا۔ بھئی ایسا مثلاً یہ مقام ہے، یہاں پر اس اولئک ثانی جو ہے اس کو ذکر نہ کیا جاتا پھر بھی بات واضح تھی، پھر بھی بات ذہن میں بیٹھ رہی تھی، لیکن مقصد کیا تھا؟ الحمد لله، يهديكم الله ويصلح بالكم۔ تو یہاں اگر اس لفظ کو ذکر نہ کیا جائے پھر بھی بات ذہن میں سننے والے کے، پھر بھی بات سننے والے کے ذہن میں بیٹھ جاتی ہے اور بات واضح ہے، لیکن مقصد کیا ہے؟ زیادہ اچھی طرح بٹھانا اور زیادہ وضاحت کرنا، اور یہ تو آپ بھی جانتے ہیں کہ زیادہ وضاحت ذکر کی صورت میں ہوگی، حذف کی صورت میں نہیں ہوگی۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو یہ لوگ ہیں على هدى من ربهم و اولئک، سمجھ میں آیا؟ تو یہ اولئک ایک دفعہ ذکر ہو چکا تھا پیچھے، لیکن پھر اس کو کیا کیا گیا؟ ذکر کیا گیا، دوبارہ اس کو ذکر کیا گیا تاکہ سننے والے کے ذہن میں بات اچھی طرح بیٹھ جائے اور خوب زیادہ کیا ہو جائے اس کی وضاحت ہو جائے۔ دیکھیے یہاں لفظ آیا زيادة التقرير، اگر اس کو حذف کر دیا جاتا تو بھی تقریر اور ایضاح تھا، کیا تھا؟ بات سننے والے کے ذہن میں بیٹھ جاتی ہے اور وضاحت بھی ہو جاتی ہے، لیکن مقصود کیا ہے؟ زيادة التقرير وزيادة الإيضاح، زیادہ وضاحت اور زیادہ بات کو اچھی طرح ذہن میں بٹھانا، اور زیادہ وضاحت اور زیادہ اچھی طرح بٹھانا یہ تو کس صورت میں ہوگا؟ ذکر ہی کی صورت میں ہوگا، اسی لیے اس اولئک ثانی کو ذکر کیا گیا۔ بات سب کو سمجھ میں آگئی؟ تو یہاں حذف کے بجائے کس کو اختیار کیا گیا؟ ذکر کو، کس نقطے کی بناء پر؟ بات کو سننے والے کے ذہن میں زیادہ اچھی طرح بٹھانے کے لیے اور بات کی زیادہ وضاحت کرنے کے لیے بھئی، زیادہ وضاحت کے لیے۔ یہاں تک اچھی طرح بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ یہاں ایک اور ایک دو اور نقطے آپ کے لیے بیان کر دوں بھئی۔ بھئی دیکھیے، أولئک على هدى من ربهم، یہاں پر قرآن میں آیا یہ لوگ ہیں ہدایت پر من ربهم اپنے پروردگار کی جانب سے، تو اولئک ذکر کیا گیا، یہ نہیں کہا گیا هم على هدى من ربهم، یہ لوگ دیکھو یہاں اس میں اشارہ ذکر کیا گیا، اس کی جگہ ضمیر بھی ذکر ہو سکتی تھی هم على هدى من ربهم، یہ لوگ کیا ہیں اپنے پروردگار کی جانب سے ہدایت، تو ضمیر کے بجائے اسمِ اشارہ کو ذکر کیا گیا بھئی، اس میں اشارہ کو ذکر کیا گیا۔ وجہ یہ کہ جب ضمیر ذکر کی جائے تو ضمیر صرف ذات پر دلالت کرتی ہے، کس پر؟ ذات پر دلالت کرتی ہے، اور اسمِ اشارہ ذکر کیا جائے تو وہاں ذات کے ساتھ ساتھ اوصاف بھی ملحوظ ہوتے ہیں، ذات کے ساتھ ساتھ اوصاف بھی ملحوظ ہوتے ہیں۔ اگر یہ کہہ دیا جاتا هم على هدى من ربهم، یہ لوگ ہیں اپنے پروردگار کی طرف سے ہدایت پر، تو صرف هم کے ذریعے پتہ لگ جاتا یہ ذاتیں ہیں، یہ لوگ ہیں جو کیا ہیں؟ ہدایت پر ہیں، لیکن وجہ کا پتہ نہ چلتا کہ ہدایت پر کیوں ہیں۔ لیکن جب اسمِ اشارہ ذکر کیا گیا تو ذات، وہاں ذات کے ساتھ ساتھ اوصاف بھی ملحوظ ہوتے ہیں، کیا ملحوظ ہوتے ہیں؟ اوصاف بھی ملحوظ، اور پیچھے اوصاف بھی ذکر ہیں، تو علت کا بھی پتہ چل گیا کہ اس وجہ سے یہ لوگ ہدایت پر ہیں، اس وجہ سے۔ بھئی دیکھیے، جب کسی ذات پر حکم لگایا جائے، صرف ذات پر، تو حکم کی علت کا پتہ نہیں چلتا، مثلاً میں کہتا ہوں أكرمت رجلاً، میں نے ایک آدمی کا اکرام کیا، تو کس کا اکرام کیا؟ رجلاً، رجلاً صرف ذات کو میں نے ذکر کیا، اوصاف کو ذکر نہیں کیا۔ میں نے ایک آدمی کا اکرام کیا، آپ کو یہ تو پتہ چل گیا کہ یہ کہنے والے نے کسی آدمی کا اکرام کیا ہے، لیکن وجہ کا پتہ نہیں چلا، کیونکہ صرف ذات ذکر ہے، اوصاف وہاں، یہاں پر کوئی ذکر ہی نہیں، اتنا پتہ لگ گیا کہ یہ جو بات کر رہا ہے اس نے کیا کیا ہے؟ کسی آدمی کا اکرام کیا ہے، لیکن کیوں اکرام کیا، اس کی وجہ کیا تھی، وہ پتہ نہیں چل رہی یہاں سے، لیکن اگر یہی حکم ذات مع الوصف پر لگایا جائے، ساتھ وصف بھی ہو تو علت کا بھی پتہ چل جائے گا، مثلاً میں کہتا ہوں أكرمت رجلاً عالماً، میں نے ایک عالم آدمی کا اکرام کیا، اب دیکھیے، صرف ذات ذکر ہے یا ذات مع الوصف ذکر ہے؟ ذات مع الوصف ذکر ہے، اور ذات مع الوصف پر جب کوئی حکم لگایا جاتا ہے تو وہاں اس حکم کی علت وہ وصف ہوا کرتا ہے، جب میں نے کہا أكرمت رجلاً عالماً، تو میں نے ذات مع الوصف پر حکم لگایا، رجل ہے اور کیسا رجل ہے؟ عالم ہے، وصف بھی ساتھ آ گیا، اور جب ذات مع الوصف پر حکم لگایا جائے تو وہاں اس حکم کی علت اور وجہ اور سبب کیا ہوتا ہے؟ وہ وصف ہوتا ہے، تو اس جملے سے آپ کو یہ بھی پتہ چل گیا کہ میں نے اکرام کیوں کیا اس آدمی کا، کیونکہ وہ عالم تھا بھئی، تو علت بھی پتہ چل گئی، سبب بھی پتہ چل گیا۔ تقریر سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ جب صرف ذات پر حکم لگایا جائے تو حکم کی علت کا پتہ نہیں چلتا، لیکن جب کس پر حکم لگایا جائے؟ ذات مع الوصف پر حکم لگایا جائے تو اس حکم کی علت کا بھی پتہ چل جاتا ہے کہ یہ وجہ ہے اس حکم کی بھئی، بات سمجھ میں آگئی؟ تو یہاں پر بھی اسی طرح اگر هم ذکر کیا جاتا یہاں پر آیت کے اندر، تو هم ضمیر ہے اور ضمیر صرف کس پر دلالت کرتی ہے؟ ذات پر، هم سے یہ تو پتہ چل جاتا پیچھے جو لوگ ذکر ہوئے ہیں وہ لوگ مراد ہیں، پیچھے جو لوگ ذکر ہوئے ہیں وہ، ذات کا تو پتہ چل جاتا، یہ لوگ اب اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں، لیکن کیوں ہدایت پر ہیں؟ اس کا علت کا پتہ نہ چلتا، سبب کا پتہ نہ چلتا۔ نہیں چلتا، لیکن جب یہاں کیا آیا؟ اولئك آیا۔ اولئك، اولئك اسمِ اشارہ اور اسمِ اشارہ تو کس پر دلالت کرتا ہے؟ ذات مع الوصف، ذات کے ساتھ ساتھ وہاں اوصاف بھی ملحوظ ہوتے ہیں، تو حکم کی علت کا بھی پتہ چل گیا، کیونکہ پیچھے جو ہیں ان کے، پیچھے کیا ہے اس سے آیات ہیں؟ الم، ذلك الكتاب لا ريب فيه هدى للمتقين۔ یہ کتاب جو ہے، یہ ہدایت ہے کس کے لیے؟ متقیوں کے لیے۔ الذين يؤمنون بالغيب ويقيمون الصلاة ومما رزقناهم ينفقون، یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لاتے ہیں کس پر؟ غیب پر، ويقيمون الصلاة اور کیا کرتے ہیں یہ لوگ؟ نماز قائم کرتے ہیں، ومما رزقناهم ينفقون اور یہ لوگ اس میں سے خرچ کرتے ہیں جو ہم نے ان کو دیا ہے، والذين يؤمنون بما أنزل إليك وما أنزل من قبلك وبالآخرة هم يوقنون، اور یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لاتے ہیں اس پر بھی جو آپ کی طرف کتاب نازل کی گئی، وما أنزل من قبلك اور جو آپ سے پہلے نازل کی گئی ان پر بھی ایمان رکھتے ہیں، وبالآخرة هم يوقنون اور آخرت پر بھی یہ لوگ یقین رکھتے ہیں، ایمان رکھتے ہیں۔ تو دیکھیے پیچھے اوصاف ذکر ہوئے، اور اولئك کے ذریعے ان کی طرف، ان متقیوں کی طرف اشارہ ہے، اور ساتھ ساتھ اوصاف بھی ملحوظ ہوئے، کیونکہ اولئك آیا۔ هم آتا هم، تو صرف کیا ملحوظ ہوتی؟ ذات ملحوظ ہوتی، اوصاف ملحوظ نہ ہوتے۔ لیکن جب اولئك آیا، تو اولئك نے صرف ذات پر دلالت نہیں کی، بلکہ ساتھ ساتھ ان کے وہ سارے اوصاف بھی ملحوظ ہیں، کہ یہ لوگ جو ہیں، اپنے پروردگار کی طرف سے ہدایت پر ہیں جن کی یہ یہ صفات ہیں جو پیچھے ذکر ہو گئیں، یہ غیب پر بھی ایمان رکھتے ہیں، یہ کیا کرتے ہیں؟ نمازیں بھی قائم کرتے ہیں، یہ لوگ اللہ کے راستے میں مال بھی خرچ کرتے ہیں، یہ لوگ اس، ان کی، اس کتاب پر بھی اور پچھلی کتابوں پر بھی ایمان رکھتے ہیں، اور یہ آخرت پر بھی ایمان رکھتے ہیں، یہ سارے اوصاف بھی ملحوظ ہو گئے، کہ یہ یہ صفات رکھنے والے جو لوگ ہیں، یہ والے، على هدى من ربهم، یہ کس پر ہیں اپنے پروردگار کی جانب سے؟ ہدایت۔ تو حکم کس پر لگایا گیا؟ صرف ذات پر یا ذات مع الاوصاف پر؟ ذات مع الاوصاف پر، تو حکم کی علت بھی پتہ چل گئی کہ یہ ہدایت پر کیوں ہیں؟ ان اوصاف کی وجہ سے، جیسے اکرمت رجلاً عالماً، میں نے اس آدمی، عالم آدمی کا اکرام کیا۔ کیوں اکرام کیا؟ علت کیا تھی؟ عالم، تو وہاں وہ وصف بتلا دیتا تھا، یہ علت ہے۔ یہاں بھی ان اوصاف نے بتلا دیا، علت کا پتہ چل گیا کہ یہ لوگ ہدایت پر کیوں ہیں؟ ان اوصاف کی وجہ سے یہ حکم اس لیے ان پر لگایا گیا بھئی۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ پھر یہاں ایک اور، ایک دو اور نقطے بھی بیان کر دوں بھئی، عجیب نقطہ بھئی عجیب نقطہ۔ یہاں پر تمثیل ہے تمثیل بھئی، یاد رکھیے تمثیل کا ذکر آگے آ جائے گا بھئی، تمثیل کا ذکر، علمِ بیان کے اندر بھئی۔ تمثیل اس کو کہتے ہیں مرکب ہیئت کو مرکب ہیئت کے ساتھ تشبیہ دی جائے۔ دو تین چیزوں سے ایک چیز مرکب کر کے ایک دوسری کے ساتھ اس کو کیا کیا گیا؟ تشبیہ، کئی، یعنی یوں سمجھو، بیک وقت کئی چیزوں کو کئی چیزوں کے ساتھ تشبیہ دی جاتی ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ تمثیل، تفصیل وہاں آ جائے گی علمِ بیان کے اندر۔ تو یہاں پر بھی تمثیل ہے، اولئك کے ذریعے اشارہ کیا گیا پیچھے یہ جو لوگ، جن کی یہ یہ صفات ہیں، یہ جو متقی ہیں یعنی صحابہ، یعنی صحابہ، على هدى، کس پر ہیں؟ ہدایت پر ہیں، على ذکر کیا گیا، علی آتا ہے ایک چیز دوسری چیز کے اوپر ہو، زیدٌ علی السطحِ، زید چھت پر ہے، تو دیکھو چھت نیچے ہے اور زید اس کے اوپر ہے، تو علی کس لیے آتا ہے؟ کہ یہ بتلانے کے لیے ایک چیز دوسری کے اوپر، تو یہاں پر بھی اولئك، یہ لوگ جو ہیں، یہ متقی یعنی یہ صحابہ جو ہیں، على هدى، کس پر ہیں؟ ہدایت پر ہیں، یعنی ہدایت پر سوار ہیں۔ علی کا کس لیے آتا ہے؟ اوپر ہونے، صحابہ ہدایت پر ہیں، تو گویا صحابہ کو یہاں تشبیہ دی گئی شہسواروں کے ساتھ، جو گھوڑے پر سوار ہوں ان کے ساتھ، اور ہدایت کو تشبیہ دی گئی سواری یعنی گھوڑے کے ساتھ تشبیہ دی گئی، کس کے ساتھ؟ گھوڑے کے ساتھ، اور وہ کیا بتلایا گیا؟ کہ گویا یہ صحابہ کس کی طرح ہیں؟ جیسے شہسوار ہوتا ہے، وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوتا ہے، اور شہسوار ہوتا ہے، اسی طرح یہ صحابہ بھی کس پر سوار ہیں؟ ہدایت پر ہیں یعنی سیدھے راستے پر ہیں بھئی، سیدھے راستے پر ہیں، اللہ کی طرف سے ہدایت پر ہیں، سیدھے راستے پر ہیں۔ اور پھر نیز شہسوار جو ہے، جس طرف کا رخ چاہتا ہے اس طرف کا رخ کرتا ہے اور اس کا گھوڑا اس کے ساتھ ہوتا ہے، اس گھوڑے کو ادھر موڑتا چلا جاتا ہے، لے جاتا ہے۔ تو اس میں اس بات کی جانب بھی اشارہ کر دیا گیا کہ صحابہ وہ باہمت لوگ ہیں جو ہدایت کے گھوڑے پر سوار ہیں اور ہدایت ان کے ساتھ ساتھ ہوتی ہے، یہ جس طرف کا رخ کرتے ہیں ہدایت ان کے ساتھ ساتھ ہوتی ہے بھئی۔ تو صحابہ کی عظیم اور مبارک جماعت کہ نہ اس زمین نے اس سے پہلے ایسے مبارک لوگوں کو دیکھا اور نہ قیامت تک پھر ایسے لوگوں کو دیکھ سکے گی بھئی، تو یہ وہ صحابہ جو کس طرح ہیں؟ جیسے انسان گھوڑے پر سوار ہوتا ہے اور جب گھوڑے پر سوار ہے، جدھر کو وہ چاہتا ہے اس گھوڑے کو لے جاتا ہے، گھوڑا اس کے ساتھ ساتھ رہتا ہے، اسی طرح یہ صحابہ بھی ہدایت کے گھوڑے پر سوار ہیں اور جس طرف کا رخ کرتے ہیں، ہدایت ان کے ساتھ ساتھ ہوتی ہے بھئی۔ کیونکہ یہ سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کے شاگرد ہیں، کوئی عام معمولی انسان نہیں ہیں بھئی، تمام دنیا کے اولیاء مل جائیں بھئی تمام، صحابہ کے بعد سے لے کر آج تک سارے اولیاء مل جائیں، ادنیٰ سے ادنیٰ صحابی کے درجے کو بھی نہیں پہنچ سکتے بھئی، صحابہ کا مقام اتنا اونچا۔ ادنیٰ صحابی کے مقام کو بھی نہیں پہنچ سکتے، اعلیٰ تو بڑی دور کی بات ہے، کیوں؟ ان کے مقام کو کیوں نہیں پہنچ سکتے؟ بھئی صحابہ کا مقام بڑا اونچا ہے، کیوں اونچا ہے؟ صحابہ کا مقام اس لمحے کی وجہ سے ہی اونچا ہو گیا اور بلند ہو گیا کہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کر لی بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو وہ ان کا مقام بڑا اونچا بھئی۔ تو صحابہ کا بڑا اونچا مقام ہے اور الحمد للہ ثم الحمد للہ کہ اللہ نے ہمیں صحابہ کی محبت نصیب فرمائی ہے بھئی، صحابہ کا نام بھی لیا جائے تو دل کے اندر ایک عجیب قسم کی لذت محسوس ہوتی ہے بھئی، لذت۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا انجام صحابہ کے ساتھ فرمائے بھئی، آمین۔ جی، چلیے بس بھئی، هذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام۔