سبق نمبر۔32 وقد تخرج ألفاظ الاستفهام عن معناها الأصلي لمعان أخر تفهم من سياق الكلام، كالتسوية؛ نحو: سواء عليهم أأنذرتهم أم لم تنذرهم، والنفي؛ نحو: هل جزاء الإحسان إلا الإحسان، الإنكار؛ نحو: أغير الله تدعون، أليس الله بكاف عبده. استفهام کی بحث چل رہی ہے اور تفصیل گزر گئی کہ استفہام جو ہے وہ کسی چیز کے علم کو طلب کرنا۔ اور ادوات استفہام جو ہیں ہمزہ ہے، هل ہے، ما، من، أَيَّانَ وغیرہ۔ اور ان میں سے بعض طلبِ تصور کے لیے آتے ہیں، بعض طلبِ تصدیق کے لیے اور بعض دونوں کے لیے آتے ہیں۔ آج آپ کو بتلا رہے ہیں: وقد تخرج ألفاظ الاستفهام عن معناها الأصلي لمعان أخر تفهم من سياق الكلام۔ اور کبھی نکل جاتے ہیں استفہام کے الفاظ اپنے معنی اصلی سے ایسے دوسرے معانی کی طرف جو مفہوم ہوتے ہیں سیاقِ کلام سے۔ سیاقِ کلام سے جو معانی سمجھ میں آتے ہیں ان کی طرف نکل جاتے ہیں۔ یہ گزشتہ سبق میں اور اس سے پچھلے سبق میں جو الفاظ کہ یہ کون سا لفظ کس معنی کے لیے، تو یہ سارے استفہام کے لیے آئے تھے۔ سارے کس کے لیے آئے تھے؟ استفہام کے لیے، کیونکہ ادواتِ استفہام ہیں تو استفہام کے لیے استعمال ہوتے۔ لیکن کبھی کبھار یہ اپنے معنی اصلی یعنی استفہام سے نکل جائیں گے۔ یعنی اور بھی ایسے مواقع ہیں جہاں یہ الفاظ استعمال ہوتے ہیں لیکن وہاں استفہام مراد نہیں ہوتا۔ تو ان مواقع کے اندر دراصل یہ لفظ کیا ہوتے ہیں؟ اپنے معنی اصلی سے نکل جاتے ہیں۔ تو دوسرا معنی موقع و محل کے مطابق جو ہوگا، اس میں یہ استعمال ہوں گے اور اس کا پتہ کس سے چلے گا؟ سیاقِ کلام سے۔ کلام کا چلاؤ بتلا دے گا کہ یہاں کون سا معنی مراد ہے۔ کالتسویۃ؛ جیسے کہ برابری۔ تسویہ کا کیا معنی؟ برابری۔ یعنی دو چیزوں میں برابری کو بیان کرنا۔ جیسے قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: سواء عليهم أأنذرتهم أم لم تنذرهم، برابر ہے ان لوگوں پر کہ آپ ان کو ڈرائیں یا ان کو نہ ڈرائیں! ان لوگوں کے لیے برابر ہے کہ آپ ان کو ڈرائیں یا نہ ڈرائیں، یہ تو عام ترجمہ عموماً یہ کیا جاتا ہے۔ زیادہ بہتر ترجمہ یوں کیا جائے: سواء عليهم برابر ہے ان لوگوں پر، أأنذرتهم کہ آپ ان کو خبردار کریں أم لم تنذرهم یا ان کو خبردار نہ کریں بھئی! تو یہاں پر أأنذرتهم، یہاں دیکھیے یہ پہلا ہمزہ جو آیا، دوسرا ہمزہ تو أنذرت فعل کا ہے، پہلا ہمزہ جو آیا أأنذرتهم میں، یہ وہ ہمزۂ استفہام ہے۔ لیکن یہ یہاں پر استفہام کے لیے نہیں آیا، سوال پوچھنے کے لیے نہیں آیا، بلکہ یہاں دو چیزوں میں برابری بیان کرنے کے لیے آیا ہے، اور وہ کیا؟ خبردار کرنا اور خبردار نہ کرنا۔ ان لوگوں کو خبردار کرنا اور ان لوگوں کو خبردار نہ کرنا دونوں برابر ہیں، یعنی ان پر کوئی چیز اثر نہیں کرے گی، یہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ سواء عليهم برابر ہے ان پر، أأنذرتهم أم لم تنذرهم کہ آپ ان کو خبردار کریں یا خبردار نہ کریں، یعنی یہ دونوں چیزیں ان کے لیے برابر ہیں۔ خبردار کرنا بھی اور خبردار نہ کرنا، دونوں ان کے لیے برابر ہیں، دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ ان پر کوئی چیز اثر انداز نہیں ہوگی، یہ ایمان کی طرف آنے والے نہیں ہیں۔ تو یہاں ہمزہ کس لیے آیا؟ دو چیزوں میں برابری کے لیے، تو اس کو ہمزۂ تسویہ کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ ہمزۂ تسویہ، اور یہ دو چیزوں میں برابری بیان کرنے کے لیے آتا ہے، تو یہاں بھی اس کے بعد دو چیزیں ذکر ہیں: انذار اور عدمِ انذار۔ تو ان لوگوں کے لیے انذار اور عدمِ انذار دونوں کیا ہیں؟ برابر ہیں۔ اور اس جملے کی ترکیب یاد رکھیے بھئی، جملے کی ترکیب: أأنذرتهم أم لم تنذرهم، یہ ہے تو فعل بھئی أنذرتهم، لیکن اس کو پھر اسم کی تاویل میں کر لیں گے، یعنی مصدر کی تاویل میں کر لیں گے۔ اور پھر یہ معطوف علیہ بنے گا، آگے أم لم تنذرهم یہ معطوف بن جائے گا اور معطوف علیہ اپنے معطوف سے مل کر یہ مبتدأ مؤخر ہوگا۔ جبکہ سواء عليهم یہ خبرِ مقدم ہوگی۔ تو گویا یوں کہا گیا: مستو عليهم، برابر ہیں ان پر۔ کیا برابر ہے؟ إنذارك إياهم وعدم إنذارك إياهم، آپ کا ان کو ڈرانا اور نہ ڈرانا دونوں کیا ہیں؟ مستو عليهم، ان پر برابر ہیں۔ تو مستو عليهم یہ ہے خبرِ مقدم، اور آگے فعل ہے اس کو کس تاویل میں کر لیں گے؟ مصدر کی تاویل میں، وہ مبتدأ مؤخر بھئی۔ تو یہ ترکیب سمجھ میں آئی بھئی؟ سواء عليهم أأنذرتهم أم لم تنذرهم، ترکیب کیا ہوگی؟ مستو عليهم، مستو عليهم إنذارك وعدمه، أي عدم إنذارك، مستو عليهم إنذارك وعدم إنذارك، برابر ہے ان پر إنذارك اے پیغمبر آپ کا ان کا خبردار کرنا، وعدم إنذارك اور آپ کا ان کو خبردار نہ کرنا، یہ دونوں ان کے لیے برابر ہیں۔ تو یہ ہمزہ تسویہ برابری کے لیے آتا ہے، دو چیزوں کے درمیان برابری بیان کرتا ہے، اور اس کے بعد فعل آئے تو اس فعل کو کس معنی میں لیتے ہیں؟ مصدر کے معنی میں کر کے، مصدر کے معنی میں کر لیا جاتا ہے، اور پھر وہ معطوف معطوف علیہ مل کر مبتدأ مؤخر بن جائیں گے، اور سواء عليهم یہ کس معنی میں ہوا؟ مستو عليهم، سواء مصدر ہے نا، مصدر تو اس میں فاعل کے معنی میں لے گئے اور یہ خبرِ مقدم ہو جائے گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ اسمِ فاعل کے معنی میں، جیسے زید عدل کہتے ہیں، زید عدل، تو زید، عدل تو مصدر ہے، عدل کرنا، انصاف کرنا۔ تو یہاں عدل جب زید اور عدل کا حمل کس پر ہو رہا ہے؟ زید پر، تو پھر یہ عدل بمعنی عادل کے ہوا، أي زید عادل، تو مصدر کبھی اسمِ فاعل کے معنی میں ہوتا ہے، کبھی اسمِ مفعول کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، تو یہاں پر سواء کس معنی میں ہے؟ مستو، اسمِ فاعل کے معنی میں ہے کہ برابر ہے عليهم ان پر إنذارك وعدم إنذارك آپ کا ڈرانا اور آپ کا نہ ڈرانا، آپ کا خبردار کرنا اور خبردار نہ کرنا دونوں ان کے لیے برابر ہیں۔ والنفي؛ اور کبھی یہ الفاظ کس لیے آئیں گے؟ نفی کے لیے آئیں گے، جیسے: هل جزاء الإحسان إلا الإحسان، نہیں ہے احسان یعنی نیکی کا بدلہ إلا الإحسان سوائے نیکی کے۔ یعنی نیکی کا بدلہ نیکی ہی ہے، اچھائی کا بدلہ اچھائی ہی ہے۔ تو یہاں هل استفہام کے لیے نہیں آیا، بلکہ نفی کے معنی میں استعمال ہوا ہے، کیونکہ آگے إلا آ رہا ہے، نہیں ہے نیکی کا بدلہ مگر نیکی ہی۔ تو اللہ فرما رہے ہیں نیکی کا بدلہ نیکی ہی ہے، جو شخص دنیا کے اندر نیک عمل کرے گا، ہمارے بتلائے ہوئے راستے پر چلے گا، تو نیکی کا بدلہ نیکی ہی ہے، ہم بھی اس کو اچھا بدلہ دیں گے، اس کو ثواب دیں گے، آخرت میں اس کو جنت میں داخل کریں گے۔ تو یہاں هل نفی کے لیے آیا بھئی، سوال کے لیے نہیں آیا۔ والإنكار؛ اور کبھی کبھار یہ استفہام والے الفاظ جو ہیں انکار کے لیے آئیں گے۔ جیسے: أغير الله تدعون، أغير الله تدعون، یہ ہمزہ انکار کے لیے ہے: أغير الله تدعون، کیا اللہ کے علاوہ کو تم پکارتے ہو؟ اللہ کے علاوہ کو تم پکارتے ہو؟ تو یہاں استفہام مقصد نہیں ہے، بات پوچھنا مقصد نہیں ہے، بلکہ انکار مقصد ہے کہ تمہیں اللہ کے علاوہ کسی کو نہیں پکارنا چاہیے، بلکہ کس کو پکارنا چاہیے؟ اللہ کو پکارنا چاہیے۔ اور اس میں پھر یاد رکھیے، یہ ہمزہ جو ہے یہ انکار کے لیے آتا ہے جیسے مثال میں آ گیا، اور پھر انکار جو ہے اس چیز کا ہوگا جو ہمزہ کے ساتھ ملی ہوئی ہوگی: أغير الله تدعون، کیا اللہ کے علاوہ کو تم پکارتے ہو؟ تو کس کا انکار کیا جا رہا ہے؟ اللہ کے علاوہ کو پکارنے کا انکار کیا جا رہا ہے، یعنی اللہ کے، یہ اس کا یہ معنی نہیں کہ پکارو ہی نہ کسی کو، بلکہ غیر اللہ جو ہمزہ کے ساتھ آ رہا ہے، غیر اللہ کو پکارنے کا انکار کیا جا رہا ہے کہ اللہ کے علاوہ کو تمہیں پکارنا نہیں چاہیے، بلکہ کس کو پکارنا چاہیے؟ اللہ کو پکارنا چاہیے۔ آپ بھی اس طرح استعمال کرتے ہیں بھئی، الفاظِ استفہام اپنے کلام میں بعض اوقات آپ لاتے ہیں اور وہاں آپ کا مقصد سوال پوچھنا نہیں ہوتا۔ مثلاً آپ اپنے ایک ساتھی جو ہے مثلاً مدد اس نے طلب کی یا کوئی بات، تو آپ اس کو کہتے ہیں: اچھا بھئی! ایسا وقت آ جائے تو کیا تم ان کے پاس مدد لینے جاؤ گے؟ آپ کہتے ہیں یا نہیں؟ کیا تم ان کے پاس مدد لینے جاؤ گے؟ مقصد کیا ہوتا ہے؟ سوال پوچھ رہے ہوتے ہیں کہ مجھے بتاؤ لینے جاؤ گے یا نہیں؟ یا اس کو روکنا مقصد ہوتا ہے؟ روکنا مقصد ہوتا ہے، تو آپ بھی اس طرح کرتے ہیں، استعمال کرتے ہیں۔ یا اسی طرح: أليس الله بكاف عبده، أليس الله بكاف عبده، کیا نہیں ہے اللہ کافی اپنے بندے کے لیے؟ کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ہے؟ تو یہاں بھی ہمزہ کس لیے آیا؟ انکار کے لیے، تو یہ سوال نہیں پوچھا جا رہا کہ ہمیں یہ بتاؤ کہ اللہ اپنے بندے کے لیے کافی ہیں یا کافی نہیں، بلکہ یہ ہمزہ کس لیے ہے؟ انکار کے لیے ہے، اور معنی کیا ہوا؟ یعنی اللہ اپنے بندے کے لیے کافی ہیں بھئی کافی ہیں۔ کیونکہ ہمزہ آیا انکار کے لیے، اور آگے ليس ہے، ليس کس لیے آتا ہے؟ نفی۔ تو ہمزہ بھی نفی کے لیے آیا، ليس بھی نفی کے لیے آیا، اور نفی پر نفی داخل ہو تو کس چیز کا فائدہ دیتی ہے؟ اثبات کا فائدہ دیتی ہے۔ مثلاً آپ کہتے ہیں، آپ بھی اس طرح استعمال کرتے ہیں: مثلاً آپ کہتے ہیں زید نہیں آئے گا، دیکھو یہ ہے نفی۔ اس پر ایک اور نفی داخل کریں، آپ اپنے ساتھی سے کہتے ہیں: ایسا نہیں ہو سکتا کہ زید نہیں آئے۔ کیا معنی ہوتا ہے؟ یعنی زید آئے گا، تو دیکھو نفی پر نفی داخل ہو کے کس چیز کا فائدہ دیتی ہے؟ اثبات کا، تو یہاں ہمزہ انکار کے لیے یعنی نفی کے لیے، اور آگے ليس نفی ہے، نفی پر نفی داخل ہوئی تو اس کا کیا معنی ہوا؟ اثبات، یعنی اللہ کافی ہیں اپنے بندے کے لیے، تو یہاں ہمزہ استفہام کے لیے نہیں ہے بلکہ انکار کے لیے ہے بھئی، انکار کے لیے۔ والأمر؛ اور کبھی یہ الفاظِ استفہام کس لیے آئیں گے؟ امر کے لیے آئیں گے بھئی، سوال پوچھنا مقصد نہیں ہوگا بلکہ وہاں حکم دینا مقصد ہوگا، جیسے اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: فهل أنتم منتهون، پس کیا تم باز آ جاؤ گے؟ پس کیا تم باز آ جاؤ گے؟ کیا تم رک جاؤ گے؟ اب دیکھیے یہاں سوال پوچھنا مقصد نہیں ہے کہ باز آؤ گے یا نہیں آؤ گے، ہمیں یہ بتلاؤ، بلکہ مقصد کیا ہے؟ حکم دیا جا رہا ہے باز آنے کا کہ اب تم باز آ جاؤ اس سے، رک جاؤ اس سے، تو کیا کیا جا رہا ہے؟ حکم دیا جا رہا ہے۔ اور آپ بھی اس طرح اس کو استعمال کرتے ہیں بھئی، آپ کا ایک ساتھی ہے اور ایک معاملہ ہے اس میں اس کا نقصان ہو گیا۔ تو اب آپ اس کو کہتے ہیں بھئی: کیا اب تم اس کام سے رک جاؤ گے؟ کیا مقصد ہوتا ہے وہاں؟ استفہام نہیں مقصد ہوتا، بلکہ کیا مقصد ہوتا ہے؟ کہ اب اس کام سے تم رک جاؤ، تم نے خود بھی دیکھ لیا ہے کہ اس کام میں تمہارا کتنا نقصان ہوا ہے، تو اب تمہیں اس طرف نہیں جانا چاہیے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ یہاں پر یہ امر کے لیے، حکم دیا جا رہا ہے، سوال نہیں پوچھا جا رہا بلکہ حکم دیا جا رہا ہے: انتهوا، تم لوگ باز آ جاؤ، رک جاؤ اس سے۔ ونحوه؛ اور جیسے: أأسلمتم، أأسلمتم، کیا تم اسلام لاؤ گے؟ تو یہ سوال نہیں پوچھا جا رہا، کیا تم فرمانبردار ہو گے؟ یہاں استفہام مقصد نہیں ہے بلکہ حکم دیا جا رہا ہے کہ فرمانبردار ہو جاؤ، أي أسلموا، کیا کرو؟ فرمانبردار ہو جاؤ۔ کیا أأسلمتم کیا تم فرمانبردار ہو جاؤ گے؟ تو یہ سوال نہیں پوچھا جا رہا بلکہ کیا کیا جا رہا ہے؟ حکم دیا جا رہا ہے۔ دیکھیے خود بتلا رہے ہیں: بمكالمة، بمعني انتهوا وأسلموا، تو یہ فهل أنتم منتهون میں یہ کس معنی میں ہے؟ انتهوا کے معنی میں ہے، باز آ جاؤ تم، وأسلموا، اور أأسلمتم کس معنی میں ہے؟ أسلموا، تم فرمانبردار ہو جاؤ، تو یہ امر کے معنی میں ہے۔ والنهي؛ اور کبھی الفاظِ استفہام کس لیے آئیں گے؟ نہی کے لیے، کسی چیز سے روکنے کے لیے، جیسے: أتخشونهم، کیا تم ان سے ڈرتے ہو؟ فالله أحق أن تخشوه، تو اللہ زیادہ حقدار ہیں اس بات کے کہ تم اس سے ڈرو۔ تو یہاں پر جو آیا ہمزہ: أتخشونهم، یہ ہمزہ استفہام کے لیے نہیں ہے بلکہ نہی کے لیے ہے۔ تو یہ سوال نہیں کیا جا رہا کہ کیا تم ان سے ڈرتے ہو؟ بلکہ مقصد کیا ہے یہاں پر؟ لا تخشوهم، کہ تم ان سے نہ ڈرو، تم ان سے مت ڈرو! فالله أحق أن تخشوه، پس اللہ زیادہ حقدار ہیں اس بات کے کہ تم اس سے ڈرو بھئی۔ آپ بھی استعمال کرتے ہیں بھئی اس طرح، کسی شخص سے کہتے ہیں اس کے دشمنوں اور مخالفین کے بارے میں: کیا تم ان سے ڈرتے ہو؟ جب میں تمہارا ساتھ دے رہا ہوں، تمہیں ڈرنے کی یعنی کیا ضرورت ہے؟ کیا تم اس، کیا تم ان سے ڈرتے ہو؟ کیا مقصد ہوتا ہے کہنے کا؟ کہ تم ان سے نہ ڈرو بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ آپ بھی استعمال کرتے ہیں اس طرح مختلف معانی کے لیے آپ الفاظِ استفہام کو استعمال کرتے ہیں۔ والتشويق؛ اور کبھی استفہام والے الفاظ آئیں گے شوق دلانے کے لیے، رغبت دلانے کے لیے، نحو؛ مثال کے طور پر: هل أدلكم على تجارة تنجيكم من عذاب أليم، هل أدلكم کیا میں تمہاری رہنمائی کروں؟ على تجارة، تجارة نکرہ آیا، اس کے بعد تنجي فعل آیا، نکرہ کے بعد فعل آئے تو اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت، تو ترجمہ موصوف سے پہلے ایسا یا ایسی کا لفظ لاتے ہیں۔ هل أدلكم على تجارة کیا میں تمہاری رہنمائی کروں ایسی تجارت پر؟ تنجيكم من عذاب أليم جو تمہیں نجات دے دے دردناک عذاب سے۔ تو یہاں پر سوال پوچھنا مقصد نہیں ہے، تو یہاں سوال نہیں پوچھا جا رہا، بلکہ شوق دلایا جا رہا ہے، رغبت دلائی جا رہی ہے، رغبت دلائی جا رہی ہے۔ آپ بھی استعمال کرتے ہیں، آپ کا ایک ساتھی ہے مثلاً، وہ کوئی کام، تجارت وغیرہ شروع کرنا چاہتا ہے، آپ اس کو کہتے ہیں بھئی: میں تمہیں ایک ایسا کام نہ بتاؤں جس میں تمہارا نفع ہی نفع ہو؟ تو دیکھو، اب یہ آپ کا مقصد سوال پوچھنا نہیں ہوتا اس سے، بلکہ کیا مقصد ہوتا ہے؟ اس کو شوق دلا رہے ہوتے ہیں، رغبت دلا رہے ہوتے ہیں اس کام کی کہ وہ بڑا بہترین کاروبار اور بہترین کاروبار ہے، اس میں تمہیں بڑا نفع حاصل ہوگا بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو یہاں پر بھی یہ اسی طرح ہے: هل أدلكم على تجارة تنجيكم من عذاب أليم، کیا میں تمہاری رہنمائی کروں ایسی تجارت پر جو تمہیں دردناک عذاب سے نجات دے دے، نجات دلا دے۔ والتعظیمِ۔ اور کبھی یہ الفاظِ استفہام کس لیے آئیں گے؟ تعظیم کے لیے، کسی کی عظمت بتلانے کے لیے۔ نحو، مثال کے طور پر: مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ۔ مَن ذَا الَّذِي، کون ہے وہ جو کہ يَشْفَعُ عِندَهُ، سفارش کرے اللہ کے پاس إِلَّا بِإِذْنِهِ، مگر اللہ کی اجازت سے۔ تو یہاں یہ سوال نہیں پوچھا جا رہا کون ہے وہ جو سفارش کرے گا اللہ کے پاس سوائے اللہ کی اجازت کے، بلکہ یہاں اللہ کی ذات کی عظمت بیان کی جا رہی ہے کہ اللہ کی ذات اتنی عظیم ہے اور اتنی قدرت والی ہے کہ وہاں مقابلہ کرنا تو دور کی بات ہے، کسی کو بغیر اجازت کے سفارش کرنے کی بھی، کوئی سفارش بھی بغیر اجازت کے نہیں کر سکے گا وہاں پر۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہاں یہ مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ، کون ہے وہ جو کہ سفارش کرے اس کے پاس۔ یہاں سوال پوچھنا مقصد نہیں ہے بلکہ اللہ کی ذات کی عظمت بیان کی جا رہی ہے کہ اللہ کے سامنے کوئی سفارش بھی بغیر اجازت کے نہیں کر سکے گا، اللہ کی ذات اتنی عظیم ہے۔ آپ بھی اس کو اس طرح استعمال کرتے ہیں بھئی۔ مثلاً ایک شخص ہے مثلاً یا آپ کے استاد ہیں کوئی یا آپ کے کوئی بڑے ہیں خاندان میں اور ان کی بڑی ہیبت ہے بھئی، بڑا روب ہے۔ اب آپ دو تین ساتھی مل کر مشورہ کر رہے ہیں کہ فلاں بات ان سے جا کر کرتے ہیں، تو اگر وہ مان جائیں گے تو بس اس کے بعد مسئلہ حل ہو جائے گا۔ اب آپ دو تین ساتھی مشورہ کر رہے ہیں، ایک ساتھی بیچ میں سے کہتا ہے بھئی: "کون ان سے جا کر بات کرے گا بھئی؟ کون ان سے جا کر بات کرے گا؟" تو یہاں استفہام مقصد نہیں، بعض اوقات ہو سکتا ہے استفہام بھی مقصد ہو، لیکن بعض اوقات کیا مقصد ہو گا؟ عظمت، کہ بھئی اتنی ہمت تو ہم میں سے کسی کی نہیں ہے کہ ان کے سامنے جا کر یہ بات کر سکے بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ والتحقیرِ۔ اور کبھی الفاظِ استفہام کس لیے آئیں گے؟ تحقیر کے لیے آئیں گے۔ نحو، مثال کے طور پر: أَهَٰذَا الَّذِي مَدَحْتَهُ كَثِيرًا، کیا یہ ہے وہ جس کی تم بہت زیادہ تعریف کرتے ہو؟ آپ کا ایک ساتھی ہے مثلاً اور وہ کسی کی بڑی تعریف کیا کرتا تھا، لیکن جب آپ کے ساتھ اس کی ملاقات ہوئی جس اس شخص کی جس کی وہ تعریف کیا کرتا تھا، تو آپ میں تو آپ کو اس میں کوئی خوبی نظر ہی نہیں آئی۔ تو اب آپ اپنے اس ساتھی کی طرف متوجہ ہو کر کہتے ہیں، متوجہ ہوئے سوال کس سے، بات کس سے کر رہے ہیں؟ اپنے اس ساتھی سے جو اس کی تعریف کرتا تھا اور اشارہ کرتے ہیں اس آدمی کی طرف جس کی وہ تعریف کرتا تھا، تو اپنے اس ساتھی کو کہتے ہیں: أَهَٰذَا الَّذِي مَدَحْتَهُ كَثِيرًا، کیا یہ وہ ہے جس کی تم بہت زیادہ تعریف کرتے تھے؟ جس کی آپ نے بہت زیادہ تعریف کی۔ تو یہاں پر سوال پوچھنا مقصد نہیں ہے کہ مجھے بتلاؤ یہ وہ والا آدمی ہے یا وہ والا آدمی نہیں۔ بلکہ بطورِ تحقیر کے آپ یہ کہہ رہے ہیں۔ حقارت کے طور پر۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ کہ اس کے اندر تو مجھے تو کوئی ایک ادنیٰ درجے کی خوبی بھی نہیں نظر آئی بھئی، یہ تو بالکل بیکار آدمی ہے۔ یہ ہے وہ جس کی آپ تعریف کیا کرتے تھے؟ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یا دوسری اور مثال بنا لیں، اور وضاحت ہو جائے گی۔ آپ کو کسی کام کے لیے ایک ملازم کی ضرورت تھی۔ آپ کا ایک ساتھی آپ کے پاس وہ ایک شخص کو لے آیا کہ یہ بڑا زبردست اس کام کو جانتا ہے، بڑا ماہر ہے، بڑا بہترین کام کرے گا۔ اب اس نے کام شروع کیا تو پہلے دن ہی، ابتدا ہی اس نے غلط طریقے سے کر دی۔ اس سے پتہ چل گیا کہ اس کو یہ کام بالکل نہیں آتا بھئی۔ اب آپ اپنے اس ساتھی کو اس کے سامنے، وہ سامنے کھڑا ہے جس نے وہ غلطی کی ہے، آپ اپنے ساتھی سے کہتے ہیں جس نے اس کی تعریف کی تھی: أَهَٰذَا الَّذِي مَدَحْتَهُ كَثِيرًا، کیا یہ ہے وہ جس کی تم نے بڑی تعریف کی تھی؟ تو دیکھو یہاں کیا مقصد ہے؟ اس کی تحقیر ہے کہ اس کو تو ذرہ بھی یہ کام نہیں آتا بھئی۔ تو معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ أَهَٰذَا الَّذِي مَدَحْتَهُ كَثِيرًا، کیا یہ ہے وہ کہ مَدَحْتَهُ كَثِيرًا کہ آپ نے اس کی تعریف کی بہت زیادہ۔ والتہکمِ۔ تہکم کا معنی ہے استہزاء، مذاق اڑانا، مذاق اڑانا۔ تو کبھی کبھار الفاظِ استفہام دوسرے کا مذاق اڑانے کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں۔ جیسے: أَعَقْلُكَ يُسَوِّغُ لَكَ أَنْ تَفْعَلَ كَذَا، کیا تمہاری عقل، يُسَوِّغُ، سوّغ یسوّغ کے معنی ہیں گنجائش دینا۔ کیا تمہاری عقل تمہیں گنجائش دیتی ہے؟ یعنی اجازت دیتی ہے۔ کیا معنی کر لیں با محاورہ؟ کیا تمہاری عقل تمہیں اجازت دیتی ہے أَنْ تَفْعَلَ كَذَا، کہ ایسا کرو۔ کیا تمہاری عقل اجازت دیتی ہے کہ ایسا کام کرو؟ مثلاً بھئی وہی ملازم جو آپ کے پاس لے کر آیا تھا، جس کی اس نے بڑی تعریف کی تھی۔ اس نے کام شروع کیا اور پہلے ہی دن اس نے یعنی جس طرح کرنا چاہیے تھا اس کے بالکل برعکس کیا۔ اور اس کی وجہ سے نقصان ہو گیا۔ اب آپ اس شخص کو کہتے ہیں: أَعَقْلُكَ يُسَوِّغُ لَكَ أَنْ تَفْعَلَ كَذَا، کہ یہ تم نے کس طرح کا کام کیا ہے؟ ایک عقل اجازت، عقل جس کی ذرہ بھی عقل ہو اس کو پتہ ہے کہ یہ کام اس طرح نہیں کرنا۔ سمجھ میں آیا؟ تو اب آپ اس کو کیا کہہ رہے ہیں؟ أَعَقْلُكَ يُسَوِّغُ لَكَ أَنْ تَفْعَلَ كَذَا، کیا تمہاری عقل تمہیں اجازت دیتی ہے کہ اس طرح کرو؟ تو یہ اب آپ اس سے سوال نہیں پوچھ رہے کہ اجازت دیتی ہے یا اجازت نہیں دیتی عقل، بلکہ کیا مقصد ہے؟ اس کا مذاق اڑا رہے ہیں بھئی کہ یہ تم نے کیسا کام کیا ہے کہ عقل بھی کوئی ٹھیک عقل والا بھی کوئی بھی اس کو ٹھیک نہیں کہے گا بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ والتعجبِ۔ اور کبھی الفاظِ استفہام کس لیے آئیں گے؟ تعجب کے لیے آئیں گے، تعجب کے لیے۔ نحو: مَالِ هَٰذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ، کیا ہوا ہے اس پیغمبر کو يَأْكُلُ الطَّعَامَ کہ یہ کھانا کھاتے ہیں وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ اور بازاروں میں چلتے ہیں۔ یہ مشرکینِ مکہ کہتے تھے بھئی، انہوں نے کہا۔ مشرکینِ مکہ کا خیال یہ تھا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس دعوت دینے کے لیے تشریف لے گئے کہ اللہ کی ایک اللہ کی وحدانیت پر آ جاؤ، توحید کی طرف آ جاؤ، شرک اور برائی کا راستہ چھوڑ دو اور مجھے اللہ نے اپنا پیغمبر مقرر کیا ہے، تم اللہ کے راستے کی طرف آ جاؤ، مجھ پر ایمان لے آؤ۔ تو اس وقت وہ کہنے لگے: مَالِ هَٰذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ، اس پیغمبر کو کیا ہوا کہ یہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا ہے؟ ان مشرکین کا خیال یہ تھا کہ پیغمبر، وہ تو انسان ہو ہی نہیں سکتا۔ پیغمبر تو کس کو ہونا چاہیے؟ پیغمبر تو کوئی فرشتہ ہی ہو سکتا ہے، انسان نہیں ہو سکتا۔ تو لہٰذا یہاں پر تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعوت دے رہے ہیں تو وہ بطورِ تعجب کے کہہ رہے ہیں کہ اس پیغمبر کو کیا ہوا، یہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا ہے؟ یعنی یہ تو عام انسان ہے، ہماری طرح ہی ہے، کھانا بھی کھاتا ہے، بازاروں میں بھی چلتا پھرتا ہے۔ یہ کیسے پیغمبر ہو سکتا ہے بھئی؟ تو یہاں پر جو انہوں نے کہا مَالِ هَٰذَا، اس پیغمبر کو کیا ہوا کہ یہ کھانا بھی کھاتا ہے اور بازاروں میں بھی چلتا ہے، یہاں سوال مقصد نہیں ہے، سوال نہیں پوچھ رہے بلکہ ان کا مقصد کیا ہے؟ تعجب کا اظہار کر رہے ہیں کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک شخص جو ہے عام انسان ہو، لوگوں کی طرح کھاتا پیتا، چلتا پھرتا ہو اور وہ اللہ کا پیغمبر ہو، بلکہ اللہ کا پیغمبر تو کون ہو گا؟ ان کا خیال یہ تھا کہ فرشتہ ہی ہو سکتا ہے بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو آپ بھی اس طرح استعمال کرتے ہیں، کبھی استفہام کو تعجب کے لیے استعمال کرتے ہیں، تعجب کے لیے۔ مثلاً آپ کتاب کا مطالعہ کر رہے تھے، کوئی بڑا ہی مشکل مقام آیا۔ آپ نے کئی دفعہ اس کا مطالعہ کیا، اس کو پڑھا، حل ہی نہیں ہو رہا۔ آپ اپنے ایک ذہین ساتھی کے پاس لے گئے کتاب کہ بھئی اس کا کیا معنی ہے، یہ صاحبِ کتاب کیا کہنا چاہتے ہیں؟ ذرا اس کو حل تو کیجیے۔ اس نے ایک نظر ڈالی اور فوراً آپ کو اس کا معنی سمجھا دیا کہ یہ کہنا چاہتے ہیں بھئی۔ تو اب آپ حیران ہو کر اسے کہتے ہیں بھئی کہ: "آپ نے کیسے اس مقام کو حل کر لیا؟" اب آپ کا سوال پوچھنا مقصد نہیں ہے بلکہ مقصد کیا ہے؟ اپنی حیرت کا اظہار کر رہے ہیں کہ میں تو اتنی دیر سے پڑھ رہا تھا، مجھ سے تو حل نہیں ہو رہا تھا، آپ نے کیسے اتنی جلدی حل کر لیا بھئی؟ تو یہ تعجب ہے، استفہام نہیں۔ والتنبیہِ علی الضلالِ۔ اور کبھی الفاظِ استفہام آئیں گے، کس لیے آئیں گے؟ متنبہ کرنے کے لیے علی الضلالِ، گمراہی پر۔ گمراہی پر متنبہ کرنے کے لیے۔ نحو، مثال کے طور پر: فَأَيْنَ تَذْهَبُونَ، تو تم لوگ کہاں جا رہے ہو؟ تو یہاں پر سوال مقصد نہیں ہے بلکہ ان لوگوں کی گمراہی پر ان کو مطلع کرنا مقصود ہے بھئی۔ فَأَيْنَ تَذْهَبُونَ، اللہ ان سے سوال نہیں پوچھ رہے کہ تم لوگ کدھر کو جا رہے ہو مجھے بتاؤ، بلکہ مقصد کیا ہے یہاں پر؟ ان کی گمراہی پر متنبہ کرنا کہ تمہیں خیال بھی ہے تم کس طرف کو جا رہے ہو، کس نقصان والے راستے پر چل رہے ہو، اپنی تباہی کا سامان کر رہے ہو بھئی؟ اور آپ بھی اس کو استعمال کرتے ہیں۔ ایک شخص نقصان والے راستے پر چل رہا ہے تو آپ بھی اس کو کہتے ہیں بھئی: "تم کس راستے پر چل رہے ہو؟" تو وہاں سوال پوچھنا مقصد نہیں ہوتا بلکہ کیا مقصد ہوتا ہے؟ اس کو اس کی گمراہی پر متنبہ کرنا مقصود ہوتا ہے کہ ذرا غور کرو کس راستے پر چل رہے ہو، تمہیں خود ہی پتہ چل جائے گا کہ یہ سراسر نقصان والا راستہ ہے۔ والوعیدِ۔ اور کبھی استفہام والے الفاظ کس لیے آئیں گے؟ وعید کے لیے۔ وعید کا معنی ہے دھمکی دینا بھئی۔ نحو، مثال کے طور پر: أَتَفْعَلُ كَذَا وَقَدْ أَحْسَنْتُ إِلَيْكَ، أَتَفْعَلُ كَذَا، کیا آپ یہ کام کریں گے وَقَدْ أَحْسَنْتُ إِلَيْكَ، اور تحقیق میں آپ کے ساتھ نیکی کر چکا ہوں یا میں آپ کے ساتھ نیکی کرتا رہا ہوں، میں آپ کے ساتھ احسان کرتا رہا ہوں۔ کوئی شخص بھئی آپ کو کسی معاملے میں نقصان دینا چاہتا ہے، آپ کو خبر ہو گئی، آپ تو اس کے ساتھ ہمیشہ اچھا سلوک کرتے تھے، نیکی کرتے تھے، تو اب آپ اس کو کہتے ہیں: أَتَفْعَلُ كَذَا، کیا آپ یہ کام کریں گے اور میں آپ کے ساتھ ہمیشہ نیکی کرتا رہا ہوں؟ یعنی آپ یہ کام کریں گے، مجھے نقصان پہنچائیں گے اس سے؟ تو یہاں سوال مقصد نہیں ہے بلکہ مقصد کیا ہے؟ دھمکی دینا ہے بھئی۔ موقع محل کے مطابق دھمکی بھی بن سکتی ہے، یہاں انکار بھی بن سکتا ہے کہ تمہیں یہ کام نہیں کرنا چاہیے، تو اگر انکار مقصد ہوا تو کیا مطلب ہو گا کہ تمہیں یہ کام نہیں کرنا چاہیے اور کبھی یہ مقام دھمکی والا ہو جائے گا جب آپ زیادہ غصے میں، آپ کیا کہیں گے؟ أَتَفْعَلُ كَذَا وَقَدْ أَحْسَنْتُ إِلَيْكَ، کیا آپ ایسا کریں گے اور میں آپ کے ساتھ احسان کرتا رہا ہوں؟ یعنی اگر آپ ایسا کریں گے، آپ دھمکی دے رہے ہیں، اگر ایسا کریں گے تو پھر آج کے بعد میں آپ کے ساتھ احسان نہیں کروں گا، آپ کے ساتھ کوئی نیکی نہیں کروں گا۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو یہ مختلف الفاظ کے لیے الفاظِ استفہام استعمال ہوتے ہیں۔ اول وضع تو یہ کس کے لیے ہیں؟ سوال پوچھنے کے لیے، لیکن ان سب مثالوں میں آپ نے دیکھا کہ یہ سوال پوچھنے کے لیے نہیں آئے تھے بلکہ کس لیے آئے تھے؟ دوسرے معانی کے لیے استعمال ہوئے تو یہ اپنے معنیٰ اصلی سے نکل گئے بھئی، تو یہ ان کے مجازی معانی ہیں مختلف، انکار ہے، حکم، نہی، تشویق وغیرہ بھئی، تشویق وغیرہ۔ اور یہ صرف انہی معانی کے لیے نہیں آئیں گے جو انہوں نے یہاں ذکر کر دیے، بلکہ یہ چند معانی انہوں نے ذکر کر دیے اور بھی معانی کے لیے یہ استعمال ہو سکتے ہیں، لیکن وہ موقع محل سے پتہ چلے گا جہاں بھی آپ ان کو استعمال کریں گے، موقع محل کلام کا چلاؤ ہی بتلا دے گا کہ یہ یہاں پر کس مقصد کے لیے یہ الفاظ استعمال ہوئے ہیں بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔