سبق نمبر۔۲۵ أضرب الخبر حيث كان قصد المخبر بخبره إفادة المخاطب ينبغي أن يقتصر من الكلام على قدر الحاجة حذرا من اللغو. فإن كان المخاطب خالي الذهن من الحكم ألقي إليه الخبر مجردا عن التأكيد، نحو أخوك قادم. ہم نے علم معانی پڑھنا شروع کیا تھا۔ آپ نے پڑھا علم معانی جو ہے وہ لفظ عربی کے ان احوال کو جاننے کا نام ہے جن سے وہ لفظ مقتضائے حال کے مطابق ہوتا ہے۔ یعنی موقع محل کس قسم کے الفاظ کا تقاضا کر رہا ہے اس کا پتہ ہمیں کس سے چلے گا؟ علم معانی سے بھئی، علم معانی سے۔ پھر اس کے بعد علم معانی کے اندر انہوں نے بتلایا تھا کہ آٹھ ابواب ہوں گے بھئی، آٹھ ابواب اور ایک خاتمہ۔ اور پہلا باب پھر شروع کیا تھا خبر اور انشاء کے بارے میں۔ خبر کے بارے میں آپ نے پڑھا وہ کلام کہ جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے، اور انشاء وہ کلام جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا نہ کہا جا سکے۔ اور صدق خبر آپ نے پڑھا تھا خبر کا سچا ہونا۔ صدق خبر کس کو کہتے ہیں؟ کہ خبر واقع کے اور خارج کے مطابق ہو۔ ایک شخص نے آپ کے سامنے کوئی بات کہی اور وہ بات خارج اور واقع کے مطابق ہے تو اس کو کیا کہیں گے؟ صدق خبر، خبر کا سچا ہونا اور یہ خبر کیا کہلائے گی؟ خبر صادق کہلائے گی کہ یہ خبر سچی ہے۔ اور اگر خبر واقع کے مطابق نہ ہو تو اس کو کذب خبر کہتے ہیں خبر کا جھوٹا ہونا، اور اس قسم کی خبر جو واقع کے مطابق نہ ہو وہ کیا کہلاتی ہے؟ خبر کاذب کہلاتی ہے بھئی، خبر کاذب۔ تو بات خبر کی چل رہی ہے بھئی، خبر سے مراد پورا جملہ، جملہ خبریہ مراد ہے۔ ایک مبتدا کی بھی خبر ہوتی ہے وہ مراد نہیں ہے، مبتدا کی خبر تو صرف مسند ہوتی ہے، کیا ہوتی ہے؟ صرف مسند ہوتی ہے، مبتدا ہوتا ہے مسند الیہ جس پر حکم لگایا گیا اور کیا حکم لگایا گیا؟ وہ خبر والا، تو خبر ہے مسند، اس خبر کی بات نہیں ہو رہی یہ وہ خبر ہے جو انشاء کے مقابلے میں ہے، اور انشاء بھی کیا ہوتا ہے؟ جملہ، اور خبر اس سے بھی کیا مراد ہے؟ جملہ خبریہ۔ پھر یہ جملہ خبریہ آپ نے پڑھا دو قسم پر ہے، یا جملہ اسمیہ ہوگا یا جملہ فعلیہ۔ جملہ اسمیہ جس میں ایک مبتدا ہوتا ہے ایک اس کی خبر ہوتی ہے، اور جملہ فعلیہ جس میں فعل اور اس کا فاعل یا نائب فاعل ہوگا بھئی۔ تو جملہ خبریہ یا یوں کہیں خبر جو ہے خبر دو قسم کی ہوئی یا وہ جملہ اسمیہ ہوگی یا جملہ فعلیہ۔ ان میں سے پھر جملہ فعلیہ جو ہے اس کو وضع کیا گیا ہے حدوث اور تجدد کے لیے، حدوث اور تجدد۔ حدوث اور تجدد یہ دونوں لفظ جو ہیں ان کا ایک ہی معنی ہے اسی لیے میں دونوں بار بار ذکر کر رہا ہوں تاکہ آپ کے ذہن میں بات اچھی طرح بیٹھ جائے بھئی۔ حدوث کا معنی ہے ہونا، ہونا، کسی چیز کا ہونا، پہلے نہ ہو اور پھر ہو جائے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ حدوث، اور تجدد کا بھی کیا معنی ہے؟ ہونا، ایک چیز پہلے نہ ہو اور پھر ہو۔ تو یہ ہے حدوث اور تجدد۔ تو جملہ فعلیہ جو ہے اس کو وضع کیا گیا ہے حدوث اور تجدد کے لیے، وہ یہ بتلاتا ہے کہ ایک چیز پہلے نہیں تھی اور پھر ہوئی، پھر پائی گئی۔ اور جملہ اسمیہ جو ہے وہ ثبوت کے لیے وضع ہے یعنی اس میں صرف یہ بتلایا جاتا ہے کہ مبتدا کے لیے یہ چیز ثابت ہے، یا یوں کہیں ایک چیز کے لیے دوسری چیز ثابت، زید قائم، زید قائم، تو دیکھو اس میں صرف اتنا بتلایا گیا کہ زید کے لیے قیام ثابت ہے۔ پہلے تھا یا نہیں تھا یہ ذکر ہی نہیں اس کے اندر، بعد میں ہوگا یا نہیں ہوگا یہ ذکر ہی نہیں ہے، صرف اتنا بتلایا گیا کہ زید کے لیے اس وقت کیا ثابت ہے؟ قیام ثابت ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اگر آپ کہتے ہیں قام زید، زید کھڑا ہوا، اس نے کیا بتلایا؟ کہ پہلے نہیں تھا پھر زید کھڑا ہوا، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اس میں ہے ہونا ایک چیز کا۔ تو جملہ فعلیہ میں حدوث اور تجدد ہوتا ہے اور جملہ اسمیہ میں ایک چیز کا دوسری چیز کے لیے ثبوت۔ پھر جملہ فعلیہ اگر وہ فعل مضارع ہو اور اس کے ساتھ کبھی کوئی قرینہ مل جاتا ہے تو وہ حدوث کے ساتھ ساتھ استمرار پر بھی دلالت کرتا ہے۔ استمرار کا معنی ہے ایک چیز کا مسلسل ہونا، بار بار ہونا، یہ ہے استمرار بھئی۔ اور دوسری طرف جملہ اسمیہ اس کے ساتھ کبھی کوئی قرینہ مل جاتا ہے تو وہ ثبوت کے ساتھ ساتھ دوام پر بھی دلالت کرتا ہے، کس پر؟ دوام پر بھی۔ اور قرینہ کا لفظ آیا، قرینہ کسے کہتے ہیں؟ میں آپ کو بتلا چکا ہوں بھئی، کسے کہتے ہیں؟ القرینة هو أمر يشير إلى المطلوب، یہ تعریف ہر وقت آپ کے ذہن میں ہونی چاہیے بھئی، ہر وقت۔ یہ تو آپ کو ہر جگہ کتابوں میں جگہ جگہ قرینہ کا لفظ آتا ہے، کوئی بھی چیز جو مقصود کی طرف اور مطلوب کی طرف اشارہ کر رہی ہو اسے کیا کہتے ہیں؟ قرینہ کہتے ہیں۔ پھر اس کے بعد انہوں نے آپ کو یہ بتلایا بھئی کہ خبر جو ہے وہ اصل خبر کے اندر یہ ہے کہ وہ اس لیے تا کہ وہ مخاطب کو اس حکم کا فائدہ دینے کے لیے لائی جاتی ہے جس پر وہ خبر مشتمل ہوتی ہے یا خبر اس لیے لائی جاتی ہے کہ مخاطب کو اس بات کا فائدہ دے کہ خبر لانے والا اس بات پر عالم ہے۔ بھئی دیکھیے آپ کے سامنے آ کر کوئی شخص کلام کرتا ہے مثلاً اس نے آپ سے آ کر کہا جاء زید، زید آ گیا ہے۔ جاء زید، زید آ گیا ہے، اس سے آپ کو دو فائدے حاصل ہوئے، ایک تو فائدہ یہ کہ آپ کو زید کے آنے کا پتہ چلا، پہلے آپ کو علم نہیں تھا اب آپ کو کیا پتہ چل گیا؟ زید کے آنے کا پتہ چل گیا، نیز ایک اور فائدہ بھی ہوا اور وہ کیا؟ کہ یہ جو خبر لانے والا ہے اس کو بھی پتہ ہے کہ زید آ گیا ہے، کہ اس کو بھی پتہ ہے زید۔ تو خبر جب کسی کے سامنے ذکر کی جائے تو اس سے سننے والے کو اس بات کا بھی پتہ چلتا ہے اور اس بات کا بھی پتہ چلتا ہے کہ لانے والا اس خبر پر مطلع ہے اس کو اس بات کا پتہ ہے۔ تو خبر سے یہ جو بات کا پتہ چلا اس کو کہتے ہیں فائدة الخبر، کیا کہتے ہیں؟ فائدة الخبر، جو نئی بات جس کا آپ کو فائدہ ہوا جس کا آپ کو پتہ چلا، اور جو یہ بھی ساتھ پتہ چلا کہ خبر لانے والے کو بھی اس بات کا پتہ ہے اس کو کہتے ہیں لازم فائدة الخبر، کیا کہتے ہیں؟ لازم فائدة الخبر، بھئی اس نے تو یہ نہیں کہا کہ مجھے بھی اس بات کا پتہ ہے، اس نے تو صرف اتنا کہا تھا کہ زید آ گیا ہے، لیکن خود بخود آپ کو کیا پتہ چل گیا؟ کہ خبر لانے والے کو بھی زید کے آنے کا پتہ ہے جبھی تو وہ مجھے آ کر اطلاع دے رہا ہے۔ تو یہ اس کے عالم ہونے کا بھی پتہ چلا آپ کو، عالم ہونا کیا معنی؟ دنیا کی ہر چیز پر عالم ہونے کا پتہ چلا یا اس بات پر جو وہ ذکر کر رہا ہے اس بات پر اس کے عالم ہونے کا پتہ چلا؟ اس بات پر آپ کو اس کے عالم ہونے کا پتہ چلا بھئی، تو اس کو کہتے ہیں لازم فائدة الخبر، اس کو کیا کہتے ہیں؟ لازم فائدة الخبر۔ اس کو لازم فائدة الخبر اس لیے کہتے ہیں کیونکہ یہ فائدة الخبر کے ساتھ لازم ہے، جہاں بھی فائدة الخبر پایا جائے گا لازم فائدة الخبر ضرور ہوگا، یعنی جہاں بھی آپ کو آپ کے سامنے کوئی بات کرے اور آپ کو اس بات کا پہلے پتہ نہ تھا جب آپ کو جیسے آپ کو اس بات کا پتہ چل رہا ہے اس کے کہنے سے، اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی پتہ چل رہا ہے آپ کو کہ اس کو بھی اس بات کا جو بات کر رہا ہے اس کو بھی اس بات کا علم ہے۔ تو یہ لازم، تو جہاں بھی فائدة الخبر ہوتا ہے وہاں ساتھ کیا ہوتا ہے؟ لازم، اسی لیے اس کو لازم فائدة الخبر کہتے ہیں کیونکہ یہ اس کے ساتھ لازم ہے۔ لیکن اس کا عکس نہیں ہے، جہاں بھی لازم فائدة الخبر ہو وہاں فائدة الخبر کا ہونا ضروری نہیں۔ جہاں فائدة الخبر ہو وہاں تو لازم فائدة الخبر کا ہونا ضروری، لیکن جہاں لازم فائدة الخبر ہو وہاں فائدة الخبر کا ہونا ضروری نہیں۔ مثلاً دیکھیے آپ سے ایک شخص نے آ کر کہہ دیا کہ زید آ گیا ہے، اب آپ کو اس بات کا پتہ چل گیا، تھوڑی دیر بعد آپ کا ایک اور ساتھی آیا اس نے بھی یہی جملہ آپ کے سامنے کہا زید آ گیا ہے، اب بتائیے یہاں فائدة الخبر ہے؟ نہیں، کیونکہ یہ فائدہ تو آپ کو پہلے ہی حاصل ہو چکا، آپ کو پہلے ہی پتہ چل چکا۔ ہاں البتہ لازم فائدة الخبر ہے یہاں پر، آپ کو علم ہو گیا کہ یہ جو اب خبر لے کر آیا ہے معلوم ہوا اس کو بھی پتہ ہے زید کے آنے کا بھئی۔ تو دیکھو یہاں لازم فائدة الخبر تو ہے لیکن فائدة الخبر نہیں۔ تو خبر کے اندر اصل یہی ہے کہ یا تو وہ فائدة الخبر کے لیے لائی جائے، جملہ خبریہ جب بھی کسی کے سامنے ذکر کیا جائے تو اس کا مقصد کیا ہوگا؟ اصل کیا ہے اس کے اندر؟ یا تو دوسرے کو وہ بات بتلانا مقصد ہوگا یا کیا مقصد ہوگا؟ اپنے عالم ہونے کے بارے میں آپ اسے بتلانا چاہتے ہیں کہ میں اس بات پر واقف ہوں، میں اس بات پر عالم ہوں بھئی۔ تو جملہ خبریہ یعنی خبر، خبر جب بھی کسی کے سامنے پیش کی جائے اصل اس کے اندر یہی ہے، یا تو وہ فائدة الخبر کے لیے ہوگی یا کس لیے ہوگی؟ لازم فائدة الخبر، اصل یہ ہے، ہونا اس کے لیے اس کو چاہیے، لیکن کبھی کبھار اور غرضوں کے لیے بھی اس کو لایا جاتا ہے۔ مثلاً جیسے آپ کو امتحان میں انعام ملا، اور آپ اول آئے آپ کو انعام ملا، اب آپ کو بھی پتہ ہے کیونکہ انعام آپ ہی کو تو ملا ہے، اور آپ کی ساری جماعت کو بھی پتہ ہے کہ آپ کو انعام ملا ہے، اب آپ ان کے سامنے کہتے ہیں میں امتحان میں اول آیا ہوں، مجھے امتحان میں انعام ملا ہے، بھئی یہاں فائدة الخبر غرض نہیں کیونکہ یہ تو سب کو پتہ ہے، اور لازم فائدة الخبر بھی غرض نہیں، کیوں کیا آپ ان کو یہ بتلانا چاہتے ہو کہ مجھے علم ہے؟ بھئی آپ ہی کو تو انعام ملا ہے یہ تو سب کو پتہ ہے آپ کے تو علم میں ہے، تو یہاں نہ فائدة الخبر مقصود نہ لازم فائدة الخبر مقصود، بلکہ مقصد کیا ہے؟ آپ خوشی کا اظہار کرنا چاہتے ہیں دوسروں کے سامنے بھئی کہ میں اس بات پر بڑا خوش ہوں بھئی۔ تو خبر کے اندر اصل یہ ہے کہ وہ فائدة الخبر کے لیے لائی جائے یا لازم فائدة الخبر کے لیے، لیکن کبھی کبھار اور غرضوں کے لیے بھی وہ خبر لائی جاتی ہے بھئی، اور اس کی بہت سی مثالیں بھی کتاب میں ذکر کی ہیں انہوں نے۔ آج خبر کی قسمیں آپ کو بتلا رہے ہیں بھئی، تو کہتے ہیں أضرب الخبر، أضرب جمع ہے ضرب کی، ضرب کا معنی ہے قسم اور نوع، تو أضرب الخبر کا کیا معنی ہوا؟ خبر کی قسمیں، خبر کی انواع بھئی۔ جی دیکھیے بھئی کتاب پر أضرب الخبر، خبر کی قسمیں، حيث كان قصد المخبر بخبره إفادة المخاطب، مخبر خبر دینے والا، خبر لانے والا خبر دینے والا۔ حيث كان قصد المخبر بخبره إفادة المخاطب اس حیثیت سے کہ مخبر جو ہوتا ہے اس کا ارادہ اپنی خبر کے ذریعے إفادة المخاطب مخاطب کو فائدہ دینا ہوتا ہے۔ مخبر کا اپنی خبر کے ذریعے کیا ارادہ ہوتا ہے؟ مخاطب مخاطب نہ کہیں مخاطب بھئی، مخاطب وہ تو خود متکلم ہے، وہ مخبر خود مخاطب ہے۔ تو حيث كان قصد المخبر بخبره إفادة المخاطب اس حیثیت سے کہ مخبر جو ہوتا ہے اس کا ارادہ اپنی خبر کے ذریعے إفادة المخاطب مخاطب کو فائدہ دینا ہوتا ہے ينبغي أن يقتصر من الكلام على قدر الحاجة تو مناسب یہ ہے أن يقتصر کہ وہ اقتصار کرے، مناسب یہ ہے کہ وہ اقتصار کرے من الكلام على قدر الحاجة ضرورت کے بقدر کلام پر، وہ کیا کرے اقتصار کرے کلام پر علی قدر الحاجۃ بقدر ضرورت۔ بھئی مخبر کوئی آدمی جب دوسرے کے سامنے خبر لاتا ہے، اس کے سامنے جملہ خبریہ کہتا ہے تو اس کا مقصد کیا ہوتا ہے؟ مخاطب کو فائدہ دینا ہوتا ہے۔ کیا مقصد ہوتا ہے؟ مخاطب کو فائدہ دینا مقصد ہے، تو مناسب یہ ہے کہ اتنا ہی کلام لے کر آئے، اتنے ہی کلام پر اقتصار کرے جتنے کی ضرورت ہے، نہ تو وہ کلام ضرورت سے زائد ہو نہ ضرورت سے کم ہو۔ اگر ضرورت سے زائد ہوا کلام تو وہ بیکار ہو چلا جائے گا بھئی۔ ضرورت سے زائد ہوا تو بیکار، اور اگر ضرورت سے وہ کلام کم ہوا پھر تو ضرورت ہی پوری نہیں ہو رہی تو بھی کلام بیکار ہوا، دوسرے کو تو کوئی فائدہ نہ ہوا اس کلام کے سننے کا، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو متکلم یا مخاطب یا مخبر جب بھی کسی کے سامنے کوئی خبر لاتا ہے اس کا مقصد مخاطب کو اس خبر کا فائدہ دینا ہوتا ہے، تو مناسب یہ ہے کہ وہ ضرورت کے بقدر ہی کلام لے کر آئے، نہ ضرورت سے زائد ہو اور نہ ضرورت سے کم۔ ضرورت سے زائد ہوا تو وہ لفظ کیا چلے جائیں گے؟ لغو چلے جائیں گے، بیکار چلے جائیں گے جو لفظ ضرورت سے زائد ہیں۔ اور اگر ضرورت سے کلام کم ہوا تو بھی کلام بیکار ہے، ضرورت ہی نہیں اس سے پوری ہو رہی تو بالکل بیکار کلام ہوا بھئی۔ تو یہی بات کر رہے ہیں ينبغي أن يقتصر من الكلام على قدر الحاجة مناسب یہ ہے کہ وہ مخبر جو ہے اقتصار کرے بقدر ضرورت کلام پر حذرا من اللغو، لغو کا معنی ہے بیکار، حذرا کا معنی ہے بچنا، یہ مفعول لہ واقع ہو رہا ہے حذراً بھئی، مفعول لہ؟ وہ مصدر جو ماقبل فعل کی علت بیان کرتا ہے ضربته تأديباً، میں نے اس کی پٹائی کی، کس لیے پٹائی کی؟ تأديباً ادب سکھانے کے لیے، تو دیکھو پٹائی کی علت کا پتہ چل گیا، تو یہ تأديباً ایسا مصدر ہے جو ماقبل فعل کی علت بیان کر رہا ہے اور اس کو مفعول لہ کہتے ہیں۔ تو یہاں پر بھی حذراً جو ہے مفعول لہ ہے، یہ علت بیان کر رہا ہے۔ بھئی بقدر ضرورت کلام پر اقتصار کیوں کرنا چاہیے؟ اس کی علت کیا ہے؟ وجہ کیا ہے؟ کیوں بقدر ضرورت کلام پر اقتصار کرے؟ کہتے ہیں حذرا من اللغو تاکہ لغو سے بچ جائے، لغو بیکار کلام لانے سے بچ جائے۔ تو کہتے ہیں ينبغي أن يقتصر من الكلام على قدر الحاجة حذرا من اللغو مناسب یہ ہے کہ وہ مخبر جو ہے اقتصار کرے بقدر ضرورت کلام پر حذرا من اللغو بیکار سے لغو سے بچنے کے لیے۔ فإن كان المخاطب خالي الذهن من الحكم، بھئی یہ بات میں پہلے بھی آپ کے سامنے بیان کر چکا ہوں کہ مخاطب جو ہے وہ آپ کے سامنے جس کے سامنے آپ کوئی کلام لاتے ہیں، کوئی کچھ کہنا اسے چاہتے ہیں اس کی تین حالتیں ہوں گی۔ یا تو وہ خالی ذہن ہوگا اس بات کے بارے میں، یا وہ اس بات کے بارے میں متردد ہوگا یعنی اسے شک ہوگا، یا وہ اس بات کا منکر ہوگا یعنی انکار کرنے والا ہوگا، تو اگر وہ مخاطب خالی ذہن ہے تو پھر اس کے سامنے تاکید نہ لائی جائے بھئی، کیونکہ اگر آپ کلام کے اندر تاکید لائیں گے تو وہ تاکید بیکار چلی جائے گی بھئی ضائع ہو جائے گی، آپ کا کلام لغو چیز پر مشتمل ہو جائے گا۔ چنانچہ آپ بھی ایسا کرتے ہیں اگرچہ آپ نے آج تک کبھی غور نہیں کیا، بھئی آپ کبھی کبھار قسم اٹھاتے ہیں یا نہیں اٹھاتے؟ قسم اٹھاتے ہیں، لیکن یہ ہر ہر کلام کے اندر قسم کیوں نہیں اٹھاتے آپ؟ کبھی کبھار کیوں اٹھاتے ہیں؟ وجہ یہ کہ آپ موقع محل کو دیکھتے ہیں، آپ دیکھتے ہیں ایک آدمی ایک بات نہیں مان رہا تو پھر آپ قسم اٹھاتے ہیں، دیکھا؟ منکر کے سامنے آپ قسم اٹھاتے ہیں، ہر ایک کے سامنے قسم نہیں، تو قسم سے کلام میں تاکید پیدا ہوتی ہے، تو لہٰذا آپ بھی موقع جہاں تاکید کا ہوتا ہے وہاں یہ قسم والی تاکید لاتے ہیں جہاں موقع نہیں ہوتا وہاں یہ تاکید نہیں لے کر آتے بھئی۔ تو لہٰذا خالی ذہن کے سامنے تاکید کلام کے اندر نہیں ہونی چاہیے بھئی خالی ذہن، انہوں نے کہا خالی ذہن ہو اگر مخاطب کیا ہو؟ خالی ذہن ہو، خالي الذهن نہ پڑھنا اس کو بھئی، یا پر ضمہ نہیں آتا عربی کلام کے اندر بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اعراب اعراب ضمہ اعرابی یا پر نہیں آتا بھئی، قاضی، خالی، دیکھو قاضی کی طرح ہے اور قاضی کا اعراب آپ نے کیا پڑھا؟ حالت رفعی اور جری میں ضمہ اور کسرہ تقدیری ہے، اور حالت نصبی میں فتحہ لفظی ہے۔ جاء القاضي، دیکھو قاضيٌ نہیں کہا بلکہ جاء القاضي۔ رأيت القاضيَ فتحہ آ رہا ہے۔ مررت بالقاضي، دیکھو بالقاضيِ یا کے نیچے کسرہ نہیں بھئی، تو ضمہ بھی تقدیری اور کسرہ بھی تقدیری اور فتحہ لفظی ہے۔ تو یہ خالِيَ کا لفظ بھی اسی کی طرح ہے، اس پر بھی اور یہاں چونکہ یہ کانَ کی خبر بن رہا ہے اس لیے میں نے خالِيَ پڑھا بھئی، کانَ کی خبر منصوب ہوتی ہے۔ تو انہوں نے کہا مخاطب خالی ذہن ہو بھئی، مخاطب کیا ہو؟ خالی ذہن ہو۔ بھئی خالی ذہن ہونے کا یہ معنی نہیں کہ اس کے ذہن میں کچھ بھی نہ ہو، ذہن بالکل ہر چیز سے خالی ہو۔ بلکہ مراد یہ ہے جو بات آپ کے اس کے سامنے کر رہے ہیں، اس سے اس کا ذہن خالی ہو بھئی۔ یعنی اس بات کے بارے میں نہ اس کے ذہن میں شک ہو اور نہ انکار ہو۔ جو بات آپ اس کے آپ نے اسے آ کر مثلاً آپ نے کیا کہنا ہے مخاطب کو؟ کہ زید آ گیا ہے۔ تو یہ زید کے آنے کے بارے میں اس کا ذہن خالی ہو گا، یا اس کے ذہن میں شک ہو گا، یا اس کے ذہن میں انکار ہو گا۔ اگر وہ اس کے ذہن میں تردد بھی نہیں اور انکار بھی نہیں تو کیا کہیں گے؟ وہ خالی ذہن ہے، لہٰذا اب تاکید نہ لے کر آئیں بھئی، یہاں تاکید لانا بیکار ہو گا۔ چنانچہ اگر آپ نے اس کے سامنے کہہ بھی دیا واللہ زید آ گیا ہے، وہ فوراً کہے گا بھئی قسم اٹھانے کی کیا ضرورت ہے؟ تاکیدات لانے کی کیا ضرورت ہے؟ میں نے کب اس بات کا انکار کیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو مخاطب یا تو وہ خالی ذہن، جو بات آپ اس کے سامنے کرنا چاہتے ہیں اس بات سے اس کا ذہن خالی ہو گا، یا اس بات کے بارے میں اس کے ذہن میں تردد ہو گا، یا اس بات کے بارے میں اس کے ذہن میں انکار۔ تو مخاطب تین احوال میں سے کوئی ایک حال اس کا ضرور ہو گا، یا وہ اس بات کے بارے میں خالی ذہن ہو گا، یا کیا ہو گا؟ شک ہو گا یعنی متردد ہو گا اس بارے میں، یا کیا ہو گا؟ منکر ہو گا، اس بات کا پہلے بھی یہ خبر اس کو ملی ہے لیکن وہ اس کا انکار کر رہا ہے، اس کو تسلیم نہیں کر رہا بھئی۔ تو اگر مخاطب خالی ذہن ہو تو اس کے سامنے تاکیدات نہ لائیں بھئی، اگر تاکیدات لائیں گے تو یہ آپ بلا وجہ زائد چیز کلام کے اندر لے آئے اور یہ آپ کی تاکیدات لغو اور بیکار چلی جائیں گی اور آپ کا کلام بلاغت سے خارج ہو جائے گا۔ اب آپ کا کلام بلیغ رہا ہی نہیں، بلاغت سے خارج ہو گیا کیونکہ موقع ہی نہیں تھا تاکید لانے کا پھر آپ کیوں تاکید لے کر آئے؟ بلاغت تو کس چیز کا نام تھا؟ موقع محل کے مطابق کلام کرنا، تو آپ تاکید لے آئے تو یہ تو مقام ہی نہیں تھا تاکید والا، تو آپ نے موقع محل کے مطابق کلام نہیں کیا تو آپ کا کلام بلیغ بھی نہ رہا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو معلوم ہوا خالی ذہن کے سامنے تاکید نہیں لائیں گے، اور اگر مخاطب متردد ہے اس کو اس بات کے بارے میں شک ہے کہ پتہ نہیں زید آیا ہے یا زید نہیں آیا، تو اب بہتر ہے اس کے سامنے ایک تاکید لے آئیں بھئی۔ تو متردد کے سامنے ایک تاکید کا لانا بہتر ہے بھئی، اور اگر انکار کرنے والا ہے پھر تاکید کا لانا واجب ہے۔ مثلاً مخاطب کو یہ بات پہلے بھی پہنچی کسی نے بتایا اس کو کہ زید آ گیا ہے، وہ کہتا ہے نہیں یہ ہو ہی نہیں سکتا زید آ جائے، وہ اس بات کو تسلیم ہی نہیں کر رہا، اب آپ اس کے سامنے بغیر تاکید کے کلام کریں اور یوں کہیں جاء زيدٌ، تو یہ کلام آپ کا بالکل لغو ہے بیکار ہے بھئی کیونکہ موقع محل کے مطابق نہیں، موقع محل تو کیا ہے؟ وہ منکر ہے، منکر کے سامنے کیسا کلام ہونا چاہیے؟ تاکید۔ بھئی وہ انکار کر رہا ہے اور پھر آپ کہہ رہے ہیں جاء زيدٌ، بھئی اسی جاء زيدٌ کا تو وہ پہلے بھی انکار کر رہا تھا، تو کوئی فائدہ ہوا آپ کا اس کے سامنے جاء زيدٌ کہنے کا؟ کوئی فائدہ نہیں، لہٰذا اس کے سامنے اب تاکید کے ساتھ کلام لاؤ اور کہو إن زيدا جاء۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یا قائمٌ کی بنا لیں إن زيدا قائمٌ۔ اور پھر جتنا انکار ہو گا اسی کے بقدر تاکیدات لے کر آئیں گے بھئی، اگر انکار ضعیف ہے تھوڑا سا انکار ہے تو تاکیدات بھی تھوڑی سی ایک تاکید لے آؤ، ایک تاکید کا لانا کافی ہے اور اگر انکار قوی ہے بھئی تو پھر تاکید ذرا بڑھا دیں اور یوں کہیں إن زيدا لقائمٌ بھئی، اور اگر انکار اشد ہے خوب سخت انکار کر رہا ہے تو پھر اور تاکیدات لے آؤ اور کیا کہو واللہ إن زيدا لقائمٌ بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی یہی بات اب بیان کر رہے ہیں دیکھیے کتاب پر۔ کہتے ہیں فإن كان المخاطب خالي الذهن من الحكم، پس اگر مخاطب جو ہے وہ خالی ذہن ہو یعنی اس کا ذہن خالی ہو من الحكم، دیکھا من الحكم اس حکم سے، اس بات سے جو اس کے سامنے پیش کی جا رہی ہے، تو مخاطب اگر اس کا ذہن اس بات سے خالی ہو القى إليه الخبر، تو لائی جائے گی لائی جائے اس کے سامنے وہ خبر مجرداً عن التأكيد، اس حال میں کہ وہ خبر تاکید سے خالی ہو، تو لائی جائے اس کے سامنے وہ خبر اس حال میں کہ وہ خبر تاکید سے خالی ہو نحو أخوك قادمٌ، آپ ایک شخص کو بتلانا چاہتے ہیں اس کا بھئی آ گیا ہے اور وہ خالی ذہن ہے یعنی اس کے ذہن میں اس کے بارے میں اپنے بھئی کے آنے کے بارے میں نہ اس کے ذہن میں تردد ہے اور نہ انکار ہے، تو وہ خالی ذہن ہوا، اب اس کے سامنے یہ جملہ کیسے کہیں گے؟ أخوك قادمٌ۔ قدوم کا معنی ہوتا ہے آنا، آنا۔ تو أخوك قادمٌ آپ کا بھئی آنے والا ہے، یا یوں کہیں ترجمہ کر لیں آپ کا بھئی آ رہا ہے، أخوك قادمٌ آپ کا بھئی آ رہا ہے۔ بھئی میں نے عبارت پڑھی القى إليه الخبر، اگر مخاطب خالی ذہن ہو تو اس کے سامنے خبر لائی جائے، یوں ترجمہ کر لیں یا اس کے سامنے خبر پیش کی جائے مجرداً عن التأكيد اس حال میں کہ وہ خبر کیا ہو؟ تاکید سے خالی ہو، تو چاہیں تو اس کو القى فعلِ مجہول پڑھیں اور الخبر پھر اس کا نائب فاعل ہو جائے گا، کیا پیش کی جائے؟ وہ خبر پیش کی جائے اس کے سامنے۔ اور چاہیں تو آپ اس کو معروف کا صیغہ پڑھ لیں ألقى إليه ألقى، اور اس صورت میں الخبرَ اس کو منصوب پڑھیں یہ مفعول بنے گا ألقى کے لیے کہ ألقى، اور ألقى کے اندر ضمیر ہو گی جو لوٹ جائے گی مخبر کو، کس کو لوٹے گی؟ تو پھر ترجمہ کیسے ہو گا؟ ألقى إليه الخبرَ وہ مخبر لائے اس کے سامنے وہ خبر مجرداً عن التأكيد اس حال میں کہ وہ خبر کیا ہو؟ تاکید سے خالی ہو، تو دونوں طرح پڑھ سکتے ہیں آپ جیسے پڑھنا چاہیں اس کو بھئی۔ ألقى إليه الخبرَ یا القى إليه الخبرُ۔ وإن كان متردداً فيه، اور اگر وہ مخاطب جو ہے وہ اس خبر میں متردد ہے طالباً لمعرفته، طلب کرنے والا ہے اس کے جاننے کو۔ وإن كان متردداً فيه، اگر وہ مخاطب کیا ہے اس خبر کے بارے میں؟ متردد ہے یعنی اس کو اس خبر کے بارے بارے میں شک ہے، آگے کتاب میں طالباً لمعرفته یہ لفظ بھی بڑھا دیا، یہ کوئی قید نہیں ہے جس کے ذریعے کسی چیز سے احتراز کیا جا رہا ہے بلکہ یہ انسانی عادت ہے اور طبیعت ہے جب اس کو کسی بات کے بارے میں شک ہوتا ہے تو ذہن میں طلب پیدا ہوتی ہے کہ پتہ چلے بات کیا ہے، مثلاً آپ کے ذہن میں شک ہے کہ پتہ نہیں زید آیا ہے یا زید نہیں، آپ کو پتہ ہی نہیں ابھی تک کہ زید آیا ہے یا زید، تو آپ خود ہی دل میں طلب پیدا ہو گی کہ پتہ تو چلے پتہ کرتے ہیں بھئی کہ زید آیا ہے یا زید نہیں آیا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو جہاں تردد ہو آئے گا وہاں پر ذہن میں خود بخود طلب بھی آ جاتی ہے کہ بات کا پتہ چل جائے۔ تو کہتے ہیں وإن كان متردداً فيه طالباً لمعرفته، اور اگر وہ مخاطب اس خبر کے بارے میں اس حکم کے بارے میں متردد ہے طالباً لمعرفته طلب کرنے والا ہے اس کے جاننے کو حسن توكيده، تو بہتر ہے اچھی ہے توكيده اس خبر کی تاکید کہ اس کی تاکید لے آؤ نحو إن أخاك قادمٌ، بھئی پہلے کیا تھا؟ أخوك قادمٌ بغیر تاکید کے، أخوك مبتدا اور قادمٌ اس کے خبر، اب إن لے آئے إن أخاك قادمٌ، إن نے کیا کیا؟ أخوك أخو اسمائے ستہ مکبرہ میں سے ہے، رفع کس کے ساتھ تھا؟ واؤ کے ساتھ، اب إن آیا تو نصب آئے گا، نصب کس کے ساتھ؟ الف کے ساتھ، إن أخاك قادمٌ بے شک آپ کا بھئی آ رہا ہے۔ تو اب اس کے سامنے تاکید کا لانا متردد کے سامنے تاکید کا لانا اچھا ہے، اچھا ہے، بہتر ہے۔ بھئی اچھا کہا بہتر کہا اگرچہ یہ بھی ضروری ہے۔ علمِ بلاغت کے اعتبار سے یہ ضروری ہی ہے کہ کیا کرنا چاہیے آپ کو؟ متردد کے سامنے ایک تاکید لانی چاہیے، لیکن اس کو اچھے کے ساتھ تعبیر کیا واجب نہیں کہا، وجہ اس کی یہ کہ اگر آپ تاکید نہ بھی لائیں متردد ہے اور اس کے سامنے آپ اسے کہتے ہیں أخوك قادمٌ، تو بھی اگرچہ آپ نے اچھا عمل نہیں کیا لیکن آپ کا کلام بلاغت سے خارج ابھی بھی نہیں، کلام کو پھر بھی کیا کہیں گے؟ بلیغ کہیں گے لیکن بہتر کیا تھا کیا کرنا چاہیے تھا آپ کو؟ ہاں تو اسی لیے یہاں واجب نہیں کہا حسن کہا اس کو کہ اگر تاکید لے آئے تو اچھی بات ہے۔ وإن كان منكراً، اور اگر وہ مخاطب اس حکم کا منکر ہے وجب توكيده بمؤكدٍ أو مؤكدين أو أكثر حسب درجة الإنكار، تو واجب ہے توكيده اس خبر کی تاکید لانا بمؤكدٍ ایک مؤکِد یعنی ایک تاکید کے ساتھ اس کو مؤکد کرنا أو مؤكدين یا کتنی تاکیدیں لانا؟ دو تاکیدیں أو أكثر یا دو سے زیادہ حسب درجة الإنكار انکار کے درجے کے بقدر، یعنی جتنا انکار ہو اسی کے بقدر تاکیدات لے آؤ، اگر تھوڑا انکار ہے تو ایک تاکید، متوسط درجے کا انکار ہے دو تاکیدیں اور اگر اس سے بھی زیادہ انکار ہے تو اور بھی تاکیدات لے آؤ نحو إن أخاك قادمٌ، إن أخاك قادمٌ دیکھیے انکار تھوڑا ہے تو إن کے ساتھ ایک تاکید لے آئے إن أخاك قادمٌ أو إنه لقادمٌ، إنه کی ہا ضمیر أخاك کو راجع ہے بھئی، تو اس کی جگہ ذرا أخاك اٹھا کر لے آئیں إن أخاك لقادمٌ أو والله إنه لقادمٌ، یہاں بھی ہا ضمیر کس کو راجع؟ أخاك کو، تو لہٰذا یہاں پر بھی ذرا اس کو اٹھا کر لے آئیں والله إن أخاك لقادمٌ، تو دیکھو تین قسم کے جملے ذکر کر دیے إن أخاك قادمٌ، إن أخاك لقادمٌ اور والله إن أخاك لقادمٌ، تو یہ انکار کے درجے کے بقدر تاکیدات لے کر آئیں گے آپ کلام کے اندر بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی اچھی طرح؟ تو خلاصہ کلام کیا ہوا؟ کہ خالی ذہن کے سامنے تاکید نہ لائی جائے، متردد کے سامنے ایک تاکید کا لانا بہتر ہے اور منکر کے سامنے تاکید کا لانا واجب ہے بھئی، تو اس اعتبار سے کلام گویا تین قسم کا ہو گیا، ایک وہ کلام جو خالی ذہن کے سامنے کیا جائے، ایک وہ کلام جو متردد کے سامنے کیا جائے اور ایک وہ کلام جو کس کے سامنے کیا جائے؟ منکر کے سامنے کیا جائے، تو تین قسم کے کلام ہوئے، تو ان کے تینوں کا الگ الگ نام ہے، وہ کلام جو خالی ذہن کے سامنے کیا جائے اسے کہتے ہیں ابتدائی، اسے کیا کہتے ہیں؟ کلامِ ابتدائی، اور وہ کلام جو متردد کے سامنے کیا جائے اسے کہتے ہیں کلامِ طلبی، اور وہ کلام جو منکر کے سامنے کیا جائے اسے کیا کہتے ہیں کلامِ انکاری، کتنی قسمیں ہو گئیں؟ تین، اور ان کے نام کیا ہیں؟ خالی ذہن کے سامنے جو کلام ہو اسے کیا کہتے ہیں؟ ابتدائی، جو متردد کے سامنے ہو اسے طلبی، اور جو منکر کے سامنے ہو انکاری، نام سے بھی پتہ چل رہا ہے بھئی نام سے بھی، ابتدائی، ابتدائی کیوں کہتے ہیں؟ ابتداء شروع کو کہتے ہیں نا، تو ابتدائی کلام ہے یعنی اس کلام سے پہلے تردد اور انکار نہیں ہے، اس کلام سے پہلے تردد اور انکار نہیں ہے، کلامِ طلبی نام سے ہی پتہ چل رہا ہے کہ اس کلام سے پہلے کیا ہے؟ طلب ہے، اور طلب کہاں آتی ہے؟ جہاں شک ہوتا ہے، طلب وہاں آتی ہے جہاں شک ہو۔ اور تیسرے کلام کا نام ہے کلامِ انکاری، کیوں اسے کلامِ انکاری کہتے ہیں؟ کیونکہ اس سے پہلے کیا ہے؟ انکار ہے، اس سے پہلے انکار ہے، مخاطب کا انکار موجود ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ جو مخاطب کا متردد ہونا ہے اور اس کا منکر ہونا ہے اس کا جس طرح بھی آپ کو پتہ چل جائے، بعض اوقات وہ بعض اوقات مخاطب اپنی زبان سے کہہ دے گا کہ مجھے اس بارے میں شک ہے یا میں اس بات کو تسلیم نہیں کرتا، انکار لفظوں میں کہہ دے گا، بعض اوقات لفظوں سے نہ کہے اس کی حالت آپ کو بتلا دے گی کہ اس کو اس بات کے بارے میں شک ہے یا وہ اس بات کا انکار کر رہا ہے، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں فالخبر بالنسبة لخلوه من التوكيد واشتماله عليه، پس خبر جو ہے ترجمعے پہ نظر رکھنا بھئی فالخبر بالنسبة لخلوه من التوكيد، پس خبر جو ہے تاکید سے خالی ہونے کی نسبت سے، ترجمہ آخر سے میں نے کیا۔ پس خبر جو ہے بالنسبة لخلوه من التوكيد تاکید سے خالی ہونے کی نسبت سے واشتماله عليه، اور تاکید پر مشتمل ہونے کی نسبت سے ثلاثة أضربٍ، کتنی قسم پر ہے؟ تین قسم پر ہے، تو واشتماله یہ ہا ضمیر کس کو لوٹ رہی ہے؟ خبر، خبر کو۔ عليه یہ ہا ضمیر تاکید توکید کو لوٹ رہی ہے توکید یعنی وہی تاکید بھئی، تو خبر جو ہے تاکید سے خالی ہونے اور تاکید پر مشتمل ہونے کی نسبت سے ثلاثة أضربٍ تین قسم پر ہے كما رأيت جیسے آپ نے دیکھا بھئی، ويسمى الضرب الأول ابتدائياً، اور پہلی قسم کو جو ہے وہ ابتدائی کہتے ہیں خبر کی والثاني طلبياً، اور دوسری قسم کو طلبی کہتے ہیں والثالث إنكارياً، اور تیسری قسم کو انکاری کہتے ہیں۔ ويكون التوكيد بإن وأن ولام الابتداء وأحرف التنبيه، اچھا اب یہاں سے آپ کو یہ بتلا رہے ہیں کہ کن کن چیزوں کے ذریعے خبر میں تاکید لائی جا سکتی ہے۔ کن کن چیزوں کے ذریعے خبر میں تاکید لائی جاتی ہے بھئی، علمِ معانی پڑھ رہے ہیں علمِ معانی کے ذریعے کس چیز کا پتہ چلتا ہے؟ کہ لفظ کو مقتضائے حال کے مطابق کیسے کیا جائے، تو اب آپ کے سامنے بات آئی منکر کی اور متردد کی اور آپ نے کیا پڑھا؟ متردد کے سامنے تاکید کا لانا اچھا ہے اور منکر کے سامنے تاکید کا لانا واجب ہے، اب یہ تاکید لائیں گے کیسے؟ وہ اصل مقصد جو تھا وہ بتانے کا وہ اب آیا بھئی کہ تاکید کیا کریں گے؟ ہاں تاکید کیسے لے کر آئیں گے؟ کہ آپ کو لفظ اب منکر کے سامنے کلام کرنے لگے ہو تو یہ جو ہم آگے تاکیدات ذکر کر رہے ہیں ان میں سے کوئی ایک استعمال کر لینا آپ کا کلام کیا ہو جائے گا؟ مقتضائے حال کے مطابق ہو جائے گا، بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو کہتے ہیں ويكون التوكيد بإن وأن، اور تاکید جو ہے وہ إنّ کے ذریعے ہو گی اور أنّ کے ذریعے، إنّ کے ذریعے بھئی آپ جانتے ہیں إنّ کیا کرتا ہے؟ کلام میں تاکید پیدا کرتا ہے، زيدٌ قائمٌ زید کھڑا ہے، اسی پر اگر إنّ لے آئیں کیسے پڑھیں گے؟ إن زيدا قائمٌ یقیناً زید کھڑا ہے، یا یوں کہیں بے شک زید کھڑا ہے، تو دیکھیے کلام میں تاکید آ گئی، تو اس إنّ سے تاکید آتی ہے کلام میں، وأنّ اور أنّ ہے، بھئی انہوں نے أنّ کو ذکر کیا لیکن اکثر علماء وہ انّ کو یہاں ذکر نہیں کرتے۔ وجہ یہ کہ یہاں بات چل رہی ہے خبر کی خبر، اور خبر سے کیا مراد ہے؟ میں نے کیا بتلایا شروع میں؟ جملہ خبریہ مراد ہے وہ مبتدا کی خبر مراد نہیں ہے بلکہ جملہ خبریہ۔ تو یہاں وہ تاکیدات بتانی چاہئیں جو پورے جملے کے اندر تاکید پیدا کریں۔ پورے جملے میں کیا پیدا کریں؟ تاکید۔ اور یہ انّ، یہ انّ تو پورے جملے پر جب داخل ہوتا ہے اس کو مفرد کے حکم میں کر دیتا ہے اس کو جملہ رہنے ہی نہیں دیتا بھئی۔ انّ کیا کرتا ہے؟ جب کسی جملے پر داخل ہوتا ہے اس کو جملہ رہنے ہی نہیں دیتا بلکہ کس حکم میں کر دیتا ہے؟ مفرد۔ اس نے تو انّ نے تو اس کو مفرد کے حکم میں کر دیا، اس نے تو اس کو جملہ رہنے ہی نہیں دیا تاکید کا پیدا کرنا تو بعد کی بات ہے پہلے جملہ تو رہنا چاہیے، اس کے بعد دیکھیں تاکید ہے یا تاکید نہیں لیکن انّ نے تو کیا کیا؟ جملے کو ہی اٹھا کر کیا بنا دیا؟ مفرد بنا دیا تو یہ تو جملہ ہی نہ رہا اور ہماری بحث تو جملے کے اندر چل رہی ہے بھئی۔ انّ مفرد کے حکم میں کس طرح کرتا ہے؟ آپ نے نحو میں پڑھا ہوگا، پھر میں آپ کے سامنے دہرا دیتا ہوں تاکہ ذہن میں بات تازہ ہو جائے بھئی۔ بھئی دیکھیے، میں نے ابھی کہا: زَیْدٌ قَائِمٌ، ترجمہ کیا کیا آپ نے؟ زید کھڑا ہے۔ اسی پر پہلے ذرا انَّ لے آؤ: اِنَّ زَیْدًا قَائِمٌ، کیا ترجمہ کیا؟ بےشک زید کھڑا ہے یا یوں ترجمہ کر لیں، یقیناً زید کھڑا ہے۔ دیکھو اب بھی جملہ ہے بات پوری ہے۔ لیکن اسی پر اگر آپ انَّ لے آئیں: اَنَّ زَیْدًا قَائِمٌ، آپ سے کوئی پوچھے اس کا ترجمہ کریں تو اس کا ترجمہ کریں گے: زید کا کھڑا ہونا۔ اَنَّ زَیْدًا قَائِمٌ، زید کا کھڑا ہونا۔ یہ بات پوری ہے یا ادھوری ہے؟ جس کے سامنے آپ یوں کہیں: زید کا کھڑا ہونا، وہ کہے گا بھئی کیا ہوا بات تو پوری کریں آپ بات کیوں نہیں پوری کر رہے؟ کہے گا یا نہیں کہے گا؟ زید کا کھڑا ہونا۔ یعنی قیام زید، اس کے سامنے گویا آپ نے کیا کہا؟ قِیَامُ زَیْدٍ، زید کا قیام، وہ کہے گا بھئی بات تو پوری کریں زید کے قیام کو کیا ہوا؟ اچھا ہے، برا ہے، کیا ہے بات؟ تو وہ بات پوری نہیں بھئی۔ تو یہ انّ نے کیا کیا؟ اس جملے کو کس کے حکم میں کر دیا؟ اب اس کا جملے والا اگر کسی نے ترجمہ کیا تو وہ غلط کر رہا ہے، جملے والا ترجمہ کر ہی نہیں سکتے کیونکہ جملہ یہ رہا ہی نہیں، انّ نے اس کو کیا بنا دیا؟ مفرد۔ اچھا طریقہ کیا ہے؟ بھئی طریقہ بڑا آسان ہے۔ کہ خبر کا مصدر بناؤ، خبر کا۔ زَیْدٌ قَائِمٌ، اس پر کیا آیا تھا؟ انّ، اَنَّ زَیْدًا قَائِمٌ، خبر کیا ہے انّ کی؟ قَائِمٌ، اس قَائِمٌ کا مصدر بناؤ: قیام۔ اس قیام کی اضافت کر دو انّ کے اسم کی طرف: قِیَامُ زَیْدٍ، تو اَنَّ زَیْدًا قَائِمٌ اس کا بعینہٖ ترجمہ وہی ہے جو قِیَامُ زَیْدٍ کا ہے۔ اَنَّ زَیْدًا قَائِمٌ اور قِیَامُ زَیْدٍ۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ دوسرے لفظوں میں وہ جو آپ نے پڑھا تھا: خبر جس حکم پر مشتمل ہوتی ہے، جو حکم ہوتا ہے اس کے اندر، حکم مصدر بناتے تھے یا نہیں ہم بھئی؟ مصدر بناتے تھے اگر آپ کے ذہن میں ہو میں نے بتلایا تھا طریقہ بھئی۔ مثلاً بھئی، میں نے آپ سے کہا: زید آ گیا ہے۔ آپ سے کوئی پوچھے: اس خبر میں کیا حکم بتلایا گیا؟ آپ کو کس بات کا پتہ چلا؟ آپ کیا کہیں گے؟ زید کا آنا، زید کے آنے کا پتہ چلا یعنی زید کا آنا۔ دیکھو زید کا آنا، مصدر ہے یا نہیں؟ اردو میں مصدر کے آخر میں 'نا' آتا ہے: کھانا، پینا، سونا، جاگنا۔ تو یہاں بھی آپ نے کیا کہا؟ زید کا آنا، دیکھا؟ یہ یہ مصدر بنا لو، یہ انّ کام کرتا ہے کہ وہ مفرد کے حکم، زید کا آنا، اب ذرا اس کو عربی میں لے جائیں۔ زید کا آنا، قُدُوْمُ زَیْدٍ یا مَجِیْئَةُ زَیْدٍ، تو مَجِیْئَةُ زَیْدٍ پورا جملہ ہے یا نا مکمل ہے بھئی؟ نا، جملے کا ایک جز تو ہو سکتا ہے، یہ پورا جملہ یہ ہے ہی نہیں۔ اسی طرح دیکھو کوئی بھی آپ مصدر بنا سکتے ہیں۔ مثلاً کوئی عربی میں جملہ تھا اور مثلاً وہ گزشتہ مثال کر لیں، آپ کے ساتھی نے آپ سے آ کر کہا کہ اگلے ہفتے سے ۱۰ دن کی چھٹی ہو رہی ہے، آپ کو کس بات کا پتہ چلا؟ پورے جملے کا بنائیں ذرا مصدر بنائیں بھئی: اگلے ہفتے سے ۱۰ دن کی چھٹیوں کے ہونے کا، تو اگلے ہفتے سے ۱۰ دن کی چھٹیوں کا ہونا، دیکھو مصدر ہے مصدر۔ انّ بھی بالکل اسی طرح کرتا ہے، وہ پورے جملے کو اٹھا کر کیا کر دیتا ہے؟ طریقہ سمجھ میں آیا بھئی؟ اردو کے اندر آپ آسانی سے کر سکتے ہیں کہ اس کا مصدر بنا لیا جائے بھئی، عربی میں بھی میں نے طریقہ سکھا دیا کہ خبر کا کیا بنا لو؟ مصدر، تو خبر جو انّ کی خبر ہے اس کا مصدر بناؤ اور اس کو انّ کے اسم کی طرف اس کی اضافت کر دو، جیسے مثال میں نے ذکر کر دی: اَنَّ زَیْدًا قَائِمٌ، تو کیا کہیں گے؟ قِیَامُ زَیْدٍ کے معنیٰ میں ہے یہ بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں ہم وہ تاکیدات پڑھ رہے ہیں جو کلام پورے جملے کے اندر تاکید پیدا کریں، تو یہاں انّ کو ذکر نہیں ہونا چاہیے بھئی کیونکہ انّ تو کیا کرتا ہے؟ جملے کو جملہ رہنے ہی نہیں دیتا بلکہ اس کو کس حکم میں کر دیتا ہے؟ مفرد کے۔ وَ لَامِ الْاِبْتِدَاءِ، اور لامِ ابتداء بھئی، یہ جو ابھی آپ نے اوپر لام پڑھا بھئی: وَ اِنَّہٗ لَقَادِمٌ، یہ جو لام ہے، یہ جو جملے میں تاکید پیدا کرتا ہے اس کو لامِ ابتداء کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ لامِ ابتداء، یہ بھی تاکید پیدا کرتا ہے جملے میں۔ وَ اَحْرُفِ التَّنْبِیْہِ، اور تنبیہ کے جو حروف ہیں بھئی، تنبیہ بھئی حروفِ تنبیہ آپ نے نحو میں پڑھے ہیں: اَلَا، اَمَا وغیرہ بھئی اور ھَا، بھئی ھٰذِہٖ، یہ ھٰذِہٖ میں ھَا کیا ہے؟ ھَا حرفِ تنبیہ ہے یا یٰا اَیُّھَا الرَّجُلُ، یہ ھَا کون سی ہے درمیان میں؟ یہ ھَا کیا ہے؟ تنبیہ کی ہے، تو یہ بھی کلام میں تاکید پیدا کرتے ہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ جملے پر جب یہ داخل ہوں گے جملے میں تاکید پیدا کریں گے۔ وَ الْقَسَمِ، اور قسم ہے تاکید کے، اس کے ذریعے بھی تاکید ہوتی ہے: وَ اللہِ اِنَّ زَیْدًا لَقَادِمٌ۔ وَ نُوْنَیِ التَّأْکِیْدِ، اصل میں تھا نُوْنَیْنِ التَّأْکِیْدِ، پھر نون اضافت کی وجہ سے گر گیا۔ تاکید کے جو دو نون ہیں، کون سے دو نون بھئی؟ نونِ خفیفہ اور نونِ ثقیلہ، وہ بھی تاکید پیدا کرتے ہیں جملے میں۔ وَ الْحُرُوْفِ الزَّائِدَةِ، اور جو حروفِ زائدہ ہیں بھئی حروفِ زائدہ، بھئی آپ نے پڑھا ہے بعض اوقات عبارت کے اندر کوئی حروف آتے ہیں، آپ کے اساتذہ آپ کو بتلاتے ہیں یا وہاں حاشیے وغیرہ میں یا بین السطور لکھا ہوتا ہے کہ یہ حرف کیا ہے؟ زائد ہے، زائد ہے بھئی۔ تو یاد رکھیے یہ جو حروفِ زائدہ ہوتے ہیں یہ بالکل بیکار نہیں ہوتے بھئی۔ یہ حروفِ زائدہ یہ بیکار نہیں بلکہ یہ اس کلام میں، اس جملے میں تاکید پیدا کرتے ہیں اور نیز اس کے اندر حسن پیدا کر دیتے ہیں۔ اس حرف کے بغیر بھی وہ جملہ پورا تھا، صحیح تھا لیکن اس حرف نے کیا کام کیا؟ ایک تو اس جملے میں تاکید پیدا کر دی، دوسرا اس کے حسن کو بڑھا دیا بھئی۔ پہلے اتنا حسن نہیں تھا کلام میں، اب حرفِ زائد کی وجہ سے کیا ہوا؟ کلام کا حسن، حسن بڑھ گیا۔ جیسے لَیْسَ کی خبر پر بَا داخل کرتے ہیں، آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں مثلاً: لَیْسَ الْحَجَرُ اِنْسَانًا، لَیْسَ الْحَجَرُ اِنْسَانًا، پتھر انسان نہیں ہے۔ تو لَیْسَ کی خبر اِنْسَانًا، دیکھو منصوب ہے۔ اسی اِنْسَانًا پر بَا بھی داخل کر سکتے ہیں: لَیْسَ الْحَجَرُ بَاِنْسَانٍ، یہ بَا زائدہ ہے۔ یہ بَا کیا ہے؟ اب آپ سے کوئی پوچھے کہ بھئی یہ تو بَا زائدہ ہے، اس کا کیا فائدہ ہوا؟ آپ جواب میں کیا کہیں گے؟ اس نے ایک تو کلام میں حسن پیدا کیا اور دوسرا کلام کے اندر تاکید پیدا کر دی بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ حروفِ زائدہ، پھر ان کو حروفِ زائدہ کیوں کہتے ہیں؟ تاکید پیدا کی یا نہیں کی اس نے؟ اور حسن بھی پیدا کیا، پھر زائد کیوں کہتے ہیں؟ بھئی زائد اس لیے کہتے ہیں کیونکہ یہ اپنے معنیٰ کا فائدہ نہیں دے رہا، ہونا تو یہ چاہیے ہر لفظ اپنے معنیٰ کا فائدہ دے اور بَا تاکید کے لیے وضع ہے؟ آپ نے کہیں پڑھا کلامِ عرب میں بھئی نحو وغیرہ کی کتابوں میں کہ بَا تاکید کے لیے وضع کی گئی ہے؟ بلکہ شرح مائۃ عامل وغیرہ میں آپ نے کیا پڑھا؟ بَا کس لیے ہے؟ الصاق کے لیے، دو چیزوں کو ملانے کے لیے: ضَرَبْتُ زَیْدًا بِالْعَصَا، میں نے زید کی پٹائی کی کس چیز کے ساتھ؟ لاٹھی کے ساتھ، یہ ضرب لاٹھی کے ساتھ ملی ہوئی ہے ویسے ضرب نہیں ہے بلکہ کون سی ضرب ہے؟ لاٹھی کے ساتھ، یہ لاٹھی کو ضرب کے ساتھ کس نے جوڑا؟ بَا نے، کس نے جوڑا؟ بَا، تو بَا دو چیزوں کو ملانے کا کام کرتی ہے۔ تو اس کے لیے وضع ہے لیکن لَیْسَ الْحَجَرُ بَاِنْسَانٍ، یہاں پر اب یہ جو بَا آئی، یہ الصاق کا فائدہ نہیں دے رہی، تاکید بھی پیدا کر رہی ہے، حسن بھی پیدا کر رہی ہے لیکن جو اس کا اپنا معنیٰ ہے الصاق والا، اس کا فائدہ دے رہی ہے؟ اس لیے اس کو ہم کہتے ہیں زائد کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ تو ہونا تو یہ چاہیے تھا یہ اپنے معنیٰ کا فائدہ دے لیکن یہ اپنے معنیٰ کا فائدہ نہیں دے رہی اس لیے کہتے ہیں یہ زائد ہے، چنانچہ اس کو اگر کلام سے نکال بھی دیں گے تو کلام پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، ہاں صرف یہ ہے تاکید اب اس میں نہ رہے گی، ہاں اس کا حسن کم ہو جائے گا لیکن بات اب بھی پوری ہے: لَیْسَ الْحَجَرُ اِنْسَانًا، بات ابھی بھی پوری ہے، صورت نا مکمل نہیں ہے بھئی۔ یہ معنیٰ ہے وَ الْحُرُوْفِ الزَّائِدَةِ، ان کے ذریعے بھی تاکید آتی ہے۔ وَ التَّقْرِیْرِ، تقریر اور تکرار دونوں لفظوں کا ایک معنیٰ ہے۔ تقریر اور تکرار، تقریر یعنی تکرار بھئی آپ نے پڑھا ہے نحو کے اندر، بعض اوقات ایک لفظ کا تکرار کرتے ہیں۔ تاکید پڑھی ہے یا نہیں بھئی نحو کے اندر؟ تاکید۔ آپ نے پڑھا ہے تاکید دو قسم پر ہے: ایک لفظی، ایک معنوی۔ لفظی اسی لفظ کو دوبارہ لے آئیں اور معنوی وہ آٹھ نو لفظوں کے ساتھ ہوتی ہے۔ جَاءَنِیْ زَیْدٌ زَیْدٌ۔ جَاءَنِیْ زَیْدٌ زَیْدٌ، دیکھو اسی زید کا تکرار کیا تو اول کو کہتے ہیں مؤکَّد، ثانی کو کہتے ہیں تاکید، تاکید کہتے ہیں۔ یا جَاءَنِی الْقَوْمُ کُلُّھُمْ، یہ کُلُّھُمْ بھی کیا ہے؟ قوم کے لیے تاکید ہے، اس نے کیا بتلایا؟ کہ سارے لوگ قوم والے آئے ہیں کوئی ایک بھی پیچھے نہیں رہا بھئی، تو یہ تاکیدِ معنوی ہے۔ وہی لفظ دوبارہ آئے تو اس کو کہتے ہیں تاکیدِ لفظی اور کُلٌّ، اَجْمَعُ، اَبْتَعُ وغیرہ کے ساتھ آئے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ تاکیدِ معنوی کہتے ہیں بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں وہ تقریر، یہ وہ تاکید مراد ہے لیکن یہ وہ تاکید نہیں بھئی۔ وہ تو صرف اس لفظ کے اندر تاکید پیدا کرتی ہے مسند یا مسند الیہ جو بھی جز ہوا: جَاءَنِیْ زَیْدٌ زَیْدٌ، کس میں؟ زیدِ ثانی نے پورے جملے میں تاکید پیدا کی یا اول والے زید میں تاکید پیدا کی؟ صرف لفظِ زید میں تاکید پیدا کی اس نے، ہم یہاں جو چیزیں جملے میں تاکید پیدا کرتی ہیں ان کی بات پڑھ رہے ہیں، تو یہاں تکرار سے مراد اس لفظ کا تکرار نہیں ہے وہ ایک جز کا، بلکہ پورے جملے کا تکرار ہو، مثلاً یوں کہے کوئی آپ سے: جَاءَ زَیْدٌ، جَاءَ زَیْدٌ، دیکھو پورا جملہ ہی دوبارہ اس نے دہرایا: جَاءَ زَیْدٌ، جَاءَ زَیْدٌ، یہ اس نے کیا فائدہ دیا؟ تاکید پیدا کر دی، جب اس نے پہلی مرتبہ کہا جَاءَ زَیْدٌ اس کے ذہن میں خیال آیا کہ زید تو بہت بڑا آدمی ہے، یہ ہو سکتا ہے یہ سننے والے کو یقین، یہ یقین ہی نہ کرے کہ زید آیا، کیا کرے؟ بھئی زید بڑا آدمی ہے وہ بتانا چاہتا ہے جَاءَنِیْ، جَاءَنِیْ بنائیں: جَاءَنِیْ زَیْدٌ، جَاءَنِیْ زَیْدٌ، اب وہ آپ یا یوں کہیں دوسری مثال بنائیں: جَاءَنِیْ اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ، جَاءَنِیْ اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ۔ اب وہ صرف یہ جَاءَنِیْ اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ کہے۔ میرے پاس کون تشریف لائے؟ امیر المؤمنین، تو ذہن میں خیال آیا کہ ہو سکتا ہے یہ سننے والا اس بات کو مانے ہی نہ، امیر المؤمنین تو بڑی عظیم شخصیت وہ کیسے میرے پاس تشریف لا سکتے ہیں؟ تو اس نے دوبارہ اسی جملے کو ذکر کیا تو اس کلام میں کیا پیدا ہو گئی؟ تاکید پیدا ہو گئی بھئی۔ تو لہٰذا تقریر سے مراد کیا ہے؟ وہی تکرار، اسی لفظ کو دوبارہ ذکر کرنا اور صرف وہ ایک جَاءَنِیْ زَیْدٌ زَیْدٌ، وہ ایک لفظ مراد ہے یا پورے جملے کا تکرار مراد ہے؟ ہم یہاں کس کی بات کر رہے ہیں؟ خبر، اور خبر کیا ہوتا ہے؟ خبر جملہ ہوتی ہے تو لہٰذا یہاں وہ پورے جملے کا تکرار مراد ہے۔ وَ قَدْ، اور کبھی کبھار تاکید کس کے ذریعے لاتے ہیں؟ قد کے ذریعے: یَضْرِبُ زَیْدٌ، زید کیا کر، زید پٹائی کرے گا اور قَدْ یَضْرِبُ زَیْدٌ، تحقیق زید پٹائی کرے گا بھئی، تو یہ تاکید۔ وَ اَمَّا الشَّرْطِیَّةِ، اور اسی طرح اَمَّا شرطیہ جو ہے وہ بھی تاکید پیدا کرتا ہے: اَمَّا زَیْدٌ فَـمُنْطَلِقٌ بھئی، اَمَّا زَیْدٌ فَـمُنْطَلِقٌ، تو یہ بھی تاکید پیدا کرتے ہیں۔ اسی طرح یاد رکھیے بھئی، جملہ اسمیہ اس میں بھی تاکید ہوتی ہے میں پہلے بیان کر چکا ہوں۔ قَامَ زَیْدٌ، اس میں تاکید نہیں لیکن زَیْدٌ قَائِمٌ میں تاکید ہے کیونکہ اسناد دو دفعہ آیا۔ زَیْدٌ مبتدا، قَائِمٌ اس کی خبر، اس قَائِمٌ کے اندر ھُوَ ضمیر ہے اور تو قَائِمٌ کا پہلے اسناد ہوا ھُوَ ضمیر کی طرف، پھر یہ اس کے ساتھ مل کر شبہ جملہ ہو کر پھر اس قَائِمٌ کا دوبارہ اسناد کس کی طرف ہوا؟ زَیْدٌ کی طرف ہوا، تو لہٰذا دو دفعہ اسناد آیا اور دو دفعہ اسناد آیا تو کیا آ گئی؟ تاکید آ گئی، تو جملہ اسمیہ میں بھی تاکید ہوتی ہے۔ اسی طرح کبھی فاعلِ معنوی کو مقدم کرتے ہیں جیسے جَاءَ زَیْدٌ، اس کے بجائے آپ یوں کہیں: زَیْدٌ جَاءَ، زَیْدٌ جَاءَ، تو اس سے بھی کیا آئے گی کلام میں؟ تاکید، وہی بات زَیْدٌ جَاءَ، دو دفعہ اسناد آیا، زَیْدٌ مبتدا، جَاءَ فعل، اس کے اندر ھُوَ ضمیر اس کا فاعل، فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر پھر یہ خبر ہوئی کس کے لیے؟ زید کے لیے، تو دو دفعہ اسناد آ گیا تو اس سے کیا آتی ہے کلام میں؟ تاکید، اسی طرح اِنَّمَا جو ہے اس کے ذریعے بھی کلام میں تاکید آتی ہے، اسی طرح ضمیرِ فصل بھئی، آپ نے پڑھا ہے کبھی مبتدا اور خبر دونوں معرفہ ہوں تو درمیان میں کیا لاتے ہیں؟ ضمیر کی صورت کا صیغہ لاتے ہیں جس کو فصل کہتے ہیں۔ دیکھو زَیْدُ نِالْقَائِمُ، اب بظاہر دیکھتے ہی یہ شبہ پڑتا ہے: زید بھی معرفہ، القائم بھی معرفہ، یہ شاید آپس میں موصوف صفت ہیں لیکن آپ تو بتلانا یہ چاہتے ہیں کہ یہ اس کی خبر ہے یعنی زید کھڑا ہے پورا جملہ ہے۔ تو درمیان میں پھر ھُوَ بڑھا دیے، بڑھا دیتے ہیں: زَیْدٌ ھُوَ الْقَائِمُ، اس ھُوَ نے بتلایا کہ القائم زید کی صفت نہیں ہے بلکہ یہ اس کی خبر ہے۔ کہ کیا ہے اس کی؟ خبر، تو یہ ضمیرِ فصل وغیرہ ان کے ذریعے بھی کلام میں تاکید پیدا ہوتی ہے بھئی۔ چلیے بس ھٰذَا ھُوَ الْمُرَادُ وَ اللہُ اَعْلَمُ بِحَقِیْقَةِ الْکَلَامِ۔