سبق نمبر۔31 وَمَنْ يُطْلَبُ بِهَا تَعْيِينُ الْعُقَلَاءِ كَقَوْلِكَ مَنْ فَتَحَ مِصْرَ وَمَتَى يُطْلَبُ بِهَا تَعْيِينُ الزَّمَانِ مَاضِيًا كَانَ أَوْ مُسْتَقْبَلًا نَحْوُ مَتَى جِئْتَ وَمَتَى تَذْهَبُ وَأَيَّانَ يُطْلَبُ بِهَا تَعْيِينُ الزَّمَانِ الْمُسْتَقْبَلِ خَاصَّةً وَتَكُونُ فِي مَوْضِعِ التَّهْوِيلِ كَقَوْلِهِ تَعَالَى يَسْأَلُ أَيَّانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ استفہام کی بحث چل رہی ہے، آپ نے پڑھا کہ استفہام جو ہے وہ کسی چیز کے علم کو طلب کرنا، کسی چیز کے جاننے کو طلب کرنا اور اس کے بہت سے ادوات ہیں جیسے ہمزہ ہے، ہل ہے، ما، من، متى وغیرہ۔ اور ان میں سے بعض طلبِ تصور اور تصدیق دونوں کے لیے آتے ہیں اور وہ صرف ہمزہ ہے، بعض صرف طلبِ تصدیق کے لیے آتے ہیں اور وہ ہل ہے جبکہ باقی جتنے ہیں وہ طلبِ تصور کے لیے آتے ہیں، تو جو انہی باقیوں کا بیان ہم نے کل پڑھنا شروع کیا تھا۔ کل سب سے پہلے 'ما' کے بارے میں پڑھا کہ 'ما' کے ذریعے کسی اسم کی شرح کو بھی طلب کیا جاتا ہے اور حقیقتِ مسمیٰ کو بھی طلب کیا جاتا ہے اور وہ لفظ جو 'ما' کے ساتھ ذکر ہو اس کے حال کو بھی 'ما' کے ذریعے طلب کیا جاتا ہے بھئی۔ اب 'من' کے بارے میں آپ کو بتلا رہے ہیں، کہتے ہیں: وَمَنْ يُطْلَبُ بِهَا تَعْيِينُ الْعُقَلَاءِ، اور 'من' جو ہے اس کے ذریعے عقلاء کی تعیین کو طلب کیا جاتا ہے، کس کی تعیین کو؟ عقلاء کی تعیین کو طلب کیا جاتا ہے۔ یاد رکھیے عقلاء یعنی ذوی العقول، عقل والے جو ہیں وہ تین قسم کے ہیں بھئی، تین قسم ہیں۔ انسان، جنات اور فرشتے۔ انسان، جنات اور فرشتے، یہ ہیں ذوی العقول بھئی، ذوی العقول، عقل والے۔ تو انہوں نے کہا کہ 'من' جو ہے اس کے ذریعے عقلاء کی تعیین کو طلب کیا جاتا ہے یعنی ذوی العقول کی، كَقَوْلِكَ جیسے کہ آپ کا یہ قول: مَنْ فَتَحَ مِصْرَ، کس نے مصر کو فتح کیا؟ کس نے مصر کو فتح کیا؟ اور تو یہاں آپ تعیین کا سوال کر رہے ہیں، يُطْلَبُ بِهَا تَعْيِينُ الْعُقَلَاءِ، تعیین چاہتے ہیں معلوم ہوا اصلِ نسبت کا آپ کو پہلے سے علم ہے، اتنا آپ کو پہلے سے علم ہے کہ مصر کو فتح کیا ہے کسی نے، لیکن کس نے کیا ہے؟ وہ تعیین آپ چاہتے ہیں تو آپ نے 'من' کے ساتھ سوال کیا: مَنْ فَتَحَ مِصْرَ، تو مثلاً جواب میں کیا آئے گا؟ عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ، صحابیِ رسول جو فاتحِ مصر ہیں بھئی۔ تو 'من' جو ہے انہوں نے آپ سے کیا کہا، کیا بتلایا انہوں نے کہ اس کے ذریعے عقلاء کی یعنی ذوی العقول کی تعیین کو طلب کیا جاتا ہے۔ یاد رکھیے یہاں پر عقلاء بمعنیٰ ذوی العلوم کے ہے، عقلاء کس معنیٰ میں ہے؟ ذوی العلوم کے معنیٰ میں ہے تاکہ یہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو بھی شامل ہو جائے، کیونکہ اللہ کی ذات کے بارے میں بھی 'من' کے ذریعے سوال کیا جاتا ہے جیسے قبر میں سوال ہوگا: مَنْ رَبُّكَ؟ مَنْ رَبُّكَ؟ تو آپ کا، آپ کے رب کون ہیں بھئی؟ تو یہ 'من' کے ذریعے کس کے بارے میں سوال ہوا؟ ذاتِ، ذاتِ باری تعالیٰ کے بارے میں، تو عقلاء کس معنیٰ میں ہوا یہاں؟ ذوی العلوم کے معنیٰ میں ہوا، بھئی یہ ذوی العلوم کے معنیٰ میں اس لیے لینا پڑے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر عاقل کا اطلاق صحیح نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ذات پر عاقل کا اطلاق صحیح نہیں، اس لیے کیونکہ اللہ کے لیے اگر عقل کو مانا جائے تو ذاتِ باری تعالیٰ کا مرکب ہونا لازم آئے گا اور جو چیز مرکب ہوتی ہے وہ حادث ہوتی ہے، قدیم نہیں ہو سکتی، جبکہ اللہ کی ذات اور اللہ کی صفات قدیم ہیں بھئی۔ جو چیز، جو چیز عاقل ہوگی وہ مرکب ہوگی اور جو مرکب ہے وہ محتاج ہے اور جو محتاج ہے وہ قدیم نہیں ہو سکتا، وہ حادث ہوگا، بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو اللہ کی ذات پر عاقل کا اطلاق صحیح نہیں، ہاں عالم کا اطلاق صحیح ہے اللہ کی ذات پر، آپ بھی کہتے ہیں اللہ عالم الغیب ہیں، اللہ کیا ہیں؟ عالم الغیب ہیں، تو دیکھو عالم کا اطلاق صحیح ہے۔ تو یہاں ذوی العقول کس معنیٰ میں ہوا؟ ذوی العلوم کے معنیٰ میں تاکہ ذاتِ باری تعالیٰ کو بھی شامل ہو جائے، اور وجہ میں نے کیا ذکر کی؟ عاقل کا اطلاق کیوں نہیں ہو سکتا اللہ تعالیٰ کی ذات پر؟ کیونکہ جو چیز، جس چیز کے لیے عقل ہو ثابت، مانیں گے اس کا مرکب ہونا لازم آئے گا اور جو چیز مرکب ہوتی ہے وہ حادث ہوتی ہے، حادث، خ، ا، د، ث بھئی ث، حادث ہوتی ہے وہ قدیم نہیں، حادث اور قدیم یاد رکھیے یہ اصطلاحی الفاظ ہیں۔ تو قدیم کا معنیٰ پرانا نہیں، یہ تو آپ اردو کا معنیٰ ہے، اصطلاحی لفظ ہے، قدیم اسے کہتے ہیں جس پر کبھی عدم نہ آیا ہو، جس پر کبھی بھی عدم نہیں آیا یعنی کبھی بھی کوئی زمانہ، کوئی وقت ایسا نہیں تھا کہ اس کا وجود نہ ہو، اللہ کی ذات ہمیشہ سے ہے، اسی طرح اللہ کی صفات بھی ہمیشہ سے ہیں اور ہمیشہ رہیں گی بھئی، تو اللہ کی ذات قدیم ہے۔ اور حادث جس پر عدم آیا ہو، ایک وقت یا ایک زمانہ ایسا تھا جس میں اس چیز کا وجود نہ ہو بھئی، تو اللہ کی ذات اور صفات کے علاوہ جتنی چیزیں ہیں کائنات کے اندر وہ سب حادث ہیں، چاہے فرشتے ہیں، چاہے آسمان ہیں، چاہے زمین ہے، چاہے انسان و حیوانات جو بھی ہیں، سب کیا ہیں؟ حادث ہیں بھئی، تو اللہ کی ذات قدیم ہے اور تو اللہ پر عاقل کا اطلاق صحیح نہیں ورنہ اللہ تعالیٰ کی ذات کا مرکب ہونا لازم آئے گا اور جو مرکب ہوگا وہ محتاج ہوگا۔ مرکب، مرکب وہ ہوگا جس کے اجزاء ہوں، کیا ہوں؟ اجزاء ہوں، معلوم ہوا وہ اجزاء ملیں گے تو وہ ذات بنے گی، وہ اجزاء نہیں تو وہ ذات بھی نہیں، تو محتاج ہو گئی نہ، عاقل جو ہوگا وہ کیا ہوگا؟ محتاج ہوگا اور اللہ کی ذات تو کسی کی محتاج نہیں، اللہ کی ذات قدیم ہے بھئی۔ اور یہاں پر آیا مَنْ فَتَحَ مِصْرَ، یاد رکھیے یہ مصر، ملکِ مصر مراد ہے اور یہ نام مصر یہ غیر منصرف ہے بھئی غیر منصرف، مَنْ فَتَحَ مِصْرَ، اگر منصرف ہوتا تو مَنْ فَتَحَ مِصْرًا ہونا چاہیے تھا، تو یہ غیر منصرف ہے مَنْ فَتَحَ مِصْرَ، اور غیر انصراف کے دو اسباب کیا ہیں یہاں پر بھئی؟ ایک تو علمیت ہے، یہ نام ہے ملک کا، علم ہے اور دوسرا جی؟ تانيث ہے تانيث، تانيث کہ یہ بقعة کی تاویل میں، ب، ق، دو نقطوں والا، ع اور گول تا، بقعة، بقعہ کہتے ہیں زمین کے ٹکڑے کو، زمین کے حصے کو، تو مصر ملک جو ہے وہ بھی کیا ہے زمین کا ایک حصہ ہے، ایک ٹکڑا ہے، تو وہ بقعة ہوا اور بقعة کے اندر تو کیا آ رہی ہے؟ تائے تانيث آ رہی ہے تو یہ بقعة کی تاویل میں اس کے اندر اس اعتبار سے اس میں تانيث ہے، تو تانيث اور علمیت دو اسباب جمع ہوئے اس لیے یہ لفظ کیا ہوا؟ غیر منصرف ہوا۔ وَمَتَى يُطْلَبُ بِهَا تَعْيِينُ الزَّمَانِ مَاضِيًا كَانَ أَوْ مُسْتَقْبَلًا، اور 'متى' جو ہے اس کے ذریعے زمانے کی تعیین کو طلب کیا جاتا ہے، مَاضِيًا كَانَ أَوْ مُسْتَقْبَلًا چاہے وہ زمانہ ماضی کا ہو یا مستقبل کا ہو، نَحْوُ مَتَى جِئْتَ، آپ کب آئے؟ دیکھو ماضی کا صیغہ ہے، کون سے زمانے کی تعیین طلب کی جا رہی ہے؟ زمانہ ماضی کی کہ آپ کب آئے بھئی، مثلاً صبح آئے تھے یا رات کو آئے تھے یا کل آئے تھے، تعیین طلب کی جا رہی ہے۔ وَمَتَى تَذْهَبُ، آپ کب جائیں گے؟ دیکھو کون سے زمانے کی تعیین طلب کی جا رہی ہے؟ مستقبل کی کہ مثلاً دوپہر کو جائیں گے یا شام کو جائیں گے یا اگلے دن صبح جائیں گے، وہ تعیین طلب کی جا رہی ہے اور زمانہ مستقبل کے اندر بھئی۔ تو 'من' کے ذریعے عقلاء کی تعیین کا سوال ہوتا تھا اور 'متى' کے ذریعے زمانے کی تعیین کو طلب کیا جاتا ہے چاہے وہ زمانہ ماضی ہو چاہے زمانہ مستقبل ہو بھئی۔ وَأَيَّانَ يُطْلَبُ بِهَا تَعْيِينُ الزَّمَانِ الْمُسْتَقْبَلِ خَاصَّةً، اور 'أَيَّانَ' جو ہے اس کے ذریعے طلب کیا جاتا ہے خاص طور پر مستقبل کے زمانے کی تعیین کو، خاص طور پر زمانہ مستقبل کی تعیین کو طلب کیا جاتا ہے مثلاً آپ پوچھتے ہیں جیسے انہوں نے حاشیے میں مثال دی ہے جی: أَيَّانَ يُثْمِرُ هَذَا الشَّجَرُ، أَيَّانَ يُثْمِرُ، کب پھل دے گا هَذَا الشَّجَرُ یہ درخت؟ یا هَذَا الْغَرْسُ یہ جو پودا جس کو گاڑا گیا ہے، لگایا گیا ہے، تو کب پھل دے گا؟ تو دیکھیے زمانے کے بارے میں سوال کیا گیا 'أَيَّانَ' کے ذریعے اور زمانہ بھی کونسا ہے؟ مستقبل والا ہے، تو اس کے ذریعے مستقبل کے زمانے کی تعیین کا سوال ہوتا ہے۔ وَتَكُونُ فِي مَوْضِعِ التَّهْوِيلِ، اور یہ تہویل کے مقام میں آئے گا، كَقَوْلِهِ تَعَالَى، جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ہے: يَسْأَلُ أَيَّانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ، تہویل کہتے ہیں ہولناک بھئی ہولناکی، کوئی ہولناک چیز ہو اس کے بارے میں اس کے ذریعے سوال کیا جائے گا بھئی، ہولناک چیز ہو تو اس کے بارے میں بھئی، کوئی بڑی چیز ہو، با عظمت چیز ہو اس کے لیے 'أَيَّانَ' کے ذریعے سوال ہوگا، جیسے قرآن میں کیا آیا: يَسْأَلُ أَيَّانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ، انسان پوچھتا ہے، اللہ فرما رہے ہیں: يَسْأَلُ انسان پوچھتا ہے، سوال کرتا ہے: أَيَّانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ کب ہوگا قیامت کا دن؟ تو 'أَيَّانَ' کے ذریعے سوال کیا گیا اور کس کے بارے میں سوال کیا گیا؟ قیامت کے دن کے بارے میں اور قیامت بڑی ہولناک چیز ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اس کے ذریعے 'أَيَّانَ' کے ذریعے ہولناک چیز کا سوال ہوگا۔ وَكَيْفَ يُطْلَبُ بِهَا تَعْيِينُ الْحَالِ، اور 'كَيْفَ' اس کے ذریعے حال کی تعیین کو طلب کیا جاتا ہے، کس چیز کو؟ حال کی تعیین کو طلب کیا جاتا ہے، نَحْوُ مثال کے طور پر: كَيْفَ أَنْتَ؟ آپ کیسے ہیں؟ تو دیکھو کس چیز کو پوچھا؟ كَيْفَ أَنْتَ مخاطب کے حال کو پوچھا، تو وہ جواب میں کہے گا بھئی: مَرِيضٌ یا صَحِيحٌ، تو جو بھی جواب دے، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اس کے ذریعے جو ہے حال کی تعیین کو طلب کیا جاتا ہے، كَيْفَ أَنْتَ؟ وَأَيْنَيُطْلَبُ بِهَا تَعْيِينُ الْمَكَانِ، اور 'أَيْنَ' اس کے ذریعے جگہ کی تعیین کو طلب کیا جاتا ہے، نَحْوُ مثال کے طور پر: أَيْنَ تَذْهَبُ؟ آپ کہاں جائیں گے؟ دیکھو جگہ کے بارے میں سوال ہو رہا ہے، آپ کہاں جائیں گے؟ أَيْنَ تَذْهَبُ۔ وَأَنَّى تَكُونُ بِمَعْنَى كَيْفَ، اور 'أَنَّى' 'كَيْفَ' کے معنیٰ میں ہوگا، نَحْوُ مثال کے طور پر: أَنَّى يُحْيِي هَذِهِ اللَّهُ بَعْدَ مَوْتِهَا، تو یہ 'أَنَّى' کس معنیٰ میں ہے؟ 'كَيْفَ' کے معنیٰ میں ہے، اور 'كَيْفَ' کے ذریعے کیا طلب کیا جاتا تھا؟ حال کی تعیین کو، تو معلوم ہوا یہاں پر 'أَنَّى' کے ذریعے بھی کس چیز کو طلب کیا جا رہا ہے؟ حال کی تعیین کو، أَنَّى يُحْيِي هَذِهِ اللَّهُ، کیسے زندہ کریں گے اس کو اللہ؟ أَنَّى يُحْيِي هَذِهِ اللَّهُ، کیسے زندہ کریں گے اس کو اللہ بَعْدَ مَوْتِهَا اس کی موت کے بعد، اس چیز کو اس کے مر جانے کے بعد اللہ اس کو کیسے زندہ کریں گے؟ تو حال کے بارے میں سوال کیا جا رہا ہے۔ تو یہ 'أَنَّى' کبھی 'كَيْفَ' کے معنیٰ میں آئے گا، وَبِمَعْنَى مِنْ أَيْنَ، اور کبھی 'مِنْ أَيْنَ' کے معنیٰ میں بھی آئے گا 'أَنَّى'، نَحْوُ مثال کے طور پر: يَا مَرْيَمُ أَنَّى لَكِ هَذَا، حضرت زکریا علیہ السلام حضرت مریم کے پاس تشریف لاتے، وہ گھر کے اندر، گھر کے ایک کونے میں، ایک حجرے میں، ایک الگ تھلگ ہو کر عبادت میں مصروف رہا کرتی تھیں اللہ تعالیٰ کی، حضرت زکریا علیہ السلام تشریف لاتے تو ان کے پاس طرح طرح کے بے موسم کے پھل دیکھتے، تو حیران ہوتے کہ یہ پھل ان کے پاس کہاں سے آئے، نہ تو یہ باہر نکلی ہیں، نہ کوئی گھر کے اندر آیا ہے وغیرہ، اور نیز موسم بھی نہیں ہے ان پھلوں کا اور نیز یہ دنیاوی پھل معلوم بھی نہیں ہوتے، تو یہ پھل کہاں سے آئے بھئی، وہ سوال کرتے تو انہوں نے، انہوں نے سوال کیا حضرت مریم سے: يَا مَرْيَمُ أَنَّى لَكِ هَذَا، یعنی مِنْ أَيْنَ لَكِ هَذَا کہاں سے یہ آئے تمہارے پاس بھئی، کہاں سے آئے؟ تو یہاں 'أَنَّى' کس معنیٰ میں ہے؟ 'مِنْ أَيْنَ'، اگر یہ 'كَيْفَ' کے معنیٰ میں ہو پھر کیا سوال ہوتا؟ أَنَّى لَكِ هَذَا یہ تمہارے پاس کیسے آئے؟ یہ تمہارے پاس کیسے، حال کی تعیین کو طلب کیا جاتا ہے لیکن یہاں وہ حال کی تعیین کو طلب نہیں کر رہے کہ کیسے آئے، بلکہ یہ پوچھ رہے ہیں: أَنَّى لَكِ هَذَا تمہارے پاس، تو یہ 'أَنَّى' 'مِنْ أَيْنَ' کے معنیٰ میں ہے یعنی یہ تمہارے پاس کہاں سے آئے ہیں بھئی کہاں سے آئے ہیں، مِنْ أَيْنَ کہاں سے؟ دلیل کیا ہے؟ دلیل اس کی آگے ان کا جواب ہے: قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ، کیا فرمایا؟ یہ اللہ کی طرف سے ہیں، اللہ کی طرف سے۔ تو معلوم ہوا انہوں نے پوچھا تھا کہاں سے ہیں، کہاں سے آئے ہیں؟ تو جواب میں انہوں نے کیا کہا؟ اللہ کی طرف سے، اللہ کے پاس سے۔ وَبِمَعْنَى مَتَى، اور کبھی کبھار یہ 'أَنَّى' 'مَتَى' کے معنیٰ میں بھی آتا ہے، 'مَتَى' کے معنیٰ میں، اور 'مَتَى' کس لیے آتا تھا ابھی آپ نے پڑھا؟ زمانے کی تعیین کے لیے آتا ہے، ماضی یا مستقبل کے لیے، تو یہ 'أَنَّى' بھی 'مَتَى' کے معنیٰ میں ہوگا، نَحْوُ مثال کے طور پر: زُرْ أَنَّى شِئْتَ، زُرْ زارَ يَزُورُ سے زیارت کرنا، زُرْ آپ زیارت کیجیے یعنی ملاقات کیجیے أَنَّى شِئْتَ، یعنی مَتَى شِئْتَ جب آپ چاہیں بھئی، جب آپ چاہیں آپ زیارت کر سکتے ہیں یعنی ملاقات کر سکتے ہیں، تشریف لا سکتے ہیں۔ وَكَمْ يُطْلَبُ بِهَا تَعْيِينُ عَدَدٍ مُبْهَمٍ، اور 'كَمْ' طلب کیا جاتا ہے اس کے ذریعے ایک مبہم عدد کی تعیین کو، 'كَمْ' کے ذریعے کیا کیا جاتا ہے؟ مبہم عدد کی تعیین کو طلب کیا جاتا ہے، نَحْوُ مثال کے طور پر: كَمْ لَبِثْتُمْ، تم کتنا عرصہ رہے؟ تم کتنا عرصہ ٹھہرے رہے؟ اصحابِ کہف جو ہیں یہ شہزادے تھے یا بعض نے لکھا بڑے مالدار لوگوں کی اولاد تھے اور یہ اسلام لے آئے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امت میں سے تھے، تو اسلام لے آئے، بادشاہ بڑا ظالم تھا اس زمانے کا اور لوگوں کو بت پرستی پر مجبور کرتا تھا، تو یہ وہاں سے نکلے اور ایک غار کے اندر، شہر کے قریب ہی ایک غار تھا اس کے اندر پناہ لے لی بھئی۔ اور مختلف اقوال ہیں کہ یہ سات افراد تھے یا آٹھ تھے یا نو تھے اور ایک ان کا کتا وہ بھی ان کے پیچھے ہو لیا اور ساتھ ہوا ان کے، تو یہ اصحابِ کہف پھر اس غار کے اندر داخل ہوئے اور سو گئے اور پھر بڑے طویل عرصے تک یہ سوئے رہے بھئی، طویل عرصے تک۔ بعض نے لکھا ہے تین سو سال تک یہ سوئے رہے، تین سو سال کے بعد ان کی آنکھ کھلی، اللہ نے اتنا عرصہ ان کو ان پر نیند طاری فرما دی، لیکن ان کے بدن اسی طرح صحیح تھے، سارا کچھ صحیح تھا، تو بیدار ہوئے تو اس وقت ایک دوسرے سے کہنے لگے: كَمْ لَبِثْتُمْ، کتنا ٹھہرے، کتنا عرصہ رہے تم بھئی؟ تو وہ کس لیے، کیا سوال کر رہے ہیں؟ تو انہوں نے پھر سوال کیا آپس میں ہی ایک دوسرے سے کم لبثتُم کہ کتنا تم رہے؟ یعنی کتنے دن یا کتنے سال یا کتنے گھنٹے تم اس طرح رہے، سوئے ہوئے رہے بھئی۔ تو کم کے ذریعے اس عددِ مبہم کا سوال کیا گیا کہ کتنے دن یا کتنے گھنٹے۔ یا جیسے آپ سوال کرتے ہیں اپنے ساتھی سے بھئی، کم درھماً عندکَ؟ تمہارے پاس کتنے درہم ہیں؟ تو دیکھیے، عدد کو طلب کر رہے ہیں کہ دس درہم ہیں یا بیس ہیں یا تیس ہیں، تعین کرو کتنے درہم ہیں تمہارے پاس۔ وَاَیٌّ یُّطْلَبُ بِھَا تَمْیِیْزُ اَحَدِ الْمُتَشَارِکَیْنِ فِیْ اَمْرٍ یَّعُمُّھُمَا۔ اور ايّ جو ہے اس کے ذریعے طلب کیا جاتا ہے تمیزُ احدِ المتشارکینِ، دو شریکوں میں سے ایک کی تمیز کو، یعنی اس کے امتیاز کو فِیْ اَمْرٍ، ایک ایسی چیز میں، یَعُمُّھُمَا، جو دونوں کو عام تھا۔ جو وہ دو جو شریک ہیں فِیْ اَمْرٍ یَّعُمُّھُمَا، کسی ایسی چیز میں جو دونوں کو عام ہے، اس کے لیے ان دونوں میں سے ایک کے امتیاز کو طلب کیا جاتا ہے ایّ کے ذریعے بھئی۔ کس کے ذریعے؟ ایّ کے ذریعے۔ بھئی دیکھیے، ایّ کے ذریعے سوال ہوتا ہے اور دو چیزیں کسی ایک امر میں، ایک معاملے کے اندر دونوں چیزیں شریک ہیں۔ اب ان میں سے آپ، آپ ان دونوں میں سے ایک کو ممتاز کرنے کے لیے دوسرے سے سوال کرتے ہیں۔ کس کے ذریعے کریں گے؟ ایّ کے ذریعے۔ دیکھیے، مثال سے وضاحت ہوگی بھئی۔ اَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ خَیْرٌ مَّقَامًا، ایُّ الفریقینِ، ان دو فریقوں میں سے کون سا جو ہے خیرٌ مقاما، بہتر ہے مقام کے اعتبار سے؟ ان دو فریقوں میں سے کون سا فریق مقام کے اعتبار سے بہتر ہے؟ کس کا مقام بہتر ہے؟ یہود جو تھے، ابتداء سے ہی یہ مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں مصروف رہے ہیں بھئی۔ تو جس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے، یہاں پر یہود کے جو تین قبیلے آباد تھے اور پھر ان میں سے بعض کو نکال دیا گیا، انہوں نے انہی کی شرارتوں کی وجہ سے ان کو وہاں سے نکالا گیا اور وہ پھر خیبر میں جا کر رہنے لگے اور پھر آپ جانتے ہیں کہ خیبر سے بھی بعد میں ان کو نکال دیا گیا بھئی۔ یہودی تو اس بات کے منتظر تھے کہ آخری پیغمبر ہمارے، ہماری قوم میں سے آئیں گے، لیکن وہ، وہ جب پتہ چلا کہ آخری پیغمبر کا ظہور ہوا ہے اور وہ تو ہماری قوم میں سے نہیں ہے تو وہ ایمان بھی نہیں لائے تعصب کی وجہ سے اور حضور علیہ السلام کو اور مسلمانوں کو ہر وقت تکلیف دینے کی کوششوں میں لگے رہتے بھئی۔ تو ان کی شرارتوں کی وجہ سے جب یہاں سے نکال دیا گیا تو ان کا ایک وفد جو تھا پورے عرب میں گھوما اور چکر اس نے لگایا اور ایک ایک قبیلے کے پاس گئے ان کو مسلمانوں کے خلاف جنگ کے لیے تیار کرنے کے لیے۔ چنانچہ انہی کی ان کوششوں کا نتیجہ تھا کہ غزوۂ خندق پر تمام مشرکینِ عرب اکٹھے ہو کر مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے بھئی، مشرکین۔ اور تو یہ جس وقت ان کا وفد مختلف قوموں کے پاس گیا مسلمانوں کے خلاف ان کو جنگ کے لیے آمادہ کرنے کے لیے تو مکہ والوں کے پاس بھی آئے، قریش کے پاس بھی ان کا وفد آیا۔ اب قریش کے پاس وفد آیا تو یہ یہود یہ تو اہل کتاب تھے اور قریش وہ تو بت پرستی کرتے تھے، واضح بتوں کی عبادت کرتے تھے۔ تو مشرکین نے یہود سے سوال کیا، ایُّ الفریقینِ خیرٌ مقاما، ان دو فریقوں میں سے کون بہتر ہے مقام کے اعتبار سے؟ اے یہود! تم تو اہل علم لوگوں میں سے ہو، اہل کتاب لوگوں میں سے ہو، تم تو کہتے ہو تمہارے پاس آسمانی کتاب ہے، تمہاری قوم میں بے شمار پیغمبر آئے ہیں، تم لوگ ہمیں ذرا بتاؤ۔ ایک ہم ہیں اور ایک مسلمان ہیں، یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے، کون بہتر ہے ہم دونوں میں سے؟ ہم دونوں میں سے کون بہتر ہے؟ اب دیکھیے، یہودیوں کے تعصب کا اندازہ کیجیے۔ کہنے لگے: تم۔ مشرکینِ مکہ کو کیا کہنے لگے، کون بہتر ہے؟ تم بہتر ہو۔ تو یہ صرف انہوں نے تعصب کی وجہ سے کہا، حالانکہ وہ بھی جانتے تھے۔ اگرچہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لائے تھے، لیکن بہرحال یہود تھے تو اہل کتاب۔ اور جب اہل کتاب تھے، اتنا تو وہ بھی جانتے تھے کہ بت پرستی شرک ہے اور اللہ تعالیٰ شرک کو کبھی بھی معاف نہیں فرماتے، تو اور یہ مشرکینِ مکہ، یہ تو واضح بت پرستی کرتے ہیں، واضح شرک کرتے ہیں اور مسلمان کم از کم اہل کتاب تو ہیں ہماری طرح۔ وہ پیغمبر پر ایمان لائے ہیں، اللہ کی وحدانیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ تو یہ بات تو ان کے لیے بالکل واضح تھی کہ ان مشرکین کے مقابلے میں تو مسلمان بہتر ہیں، اگرچہ وہ مانتے مسلمانوں کو نہیں تھے، لیکن یہ بات تو ان کے سامنے بھی واضح تھی کہ کم از کم مسلمان اس طرح شرک تو نہیں کرتے جس طرح یہ کیا کرتے ہیں، یہ مشرک۔ تو اتنی واضح بات تھی اور اس کا جواب وہ، ان کو کیا کہنا چاہیے تھا؟ کہ مسلمان تم سے بہتر ہیں، لیکن صرف اپنے تعصب کی وجہ سے اور ہمیشہ کی طرح اپنی شرارتوں کی، جیسے انہوں نے ہمیشہ شرارتیں کی ہیں، اس موقع پر بھی انہوں نے مشرکینِ مکہ سے کیا کہا، کون بہتر ہیں؟ تم بہتر ہو مسلمانوں کے مقابلے میں۔ تو دیکھیے، یہاں پر ایُّ آیا بھئی اور ایُّ الفریقینِ، ان دو فریقوں میں سے کون سا جو ہے بہتر ہے مقام کے اعتبار سے؟ اب مسلمان اور مشرکینِ مکہ، یہ دونوں فریق ہونے میں شریک ہیں۔ کس چیز میں شریک ہیں؟ ایک فریق مشرکینِ مکہ ہیں تو ایک فریق کون ہے؟ مسلمان ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ہیں۔ تو دیکھیے، اب فریق ہونے میں دونوں شریک ہیں۔ فریق ہونا ایک ایسی چیز ہے جو عام ہے، دونوں کو شامل ہے۔ یہ بھی فریق اور وہ بھی فریق۔ اب ان دو میں سے ایک کے امتیاز کو طلب کیا جا رہا ہے کہ فریق ہونے میں تو دونوں شریک ہیں، یہ بھی فریق، مشرکینِ مکہ سوال کر رہے ہیں، کس سے کر رہے ہیں؟ یہودیوں سے، یہودی علماء سے سوال کر رہے ہیں کہ فریق تو دونوں ہیں، ہم بھی ایک فریق ہیں، مسلمان بھی ایک فریق ہیں، لیکن ان میں سے بہتر کون ہے؟ تو امتیاز کو طلب کر رہے ہیں، اس کے جس سے ایک فریق دوسرے سے ممتاز ہو جائے، ایک فریق کیا ہو جائے دوسرے سے ممتاز ہو جائے، الگ ہو جائے، جدا ہو جائے۔ اب فریق ہونے میں تو دونوں شریک، یہ بھی فریق اور وہ بھی فریق ہے، لیکن بہتر کون ہے؟ کس کے لیے بہتر ہونے کا وصف ثابت ہے؟ تو جس کے لیے بہتر ہونے کا، بہتر ہونے کا وصف تو ایک کے لیے ہے تو وہ دوسرے سے کیا ہو جائے گا؟ ممتاز ہو جائے گا، جدا ہو جائے گا، الگ ہو جائے گا۔ تفصیل بھی سمجھ میں آرہی ہے کہ نہیں؟ دوبارہ عبارت کے اوپر ذرا نظر رکھیے، وَاَیٌّ یُّطْلَبُ بِھَا تَمْیِیْزُ اَحَدِ الْمُتَشَارِکَیْنِ فِیْ اَمْرٍ یَّعُمُّھُمَا، اور ایُّ جو ہے طلب کیا جاتا ہے اس کے ذریعے تمیزُ احدِ المتشارکینِ، ممتاز کرنے کو، کس چیز کو طلب کیا جاتا ہے کہ اس کو کیا کر دیا جائے؟ ان کا امتیاز کیا جائے، یعنی اس کو ممتاز کر دیا جائے۔ کس کو؟ دو شریکوں میں سے ایک کو، اس کو کیا کر دیا جائے؟ ممتاز کر دیا جائے۔ بھئی، وہ شریک ہیں کس چیز میں؟ فِیْ اَمْرٍ یَّعُمُّھُمَا، ایک ایسی چیز میں جو دونوں کو عام ہے۔ تو دو چیزیں جو شریک ہوں کسی ایک امر کے اندر، ایسا امر جو دونوں کو عام ہے، دونوں کو حاصل ہے وہ امر، اس، ان دو شریکوں میں سے کسی ایک کے امتیاز کو طلب کیا جاتا ہے ایُّ کے ذریعے، ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو ترجمہ، دیکھیے دوبارہ ایک دفعہ ترجمہ دیکھ لیں، وَاَیٌّ یُّطْلَبُ بِھَا تَمْیِیْزُ اَحَدِ الْمُتَشَارِکَیْنِ فِیْ اَمْرٍ یَّعُمُّھُمَا، اور ایُّ جو ہے اس کے ذریعے طلب کیا جاتا ہے، کس چیز کو طلب کیا جاتا ہے؟ تمیزُ احدِ المتشارکینِ فی امرٍ یّعمھما، دو چیزیں جو شریک ہیں کسی ایسے امر کے اندر، کسی ایسی بات کے اندر، یعمھما، جو ان دونوں کو، ان دونوں کو شامل ہے، ان دونوں کو عام ہے، ان میں سے ایک کے ممتاز کرنے کو طلب کیا جاتا ہے کس کے ذریعے؟ ایُّ کے ذریعے۔ نحوُ ایُّ الفریقینِ خیرٌ مقاما، ان، ان دو فریقوں میں سے کون بہتر ہے مقام کے اعتبار سے؟ تو فریق ہونے میں تو دونوں شریک ہیں، لیکن بہتر ہونے کا مقام کس کے لیے ثابت ہے؟ کون بہتر ہے مقام کے اعتبار سے؟ وہ تو ان دونوں میں سے ایک ہی ہوگا، دونوں نہیں ہوں گے۔ تو اے یہود! ہمیں بتاؤ ان دونوں میں سے مقام کے اعتبار سے بہتر کون ہیں؟ جب وہ بتا دیں گے تعین آجائے گی، دونوں میں فرق ہو جائے گا، پہلے تو دونوں میں کوئی فرق نہیں تھا، فریق ہونے میں دونوں شریک تھے۔ وَيُسْأَلُ بِهَا عَنِ الزَّمَانِ وَالْمَكَانِ وَالْحَالِ وَالْعَدَدِ وَالْعَاقِلِ وَغَيْرِهِ حَسَبَ مَا تُضَافُ إِلَيْهِ، اور سوال کیا جاتا ہے اس ایُّ کے ذریعے زمانے کے بارے میں بھی، مکان کے بارے میں بھی، حال کے بارے میں بھی اور عدد کے بارے میں بھی اور عاقل کے بارے میں بھی، وغیرهِ، اور اس کے علاوہ اور چیزوں کے بارے میں بھی ایُّ کے ذریعے سوال کیا جاتا ہے، حسبَ ما تُضافُ إلیهِ، اسی کے اعتبار سے جس کی طرف اس کی اضافت کی جائے، جس کی طرف اس کی اضافت کی جائے۔ ایُّ الفریقینِ، دیکھو ایُّ مضاف ہے اور فریقین کیا ہے؟ مضاف الیہ۔ تو اس ایُّ کے ذریعے زمانے کا بھی سوال ہو سکتا ہے، مکان کا، حال کا، عدد وغیرہ ان سب چیزوں کا سوال ایُّ کے ذریعے کیا جا سکتا ہے، اسی اعتبار سے جس کی طرف اس کی اضافت کی جائے، یعنی جس چیز کے بارے میں سوال کرنا ہے، ایُّ کو کیا کر دو؟ اس کی طرف مضاف کر دو، چاہے وہ زمانہ ہو، چاہے مکان ہو، چاہے حال ہو یا عدد ہو بھئی۔ چلیے، بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔