سبق نمبر۔۲۳ أو كلما وردت عكاظ قبيلة بعثوا إلي عريفهم يتوسم. والثانية موضوعة لمجرد ثبوت المسند للمسند إليه، نحو: الشمس مضيئة. گزشتہ سبق میں کلام شروع ہوا تھا خبر کے بارے میں۔ آپ نے پڑھا کہ خبر وہ یا تو جملہ فعلیہ ہوگی یا جملہ اسمیہ ہوگی۔ جملہ فعلیہ جو ہے وہ وضع ہے حدوث اور تجدد کے لیے۔ حدوث اور تجدد کا ایک ہی معنی ہے۔ حدوث اور تجدد کا معنی ہے ہونا، کسی چیز کا ہونا یعنی پہلے نہ ہو اور پھر ہو تو اس کو کہتے ہیں حدوث اور اسی کو کہتے ہیں تجدد بھئی۔ تو پہلا جملہ جو جملہ فعلیہ ہے وہ وضع ہے حدوث اور تجدد کے۔ یعنی حدوث اور تجدد کا فائدہ دیتا ہے اور کسی مخصوص زمانے کے اندر وہ حدوث ہوتا ہے، یا ماضی میں یا حال میں یا مستقبل میں۔ اور اختصار بھی ہوتا ہے، وہاں زمانے کے لیے کوئی الگ لفظ لانے کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ فعل کا صیغہ دیکھتے ہی زمانے کا پتہ چل جاتا ہے۔ تو جملہ فعلیہ جو ہے وہ وضع ہے حدوث کے لیے۔ اور فعل آپ نے پڑھا ہے دو قسم پر ہے: ایک فعل ماضی اور ایک فعل مضارع جو خبر میں آتے ہیں۔ تو ان دو میں سے اگر فعل، جملہ فعلیہ، فعل مضارع سے بن رہا ہو اس کے ساتھ پھر کبھی قرینہ بھی مل جاتا ہے تو وہ حدوث کے ساتھ ساتھ استمرار پر بھی دلالت کرتا ہے۔ حدوث کا کیا معنی تھا؟ ہونا۔ استمرار کا معنی؟ مسلسل ہونا، بار بار ہونا بھئی۔ اور جملہ اسمیہ جو ہے وہ وضع ہے ثبوت کے لیے۔ وہ اتنا بتاتا ہے کہ ایک چیز کے لیے دوسری چیز ثابت ہے یعنی مسند علیہ کے لیے مسند ثابت ہے بھئی۔ پہلے تھا یا پہلے نہیں تھا، یہ اس سے بحث وہ نہیں، اس کا پتہ اس سے نہیں چلتا۔ مثلاً آپ نے کہا: زید قائم، اس جملے سے صرف اتنا پتہ چلا کہ زید کے لیے قیام کا ثبوت ہے، زید کے لیے قیام کا ثبوت ہے۔ تو اس میں ہونا ہونا، یہ ذکر نہیں ہوتا۔ اور جملہ اسمیہ کے ساتھ کبھی قرینہ مل جائے تو پھر وہ دوام کا بھی فائدہ دیتا ہے کہ مسند جو ہے مسند علیہ کے لیے دائماً ثابت ہے، ہمیشہ ثابت ہے بھئی۔ جیسے اس کی مثال میں نے ذکر کی تھی، آپ کہتے ہیں: زید طویل القامة، زید لمبے قد والا ہے۔ اب یہ جملہ اسمیہ ہے اس نے ثبوت کا فائدہ دیا اور ساتھ ساتھ دوام کا بھی فائدہ دیا ایک قرینہ خارجی کی وجہ سے۔ اور وہ قرینہ خارجیہ کیا ہے؟ کہ لمبا قد جب کسی کا ہو تو وہ اس کے ساتھ دائماً رہتا ہے، اس سے جدا نہیں ہوتا۔ تو یہ تھا قرینہ خارجیہ، اس سے پتہ چلا کہ یہاں دوام بھی ہے دوام بھی ہے۔ اور یہ بھی میں نے بتایا تھا کہ استمرار اور دوام ایک دوسرے کی جگہ بھی بعض اوقات استعمال ہو جاتے ہیں۔ تو استمرار ہی کا لفظ دوام کے لیے بھی استعمال ہو جاتا ہے۔ پھر ان میں فرق یوں کرتے ہیں کہ وہ استمرار جو حدوث کے اندر تھا اس کو استمرار تجددی کہتے ہیں یعنی جملہ فعلیہ کے اندر جو استمرار آیا اس کو کیا کہتے ہیں؟ استمرار تجددی۔ اور جملہ اسمیہ کے اندر جو دوام تھا اس کے لیے استمرار کا لفظ استعمال کیا تو اس سے مراد ہوتا ہے استمرار ثبوتی، استمرار ثبوتی یعنی وہ دوام کے معنی میں ہے۔ تو اب مثال ہم کل پڑھ رہے تھے بھئی: أو كلما وردت عكاظ قبيلة. اور شعر کے اندر عکاظ لفظ آیا تھا، میں نے تفصیل بیان کر دی کہ یہ عربوں کے اندر سوق عکاظ جو ہے ایک بہت بڑا ان کا تجارتی بازار اور تجارتی میلہ لگتا تھا اور یہ اس میں عرب صرف تجارت وغیرہ نہیں کرتے تھے بلکہ اس میں ہر قسم کے لوگ جمع ہوتے اور اپنے اپنے فن کا مظاہرہ کرتے تھے۔ پہلوان بھی آتے وہ اپنے فن کا مظاہرہ کرتے، تلوار چلانے کے ماہر اپنے فن کا مظاہرہ کرتے، تیر انداز اپنے فن کا مظاہرہ کرتے، شاعر قوموں کے جمع ہوتے وہ اپنے اپنے اشعار پیش کرتے، اپنا کلام پیش کرتے بھئی، خطیب جمع ہوتے مختلف قوموں کے ان کے درمیان بھی مقابلے ہوتے کہ کون بڑا خطیب ہے، کون زیادہ فصیح و بلیغ ہے۔ نثر کے بھی معلوم و مقابلے ہوتے، نظم کے بھی مقابلے ہوتے، لیکن میں نے بتایا نظم کا چرچا زیادہ تھا، اس کی شہرت زیادہ تھی اور ویسے بھی جو اشعار ہیں، اشعار کے اندر جو بات کہی جائے وہ ذہن اس کی طرف جلدی متوجہ ہوتا ہے اور اس کو جلدی قبول کرتا ہے اور وہ انسان پر زیادہ اثر انداز ہوتی ہے۔ تو یہاں پر مختلف قسم کے شعراء، مختلف قبیلوں کے شعراء اپنا اپنا کلام پیش کرتے تھے اور ان سے اس کلام میں سے پھر ردی اشعار کو رد کر دیا جاتا، عمدہ اور اعلیٰ اشعار کو منتخب کیا جاتا تھا کہ اس شاعر کا کلام تو بڑا عمدہ اور اعلیٰ ہے۔ اور وہ سبعہ معلقات جو انشاء اللہ اگلے سال آپ پڑھیں گے، سات مشہور و معروف قصیدے عرب کے، عرب کی فصاحت و بلاغت کا جو شاہکار ہیں وہ بھی اسی بازار کے خیمے میں لٹکائے گئے تھے، یہی پر ان کو منتخب کیا گیا تھا اور ان کی فصاحت و بلاغت آج تک مسلم ہے۔ معلوم ہوا کہ ان کا انتخاب بھی، ان بازار والوں کا جو انتخاب بھی تھا وہ بڑا مستند تھا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو وہ انہوں نے لٹکا کر رکھے تھے کہ لوگ دیکھیں ہاں عرب کی فصاحت و بلاغت کو بھئی، اس قصیدے۔ اور اس بازار کے نگران اعلیٰ بنو تمیم والے تھے اور بنو تمیم والوں کی کے رئیس کی مجلس بڑی معزز و محترم ہوتی تھی اور وہ جو فیصلہ کر دیا کرتا تھا سب اس کو تسلیم کرتے تھے بھئی، سب اس کو تسلیم کرتے تھے۔ اور یہ بازار زیادہ شہرت اس کی اس لیے تھی کیونکہ یہ اشہر حرم میں منعقد ہوتا تھا تو لوگ بے فکر اور بے خوف ہو کر اس میں شرکت کرتے تھے، نہ راستے میں ڈاکوؤں کا خطرہ، نہ یہاں پر ڈاکوؤں کا خطرہ، تو اس کی بڑی شہرت تھی اور سارے عرب میں سب سے بڑا میلہ اور بازار ان کا یہ لگتا تھا اور تقریباً بیس دن تک یہ جاری رہتا تھا، ذوالقعدہ کے آغاز سے لے کر تقریباً بیس ذوالقعدہ تک بھئی، بیس ذوالقعدہ تک۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی جب ان کو نبوت عطا کی گئی، جب ان کو بھیجا گیا تو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی یہاں بعض اوقات دعوت و تبلیغ کے لیے، اسلام کا پیغام پہنچانے کے لیے تشریف لاتے تھے اور کے بعض نے لکھا کہ وہ جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم بطن نخلہ کے اندر جو قرآن کی تلاوت فرما رہے تھے اور کچھ جنات نے سنا تھا اور وہ ایمان لے آئے تھے، وہ واقعہ بھی سوق عکاظ سے واپسی پر پیش آیا تھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کہاں سے تشریف لا رہے تھے؟ سوق عکاظ سے تشریف لا رہے تھے بھئی۔ تو یہ بڑا مشہور و معروف بازار تھا ان کا اور میں نے بتایا تمام عرب والے اس میں آتے تھے کیونکہ کسی قسم کا خوف اور خطرہ نہیں ہوتا تھا اشہر حرم کی وجہ سے بھئی۔ تو یہ ایک شاعر دیکھیے، اب اسی عکاظ کا ذکر آیا شاعر کے شعر میں، تفصیل میں نے بیان کر دی۔ تو شاعر کہتا ہے: أو كلما وردت عكاظ قبيلة، أو كلما یہ ہمزہ ہے استفہام کے لیے، ہمزہ کس لیے ہے؟ استفہام، سوال پوچھنے کے لیے، واؤ عاطفہ ہے، واؤ عاطفہ ہے۔ اور معطوف علیہ محذوف ہے بھئی، اگلے جملے کا جس جملے پر عطف ہے وہ جملہ یہاں پر کیا ہے؟ محذوف ہے اور وہ پھر موقع و محل کے مطابق نکال لیتے ہیں، موقع کے جو مطابق مناسب بنتا ہو اس کے، جیسے یہ حاشیے میں انہوں نے آپ کے دیا ہوا ہے کہ یہ واؤ سے پہلے جملہ کیا مقدر ہے کہ معطوف علیہ أ حضرت العرب في عكاظ، ہمزہ تو یہی استفہام والا اور حضرت العرب في عكاظ، کیا آ گئے ہیں تمام عرب والے عکاظ کے اندر؟ شاعر کیا کہہ رہا ہے؟ کیا حاضر ہو گئے ہیں تمام عرب والے عکاظ مقام میں؟ و كلما وردت عكاظ قبيلة، اور جب بھی وردت، وردت کا معنی ہے آنا، قبيلة آگے اس کا فاعل ہے اور عکاظ اس جگہ کا نام، اور جب بھی آتا ہے عکاظ مقام پر کوئی قبیلہ، بعثوا وہ بھیجتے ہیں إلي میری طرف عريفهم اپنے سردار کو، عريف القوم بھئی، عريف القوم اس آدمی کو کہا جاتا تھا جو اس قوم اور اس قبیلے والوں کے امور کا نگران ہوتا تھا، ان کے تمام امور کا نگران ہوتا اور منتظم ہوتا تھا، تو یعنی سردار جو ان کا ہوتا تھا، جس جسے سب جانتے کہ یہ آدمی ہے فلاں قبیلے کا منتظم اعلیٰ بھئی۔ تو اس کو کیا کہتے تھے؟ عریف کہتے ہیں یعنی کسی قوم کا جو منتظم ہے اور نگران ہے یا یوں کہیں جو ان کا سردار ہے بھئی۔ تو بعثوا إلي عريفهم، تو وہ بھیجتے ہیں میری طرف اپنے سردار کو، يتوسم، توسم کہتے ہیں کسی چیز میں غور و فکر کر کے نشانیوں اور علامتوں کے ذریعے پہچاننا بھئی، کسی چیز میں غور و فکر کر کے نشانیوں کے ذریعے پہچاننا، یہ ہے توسم بھئی، توسم۔ تو شاعر کہتا ہے: بعثوا إلي عريفهم يتوسم، وہ بھیجتے ہیں میری طرف اپنے سردار کو يتوسم، وہ پہچاننے کی کوشش کرتا ہے یعنی چہروں میں غور و فکر کر کے پہچاننے کی کوشش کرتا ہے، چہروں میں غور و فکر کرتا ہے، چہروں میں غور و فکر کر کے پہچاننے کی کوشش کرتا ہے۔ اب دوبارہ ترجمہ سنیے: کیا عرب والے عکاظ مقام پر آ گئے؟ اور کیا جب بھی عکاظ مقام پر کوئی قبیلہ آتا ہے تو وہ اپنے سردار کو بھیجتے ہیں کہ وہ چہروں کے ذریعے پہچانے بھئی، کہ وہ توسم کرے؟ وہ چہروں میں غور و فکر کر کے، یہ سوال ہے نا، استفہام ہے شروع کے اندر، اور یہ استفہام استفہام تقریری ہے، استفہام تقریری۔ استفہام تقریری وہ ہوتا ہے جس کا جواب "ہاں" میں ہو بھئی، جواب کس میں ہو؟ کہ ہاں واقعی ایسا ہے۔ آپ بھی اس طرح کرتے ہیں اپنے عام بول چال کے اندر بھئی، بعض اوقات آپ سوال کرتے ہیں، مقصد دوسرے سے "ہاں" کہلوانا ہوتی ہے، اس بات کو پوچھنا نہیں ہوتا بلکہ دوسرے سے اقرار کروانا ہوتا ہے کہ واقعی ایسا ہے، واقعی کیا ہے؟ ایسا ہے بھئی۔ مثلاً آپ نے ایک ساتھی کی مدد کی ہے، آپ اب آپ اس کو کہتے ہیں کسی موقع پر: کیا میں نے آپ کی مدد کی ہے؟ کیا مقصد ہوتا ہے؟ اس سے پوچھنا مقصد ہوتا ہے یا اس سے اقرار کروانا مقصد ہوتا ہے؟ اقرار کروانا مقصد ہوتا ہے، تو آپ بھی اگر غور کریں اپنے کلام کے اندر مختلف مواقع پر کبھی سوال پوچھتے ہیں لیکن مقصد سوال پوچھنا نہیں ہوتا بلکہ مقصد دوسرے سے اقرار کروانا ہوتا ہے، تو یہاں پر بھی استفہام تقریری ہے، شاعر سوال نہیں پوچھ رہا بلکہ دوسروں سے کیا کر رہا ہے؟ اقرار کروانا چاہتا ہے کہ واقعی ایسا ہے کہ عرب والے سارے، سوال کیا تھا؟ کیا عرب والے سارے حاضر ہو گئے؟ یعنی اقرار کروا رہا ہے واقعی کیا ہے؟ سارے عرب والے حاضر ہو گئے ہیں۔ اور کیا جب بھی کوئی قبیلہ عکاظ مقام پر آتا ہے تو کیا وہ اپنے سردار کو بھیجتے ہیں کہ وہ چہروں کے اندر غور و فکر کرے؟ یعنی واقعی ایسا ہے، وہ بھیجتے ہیں اور وہ چہروں میں غور و فکر کرتا ہے بھئی۔ تو شاعر دراصل اپنی یہاں پر بہادری اور جرات کو بیان کر رہا ہے۔ میں نے بتلایا یہ سوق عکاظ جو منعقد ہوتا تھا، اشہر حرم میں ہوتا تھا اور اس کے اندر تمام لوگ بے خوف و خطر شریک ہوتے تھے اور ان مہینوں کی عرب اتنی حرمت اور ان کا اتنا احترام کرتے تھے حتیٰ کہ کسی کے سامنے اس کے باپ کا قاتل بھی آ جاتا تھا تو وہ اس کو ہاتھ نہیں لگاتا تھا ان مہینوں کے احترام کی وجہ سے، ان مہینوں۔ تو چنانچہ قاتل وغیرہ جو ہوتے وہ بھی ان میں شریک ہوتے تھے لیکن یہ ہے کہ وہ اپنے چہرے چھپائے رکھتے تھے تاکہ سارے مجرم نہ پہچان لیں، اپنے چہرے چھپائے، بھئی دیکھیے، ایک شخص ایک قبیلے کا ہے، ایک قبیلہ یہاں رہتا ہے مثلاً دوسرا قبیلہ کئی میل دور ان کی رہائش ہوگی، اب اس قبیلے والے اس قبیلے والے ہر ہر آدمی کو پہچانتے ہیں؟ نہیں، اپنے قبیلے والوں کو تو آدمی سب کو جانتا ہے، دوسرے قبیلے والے سب کو تو نہیں جانتا، ہاں دو چار ہوں گے اس قوم کے اندر جو ان میں سے کئیوں کو پہچانتے ہوں لیکن سارے تو نہیں جانتے۔ اب مثلاً اس قبیلے والا اس قبیلے والے کسی آدمی کو قتل کر دے، کسی کو قتل کر دے تو پتہ تو سب کو چل گیا، فلاں نام کا آدمی ہے اس نے قتل کیا ہے، لیکن کیا ان سب نے اس کی شکل دیکھی ہوئی ہے؟ نہیں، سب اس کو نہیں جانتے، وہ سامنے بھی کسی کے کہیں پر آئے گا وہ ضروری نہیں کہ دوسرا اس کو پہچان لے بھئی تو۔ تو قاتل اپنے چہرے چھپائے رکھتے تھے کہ اگر چہرے کھلے ہوں گے تو سارے مخالف قبیلے والے جن کا میں نے قتل کیا ہے وہ سارے میرے چہرے کو دیکھ لیں گے، ابھی تو مجھے کچھ نہیں کہیں گے کیونکہ حرمت والے مہینے ہیں لیکن بعد میں تو سب نے مجھے پہچان لیا ہوگا پھر تو میرے لیے خطرہ بڑھ جائے گا کہ سب سے بچتا پھروں بھئی، تو وہ کیا کرتے تھے اپنے چہروں کو چھپائے پھرتے تھے، تو مقصد یہ نہیں ہوتا تھا کہ اس وقت انہیں خوف ہوتا تھا، اس وقت تو کوئی خوف نہیں، لیکن مہینوں کے بعد بھی تو وقت آنے والا ہے، تو یہ نہ ہو پھر مجھے سارے پہچانیں اور پھر ہر جس کو جہاں جو کوئی مجھے پائے گا وہ تو یقیناً میرے قتل کی کوشش کرے گا۔ تو شاعر اپنی جرات اور بہادری بیان کر رہا ہے، جرات اور بہادری بیان کر رہا ہے کہ میں اتنا بہادر اور جری آدمی ہوں کہ ہر قبیلے والے آدمیوں کو میں نے قتل کیا ہوا ہے۔ سارے قبیلے جو ہیں ان سب میں میں نے کوئی نہ کوئی قتل کیا ہوا ہے، میں اتنی جرات والا ہوں، قتل تو قتل پر تو یہ لوگ فخر کیا کرتے تھے، اپنی جرات اور بہادری سمجھتے تھے، تو شاعر کہتا ہے: میں اتنی جرات والا ہوں کہ ہر قبیلے کے آدمیوں کو میں نے قتل کیا ہوا ہے اور اس وقت سوق عکاظ کے اندر قاتل تو چہرے چھپائے پھر رہے ہیں لیکن میری جرات کا یہ عالم ہے کہ میں نے اپنا چہرہ بھی نہیں چھپایا ہوا اور کھلے عام پھر رہا ہوں۔ چنانچہ جو بھی قبیلے والے آتے ہیں وہ اپنے سردار کو بھیجتے ہیں، وہ آ کر چہروں میں غور و فکر کرتا ہے، مجھے پہچاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ کون سا ہے وہ آدمی جس نے ہمارے آدمی کو قتل کیا تھا تا کہ پھر باقی سب کو بھی بتا دے کہ یہ ہے وہ آدمی اس کو پہچان لو اس پر پھر نظر رکھنا بعد میں بھئی۔ تو وہ ہر قبیلے والوں کا چونکہ میں نے قتل کیا ہوا ہے، لہٰذا ان کا ہر ایک کا سردار آ کر کیا کرتا ہے؟ میری تلاش میں رہتا ہے اور مجھے پہچاننے کی کوشش کرتا ہے اور چہروں کے اندر غور و فکر کرتا ہے کہ تاکہ پہچان لے مجھے بھئی، تو جس قاتل کو وہ پہچاننا چاہتے ہیں تو کیا ایک ہی چہرے پر غور و فکر کر کے وہ پہچان لیں گے یا سارے آدمیوں پہ غور کریں گے بھئی؟ سارے آدمیوں میں غور کریں گے بار بار تاکہ پہچان لیں کہ کون سا والا آدمی ہے جس نے ہمارے آدمی کو قتل کیا تھا بھئی۔ تو مقام استشہاد یہ يتوسم ہے، يتوسم فعل مضارع ہے بھئی، اور فعل مضارع جملہ فعلیہ بنتا ہے اس سے، اور جملہ فعلیہ جب فعل مضارع ہو تو اس کے اندر جب کبھی کوئی قرینہ ساتھ مل جائے تو وہ کس چیز پر دلالت کرتا ہے؟ استمرار پر دلالت کرتا ہے، تو یہ مقام استشہاد ہے، یہاں جو يتوسم آیا یہ استمرار پر دلالت کر رہا ہے بھئی، کس پر؟ استمرار پر دلالت کر رہا ہے، کیوں؟ ابھی تو میں نے بتایا بھئی کہ کیا وہ صرف ایک چہرے میں غور کرتے ہیں؟ يتوسم کا تو معنی ہے غور و فکر کر کے چیز کو پہچاننا، چہرے وغیرہ کو نشانیوں کے ذریعے پہچاننا، تو ایک چہرے میں بھی غور کر لے تو توسم پایا گیا یا نہیں پایا گیا؟ توسم پایا گیا، لیکن کیا یہاں وہ ایک چہرے میں غور کرتے ہیں یا سارے چہروں میں غور کرتے ہیں؟ سارے، اور کیا ایک ہی دفعہ غور کرتے ہیں یا بار بار آ کر غور کرتے ہیں؟ دیکھتے ہیں جب تک قاتل مل نہ جائے اس وقت تک وہ غور و فکر کرتے رہتے ہیں، جب تک قاتل مل نہ جائے اس وقت تک وہ غور و فکر کرتے رہتے ہیں، تو معلوم ہوا یہ جو توسم يتوسم آ رہا ہے اس کے اندر استمرار ہے۔ صرف حدوث نہیں ہے بلکہ حدوث تو ہوگا ایک مرتبہ ہی غور کر لیں بس حدوث ہو گیا۔ توسم پایا گیا چہرے میں غور و فکر کر لیا لیکن یہ تو کیا ہے؟ استمرار پر دلالت کر رہا ہے تو یہ مقامِ استشهاد ہے۔ دلیل سمجھ میں آئی بھئی؟ اس لفظ یہ دلیل ہے دیکھو کہ کبھی کبھی فعل مضارع کیا آتا ہے؟ کس لیے آتا ہے؟ استمرار کا بھی فائدہ دیتا ہے جہاں جیسے یہاں پر فعل مضارع استمرار کا فائدہ دے رہا ہے کہ وہ اپنے سردار کو بھیجتے ہیں يتوسم وہ بار بار غور و فکر کر کے پہچاننے کی کوشش کرتا ہے۔ بار بار غور و فکر کرتا ہے، مسلسل غور و فکر کر کے پہچاننے کی کوشش کرتا ہے۔ مفہوم اچھی طرح سب کو سمجھ میں آ گیا بھئی؟ جی تو شاعر کہتا ہے: أَوَكُلَّمَا وَرَدَتْ عُكَاظَ قَبِيلَةٌ بَعَثُوا إِلَيَّ عَرِيفَهُمْ يَتَوَسَّمُ کیا سارے عرب والے عکاظ مقام پر حاضر ہو گئے اور کیا جب بھی کوئی قبیلہ عکاظ مقام پر آتا ہے تو وہ بھیجتے ہیں اپنے سردار کو يتوسم کہ وہ چہروں کے اندر غور و فکر کر کے پہچاننے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ ہے استفہام لیکن مقصد کیا ہے؟ اقرار کروانا کہ واقعی ایسا ہے بھئی، دوسروں سے بھی اقرار کروانا چاہتا ہے کہ واقعی بات ایسی ہی ہے۔ میں نے سب کے قتل کیے ہوئے ہیں اور سب میری تلاش میں اور جستجو میں بار بار مسلسل لگے ہوئے ہیں بھئی۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ يتوسم یہ محلِ استشهاد ہے اس کو ذکر کرنا مقصود ہے بطور مثال کے۔ اس میں آپ دیکھیے اس میں استمرار ہے۔ یہ استمرار یہ میں نے تشریح کی اس لیے نہیں استمرار اس کے اندر آیا کہ میں اس کا ترجمہ یہ کر رہا ہوں وہ بار بار توسم کرتے ہیں۔ آپ خود بھی اس میں غور کریں بھئی کہ جب وہ اس کو پہچاننے کی کوشش کریں گے تو ایک دفعہ توسم کر لیں گے یا بار بار اور مسلسل توسم کریں گے؟ بار بار اور مسلسل توسم کریں گے بھئی۔ یہ اس لفظ سے خود ہی سمجھ میں آ رہا ہے بھئی۔ میری تشریح سے نہیں اس کا تعلق کہ میں نے تشریح کر دی اس لیے آپ کو اس میں استمرار سمجھ میں آیا، بلکہ خود ہی سمجھ میں آ رہا ہے کہ جب وہ اس کو پہچاننے کی کوشش کر رہے ہیں تو کیا کرنا؟ کس طریقے سے پہچان رہے ہیں؟ بار بار اور سارے چہروں کے اندر غور کریں گے، بار بار غور و فکر کرتے رہیں گے جب تک پہچان نہیں لیتے بھئی۔ تو یہاں یہ يتوسم استمرارِ تجددی کا فائدہ دے رہا ہے بھئی۔ وَالثَّانِيَةُ مَوْضُوعَةٌ لِمُجَرَّدِ ثُبُوتِ الْمُسْنَدِ لِلْمُسْنَدِ إِلَيْهِ جی دوسری قسم کیا تھی جملے کی؟ جملہ اسمیہ اور وہ کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ ثبوت کا۔ کس کا ثبوت کس کے لیے؟ خبر کا ثبوت مبتدا کے لیے، یا یوں کہیں مسند کا ثبوت مسند الیہ کے لیے، یہی بات بیان کر رہے ہیں وَالثَّانِيَةُ اور دوسرا جملہ یعنی جملہ اسمیہ جو ہے مَوْضُوعَةٌ اس کو وضع کیا گیا ہے لِمُجَرَّدِ ثُبُوتِ الْمُسْنَدِ لِلْمُسْنَدِ إِلَيْهِ مجرد یعنی محض، صرف۔ صرف مسند کا ثبوت مسند الیہ کے لیے، صرف اس کے لیے وضع کیا گیا۔ دوسرا جملہ اسمیہ جو ہے اس کو صرف مسند کے، صرف مسند کا جو ثبوت ہے مسند الیہ کے لیے اس کے لیے اس کو وضع کیا گیا ہے۔ نَحْوُ مثال کے طور پر اَلْعِلْمُ نَافِعٌ، الشَّمْسُ مُضِيئَةٌ سورج چمکدار ہے، سورج روشن ہے۔ تو دیکھیے یہاں شمس پر مضيئة کا حکم لگایا گیا کہ سورج روشن ہے، سورج چمکدار ہے یعنی شمس جو مسند الیہ ہے اس کے لیے چمکدار ہونے کی صفت ثابت ہے بھئی۔ تو اس میں صرف مسند الیہ کے لیے مسند کا ثبوت ہے۔ وَقَدْ تُفِيدُ الِاسْتِمْرَارَ بِالْقَرَائِنِ اور کبھی یہ جملہ اسمیہ جو ہے یہ استمرار کا فائدہ دیتا ہے قرائن کی وجہ سے۔ کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ استمرار، یہاں استمرار سے کیا مراد ہے؟ دوام ہے، تو اس کے لیے لفظ استمرار آیا۔ معلوم ہوا یہ استمرار کی کون سی قسم ہے بھئی؟ استمرارِ ثبوتی، استمرارِ ثبوتی۔ تو کبھی کبھار یہ جملہ اسمیہ فائدہ دیتا ہے استمرارِ ثبوتی کا بالقرائن قرائن کی وجہ سے إِذَا لَمْ يَكُنْ فِي خَبَرِهَا فِعْلٌ جبکہ اس کی خبر کے اندر، اس جملے کی خبر میں فعل نہ ہو۔ یہ شرط لگا دی۔ مثلاً میں نے کہا زیڈ قائم، ترکیب کیا کی تھی؟ زید مبتدا، قائم صیغہ اسمِ فاعل، ہوا ضمیر اس کے اندر اس کا فاعل جو زید کو راجع۔ اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر۔ تو یہ جو خبر ہے، یہ جملہ ہے یا شبہ جملہ ہے؟ شبہ جملہ، لیکن کبھی کبھار خبر جملہ بھی ہو سکتی ہے، پھر وہ جملہ اسمیہ بھی ہو سکتی ہے اور جملہ فعلیہ۔ جیسے یہی پر زید قائم کے بجائے میں کہتا ہوں زید قام، زید قام۔ ابھی اسی طرح کی ترکیب ہے، زید مبتدا، قام فعل، فعل آتے ہی کیا چاہیے؟ فاعل، اور زید تو مبتدا ہے وہ تو فعل پر مقدم ہے وہ تو فاعل بن ہی نہیں سکتا، فاعل ہمیشہ فعل کے بعد آ سکتا ہے اس پر مقدم نہیں ہو سکتا۔ تو پھر فاعل تو چاہیے، پھر کیا کریں گے؟ آگے کوئی اسم تو ہے نہیں تو اسی کے اندر کیا کریں گے؟ ضمیر نکالیں گے، اس کے اندر ہوا ضمیر جو راجع کس کو؟ زید کو۔ قام فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر یہ کیا ہوئی؟ خبر۔ تو دیکھا یہاں پر مسند الیہ یعنی مبتدا کی خبر جملہ ہے۔ زید قائم میں مبتدا کی خبر مفرد تھی اور زید قام کے اندر مبتدا کی خبر کیا ہے؟ جملہ ہے اور جملہ بھی کون سا ہے؟ جملہ فعلیہ ہے۔ کہتے ہیں جملہ اسمیہ دوام کا فائدہ دیتا ہے کبھی قرینہ خارجیہ کی وجہ سے لیکن شرط یہ ہے کہ اس کی جو خبر ہے وہ فعل نہ ہو۔ اور زید قام میں تو کیا آیا ہے؟ فعل ہے، تو فعل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ فعل ابھی آپ پڑھ چکے ہیں وہ حدوث کے لیے وضع ہے۔ کس لیے وضع ہے؟ حدوث کے لیے اور ہم یہاں بات کر رہے ہیں دوام کی بات کر رہے ہیں بھئی، دوام، ثبوت بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ تو لہذا فعل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ فعل تو حدوث کے لیے ہوتا ہے۔ تو کہتے ہیں وہ کبھی کبھار یہ جملہ اسمیہ جو ہے استمرار کا فائدہ دیتا ہے بالقرائن قرائن کی وجہ سے إِذَا لَمْ يَكُنْ فِي خَبَرِهَا فِعْلٌ جبکہ نہ ہو اس جملے کی خبر میں فعل نَحْوُ مثال کے طور پر اَلْعِلْمُ نَافِعٌ علم نفع دینے والا ہے۔ علم کیا ہے؟ نفع دینے والا ہے۔ دیکھیے العلم ہے مبتدا اور نافع کیا ہے اس کے؟ خبر ہے بھئی۔ اب یہ علم پر نافع ہونے کا، نفع والا فائدے والا ہونے کا حکم لگایا گیا اور یہ فائدے والا ہونا علم کا، علم کا کیا ہونا؟ فائدے والا ہونا، کیا یہ کبھی کبھار ہوتا ہے یا ہمیشہ ہی علم فائدہ دیتا ہے؟ ہمیشہ ہی علم کیا ہے؟ فائدہ دیتا ہے۔ ایسا نہیں کہ علم کبھی تو فائدہ دے کبھی فائدہ ہی نہ دے بھئی ایسا نہیں، بلکہ علم کیا ہے ہمیشہ فائدہ ہی دینے والا ہوتا ہے۔ تو دیکھیے یہاں دوام بھی آ گیا۔ ثبوت کے ساتھ ساتھ کیا آیا؟ دوام، کہ علم دائماً نفع دینے والا ہے، دائماً۔ کیونکہ خارج میں بھی آپ نے دیکھا ہے، جس آدمی کے پاس علم ہوتا ہے اس کو علم سے ہمیشہ فائدہ ہوتا رہتا ہے بھئی، اس کو علم سے ہمیشہ فائدہ ہوتا رہتا ہے۔ معلوم ہوا یہ جو صفت ہے علم کے لیے نافع ہونے کی، یہ صرف ثبوت کے طریقے پر نہیں ہے بلکہ دوام کے طریقے پر ہے بھئی۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو انہوں نے مثال ذکر کر دی بھئی اس وہ اس جملے کی، جملہ اسمیہ جس کے اندر استمرارِ ثبوتی پایا جا رہا ہے اَلْعِلْمُ نَافِعٌ۔ اور میں نے ایک دوسری مثال بھی ذکر کی تھی، زید طویل القامۃ بھئی، تو دیکھو یہ جملہ جو ہے یہ ثبوت کے ساتھ ساتھ دوام پر بھی دلالت کر رہا ہے قرینہ خارجیہ کی وجہ سے بھئی۔ چلیے بس بھئی ھذا هو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔